Faatir 35:29

Faatir · from ayah 29

35:29

اِنَّ الَّذِیْنَ یَتْلُوْنَ كِتٰبَ اللّٰهِ وَاَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَاَنْفَقُوْا مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ سِرًّا وَّعَلَانِیَةً یَّرْجُوْنَ تِجَارَةً لَّنْ تَبُوْرَ ۟ۙاِنَّ الَّذِيۡنَ يَتۡلُوۡنَ كِتٰبَ اللّٰهِ وَاَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَاَنۡفَقُوۡا مِمَّا رَزَقۡنٰهُمۡ سِرًّا وَّعَلَانِيَةً يَّرۡجُوۡنَ تِجَارَةً لَّنۡ تَبُوۡرَۙ

جو لوگ خدا کی کتاب پڑھتے اور نماز کی پابندی کرتے ہیں اور جو کچھ ہم نے ان کو دیا ہے اس میں سے پوشیدہ اور ظاہر خرچ کرتے ہیں وہ اس تجارت (کے فائدے) کے امیدوار ہیں جو کبھی تباہ نہیں ہوگی

— Fateh Muhammad Jalandhari

Indeed, those who recite the Book of Allah and establish prayer and spend [in His cause] out of what We have provided them, secretly and publicly, [can] expect a profit that will never perish -

— Saheeh International

Juz 22 · Ruku 4 of surah · Ruku 16 of juz

Read the whole surah · Surah Faatir

All translations of 35:29

جو لوگ کتاب اللہ کی تلاوت کرتے ہیں اور نماز قائم کرتے ہیں، اور جو کچھ ہم نے اُنہیں رزق دیا ہے اس میں سے کھلے اور چھپے خرچ کرتے ہیں، یقیناً وہ ایک ایسی تجارت کے متوقع ہیں جس میں ہرگز خسارہ نہ ہوگا

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

جو لوگ خدا کی کتاب پڑھتے اور نماز کی پابندی کرتے ہیں اور جو کچھ ہم نے ان کو دیا ہے اس میں سے پوشیدہ اور ظاہر خرچ کرتے ہیں وہ اس تجارت (کے فائدے) کے امیدوار ہیں جو کبھی تباہ نہیں ہوگی

— مولانا فتح محمد جالندہری

جو لوگ کتاب اللہ کی تلاوت کرتے ہیں اور نماز کی پابندی رکھتے ہیں اور جو کچھ ہم نے ان کو عطا فرمایا ہے اس میں سے پوشیده اور علانیہ خرچ کرتے ہیں وه ایسی تجارت کے امیدوار ہیں جو کبھی خساره میں نہ ہوگی

— مولانا محمد جوناگڑہی

جو لوگ اللہ کی کتاب کی تلاوت کرتے ہیں، اور جنہوں نے نماز کی پابندی کر رکھی ہے، اور ہم نے انہیں جو رزق دیا ہے اس میں سے وہ (نیک کاموں میں) خفیہ اور علانیہ خرچ کرتے ہیں، وہ ایسی تجارت کے امیدوار ہیں جو کبھی نقصان نہیں اٹھائے گی۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

بیشک وہ جو اللہ کی کتاب پڑھتے ہیں اور نماز قائم رکھتے اور ہمارے دیے سے کچھ ہماری راہ میں خرچ کرتے ہیں پوشیدہ اور ظاہر وہ ایسی تجارت کے امیدوار ہیں جس میں ہرگز ٹوُٹا (نقصان) نہیں،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

بیشک جو لوگ اﷲ کی کتاب کی تلاوت کرتے ہیں اور نماز قائم رکھتے ہیں اور جو کچھ ہم نے انہیں عطا کیا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں، پوشیدہ بھی اور ظاہر بھی، اور ایسی (اُخروی) تجارت کے امیدوار ہیں جو کبھی خسارے میں نہیں ہوگی،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

بیشک جو لوگ اللہ کی کتاب پڑھتے ہیں اور انھوں نے نماز قائم کی اور جو کچھ ہم نے انھیں دیا اس میں سے انھوں نے پوشیدہ اور ظاہر خرچ کیا، وہ ایسی تجارت کی امید رکھتے ہیں جو کبھی برباد نہ ہوگی۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

جو لوگ اللہ کی کتاب پڑھتے، نماز قائم کرتے، اور جو کچھ ہم نے انہیں دے رکھا ہے اس میں سے خفیہ اور علانیہ خرچ کرتے ہیں وہ ایسی تجارت کے امیدوار ہیں جس میں کبھی خسارہ نہ ہوگا۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

بیشک جو لوگ اللہ کی کتاب کی تلاوت کرتے، نماز کا اہتمام کرتے اور جو کچھ ہم نے ان کو رزق دیا ہے اس میں سے پوشیدہ اور علانیہ خرچ کرتے ہیں وہ ایک ایسی تجارت کے امیدوار ہیں جس کے لئے کبھی کساد بازاری نہیں۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

جو لوگ (صدق دل سے) پڑھتے ہیں اللہ کی کتاب اور وہ نماز قائم کرتے ہیں اور جو کچھ ہم نے انہیں دیا ہوتا ہے اس میں سے وہ خرچ کرتے ہیں (ہماری رضا کے لئے) پوشیدہ طور پر بھی اور کھلے عام بھی وہ بلاشبہ امید رکھتے ہیں ایک ایسی عظیم الشان تجارت کی جس میں ہرگز کوئی خسارہ نہیں

— مولانا اسحاق مدنی

بیشک جو لوگ کتاب اللہ کی تلاوت کرتے رہتے ہیں اور نماز کی پابندی رکھتے ہیں اور جو کچھ ہم نے دیا ہے اس میں سے پوشیدہ وعلانیہ خرچ کرتے رہتے ہیں وہ ایسی تجارت کی آس لگائے ہوئے ہیں جو کبھی ماند نہ پڑے گی۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

یقینا وہ لوگ جو تلاوت کرتے ہیں اللہ کی کتاب کی اور نماز قائم کرتے ہیں اور خرچ کرتے ہیں اس میں سے جو ہم نے انہیں دیا ہے خفیہ اور اعلانیہ وہ ایسی تجارت کے امیدوار ہیں جس میں کبھی خسارہ نہیں ہوگا

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

جو لوگ اللہ کی کتاب پڑھتے اور نماز کی پابندی کرتے ہیں اور جو کچھ ہم نے ان کو دیا ہے اس میں سے پوشیدہ اور ظاہر خرچ کرتے ہیں وہ اس تجارت کے فائدے کے امیدوار ہیں جو کبھی تباہ نہیں ہوگی۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Surely those who recite the Book of Allah and establish Prayer and spend, privately and publicly, out of what We have provided them, look forward to a trade that shall suffer no loss;

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Surely those who recite Allah‘s Book and have established Salah and have spent, secretly and openly, from what We have provided to them –— they hope for a trade that will never crash,

— Muhammad Taqi Usmani

Surely those who recite Allah‘s Book and have established Salah and have spent, secretly and openly, from what We have provided to them –— they hope for a trade that will never crash,

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Verily, those who recite the Book of Allah, and perform the Salah, and spend out of what We have provided for them, secretly and openly, they hope for a (sure) trade-gain that will never perish.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Lo! those who read the Scripture of Allah, and establish worship, and spend of that which We have bestowed on them secretly and openly, they look forward to imperishable gain,

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Indeed, those who recite the Book of Allah and establish prayer and spend [in His cause] out of what We have provided them, secretly and publicly, [can] expect a profit that will never perish -

— Saheeh International

Those who recite the Book of God, who are steadfast in prayer and, who spend out of what We have given them for the cause of God, both in public and in private, have hope in an indestructible bargain

— Muhammad Sarwar

Surely they who recite the Book of Allah and keep up prayer and spend out of what We have given them secretly and openly, hope for a gain which will not perish.

— Muhammad Habib Shakir

Verily those Who read the book of Allah and establish prayer and expend of that wherewith We have provided them, secretly and in open, hope for a merchandise that shall not perish.

— Abdul Majid Daryabadi

Those who rehearse the Book of Allah, establish regular Prayer, and spend (in Charity) out of what We have provided for them, secretly and openly, hope for a commerce that will never fail:

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 35:29

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 29–30

کتاب اللہ کی تلاوت کے فضائل۔ مومن بندوں کی نیک صفتیں بیان ہو رہی ہیں کہ وہ کتاب اللہ کی تلاوت میں مشغول رہا کرتے ہیں۔ ایمان کے ساتھ پڑھتے رہتے ہیں عمل بھی ہاتھ سے جانے نہیں دیتے۔ نماز کے پابند زکوٰۃ خیرات کے عادی ظاہر و باطن اللہ کے بندوں کے ساتھ سلوک کرنے والے ہوتے اور وہ اپنے اعمال کے ثواب کے امیدوار اللہ سے ہوتے ہیں۔ جس کا ملنا یقینی ہے۔ جیسے کہ اس تفسیر کے شروع میں فضائل قرآن کے ذکر میں ہم نے بیان کیا ہے کہ کلام اللہ شریف اپنے ساتھی سے کہے گا کہ ہر تاجر اپنی تجارت کے پیچھے ہے اور تو تو سب کی سب تجارتوں کے پیچھے ہے۔ انہیں ان کے پورے ثواب ملیں گے بلکہ بہت بڑھا چڑھا کر ملیں گے جس کا خیال بھی…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 28–29

سورة فَاطِر 48 اس سے یہ سمجھانا مقصود ہے کہ خدا کی پیدا کردہ کائنات میں کہیں بھی یک رنگی و یکسانی نہیں ہے۔ ہر طرف تنُّوع ہی تنُّوع ہے ایک ہی زمین اور ایک ہی پانی سے طرح طرح کے درخت نکل رہے ہیں اور ایک درخت کے دو پھل تک اپنے رنگ، جسامت اور مزے میں یکساں نہیں ہیں۔ ایک ہی پہاڑ کو دیکھو تو اس میں کئی کئی رنگ تمہیں نظر آئیں گے اور اس کے مختلف حصوں کی مادی ترکیب میں بڑا فرق پایا جائے گا۔ انسانوں اور جانوروں میں ایک ماں باپ کے دو بچے تک یکساں نہ ملیں گے۔ اس کائنات میں اگر کوئی مزاجوں اور طبیعتوں اور ذہنیتوں کی یکسانی ڈھونڈے اور وہ اختلافات دیکھ کر گھبرا اٹھے جن کی طرف اوپر (آیت نمبر 19 تا 22 میں)…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 29–31

خلاصہ تفسیر اور جو لوگ کتاب اللہ (یعنی قرآن) کی تلاوت (مع العمل) کرتے رہتے ہیں اور (خصوصیت و اہتمام کے ساتھ) نماز کی پابندی رکھتے ہیں اور جو کچھ ہم نے ان کو عطا فرمایا ہے اس میں سے پوشیدہ اور اعلانیہ (جس طرح بن پڑتا ہے) خرچ کرتے ہیں وہ (بوجہ وعدہ الٰہیہ کے) ایسی (دائم النفع) تجارت کے امیدوار ہیں جو کبھی ماند نہ ہوگی (کیونکہ اس سودے کا خریدار کوئی مخلوقات میں سے نہیں ہے جو کبھی تو سودے کی قدر کرتا ہے اور کبھی نہیں کرتا۔ بلکہ اس کا خریدار خود حق تعالیٰ ہوگا، جو ضرور حسب وعدہ اپنی غرض سے نہیں بلکہ محض ان کی نفع رسانی کے لئے اس کی قدر کرے گا) تاکہ ان کو ان (کے اعمال) کی اجرتیں (بھی) پوری (پوری)…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

6۔ آگے کا مضمون۔ آیات 29۔ 38 اوپر کے پیرے میں جو بات اصولی حیثیت سے بیان فرمائی ہے آگے کی آیات میں اسی کو واقات و حالت پر منطبق کیا ہے یعنی یہ واضح فرمایا ہے کہ پچھلی امتوں کے وارثین میں سے کون لوگ ہیں جو علماء کے لقب کے مستحق ہیں اور وہ اس قرآن پر ایمان لانے والے بنیں گے اور اب جس قوم کو اللہ نے اپنی کتاب کی وراثت کے لئے منتخب کیا ہے اس کے اخیار یا اشرار اس کے ساتھ کیا رویہ اختیار کریں گے۔ پھر ان دونوں کے نتائج اعمال کی وضاحت فرمائی ہے۔ اس روشنی میں آیات کی تلاوت فرمائیے۔ 7۔ الفاظ کی تحقیق اور آیات کی وضاحت آیت 29 اوپر آیت 28 میں جن لوگوں کو ’ علما ‘ کہا ہے اور جن کی تعریف میں فرمایا ہے کہ…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

29۔ 1 کتاب اللہ سے مراد قرآن کریم ہے، تلاوت کرتے ہیں، یعنی پابندی سے اس کا اہتمام کرتے ہیں۔ 29۔ 2 اقامت صلوٰۃ کا مطلب ہوتا ہے، نماز کی ادائیگی جو مطلوب ہے، یعنی وقت کی پابندی، اعتدالِارکان اور خشوع و خضوع کے اہتمام کے ساتھ پڑھنا۔ 29۔ 3 یعنی رات دن، اعلانیہ اور پوشیدہ دونوں طریقوں سے حسب ضرورت خرچ کرتے ہیں، بعض کے نزدیک پوشیدہ سے نفلی صدقہ اور اعلانیہ سے صدقہ، واجبہ (زکوٰۃ) مراد ہے۔ 92۔ 4 یعنی ایسے لوگوں کا اجر اللہ کے ہاں یقینی ہے، جس میں مندے اور کمی کا امکان نہیں۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 28–31

8: کائنات کی ان عجیب و غریب مخلوقات کو دیکھ کر اور ان سے اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ اور اس کی توحید پر استدلال کر کے انہی کے دل میں اللہ تعالیٰ کی خشیت پیدا ہوتی ہے جن کو اللہ تعالیٰ کی عظمت کا علم اور اس کی سمجھ ہے اور جو لوگ اس سمجھ سے محروم ہیں، وہ کائنات کے ان عجوبوں کی تہہ تک پہنچنے کے باوجود اللہ تعالیٰ کے وجود، اس کی توحید اور اس کی عظمت تک نہیں پہنچتے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 29–30

اب صفحات کائنات سے روئے سخن صفحات کتاب الٰہی کی طرف پھرجاتا ہے کہ جو لوگ اس کی تلاوت کرتے ہیں ان کے پیش نظر کیا ہے اور ان کے لیے کیا کیا انعامات تیار ہیں۔ ان الذین یتلون۔۔۔۔۔ انہ غفور شکور (29 – 30) ” ۔ تلاوت کتاب سے مراد صرف جبرا یا خاموشی کے ساتھ کلمات کتاب دہرانے کے بجائے کوئی اور چیز ہے اور وہ ہے قرآن کو تدبر کے ساتھ پڑھنا۔ جس کے بعد پڑھنے والا کسی حقیقت کا ادراک کرے اور اس سے متاثر ہو۔ اس کے بعد وہ اس پر عمل کرے اور اپنی زندگی کو اس پر ڈھالے۔ یہی وجہ ہے کہ تلاوت قرآن کے بعد اقامت صلوٰۃ اور انفاق کو ذکر ہوا ، خواہ پوشیدہ ہو یا علانیہ ہو۔ اور اس کے بعد پھر ایسے لوگوں کو یہ امید ہو کہ اس…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

9 یعنی جو اللہ سے ڈر کر اس کی باتوں کو مانتے اور اس کی کتاب کو عقیدت کے ساتھ پڑھتے ہیں نیز بدنی و مالی عبادات میں کوتاہی نہیں کرتے وہ حقیقت میں ایسے زبردست بیوپار کے امیدوار ہیں جس میں خسارے اور ٹوٹے کا کوئی احتمال نہیں۔ بلاشہ جب خدا خود ان کے اعمال کا خریدار ہو تو اس امید میں یقینا حق بجانب ہیں۔ نقصان کا اندیشہ کسی طرف سے نہیں ہوسکتا۔ از سرتاپا نفع ہی نفع ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 29{ اِنَّ الَّذِیْنَ یَتْلُوْنَ کِتٰبَ اللّٰہِ وَاَقَامُوا الصَّلٰوۃَ } ”یقینا وہ لوگ جو تلاوت کرتے ہیں اللہ کی کتاب کی اور نماز قائم کرتے ہیں“ { وَاَنْفَقُوْا مِمَّا رَزَقْنٰہُمْ سِرًّا وَّعَلَانِیَۃً } ”اور خرچ کرتے ہیں اس میں سے جو ہم نے انہیں دیا ہے خفیہ اور اعلانیہ“ { یَّرْجُوْنَ تِجَارَۃً لَّنْ تَبُوْرَ } ”وہ ایسی تجارت کے امیدوار ہیں جس میں کبھی خسارہ نہیں ہوگا۔“ اللہ کے راستے میں جان و مال خرچ کرنے کو قرآن میں تجارت سے تشبیہہ دی گئی ہے۔ سورة الصف میں اس حوالے سے پہلے اہل ِایمان سے سوال کیا گیا : { یٰٓــاَ یُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا ہَلْ اَدُلُّکُمْ عَلٰی تِجَارَۃٍ تُنْجِیْکُمْ…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

34 دنیا میں انسان جس چیز کی بھی تجارت کرتا ہے۔ اس پر فوری توجہ بھی صرف کرتا ہے اور اس کام کے لئے مخلص بھی ہوتا ہے اس کے باوجود اسے نقصان کا خطرہ بھی رہتا ہے لیکن اللہ کا مخلص بندہ جو اپنے اللہ کے ساتھ تجارت کرتا ہے اس میں کبھی خسارے اور نقصان کا اندیشہ نہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

41۔ کبھی نہ ماند پڑنے والی تجارت سے مراد ظاہر ہے کہ جنت کی ابدی اور غیر منقطع نعمتیں ہیں۔ (آیت) ” الذین ..... علانیۃ “۔ یہ سب صفات انہیں خشیت رکھنے والے اہل علم کے بیان ہورہے ہیں۔ (آیت) ” سراوعلانیۃ “۔ کہیں مصلحت دینی علانیہ ہی صرف کرنے کی ہوتی ہے، اور کہیں اس کے برعکس کی۔ یہ لوگ اس موقع ومحل کو لحاظ میں رکھتے ہی۔ (آیت) ” تجارۃ لن تبور “۔ قرآن مجید میں کثرت کے ساتھ تجارتی اور کاروباری اصطلاحات کے آنے سے ایک طرف تو اس پر روشنی پڑتی ہے کہ اس وقت کے عربوں کے قومی مزاج پر تجارتی مذاق اچھا خاصہ غالب تھا، اور دوسری طرف اس پر کہ قرآن کو اسی مذاق کا امت اسلامی میں پھیلا رہنا مقصود بھی تھا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 27–37

آیت نمبر 27 تا 37 ترجمہ : اے مخاطب ! کیا تو نے اس بات پر نظر نہیں کی کہ اللہ نے آسمان سے پانی نازل کیا پھر ہم نے اس پانی کے ذریعہ مختلف رنگوں کے پھل پیدا کئے اس میں غیبت سے تکلم کی جانب التفات ہے جیسا کہ سبز اور سرخ اور زرد وغیرہ اوعر پہاڑوں میں بھی مختلف رنگوں کی دھاریاں ہیں جُدَدٌ جُدَّۃٌ کی جمع ہے، پہاڑی راستے وغیرہ کو کہتے ہیں، (مثلاً ) سفیدوسرخ اور زرد اور وہ رنگ تیز اور ہلکا ہونے کے اعتبار سے بھی مختلف ہیں اور بہت گہرے سیاہ بھی اس کا عطف جُدَدٌ پر ہے یعنی نہایت تیز رنگ کی چٹانیں ہیں، کثیر الاستعمال اَسْوَدُ غِربیبٌ ہے اور قلیل الستعمال غِرْبِیْبٌ اَسْوَدُ ہے اور اسی طرح انسانوں اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ان الذین یتلون کتب اللہ واقامو الصلوۃ وانفقوا مما رزقنھم سرا وعلانیۃ یرجعون تجارۃ لن تبور۔ جو لوگ اللہ کی کتاب کی تلاوت (مع عمل کے) کرتے ہیں اور نماز کی پابندی رکھتے ہیں اور جو کچھ ہم نے ان کو عطا کیا ہے ‘ اس میں سے پوشیدہ اور علانیہ (ہماری راہ میں) خرچ کرتے ہیں ‘ وہ ایسی تجارت کے امیدوار ہیں جو کبھی ماند نہ ہوگی

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

اور جو حضرات یعنی حضرت ابوبکر اور ان کے ساتھی قرآن کریم کی تلاوت کرتے ہیں اور پانچوں نمازوں کی پابندی رکھتے ہیں اور جو کچھ ہم نے ان کو مال دیا ہے اس میں سے خفیہ طور پر بھی اور علانیہ طور پر بھی خرچ کرتے ہیں۔ اور دائمی نفع والی تجارت یعنی جنت کے امیدوار ہیں جو کبھی ماند نہ ہوگی۔ شان نزول : اِنَّ الَّذِيْنَ يَتْلُوْنَ كِتٰبَ اللّٰهِ (الخ) عبدالغنی بن سعید ثقفی نے اپنی تفسیر میں حضرت ابن عباس سے روایت کیا ہے کہ حسین بن حارث بن عبدالمطلب قرشی کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

اِنَّ الَّذِيْنَ يَتْلُوْنَ كِتٰبَ اللّٰهِ۔۔ : یہ بات ذکر کرنے کے بعد کہ علماء ہی وہ لوگ ہیں جو اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہیں، ان کے تین اوصاف ذکر فرمائے، پھر انھیں ملنے والے اجر کا ذکر فرمایا۔ ان تین اوصاف میں سے پہلا وصف اللہ تعالیٰ کی کتاب کی تلاوت ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ کی ذات وصفات کے علم کا سرچشمہ وہی ہے اور اسی سے اللہ کی خشیت پیدا کرنے والا علم حاصل ہوتا ہے۔ دوسری اور تیسری صفت اس علم کے تقاضے پر عمل کرتے ہوئے نماز قائم کرنا اور اس کے دیے ہوئے میں سے خفیہ اور علانیہ ہر طرح سے خرچ کرنا ہے۔ یہ تینوں چیزیں علم و عمل کی بنیاد ہیں، اس لیے اللہ تعالیٰ نے یہود کا حال بیان کرتے ہوئے بتایا کہ انھوں…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 29–30

یہ ان قراء کے بارے میں آیت جو عمل کرنے والے ہیں، عالم ہیں جو فرض اور نفل نماز کو قائم کرتے ہیں۔ یہی حکم انفاق کے بارے میں ہے۔ کتاب کے مقدمہ میں یہ بحث گزر چکی ہے قاری کو جن چیزوں سے آراستہ ہونا چاہیے۔ احمد بن یحییٰ نے کہا : یرجون اپنے متعلقات سے مل کر ان کی خبر ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : زیادت سے مراد آخرت میں شفاعت ہے، یہ دوسری آیت کی طرح ہے آیت : رجال لا تلھیھم تجارۃ ولا بیع عن ذکر اللہ و اقام الصلوۃ و ایتاء الذکوۃ یخافون یو ما تتقلب فیہ القلوب و ابصار لیجذ یھم اللہ احسن ما عملوا و یذید ھم من فضلہ (النور : 37) سورة نساء کے آخر میں ارشاد باری تعالیٰ ہے : آیت : فا ما الذین امنوا و عملا…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 29–31

1:۔ عبدالغنی بن سعید الثقفی نے اپنی تفسیر میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ یہ (آیت) ” ان الذین یتلون کتب اللہ واقاموالصلوۃ “ (کہ جو لوگ اللہ کی کتاب کی تلاوت کرتے ہیں اور نماز کو قائم کرتے ہیں) حصین بن حارث بن عبدالمطلب بن عبد مناف قریشی کے بارے میں نازل ہوئی۔ 2: عبد بن حمید وابن جریر وابن ابی حاتم نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” یرجون تجارۃ لن تبور “ (کہ وہ ایسی تجارت کے امیدوار ہیں جو کبھی ماند نہ ہوگی) اس سے مراد ہے جنت (آیت) ” لن تبور “ (جو ہرگز ماند نہ ہوگی) یعنی ہرگز ختم نہ ہوگی (آیت) ” لیوفیھم اجورھم ویزید ھم من فضلہ “ (تاکہ اللہ تعالیٰ ان کی اجرتیں پوری پوری دے اور اپنی مہربانی سے…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

اِنَّ الَّذِيْنَ [بیشک جو لوگ ] يَتْلُوْنَ كِتٰبَ اللّٰهِ [تلاوٹ کرتے ہیں اللہ کی کتاب کی ] وَاَقَامُوا الصَّلٰوةَ [اور قائم کرتے ہیں نماز ] وَاَنْفَقُوْا [اور خرچ کرتے ہیں ] مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ [اس میں سے جو ہم نے عطا کیا ان کو ] سِرًّا وَّعَلَانِيَةً [چھپاتے ہوئے اور علانیہ ] يَّرْجُوْنَ [وہ لوگ امید کرتے ہیں ] تِجَارَةً [ایک ایسی تجارت کو جو ] لَّنْ تَـبُوْرَ [ہرگز برباد نہیں ہوگی ] ۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 29–30

اس کے بعد نیک بندوں کی تعریف فرمائی اور ان کے اجر وثواب کا تذکرہ فرمایا کہ جو اللہ کی کتاب کی تلاوت کرتے ہیں اور نماز قائم کرتے ہیں اور پوشیدہ اور ظاہری طور پر ہمارے دئیے ہوئے مال سے خرچ کرتے ہیں۔ یہ لوگ ایسی تجارت کے امیدوار ہیں جو کبھی بھی ہلاک نہ ہوگی، ان کی عبادتوں کے اجور اللہ تعالیٰ انہیں پورے پورے عطا فرمائے گا، (جانی عبادتیں ہوں یا مالی) اور انہیں اپنے فضل سے مزید عطا فرمائے گا، وہ بہت بخشنے والا بھی ہے، کمی کوتاہی کو معاف فرما دے گا اور وہ بڑا قدردان بھی ہے ہر نیکی کا اجر کم از کم دس گنا کرکے عطا فرمائے گا، اسی تجارت میں لگنے میں نفع عظیم ہے جس کے تباہ ہونے کا خطرہ نہیں اور نقصان کا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 29–37

مدح وثنا علما وصلحا امت و توصیف وشان علم نبوت وترغیب برتجارت آخرت قال اللہ تعالی۔ ان الذین یتلون کتب اللہ۔۔۔ الی۔۔۔ فما للظلمین من نصیر۔ (ربط) گزشتہ آیت یعنی انما یخشی اللہ من عبادہ العلمؤا میں علما کا ذکر تھا اب ان آیات میں علما کی اور ان مومن بندوں کی مدح فرماتے ہیں جو کتاب الٰہی کی تلاوت کرتے ہیں اس پر عمل کرتے ہیں۔ انبیاء کے وارث وہی علماء ہیں جو نبی کے علم پر عمل بھی کرتے ہیں اور ان آیات میں یہ بتلاتے ہیں کہ امت کے طبقات مختلف ہیں بعض نہایت پسندیدہ اور سابق بالخیر ہیں اور بعض ظالم ہیں اور بعض درمیان ہیں۔ منزل مقصود سب کی آخرت ہے اور یہ دنیا دار تجارت ہے اور پہلا گروہ اس تجارت میں سب سے…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 29–30

ٖ 29:۔ ان الذین الخ : یہ قرآن پڑھنے والوں اور اس پر عمل کرنے والوں کے لیے بشارت اخروی ہے۔ اسم موصول سے صحابہ کرام ؓ اور تمام مومنین مراد ہیں قال السدی ھم اصحاب الرسول ﷺ و رضی عنہم وقال عطاءھم المومنون (بحر ج 7 ص 312) ۔ اور کتاب اللہ سے قرآن مراد ہے والمراد بکتاب اللہ القرآن (روح ج 22 ص 192) اور تلاوت سے مراد ہے کماحقہ تلاوت یعنی اس کے احکام کی پیروی کرنا جیسا کہ دوسری جگہ ارشاد ہے۔ یتلونہ حق تلاوتہ (بقرہ) اور تجارت سے مراد ثواب ہے۔ والمراد من التجارۃ ما وعد اللہ من الثواب (خازن ج 5 ص 248) ۔ حضرت شیخ فرماتے ہیں یرجون، صورہً خبر اور معنی انشاء ہے ای لیرجوا، یعنی جو لوگ قرآن کی تلاوت کرتے اور اس…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

اِنَّ الَّذِيْنَ يَتْلُوْنَ كِتٰبَ اللہِ وَاَقَامُوا الصَّلٰوۃَ وَاَنْفَقُوْا مِمَّا رَزَقْنٰہُمْ سِرًّا وَّعَلَانِيَۃً يَّرْجُوْنَ تِجَارَۃً لَّنْ تَـبُوْرَ۝ 29ۙ تلو تَلَاهُ : تبعه متابعة ليس بينهم ما ليس منها، وذلک يكون تارة بالجسم وتارة بالاقتداء في الحکم، ومصدره : تُلُوٌّ وتُلْوٌ ، وتارة بالقراءة وتدبّر المعنی، ومصدره : تِلَاوَة وَالْقَمَرِ إِذا تَلاها [ الشمس/ 2] ( ت ل و ) تلاہ ( ن ) کے معنی کسی کے پیچھے پیچھے اس طرح چلنا کے ہیں کہ ان کے درمیان کوئی اجنبی کو چیز حائل نہ ہو یہ کہیں تو جسمانی طور ہوتا ہے اور کہیں اس کے احکام کا اتباع کرنے سے اس معنی میں اس کا مصدر تلو اور تلو آتا ہے اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 27–32

ترکیب : الوانہا مرفوع۔ بمختلف و جدد بفتح الدال جمع جدۃ وھی الطریقۃ ویقراء بضمھا و ھو جمع جدید کسر یروسرر قال الجوہری الجدۃ الخطۃ التی فی ظھر الحمار تخالف لونہ والجدۃ الطریق والجمع جدود جدائد، قال المبرد و طرائق و خطوط و غرابیب سود عطف علی بیض و علی جدد کانہ قیل ومن الجبال ذوجد و مختلفۃ اللون و منہا غرابیب متحدۃ اللون، وغرابیب جمع غربیب ھو الشدید السواد الذی یشبہ لونہ لون الغراب والغرابیب تابع و تاکید لسود و حق التاکید التاخیر فقیل فی جو ابہ ھو تاکید مضمر بفسرہ سود کما جاء فی قول النابغہ ؎ المومن العائذات الطیر مسیحھا والطیر عطف بیان للعائذات و ھو الشاہد ومن الحبال مستانفۃ کانہ قال واخرجنا با…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 29–30

اِنَّ الَّذِیْنَ یَتْلُوْنَ کِتٰبَ اللّٰہِ وَاَقَامُوا الصَّلٰوۃَ وَاَنْفَقُوْا مِمَّا رَزَقْـنٰـھُمْ سِرًّاوَّعَلاَ نِیَۃً یَّرْجُوْنَ تِجَارَۃً لَّنْ تَـبُوْرَ ۔ لِیُوَفِّیَہُمْ اُجُوْرَھُمْ وَیَزِیْدَھُمْ مِّنْ فَضْلِہٖ ط اِنَّـہٗ غَفُوْرٌشَکُوْرٌ۔ (فاطر : 29، 30) (بےشک جو لوگ کتاب اللہ کی تلاوت کرتے ہیں اور نماز قائم کرتے ہیں، اور جو کچھ ہم نے ان کو رزق دیا ہے اس میں سے پوشیدہ اور علانیہ خرچ کرتے ہیں، یقینا وہ ایک ایسی تجارت کے امیدوار ہیں جو کبھی خسارے کا شکار نہیں ہوگی۔ تاکہ اللہ ان کے اجر پورے کے پورے ان کو دے اور ان کے لیے اپنے فضل میں سے زیادہ بھی کرے، بیشک وہ بخشنے والا اور قدردان…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 29–30

فہم القرآن ربط کلام : حقیقی علم کا تقاضا ہے کہ انسان اپنے رب کو پہچانے اور اس سے ڈر کر زندگی بسر کرنے کی کوشش کرے۔ علم اور تقویٰ ! کتاب اللہ کی تلاوت سے حاصل ہوتا ہے بشرطیکہ انسان یقین اور غور و فکر کے ساتھ کتاب اللہ کی تلاوت کرے۔ حقیقی عالم وہ ہوتا ہے جو کتاب اللہ کی تلاوت کرتا اور اس پر غوروفکر کرتا ہے۔ کتاب اللہ کی تلاوت کا منطقی نتیجہ ہے اور ہونا چاہیے، کہ وہ شخص پانچ وقت نماز ادا کرے اور جو کچھ اللہ تعالیٰ نے اسے دے رکھا ہے اس سے پوشیدہ اور ظاہری طور پر خرچ کرتا رہے۔ اس امید اور یقین کیساتھ کہ وہ انفاق فی سبیل اللہ کی صورت میں اللہ تعالیٰ کے ساتھ لین دین کررہا ہے یہ ایسی سودا گری ہے جس…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

29: اِنَّ الَّذِیْنَ یَتْلُوْنَ کِتٰبَ اللّٰہِ (جو لوگ کتاب اللہ کی تلاوت کرتے ہیں) تلاوت پر مداومت اختیار کرتے ہیں۔ وَاَقَامُوا الصَّلٰوۃَ وَاَنْفَقُوْا مِمَّا رَزَقْنٰھُمْ سِرًّا وَّ عَلَانِیَۃً (اور نماز کی پابندی رکھتے ہیں اور جو کچھ ہم نے ان کو دیا اس میں سے پوشیدہ اور علانیہ خرچ کرتے ہیں) یعنی نفلی صدقات کو چھپا کر اور فرضی صدقات سرعام کرتے ہیں۔ یعنی عمل کی حلاوت سے ہٹ کر فقط اس کی تلاوت پر قناعت نہیں کرتے۔ یَّرْجُوْنَ تِجَارَۃً (وہ ایسی تجارت کے امید وار ہیں) تجارتؔ سے مراد اطاعت کے بدلہ میں ثواب طلب کرنا۔ نحو : یرجونؔ یہ انّ کی خبر ہے۔ لَّنْ تَبُوْرَ (جو کبھی ماندنہ ہوگی) ہرگز کساد…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

تفسیر 29۔ ان الذین یتلون کتاب اللہ، جو قرآن کی تلاوت کرتے ہیں۔ ، واقاموا لصلوۃ وانفقوامما رزقنا ھم سراو علانیۃ یرجو نتجارۃ لن تبور، یعنی اطاعت کرکے حصول ثواب کے امید وار ہوتے ہیں اور تجارت بھی ایسی جس میں کبھی خسارہ نہ ہو نہ تباہی آئے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 29–31

29‘ 31۔ اوپر قرآن کے پابند علماء کا ذکر فرما کر ان آیتوں میں فرمایا وہ ایسے لوگ ہیں جو قرآن پڑھتے ہیں اور جو کچھ اس میں ہے۔ اس پر ایمان لاتے ہیں اور عمل کرتے ہیں نماز پڑتے ہیں اور خرچ کرتے ہیں اس چیز میں سے کہ دی ہم نے ان کو چھپی اور کھلی امید رکھتے ہیں ایک سودا گری کی جو کبھی نہ ٹوٹے اور نہ ہلاک ہو مطلب یہ کہ ثواب کی امید رکھتے ہیں اللہ سے اور وہ ضرور ان کو ملے گا جیسا کہ فرمایا لیو فینھم اجورھم تاکہ پورا کر دے ان کو ثواب ان کے کاموں کا اور بڑھائے گا اللہ اس ثواب کو اپنے فضل سے بیشک وہ بخشنے والا ہے ان کے گناہ اور قدر دانی کرنے والا ہے ان کے تھوڑے عملوں کی پھر فرمایا یہ قرآن برحق کلام الٰہی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 27–29

آیت 27 اللہ تبارک و تعالیٰ ذکر فرماتا ہے کہ اس نے کائنات میں متضاد اشیاء کو تخلیق کیا جن کی اصل اور مادہ ایک ہے، مگر اس کے باوجود ان میں فرق اور تفاوت ہے جو معروف اور سب پر عیاں ہے تاکہ بندے اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ اور حکمت تامہ پر استدلال کریں، چناچہ اللہ تعالیٰ نے آسمان سے پانی برسایا اور اس کے ذریعے سے مختلف اقسام کے پھل پیدا کئے اور مختلف انواع کی نباتات اگائیں، دیکھنے والے ان کا مشاہدہ کرتے ہیں حالانکہ ان کو سیراب کرنے والا پانی ایک اور ان کو اگانے والی زمین ایک ہے۔ اللہ تعالیٰ نے پہاڑوں کو زمین کے لئے میخیں بنایا، آپ دیکھیں کہ پہاڑ گویا ایک دوسرے سے ملے ہوئے بلکہ وہ ایک ہی پہاڑ نظر…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 28–33

علم، حشیت اللہ پیدا کرتا ہے قول باری ہے (انما یخشی اللہ من عبادہ العلمو۔ اللہ سے ڈرتے بس وہی بندے ہیں جو علم والے ہیں) آیت میں علم کی فضیلت بیان کی گئی ہے نیز یہ کہ علم کے ذریعے اللہ کی خشیت اور تقویٰ تک رسائی ہوتی ہے۔ اس لئے کہ جو شخص اللہ کی توحید اور اس کے عدل کی معرفت حاصل کرلیتا ہے اس کی یہ معرفت اسے خشیت اور تقویٰ تک پہنچا دیتی ہے۔ کیونکہ جو شخص اللہ کی توحید، اس کے عدل اور کائنات کی تخلیق میں اس کے مقصد سے ناآشنا ہو وہ نہ تو اللہ سے ڈرتا ہے اور نہ ہی اس کے دل میں تقویٰ یعنی خوف خدا پیدا ہوتا ہے۔ ایک اور آیت میں ارشاد ہے (یرفع اللہ الذین امنا منکم والذین اوتوا العلم درجات ۔ اللہ تعالیٰ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

66 اہل حق کی تین اہم صفات کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " جو لوگ اللہ کی کتاب کی تلاوت کرتے، نماز کو قائم رکھتے ہیں اور وہ خرچ کرتے ہیں اس میں سے جو ہم نے انکو دیا ہوتا ہے "۔ یعنی دیا ہوا تو سب کا سب ہمارا ہی ہوتا ہے مگر مطالبہ سب کا نہیں بلکہ اس میں سے کچھ کا ہے۔ اور وہ بھی اس لئے کہ تاکہ خود اس دینے والے کو ہی نوازا جائے ۔ سبحان اللہ !۔ کیا کہنے اس کرم اور اس عنایت کے۔ بہرکیف اللہ کی کتاب کی تلاوت، نماز کو قائم کرنا اور اللہ پاک کے دیئے ہوئے میں سے اس کی راہ میں اور اس کی رضا و خوشنودی کیلئے خرچ کرنا وہ عظیم الشان اور پاکیزہ صفات ہیں جن سے انسان ایک طرف خشیت خداوندی سے سرشار ہوتا ہے…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 15–45

سچ تو یہ ہے جو اللہ نے اعلان کیا ہے تشریح : ان آیات کی وضاحت کیا کی جائے یہ تو بذات خود علم و عرفان اور کلام الٰہی کی انتہائی آسان اور عام فہم مضمون کا مجموعہ ہیں۔ اہل علم کو معلوم ہے کہ مومن کو آنکھوں والا، زندہ اور نور سے تشبیہ دی گئی ہے جبکہ کافر کو اندھا، تاریکی اور مردہ کہا گیا ہے۔ پھر کفار کی ایک خاص خصلت کا ذکر کیا گیا ہے کہ وہ اتنا ہٹ دھرم اور ضد کا پکا ہوتا ہے کہ ہمیشہ نبیوں کو جھٹلاتا رہتا ہے اس لیے سیدنامحمد ﷺ کو بار بار یہ تاکید کی گئی ہے کہ آپ ان کی ضد پر پریشان نہ ہوا کریں بس آپ ان کو سمجھاتے رہیں ان سے نمٹنا اللہ کا کام ہے۔ بار بار کفار کے لیے دوزخ اور مومن کے لیے جنت کا اعلان…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 27–37

رکوع نمبر 4 ۔ آیات 27 ۔ تا۔ 37: اسرار و معارف : اللہ کی قدرت کاملہ کا ہر پہلو کتنا روشن ہے بھلا غور کرو کہ کس طرح پانی کو اٹھا کر بلندیوں سے برساتا ہے اور نشیب و فراز پر پہنچا دیتا ہے یہ بھی دیکھو کہ ایک ہی طرح کا پانی برستا ہے بےرنگ اور بےذائقہ مگر جب اس کے ذریعے پھل اگاتا ہے تو ان سب کے رنگ جدا اور ذائقے الگ الگ ہوتے ہیں۔ یہی نہیں پہاڑوں کو دیکھو ایک ہی زمین مختلف رنگوں کے امتزاج خوبصورت انداز میں کھڑے کردئیے کہیں سفید سفید گھاٹیاں ہیں پھر اسی پہاڑ میں سرخ رنگ کی تہہ آجاتی ہے کہیں سیاہ اور کالے بھجنگ پہاڑ کھڑے نظر آتے ہیں یہی حال بندوں جانوروں اور کیڑے مکوڑوں میں نظر آتا ہے کوئی گورا ہے…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 2 یعنی جو علماء اللہ تعالیٰ سے ڈرنے والے ہیں، ان کی صفات یہ ہیں کہ وہ قرآن کی تلاوت کرتے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ وہ لسانی، بدنی اور مالی ہر قسم کی عبادات بجا لاتے ہیں اور انکے قلوب خشیت الٰہی سے معمو رہتے ہیں۔” سزا و علانیہ “ یعنی فرائض کی بجا نٓوری علانیہ کرتے ہیں اور نفلی عبادات سترا کرتے ہیں۔ ( رازی) اور تجارت سے مراد ثواب طاعت ہے۔ ( شوکانی)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(35:29) ان حرف مشبہ بالفعل الذین اسم ان۔ یتلون کتب اللہ واقاموا الصلوۃ وانفقوا مما رزقنہم سرا وعلانیۃ۔ اسم کی تعریف ہیں۔ یرجون تجارۃ لن تبور۔ ان کی خبر ہے۔ یتلون مضارع جمع مذکر غائب تلاوۃ (باب نصر) مصدر وہ پڑھتے ہیں (اور اس پر عمل کرتے ہیں) ۔ کتب اللہ۔ مضاف مضاف الیہ، اللہ کی کتاب۔ مراد قرآن مجید ہے۔ یا تمام کتب الٰہیہ (اس صورت میں تکذیب کرنے والوں کی حالت کے بیان کے بعد اس آیت میں گذشتہ اور موجودہ امتوں میں سے تصدیق کرنے والے مومنوں اور قاریوں اور عالموں کی مدح ہوجائے گی۔ سرا۔ درپردہ۔ چھپے ہوئے (یعنی عام نفلی صورت میں مثلاً خیرات وغیرہ) علانیۃ کھلم کھلا۔ ظاہر ۔ علانیہ۔ (مفروضہ زکوٰۃ و صدقات…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 27–30

لغات القرآن : آیت نمبر 27 تا 30 :۔ جدد ( جدۃ) ( راستے) بیض (سفید) حمر (سرخ) غرابیب (بےانتہا سیاہ) سود (سیاہ ، تاریک) دواب ( جانور) لن تبور ( ہرگز نقصان نہ ہوگا) شکور ( قدر دان ، قدر کرنے والا) تشریح : آیت نمبر 27 تا 30 :۔ گزشتہ آیات سے اللہ کی نعمتوں کا ذکر کیا جا رہا ہے کہ اگر انسان کائنات میں بکھری ہوئی نعمتوں میں غور و فکر اور تدبر سے کام لے تو وہ اس خالق ومالک کو پہچان سکتا ہے جس نے ان چیزوں کو پیدا کیا ہے۔ آسمان سے جب بارش برستی ہے تو زمین میں ایک ترو تازگی پیدا ہوجاتی ہے، کھیت لہلہانے لگتے ہیں ، درختوں کی خوبصورتی میں اضافہ ہوجاتا ہے، سبزہ ، سبزی ، پھل اور طرح طرح کے میوے اگنے لگتے ہیں…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 29–31

(ف 1) ان آیتوں میں فرمایا کہ جو لوگ قرآن شریف پڑھتے ہیں اور جو کچھ اس میں ہے اس پر ایمان لاتے ہیں اور عمل کرتے ہیں اور نماز ہمیشہ پڑھتے رہتے ہیں اور جو کچھ ہم نے ان کودے رکھا ہے ان میں سے پوشیدہ اور علانیہ ہماری راہ میں یعنی زکوۃ یاصدقہ کے طور پر خرچ کرتے ہیں وہ ایک ایسی تجارت کے امیدوار ہیں جس میں ان کو گھاٹا ہی نہیں کیونکہ اللہ ان کے اعمال کا پورا بدلہ دے گا اور بڑھائے گا اللہ اس ثواب کو اپنے فضل سے بیشک وہ بڑا بخشنے والا ہے اور ان کے گناہ اور قدردانی کرنے والا ہے ان کے تھوڑے عملوں کی پھر فرمایا اے محبوب ﷺ کتاب یعنی قرآن جو ہم نے تمہاری طرف وحی کی ہے وہی حق ہے اسی واسطے یہ تصدیق کرتا ہے ان…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 29–32

[15] یعنی امت مسلمہ۔ [16] مسلمانوں کی یہاں تین قسمیں بیان ہوئی ہیں۔ پہلی قسم اپنے نفس پر ظلم کرنے والے ہیں یعنی ہیں تو مسلمان مگر گناہ کر کے اپنی جانوں پر ظلم کر رہے ہیں۔ اور عملاً کتاب اللہ اور سنت رسول ﷺ کی پیروی کا حق ادا نہیں کر رہے، مسلمان ہیں مگر گنہگار، دوسری قسم متوسط درجے والے، یعنی وہ جو نہ گناہوں میں منہمک ہیں اور نہ بڑے بزرگ ولی ہیں، فرمانبردار بھی ہیں اور خطاکار بھی۔ تیسری قسم نیکیوں میں سبقت کرنے والے۔ یہ صف اول کے لوگ ہیں جن کی رگ رگ میں اسلام رچا ہوا ہے اور جو کتاب و سنت کے اتباع میں پیش پیش ہیں۔ یہ گناہوں سے بچتے بھی ہیں اور طاعت میں فرائض کے علاوہ اور بھی بہت کچھ کئے رہتے…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 28–30

ف 3: علماء کی فضیلت بیان کرنے کے بعد اب یہ بتایا ہے ۔ کہ یہ لوگ واقعی عزت واحترام کے مستحق ہیں ۔ یہ اللہ کی کتاب غوروفکر سے پڑھتے ہیں اور اپنی عبودیت اور اس کی الوہیت کا اقرار کرتے ہیں ۔ اس کے سامنے جھکتے ہیں ۔ اس کی عبادت کرتے اور اپنے مال و دولت میں سے اس کی راہ میں خرچ کرتے ہیں ۔ فرمایا ۔ کہ ان کی یہ تجارت ایسی ہے جس میں خسارہ کا کوئی اندیشہ نہیں ۔ بلکہ اللہ تعالیٰ ان کی مساعی میں برکت پیدا کردیتا ہے ۔ اور اپنے فضل اور قدر دانی سے ان کے اجر میں اضافہ کردیتا ہے ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(29) جو لوگ کتاب الٰہی یعنی قرآن حکیم کی تلاوت کرتے رہتے ہیں اور نماز کی پابندی رکھتے ہیں اور جو کچھ ہم نے ان کو دیا ہے اس میں سے پوشیدہ اور علانیہ خیرات کیا کرتے ہیں وہ یقینا ایک ایسی تجارت کے امیدوار ہیں اور ایک ایسی تجارت کی امید لگائے بیٹھے ہیں جس تجارت کو کبھی نقصان پہنچنے والا نہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس تجارت کی ترقی کا وعدہ فرمایا ہے اس لئے تجارت میں نقصان اور کساد بازاری اور مندے کا اندیشہ نہیں۔ قرآن کی تلاوت کا مطلب یہ ہے کہ توجہ کے ساتھ قرآن پڑھتے اور اس پر عمل کرتے ہیں، نماز کا قائم رکھنا یعنی جماعت اور خشوع و خضوع کا خیال رکھتے ہیں پوشیدہ علانیہ یعنی صدقات فریضہ اور نافلہ جیسا…

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

وہ کون ہیں جو آخرت کے سلسلہ میں خسارہ میں نہیں رہیں گے ؟ 29 ۔ یہ وہ لوگ ہیں جو اللہ تعالیٰ کی کتاب کی تلاوت کرتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ ہم نے کیا پڑھا ہے اور یہ کہ اللہ تعالیٰ نے ہم کو اس میں کس چیز کا حکم دیا کہ اس کو کرنا ہے اور کس کس چیز سے منع کیا کہ اس سے رکنا اور باز آنا ہے اور اوامر ونواہی کو سمجھ لینے کے بعد اس کے مطابق عمل کرتے ہیں اور ان کے اعمال کی تصدیق اس سے ہوتی ہے کہ وہ لوگ باجماعت نماز ادا کرتے ہیں اور باقاعدہ حساب کتاب کرکے زکوٰۃ ادا کرتے ہیں اور پھر صرف زکوٰۃ ادا کرکے فارغ نہیں ہوجاتے بلکہ راتوں اور دنوں میں چھپ چھپ کر اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں اور ان کو چھپنے کی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 29–31

Commentary Mentioned earlier, in verse 28, there was a quality of true ` Ulama' who acknowledge Allah. This quality related to the heart. It was to have Allah's awe in the heart. In the first of the present verses (29), some those qualities of the same blessed people, the awliya' or men of Allah, are mentioned that find expression through outward parts of the body. Out of these, the first quality is the tilawah (recitation) of the Qur'an. This denotes the people who recite the Book of Allah constantly. The use of the aorist tense (mudari) in: یَتلُونَ (yatluna: they recite) releases a hint in…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 28–29

48 This is meant to impress that in the universe created by Allah nowhere is there homogeneity and uniformity; there is variety everywhere. From the same earth and by the same water different kinds of trees are appearing. Even the two pieces of the fruit of the same tree are not uniform in colour and size and taste. In the same mountain one will see a variety of colours and a great difference in the material composition of its different parts. Even among human beings and animals one will not see two offspring of the same parents exactly alike. If a person seeks uniformity of the temperaments…

Read the full tafseer →