Faatir 35:31

Faatir · from ayah 31

35:31

وَالَّذِیْۤ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ مِنَ الْكِتٰبِ هُوَ الْحَقُّ مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیْهِ ؕ— اِنَّ اللّٰهَ بِعِبَادِهٖ لَخَبِیْرٌ بَصِیْرٌ ۟وَالَّذِىۡۤ اَوۡحَيۡنَاۤ اِلَيۡكَ مِنَ الۡكِتٰبِ هُوَ الۡحَـقُّ مُصَدِّقًا لِّمَا بَيۡنَ يَدَيۡهِؕ اِنَّ اللّٰهَ بِعِبَادِهٖ لَخَبِيۡرٌۢ بَصِيۡرٌ

اور یہ کتاب جو ہم نے تمہاری طرف بھیجی ہے برحق ہے۔ اور ان (کتابوں) کی تصدیق کرتی ہے جو اس سے پہلے کی ہیں۔ بےشک خدا اپنے بندوں سے خبردار (اور ان کو) دیکھنے والا ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

And that which We have revealed to you, [O Muhammad], of the Book is the truth, confirming what was before it. Indeed, Allah, of His servants, is Acquainted and Seeing.

— Saheeh International

Juz 22 · Ruku 4 of surah · Ruku 16 of juz

Read the whole surah · Surah Faatir

All translations of 35:31

(اے نبیؐ) جو کتاب ہم نے تمہاری طرف وحی کے ذریعہ سے بھیجی ہے وہی حق ہے، تصدیق کرتی ہوئی آئی ہے اُن کتابوں کی جو اِس سے پہلے آئی تھیں بے شک اللہ اپنے بندوں کے حال سے باخبر ہے اور ہر چیز پر نگاہ رکھنے والا ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور یہ کتاب جو ہم نے تمہاری طرف بھیجی ہے برحق ہے۔ اور ان (کتابوں) کی تصدیق کرتی ہے جو اس سے پہلے کی ہیں۔ بےشک خدا اپنے بندوں سے خبردار (اور ان کو) دیکھنے والا ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور یہ کتاب جو ہم نے آپ کے پاس وحی کے طور پر بھیجی ہے یہ بالکل ٹھیک ہے جو کہ اپنے سے پہلی کتابوں کی بھی تصدیق کرتی ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی پوری خبر رکھنے واﻻ خوب دیکھنے واﻻ ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور (اے پیغمبر) ہم نے تمہارے پاس وحی کے ذریعے جو کتاب بھیجی ہے وہ سچی ہے جو اپنے سے پہلی کتابوں کی تصدیق کرتی ہوئی آئی ہے۔ یقینا اللہ اپنے بندوں سے پوری طرح باخبر، ہر چیز کو دیکھنے والا ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور ہو کتاب جو ہم نے تمہاری طرف وحی بھیجی وہی حق ہے اپنے سے اگلی کتابوں کی تصدیق فرماتی ہوئی، بیشک اللہ اپنے بندوں سے خبردار دیکھنے والا ہے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور جو کتاب (قرآن) ہم نے آپ کی طرف وحی فرمائی ہے، وہی حق ہے اور اپنے سے پہلے کی کتابوں کی تصدیق کرنے والی ہے، بیشک اﷲ اپنے بندوں سے پوری طرح باخبر ہے خوب دیکھنے والا ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور وہ جو ہم نے تیری طرف کتاب میں سے وحی کی ہے وہی حق ہے، اس کی تصدیق کرنے والی ہے جو اس سے پہلے ہے۔ بیشک اللہ اپنے بندوں کی یقینا پوری خبر رکھنے والا، سب کچھ دیکھنے والا ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

(اے نبی !) جو کتاب ہم نے آپ کی طرف وحی کی ہے وہی حق ہے جو اپنے سے پہلی کتابوں کی تصدیق کرتی ہے۔ بلاشبہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں سے باخبر اور انہیں دیکھنے والا ہے۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور ہم نے تمہاری طرف جو کتاب وحی کی ہے، یہی حق ہے، ان پیشین گوئیوں کی مصداق جو اس کے پہلے سے موجود ہیں۔ بیشک اللہ اپنے بندوں کی خبر رکھنے والا، دیکھنے والا ہے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور جو کتاب ہم نے آپ کی طرف وحی کے ذریعے بھیجی ہے (اے پیغمبر !) وہی حق ہے جو تصدیق کرنے والی ہے ان تمام کتابوں کی جو کہ آچکی ہیں اس سے پہلے بلاشبہ اللہ اپنے بندوں سے پوری طرح باخبر سب کچھ دیکھتا ہے

— مولانا اسحاق مدنی

اور جو کتاب ہم نے آپ کے پاس بطور وحی بھیجی ہے وہ بالکل ٹھیک ہے جو اپنے سے پہلی کتابوں کی بھی تصدیق کردیتی ہے بیشک اللہ اپنے بندوں کی پوری خبر رکھنے والا خوب دیکھنے والا خوب دیکھنے والا ہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور (اے نبی ﷺ !) ہم نے جو وحی بھیجی ہے آپ کی طرف کتاب میں سے وہی حق ہے تصدیق کرتے ہوئے آئی ہے اس (کتاب) کی جو اس سے پہلے موجود ہے یقینا اللہ اپنے بندوں سے خوب باخبر انہیں دیکھنے والا ہے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور یہ کتاب جو ہم نے تمہاری طرف بھیجی ہے برحق ہے اور ان کتابوں کی تصدیق کرتی ہے جو اس سے پہلے کی ہیں۔ بیشک اللہ اپنے بندوں سے خبردار اور ان کو دیکھنے والا ہے

— محترمہ رفعت اعجاز

(O Prophet), the Book We have revealed to you is the Truth, confirming the Books that came before it. Verily Allah is well aware of His servants and sees everything.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

The Book We have revealed to you is the Truth, confirming what was (revealed) before it. Surely Allah, in respect of His slaves, is All-Aware, All-Seeing.

— Muhammad Taqi Usmani

The Book We have revealed to you is the Truth, confirming what was (revealed) before it. Surely Allah, in respect of His slaves, is All-Aware, All-Seeing.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And what We have revealed to you of the Book, it is the (very) truth confirming that which was (revealed) before it. Verily, Allah is indeed All-Aware and All-Seer of His servants.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

As for that which We inspire in thee of the Scripture, it is the Truth confirming that which was (revealed) before it. Lo! Allah is indeed Observer, Seer of His slaves.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And that which We have revealed to you, [O Muhammad], of the Book is the truth, confirming what was before it. Indeed, Allah, of His servants, is Acquainted and Seeing.

— Saheeh International

Whatever We have revealed to you from the Book is all truth. It confirms what was revealed before. God sees His servants and is All-aware of them.

— Muhammad Sarwar

And that which We have revealed to you of the Book, that is the truth verifying that which is before it; most surely with respect to His servants Allah is Aware, Seeing.

— Muhammad Habib Shakir

And that which We have revealed Unto thee of the Book - it is the very truth confirming that which hath been before it; verily, Allah is Unto His servants Aware, Beholding.

— Abdul Majid Daryabadi

That which We have revealed to thee of the Book is the Truth,- confirming what was (revealed) before it: for Allah is assuredly- with respect to His Servants - well acquainted and Fully Observant.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 35:31

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

فضائل قرآن قرآن اللہ کا حق کلام ہے اور جس طرح اگلی کتابیں اس کی خبر دیتی رہی ہیں یہ بھی ان اگلی سچی کتابوں کی سچائی ثابت کر رہا ہے۔ رب خبیر وبصیر ہے۔ ہر مستحق فضیلت کو بخوبی جانتا ہے۔ انبیاء کو انسانوں پر اس نے اپنے وسیع علم سے فضیلت دی ہے۔ پھر انبیاء میں بھی آپس میں مرتبے مقرر کردیئے ہیں اور علی الاطلاق حضور محمد ﷺ کا درجہ سب سے بڑا کردیا ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے تمام انبیاء پر درود وسلام بھیجے۔

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة فَاطِر 53 مطلب یہ ہے کہ وہ کوئی نرالی بات نہیں پیش کر رہی ہے جو پچھلے انبیاء کی لائی ہوئی تعلیمات کے خلاف ہو، بلکہ اسی ازلی و ابدی حق کو پیش کر رہی ہے جو ہمیشہ سے تمام انبیاء پیش کرتے چلے آرہے ہیں۔ سورة فَاطِر 54 اللہ کی ان صفات کو یہاں بیان کرنے کا مقصود اس حقیقت پر متنبہ کرنا ہے کہ بندوں کے لیے خیر کس چیز میں ہے، اور ان کی ہدایت و رہنمائی کے لیے کیا اصول موزوں ہیں، اور کون سے ضابطے ٹھیک ٹھیک ان کی مصلحت کے مطابق ہیں، ان امور کو اللہ کے سوا کوئی نہیں جان سکتا، کیونکہ بندوں کی فطرت اور اس کے تقاضوں سے وہی باخبر ہے، اور ان کے حقیقی مصالح پر وہی نگاہ رکھتا ہے۔ بندے خود اپنے آپ کو اتنا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 29–31

خلاصہ تفسیر اور جو لوگ کتاب اللہ (یعنی قرآن) کی تلاوت (مع العمل) کرتے رہتے ہیں اور (خصوصیت و اہتمام کے ساتھ) نماز کی پابندی رکھتے ہیں اور جو کچھ ہم نے ان کو عطا فرمایا ہے اس میں سے پوشیدہ اور اعلانیہ (جس طرح بن پڑتا ہے) خرچ کرتے ہیں وہ (بوجہ وعدہ الٰہیہ کے) ایسی (دائم النفع) تجارت کے امیدوار ہیں جو کبھی ماند نہ ہوگی (کیونکہ اس سودے کا خریدار کوئی مخلوقات میں سے نہیں ہے جو کبھی تو سودے کی قدر کرتا ہے اور کبھی نہیں کرتا۔ بلکہ اس کا خریدار خود حق تعالیٰ ہوگا، جو ضرور حسب وعدہ اپنی غرض سے نہیں بلکہ محض ان کی نفع رسانی کے لئے اس کی قدر کرے گا) تاکہ ان کو ان (کے اعمال) کی اجرتیں (بھی) پوری (پوری)…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

آیت 31 یہ صالحین اہل کتاب کو دعوت ایمان ہے کہ جو کتاب ہم نے تم پر وحی کی ہے یہی حق ہے۔ اس لئے تمام طالبین حق کو چاہیے کہ اس کو ہاتھوں ہاتھ لیں اور حرزجاں بنائیں۔ ’ ھو الحق ‘ میں حصر کا جو مضمون ہے وہ اس حقیقت کی طرف اشارہ کر رہا ہے کہ اس سے پہلے اللہ نے اہل کتاب کو جو کتاب دی اس کو انہوں نے اپنی تحریفات سے رطب دیا بس کا مجموعہ بنا ڈالا اس وجہ سے وہ حق کی نعمت سے محروم ہوگئے تھے۔ اب اللہ نے اس کتاب کی صورت میں اس کو بالکل بےآمیز و کامل شکل میں از سرِ نو اجاگر کیا ہے تاکہ یہ خلق کی ہدایت کا ذریعہ بنے۔ ’ مصدقا لما بین یدیہ ‘۔ یہ اس کتاب کی حقانیت کی وہ دلیل ہے جو خاص طور پر اہل کتاب پر اتمامِ…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

31۔ 1 یعنی جس پر تیرے اور تیری امت کے لئے عمل کرنا ضروری ہے۔ 31۔ 2 تورات اور انجیل وغیرہ کی۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ قرآن کریم اس اللہ کا نازل کردہ ہے جس نے پچھلی کتابیں نازل کی تھیں، جب ہی تو دونوں ایک دوسرے کی تائید و تصدیق کرتی ہیں۔ 31۔ 3 یہ اس کے علم و خبری کا نتیجہ ہے کہ اس نے نئی کتاب نازل فرما دی، کیونکہ وہ جانتا ہے، پچھلی کتابیں ردو بدل کا شکار ہوگئی ہیں اور اب وہ ہدایت کے قابل نہیں رہی ہیں۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 28–31

8: کائنات کی ان عجیب و غریب مخلوقات کو دیکھ کر اور ان سے اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ اور اس کی توحید پر استدلال کر کے انہی کے دل میں اللہ تعالیٰ کی خشیت پیدا ہوتی ہے جن کو اللہ تعالیٰ کی عظمت کا علم اور اس کی سمجھ ہے اور جو لوگ اس سمجھ سے محروم ہیں، وہ کائنات کے ان عجوبوں کی تہہ تک پہنچنے کے باوجود اللہ تعالیٰ کے وجود، اس کی توحید اور اس کی عظمت تک نہیں پہنچتے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

والذی اوحینا۔۔۔۔۔ لخبیر بصیر (31) سچائی کے دلائل اس کتاب کے مضامین میں ریڑھ کی ہڈی کی طرح ہیں۔ یہ کتاب اس کائنات کے حقائق کی ترجمان ہے۔ بلکہ یہ کتاب اس کائنات کا وہ صفحہ ہے جو پڑھا جاتا ہے اور پوری کائنات وہ صفحہ ہے جو خاموش ہے اور اس کا مشاہدہ کیا جاتا ہے۔ یہ کتاب تصدیق کرتی ہے ان کتابوں کی جو اللہ نے پہلے بھی بھیجی ہیں کیونکہ دونوں کا مصدر اور سرچشمہ ایک ہے۔ اور سچائی ہمیشہ ایک ہوتی ہے ۔ اس میں تعدد نہیں ہوتا۔ اس کتاب کے نازل کرنے والے نے اسے لوگوں کے لیے بھیجا ہے اور وہ لوگوں کا خالق ہے اور وہ اچھی طرح لوگوں کو جانتا ہے اور وہی جانتا ہے کہ کس چیز میں ان کی مصلحت ہے اور کس چیز کے ذریعہ ان…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 31{ وَالَّذِیْٓ اَوْحَیْنَآ اِلَیْکَ مِنَ الْکِتٰبِ ہُوَ الْحَقُّ مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیْہِ } ”اور اے نبی ﷺ ! ہم نے جو وحی بھیجی ہے آپ کی طرف کتاب میں سے ‘ وہی حق ہے ‘ تصدیق کرتے ہوئے آئی ہے اس کتاب کی جو اس سے پہلے موجود ہے۔“ { اِنَّ اللّٰہَ بِعِبَادِہٖ لَخَبِیْرٌم بَصِیْرٌ} ”یقینا اللہ اپنے بندوں سے خوب باخبر ‘ انہیں دیکھنے والا ہے۔“

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

36 قرآن کے حق ہونے کا مطلب زندگی کے حقائق کا لحاظ رکھنا ہے :۔ وہ حق اس لئے ہے کہ وہ اس ہستی کی طرف سے نازل ہوئی ہے جس نے انسان کو بنایا ہے۔ جتنا وہ انسان کی فطرت سے واقف ہوسکتا ہے دوسرا کوئی نہیں ہوسکتا۔ اس کتاب کے جملہ احکام و ارشادات انسان کی فطرت کے مطابق بھی ہیں اور پوری انسانیت کے مصالح پر مبنی ہیں۔ اور بنی نوع انسان کی فلاح کے ضامن بھی ہیں۔ وہ ذات اپنے بندوں کی فطرت اور ان کے حالات سے پوری طرح باخبر ہے۔ اسی لئے اس کے بعض احکام تو غیر متبدل اور دائمی ہیں جو سابقہ آسمانی کتابوں میں بھی موجود ہیں۔ اسی لحاظ سے یہ قرآن ان کی تصدیق کرتا ہے۔ اور بعض نئے احکام بھی ہیں۔ بعض میں تبدیلی بھی کی گئی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

43۔ خبیر : ان کے ہر حال کی خبر رکھنے والا،” بصیر “۔ ان کی ہر مصلحت پر نظر رکھنے والا۔ (آیت) ” من الکتب “۔ من بیانیہ “۔ من للتبیین (مدارک)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 27–37

آیت نمبر 27 تا 37 ترجمہ : اے مخاطب ! کیا تو نے اس بات پر نظر نہیں کی کہ اللہ نے آسمان سے پانی نازل کیا پھر ہم نے اس پانی کے ذریعہ مختلف رنگوں کے پھل پیدا کئے اس میں غیبت سے تکلم کی جانب التفات ہے جیسا کہ سبز اور سرخ اور زرد وغیرہ اوعر پہاڑوں میں بھی مختلف رنگوں کی دھاریاں ہیں جُدَدٌ جُدَّۃٌ کی جمع ہے، پہاڑی راستے وغیرہ کو کہتے ہیں، (مثلاً ) سفیدوسرخ اور زرد اور وہ رنگ تیز اور ہلکا ہونے کے اعتبار سے بھی مختلف ہیں اور بہت گہرے سیاہ بھی اس کا عطف جُدَدٌ پر ہے یعنی نہایت تیز رنگ کی چٹانیں ہیں، کثیر الاستعمال اَسْوَدُ غِربیبٌ ہے اور قلیل الستعمال غِرْبِیْبٌ اَسْوَدُ ہے اور اسی طرح انسانوں اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

والذی اوحینا الیک من الکتب ھو الحق مصدقا لما بین یدیہ . اور جو کتاب (یعنی قرآن) ہم نے وحی کے ذریعہ سے آپ کے پاس بھیجی ہے ‘ وہی حق ہے اور اپنے سے پہلی (آسمانی) کتابوں کی تصدیق کرتی ہے۔ یعنی عقائد ‘ اصول احکام اور اخبار میں ان کے موافق ہے۔ ان اللہ بعبادہ لخبیر بصیر . حقیقت یہ ہے کہ اللہ اپنے بندوں سے پورا باخبر (اور) دیکھنے والا ہے۔ یعنی اشیاء کی ظاہری حالت سے بھی واقف ہے اور اندرونی حقیقت سے بھی۔ اسی کو حق ہے کہ یہ کتاب آپ کے پاس بذریعۂ وحی بھیجے اور اس کو معجزہ بنا دے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

اور یہ قرآن حکیم جو ہم نے آپ پر بذریعہ جبریل امین نازل کیا ہے بالکل ٹھیک ہے جو اپنے سے پہلی کتابوں کی بھی توحید اور بعض احکام میں تصدیق کرتا ہے اللہ تعالیٰ مومن وغیر مومن سب کی حالت کی پوری خبر رکھنے والا ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَالَّذِيْٓ اَوْحَيْنَآ اِلَيْكَ مِنَ الْكِتٰبِ : اس کا عطف ”اِنَّ الَّذِيْنَ يَتْلُوْنَ كِتٰبَ اللّٰهِ“ پر ہے۔ کتاب اللہ کی تلاوت کرنے والے علماء کی فضیلت بیان کرنے کے بعد فرمایا : ”اور یہ کتاب جو ہم نے آپ کی طرف وحی فرمائی ہے، کامل حق یہی ہے۔“ اس کے علاوہ اللہ تعالیٰ کی ذات وصفات اور اس کے احکام پر مشتمل جتنی کتابیں ہیں ان میں سے جو لوگوں کی تصنیف کردہ ہیں ان میں حق کا کچھ حصہ ہے بھی تو اکثر حصہ باطل ہے اور جو اس سے پہلے اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہوئی ہیں، مثلاً تورات و انجیل تو ان کے اندر بعد میں تحریف اور کمی بیشی کی وجہ سے کچھ باطل چیزیں بھی شامل ہوگئی ہیں، ان کی جو باتیں حق ہیں یہ کتاب…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 29–31

1:۔ عبدالغنی بن سعید الثقفی نے اپنی تفسیر میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ یہ (آیت) ” ان الذین یتلون کتب اللہ واقاموالصلوۃ “ (کہ جو لوگ اللہ کی کتاب کی تلاوت کرتے ہیں اور نماز کو قائم کرتے ہیں) حصین بن حارث بن عبدالمطلب بن عبد مناف قریشی کے بارے میں نازل ہوئی۔ 2: عبد بن حمید وابن جریر وابن ابی حاتم نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” یرجون تجارۃ لن تبور “ (کہ وہ ایسی تجارت کے امیدوار ہیں جو کبھی ماند نہ ہوگی) اس سے مراد ہے جنت (آیت) ” لن تبور “ (جو ہرگز ماند نہ ہوگی) یعنی ہرگز ختم نہ ہوگی (آیت) ” لیوفیھم اجورھم ویزید ھم من فضلہ “ (تاکہ اللہ تعالیٰ ان کی اجرتیں پوری پوری دے اور اپنی مہربانی سے…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

وَالَّذِيْٓ اَوْحَيْنَآ اِلَيْكَ [اور وہ جو ہم نے وحی کیا آپ ﷺ کی طرف ] مِنَ الْكِتٰبِ [کتاب میں سے ] [هُوَ الْحَــقُّ : وہ حق ہے ] مُصَدِّقًا [تصدیق کرنے والی ہوتے ہوئے ] لِّمَا [اس کی جو ] بَيْنَ يَدَيْهِ ۭ [اس سے پہلے ہے ] اِنَّ اللّٰهَ بِعِبَادِهٖ [بیشک اللہ اپنے بندوں سے ] لَخَبِيْرٌۢ [یقینا باخبر ہے ] بَصِيْرٌ [دیکھنے والا ہے ] ۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

اس کے بعد قرآن مجید کے بارے میں فرمایا کہ ہم نے جو کچھ آپ کو وحی بھیجی ہے وہ حق ہے، ان کتابوں کی تصدیق کرنے والی ہے جو اس سے پہلے نازل ہوئی تھیں، بلاشبہ اللہ اپنے بندوں کی پوری طرح خبر رکھنے والا ہے پوری طرح دیکھنے والا ہے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 29–37

مدح وثنا علما وصلحا امت و توصیف وشان علم نبوت وترغیب برتجارت آخرت قال اللہ تعالی۔ ان الذین یتلون کتب اللہ۔۔۔ الی۔۔۔ فما للظلمین من نصیر۔ (ربط) گزشتہ آیت یعنی انما یخشی اللہ من عبادہ العلمؤا میں علما کا ذکر تھا اب ان آیات میں علما کی اور ان مومن بندوں کی مدح فرماتے ہیں جو کتاب الٰہی کی تلاوت کرتے ہیں اس پر عمل کرتے ہیں۔ انبیاء کے وارث وہی علماء ہیں جو نبی کے علم پر عمل بھی کرتے ہیں اور ان آیات میں یہ بتلاتے ہیں کہ امت کے طبقات مختلف ہیں بعض نہایت پسندیدہ اور سابق بالخیر ہیں اور بعض ظالم ہیں اور بعض درمیان ہیں۔ منزل مقصود سب کی آخرت ہے اور یہ دنیا دار تجارت ہے اور پہلا گروہ اس تجارت میں سب سے…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

30:۔ والذی اوحینا الخ : یہ توحید پر دلیل وحی ہے ہم نے آپ پر جو کتاب نازل کی ہے وہ سراپا حق ہے اس میں ہم نے مسئلہ توحید کو ضاحت سے بیان کیا ہے اور ہم ہی نے آپ کو مسئلہ توحید بیان کرنے کا حکم دیا ہے اور یہ کتاب کتب سابقہ میں بیان شدہ عقائد اور اصول احکام کی تصدیق و تائید کرتی ہے اس سے معلوم ہوا کہ مسئلہ توحید کتب سابقہ میں بھی مذکور تھا۔ ان اللہ بعبادہ لخبیر بصیر : اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے تمام ظاہری اور باطنی احوال کو جانتا ہے اس نے آپ کو مستحق اور لائق جان کر ہی آپ پر یہ سراپا حق کتاب نازل فرمائی ہے۔ جو کتب سابقہ کے لیے معیار اور کسوٹی ہے۔ فعلمک وابصر احوالک و راک اھلا لان یوحی الیک مثل ھذا…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 30–31

ربط آیات گزشتہ آیات میں انذار کا بیان تھا۔ اللہ نے اہل ایمان اور کفار کی الگ الگ حیثیت کو بیان فرمایا تھا کہ یہ دونوں گروہ برابر نہیں ہوسکتے ، جس طرح اندھا اور بینا ، اندھیرا اور روشنی ، سایہ اور تپش ، زندہ اور مردہ برابر نہیں ہوسکتے اسی طریقہ سے کافر ، مشرک ، گمراہ اور ایماندار برابر نہیں ہوسکتے ، اس کے بعد اللہ نے رسالت و نبوت کے بیان میں فرمایا کہ ہم نے ہر امت میں ڈر سنانے والے بھیجے ہیں ، اور آپ کو بھی ہم نے بشیر اور نذیر بنا کر بھیجا ہے۔ اگر یہ لوگ انکار کرتے ہیں تو آپ دل برداشتہ نہ ہوں۔ یہ تکذیب کوئی نئی بات نہیں ہے ۔ آپ اطمینان رکھیں ، پہلے انبیاء (علیہم السلام) کی بھی تکذیب کی گئی ہے۔…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَالَّذِيْٓ اَوْحَيْنَآ اِلَيْكَ مِنَ الْكِتٰبِ ہُوَالْحَــقُّ مُصَدِّقًا لِّمَا بَيْنَ يَدَيْہِ۝ 0 ۭ اِنَّ اللہَ بِعِبَادِہٖ لَخَبِيْرٌۢ بَصِيْرٌ۝ 31 وحی أصل الوحي : الإشارة السّريعة، ولتضمّن السّرعة قيل : أمر وَحْيٌ ، وذلک يكون بالکلام علی سبیل الرّمز والتّعریض، وقد يكون بصوت مجرّد عن التّركيب، وبإشارة ببعض الجوارح، وبالکتابة، وقد حمل علی ذلک قوله تعالیٰ عن زكريّا : فَخَرَجَ عَلى قَوْمِهِ مِنَ الْمِحْرابِ فَأَوْحى إِلَيْهِمْ أَنْ سَبِّحُوا بُكْرَةً وَعَشِيًّا[ مریم/ 11] وقوله : وَأَوْحَيْنا إِلى مُوسی وَأَخِيهِ [يونس/ 87] فوحيه إلى موسیٰ بوساطة جبریل، ووحيه تعالیٰ إلى هرون بوساطة جبریل…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 27–32

ترکیب : الوانہا مرفوع۔ بمختلف و جدد بفتح الدال جمع جدۃ وھی الطریقۃ ویقراء بضمھا و ھو جمع جدید کسر یروسرر قال الجوہری الجدۃ الخطۃ التی فی ظھر الحمار تخالف لونہ والجدۃ الطریق والجمع جدود جدائد، قال المبرد و طرائق و خطوط و غرابیب سود عطف علی بیض و علی جدد کانہ قیل ومن الجبال ذوجد و مختلفۃ اللون و منہا غرابیب متحدۃ اللون، وغرابیب جمع غربیب ھو الشدید السواد الذی یشبہ لونہ لون الغراب والغرابیب تابع و تاکید لسود و حق التاکید التاخیر فقیل فی جو ابہ ھو تاکید مضمر بفسرہ سود کما جاء فی قول النابغہ ؎ المومن العائذات الطیر مسیحھا والطیر عطف بیان للعائذات و ھو الشاہد ومن الحبال مستانفۃ کانہ قال واخرجنا با…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

وَالَّذِیْٓ اَوْحَیْنَآ اِلَیْکَ مِنَ الْکِتٰبِ ھُوَالْحَقُّ مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیْہِ ط اِنَّ اللّٰہَ بِعِبَادِہٖ لَخَبِیْرٌ م بَصِیْرٌ۔ (فاطر : 31) (اور جو کتاب ہم نے آپ کی طرف وحی کی ہے وہی حق ہے، تصدیق کرنے والی ہے ان کتابوں کی جو اس سے پہلے آئی تھیں، بیشک اللہ اپنے بندوں کی خبر رکھنے والا، دیکھنے والا ہے۔ ) اب حق کی نمائندہ یہ آخری کتاب ہے کتاب اللہ کی تلاوت اور اس پر عمل کا جو صلہ ملنے والا ہے اس کا ذکر کرنے کے بعد یہ ارشاد فرمایا جارہا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے جتنی کتابیں بھی نازل ہوئی ہیں ہر کتاب اپنے نزول کے وقت سے لے کر محفوظ رہنے تک یقینا اسی اجروثواب کی حامل رہی ہے جس…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 31–32

فہم القرآن ربط کلام : یہ اللہ تعالیٰ کی قدر افزائی کا نتیجہ ہے کہ وہ اپنے بندوں میں کچھ بندوں کو اپنی کتاب کا وارث بنا دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی حضرت محمد ﷺ پر قرآن مجید نازل فرمایا جس کے ” من جانب اللہ “ ہونے میں کسی شک کی گنجائش نہیں۔ قرآن واقعتا حضرت محمد ﷺ پر نازل ہوا یہ حقیقی اور ٹھوس دلائل پر مبنی ہے۔ اس کے ارشادات سچے ہیں اس کی تعلیمات پہلی آسمانی کتابوں کی تائید کرتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی ہر بات سے باخبر اور ان کے ہر کام کو دیکھنے والا ہے۔ وہی لوگوں میں سے اپنے بندوں کو اپنی کتاب کا وارث بنانے والا ہے جن میں سے کچھ اپنے آپ پر زیادتی کرنے والے ہیں۔ کچھ ان میں میانہ رو…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

31: وَالَّذِیْ اَوْحَیْنَآ اِلَیْکَ مِنَ الْکِتٰبِ (اور یہ کتاب جو ہم نے آپ کے پاس بطور وحی بھیجی ہے) الکتابؔ سے قرآن مراد ہے۔ نحو : مِنؔ بیانیہ ہے۔ ھُوَ الْحَقُّ مُصَدِّقًا (وہ بالکل ٹھیک ہے) یہ حال مؤکدہ ہے کیونکہ حق اس تصدیق سے ہرگز جدا ہونے والا نہیں۔ لِّمَا بَیْنَ یَدَیْہِ (اپنے سے پہلی کتابوں کی بھی تصدیق کرتی ہے) بین یدیہ سے گزشتہ کتابیں مراد ہیں۔ اِنَّ اللّٰہَ بِعِبَادِہٖ لَخَبِیْرٌ 0 بَصِیْرٌ (بیشک اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی پوری خبر رکھنے والا ہے خوب دیکھنے والا ہے) پس آپ کو جانتا اور آپ کے احوال کو خوب دیکھنے والا ہے۔ اس نے آپ کو اہل دیکھ کر آپ کی طرف اس جیسی معجز کتاب اتاری جو کہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

31، والذی اوحینا الیک من الکتاب، کتاب سے مراد قرآن ہے، ھو الحق مصدقا لما بین یدیہ، اور وہ جو آپ کے ہاتھوں میں ہے کتاب۔ ، ان اللہ بعبادہ لخبیر بصیر،

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 29–31

29‘ 31۔ اوپر قرآن کے پابند علماء کا ذکر فرما کر ان آیتوں میں فرمایا وہ ایسے لوگ ہیں جو قرآن پڑھتے ہیں اور جو کچھ اس میں ہے۔ اس پر ایمان لاتے ہیں اور عمل کرتے ہیں نماز پڑتے ہیں اور خرچ کرتے ہیں اس چیز میں سے کہ دی ہم نے ان کو چھپی اور کھلی امید رکھتے ہیں ایک سودا گری کی جو کبھی نہ ٹوٹے اور نہ ہلاک ہو مطلب یہ کہ ثواب کی امید رکھتے ہیں اللہ سے اور وہ ضرور ان کو ملے گا جیسا کہ فرمایا لیو فینھم اجورھم تاکہ پورا کر دے ان کو ثواب ان کے کاموں کا اور بڑھائے گا اللہ اس ثواب کو اپنے فضل سے بیشک وہ بخشنے والا ہے ان کے گناہ اور قدر دانی کرنے والا ہے ان کے تھوڑے عملوں کی پھر فرمایا یہ قرآن برحق کلام الٰہی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 31–35

آیت 31 اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وہ کتاب جو اسنے اپنے رسول ﷺ کی طرف وحی کی (ھو الحق) ” وہ حق ہے “ کیونکہ وہ جن امور پر مشتمل ہے وہ حق ہیں اور اس نے حق کے تمام اصولوں کا احاطہ کر رکھا ہے۔ گویا تمام حق صرف اسی کتاب کے اندر ہے، اس لئے تمہارے دلوں میں حق کے بارے میں کوئی تنگی نہ آئے اور تم حق سے تنگ آؤ نہ اسے ہیچ سمجھو۔ جب یہ کتاب حق ہے تو اس سے لازم آتا ہے کہ وہ تمام مسئال الہیہ اور امور غیبیہ جن پر یہ کتاب دلالت کرتی ہے واقع کے مطابق ہوں، لہٰذا یہ جائز نہیں کہ اس سے کوئی ایسی مراد لی جائے جو اس کے ظاہر اور اس چیز کے خلاف ہو جس پر اس کا ظاہر دلالت کرتا ہے۔ (مصدقا لما بین یدیہ) یعنی گزشتہ کتابوں…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 28–33

علم، حشیت اللہ پیدا کرتا ہے قول باری ہے (انما یخشی اللہ من عبادہ العلمو۔ اللہ سے ڈرتے بس وہی بندے ہیں جو علم والے ہیں) آیت میں علم کی فضیلت بیان کی گئی ہے نیز یہ کہ علم کے ذریعے اللہ کی خشیت اور تقویٰ تک رسائی ہوتی ہے۔ اس لئے کہ جو شخص اللہ کی توحید اور اس کے عدل کی معرفت حاصل کرلیتا ہے اس کی یہ معرفت اسے خشیت اور تقویٰ تک پہنچا دیتی ہے۔ کیونکہ جو شخص اللہ کی توحید، اس کے عدل اور کائنات کی تخلیق میں اس کے مقصد سے ناآشنا ہو وہ نہ تو اللہ سے ڈرتا ہے اور نہ ہی اس کے دل میں تقویٰ یعنی خوف خدا پیدا ہوتا ہے۔ ایک اور آیت میں ارشاد ہے (یرفع اللہ الذین امنا منکم والذین اوتوا العلم درجات ۔ اللہ تعالیٰ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

71 کتاب حق کی تعیین و تصریح : سو کتاب حق کی تعیین و تصریح کرتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا " اور جو کتاب ہم نے آپ کی طرف بھیجی ہے وہی حق ہے "۔ مبتدا و خبر کی تعریف سے حصر کا فائدہ حاصل ہوا۔ یعنی حق صرف وہی ہے جو اس کتاب ہدایت سے ملے اور بس۔ سو اس کتاب حکیم کے سوا حق اور ہدایت کی دعوت اور کہیں سے بھی نہیں مل سکتی۔ کیونکہ اس سے پہلے جو آسمانی کتابیں آئی تھیں انکو انکے حاملین نے بدل کر کچھ کا کچھ کردیا۔ اور اس حد تک کہ اب ان کتابوں کی اصل اور حقیقی تعلیم کا کہیں ملنا ہی ممکن نہیں بجز ان کے ان حصوں کے جن کو اس کتاب حکیم قرآن مجید نے اپنی حفاظت میں لے لیا۔ سو ایسے میں طالبینِ حق کو صدق دل سے اسی کتاب…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 15–45

سچ تو یہ ہے جو اللہ نے اعلان کیا ہے تشریح : ان آیات کی وضاحت کیا کی جائے یہ تو بذات خود علم و عرفان اور کلام الٰہی کی انتہائی آسان اور عام فہم مضمون کا مجموعہ ہیں۔ اہل علم کو معلوم ہے کہ مومن کو آنکھوں والا، زندہ اور نور سے تشبیہ دی گئی ہے جبکہ کافر کو اندھا، تاریکی اور مردہ کہا گیا ہے۔ پھر کفار کی ایک خاص خصلت کا ذکر کیا گیا ہے کہ وہ اتنا ہٹ دھرم اور ضد کا پکا ہوتا ہے کہ ہمیشہ نبیوں کو جھٹلاتا رہتا ہے اس لیے سیدنامحمد ﷺ کو بار بار یہ تاکید کی گئی ہے کہ آپ ان کی ضد پر پریشان نہ ہوا کریں بس آپ ان کو سمجھاتے رہیں ان سے نمٹنا اللہ کا کام ہے۔ بار بار کفار کے لیے دوزخ اور مومن کے لیے جنت کا اعلان…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 27–37

رکوع نمبر 4 ۔ آیات 27 ۔ تا۔ 37: اسرار و معارف : اللہ کی قدرت کاملہ کا ہر پہلو کتنا روشن ہے بھلا غور کرو کہ کس طرح پانی کو اٹھا کر بلندیوں سے برساتا ہے اور نشیب و فراز پر پہنچا دیتا ہے یہ بھی دیکھو کہ ایک ہی طرح کا پانی برستا ہے بےرنگ اور بےذائقہ مگر جب اس کے ذریعے پھل اگاتا ہے تو ان سب کے رنگ جدا اور ذائقے الگ الگ ہوتے ہیں۔ یہی نہیں پہاڑوں کو دیکھو ایک ہی زمین مختلف رنگوں کے امتزاج خوبصورت انداز میں کھڑے کردئیے کہیں سفید سفید گھاٹیاں ہیں پھر اسی پہاڑ میں سرخ رنگ کی تہہ آجاتی ہے کہیں سیاہ اور کالے بھجنگ پہاڑ کھڑے نظر آتے ہیں یہی حال بندوں جانوروں اور کیڑے مکوڑوں میں نظر آتا ہے کوئی گورا ہے…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 4( حال موکد لکونہ حقا) یعنی یہ کوئی نئی چیز نہیں ہے بلکہ اس دعوت کو پیش کرتی ہے جو پچھلی کتابوں میں پیش کی گئی تھی۔ پچھلی کتابوں سے مراد توراۃ و انجیل وغیرہ کی وہ اصل عبارتیں ہیں جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل کی گئی تھیں نہ کہ ان کی موجودہ تحری شدہ عبارتیں۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 31–37

لغات القرآن : آیت نمبر 31 تا 37 :۔ اور ثنا ( ہم نے وارث بنایا) اصطفینا (ہم نے منتخب کرلیا) مقتصد (اعتدال اختیار کرنے والا) سابق (آگے بڑھنے والا) اساور (کنگن ، سونے کا ایک زیور) لولو ( موتی) حریر (ریشم) احلنا (ہم نے بسایا ، آباد کیا) دارالمقامۃ (رہنے کا گھر) نصب ( محنت ، مشقت) لغوب ( کام کے بعد کی تھکاوٹ) لا یقضی (فیصلہ نہ کیا جائے گا) لا یخفف (کمی نہ کی جائے گی) یطر خون (وہ چیخیں گے ، چلائیں گے) نعمر (ہم نے عمر دی تھی) نصیر (مدد گار) تشریح : آیت نمبر 31 تا 37 :۔ نبی کریم ﷺ کو خطاب کرتے ہوئے امت کو اور ساری دنیا کے لوگوں کو بتایا گیا ہے کہ اے نبی ﷺ ! جو کتاب قرآن مجید آپ کی طرف نازل کی گئی ہے…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 29–31

(ف 1) ان آیتوں میں فرمایا کہ جو لوگ قرآن شریف پڑھتے ہیں اور جو کچھ اس میں ہے اس پر ایمان لاتے ہیں اور عمل کرتے ہیں اور نماز ہمیشہ پڑھتے رہتے ہیں اور جو کچھ ہم نے ان کودے رکھا ہے ان میں سے پوشیدہ اور علانیہ ہماری راہ میں یعنی زکوۃ یاصدقہ کے طور پر خرچ کرتے ہیں وہ ایک ایسی تجارت کے امیدوار ہیں جس میں ان کو گھاٹا ہی نہیں کیونکہ اللہ ان کے اعمال کا پورا بدلہ دے گا اور بڑھائے گا اللہ اس ثواب کو اپنے فضل سے بیشک وہ بڑا بخشنے والا ہے اور ان کے گناہ اور قدردانی کرنے والا ہے ان کے تھوڑے عملوں کی پھر فرمایا اے محبوب ﷺ کتاب یعنی قرآن جو ہم نے تمہاری طرف وحی کی ہے وہی حق ہے اسی واسطے یہ تصدیق کرتا ہے ان…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 29–32

[15] یعنی امت مسلمہ۔ [16] مسلمانوں کی یہاں تین قسمیں بیان ہوئی ہیں۔ پہلی قسم اپنے نفس پر ظلم کرنے والے ہیں یعنی ہیں تو مسلمان مگر گناہ کر کے اپنی جانوں پر ظلم کر رہے ہیں۔ اور عملاً کتاب اللہ اور سنت رسول ﷺ کی پیروی کا حق ادا نہیں کر رہے، مسلمان ہیں مگر گنہگار، دوسری قسم متوسط درجے والے، یعنی وہ جو نہ گناہوں میں منہمک ہیں اور نہ بڑے بزرگ ولی ہیں، فرمانبردار بھی ہیں اور خطاکار بھی۔ تیسری قسم نیکیوں میں سبقت کرنے والے۔ یہ صف اول کے لوگ ہیں جن کی رگ رگ میں اسلام رچا ہوا ہے اور جو کتاب و سنت کے اتباع میں پیش پیش ہیں۔ یہ گناہوں سے بچتے بھی ہیں اور طاعت میں فرائض کے علاوہ اور بھی بہت کچھ کئے رہتے…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

قرآن کا احسان کتب مقدسہ پر 1: قرآن حکیم کی ایک خصوصیت یہ ہے کہ یہ مصدق ہے یعنی پہلی تمام کتابوں کو صداقتیں ہیں ۔ ان کی یہ تصدیق کرتا ہے ۔ قرآن کا نزول سے کتب قدیمہ کی یہ حیثیت تھی ۔ کہ ان میں کافی تحریف ہوچکی تھی ۔ اور یہ اتنی بدل چکی تھیں ۔ کہ پابہ اعتبار سے ساتھ ہوگئی تھیں ۔ یہ قرآن کا ان کتابوں پر بہت بڑا احسان ہے ۔ کہ اس نے دوبارہ ان کی تصدیق کی ۔ اور اس روح ومصنویت کی تائید فرمائی ۔ جو باوجود ترمیم واصلاح کے اب تک ان کتابوں میں موجود تھی ۔ اس میں شک نہیں ۔ کہ اگر قرآن مجید نازل نہ ہوتا ۔ تو ابراہیم موسیٰ اور مسیح (علیہم السلام) کو اور ان کی تعلیمات کو کوئی شخص یقین کے ساتھ نہ جان سکتا ۔…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(31) اور اے پیغمبر جو کتاب ہم نے آپ کی جانب وحی کی ہے وہ سراسر حق ہے اس کی حالت یہ ہے کہ وہ اپنے سے پہلی کتابوں کی تصدیق بھی کرنیوالی ہے بلاشبہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی پوری خبر رکھنے والا اور ان کو خوب دیکھنے والا ہے۔ مصدق کے دو معنی ہیں جن کو ہم نے ہمیشہ بیان کیا ہے ایک تو یہ کہ ان کتابوں کو منزل من اللہ بتاتا ہے دوسرے معنی یہ ہیں کہ چونکہ اس کتاب کی سابقہ کتب سماویہ میں پیشین گوئیاں موجود ہیں۔ اس لئے اس کتاب نے آ کر تمام کتب سمادیہ کی پیشین گوئیوں کی تصدیق کردی۔ چونکہ وہ بندوں کی حالت سے خبردار اور ان کی مصالح سے واقف ہے۔ اس لئے آخری دور میں ایک ایسی کامل کتاب نازل فرمائی جس پر عمل کرنے…

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

قرآن کریم اللہ کی وہ کتاب ہیجس میں گزشتہ کتابوں کا بھی خلاصہ بیان کیا گیا ہے 31 ۔ نبی اعظم وآخر ﷺ پر جو کتاب نازل کی گئی وہی کامل ومکمل کتاب ہے۔ گزشتہ کتابوں کے جن جن واقعات کی اس نے تصدیق کی وہ بلا شبہ صحیح اور درست ہیں اور یہ بھی کہ جن جن حصوں کی اس نے تصدیق کی ہے وہی درست ہیں جو تحریف سے پاک ہیں اور بہت سی باتیں ایسی ہیں جن کے غیر درست ہونے پر اس نے مہر ثبت کردی ہے اور ایسی بھی ہیں جن کی طرف درست نہ ہونے کا اس نے اشارہ کردیا ہے لیکن ان پر زور نہیں دیا اس لئے کہ وہ باتیں اخلاقی نہیں تھیں اور غیر ضروری بحثوں کو قرآن کریم نے چھوا اور چھیڑا تک نہیں ہے اور بلاشبہ قرآن کریم کا مزاج ہی ایسا ہے کہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 29–31

Commentary Mentioned earlier, in verse 28, there was a quality of true ` Ulama' who acknowledge Allah. This quality related to the heart. It was to have Allah's awe in the heart. In the first of the present verses (29), some those qualities of the same blessed people, the awliya' or men of Allah, are mentioned that find expression through outward parts of the body. Out of these, the first quality is the tilawah (recitation) of the Qur'an. This denotes the people who recite the Book of Allah constantly. The use of the aorist tense (mudari) in: یَتلُونَ (yatluna: they recite) releases a hint in…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

53 It means: This Book is not presenting anything new which might be opposed to the teaching brought by the former Prophets, but it is presenting the same eternal Truth which all the Prophets have been presenting from the very beginning. " 54 The object of mentioning these attributes of Allah here is to arouse the people to the aims and ideals in which their true well being lies, to the principles which alone can afford the right guidance and to the rules and regulations which are precisely in accordance with them. None can know these except Allah, because He alone is aware of the nature of…

Read the full tafseer →