Faatir 35:28

Faatir · from ayah 28

35:28

وَمِنَ النَّاسِ وَالدَّوَآبِّ وَالْاَنْعَامِ مُخْتَلِفٌ اَلْوَانُهٗ كَذٰلِكَ ؕ— اِنَّمَا یَخْشَی اللّٰهَ مِنْ عِبَادِهِ الْعُلَمٰٓؤُا ؕ— اِنَّ اللّٰهَ عَزِیْزٌ غَفُوْرٌ ۟وَمِنَ النَّاسِ وَالدَّوَآبِّ وَالۡاَنۡعَامِ مُخۡتَلِفٌ اَ لۡوَانُهٗ كَذٰلِكَ ؕ اِنَّمَا يَخۡشَى اللّٰهَ مِنۡ عِبَادِهِ الۡعُلَمٰٓؤُا ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَزِيۡزٌ غَفُوۡرٌ

انسانوں اور جانوروں اور چارپایوں کے بھی کئی طرح کے رنگ ہیں۔ خدا سے تو اس کے بندوں میں سے وہی ڈرتے ہیں جو صاحب علم ہیں۔ بےشک خدا غالب (اور) بخشنے والا ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

And among people and moving creatures and grazing livestock are various colors similarly. Only those fear Allah, from among His servants, who have knowledge. Indeed, Allah is Exalted in Might and Forgiving.

— Saheeh International

Juz 22 · Ruku 4 of surah · Ruku 16 of juz

Read the whole surah · Surah Faatir

All translations of 35:28

اور اسی طرح انسانوں اور جانوروں اور مویشیوں کے رنگ بھی مختلف ہیں حقیقت یہ ہے کہ اللہ کے بندوں میں سے صرف علم رکھنے والے لوگ ہی اُس سے ڈرتے ہیں بے شک اللہ زبردست اور درگزر فرمانے والا ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

انسانوں اور جانوروں اور چارپایوں کے بھی کئی طرح کے رنگ ہیں۔ خدا سے تو اس کے بندوں میں سے وہی ڈرتے ہیں جو صاحب علم ہیں۔ بےشک خدا غالب (اور) بخشنے والا ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور اسی طرح آدمیوں اور جانوروں اور چوپایوں میں بھی بعض ایسے ہیں کہ ان کی رنگتیں مختلف ہیں، اللہ سے اس کے وہی بندے ڈرتے ہیں جو علم رکھتے ہیں واقعی اللہ تعالیٰ زبردست بڑا بخشنے واﻻ ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور انسانوں اور جانوروں اور چوپایوں میں بھی ایسے ہیں جن کے رنگ مختلف ہیں۔ اللہ سے اس کے بندوں میں سے وہی ڈرتے ہیں جو علم رکھنے والے ہیں۔ یقینا اللہ صاحب اقتدار بھی ہے، بہت بخشنے والا بھی۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور آدمیوں اور جانوروں اور چوپایوں کے رنگ یونہی طرح طرح کے ہیں اللہ سے اس کے بندوں میں وہی ڈرتے ہیں جو علم والے ہیں بیشک اللہ بخشنے والا عزت والا ہے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور انسانوں اور جانوروں اور چوپایوں میں بھی اسی طرح مختلف رنگ ہیں، بس اﷲ کے بندوں میں سے اس سے وہی ڈرتے ہیں جو (ان حقائق کا بصیرت کے ساتھ) علم رکھنے والے ہیں، یقیناً اﷲ غالب ہے بڑا بخشنے والا ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور کچھ لوگوں اور جانوروں اور چوپاؤں میں سے بھی ہیں جن کے رنگ اسی طرح مختلف ہیں، اللہ سے تو اس کے بندوں میں سے صرف جاننے والے ہی ڈرتے ہیں، بیشک اللہ سب پر غالب، بےحد بخشنے والا ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور اسی طرح انسانوں، جانوروں اور مویشیوں کے بھی رنگ مختلف ہیں۔ بلاشبہ اللہ کے بندوں میں سے اس سے ڈرتے وہی ہیں جو علم رکھنے والے ہیں۔ اللہ تعالیٰ یقینا ہر چیز پر غالب اور بخشنے والا ہے۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور انسانوں، جانوروں اور چارپایوں کے اندر بھی مختلف رنگ کے ہیں۔ اسی طرح اللہ سے اس کے بندوں میں سے وہی ڈریں گے جو علم رکھنے والے ہیں۔ بیشک اللہ غالب اور بخشنے والا ہے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور انسانوں جانوروں اور چوپایوں کے بھی اسی طرح مختلف رنگ ہیں اللہ سے تو اس کے وہی بندے ڈرتے ہیں جو علم رکھتے ہیں (حق اور حقیقت کا) بلاشبہ اللہ نہایت ہی زبردست بڑا ہی بخشنے والا ہے

— مولانا اسحاق مدنی

اور اسی طرح آدمیوں اور جانوروں اور چوپایوں میں بھی ایسے ہیں کہ ان کے رنگ مختلف ہیں۔ اللہ سے ڈرتے تو بس وہی بندے ہیں جو علم والے ہیں۔ بیشک اللہ زبردست ہے بڑا مغفرت والا ہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور اسی طرح انسانوں جانوروں اور چوپایوں کے بھی مختلف رنگ ہیں یقینا اللہ سے ڈرتے تو اس کے بندوں میں سے وہی ہیں جو اہل علم ہیں۔ یقینا اللہ بہت زبردست ہے نہایت بخشنے والا۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

انسانوں، جانوروں اور چارپایوں کے بھی کئی طرح کے رنگ ہیں۔ اللہ سے اس کے بندوں میں سے وہی ڈرتے ہیں جو علم رکھتے ہیں، بیشک اللہ غالب اور بخشنے والا ہے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

and human beings too, and beasts, and cattle -- diverse are their hues. From among His servants, it is only those who know that fear Allah. Verily Allah is Most Mighty, Most Forgiving.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

And among humans and beasts and cattle, there are those having different colours as well. Only those of His slaves fear Allah who are knowledgeable. Surely Allah is Mighty, Forgiving.

— Muhammad Taqi Usmani

And among humans and beasts and cattle, there are those having different colours as well. Only those of His slaves fear Allah who are knowledgeable. Surely Allah is Mighty, Forgiving.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And likewise, men and moving creature and cattle are of various colors. It is only those among His servants who have knowledge that fear Allah. Verily, Allah is Almighty, Oft-Forgiving.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And of men and beasts and cattle, in like manner, divers hues? The erudite among His bondmen fear Allah alone. Lo! Allah is Mighty, Forgiving.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And among people and moving creatures and grazing livestock are various colors similarly. Only those fear Allah, from among His servants, who have knowledge. Indeed, Allah is Exalted in Might and Forgiving.

— Saheeh International

He has also created people, beasts, and cattle of various colors. Only God's knowledgeable servants fear Him. God is Majestic and All-pardoning.

— Muhammad Sarwar

And of men and beasts and cattle are various species of it likewise; those of His servants only who are possessed of knowledge fear Allah; surely Allah is Mighty, Forgiving.

— Muhammad Habib Shakir

And of men and beasts and cattle, likewise of diverse colours. Those only of His bondmen who have knowledge fear Allah Verily Allahis the Mighty, the Forgiving.

— Abdul Majid Daryabadi

And so amongst men and crawling creatures and cattle, are they of various colours. Those truly fear Allah, among His Servants, who have knowledge: for Allah is Exalted in Might, Oft-Forgiving.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 35:28

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 27–28

رب کی قدرتیں۔ رب کی قدرتوں کے کمالات دیکھو کہ ایک ہی قسم کی چیزوں میں گوناگوں نمونے نظر آتے ہیں۔ ایک پانی آسمان سے اترتا ہے اور اسی سے مختلف قسم کے رنگ برنگے پھل پیدا ہوجاتے ہیں۔ سرخ سبز سفید وغیرہ۔ اسی طرح ہر ایک کی خوشبو الگ الگ ہر ایک کا ذائقہ جداگانہ جیسے اور آیت میں (وَفِي الْاَرْضِ قِطَعٌ مُّتَجٰوِرٰتٌ وَّجَنّٰتٌ مِّنْ اَعْنَابٍ وَّزَرْعٌ وَّنَخِيْلٌ صِنْوَانٌ وَّغَيْرُ صِنْوَانٍ يُّسْقٰى بِمَاۗءٍ وَّاحِدٍ ۣ وَنُفَضِّلُ بَعْضَهَا عَلٰي بَعْضٍ فِي الْاُكُلِ ۭ اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّقَوْمٍ يَّعْقِلُوْنَ) 13۔ الرعد :4) ، یعنی کہیں انگور ہے، کہیں کھجور ہے، کہیں کھیتی ہے وغیرہ اسی طرح…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 28–29

سورة فَاطِر 48 اس سے یہ سمجھانا مقصود ہے کہ خدا کی پیدا کردہ کائنات میں کہیں بھی یک رنگی و یکسانی نہیں ہے۔ ہر طرف تنُّوع ہی تنُّوع ہے ایک ہی زمین اور ایک ہی پانی سے طرح طرح کے درخت نکل رہے ہیں اور ایک درخت کے دو پھل تک اپنے رنگ، جسامت اور مزے میں یکساں نہیں ہیں۔ ایک ہی پہاڑ کو دیکھو تو اس میں کئی کئی رنگ تمہیں نظر آئیں گے اور اس کے مختلف حصوں کی مادی ترکیب میں بڑا فرق پایا جائے گا۔ انسانوں اور جانوروں میں ایک ماں باپ کے دو بچے تک یکساں نہ ملیں گے۔ اس کائنات میں اگر کوئی مزاجوں اور طبیعتوں اور ذہنیتوں کی یکسانی ڈھونڈے اور وہ اختلافات دیکھ کر گھبرا اٹھے جن کی طرف اوپر (آیت نمبر 19 تا 22 میں)…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

(آیت) کذالک انما یخشی اللہ من عبادہ العلماء، اس جگہ لفظ کذلک پر جمہور کے نزدیک وقف ہے، جو اس کی علامت ہے کہ یہ لفظ پچھلے مضمون کے ساتھ متعلق ہے۔ یعنی مخلوقات کو مختلف انواع و اقسام اور مختلف الوان پر بڑی حکمت کے ساتھ بنانا یہ اللہ تعالیٰ کی قدرت و حکمت کی خاص نشانی ہے۔ اور بعض روایات سے مستفاد ہوتا ہے کہ اس لفظ کا تعلق اگلے جملے سے ہے۔ یعنی جس طرح ثمرات، پہاڑ، حیوانات اور انسان مختلف رنگوں پر منقسم ہیں، اسی طرح خشیت اللہ میں بھی لوگوں کے درجات مختلف ہیں، کسی کو اس کا اعلیٰ درجہ حاصل ہے، کسی کو کم، اور مدار اس کا علم پر ہے جس درجہ کا علم ہے اسی درجہ کی خشیت بھی ہے۔ (روح) سابقہ آیات میں ارشات…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

آیت 28 فرمایا کہ جمادات کی طرح انسانوں، جانداروں اور پوپایوں میں بھی قدرت کی یہی گونا گونی و بوقلمونی نمایاں ہے۔ لفظ ’ الوان ‘ یہاں بھی صرف رنگوں کے مفہوم میں نہیں بلکہ انواع و اقسام کے وسیع مفہوم میں ہے۔ یعنی صورت، سیرت، صفات، مزاج، خصوصیات اور عادات واطوار کے اعتبار سے ان میں بڑا فرق و اختلاف پایا جاتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جس طرح ہر جانور سے دودھ کی توقع نہیں کی جاسکتی اسی طرح ہر آدمی سے خدا کی خشیت کی توقع بھی نہیں رکھنی چاہیے۔ اللہ کے بندوں میں سے اس سے ڈرنے والے وہی بنیں گے جن کے اندر علم و معرفت کی روشنی ہوگی۔ لفظ ’ علماء ‘ یہاں اصطلاحی مفہوم میں نہیں بلکہ اپنے حقیقی مفہوم میں ہے۔ اوپر آیت…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

28۔ 1 یعنی انسان اور جانور بھی سفید، سرخ، سیاہ اور زرد رنگ کے ہوتے ہیں۔ 28۔ 2 یعنی اللہ کی ان قدرتوں اور اس کے کمال صناعی کو وہی جان اور سمجھ سکتے ہیں جو علم رکھنے والے ہیں اس علم سے مراد کتاب وسنت اور اسرار الہیہ کا علم ہے جتنی ان کو رب کی معرفت حاصل ہوتی ہے اتنا ہی وہ ڈرتے ہیں اپنے رب سے۔ گویا جن کے اندر خشیت الہی نہیں ہے سمجھ لو کہ علم صحیح سے بھی وہ محروم ہیں۔ 28۔ 3 یہ رب سے ڈرنے کی علت ہے کہ وہ اس بات پر قادر ہے کہ نافرمان کو سزا دے اور توبہ کرنے والے کے گناہ معاف فرما دے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 28–31

8: کائنات کی ان عجیب و غریب مخلوقات کو دیکھ کر اور ان سے اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ اور اس کی توحید پر استدلال کر کے انہی کے دل میں اللہ تعالیٰ کی خشیت پیدا ہوتی ہے جن کو اللہ تعالیٰ کی عظمت کا علم اور اس کی سمجھ ہے اور جو لوگ اس سمجھ سے محروم ہیں، وہ کائنات کے ان عجوبوں کی تہہ تک پہنچنے کے باوجود اللہ تعالیٰ کے وجود، اس کی توحید اور اس کی عظمت تک نہیں پہنچتے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 27–28

درس نمبر 203 ایک نظر میں یہ سبق اس کائنات کی کتاب اور اللہ کی کتاب کے ایک اقتباس پر مشتمل ہے۔ کتاب کائنات کا مطالعہ اور اس کے خوبصورت اور عجیب صحائف پر ایک نظر ہے جو مختلف اقسام اور مختلف موضوعات سے متعلق ہیں۔ جن کے پھل قسما قسم ہیں ، جس کے پہاڑ رنگا رنگ ہیں۔ جن کے انسان ، حیوان اور زمین پر چلنے والے جانور مختلف النوع اور مختلف الاشکال ہیں۔ اس خوبصورت کائنات کا یہ عجیب مطالعہ بہت ہی دلچسپ ہے اور پوری کائنات اس کا موضوع ہے۔ پھر اللہ کی کتاب منزل کا مطالعہ اور اس کے اندر جو تعلیمات ہیں اور جو سچائیاں ہیں اور جو اس سے پہلے نازل ہونے والی کتابوں کی تصدیق و تائید کرتی ہے پھر امت مسلمہ کا سابقہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

7 یہ سب بیان ہے قدرت کی نیرنگیوں کا۔ پس جس طرح نباتات، جمادات، اور حیوانات میں رنگ برنگ کی مخلوق ہے، انسانوں میں بھی ہر ایک کی طرح جدا ہے۔ مومن اور کافر ایک دوسرا سا ہوجائے اور سب انسان ایک ہی رنگ اختیار کرلیں یہ کب ہوسکتا ہے۔ اس میں حضرت ﷺ کو تسلی دے دی کہ لوگوں کے اختلاف سے غمگین نہ ہوں۔ 8 یعنی بندوں میں نڈر بھی ہیں اور اللہ سے ڈرنے والے بھی مگر ڈرتے وہ ہی ہیں جو اللہ کی عظمت و جلال، آخرت کے بقاء و دوام، اور دنیا کی بےثباتی کو سمجھتے ہیں اور اپنے پروردگار کے احکام و ہدایات کا علم حاصل کر کے مستقبل کی فکر رکھتے ہیں۔ جس میں یہ سمجھ اور علم جس درجہ کا ہوگا اسی درجہ میں وہ خدا سے ڈرے گا۔ جس میں…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 28{ وَمِنَ النَّاسِ وَالدَّوَآبِّ وَالْاَنْعَامِ مُخْتَلِفٌ اَلْوَانُہٗ کَذٰلِکَ } ”اور اسی طرح انسانوں ‘ جانوروں اور چوپایوں کے بھی مختلف رنگ ہیں۔“ { اِنَّمَا یَخْشَی اللّٰہَ مِنْ عِبَادِہِ الْعُلَمٰٓؤُاط اِنَّ اللّٰہَ عَزِیْزٌ غَفُوْرٌ} ”یقینا اللہ سے ڈرتے تو اس کے بندوں میں سے وہی ہیں جو اہل علم ہیں۔ یقینا اللہ بہت زبردست ہے ‘ نہایت بخشنے والا۔“ انسان کے دل میں اگر ایمان موجود ہے تو اس کے اندر لازماً خوفِ خدا بھی ہوگا۔ پھر جس قدر اس کے علم میں اضافہ ہوگا ‘ ارضیات ‘ حیوانات ‘ نباتات وغیرہ سے متعلق اس کی معلومات بڑھیں گی اور کائنات کے دیگر اسرار و رموز کے بارے میں اس کا مطالعہ وسیع ہوتا…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

33 یعنی وہ چاہے تو اپنے باغیوں، کج فہمیوں اور نافرمانوں کو فوراً پکڑ سکتا ہے۔ مگر یہ اس کی صفت عفو کا ہی تقاضا ہے کہ وہ لوگوں کو مہلت دیئے جاتا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 27–28

38۔ توجہ ان تکوینی اختلافات پر دلائی گئی ہے کہ انہیں خیال میں رکھو، تو کافر و مومن کے فرق پر بہت زیادہ حیرت نہ ہو۔ (آیت) ” انزل ..... الوانھا “۔ یعنی بارش کا پانی ایک ہی ہے، جو سب پھلوں کو پیدا کررہا ہے، اس پر بھی ان کی شکلیں، مزے، تاثیریں سب ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔ (آیت) ” جدد “۔ جدۃ کی جمع ہے جس کے معنی راستہ کے بھی اور خط یا دھاری کے ہیں۔ 39۔ (جو اللہ کی عظمت کا علم رکھتے ہیں۔ اور اسی لیے دلائل قدرت میں غور کرتے رہتے ہیں) مفسر تھانوی (رح) نے کہا ہے کہ عظمت کا علم اگر اعتقادی ہوتا ہے تو خشیت بھی اعتقادی ہوتی ہے، اور اگر عظمت کا علم حالی ہوتا ہے تو خشیت بھی حالی ہوتی ہے۔ (آیت) ” العلموا “۔…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 27–37

آیت نمبر 27 تا 37 ترجمہ : اے مخاطب ! کیا تو نے اس بات پر نظر نہیں کی کہ اللہ نے آسمان سے پانی نازل کیا پھر ہم نے اس پانی کے ذریعہ مختلف رنگوں کے پھل پیدا کئے اس میں غیبت سے تکلم کی جانب التفات ہے جیسا کہ سبز اور سرخ اور زرد وغیرہ اوعر پہاڑوں میں بھی مختلف رنگوں کی دھاریاں ہیں جُدَدٌ جُدَّۃٌ کی جمع ہے، پہاڑی راستے وغیرہ کو کہتے ہیں، (مثلاً ) سفیدوسرخ اور زرد اور وہ رنگ تیز اور ہلکا ہونے کے اعتبار سے بھی مختلف ہیں اور بہت گہرے سیاہ بھی اس کا عطف جُدَدٌ پر ہے یعنی نہایت تیز رنگ کی چٹانیں ہیں، کثیر الاستعمال اَسْوَدُ غِربیبٌ ہے اور قلیل الستعمال غِرْبِیْبٌ اَسْوَدُ ہے اور اسی طرح انسانوں اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ومن الناس والدوآب والانعام مختلف الوانہ کذلک انما یخشی اللہ من عبادہ العلمؤا اور اسی طرح آدمیوں اور جانوروں اور چوپایوں میں بھی بعض کے رنگ مختلف ہیں اور اللہ سے وہی بندے ڈرتے ہیں جو (ا اللہ کی عظمت کا) علم رکھتے ہیں۔ ا اللہ نے پہلے آسمان سے بارش ہونے کا ذکر فرمایا ‘ پھر اس سے مختلف اجناس و اصناف اور کثیر انواع و الوان کی مخلوق کی نشو و نما پانے کا اظہار کیا۔ یہ تمام اجناس و انواع خلق صانع کی ہستی ‘ قدرت ‘ معبودیت اور دوسری صفات پر دلالت کر رہی ہیں۔ اس کے بعد فرمایا کہ اللہ کا خوف وہی علماء کرتے ہیں جو خلق اللہ کی حالت کا مطالعہ غور و فکر سے کرتے ہیں اور مصنوع سے صانع کی ذات ‘ صفات ‘ افعال اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

اور اسی طرح آدمیوں اور جانوروں اور چوپایوں میں بھی کچھ ایسے ہیں کہ ان کی رنگتیں مختلف ہیں کہ بعض اوقات اختلاف اصناف کے ساتھ یہ چیز ہے۔ اور اللہ سے اس کے وہی بندے ڈرتے ہیں جو اس کی عظمت کا علم رکھتے ہیں اور اللہ تعالیٰ اپنی سلطنت و بادشاہت میں زبردست اور مومن کی مغفرت فرمانے والا ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَمِنَ النَّاسِ وَالدَّوَاۗبِّ وَالْاَنْعَامِ مُخْتَلِفٌ اَلْوَانُهٗ كَذٰلِكَ : یعنی صرف نباتات اور جمادات ہی میں نہیں بلکہ دوسری تمام مخلوقات میں رنگا رنگی کا یہی عالم ہے۔ انسان، جانور اور چوپائے سب ایک دوسرے سے مختلف ہیں اور ان میں ہر جنس کی مختلف قسمیں ہیں اور ہر قسم کا ہر فرد دوسرے سے مختلف ہے۔ اِنَّمَا يَخْشَى اللّٰهَ مِنْ عِبَادِهِ الْعُلَمٰۗؤُا : یہاں علم سے مراد دنیوی علوم نہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ کی عظمت اور اس کی صفات کا علم ہے، جس کو اللہ کی عظمت وصفات کا جتنا علم ہوگا اتنا ہی وہ اس کی نافرمانی سے ڈرے گا۔ علاوہ ازیں آیت میں ”علماء“ سے مراد وہ اصطلاحی علماء بھی نہیں جو قرآن و حدیث اور…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیت : ومنالناس والدوآب اسے والدواب تخفیف کے ساتھ بھی پڑھا گیا ہے اس تخفیف کی نظیر اس کی قراءت ہے جس نے پڑھا ولا الضالین کیونکہ ان میں سے ہر ایک اجتماع ساکنین سے بھا گا ہے۔ ولا الضالین میں اس نے پہلے ساکن یعنی الف کو حرکت دی اور والدواب میں اس نے دوسری باء کو حذف کردیا (3) ( تفسیرا لکشاف، جلد 3، صفحہ 610) ؛ یہ زمحشری کا قول ہے۔ آیت : والانعام مختلف الوانہ یعنی ان میں سرخ، سفید، سیاہ وغیرہ ہیں (4) (ایضا) ۔ ان میں سے ہر ایک صانع پر دال ہے جو مختار ہے۔ فرمایا : آیت : مختلف الوانہ من کی رعایت کرتے ہوئے ضمیر کو مذکر ذکر کیا ہے ؛ یہ مورج کا قول ہے۔ ابوبکر بن عیاش نے کہا : ضمیر مذکر ذکر کی کیونکہ یہ…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

(آیت) ” ومن الناس والدوآب والانعام “ یعنی اسی طرح لوگوں جانوروں چوپائیوں کے رنگ مختلف ہیں جس طرح پہاڑوں کے مختلف رنگ ہیں پھر فرمایا (آیت) ” انما یخشی اللہ من عبادہ العلموا “ (بلاشبہ اس کے بندوں میں سے علمایء ہی اللہ سے ڈرتے ہیں) اس سے پہلے جن چیزوں کا ذکر کیا گیا ہے اس میں کوئی فضیلت نہیں۔ اللہ تعالیٰ کے خوف کے اعتبار سے لوگ مختلف ہیں : 9:۔ ابن المنذر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” ومن الجبال جدد بیض “ اس کے راستے مختلف ہیں جس طرح ان کا ذکر کیا گیا ہے لوگوں کے اسی طرح لوگوں جانوروں اور چوپائیوں کے رنگ مختلف ہیں جس طرح یہ جانور مختلف ہیں اسی طرح اللہ کے ڈرنے کے بارے میں بھی لوگ مختلف…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

وَمِنَ النَّاسِ [اور لوگوں میں سے ] وَالدَّوَاۗبِّ [اور جانداروں میں سے ] وَالْاَنْعَامِ [اور مویشیوں میں سے ] مُخْتَلِفٌ اَلْوَانُهٗ [مختلف ہیں ان کے رنگ ] كَذٰلِكَ ۭ [اسی طرح ہے ] اِنَّمَا يَخْشَى اللّٰهَ [کچھ نہیں سوائے اس کے کہ ڈرتے ہیں اللہ سے ] مِنْ عِبَادِهِ [اس کے بندوں میں سے ] الْعُلَمٰۗؤُا ۭ[علم والے ] اِنَّ اللّٰهَ [بیشک اللہ ] عَزِيْزٌ [بالادست ہے ] غَفُوْرٌ [بے انتہا بخشنے والا ہے ] ۔ نوٹ۔ 1: آیت 28 میں علماء سے مراد کسی دینی ادارے یا یونیورسٹی کے سند یافتہ عالم دین نہیں ہیں۔ یہاں پر یہ لفظ ہر اس شخص کے لئے آیا ہے جو محض ظاہر پرست نہیں ہوتا بلکہ ظاہر سے باطن اور مجاز سے حقیقت…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

(اِنَّمَا یَخْشَی اللّٰہَ مِنْ عِبَادِہِ الْعُلَمآؤُا) (اللہ سے علم والے ہی ڈرتے ہیں) جن لوگوں کو اللہ تعالیٰ نے علم دیا ہے خواہ علم الآفاق ہو خواہ علم الانفس، خواہ علم المصنوعات ہو خواہ علم الکتاب، یہی لوگ اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہیں کیونکہ علم ذریعہ معرفت ہے، جسے جتنی معرفت حاصل ہوگی اسی قدر اپنے خالق ومالک سے ڈرے گا اور معاصی سے باز رہے گا ہاں اگر کوئی شخص علم ہوتے ہوئے بھی اپنے نفس کا اتباع کرے تو وہ گمراہ ہی رہے گا، کما قال اللہ تعالیٰ (اَفَرَءَ یْتَ مِنِ اتَّخَذَ اِلٰھَہٗ ھَوٰہُ وَاَضَلَّہُ اللّٰہُ عَلٰی عِلْمٍ ) رسول اللہ ﷺ سب سے بڑے عالم بھی تھے اور سب سے زیادہ اللہ تعالیٰ سے ڈرنے والے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 27–28

تہدید برغفلت از عدم نظر در آثار قدرت قال اللہ تعالی۔ الم تر ان اللہ انزل من السماء ماء۔۔۔ الی۔۔۔ ان اللہ عزیز غفور۔ (ربط) اوپر سے توحید کا مضمون چلا آرہا ہے اب ان آیات میں منکرین توحید کی تہدید ہے کہ آثار قدرت ان کی نظروں کے سامنے ہیں اگر ذرا نظر اٹھا کر دیکھیں تو فورا سمجھ میں آجائے کہ توحید حق ہے اور شرک باطل ہے اور مخلوقات میں جو اختلاف اور تفاوت ہے وہ سب اسی کی قدرت اور مشیت کا کرشمہ ہے کسی بےشعور مادہ ایتھر اور نیچر کا اثر نہیں اس لئے آئندہ آیات میں پھر اپنی انواع قدرت کو ذکر کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ایک شے سے مختلف قسم کی چیزیں پیدا کرتا ہے کیا تو نے دیکھا نہیں کہ اللہ نے آسمان سے پانی…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

ٖف 28:۔ انما یخشی الخ : یہ گذشتہ دلیل توحید کا حصہ نہیں بلکہ علیحدہ زجر ہے ایسے دلائل واضحہ کی موجودگی میں چاہئے تو یہ تھا کہ مشرکین راہ راست پر آجاتے اور صرف اللہ سے ڈرتے لیکن وہ خدا سے ڈرنے کے بجائے اپنے خود ساختہ معبودوں سے ڈرتے ہیں۔ صرف علماء جو اللہ کے دین اور اس کی توحید کو جانتے ہیں اور اس کے ساتھ شرک نہیں کرتے اور اس کے احکام کی پیروی کرتے ہیں وہی اللہ سے ڈرتے ہیں۔ عن ابن عباس العالم بالرحمن من عبادہ من لم یشرک بہ شیئا واحل حلالہ و حرم حرامہ و حفظ وصیتہ و ایقن انہ ملاقیہ و محاسب بعملہ (ابن کثیر ج 3 ص 553) ۔ ان اللہ عزیز غفور : یہ وعدہ غفران ہے۔ وہ گناہوں کی سزا بھی دے سکتا ہے لیکن اگر…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَمِنَ النَّاسِ وَالدَّوَاۗبِّ وَالْاَنْعَامِ مُخْتَلِفٌ اَلْوَانُہٗ كَذٰلِكَ۝ 0 ۭ اِنَّمَا يَخْشَى اللہَ مِنْ عِبَادِہِ الْعُلَمٰۗؤُا۝ 0 ۭ اِنَّ اللہَ عَزِيْزٌ غَفُوْرٌ۝ 28 نوس النَّاس قيل : أصله أُنَاس، فحذف فاؤه لمّا أدخل عليه الألف واللام، وقیل : قلب من نسي، وأصله إنسیان علی إفعلان، وقیل : أصله من : نَاسَ يَنُوس : إذا اضطرب، قال تعالی: قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ [ الناس/ 1] ( ن و س ) الناس ۔ بعض نے کہا ہے کہ اس کی اصل اناس ہے ۔ ہمزہ کو حزف کر کے اس کے عوض الف لام لایا گیا ہے ۔ اور بعض کے نزدیک نسی سے مقلوب ہے اور اس کی اصل انسیان بر وزن افعلان ہے اور بعض کہتے ہیں کہ یہ اصل میں ناس…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 27–32

ترکیب : الوانہا مرفوع۔ بمختلف و جدد بفتح الدال جمع جدۃ وھی الطریقۃ ویقراء بضمھا و ھو جمع جدید کسر یروسرر قال الجوہری الجدۃ الخطۃ التی فی ظھر الحمار تخالف لونہ والجدۃ الطریق والجمع جدود جدائد، قال المبرد و طرائق و خطوط و غرابیب سود عطف علی بیض و علی جدد کانہ قیل ومن الجبال ذوجد و مختلفۃ اللون و منہا غرابیب متحدۃ اللون، وغرابیب جمع غربیب ھو الشدید السواد الذی یشبہ لونہ لون الغراب والغرابیب تابع و تاکید لسود و حق التاکید التاخیر فقیل فی جو ابہ ھو تاکید مضمر بفسرہ سود کما جاء فی قول النابغہ ؎ المومن العائذات الطیر مسیحھا والطیر عطف بیان للعائذات و ھو الشاہد ومن الحبال مستانفۃ کانہ قال واخرجنا با…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

وَمِنَ النَّاسِ وَالدَّوَآبِّ وَالْاَنْعَامِ مُخْتَلِفٌ اَلْوَانُـہٗ کَذٰلِکَ ط اِنَّمَا یَخْشَی اللّٰہَ مِنْ عِبَادِہِ الْعُلَمٰٓـؤُا ط اِنَّ اللّٰہَ عَزِیْزٌغَفُوْرٌ۔ (فاطر : 28) ( اور اسی طرح انسانوں اور جانوروں اور مویشیوں کے رنگ بھی مختلف ہیں، اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اللہ تعالیٰ کے بندوں میں سے صرف علم رکھنے والے لوگ ہی اس سے ڈرتے ہیں، بیشک اللہ زبردست اور درگزر فرمانے والا ہے۔ ) گزشتہ آیت میں ثَمَرٰتٍ مُّخْتَلِفًا اَلْوَانُھَاکے اندر مُخْتَلِفًاکے لفظ کو منصوب ذکر فرمایا گیا ہے کیونکہ وہ ترکیب میں حال واقع ہوا ہے۔ لیکن پیش نظر آیت کریمہ میں انسانوں اور چوپایوں وغیرہ میں یہ اختلاف…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 27–28

فہم القرآن ربط کلام : توحید کا انکار کرنے اور حق بات کو ٹھکرانے والوں کو غوروفکر کی دعوت۔ کیا توحید کا انکار اور حق بات کو ٹھکرانے والے اس بات پر غور نہیں کرتے کہ اللہ تعالیٰ کس طرح آسمان سے بارش برساتا ہے پھر اس کے ذریعے مختلف قسم کے پھل پیدا کرتا ہے جن کے رنگ آپس میں نہیں ملتے۔ اسی ذات نے پہاڑ پیدا کیے جن میں سفید، سرخ اور نہایت ہی کالے رنگ کے پہاڑ ہوتے ہیں۔ اسی ذات نے انسانوں، جانوروں اور چوپاؤں کے مختلف رنگ اور جسم بنائے جو اس کی قدرت کا پتہ دیتے ہیں۔ لوگوں میں وہی لوگ اپنے رب سے زیادہ ڈرتے ہیں جو صاحب علم ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر کام پر غالب اور بخشنے والا ہے۔ سورۃ الرّعدکی آیت…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

28: وَمِنَ النَّاسِ وَالدَّوَآبِّ وَالْاَنْعَامِ مُخْتَلِفٌ اَلْوَانُہٗ (اور اسی طرح آدمیوں اور جانوروں اور چوپایوں میں بھی بعض ایسے ہیں۔ کہ انگی رنگتیں مختلف ہیں۔ ) یعنی ان میں سے بعض مختلف رنگت کے ہیں۔ کَذٰلِکَ (اسی طرح) جیسے پھل، پہاڑ مختلف ہیں۔ فائدہ : جب پہلے الم تران اللہ انزل من السماء ماء کہا اور آیات الٰہیہ کو شمار کیا اور اس کی قدرت کے نشانات گنائے اور اس کی کاریگری کے نمونے بتلائے اور جو مختلف قسم کی اجناس بنائیں۔ اور جن چیزوں سے اس کی ذات وصفات پر استدلال کیا جاسکتا تھا ان کو گنوا چکے تو اس کے بعد فرمایا : ایک چیز پر بس نہیں : اِنَّمَا یَخْشَی اللّٰہَ مِنْ عِبَادِہِ الْعُلَمٰٓؤُا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

28، ومن الناس والدواب والانعام مختلف الوانہ، لوگوں میں سے یاچو یوں میں سے جن کے رنگ مختلف ہیں۔ ، کذلک ، جیسے پھلوں کے رنگ اور پہاڑوں کے رنگ مختلف ہیں۔ یہاں پر کلام تام ہوا، آگے ابتداء کرتے ہیں ۔ ، انما یخشی اللہ من عبادہ العلماء حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا اس سے مراد یہ ہے کہ مجھ سے وہی ڈرتا ہے جس کو میرے قہر غلبہ اور میری بادشاہت کا علم ہو جو شخص جتنا زیادہ اللہ اور اس کی صفات کو جانتا ہے وہ اتناہی اللہ سے ڈرتا ہے۔ شیخین نے حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے بعض کام کیے اللہ علیہ وسلم کو اس کی اطلاع ملی تو ایک خطبہ دیا جس میں اللہ کی حمدوثناء کے بعد فرمایا : کیا وجہ…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 27–28

27‘ 28۔ یہ ایک اور نشانی قدرت کی بیان فرمائی کہ ایک ہی پانی کے اثر سے سب میوے پیدا ہوت ہیں لیکن جس میو کا رنگ اللہ تعالیٰ نے شرخ ٹھہرا دیا ہے اس کو پانی اپنے اثر سے بسز نہیں کرسکتا اور سبز سرخ نہیں ہوسکتا اس طرح پہاڑوں کو بھی اللہ تعالیٰ نے رنگ برنگ کا پیدا کیا ہے اور ان میں رنگ برنگ کی گھاٹیاں رکھی ہیں یہی حال انسان چار پایوں اور کیڑے پتنگوں کا ہے پھر فرمایا ‘ اللہ تعالیٰ کی ان قدتوں کو دیکھ کر وہی گوگ اللہ سے ڈرتے ہیں جو یہ جانتے ہیں کہ جن میں یہ سب قدرتیں ہیں وہ نافرمان لوگوں کی گرفت کرلینے میں پڑا زبردست ہے اور فرما نبرداروں کے گناہوں کے بخش دینے میں بڑا غفور رحیم ہے۔ ایک رنگ کی چیز پر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 27–29

آیت 27 اللہ تبارک و تعالیٰ ذکر فرماتا ہے کہ اس نے کائنات میں متضاد اشیاء کو تخلیق کیا جن کی اصل اور مادہ ایک ہے، مگر اس کے باوجود ان میں فرق اور تفاوت ہے جو معروف اور سب پر عیاں ہے تاکہ بندے اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ اور حکمت تامہ پر استدلال کریں، چناچہ اللہ تعالیٰ نے آسمان سے پانی برسایا اور اس کے ذریعے سے مختلف اقسام کے پھل پیدا کئے اور مختلف انواع کی نباتات اگائیں، دیکھنے والے ان کا مشاہدہ کرتے ہیں حالانکہ ان کو سیراب کرنے والا پانی ایک اور ان کو اگانے والی زمین ایک ہے۔ اللہ تعالیٰ نے پہاڑوں کو زمین کے لئے میخیں بنایا، آپ دیکھیں کہ پہاڑ گویا ایک دوسرے سے ملے ہوئے بلکہ وہ ایک ہی پہاڑ نظر…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 28–33

علم، حشیت اللہ پیدا کرتا ہے قول باری ہے (انما یخشی اللہ من عبادہ العلمو۔ اللہ سے ڈرتے بس وہی بندے ہیں جو علم والے ہیں) آیت میں علم کی فضیلت بیان کی گئی ہے نیز یہ کہ علم کے ذریعے اللہ کی خشیت اور تقویٰ تک رسائی ہوتی ہے۔ اس لئے کہ جو شخص اللہ کی توحید اور اس کے عدل کی معرفت حاصل کرلیتا ہے اس کی یہ معرفت اسے خشیت اور تقویٰ تک پہنچا دیتی ہے۔ کیونکہ جو شخص اللہ کی توحید، اس کے عدل اور کائنات کی تخلیق میں اس کے مقصد سے ناآشنا ہو وہ نہ تو اللہ سے ڈرتا ہے اور نہ ہی اس کے دل میں تقویٰ یعنی خوف خدا پیدا ہوتا ہے۔ ایک اور آیت میں ارشاد ہے (یرفع اللہ الذین امنا منکم والذین اوتوا العلم درجات ۔ اللہ تعالیٰ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

63 جمادات کی طرح حیوانات کی بھی مختلف قسمیں : سو ارشاد فرمایا گیا اور صاف وصریح طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ " انسانوں، جانوروں اور چوپایوں کے بھی مختلف رنگ ہیں "۔ سو یہ بھی اس قادر مطلق کی بےپایاں قدرت و عظمت کی ایک بڑی نشانی ہے کہ اتنے لاتعداد افراد میں سے کوئی بھی دو فرد آپس میں ایک جیسے نہیں ہیں ۔ فَسُبْحَانَہ مَا اَعْظَمَ شَانُہ وَمَا اَجَلَّ بُرْہَانُہ ۔ بہرکیف اس ارشاد سے واضح فرمایا گیا کہ جمادات کی طرح انسانوں، جانداروں اور چوپایوں میں بھی قدرت کی ایسی ہی گوناگونی اور بوقلمونی پائی جاتی ہے۔ بلکہ ان کی یہ رنگا رنگی صرف ظاہر تک محدود نہیں بلکہ اس سے بھی آگے بڑھ کر یہ بوقلمونی ان کی صورت…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 15–45

سچ تو یہ ہے جو اللہ نے اعلان کیا ہے تشریح : ان آیات کی وضاحت کیا کی جائے یہ تو بذات خود علم و عرفان اور کلام الٰہی کی انتہائی آسان اور عام فہم مضمون کا مجموعہ ہیں۔ اہل علم کو معلوم ہے کہ مومن کو آنکھوں والا، زندہ اور نور سے تشبیہ دی گئی ہے جبکہ کافر کو اندھا، تاریکی اور مردہ کہا گیا ہے۔ پھر کفار کی ایک خاص خصلت کا ذکر کیا گیا ہے کہ وہ اتنا ہٹ دھرم اور ضد کا پکا ہوتا ہے کہ ہمیشہ نبیوں کو جھٹلاتا رہتا ہے اس لیے سیدنامحمد ﷺ کو بار بار یہ تاکید کی گئی ہے کہ آپ ان کی ضد پر پریشان نہ ہوا کریں بس آپ ان کو سمجھاتے رہیں ان سے نمٹنا اللہ کا کام ہے۔ بار بار کفار کے لیے دوزخ اور مومن کے لیے جنت کا اعلان…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 27–37

رکوع نمبر 4 ۔ آیات 27 ۔ تا۔ 37: اسرار و معارف : اللہ کی قدرت کاملہ کا ہر پہلو کتنا روشن ہے بھلا غور کرو کہ کس طرح پانی کو اٹھا کر بلندیوں سے برساتا ہے اور نشیب و فراز پر پہنچا دیتا ہے یہ بھی دیکھو کہ ایک ہی طرح کا پانی برستا ہے بےرنگ اور بےذائقہ مگر جب اس کے ذریعے پھل اگاتا ہے تو ان سب کے رنگ جدا اور ذائقے الگ الگ ہوتے ہیں۔ یہی نہیں پہاڑوں کو دیکھو ایک ہی زمین مختلف رنگوں کے امتزاج خوبصورت انداز میں کھڑے کردئیے کہیں سفید سفید گھاٹیاں ہیں پھر اسی پہاڑ میں سرخ رنگ کی تہہ آجاتی ہے کہیں سیاہ اور کالے بھجنگ پہاڑ کھڑے نظر آتے ہیں یہی حال بندوں جانوروں اور کیڑے مکوڑوں میں نظر آتا ہے کوئی گورا ہے…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 26–28

ف 1 علم سے مراد اللہ تعالیٰ کی صفات، افعال و احکام اور قدرتوں کا علم ہے نہ کہ صرف و نحو، فلسفہ تاریخ جغرافیہ اور سائنس وغیرہ رسی علوم اور حقیقت ہے کہ جس کسی شخص کو معرفت باللہ زیادہ حاصل ہوگی، اسی قدر وہ اللہ تعالیٰ سے زیادہ ڈرنے والا ہوگا یعنی تقویٰ بقدر علم ہوتا ہے۔ انبیاء ( علیہ السلام) کو چونکہ حسب مراتب معرفت باللہ دوسرے لوگوں سے زیادہ ہوتی ہے۔ اس لئے آنحضرت ﷺ نے فرمایا : (انا اخشاکم للہ واتقاکم لہ) میں تم سب کی بہ نسبت اللہ تعالیٰ سے زیادہ ڈرنے والا ہو۔ عالم وہ ہے جو اللہ تعالیٰ سے ڈرنا ہے اور جو اللہ تعالیٰ سے نہیں ڈرتا وہ عالم نہیں ہے۔ پس اللہ تعالیٰ کا ڈر بڑا علم ہے اور اس سے بےخوفی…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(35:28) ومن الناس۔۔ کذلک ای وکذلک من الناس اور اسی طرح انسانوں چارپائوں اور جانوروں کے رنگ جدا جدا ہیں اس جملہ کا عطف سابقہ جملہ پر ہے۔ العلمؤ۔ علمائ۔ عالم لوگ۔ اس رسم الخط میں یہ لفظ شعرا اور سورة فاطر میں آیا ہے یعنی میم کے بعد وائو اور اس پر ہمزہ اور وائو کے بعد الف بھی لکھا جاتا ہے اور پڑھا نہیں جاتا : علامہ پانی پتی (رح) رقمطراز ہیں :۔ شیخ اجل شہاب الدین سہروردی (رح) لکھتے ہیں کہ اس آیۃ میں درپردہ یہ بیان کیا گیا ہے کہ جس کے دل میں خشیت نہیں وہ عالم نہیں۔ میں کہتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کی عظمت و جلالت اور صفات کمالیہ کو جاننا مستلزم خشیت ہے خشیت علم کے لئے لازم ہے اور لازم کی نفی ملزوم کی…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 27–30

لغات القرآن : آیت نمبر 27 تا 30 :۔ جدد ( جدۃ) ( راستے) بیض (سفید) حمر (سرخ) غرابیب (بےانتہا سیاہ) سود (سیاہ ، تاریک) دواب ( جانور) لن تبور ( ہرگز نقصان نہ ہوگا) شکور ( قدر دان ، قدر کرنے والا) تشریح : آیت نمبر 27 تا 30 :۔ گزشتہ آیات سے اللہ کی نعمتوں کا ذکر کیا جا رہا ہے کہ اگر انسان کائنات میں بکھری ہوئی نعمتوں میں غور و فکر اور تدبر سے کام لے تو وہ اس خالق ومالک کو پہچان سکتا ہے جس نے ان چیزوں کو پیدا کیا ہے۔ آسمان سے جب بارش برستی ہے تو زمین میں ایک ترو تازگی پیدا ہوجاتی ہے، کھیت لہلہانے لگتے ہیں ، درختوں کی خوبصورتی میں اضافہ ہوجاتا ہے، سبزہ ، سبزی ، پھل اور طرح طرح کے میوے اگنے لگتے ہیں…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 27–28

کیسے لوگ خدا سے ڈرتے ہیں۔ (ف 2) یہ ایک اور نشانی قدرت کی بیان فرمائی کہ ایک ہی پانی کے اثر سے سب میوے پیدا ہوتے ہیں لیکن جس میوہ کا رنگ اللہ تعالیٰ نے سرخ ٹھہرایا ہے اس کو پانی اپنے اثر سے سبز نہیں کرسکتا، اور سبز سرخ نہیں ہوسکتا، اسی طرح پہاڑوں کو بھی اللہ تعالیٰ نے رنگ برنگ پیدا کیا ہے اور ان میں رنگ برنگ کی گھاٹیاں رکھی ہیں یہی حال انسان، چارپایوں اور کیڑے پتنگوں کا ہے۔ پھر فرمایا اللہ کی ان قدرتوں کو دیکھ کر وہی لوگ اللہ سے ڈرتے ہیں جو یہ جانتے ہیں اس میں سب قدرتیں ہیں وہ نافرمان لوگوں کی گرفت کرلینے میں بڑازبردست ہے اور فرمانبرداروں کے گناہوں کے معاف کردینے میں بڑاغفور رحیم ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 23–28

[13] یعنی جس طرح نباتات، جمادات اور حیوانات میں رنگ برنگ کی مخلوق ہے اس طرح انسانوں میں بھی ہر ایک کی طرح جدا ہے۔ یہ کب ہوسکتا ہے کہ سب انسان ایک طرح کے ہوجائیں اور مومن و کافر سب یکساں ہوجائیں۔ اس آیت میں آپ ﷺ کو تسلی دی گئی کہ لوگوں کے اختلاف سے غمگین نہ ہوں۔ [14] یہاں علم سے مراد دنیوی علوم نہیں بلکہ اللہ کی عظمت اور اس کی صفات کا علم ہے جس شخص کو اللہ کی عظمت وصفات کی جتنی معرفت ہوگی اتنا ہی وہ اس کی نافرمانی سے ڈرے گا۔ نیز اس آیت میں '' علمائ '' سے وہ اصطلاحی علماء مراد نہیں ہیں جو قرآن و حدیث اور فقہ کا علم رکھنے کی بناء پر علمائے دین کہے جاتے ہیں۔ وہ اس آیت کے مصداق صرف اسی صورت میں…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 28–30

ف 3: علماء کی فضیلت بیان کرنے کے بعد اب یہ بتایا ہے ۔ کہ یہ لوگ واقعی عزت واحترام کے مستحق ہیں ۔ یہ اللہ کی کتاب غوروفکر سے پڑھتے ہیں اور اپنی عبودیت اور اس کی الوہیت کا اقرار کرتے ہیں ۔ اس کے سامنے جھکتے ہیں ۔ اس کی عبادت کرتے اور اپنے مال و دولت میں سے اس کی راہ میں خرچ کرتے ہیں ۔ فرمایا ۔ کہ ان کی یہ تجارت ایسی ہے جس میں خسارہ کا کوئی اندیشہ نہیں ۔ بلکہ اللہ تعالیٰ ان کی مساعی میں برکت پیدا کردیتا ہے ۔ اور اپنے فضل اور قدر دانی سے ان کے اجر میں اضافہ کردیتا ہے ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(28) اور اسی طرح آدمیوں میں اور رینگنے والے کیڑوں میں اور چوپایوں میں سے بعض ایسے ہیں کہ ان کی رنگتیں مختلف ہیں اللہ تعالیٰ سے بس اس کے بندوں میں سے وہی بندے ڈرتے ہیں جو اس کی قدرت و عظمت کا علم رکھتے ہیں یعنی علماء بیشک اللہ تعالیٰ بڑا زبردست بڑی بخشش کرنے والا ہے۔ سورۂ رعد میں گزر چکا ہے کہ ایک ہی قسم کا پانی برستا ہے پھر اس پانی سے اللہ تعالیٰ رنگہارنگ کے نباتات جمادات اور حیوانات پیدا کرتا ہے۔ یہ اس کی خالقیت کا کمال ہے۔ پھلوں کے انواع میں تو رنگ اختلاف ظاہری ہے سیب کا رنگ اور ہے، بیر کا رنگ اور ہے، خربوزہ کا اور ہے، تربوز کا اور ہے بلکہ اصناف میں دیکھو تو بھی یہ اختلاف پایا جاتا ہے۔ سیب…

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

انسانوں ، جانوروں اور چارپایوں کی مختلف رنگتوں کا بیان 28 ۔ قدرت کی نیر نگیوں اور قدرت آفرینیوں کا باب گنتی کی چند چیزوں کو شمار کرکے بند نہیں کیا جاسکتا کشادہ عقل کے لوگ اس کشادگی پر غور کریں جو اللہ تعالیٰ نے اس دھرتی ، اس فضا اور ان بلندیوں میں رکھی ہے تو ان کی عقل تھک جائے لیکن اس خالق کی مخلوق نہ گنی جاسکتی ہے اور نہ ہی نظروں میں پھرائی جاسکتی ہے اس مخلوق خداوندی سے ان ہی چیزوں کا نام لیا جاتا ہے جو ہر وقت انسان کی آنکھوں کے سامنے رہتی ہیں تاکہ اس کی سوچ بچار مخلوق ہی میں نہ الجھی رہے اور وہ اس کی تلاش میں اپنی عقلی صلاحیتوں کو ختم کرتا رہے بلکہ اس خالق کی طرف دھیان کرے جس خالق نے اس…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

The place where the word: كَذَٰلِكَ (kadhalik: translated above by the words, 'as well' ) appears in verse 28 just before: كَذَٰلِكَ إِنَّمَا يَخْشَى اللَّـهَ مِنْ عِبَادِهِ الْعُلَمَاءُ (Only those of His slaves fear Allah who are knowledgeable), but in the translation above it has been separated from the next verse by a full stop, because this is the place of a stop (waqf) according to the consensus of the majority of commentators and scholars. As such, it is a sign denoting that this word is related to the previous subject, that is, the creation of all that exists in categories and kinds…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 28–29

48 This is meant to impress that in the universe created by Allah nowhere is there homogeneity and uniformity; there is variety everywhere. From the same earth and by the same water different kinds of trees are appearing. Even the two pieces of the fruit of the same tree are not uniform in colour and size and taste. In the same mountain one will see a variety of colours and a great difference in the material composition of its different parts. Even among human beings and animals one will not see two offspring of the same parents exactly alike. If a person seeks uniformity of the temperaments…

Read the full tafseer →