Explained with ayahs 19–26
ایک موازنہ۔
ارشاد ہوتا ہے کہ مومن و کفار برابر نہیں۔ جس طرح اندھا اور دیکھتا۔ اندھیرا اور روشنی، سایہ اور دھوپ، زندہ اور مردہ برابر نہیں۔ جس طرح ان چیزوں میں زمین و آسمان کا فرق ہے اسی طرح ایمان دار اور بےایمان میں بھی بےانتہا فرق ہے۔ مومن آنکھوں والے اجالے، سائے اور زندہ کی مانند ہے۔ برخلاف اس کے کافر اندھے اندھیرے اور بھرپور لو والی گرمی کی مانند ہے۔ جیسے فرمایا (اَوَمَنْ كَانَ مَيْتًا فَاَحْيَيْنٰهُ وَجَعَلْنَا لَهٗ نُوْرًا يَّمْشِيْ بِهٖ فِي النَّاسِ كَمَنْ مَّثَلُهٗ فِي الظُّلُمٰتِ لَيْسَ بِخَارِجٍ مِّنْهَا ۭ كَذٰلِكَ زُيِّنَ لِلْكٰفِرِيْنَ مَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ01202) 6۔ الانعام…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–27
سورة فَاطِر 46
یعنی ایسے دلائل جو اس بات کی صاف شہادت دیتے تھے کہ وہ اللہ کے رسول ﷺ ہیں۔
سورة فَاطِر 47
صحیفوں اور کتاب میں غالباً یہ فرق ہے کہ صحیفے زیادہ تر نصائح اور اخلاقی ہدایات پر مشتمل ہوتے تھے، اور کتاب ایک پوری شریعت لے کر آتی تھی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–26
(آیت) وما انت بمسمع من فی القبور، اس آیت کے شروع میں کفار کی مثال مردوں سے اور مومنین کی زندوں سے دی گئی ہے۔ اسی کی مناسبت سے یہاں من فی القبور سے مراد کفار ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ جس طرح آپ مردوں کو نہیں سنا سکتے ان زندہ کافروں کو بھی نہیں سنا سکتے۔
اس آیت نے خود یہ بات واضح کردی کہ یہاں سنانے سے مراد وہ سنانا ہے جو مفید وموثر اور نافع ہو، ورنہ مطلق سنانا تو کفار کو ہمیشہ ہوتا ہی رہا، اور مشاہدہ میں آتا رہا ہے کہ ان کو تبلیغ کرتے اور وہ سنتے تھے۔ اس لئے مراد اس آیت کی یہ ہے کہ جس طرح آپ مردوں کو کلام حق سنا کر راہ حق پر نہیں لا سکتے کیونکہ وہ دنیا کے دارالعمل سے آخرت کے دار الجزاء میں منتقل ہوچکے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–26
آیت 25۔ 26
یہ اسی اجمال کی وضاحت ہے۔ فرمایا کہ اگر یہ لوگ تمہاری تکذیب کر رہے ہیں تو یہ کوئی نئی بات نہیں ہے۔ ان سے پہلے جو قومیں کی وضاحت ہے۔ فرمایا کہ اگر یہ لوگ تمہاری تکذیب کر رہے ہیں تو یہ کوئی نئی بات نہیں ہے۔ ان سے پہلے جو قومیں گزری ہیں اسی طرح انہوں نے بھی اپنے اپنے رسولوں کی تکذیب کی۔ یہ روایت پہلے سے چلی آرہی ہے۔ یہ نہ سمجھو کہ پہلی بار تمہاری ہی قوم نے تمہارے ساتھ یہ معاملہ کیا ہے۔ مطلب یہ ہے کہا گریہ صورت حال پہلی بار پیش آئی ہوتی تب تو تمہارے لئے یہ وجہ تشویش ہوسکتی تھی کہ مباد اس میں تمہاری کسی کوتاہی کو دخل ہو لیکن جب ہر رسول کے ساتھ اس کی قوم نے یہی سلوک کیا ہے تو معلوم ہوا…
Read the full tafseer →25۔ 1 تاکہ کوئی قوم یہ نہ کہہ سکے کہ ہمیں تو ایمان اور کفر کا پتہ ہی نہیں اس لئے ہمارے پاس کوئی پیغمبر بھی نہیں آیا بنا بریں اللہ نے ہر امت میں نبی بھیجا۔ جس طرح دوسرے مقام پر بھی فرمایا ولکل قوم ھاد۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–27
7: جن لوگوں نے ضد اور ہٹ دھرمی سے حق بات ماننے کے تمام دروازے اپنے اوپر بند کرلئے ہیں، ان کو پہلے اندھوں سے تشبیہ دی گئی ہے، اور ان کے کفر کو اندھیروں سے، اور اس کی سزا میں انہیں دوزخ کے جس عذاب کا سامنا کرنا پڑے گا اس کو دھوپ سے۔ اس کے مقابلے میں حق پرستوں کو دیکھنے والوں سے، ان کے دین کو روشنی سے، اور جنت کی جو نعمتیں انہیں حاصل ہوں گی، ان کو سائے سے تعبیر کیا گیا ہے۔ پھر فرمایا گیا ہے کہ جن لوگوں نے حق کو قبول کرنے کی صلاحیت ہی ختم کرلی ہے، وہ تو مردوں جیسے ہیں، اور مردوں کو آپ اپنی مرضی سے کچھ سنا نہیں سکتے۔ اس طرح آنحضرت ﷺ کو تسلی دی جا رہی ہے کہ اگر یہ لوگ حق کو قبول نہیں کر رہے تو آپ…
Read the full tafseer →وان یکذبوک فقد ۔۔۔ بالکتب المنیر (35: 25) ” اب اگر یہ لوگ جھٹلاتے ہیں تو ان سے پہلے گزرے ہوئے لوگ بھی جھٹلا چکے ہیں۔ ان کے پاس ان کے رسول کھلے دلائل اور صحیفے اور روشن ہدایات دینے والی کتاب کے کر آئے تھے “۔ بینات سے مراد مختلف قسم کے دلائل ہیں۔ معجزات بھی دلائل ہوتے ہیں۔ یہ لوگ رسول اللہ ﷺ سے معجزات طلب کرتے تھے اور تحدی دیتے تھے۔ الزبر سے مراد متفرق صحیفے ، رسائل اور پمفلٹ ہیں ، جن میں نصیحتیں ، ہدایات اور تکالیف و فرائض ہوتے تھے۔ کتاب منیر سے مراد مطابق قول راجح حضرت موسیٰ کی کتاب تورات ہے۔ لیکن ان کی امت نے کتب الہیہ کی تکذیب کی۔
ہمیشہ اکثر اقوام نے رسولوں اور ان کی ہدایات اور کتابوں کے…
Read the full tafseer →3 یعنی روشن تعلیمات یا کھلے کھلے معجزات لے کر آئے۔ نیز ان میں سے بعض کو مختصر چھوٹے صحیفے دیے گئے بعض کو بڑی مفصل کتابیں۔
Read the full tafseer →آیت 25 { وَاِنْ یُّکَذِّبُوْکَ فَقَدْ کَذَّبَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِہِمْ } ”اور اگر یہ لوگ آپ ﷺ کو جھٹلائیں تو جھٹلا چکے ہیں وہ لوگ بھی جو ان سے پہلے تھے۔“
{ جَآئَ تْہُمْ رُسُلُہُمْ بِالْبَیِّنٰتِ وَبِالزُّبُرِ وَبِالْکِتٰبِ الْمُنِیْرِ } ”ان کے پاس آئے تھے ان کے رسول علیہ السلام واضح نشانیاں ‘ صحیفے اور روشن کتابیں لے کر۔“
آپ ﷺ سے پہلے بہت سے انبیاء و رسل علیہ السلام کو ان کی قومیں جھٹلا چکی ہیں ‘ حالانکہ وہ ان کے پاس بہت واضح معجزات ‘ صحیفے اور کتابیں لے کر آئے تھے۔ سورة الاعلیٰ کی آخری آیت میں حضرت ابراہیم اور حضرت موسیٰ ﷺ کے صحائف کا ذکر ہے جبکہ تین الہامی کتابوں تورات ‘ زبور اور انجیل کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–26
31 بینات کا لفظ معجزات کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے۔ اور ایسے دلائل کے لیے بھی جن سے نبی اپنی نبوت کو ثابت کرسکے۔ صحیفے بمعنی اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل احکام جو عام طور پر پندونصائح اور اخلاقی ہدایات پر مشتمل ہوتے تھے۔ تورات کے نزول سے پہلے سب انبیاء پر صحائف ہی نازل ہوتے رہے۔ حتیٰ کہ موسیٰ پر بھی تورات کے نزول سے پیشتر صحیفے ہی نازل ہوتے رہے اور کتاب منیر سے مراد وہ مفصل کتب الٰہیہ ہیں جو زندگی کے ہر پہلو میں انسان کو روشنی مہیا کرتی ہیں۔ اور یہ چار ہیں۔ تورات، زبور، انجیل اور قرآن۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–26
37۔ (اسی طرح ان کافروں پر بھی ان کے وقت پر عذاب آئے گا) اس قسم کی آیتوں سے (جو قرآن مجید میں بکثرت ہیں) ایک مقصود تو رسول اللہ ﷺ کو تسکین دینا تھا۔ اور دوسرا معاصر کافروں کو یہ بتانا کہ مہلت مل جانے سے بےفکر نہ ہوجائیں۔ اپنے وقت معین پر عذاب کا آنا قطعی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–26
آیت نمبر 15 تا 26
ترجمہ : اے لوگو ! تم ہرحال میں اللہ کے محتاج ہو اور اللہ تو اپنی مخلوق سے بےنیاز ہے اور وہ اپنی مخلوق پہر احسان کی وجہ سے سزاوار حمد ہے اگر وہ چاہے تو تم کو فنا کردے اور تمہاری جگہ ایک نئی مخلوق پیدا کردے اور یہ بات اللہ کے لئے کچھ مشکل نہیں، کوئی بھی گنہ گار شخص دوسرے کے گناہ کا بوجھ نہیں اٹھائے گا، گوجس شخص کو بلایا گیا ہے رشتہ دار ہی کیوں نہ ہو، جیسا کہ باپ اور بیٹا اور دونوں صورتوں میں عدم حمل اللہ کا حکم ہے، آپ تو صرف ان ہی لوگوں کو ڈراسکتے ہیں جو اپنے رب سے غائبانہ ڈرتے ہوں یعنی اس سے ڈرتے ہوں حالانکہ اس کو دیکھا نہیں ہے، اس لئے کہ یہی لوگ تنبیہ سے فائدہ اٹھانے والے…
Read the full tafseer →وان یکذبوک . اور (اے محمد ﷺ آپ کو جھوٹا قرار دے رہے ہیں (تو آپ اس کا رنج نہ کریں اور ان کی طرف سے اذیت پر صبر کریں جس طرح آپ سے پہلے انبیاء نے صبر کیا) ۔
فقد کذب الذین من قبلھم جاء تھم رسلھم بالبینٰت وبالزبر وبالکتب المنیر . کیونکہ ان
سے پہلے لوگوں نے بھی تکذیب کی تھی جب ان کے پیغمبر کھلے کھلے معجزات اور صحیفے اور روشن کتاب کے ساتھ ان کے پاس پہنچے تھے۔
البینات کھلے کھلے معجزات اور صحیفے اور روشن کتاب کے ساتھ۔
الکتاب المنیر روشن کتاب جیسے توریت اور انجیل ‘ یعنی ہر پیغمبر الگ الگ معجزہ اور کتاب کے ساتھ آیا۔
Read the full tafseer →اور محمد اگر قریش آپ کو جھٹلائیں تو جو لوگ آپ کی قوم سے پہلے گزرے ہیں انہوں نے بھی اپنے رسولوں کو جھٹلایا تھا اور وہ پیغمبر ان کے پاس اوامرو نواہی معجزات اور پہلے صحیفوں کی خبر اور حلال و حرام کو واضح کردینے والی کتاب لے کر آئے تھے۔
Read the full tafseer →وَاِنْ يُّكَذِّبُوْكَ فَقَدْ كَذَّبَ الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ : اس میں رسول اللہ ﷺ کو مزید تسلی دی ہے۔ یعنی اگر یہ لوگ تجھے جھٹلا دیں تو غم یا افسوس کی ضرورت نہیں، یہ کوئی نئی بات نہیں، نہ آپ پہلے رسول ہیں جسے جھٹلایا گیا ہو، بلکہ آپ سے پہلے لوگوں کے پاس بھی کئی رسول آئے اور آپ سے پہلے لوگوں نے بھی اپنے رسولوں کو جھٹلایا۔
جَاۗءَتْهُمْ رُسُلُهُمْ بالْبَيِّنٰتِ وَبِالزُّبُرِ وَبِالْكِتٰبِ الْمُنِيْرِ : یہاں ایک سوال ہے کہ ”اَلْکِتَابُ الْمُنِیْرُ“ ”اَلزُّبُرُ“ میں بھی داخل ہے اور ”اَلْبَیِّنَاتُ“ میں بھی، تو پھر عطف ڈال کر اسے الگ کیوں ذکر کیا گیا ؟ بعض اہل علم نے اس کا جواب دیا کہ تینوں…
Read the full tafseer →آیت : وان یکذبوک مراد قریش کے کفار ہیں یعنی قریش کے کفار تمہیں جھٹلائیں۔
آیت : فقد کذب الذین من قبلھم جو ان سے پہلے ہو گزرے ہیں انہوں نے بھی اپنے انبیا کو جھٹلایا۔ اللہ تعالیٰ اپنے رسول کو تسلی دے رہا ہے۔ آیت : جاء تھم رسلھم بالبینت ان کے پاس ان کے رسول ظاہر معجزات اور واضح شرعی احکامات لائے۔ آیت : ونالذبر سے مراد لکھی ہوئی کتب ہیں۔ آیت : و بالکتب المنیر سے مراد واضع کتاب ہے۔ زبر اور کتاب کو مکرر ذکر کیا کیونکہ لفظ مختلف ہیں جب کے دونوں ایک چیز ہیں۔ ایک قول یہ کیا گیا : بینات، زبر اور کتاب سب ایک معنی کی طرف راجع ہیں۔ اس سے وہ کتب مراد ہیں جو انبیاء پر نازل ہوئیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–26
(آیت) ” وما یستوی الاحیآء ولا الا موات “ سے مراد ہے مؤمن اور کافر، ان اللہ یسمع من یشآء “ (اللہ تعالیٰ سنتا ہے جس کو چاہتا ہے) یعنی ہدایت دیتا ہے جس کو چاہتا ہے۔
سماع موتی کا مسئلہ :
10:۔ ابوسہل السری بن سہل الجندب بوری الخامس نے اپنی حدیث میں عبدالقدوس کے طریق سے احمد ابوصالح سے ابن عباس ؓ سے (آیت) ” انک لا تسمع الموتی “ (الروم آیت 52) (یہ آپ مردوں کو نہیں سنا سکتے) اور (آیت) ” وما انت بمسمع من فی القبور “ (اور آپ ان لوگوں کو سنانے والے نہیں ہیں جو قبروں میں مدفون ہیں) کہ بارے میں روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ بدر کے دن مقتولین پر کھڑے ہوئے اور فرمایا (آیت) ” ھل وجدتم ماوعدربکم حقا “ یا فلاں بن…
Read the full tafseer →وَاِنْ يُّكَذِّبُوْكَ [اور اگر یہ لوگ جھٹلاتے ہیں آپ ﷺ کو ] فَقَدْ كَذَّبَ [تو جھٹلا چکے ہیں ] الَّذِيْنَ [وہ لوگ جو ] مِنْ قَبْلِهِمْ ۚ [ان سے پہلے تھے ] جَاۗءَتْهُمْ رُسُلُهُمْ [آئے ان کے پاس ان کے رسول ] بِالْبَيِّنٰتِ [واضح (نشانیوں) کے ساتھ ] وَبِالزُّبُرِ [اور صحیفوں کے ساتھ ] وَبِالْكِتٰبِ الْمُنِيْرِ [اور روشن کتاب کے ساتھ ] ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–26
سب اللہ کے محتاج ہیں، قیامت کے دن کوئی کسی کا بوجھ نہ اٹھائے گا، بینا اور نابینا، اندھیریاں اور روشنی، زندہ اور مردہ برابر نہیں، ہر امت میں نذیر بھیجا گیا ہے
یہ پورے ایک رکوع کا ترجمہ ہے جس میں بہت سے امور پر تنبیہ فرمائی ہے اور متعدد نصیحتیں فرمائیں۔
اولاً یہ فرمایا کہ اے لوگو تم سب اللہ ہی کے محتاج ہو، اللہ تعالیٰ غنی ہے جسے کسی چیز کی حاجت نہیں ہے، کوئی بھی ایمان لانے والا اور اس کی عبادت کرنے والا یہ نہ سمجھے کہ اسے میری حاجت اور ضرورت ہے، بلکہ یہ سمجھ کر اس کی عبادت کرے کہ مجھے اسے راضی کرنے کی حاجت ہے، وہ غنی ہے، بےنیاز ہے اور ہر تعریف کا مستحق ہے، وہ ہر عیب سے پاک ہے اور صفات جلیلہ سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–26
ذکر فقرواحتیاج بشرواستغنا خداوند بر وبحر
قال اللہ تعالی۔ یایھا الناس انتم الفقراء الی اللہ۔۔۔ الی۔۔۔ فکیف کان نکیر۔
(ربط) اوپر سے منکرین توحید کا رد چلا آرہا ہے اب یہ بتلاتے ہیں کہ یہ لوگ متکبر اور مغرور ہیں اور دراہم معدودہ کے نشہ کے میں چور ہیں اور خدا کی پکڑ سے بےفکر ہیں اور اس کی یاد سے دور ہیں۔ اور یہ نہیں سمجھتے کہ کل عالم اپنے وجود میں اور اپنی بقاء میں اللہ کا محتاج ہے اور خاص کر انسان تو سب سے زیادہ حاجتوں میں جکڑا ہوا ہے اور خداوند ذوالجلال۔ غنی مطلق اور بےنیاز مطلق ہے جب چاہے پکڑ سکتا ہے اللہ کو نہ کسی کے مال و دولت کی حاجت ہے اور نہ کسی کی عبادت کی حاجت ہے۔ وہ سب سے بےنیاز ہے پس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–25
25:۔ ان انت الخ : آپ کو ہم نے دین حق اور پیغام توحید دے کر اور بشیر و نذیر بنا کر بھیجا ہے۔ آپ کا کام پیغام حق پہنچانا۔ ماننے والوں کو خوشخبری دینا اور منکرین کو عذاب سے ڈرانا ہے۔ منوانا آپ کا کام نہیں۔ اسی طرح ہر امت میں ڈرانے والے ہوئے ہیں۔ وان یکذبوک الخ : یہ آنحضرت ﷺ کے لیے تسلی ہے۔ اگر مشرکین عرب ضد وعناد سے آپ کی تکذیب کرتے ہیں اور دعوت توحید کو نہیں مانتے تو آپ غم نہ کریں۔ گذشتہ قوموں نے بھی اپنے پیغمبروں کے ساتھ یہی سلوک کیا ہے۔ ان کے پاس انبیاء (علیہم السلام) معجزات، صحیفے اور کتابیں لے کر آئے لیکن انہوں نے پھر بھی نہ مانا من الامم العاتیۃ فلا تحزن من تکذیب ھؤلاء ایاک (روح ج 22 ص…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–26
ربط آیات
گزشتہ آیات میں مشرکین کا رد تھا۔ نیز ساری مخلوق کے احتیاج اور اللہ تعالیٰ کی بےنیازی کا ذکر تھا۔ اس بنا پر تمام حاجات اللہ وحدہ لاشریک سے طلب کرنی چاہئیں اور اسی کی عبادت کرنی چاہئے۔ اللہ تعالیٰ قادر مطلق ہے ، وہ چاہے تو ساری مخلوق کو صفحہ ہستی سے نابود کرکے اس کی جگہ دوسری مخلوق کو لے آئے۔ لہٰذا ہر انسان کو محاسبہ اعمال کی فکر کرنی چاہئے۔ قیامت والے دن کوئی عزیز ترین رشتہ دار بھی کسی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔ اللہ نے حضور ﷺ کو مخاطب کرکے فرمایا کہ آپ ایسے لوگوں کو ڈراتے ہیں جو خدا تعالیٰ سے بن دیکھے ڈرمتے ہیں اور اس پر ایمان رکھتے ہیں۔ وہ لوگ نماز پڑھتے ہیں اور ظاہری و باطنی…
Read the full tafseer →وَاِنْ يُّكَذِّبُوْكَ فَقَدْ كَذَّبَ الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِہِمْ 0ۚ جَاۗءَتْہُمْ رُسُلُہُمْ بِالْبَيِّنٰتِ وَبِالزُّبُرِ وَبِالْكِتٰبِ الْمُنِيْرِ 25
كذب
وأنه يقال في المقال والفعال، قال تعالی:
إِنَّما يَفْتَرِي الْكَذِبَ الَّذِينَ لا يُؤْمِنُونَ [ النحل/ 105] ،
( ک ذ ب ) الکذب
قول اور فعل دونوں کے متعلق اس کا استعمال ہوتا ہے چناچہ قرآن میں ہے ۔ إِنَّما يَفْتَرِي الْكَذِبَ الَّذِينَ لا يُؤْمِنُونَ [ النحل/ 105] جھوٹ اور افتراء تو وہی لوگ کیا کرتے ہیں جو خدا کی آیتوں پر ایمان نہیں لاتے
جاء
جاء يجيء ومَجِيئا، والمجیء کالإتيان، لکن المجیء أعمّ ، لأنّ الإتيان مجیء بسهولة، والإتيان قد يقال…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–26
ترکیب : بالحق متعلق بارسلنا و یمکن ان یکون حالا اے متلبسا بالحق، وکذا بشیرا و نذیرا حالان ویمکن ان یکونا مفعولا لا جلہ۔ وان یکذبوک شرط و جواب محذوف اے فاصبر کما صبر الانبیاء فقد کذب الخ دلیل لہ، زبر جمع زبور بالفتح، قال فی الصراح زبر بالکسر بنشتہ زبور بضم ج و بالفتح بنشتہ وھو فعول بمعنی مفعول و کتاب دائود ( علیہ السلام) انتہٰی۔
تفسیر ہر ملک میں نبی آتے ہیں : جبکہ یہ فرمایا تھا کہ ان انت الا نذیر اس کے بعد یہ بھی فرمایا۔ انا ارسلنک بالحق بشیرا و نذیرا کہ اے نبی آپ اپنی طرف سے نذیر نہیں بن گئے ہیں بلکہ ہم نے آپ کو بشیر و نذیر بناکر بھیجا ہے اور یہ کوئی نئی بات نہیں ہے۔ وان من امۃ الاخلا…
Read the full tafseer →وَاِنْ یُّکَذِّبُوْکَ فَقَدْ کَذَّبَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِہِمْج جَآئَ تْہُمْ رُسُلُہُمْ بِالْـبَـیِّـنٰتِ وَبِالزُّبُرِ وَبِالْـکِتٰبِ الْمُنِیْرِ ۔ (فاطر : 25)
(اگر یہ لوگ آپ کو جھٹلاتے ہیں تو ان سے پہلے جو لوگ ہوئے ہیں انھوں نے بھی جھٹلایا، ان کے پاس ان کے رسول واضح دلائل اور صحیفے اور روشن کتاب لے کر آئے تھے۔ )
مکذبین کی تکذیب پر تاریخ سے استدلال
گزشتہ آیت کے مضمون کو آگے بڑھاتے ہوئے فرمایا کہ اگر یہ لوگ آپ کی تکذیب کررہے ہیں تو یہ کوئی نئی بات نہیں۔ ان سے پہلے جو قومیں گزری ہیں ان کے پاس جب اللہ تعالیٰ کے رسول ہدایت لے کر آئے تو انھوں نے بھی اسی طرح اپنے رب کے رسولوں کی تکذیب کی۔ تو اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–26
فہم القرآن
ربط کلام : توحید و رسالت کا پیغام واضح ہوجانے کے باوجود اگر کفار آپ کو جھٹلاتے ہیں تو اے پیغمبر ﷺ ! یہ واقعہ صرف آپ کے ساتھ ہی پیش نہیں آیا۔ آپ سے پہلے لوگوں کے ساتھ بھی یہی کچھ ہوتا رہا ہے۔
نبی کریم ﷺ جس قدر محنت اور دلسوزی کے ساتھ لوگوں کو سمجھاتے۔ لوگ اسے قبول کرنے کی بجائے اتنی سختی کے ساتھ مخالفت کا اظہار کرتے۔ اس صورت حال پر دل گرفتہ ہونا انسانی فطرت کا تقاضا ہے جس بنا پر آپ ﷺ افسردہ خاطر ہوجاتے۔ قرآن مجید میں آپ کی ڈھارس اور تسلی کے لیے کئی انداز اختیار کیے گئے ہیں۔ جن میں سے ایک انداز یہ بھی ہے کہ اے نبی ﷺ ! آپ کو حد سے زیادہ دل گر فتہ نہیں ہونا چاہیے کیونکہ آپ سے پہلے…
Read the full tafseer →25: وَاِنْ یُّکَذِّبُوْکَ فَقَدْ کَذَّبَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِھِمْ (اور اگر یہ لوگ آپ کو جھٹلائیں تو جو لوگ ان سے پہلے ہو گزرے ہیں انہوں نے بھی اپنے رسولوں کو جھٹلایا تھا) ۔ جَآ ئَ تْہُمْ رُسُلُھُمْ (ان کے رسول ان کے پاس لائے)
نحو : یہ حال ہے اور قد مضمر ہے۔
بِالْبَیِّنٰتِ (دلائل) معجزات وَبِالزُّبُرِ (اور صحیفے) وَ بِالْکِتٰبِ الْمُنِیْرِ (اور روشن کتابیں) یعنی تورات، انجیل، زبور۔ جب یہ اشیاء جنس انبیاء (علیہم السلام) میں پائی گئیں۔ اسی لئے لانے کی نسبت مطلقًا تمام انبیاء (علیہم السلام) کی طرف کردی۔ اگرچہ بعض چیزیں ان تمام میں پائی جاتی تھیں۔ اور وہ واضح دلائل ہیں اور بعض بعض انبیاء (علیہم…
Read the full tafseer →25، وان یکذبوک فقد کذب الذین من قبلھم جاء تھم رسلھم بالبینت وبالزبر، اس سے مراد آسمانی کتابیں ہیں ۔ ، وبالکتاب المنیر،
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–26
24 تا 26۔ آنحضرت ﷺ کے ذکر کے ساتھ خوشخبری دینے والا اور ڈرانے والا اور اور انبیاء کے ذکر میں فقط ڈرانیوالا اس واسطے فرمایا کہ صاحب شریعت انبیاء کی ابتدا حضرت نوح (علیہ السلام) سے شروع ہو کر حضرت شعیب بلکہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے زمانہ تک ڈرانے کے طور پر جو کچھ انبیاء نے اپنی امتوں سے کہا تھا اسی کا ظہور زیادہ ہوتا رہا یہ سب عام امتیں عذاب الٰہی سے ہلاک ہوتی رہیں اور بہت تھوڑے لوگ ان میں سے راہ راست پر آئے آنحضرت ﷺ کی امت میں سے اکثر لوگ مسلمان ہوئے اور تھوڑے نافرمانی سے غارت ہوئے اس لیے آپ کے ذکر میں آپ کو دونوں صفتوں کا ذکر فرما کر اللہ تعالیٰ نے آپ کی تسکین فرمادی ہے کہ آپ کی امت کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–25
آیت 24
اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ حکمت الٰہی اور اس نے اپنے بندوں کو فطرت عطا کی ہے، ان کے لحاظ سے اضداد برابر نہیں ہوتیں، فرمایا : (وما یستوی الاعمی) ” اور نہیں ہے برابر اندھا “ جس کی بینائی نہیں۔ (آیت) ” اور دیکھنے والا، نہ انندھیرے اور روشنی، نہ سایہ اور دھوپ (برابر ہیں) اور نہ زندے اور مردے یکساں ہوتے ہیں۔ “ جیسا کہ تمہارے نزدیک بھی یہ ایک تسلیم شدہ حقیقت اور کسی شک و شب ہے سے پاک ہے کہ مذکورہ بالا تمام چیزیں برابر نہیں ہیں، تب تمہیں یہ حقیقت بھی معلوم ہونی چاہیے کہ معنوی طور پر متضاد اشیا میں عدم مساوات زیادہ اولیٰ ہے۔
پس مومن اور کافر برابر نہیں ہیں، نہ ہدایت یافتہ اور گمراہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–27
حانث نہ ہونے کی صورتیں
قول باری ہے (ومن کل تاکلون لحما طریاو تستخرجون حلیۃ تلبسونھا اور ہر ایک سے تم تازہ گوشت کھاتے ہو اور زیور نکالتے ہو جسے تم پہنتے ہو) حلیہ سے یہاں موتی اور وہ چیزیں مراد ہیں جو سمندر سے نکالی جاتی ہیں اور بطور زیور انہیں پہنا جاتا ہے۔
اگر کوئی عورت زیور نہ پہننے کی قسم کھالے تو اس قسم کے بارے میں فقہاء کے مابین اختلاف رائے ہے۔ امام ابوحنیفہ کا قول ہے کہ تنہا موتی زیور نہیں کہلاتے جب تک ان کے ساتھ سونا نہ ہو۔
کیونکہ قول باری ہے (ومما یوقدون علیہ فی النار ابتغآء حلیۃ او متاع اور جن چیزوں کو زیور یا (اور) اسباب بنانے کی غرض سے آگ کے اندر تپاتے ہیں) یہ بات سونے میں ہوتی ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–25
56 پیغمبر کا کام انذار وتبشیر اور بس : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " ہم نے آپ کو بھیجا خوشخبری سنانے والا اور خبردار کرنے والا بنا کر " یعنی حق کو منوانا اور اس کے قبول پر مجبور کرنا نہ تو آپ ﷺ کے ذمے ہے اور نہ ہی یہ آپ ﷺ کے بس میں ہے۔ آپ ﷺ کا کام تو حق کو صاف صاف پہنچا دینا ہے۔ اور ماننے والوں کو خوشخبری سنا دینا اور نہ ماننے والوں کو خبردار کردینا ہے اور بس۔ معلوم ہوا کہ نبی مختار کل نہیں ہوتا جس طرح کہ اہل بدعت کا کہنا اور ماننا ہے کہ مختار کل تو اللہ پاک ہی کی ذات اقدس و اعلیٰ ہے۔ پیغمبر کا کام ہے ابلاغ و تبلیغ اور انذاز وتبشیر اور بس ۔ اِنْ عَلَیْکَ اِلّا الْبَلاغُ وَ عَلَیْنَا الْحِسَابُ ۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–45
سچ تو یہ ہے جو اللہ نے اعلان کیا ہے
تشریح : ان آیات کی وضاحت کیا کی جائے یہ تو بذات خود علم و عرفان اور کلام الٰہی کی انتہائی آسان اور عام فہم مضمون کا مجموعہ ہیں۔ اہل علم کو معلوم ہے کہ مومن کو آنکھوں والا، زندہ اور نور سے تشبیہ دی گئی ہے جبکہ کافر کو اندھا، تاریکی اور مردہ کہا گیا ہے۔ پھر کفار کی ایک خاص خصلت کا ذکر کیا گیا ہے کہ وہ اتنا ہٹ دھرم اور ضد کا پکا ہوتا ہے کہ ہمیشہ نبیوں کو جھٹلاتا رہتا ہے اس لیے سیدنامحمد ﷺ کو بار بار یہ تاکید کی گئی ہے کہ آپ ان کی ضد پر پریشان نہ ہوا کریں بس آپ ان کو سمجھاتے رہیں ان سے نمٹنا اللہ کا کام ہے۔ بار بار کفار کے لیے دوزخ اور مومن کے لیے جنت کا اعلان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–26
رکوع نمبر 3 ۔ آیات 15 تا 26:
اسرار و معارف :
لوگو تمہارے بس میں تو کچھ بھی نہیں تمہارا سارا سرمایہ صرف احتیاج ہے اپنے وجود اپنی ذات اپنے اوصاف میں تم ہر طرح سے محتاج ہو اور اللہ ایسا بےنیاز نہ اسے تمہاری احتیاج ہے اور نہ ہی کسی اور کی بلکہ وہ ہی ایسا کامل ہے جسے ہر تعریف سزاوار ہے بھلا تم اس کی ناشکری اور کفر کا راستہ اپناتے جو اس قدر بےنیاز اور قادر ہے کہ چاہے تو ایک آن میں تم سب کو تباہ اور نابود کردے اور تمہاری جگہ ایک نئی مخلوق پیدا کردے کہ یہ اس کے لیے کچھ بھی مشکل نہیں یہ اس کی شان کریمی ہے کہ تمہیں باوجود تمہاری نافرمانیوں کے مہلت دے رکھی ہے مگر اس کا یہ مطلب بھی نہیں کہ تمہیں کوئی…
Read the full tafseer →ف 13 صحیفوں سے مراد غالباً وہ کتابیں ہیں جو زیادہ تر نصائح اور اخلاقی ہدایات پر مشتمل تھیں۔ جیسے حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) کے صحیفے اور چمکتی کتاب سے مراد وہ کتاب ہے جس میں شرعی احکام کا ذکر تھا جیسے توراۃ۔ واللہ اعلم۔ ( شوکانی) مطلب یہ ہے کہ اگر تیری قوم تجھ کو جھٹلائے تو اس پر غمگین نہ ہو، اس لئے کہ یہ مصیبت کچھ خاص تجھی پر نہیں ہے تیرے ساتھیوں کے ساتھ بھی یہی کام ہوتا ہے حالانکہ ان میں سے کسی کو معجزات، کسی کو صحیفے اور کسی کو روشن کتاب دیکر بھیجا گیا تھا مگر وہ صبر کرتے رہے اور انجام کار جھٹلانے والے سخت عذاب میں پکڑے گئے اور تجھ کو یہ تمام چیزیں ایک ساتھ دیکر بھیجا گیا۔ ( فوائد سلیفہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–27
(35:25) ان یکذبوک۔ میں ان شرطیہ ہے۔ یکذبوا۔ اصل میں یکذبون تھا۔ مضارع کا صیغہ جمع مذکر غائب بوجہ عمل ان نون اعرابی گرگیا۔ ک ضمیر مفعول واحد مذکر حاضر۔ یہاں خطاب رسول کریم ﷺ سے ہے۔ اور ضمیر فاعل کفار مکہ کی طرف راجع ہے۔ اگر یہ لوگ (کفار مکہ) آپ کو جھٹلاتے ہیں۔
اس کے بعد جواب شرط محذوف ہے۔ ای فاصبر کما صبرا الانبیاء من قبلک۔ آپ صبر کریں جس طرح آپ سے پہلے انبیا (علیہم السلام ) نے صبر کیا۔
فقد کذب الذین من قبلہم۔ میں الذین من قبلہم فاعل ہے کذب کا۔ اور قبلہم (مضاف مضاف الیہ) میں ہم ضمیر جمع مذکر غائب کا مرجع کفار مکہ کی طرف راجع ہے۔ یعنی جو لوگ ان (کفار مکہ سے پہلے تھے وہ بھی تکذیب کرچکے ہیں (اپنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–26
لغات القرآن : آیت نمبر 15 تا 26
فقرائ ( محتاج ، ضرورت مند) الغنی ( بےنیاز ، جو کسی کا محتاج نہ ہو) الحمید (جس کی ذات میں ہر طرح کی خوبیاں موجود ہوں) لا تزر (بوجھ نہیں اٹھاتا ہے) مثقلۃ ( لدا ہوا بوجھ) حمل (بوجھ) مسمع ( سنانے والا) خلا (گزر گیا) زبر (صحیفے ، کتابیں) نکیر (عذاب)
تشریح : آیت نمبر 15 تا 26 :۔ انسان کی سب سے بڑی بھول اور نادانی یہ ہے کہ وہ اپنی حاجتوں اور ضرورتوں کے لئے ایک اللہ کو چھوڑ کر بہت سی ایسے کمزور اور ناقابل اعتبار سہاروں میں زندگی گزارنے کی کوشش کرتا ہے جن کی کوئی حیثیت اور اہمیت نہیں ہوتی اور اس طرح وہ زندگی بھر گمراہی کے اسی دائرے میں گھومتا رہتا ہے۔ ایسے نادانوں سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–26
(ف 1) ان آیتوں میں فرمایا، اے محبوب ﷺ ہم نے تم کو سچا دین دے کر ان لوگوں کے واسطے جو اس کا مانیں خوش خبری دینے والابھیجا ہے اور جو اس کو نہ مانیں ان کا ڈرانے والا، اور کوئی امت ایسی نہیں ہے جس میں کوئی نبی اس امت کا ڈرانے والانہ گزرا ہو اور اگر مشرکین آپ کی تکذیب کریں تو ان سے پہلے لوگوں نے بھی تو اپنے اپنے نبی کی تکذیب کی تھی، باوجودیکہ وہ انبیاء ان کے پاس ظاہر دلیلیں یعنی معجزے اور صحیفے اور روشن کتاب لے کر آئے تھے پھر بھی انہوں نے انکار کیا، تو جیسے ان انبیاء نے صبر کیا آپ بھی صبر کیجئے پھر ان کافروں کو جنہوں نے انبیاء کی تکذیب کی تھی ان کی تکذیب کی وجہ سے ہم نے عذاب میں گرفتار کیا سو میرا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–28
[13] یعنی جس طرح نباتات، جمادات اور حیوانات میں رنگ برنگ کی مخلوق ہے اس طرح انسانوں میں بھی ہر ایک کی طرح جدا ہے۔ یہ کب ہوسکتا ہے کہ سب انسان ایک طرح کے ہوجائیں اور مومن و کافر سب یکساں ہوجائیں۔ اس آیت میں آپ ﷺ کو تسلی دی گئی کہ لوگوں کے اختلاف سے غمگین نہ ہوں۔
[14] یہاں علم سے مراد دنیوی علوم نہیں بلکہ اللہ کی عظمت اور اس کی صفات کا علم ہے جس شخص کو اللہ کی عظمت وصفات کی جتنی معرفت ہوگی اتنا ہی وہ اس کی نافرمانی سے ڈرے گا۔ نیز اس آیت میں '' علمائ '' سے وہ اصطلاحی علماء مراد نہیں ہیں جو قرآن و حدیث اور فقہ کا علم رکھنے کی بناء پر علمائے دین کہے جاتے ہیں۔ وہ اس آیت کے مصداق صرف اسی صورت میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–25
ف 2: اس آیت میں وحدت تعلیم کے نظریہ کو پیش کیا گیا ہے ۔ کہ اللہ تعالیٰ نے ہر زمانے اور ہر قریہ میں اپنے پیغمبروں کو معبوث فرمایا ہے ۔ اور اپنے پیغام کو ان تک پہنچایا ہے ۔
حل لغات :۔ الحرور ۔ تمازت ۔ دھوپ ۔
Read the full tafseer →(25) اور اگر یہ لوگ آپ کی تکذیب کریں اور جھوٹ آپ کی طرف منسوب کریں تو جو لوگ ان سے پہلے ہو گزرے ہیں وہ بھی یقینا تکذیب کا ارتکاب کرچکے ہیں اور اپنے زمانے کے نبیوں کو جھٹلا چکے ہیں۔ حالانکہ ان کے پاس بھی ان کے پیغمبر نشانیاں یعنی معجزے اور صحیفے یعنی چھوٹی کتابیں اور اوراق اور روشن کتابیں لے کر آئے تھے۔ یعنی پہلوں کا بھی طرز عمل یہی رہا ہے کہ اپنے اپنے زمانے کے نبیوں کو جھوٹا بناتے رہے ہیں حالانکہ انبیاء ہر قسم کے دلائل اور چھوٹی کتابیں اور بڑی بڑی روشن کتابیں لے کر آئے تھے لیکن باوجود اس کے ان امتوں نے پیغمبروں کی تکذیب کی اور ان کو جھوٹا ہی بتاتے رہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–27
ف 4۔ جب یہ مردے ہیں، تو مردوں کو زندہ کرنا خدا کی قدرت میں ہے بندہ کی قدرت میں نہیں۔
Read the full tafseer →آپ ﷺ کو جھٹلایا گیا ہے تو آپ ﷺ سے پہلے رسولوں کو بھی جھٹلایا گیا تھا
25 ۔ نبی کریم ﷺ کو تسلی دی جارہی ہے کہ اگر قریش مکہ نے آپ ﷺ کو جھٹلادیا ہے ، آپ ﷺ کی تعلیمات کو قبول نہیں کیا تو اس کے معنی یہ نہیں کہ آپ ﷺ کے پاس حق نہیں ہے بلکہ یہ اس بات کی تصدیق ہے کہ آپ ﷺ حق لے کر آئے ہیں کیونکہ حق ہی وہ چیز ہے جو قبول کرنا مشکل ہے اور آپ ﷺ سے پہلے جتنے انبیاء ورسل ہم نے بھیجے ان سب کو ان کی قوموں نے جھٹلایا حالانکہ وہ رسول بھی روشن دلائل ، آسمانی صحیفے اور نورانی کتابیں لے کر اپنی اپنی قوموں کے پاس گئے تھے۔ یہ مضمون قبل ازیں عروۃ الوثقی ، جلد دوم میں سورة آل عمران کی آیت 184 ، جلد سوم میں سورة الانعام…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–26
At the beginning of the verse: وَمَا أَنتَ بِمُسْمِعٍ مَّن فِي الْقُبُورِ (And you cannot make hear those who are in the graves - 22.), disbelievers have been likened to the dead and believers, to the living. In congruence to this, the expression: (those in the graves) here means the disbelievers. The sense is that 'the way you cannot make the dead hear you, you can also not make these living disbelievers hear you.'
This verse has itself clarified it that, at this place, making someone hear means the kind of listening that is going to be useful, effective and beneficial. Otherwise, the…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–27
46 Clear proofs": Proofs which clearly testified that they were Allah's Messengers.
47 "Scriptures" probably consisted of good counsels and moral precepts and "the Book" comprised a complete code of the law.
Read the full tafseer →