Explained with ayahs 29–30
کتاب اللہ کی تلاوت کے فضائل۔
مومن بندوں کی نیک صفتیں بیان ہو رہی ہیں کہ وہ کتاب اللہ کی تلاوت میں مشغول رہا کرتے ہیں۔ ایمان کے ساتھ پڑھتے رہتے ہیں عمل بھی ہاتھ سے جانے نہیں دیتے۔ نماز کے پابند زکوٰۃ خیرات کے عادی ظاہر و باطن اللہ کے بندوں کے ساتھ سلوک کرنے والے ہوتے اور وہ اپنے اعمال کے ثواب کے امیدوار اللہ سے ہوتے ہیں۔ جس کا ملنا یقینی ہے۔ جیسے کہ اس تفسیر کے شروع میں فضائل قرآن کے ذکر میں ہم نے بیان کیا ہے کہ کلام اللہ شریف اپنے ساتھی سے کہے گا کہ ہر تاجر اپنی تجارت کے پیچھے ہے اور تو تو سب کی سب تجارتوں کے پیچھے ہے۔ انہیں ان کے پورے ثواب ملیں گے بلکہ بہت بڑھا چڑھا کر ملیں گے جس کا خیال بھی…
Read the full tafseer →سورة فَاطِر 51
اہل ایمان کے اس عمل کو تجارت سے اس لیے تشبیہ دی گئی ہے کہ آدمی تجارت میں اپنا سرمایہ اور محنت و قابلیت اس امید پر صرف کرتا ہے کہ نہ صرف اصل واپس ملے گا، اور نہ صرف وقت اور محنت کی اجرت ملے گی، بلکہ کچھ مزید منافعہ بھی حاصل ہوگا۔ اسی طرح ایک مومن بھی خدا کی فرمانبرداری میں، اس کی بندگی و عبادت میں، اور اس کے دین کی خاطر جدوجہد میں، اپنا مال، اپنے اوقات، اپنی محنتیں اور قابلیتیں اس امید پر کھپا دیتا ہے کہ نہ صرف ان سب کا پورا پورا اجر ملے گا بلکہ اللہ اپنے فضل سے مزید بہت کچھ عنایت فرمائے گا۔ مگر دونوں تجارتوں میں فرق اور بہت بڑا فرق اس بنا پر ہے کہ دنیوی تجارت میں محض نفع ہی کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–31
خلاصہ تفسیر
اور جو لوگ کتاب اللہ (یعنی قرآن) کی تلاوت (مع العمل) کرتے رہتے ہیں اور (خصوصیت و اہتمام کے ساتھ) نماز کی پابندی رکھتے ہیں اور جو کچھ ہم نے ان کو عطا فرمایا ہے اس میں سے پوشیدہ اور اعلانیہ (جس طرح بن پڑتا ہے) خرچ کرتے ہیں وہ (بوجہ وعدہ الٰہیہ کے) ایسی (دائم النفع) تجارت کے امیدوار ہیں جو کبھی ماند نہ ہوگی (کیونکہ اس سودے کا خریدار کوئی مخلوقات میں سے نہیں ہے جو کبھی تو سودے کی قدر کرتا ہے اور کبھی نہیں کرتا۔ بلکہ اس کا خریدار خود حق تعالیٰ ہوگا، جو ضرور حسب وعدہ اپنی غرض سے نہیں بلکہ محض ان کی نفع رسانی کے لئے اس کی قدر کرے گا) تاکہ ان کو ان (کے اعمال) کی اجرتیں (بھی) پوری (پوری)…
Read the full tafseer →آیت 30
یہ ان کے انفاق کے محرک کی طرف اشارہ بھی ہے اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کے بھرپور صلہ کا وعدہ بھی کہ وہ جو کچھ خرچ کرتے ہیں نہ ریاء و نمائش کے لئے خرچ کرتے ہیں، نہ اس کا کوئی معاوضہ چاہتے اور نہ اس کا کوئی احسان جتاتے ہیں بلکہ صرف اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کے لئے خرچ کرتے ہیں کہ وہ ان کو اس کا پورا پورا صلہ دے اور اپنے فضل سے اس پر مزید اضافہ فرمائے۔ چناچہ ان کا رب ان کے ساتھ ان کی توقعات کے مطابق معاملہ کرے گا اس لئے کہ وہ کوتاہیوں اور غلطیوں کو معاف اور بندوں کے اعمال کی قدر فرمانے والا ہے۔ یہاں ’ غفور شکور ‘ کی صفت کا حوالہ بندوں کی امید افزائی کے لئے ہے کہ ان کی نیکیاں قبول کرنے کے…
Read the full tafseer →30۔ 1 یعنی یہ تجارت مندے سے اس لئے محفوظ ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کے اعمال صالحہ پر پورا اجر عطا فرمائے گا۔ یا فعل محذوف کے متعلق ہے کہ یہ نیک اعمال اس لئے کرتے ہیں یا اللہ نے انہیں ان کی طرف ہدایت کی تاکہ وہ انہیں اجر دے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–31
8: کائنات کی ان عجیب و غریب مخلوقات کو دیکھ کر اور ان سے اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ اور اس کی توحید پر استدلال کر کے انہی کے دل میں اللہ تعالیٰ کی خشیت پیدا ہوتی ہے جن کو اللہ تعالیٰ کی عظمت کا علم اور اس کی سمجھ ہے اور جو لوگ اس سمجھ سے محروم ہیں، وہ کائنات کے ان عجوبوں کی تہہ تک پہنچنے کے باوجود اللہ تعالیٰ کے وجود، اس کی توحید اور اس کی عظمت تک نہیں پہنچتے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–30
اب صفحات کائنات سے روئے سخن صفحات کتاب الٰہی کی طرف پھرجاتا ہے کہ جو لوگ اس کی تلاوت کرتے ہیں ان کے پیش نظر کیا ہے اور ان کے لیے کیا کیا انعامات تیار ہیں۔
ان الذین یتلون۔۔۔۔۔ انہ غفور شکور (29 – 30) ” ۔
تلاوت کتاب سے مراد صرف جبرا یا خاموشی کے ساتھ کلمات کتاب دہرانے کے بجائے کوئی اور چیز ہے اور وہ ہے قرآن کو تدبر کے ساتھ پڑھنا۔ جس کے بعد پڑھنے والا کسی حقیقت کا ادراک کرے اور اس سے متاثر ہو۔ اس کے بعد وہ اس پر عمل کرے اور اپنی زندگی کو اس پر ڈھالے۔ یہی وجہ ہے کہ تلاوت قرآن کے بعد اقامت صلوٰۃ اور انفاق کو ذکر ہوا ، خواہ پوشیدہ ہو یا علانیہ ہو۔ اور اس کے بعد پھر ایسے لوگوں کو یہ امید ہو کہ اس…
Read the full tafseer →1 یعنی بہت سے گناہ معاف فرماتا ہے اور تھوڑی سی طاعت کی قدر کرتا ہے اور ضابطہ سے جو ثواب ملنا چاہیے۔ بطور بخشش اس سے زیادہ دیتا ہے۔
Read the full tafseer →آیت 30{ لِیُوَفِّیَہُمْ اُجُوْرَہُمْ وَیَزِیْدَہُمْ مِّنْ فَضْلِہٖط اِنَّہٗ غَفُوْرٌ شَکُوْرٌ} ”تاکہ اللہ ان کو ان کے اعمال کے بھرپور اجر دے اور اپنے فضل سے انہیں مزید عطا کرے۔ یقینا وہ بہت بخشنے والا ‘ بہت قدر دان ہے۔“
یعنی اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی غلطیوں کو معاف کرنے والا اور ان کے اعمال کی بہت قدر افزائی فرمانے والا ہے۔
Read the full tafseer →35 اللہ تعالیٰ کی اپنے بندوں کے اعمال کی قدردانی پیاسے کو پانی پلانے اور راہ سے کانٹے ہٹانے پر بخشش :۔ یعنی اللہ کا اپنے بندوں سے معاملہ ایسا نہیں ہے جیسا ایک تنگ ظرف آقا کا معاملہ اپنے ملازم سے ہوتا ہے۔ جو بات بات پر اپنے ملازم پر گرفت تو کرتا ہے مگر اس کی خدمات کو خاطر میں نہیں لاتا۔ اللہ کا اپنے بندوں سے معاملہ اس سے بالکل برعکس ہے۔ وہ اپنے بندوں کی چھوٹی موٹی غلطیاں معاف کردیتا ہے اور ان سے ان کی باز پرس بھی نہیں کرتا اور انسان جو نیک اعمال بجا لاتا ہے ان کا ان کے اجر سے بہت زیادہ بدلہ عطا فرماتا ہے۔ اسے اپنے بندے کی کوئی بھی ادا پسند آجائے تو اسے اجر عظیم عطا فرماتا ہے۔ چناچہ سیدنا…
Read the full tafseer →42۔” غفور “۔ بخشنے والا ایسا کہ اعمال کی کو تاہیوں، فرگذاشتوں، لغزشوں کو بخش دے۔” شکور “۔ قدردان ایسا کہ اعمال صالح کی قدر ان کے استحقاق سے بڑھ کر کرے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–37
آیت نمبر 27 تا 37
ترجمہ : اے مخاطب ! کیا تو نے اس بات پر نظر نہیں کی کہ اللہ نے آسمان سے پانی نازل کیا پھر ہم نے اس پانی کے ذریعہ مختلف رنگوں کے پھل پیدا کئے اس میں غیبت سے تکلم کی جانب التفات ہے جیسا کہ سبز اور سرخ اور زرد وغیرہ اوعر پہاڑوں میں بھی مختلف رنگوں کی دھاریاں ہیں جُدَدٌ جُدَّۃٌ کی جمع ہے، پہاڑی راستے وغیرہ کو کہتے ہیں، (مثلاً ) سفیدوسرخ اور زرد اور وہ رنگ تیز اور ہلکا ہونے کے اعتبار سے بھی مختلف ہیں اور بہت گہرے سیاہ بھی اس کا عطف جُدَدٌ پر ہے یعنی نہایت تیز رنگ کی چٹانیں ہیں، کثیر الاستعمال اَسْوَدُ غِربیبٌ ہے اور قلیل الستعمال غِرْبِیْبٌ اَسْوَدُ ہے اور اسی طرح انسانوں اور…
Read the full tafseer →لیوفیھم اجورھم ویزیدھم من فضلہ تاکہ اللہ ان کی اجرتیں پوری پوری دے اور اپنی مہربانی سے زیادہ بھی دے۔
یَتْلُوْنَ کِتٰبِ اللّہِ یعنی کتاب اللہ کی تلاوت ہمیشہ کرتے رہتے ہیں اور اس کے مضمون پر عمل بھی کرتے ہیں۔ کتاب اللہ سے مراد صرف قرآن مجید ہے یا تمام کتب الٰہیہ۔ اس صورت میں تکذیب کرنے والوں کی حالت کے بیان کے بعد اس آیت میں تمام گذشتہ اور موجودہ امتوں میں سے تصدیق کرنے والے مؤمنوں اور قاریوں اور عالموں کی مدح ہوجائے گی۔
اَقَامُوْا الصَّلٰوۃَ یعنی پوری رعایت حقوق کے ساتھ نماز کی پابندی رکھتے ہیں۔
سِرًّا وَّعَلاَنِیَۃً یعنی جس طرح موقع ملے پوشیدہ یا علانیہ راہ خدا میں خرچ کرتے ہیں۔ بعض نے کہا :…
Read the full tafseer →تاکہ اللہ تعالیٰ جنت میں ان کے اعمال کا ثواب ان کو پورا دیں اور اپنے فضل سے اور زیادہ بھی دیں کہ ایک نیکی پر دس گنا ثواب عطا کریں۔ وہ ان کے بڑے گناہوں کا بخشنے والا اور معمولی نیکیوں کا قبول کرنے والا ہے کہ ذرا سی نیکی کو قبول فرماتا ہے اور اس پر زیادہ ثواب دیتا ہے۔
Read the full tafseer →لِيُوَفِّيَهُمْ اُجُوْرَهُمْ وَيَزِيْدَهُمْ مِّنْ فَضْلِهٖ ۭ :”لِيُوَفِّيَهُمْ“ میں لام عاقبت کا ہے، یعنی اہل علم کی تلاوت کتاب، اقامت صلاۃ اور خرچ کرنے کا نتیجہ یہ ہوگا کہ اللہ تعالیٰ انھیں ان کے اجر پورے دے گا اور اپنے فضل سے مزید بھی دے گا۔ یہ لام علت اور وجہ بیان کرنے کے لیے بھی ہوسکتا ہے، یعنی علم والے لوگ قرآن کی تلاوت، اقامت صلاۃ اور اللہ کے عطا کردہ میں سے خرچ کرتے ہیں، تاکہ وہ انھیں ان کے اجر پورے دے اور اپنے فضل سے مزید بھی عطا فرمائے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (فَاَمَّا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فَيُوَفِّيْهِمْ اُجُوْرَهُمْ وَيَزِيْدُهُمْ مِّنْ فَضْلِهٖ ۚ) […
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–30
یہ ان قراء کے بارے میں آیت جو عمل کرنے والے ہیں، عالم ہیں جو فرض اور نفل نماز کو قائم کرتے ہیں۔ یہی حکم انفاق کے بارے میں ہے۔ کتاب کے مقدمہ میں یہ بحث گزر چکی ہے قاری کو جن چیزوں سے آراستہ ہونا چاہیے۔ احمد بن یحییٰ نے کہا : یرجون اپنے متعلقات سے مل کر ان کی خبر ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : زیادت سے مراد آخرت میں شفاعت ہے، یہ دوسری آیت کی طرح ہے آیت : رجال لا تلھیھم تجارۃ ولا بیع عن ذکر اللہ و اقام الصلوۃ و ایتاء الذکوۃ یخافون یو ما تتقلب فیہ القلوب و ابصار لیجذ یھم اللہ احسن ما عملوا و یذید ھم من فضلہ (النور : 37) سورة نساء کے آخر میں ارشاد باری تعالیٰ ہے : آیت : فا ما الذین امنوا و عملا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–31
1:۔ عبدالغنی بن سعید الثقفی نے اپنی تفسیر میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ یہ (آیت) ” ان الذین یتلون کتب اللہ واقاموالصلوۃ “ (کہ جو لوگ اللہ کی کتاب کی تلاوت کرتے ہیں اور نماز کو قائم کرتے ہیں) حصین بن حارث بن عبدالمطلب بن عبد مناف قریشی کے بارے میں نازل ہوئی۔
2: عبد بن حمید وابن جریر وابن ابی حاتم نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” یرجون تجارۃ لن تبور “ (کہ وہ ایسی تجارت کے امیدوار ہیں جو کبھی ماند نہ ہوگی) اس سے مراد ہے جنت (آیت) ” لن تبور “ (جو ہرگز ماند نہ ہوگی) یعنی ہرگز ختم نہ ہوگی (آیت) ” لیوفیھم اجورھم ویزید ھم من فضلہ “ (تاکہ اللہ تعالیٰ ان کی اجرتیں پوری پوری دے اور اپنی مہربانی سے…
Read the full tafseer →لِيُوَفِّيَهُمْ [نتیجتاً وہ پورا پورا دے گا ان کو ] اُجُوْرَهُمْ [ان کے اجر ] وَيَزِيْدَهُمْ [اور زیادہ دوں گا ان کو ] مِّنْ فَضْلِهٖ ۭ [اپنے فضل سے ] اِنَّهٗ غَفُوْرٌ [یقینا وہ بےانتہاء بخشنے والا ہے ] شَكُوْرٌ [انتہائی قدردان ہے ] ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–30
اس کے بعد نیک بندوں کی تعریف فرمائی اور ان کے اجر وثواب کا تذکرہ فرمایا کہ جو اللہ کی کتاب کی تلاوت کرتے ہیں اور نماز قائم کرتے ہیں اور پوشیدہ اور ظاہری طور پر ہمارے دئیے ہوئے مال سے خرچ کرتے ہیں۔ یہ لوگ ایسی تجارت کے امیدوار ہیں جو کبھی بھی ہلاک نہ ہوگی، ان کی عبادتوں کے اجور اللہ تعالیٰ انہیں پورے پورے عطا فرمائے گا، (جانی عبادتیں ہوں یا مالی) اور انہیں اپنے فضل سے مزید عطا فرمائے گا، وہ بہت بخشنے والا بھی ہے، کمی کوتاہی کو معاف فرما دے گا اور وہ بڑا قدردان بھی ہے ہر نیکی کا اجر کم از کم دس گنا کرکے عطا فرمائے گا، اسی تجارت میں لگنے میں نفع عظیم ہے جس کے تباہ ہونے کا خطرہ نہیں اور نقصان کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–37
مدح وثنا علما وصلحا امت و توصیف وشان علم نبوت
وترغیب برتجارت آخرت
قال اللہ تعالی۔ ان الذین یتلون کتب اللہ۔۔۔ الی۔۔۔ فما للظلمین من نصیر۔
(ربط) گزشتہ آیت یعنی انما یخشی اللہ من عبادہ العلمؤا میں علما کا ذکر تھا اب ان آیات میں علما کی اور ان مومن بندوں کی مدح فرماتے ہیں جو کتاب الٰہی کی تلاوت کرتے ہیں اس پر عمل کرتے ہیں۔ انبیاء کے وارث وہی علماء ہیں جو نبی کے علم پر عمل بھی کرتے ہیں اور ان آیات میں یہ بتلاتے ہیں کہ امت کے طبقات مختلف ہیں بعض نہایت پسندیدہ اور سابق بالخیر ہیں اور بعض ظالم ہیں اور بعض درمیان ہیں۔ منزل مقصود سب کی آخرت ہے اور یہ دنیا دار تجارت ہے اور پہلا گروہ اس تجارت میں سب سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–30
ٖ 29:۔ ان الذین الخ : یہ قرآن پڑھنے والوں اور اس پر عمل کرنے والوں کے لیے بشارت اخروی ہے۔ اسم موصول سے صحابہ کرام ؓ اور تمام مومنین مراد ہیں قال السدی ھم اصحاب الرسول ﷺ و رضی عنہم وقال عطاءھم المومنون (بحر ج 7 ص 312) ۔ اور کتاب اللہ سے قرآن مراد ہے والمراد بکتاب اللہ القرآن (روح ج 22 ص 192) اور تلاوت سے مراد ہے کماحقہ تلاوت یعنی اس کے احکام کی پیروی کرنا جیسا کہ دوسری جگہ ارشاد ہے۔ یتلونہ حق تلاوتہ (بقرہ) اور تجارت سے مراد ثواب ہے۔ والمراد من التجارۃ ما وعد اللہ من الثواب (خازن ج 5 ص 248) ۔ حضرت شیخ فرماتے ہیں یرجون، صورہً خبر اور معنی انشاء ہے ای لیرجوا، یعنی جو لوگ قرآن کی تلاوت کرتے اور اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–31
ربط آیات
گزشتہ آیات میں انذار کا بیان تھا۔ اللہ نے اہل ایمان اور کفار کی الگ الگ حیثیت کو بیان فرمایا تھا کہ یہ دونوں گروہ برابر نہیں ہوسکتے ، جس طرح اندھا اور بینا ، اندھیرا اور روشنی ، سایہ اور تپش ، زندہ اور مردہ برابر نہیں ہوسکتے اسی طریقہ سے کافر ، مشرک ، گمراہ اور ایماندار برابر نہیں ہوسکتے ، اس کے بعد اللہ نے رسالت و نبوت کے بیان میں فرمایا کہ ہم نے ہر امت میں ڈر سنانے والے بھیجے ہیں ، اور آپ کو بھی ہم نے بشیر اور نذیر بنا کر بھیجا ہے۔ اگر یہ لوگ انکار کرتے ہیں تو آپ دل برداشتہ نہ ہوں۔ یہ تکذیب کوئی نئی بات نہیں ہے ۔ آپ اطمینان رکھیں ، پہلے انبیاء (علیہم السلام) کی بھی تکذیب کی گئی ہے۔…
Read the full tafseer →لِيُوَفِّيَہُمْ اُجُوْرَہُمْ وَيَزِيْدَہُمْ مِّنْ فَضْلِہٖ 0 ۭ اِنَّہٗ غَفُوْرٌ شَكُوْرٌ 30
اسْتِيفَاؤُهُ :
تناوله وَافِياً. قال تعالی: وَوُفِّيَتْ كُلُّ نَفْسٍ ما كَسَبَتْ [ آل عمران/ 25] ، وقال : وَإِنَّما تُوَفَّوْنَ أُجُورَكُمْ [ آل عمران/ 185] ، ثُمَّ تُوَفَّى كُلُّ نَفْسٍ [ البقرة/ 281] ، إِنَّما يُوَفَّى الصَّابِرُونَ أَجْرَهُمْ بِغَيْرِ حِسابٍ [ الزمر/ 10] ، مَنْ كانَ يُرِيدُ الْحَياةَ الدُّنْيا وَزِينَتَها نُوَفِّ إِلَيْهِمْ أَعْمالَهُمْ فِيها[هود/ 15] ، وَما تُنْفِقُوا مِنْ شَيْءٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ يُوَفَّ إِلَيْكُمْ [ الأنفال/ 60] ، فَوَفَّاهُ حِسابَهُ [ النور/ 39]
اور توفیتہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–32
ترکیب : الوانہا مرفوع۔ بمختلف و جدد بفتح الدال جمع جدۃ وھی الطریقۃ ویقراء بضمھا و ھو جمع جدید کسر یروسرر قال الجوہری الجدۃ الخطۃ التی فی ظھر الحمار تخالف لونہ والجدۃ الطریق والجمع جدود جدائد، قال المبرد و طرائق و خطوط و غرابیب سود عطف علی بیض و علی جدد کانہ قیل ومن الجبال ذوجد و مختلفۃ اللون و منہا غرابیب متحدۃ اللون، وغرابیب جمع غربیب ھو الشدید السواد الذی یشبہ لونہ لون الغراب والغرابیب تابع و تاکید لسود و حق التاکید التاخیر فقیل فی جو ابہ ھو تاکید مضمر بفسرہ سود کما جاء فی قول النابغہ ؎
المومن العائذات الطیر مسیحھا والطیر عطف بیان للعائذات و ھو الشاہد
ومن الحبال مستانفۃ کانہ قال واخرجنا با…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–30
اِنَّ الَّذِیْنَ یَتْلُوْنَ کِتٰبَ اللّٰہِ وَاَقَامُوا الصَّلٰوۃَ وَاَنْفَقُوْا مِمَّا رَزَقْـنٰـھُمْ سِرًّاوَّعَلاَ نِیَۃً یَّرْجُوْنَ تِجَارَۃً لَّنْ تَـبُوْرَ ۔ لِیُوَفِّیَہُمْ اُجُوْرَھُمْ وَیَزِیْدَھُمْ مِّنْ فَضْلِہٖ ط اِنَّـہٗ غَفُوْرٌشَکُوْرٌ۔ (فاطر : 29، 30)
(بےشک جو لوگ کتاب اللہ کی تلاوت کرتے ہیں اور نماز قائم کرتے ہیں، اور جو کچھ ہم نے ان کو رزق دیا ہے اس میں سے پوشیدہ اور علانیہ خرچ کرتے ہیں، یقینا وہ ایک ایسی تجارت کے امیدوار ہیں جو کبھی خسارے کا شکار نہیں ہوگی۔ تاکہ اللہ ان کے اجر پورے کے پورے ان کو دے اور ان کے لیے اپنے فضل میں سے زیادہ بھی کرے، بیشک وہ بخشنے والا اور قدردان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–30
فہم القرآن
ربط کلام : حقیقی علم کا تقاضا ہے کہ انسان اپنے رب کو پہچانے اور اس سے ڈر کر زندگی بسر کرنے کی کوشش کرے۔ علم اور تقویٰ ! کتاب اللہ کی تلاوت سے حاصل ہوتا ہے بشرطیکہ انسان یقین اور غور و فکر کے ساتھ کتاب اللہ کی تلاوت کرے۔
حقیقی عالم وہ ہوتا ہے جو کتاب اللہ کی تلاوت کرتا اور اس پر غوروفکر کرتا ہے۔ کتاب اللہ کی تلاوت کا منطقی نتیجہ ہے اور ہونا چاہیے، کہ وہ شخص پانچ وقت نماز ادا کرے اور جو کچھ اللہ تعالیٰ نے اسے دے رکھا ہے اس سے پوشیدہ اور ظاہری طور پر خرچ کرتا رہے۔ اس امید اور یقین کیساتھ کہ وہ انفاق فی سبیل اللہ کی صورت میں اللہ تعالیٰ کے ساتھ لین دین کررہا ہے یہ ایسی سودا گری ہے جس…
Read the full tafseer →وفائے اجر سے وعدئہ لقاء مراد ہے :
30: لِیُوَ فِّیَہُمْ (تاکہ وہ ان کو پورا پورا دے) یہ لن تبور کے متعلق ہے۔ ای لیوفیھم بنفاقھا عندہ (تاکہ وہ ان کو اپنے ہاں رائج کر کے پورا پورا بدلہ دے) اُجُوْرَھُمْ (ان کا بدلہ) یعنی ان کے اعمال کا ثواب وَیَزِیْدَ ھُمْ مِّنْ فَضْلِہٖ (اور اپنے فضل سے ان کو اور دے) ان کی قبور کو وسیع کر دے۔ نمبر 2۔ ان کا سفارشی بنا دے جنہوں نے ان پر احسان کیا۔ نمبر 3۔ ان کی نیکیوں کو دوگنا کر دے نمبر 4۔ اپنی لقاء کا وعدہ پورا فرما دے۔ یرجونؔ یہ موضع حال میں ہے یعنی وہ امیدوار ہیں اور لام ؔ یتلون اور مابعد سے متعلق ہے یعنی انہوں نے یہ تمام کام تلاوت ‘ اقامت صلوٰۃ اور انفاق اس…
Read the full tafseer →30، لیوفیھم اجورھم، تاکہ ان کے اعمال کا ثواب پوراپورا دیاجائے ۔ ، ویزید ھم من فضلہ ، ابن عباس ؓ نے فرمایا ، اس ثواب کے علاوہ جو نہ کسی آنکھ سے دیکھا اور نہ ہی کان سے سنا ۔ ، انہ غفور شکور ، ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ وہ بڑے گناہوں کو بخش دے گا اور تھوڑے عمل کی قدردانی فرمائے گا یعنی ثواب عنایت کردے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–31
29‘ 31۔ اوپر قرآن کے پابند علماء کا ذکر فرما کر ان آیتوں میں فرمایا وہ ایسے لوگ ہیں جو قرآن پڑھتے ہیں اور جو کچھ اس میں ہے۔ اس پر ایمان لاتے ہیں اور عمل کرتے ہیں نماز پڑتے ہیں اور خرچ کرتے ہیں اس چیز میں سے کہ دی ہم نے ان کو چھپی اور کھلی امید رکھتے ہیں ایک سودا گری کی جو کبھی نہ ٹوٹے اور نہ ہلاک ہو مطلب یہ کہ ثواب کی امید رکھتے ہیں اللہ سے اور وہ ضرور ان کو ملے گا جیسا کہ فرمایا لیو فینھم اجورھم تاکہ پورا کر دے ان کو ثواب ان کے کاموں کا اور بڑھائے گا اللہ اس ثواب کو اپنے فضل سے بیشک وہ بخشنے والا ہے ان کے گناہ اور قدر دانی کرنے والا ہے ان کے تھوڑے عملوں کی پھر فرمایا یہ قرآن برحق کلام الٰہی…
Read the full tafseer →آیت 30
(ان الذین یتلون کتب اللہ) ” بیشک جو لوگ اللہ کی کتاب پڑھتے ہیں۔ “ یعنی اس کے اوامر میں اس کی اطاعت کرتے ہیں، اس کے نواحی کو ترک کرتے ہیں، اس کی دی ہوئی خبروں کی تصدیق کر کے انہیں اپنا عقیدہ بناتے ہیں اور ان اقوال کو پسند نہیں کرتے جو اس کی مخالفت کرتے ہیں وہ اس کے معانی میں غو رو خوض اور ان کے فہم کے حصول کی خاطر اس کے الفاظ کی تلاوت کرتے ہیں۔ پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے کتاب الہ کی تلاوت کے عموم کو بیان کرنے کے بعد نماز کو مخصوص فرمایا، جو دین کا ستون، مسلمانوں کے لئے روشنی، ایمان کی میزان اور دعویٰ اسلام کی صداقت کی علامت ہے نیز اقارب، مساکین اور یتیموں پر زکوۃ، کفارات، نذر اور صدقات…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–33
علم، حشیت اللہ پیدا کرتا ہے
قول باری ہے (انما یخشی اللہ من عبادہ العلمو۔ اللہ سے ڈرتے بس وہی بندے ہیں جو علم والے ہیں) آیت میں علم کی فضیلت بیان کی گئی ہے نیز یہ کہ علم کے ذریعے اللہ کی خشیت اور تقویٰ تک رسائی ہوتی ہے۔ اس لئے کہ جو شخص اللہ کی توحید اور اس کے عدل کی معرفت حاصل کرلیتا ہے اس کی یہ معرفت اسے خشیت اور تقویٰ تک پہنچا دیتی ہے۔ کیونکہ جو شخص اللہ کی توحید، اس کے عدل اور کائنات کی تخلیق میں اس کے مقصد سے ناآشنا ہو وہ نہ تو اللہ سے ڈرتا ہے اور نہ ہی اس کے دل میں تقویٰ یعنی خوف خدا پیدا ہوتا ہے۔
ایک اور آیت میں ارشاد ہے (یرفع اللہ الذین امنا منکم والذین اوتوا العلم درجات ۔ اللہ تعالیٰ…
Read the full tafseer →69 اہل ایمان کے انفاق کے اصل محرک کی طرف اشارہ : سو اہل ایمان کے اصل محرک کی طرف اشارہ اور ان کے اجر و صلہ کے ذکر کے سلسلے میں ارشاد فرمایا گیا تاکہ اللہ تعالیٰ انکو نوازے انکے اجر اور اپنے فضل مزید سے۔ یعنی یہ لوگ یہ سب کچھ اس لئے کرتے ہیں کہ ان کا رب ان کو اپنے کئے کا پورا پورا صلہ و بدلہ اور اجر وثواب عطا فرمائے اور جو آخرت ہی میں مل سکتا ہے۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر فرمایا گیا ۔ { وَ وُفِّیَتْ کُلُّ نَفْسٍ مَّاعَمِلَتْ وَھُوَ اَعْلَمْ بِمَا یَفْعَلُوْنَ } ۔ (الزمر : 70) کہ دنیا کے ظرف محدود میں اس کی گنجائش ہی نہیں کہ یہاں انسان کو اس کے عمل و کردار کو پورا پورا صلہ و بدلہ مل سکے۔ جیسا کہ ہم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–45
سچ تو یہ ہے جو اللہ نے اعلان کیا ہے
تشریح : ان آیات کی وضاحت کیا کی جائے یہ تو بذات خود علم و عرفان اور کلام الٰہی کی انتہائی آسان اور عام فہم مضمون کا مجموعہ ہیں۔ اہل علم کو معلوم ہے کہ مومن کو آنکھوں والا، زندہ اور نور سے تشبیہ دی گئی ہے جبکہ کافر کو اندھا، تاریکی اور مردہ کہا گیا ہے۔ پھر کفار کی ایک خاص خصلت کا ذکر کیا گیا ہے کہ وہ اتنا ہٹ دھرم اور ضد کا پکا ہوتا ہے کہ ہمیشہ نبیوں کو جھٹلاتا رہتا ہے اس لیے سیدنامحمد ﷺ کو بار بار یہ تاکید کی گئی ہے کہ آپ ان کی ضد پر پریشان نہ ہوا کریں بس آپ ان کو سمجھاتے رہیں ان سے نمٹنا اللہ کا کام ہے۔ بار بار کفار کے لیے دوزخ اور مومن کے لیے جنت کا اعلان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–37
رکوع نمبر 4 ۔ آیات 27 ۔ تا۔ 37:
اسرار و معارف :
اللہ کی قدرت کاملہ کا ہر پہلو کتنا روشن ہے بھلا غور کرو کہ کس طرح پانی کو اٹھا کر بلندیوں سے برساتا ہے اور نشیب و فراز پر پہنچا دیتا ہے یہ بھی دیکھو کہ ایک ہی طرح کا پانی برستا ہے بےرنگ اور بےذائقہ مگر جب اس کے ذریعے پھل اگاتا ہے تو ان سب کے رنگ جدا اور ذائقے الگ الگ ہوتے ہیں۔ یہی نہیں پہاڑوں کو دیکھو ایک ہی زمین مختلف رنگوں کے امتزاج خوبصورت انداز میں کھڑے کردئیے کہیں سفید سفید گھاٹیاں ہیں پھر اسی پہاڑ میں سرخ رنگ کی تہہ آجاتی ہے کہیں سیاہ اور کالے بھجنگ پہاڑ کھڑے نظر آتے ہیں یہی حال بندوں جانوروں اور کیڑے مکوڑوں میں نظر آتا ہے کوئی گورا ہے…
Read the full tafseer →ف 3 یعنی ان کے گناہوں کو بخشنے والا اور ان کی اطاعت کی قدر کرنے والا ہے۔ یہاں تک تو توحید کا بیان تھا اب آگے رسالت کا بیان شروع ہو رہا ہے۔ ( کبیر)
Read the full tafseer →(35:30) لیوفیہم۔ یوفی مضارع واحد مذکر غائب منصوب بوجہ عمل لام تولیۃ تفعیل مصدر۔ پورا پورا دینا۔ ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب۔ ان کو پورا پورا دے گا۔ ان کو پورا پورا دے۔ لام کی دو صورتیں ہیں :۔
(1) یہ لام تعلیل کا ہے اور اس کا تعلق فعل محذوف سے ہے یعنی فعلوا ما فعلوا لیوفیہم یعنی وہ ایسا اس واسطے کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کے اعمال کا پورا پورا ثواب ان کو دے۔
(2) یہ لام عاقبت کا ہے اور اس کا تعلق یرجون سے ہے (یعنی اس امید تجارت کا نتیجہ یہ ہوگا) کہ اللہ ان کے اعمال کا پورا پورا بدلہ دیگا۔
ویزیدہم من فضلہ۔ اور اپنے فضل سے ان کے اجر میں مزید اضافہ کرے گا۔ انہ غفور شکور بیشک وہ بڑی مغفرت کرنے والا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–30
لغات القرآن : آیت نمبر 27 تا 30 :۔ جدد ( جدۃ) ( راستے) بیض (سفید) حمر (سرخ) غرابیب (بےانتہا سیاہ) سود (سیاہ ، تاریک) دواب ( جانور) لن تبور ( ہرگز نقصان نہ ہوگا) شکور ( قدر دان ، قدر کرنے والا)
تشریح : آیت نمبر 27 تا 30 :۔ گزشتہ آیات سے اللہ کی نعمتوں کا ذکر کیا جا رہا ہے کہ اگر انسان کائنات میں بکھری ہوئی نعمتوں میں غور و فکر اور تدبر سے کام لے تو وہ اس خالق ومالک کو پہچان سکتا ہے جس نے ان چیزوں کو پیدا کیا ہے۔
آسمان سے جب بارش برستی ہے تو زمین میں ایک ترو تازگی پیدا ہوجاتی ہے، کھیت لہلہانے لگتے ہیں ، درختوں کی خوبصورتی میں اضافہ ہوجاتا ہے، سبزہ ، سبزی ، پھل اور طرح طرح کے میوے اگنے لگتے ہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–31
(ف 1) ان آیتوں میں فرمایا کہ جو لوگ قرآن شریف پڑھتے ہیں اور جو کچھ اس میں ہے اس پر ایمان لاتے ہیں اور عمل کرتے ہیں اور نماز ہمیشہ پڑھتے رہتے ہیں اور جو کچھ ہم نے ان کودے رکھا ہے ان میں سے پوشیدہ اور علانیہ ہماری راہ میں یعنی زکوۃ یاصدقہ کے طور پر خرچ کرتے ہیں وہ ایک ایسی تجارت کے امیدوار ہیں جس میں ان کو گھاٹا ہی نہیں کیونکہ اللہ ان کے اعمال کا پورا بدلہ دے گا اور بڑھائے گا اللہ اس ثواب کو اپنے فضل سے بیشک وہ بڑا بخشنے والا ہے اور ان کے گناہ اور قدردانی کرنے والا ہے ان کے تھوڑے عملوں کی پھر فرمایا اے محبوب ﷺ کتاب یعنی قرآن جو ہم نے تمہاری طرف وحی کی ہے وہی حق ہے اسی واسطے یہ تصدیق کرتا ہے ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–32
[15] یعنی امت مسلمہ۔
[16] مسلمانوں کی یہاں تین قسمیں بیان ہوئی ہیں۔ پہلی قسم اپنے نفس پر ظلم کرنے والے ہیں یعنی ہیں تو مسلمان مگر گناہ کر کے اپنی جانوں پر ظلم کر رہے ہیں۔ اور عملاً کتاب اللہ اور سنت رسول ﷺ کی پیروی کا حق ادا نہیں کر رہے، مسلمان ہیں مگر گنہگار، دوسری قسم متوسط درجے والے، یعنی وہ جو نہ گناہوں میں منہمک ہیں اور نہ بڑے بزرگ ولی ہیں، فرمانبردار بھی ہیں اور خطاکار بھی۔ تیسری قسم نیکیوں میں سبقت کرنے والے۔ یہ صف اول کے لوگ ہیں جن کی رگ رگ میں اسلام رچا ہوا ہے اور جو کتاب و سنت کے اتباع میں پیش پیش ہیں۔ یہ گناہوں سے بچتے بھی ہیں اور طاعت میں فرائض کے علاوہ اور بھی بہت کچھ کئے رہتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–30
ف 3: علماء کی فضیلت بیان کرنے کے بعد اب یہ بتایا ہے ۔ کہ یہ لوگ واقعی عزت واحترام کے مستحق ہیں ۔ یہ اللہ کی کتاب غوروفکر سے پڑھتے ہیں اور اپنی عبودیت اور اس کی الوہیت کا اقرار کرتے ہیں ۔ اس کے سامنے جھکتے ہیں ۔ اس کی عبادت کرتے اور اپنے مال و دولت میں سے اس کی راہ میں خرچ کرتے ہیں ۔ فرمایا ۔ کہ ان کی یہ تجارت ایسی ہے جس میں خسارہ کا کوئی اندیشہ نہیں ۔ بلکہ اللہ تعالیٰ ان کی مساعی میں برکت پیدا کردیتا ہے ۔ اور اپنے فضل اور قدر دانی سے ان کے اجر میں اضافہ کردیتا ہے ۔
Read the full tafseer →(30) چونکہ اللہ تعالیٰ خود ہی اس تجارت کا حامی ہے تو اس میں نفع ہی نفع کی وجہ یہ ہے کہ تاکہ اللہ تعالیٰ ان کو ان کے اجر اور صلے پورے پورے عطا فرمائے اور اپنی مہربانی اور فضل سے ان کو اور بڑھتی اور زیادہ بھی دے بیشک وہ بڑا بخشنے والا بڑا قدرداں ہے۔ یعنی ثواب اور ان کے اعمال کی اجرتیں تو حسب وعدہ ان کو دی ہی جائیں گی جس کا بیان آگے آئے گا لیکن مقررہ ثواب کے علاوہ اور زیادہ بھی عطا ہوگی۔
سورۂ یونس میں گزرا ہے۔ للذین احسنوا الحسنی وزیادۃ
یعنی بھلائی کرنے والوں کو بھلی چیز یعنی جنت ملے گی اور جنت کے علاوہ اور زیادہ بھی عطا ہوگا۔
حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ ثواب موعود کے علاوہ ایسی چیزیں دی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–31
ف 1۔ پس خشیت مقتضائے عزت بھی اور ہے مقتضائے غفوریت بھی۔
Read the full tafseer →جن کا اجر اللہ کے ذمہ ہے وہ ان کو پورا پورا ادا کرکے زائد بھی عطا کرے گا
30 ۔ اللہ تعالیٰ کے ذمہ کن لوگوں کا اجر ہے ؟ انہی لوگوں کا جن لوگوں نے اس کی رضا حاصل کرنے کے لئے اس کا پیغام پہنچایا اور اکثر یہی ہوا کہ جن لوگوں کو اللہ کا پیغام پہنچایا گیا انہوں نے پیغام پہنچانے والے ہی کے کان پکڑوا دیئے اور وہ مار ماری کہ ان کو ننہیال یاد آگئے ، ایسا کیوں ہوا ؟ اس لئے جن کو پیغام پہنچایا گیا وہ ان کے مزاج کے سخت خلاف تھے اور پیغام پہنچانے والوں نے چاہا کو جو بات ان کے مزاج کے خلاف ہے وہ اس کو قبول کرلیں اس طرح جب اس نے اللہ کا پیغام بار بار یاد دلایا تو انہوں نے اس کو خوب پٹائی گئی اور پھر اس کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–31
Commentary
Mentioned earlier, in verse 28, there was a quality of true ` Ulama' who acknowledge Allah. This quality related to the heart. It was to have Allah's awe in the heart. In the first of the present verses (29), some those qualities of the same blessed people, the awliya' or men of Allah, are mentioned that find expression through outward parts of the body. Out of these, the first quality is the tilawah (recitation) of the Qur'an. This denotes the people who recite the Book of Allah constantly. The use of the aorist tense (mudari) in: یَتلُونَ (yatluna: they recite) releases a hint in…
Read the full tafseer →51 This kind of conduct and practice of the believers has been likened to a trade bargain because in trade a man invests his money and labour and capabilities in the hope that he will not only get his capital back and his wages for the time and energy spent but in addition some profit as well. Likewise, a believer also invests his wealth and his time and his labour and capabilities in carrying out Allah's Commands and in His service and worship and in the struggle to promote the cause of His Religion in the hope that he will not only get his full rewards for it but Allah will bless him with…
Read the full tafseer →