Explained with ayahs 19–26
ایک موازنہ۔
ارشاد ہوتا ہے کہ مومن و کفار برابر نہیں۔ جس طرح اندھا اور دیکھتا۔ اندھیرا اور روشنی، سایہ اور دھوپ، زندہ اور مردہ برابر نہیں۔ جس طرح ان چیزوں میں زمین و آسمان کا فرق ہے اسی طرح ایمان دار اور بےایمان میں بھی بےانتہا فرق ہے۔ مومن آنکھوں والے اجالے، سائے اور زندہ کی مانند ہے۔ برخلاف اس کے کافر اندھے اندھیرے اور بھرپور لو والی گرمی کی مانند ہے۔ جیسے فرمایا (اَوَمَنْ كَانَ مَيْتًا فَاَحْيَيْنٰهُ وَجَعَلْنَا لَهٗ نُوْرًا يَّمْشِيْ بِهٖ فِي النَّاسِ كَمَنْ مَّثَلُهٗ فِي الظُّلُمٰتِ لَيْسَ بِخَارِجٍ مِّنْهَا ۭ كَذٰلِكَ زُيِّنَ لِلْكٰفِرِيْنَ مَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ01202) 6۔ الانعام…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–27
سورة فَاطِر 46
یعنی ایسے دلائل جو اس بات کی صاف شہادت دیتے تھے کہ وہ اللہ کے رسول ﷺ ہیں۔
سورة فَاطِر 47
صحیفوں اور کتاب میں غالباً یہ فرق ہے کہ صحیفے زیادہ تر نصائح اور اخلاقی ہدایات پر مشتمل ہوتے تھے، اور کتاب ایک پوری شریعت لے کر آتی تھی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–26
(آیت) وما انت بمسمع من فی القبور، اس آیت کے شروع میں کفار کی مثال مردوں سے اور مومنین کی زندوں سے دی گئی ہے۔ اسی کی مناسبت سے یہاں من فی القبور سے مراد کفار ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ جس طرح آپ مردوں کو نہیں سنا سکتے ان زندہ کافروں کو بھی نہیں سنا سکتے۔
اس آیت نے خود یہ بات واضح کردی کہ یہاں سنانے سے مراد وہ سنانا ہے جو مفید وموثر اور نافع ہو، ورنہ مطلق سنانا تو کفار کو ہمیشہ ہوتا ہی رہا، اور مشاہدہ میں آتا رہا ہے کہ ان کو تبلیغ کرتے اور وہ سنتے تھے۔ اس لئے مراد اس آیت کی یہ ہے کہ جس طرح آپ مردوں کو کلام حق سنا کر راہ حق پر نہیں لا سکتے کیونکہ وہ دنیا کے دارالعمل سے آخرت کے دار الجزاء میں منتقل ہوچکے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–26
آیت 25۔ 26
یہ اسی اجمال کی وضاحت ہے۔ فرمایا کہ اگر یہ لوگ تمہاری تکذیب کر رہے ہیں تو یہ کوئی نئی بات نہیں ہے۔ ان سے پہلے جو قومیں کی وضاحت ہے۔ فرمایا کہ اگر یہ لوگ تمہاری تکذیب کر رہے ہیں تو یہ کوئی نئی بات نہیں ہے۔ ان سے پہلے جو قومیں گزری ہیں اسی طرح انہوں نے بھی اپنے اپنے رسولوں کی تکذیب کی۔ یہ روایت پہلے سے چلی آرہی ہے۔ یہ نہ سمجھو کہ پہلی بار تمہاری ہی قوم نے تمہارے ساتھ یہ معاملہ کیا ہے۔ مطلب یہ ہے کہا گریہ صورت حال پہلی بار پیش آئی ہوتی تب تو تمہارے لئے یہ وجہ تشویش ہوسکتی تھی کہ مباد اس میں تمہاری کسی کوتاہی کو دخل ہو لیکن جب ہر رسول کے ساتھ اس کی قوم نے یہی سلوک کیا ہے تو معلوم ہوا…
Read the full tafseer →26۔ 1 یعنی کیسے سخت عذاب کے ساتھ میں نے ان کی گرفت کی اور انہیں تباہ و برباد کردیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–27
7: جن لوگوں نے ضد اور ہٹ دھرمی سے حق بات ماننے کے تمام دروازے اپنے اوپر بند کرلئے ہیں، ان کو پہلے اندھوں سے تشبیہ دی گئی ہے، اور ان کے کفر کو اندھیروں سے، اور اس کی سزا میں انہیں دوزخ کے جس عذاب کا سامنا کرنا پڑے گا اس کو دھوپ سے۔ اس کے مقابلے میں حق پرستوں کو دیکھنے والوں سے، ان کے دین کو روشنی سے، اور جنت کی جو نعمتیں انہیں حاصل ہوں گی، ان کو سائے سے تعبیر کیا گیا ہے۔ پھر فرمایا گیا ہے کہ جن لوگوں نے حق کو قبول کرنے کی صلاحیت ہی ختم کرلی ہے، وہ تو مردوں جیسے ہیں، اور مردوں کو آپ اپنی مرضی سے کچھ سنا نہیں سکتے۔ اس طرح آنحضرت ﷺ کو تسلی دی جا رہی ہے کہ اگر یہ لوگ حق کو قبول نہیں کر رہے تو آپ…
Read the full tafseer →ثم اخذت الذین کفروا (35: 26) ” پھر جن لوگوں نے ظلم کیا میں نے ان کو پکڑا “۔ اور ذرا دیکھو یہ پکڑ کیسی تھی۔
فکیف کان نکیر (35: 26) ” دیکھو لو ، میری سزا کیسی سخت تھی “۔ اللہ کی پکڑ بہت سخت تھی اور وہ یہ تھی کہ اللہ نے ان کو ہلاک کرکے رکھ دیا۔ لہٰذا جو لوگ اس راہ پر گامزن ہیں ، انہیں ذرا ڈرانا چاہئے کہ ان کا انجام ایسا ہی نہ ہوجائے۔
یہ ہے قرآنی ٹچ جس کے ساتھ یہ سبق مکمل ہوتا ہے۔ اب ہم ایک دوسری وادی کے لیے رخت سفر باندھتے ہیں۔
Read the full tafseer →4 یعنی جب تکذیب سے باز نہ آئے تو دیکھ لو انجام کیا ہوا وہ ہی تمہارا بھی ہوسکتا ہے۔
Read the full tafseer →آیت 26 { ثُمَّ اَخَذْتُ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا فَکَیْفَ کَانَ نَکِیْرِ } ”پھر میں نے پکڑ لیا ان کو جنہوں نے کفر کیا ‘ تو دیکھ لو کیسی رہی میری سزا ؟“
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–26
31 بینات کا لفظ معجزات کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے۔ اور ایسے دلائل کے لیے بھی جن سے نبی اپنی نبوت کو ثابت کرسکے۔ صحیفے بمعنی اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل احکام جو عام طور پر پندونصائح اور اخلاقی ہدایات پر مشتمل ہوتے تھے۔ تورات کے نزول سے پہلے سب انبیاء پر صحائف ہی نازل ہوتے رہے۔ حتیٰ کہ موسیٰ پر بھی تورات کے نزول سے پیشتر صحیفے ہی نازل ہوتے رہے اور کتاب منیر سے مراد وہ مفصل کتب الٰہیہ ہیں جو زندگی کے ہر پہلو میں انسان کو روشنی مہیا کرتی ہیں۔ اور یہ چار ہیں۔ تورات، زبور، انجیل اور قرآن۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–26
37۔ (اسی طرح ان کافروں پر بھی ان کے وقت پر عذاب آئے گا) اس قسم کی آیتوں سے (جو قرآن مجید میں بکثرت ہیں) ایک مقصود تو رسول اللہ ﷺ کو تسکین دینا تھا۔ اور دوسرا معاصر کافروں کو یہ بتانا کہ مہلت مل جانے سے بےفکر نہ ہوجائیں۔ اپنے وقت معین پر عذاب کا آنا قطعی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–26
آیت نمبر 15 تا 26
ترجمہ : اے لوگو ! تم ہرحال میں اللہ کے محتاج ہو اور اللہ تو اپنی مخلوق سے بےنیاز ہے اور وہ اپنی مخلوق پہر احسان کی وجہ سے سزاوار حمد ہے اگر وہ چاہے تو تم کو فنا کردے اور تمہاری جگہ ایک نئی مخلوق پیدا کردے اور یہ بات اللہ کے لئے کچھ مشکل نہیں، کوئی بھی گنہ گار شخص دوسرے کے گناہ کا بوجھ نہیں اٹھائے گا، گوجس شخص کو بلایا گیا ہے رشتہ دار ہی کیوں نہ ہو، جیسا کہ باپ اور بیٹا اور دونوں صورتوں میں عدم حمل اللہ کا حکم ہے، آپ تو صرف ان ہی لوگوں کو ڈراسکتے ہیں جو اپنے رب سے غائبانہ ڈرتے ہوں یعنی اس سے ڈرتے ہوں حالانکہ اس کو دیکھا نہیں ہے، اس لئے کہ یہی لوگ تنبیہ سے فائدہ اٹھانے والے…
Read the full tafseer →ثم اخذت الذین کفروا فکیف کان نکیر پھر میں نے ان کافروں کو پکڑ دھرا ‘ سو (دیکھ لو) میرا عذاب کیسا ہوا۔
Read the full tafseer →نتیجہ یہ ہوا کہ میں نے ان کافروں کو پکڑ لیا سو آپ دیکھیے کہ جب وہ ایمان نہ لائے تو میں نے عذاب سے ان کو کیسا تہ وبالا کیا۔
Read the full tafseer →ثُمَّ اَخَذْتُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا۔۔ : نبی ﷺ کو تسلی دینے کے بعد آپ کی نافرمانی کرنے والوں اور ایمان نہ لانے والوں کو دھمکی اور ڈانٹ کے لیے فرمایا کہ پھر ان رسولوں پر ایمان نہ لانے والوں کو میں نے پکڑ لیا، تو میرا عذاب کیسا تھا ؟ اسی طرح اگر یہ لوگ آپ پر ایمان نہ لائے تو میرا عذاب ان سے بھی کچھ دور نہیں۔
Read the full tafseer →آیت : ثم اخذت الذین کفروا فکیف کان نکیر میری ان کو سزا کیسی تھی ؟ ورش نے نافع سے جو روایت نقل کی ہے اور شیبہ نے نکیری میں یاء کو ثابت رکھا ہے جب وہ وصل میں واقع ہو وقف میں اسے ثابت نہیں رکھا، یعقوب نے اسے دونوں حالتوں میں اسے ثابت رکھا ہے۔ باقی قراء نے دونوں حالتوں میں اسے حذف کردیا ہے۔ یہ تمام بحث گزر چکی ہے۔ الحمدللہ
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–26
(آیت) ” وما یستوی الاحیآء ولا الا موات “ سے مراد ہے مؤمن اور کافر، ان اللہ یسمع من یشآء “ (اللہ تعالیٰ سنتا ہے جس کو چاہتا ہے) یعنی ہدایت دیتا ہے جس کو چاہتا ہے۔
سماع موتی کا مسئلہ :
10:۔ ابوسہل السری بن سہل الجندب بوری الخامس نے اپنی حدیث میں عبدالقدوس کے طریق سے احمد ابوصالح سے ابن عباس ؓ سے (آیت) ” انک لا تسمع الموتی “ (الروم آیت 52) (یہ آپ مردوں کو نہیں سنا سکتے) اور (آیت) ” وما انت بمسمع من فی القبور “ (اور آپ ان لوگوں کو سنانے والے نہیں ہیں جو قبروں میں مدفون ہیں) کہ بارے میں روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ بدر کے دن مقتولین پر کھڑے ہوئے اور فرمایا (آیت) ” ھل وجدتم ماوعدربکم حقا “ یا فلاں بن…
Read the full tafseer →ثُمَّ اَخَذْتُ الَّذِيْنَ [پھر میں نے پکڑا ان کو جنہوں نے ] كَفَرُوْا [انکار کیا ] فَكَيْفَ كَانَ [تو کیسا تھا ] نَكِيْرِ [میرا عدم عرفان ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–26
سب اللہ کے محتاج ہیں، قیامت کے دن کوئی کسی کا بوجھ نہ اٹھائے گا، بینا اور نابینا، اندھیریاں اور روشنی، زندہ اور مردہ برابر نہیں، ہر امت میں نذیر بھیجا گیا ہے
یہ پورے ایک رکوع کا ترجمہ ہے جس میں بہت سے امور پر تنبیہ فرمائی ہے اور متعدد نصیحتیں فرمائیں۔
اولاً یہ فرمایا کہ اے لوگو تم سب اللہ ہی کے محتاج ہو، اللہ تعالیٰ غنی ہے جسے کسی چیز کی حاجت نہیں ہے، کوئی بھی ایمان لانے والا اور اس کی عبادت کرنے والا یہ نہ سمجھے کہ اسے میری حاجت اور ضرورت ہے، بلکہ یہ سمجھ کر اس کی عبادت کرے کہ مجھے اسے راضی کرنے کی حاجت ہے، وہ غنی ہے، بےنیاز ہے اور ہر تعریف کا مستحق ہے، وہ ہر عیب سے پاک ہے اور صفات جلیلہ سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–26
ذکر فقرواحتیاج بشرواستغنا خداوند بر وبحر
قال اللہ تعالی۔ یایھا الناس انتم الفقراء الی اللہ۔۔۔ الی۔۔۔ فکیف کان نکیر۔
(ربط) اوپر سے منکرین توحید کا رد چلا آرہا ہے اب یہ بتلاتے ہیں کہ یہ لوگ متکبر اور مغرور ہیں اور دراہم معدودہ کے نشہ کے میں چور ہیں اور خدا کی پکڑ سے بےفکر ہیں اور اس کی یاد سے دور ہیں۔ اور یہ نہیں سمجھتے کہ کل عالم اپنے وجود میں اور اپنی بقاء میں اللہ کا محتاج ہے اور خاص کر انسان تو سب سے زیادہ حاجتوں میں جکڑا ہوا ہے اور خداوند ذوالجلال۔ غنی مطلق اور بےنیاز مطلق ہے جب چاہے پکڑ سکتا ہے اللہ کو نہ کسی کے مال و دولت کی حاجت ہے اور نہ کسی کی عبادت کی حاجت ہے۔ وہ سب سے بےنیاز ہے پس…
Read the full tafseer →26:۔ ثم اخذت الخ : یہ تخویف دنیوی ہے جب اقوام سابقہ نے انبیاء (علیہم السلام) کی تکذیب کی تو ہم نے ان کو دنیا ہی میں دردناک عذاب میں مبتلا کردیا۔ مشرکین مکہ اگر اسی طرح تکذیب و انکار پر قائم رہے تو ان کا بھی یہی حشر ہوگا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–26
ربط آیات
گزشتہ آیات میں مشرکین کا رد تھا۔ نیز ساری مخلوق کے احتیاج اور اللہ تعالیٰ کی بےنیازی کا ذکر تھا۔ اس بنا پر تمام حاجات اللہ وحدہ لاشریک سے طلب کرنی چاہئیں اور اسی کی عبادت کرنی چاہئے۔ اللہ تعالیٰ قادر مطلق ہے ، وہ چاہے تو ساری مخلوق کو صفحہ ہستی سے نابود کرکے اس کی جگہ دوسری مخلوق کو لے آئے۔ لہٰذا ہر انسان کو محاسبہ اعمال کی فکر کرنی چاہئے۔ قیامت والے دن کوئی عزیز ترین رشتہ دار بھی کسی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔ اللہ نے حضور ﷺ کو مخاطب کرکے فرمایا کہ آپ ایسے لوگوں کو ڈراتے ہیں جو خدا تعالیٰ سے بن دیکھے ڈرمتے ہیں اور اس پر ایمان رکھتے ہیں۔ وہ لوگ نماز پڑھتے ہیں اور ظاہری و باطنی…
Read the full tafseer →ثُمَّ اَخَذْتُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا فَكَيْفَ كَانَ نَكِيْرِ 26ۧ
أخذ
الأَخْذُ : حوز الشیء وتحصیله، وذلک تارةً بالتناول نحو : مَعاذَ اللَّهِ أَنْ نَأْخُذَ إِلَّا مَنْ وَجَدْنا مَتاعَنا عِنْدَهُ [يوسف/ 79] ، وتارةً بالقهر نحو قوله تعالی: لا تَأْخُذُهُ سِنَةٌ وَلا نَوْمٌ [ البقرة/ 255]
( اخ ذ) الاخذ
۔ کے معنی ہیں کسی چیز کو حاصل کرلینا جمع کرلینا اور احاطہ میں لے لینا اور یہ حصول کبھی کسی چیز کو پکڑلینے کی صورت میں ہوتا ہے ۔ جیسے فرمایا : ۔ { مَعَاذَ اللهِ أَنْ نَأْخُذَ إِلَّا مَنْ وَجَدْنَا مَتَاعَنَا عِنْدَهُ } ( سورة يوسف 79) خدا پناہ میں رکھے کہ جس شخص کے پاس ہم نے اپنی چیز پائی ہے اس کے سو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–26
ترکیب : بالحق متعلق بارسلنا و یمکن ان یکون حالا اے متلبسا بالحق، وکذا بشیرا و نذیرا حالان ویمکن ان یکونا مفعولا لا جلہ۔ وان یکذبوک شرط و جواب محذوف اے فاصبر کما صبر الانبیاء فقد کذب الخ دلیل لہ، زبر جمع زبور بالفتح، قال فی الصراح زبر بالکسر بنشتہ زبور بضم ج و بالفتح بنشتہ وھو فعول بمعنی مفعول و کتاب دائود ( علیہ السلام) انتہٰی۔
تفسیر ہر ملک میں نبی آتے ہیں : جبکہ یہ فرمایا تھا کہ ان انت الا نذیر اس کے بعد یہ بھی فرمایا۔ انا ارسلنک بالحق بشیرا و نذیرا کہ اے نبی آپ اپنی طرف سے نذیر نہیں بن گئے ہیں بلکہ ہم نے آپ کو بشیر و نذیر بناکر بھیجا ہے اور یہ کوئی نئی بات نہیں ہے۔ وان من امۃ الاخلا…
Read the full tafseer →ثُمَّ اَخَذْتُ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا فَکَیْفَ کَانَ نَـکِیْرِ ۔ (فاطر : 26)
(پھر میں نے ان لوگوں کو پکڑ لیا جنھوں نے ماننے سے انکار کیا تھا، تو دیکھو کہ میری سزا کیسی سخت تھی۔ )
جب لوگوں نے تکذیب کی روش جاری رکھی اور کسی طرح بھی اللہ تعالیٰ کے نبی کو ماننے کے لیے تیار نہ ہوئے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ پھر میں نے ان کو پکڑ لیا۔ تو پھر دیکھو کہ ہماری پکڑ کتنی شدید تھی اور ہماری سزا کیسی عبرت انگیز تھی۔ کتنی معذب قوموں کے کھنڈرات سے تمہارے تجارتی قافلے گزرتے ہیں۔ ان کی تاریخ سینہ بہ سینہ تم تک پہنچ چکی ہے۔ تم خوب جانتے ہو کہ ان کا انجام کیسا ہولناک تھا۔ مقصود اس ساری داستان سرائی سے صرف یہ ہے کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–26
فہم القرآن
ربط کلام : توحید و رسالت کا پیغام واضح ہوجانے کے باوجود اگر کفار آپ کو جھٹلاتے ہیں تو اے پیغمبر ﷺ ! یہ واقعہ صرف آپ کے ساتھ ہی پیش نہیں آیا۔ آپ سے پہلے لوگوں کے ساتھ بھی یہی کچھ ہوتا رہا ہے۔
نبی کریم ﷺ جس قدر محنت اور دلسوزی کے ساتھ لوگوں کو سمجھاتے۔ لوگ اسے قبول کرنے کی بجائے اتنی سختی کے ساتھ مخالفت کا اظہار کرتے۔ اس صورت حال پر دل گرفتہ ہونا انسانی فطرت کا تقاضا ہے جس بنا پر آپ ﷺ افسردہ خاطر ہوجاتے۔ قرآن مجید میں آپ کی ڈھارس اور تسلی کے لیے کئی انداز اختیار کیے گئے ہیں۔ جن میں سے ایک انداز یہ بھی ہے کہ اے نبی ﷺ ! آپ کو حد سے زیادہ دل گر فتہ نہیں ہونا چاہیے کیونکہ آپ سے پہلے…
Read the full tafseer →26: ثُمَّ اَخَذْتُ (پھر میں نے پکڑ لیا) سزا دی الَّذِیْنَ کَفَرُوْا (کافروں کو قسم قسم کی سزائوں سے) فَکَیْفَ کَانَ نَکِیْرِ (پھر میرا عذاب کیسا رہا) ۔ میرا انکار اور میرا سزا دینا ان کو کیسا رہا۔
Read the full tafseer →26 ثم اخذت الذین کفروافکیف کان نکیر، کیسے ہے ان کی پکڑ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–26
24 تا 26۔ آنحضرت ﷺ کے ذکر کے ساتھ خوشخبری دینے والا اور ڈرانے والا اور اور انبیاء کے ذکر میں فقط ڈرانیوالا اس واسطے فرمایا کہ صاحب شریعت انبیاء کی ابتدا حضرت نوح (علیہ السلام) سے شروع ہو کر حضرت شعیب بلکہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے زمانہ تک ڈرانے کے طور پر جو کچھ انبیاء نے اپنی امتوں سے کہا تھا اسی کا ظہور زیادہ ہوتا رہا یہ سب عام امتیں عذاب الٰہی سے ہلاک ہوتی رہیں اور بہت تھوڑے لوگ ان میں سے راہ راست پر آئے آنحضرت ﷺ کی امت میں سے اکثر لوگ مسلمان ہوئے اور تھوڑے نافرمانی سے غارت ہوئے اس لیے آپ کے ذکر میں آپ کو دونوں صفتوں کا ذکر فرما کر اللہ تعالیٰ نے آپ کی تسکین فرمادی ہے کہ آپ کی امت کا…
Read the full tafseer →آیت 26
اے رسول ! اگر یہ مشرکین آپ کو جھٹلاتے ہیں تو آپ کوئی پہلے رسول نہیں ہیں جس کو جھٹلایا گیا ہو (فقد کذب الذین من قبلھم جآء تھم رسلھم بالبینت) ’ دپس جو لوگ ان سے پہلے تھے وہ بھی تکذیب کرچکے ہیں۔ ان کے پاس ان کے رسول نشانیاں لے کر آئے۔ “ ان کے رسول واضح دلائل کے ساتھ آئے ج وحق اور ان رسولوں کی خبر کی صداقت پر دلالت کرتے تھے (وبالزبر) یعنی لکھی ہوئی کتابوں کے ساتھ آئے جن میں بہت سے احکام جمع تھے (وبالکتب المنیر) ” اور روشن کتاب “ یعنی جو اپنی سچی خبروں اور عدل پر مبنی نہ تھا بلکہ اس کا سبب محض ان کا ظلم اور عناد تھا۔ (ثم اخذت الذین کفروا) ” پھر میں نے (مختلف انواع کے عذاب کے ذریعے) سے) ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–27
حانث نہ ہونے کی صورتیں
قول باری ہے (ومن کل تاکلون لحما طریاو تستخرجون حلیۃ تلبسونھا اور ہر ایک سے تم تازہ گوشت کھاتے ہو اور زیور نکالتے ہو جسے تم پہنتے ہو) حلیہ سے یہاں موتی اور وہ چیزیں مراد ہیں جو سمندر سے نکالی جاتی ہیں اور بطور زیور انہیں پہنا جاتا ہے۔
اگر کوئی عورت زیور نہ پہننے کی قسم کھالے تو اس قسم کے بارے میں فقہاء کے مابین اختلاف رائے ہے۔ امام ابوحنیفہ کا قول ہے کہ تنہا موتی زیور نہیں کہلاتے جب تک ان کے ساتھ سونا نہ ہو۔
کیونکہ قول باری ہے (ومما یوقدون علیہ فی النار ابتغآء حلیۃ او متاع اور جن چیزوں کو زیور یا (اور) اسباب بنانے کی غرض سے آگ کے اندر تپاتے ہیں) یہ بات سونے میں ہوتی ہے…
Read the full tafseer →59 کفر و انکار کا نتیجہ وانجام ہولناک عذاب ۔ والعیاذ باللہ -: سو ارشاد فرمایا گیا اور صاف وصریح طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ " آخرکار میں نے پکڑا کافروں کو، سو دیکھو کیسا تھا میرا عذاب ؟ "۔ کہ ان سب کو نیست و نابود کرکے اور قصہ پارینہ بنا کر رکھ دیا۔ سو کہاں ہیں اب عاد وثمود وغیرہ کی وہ اپنے دور کی سب سے بڑی متمدن قومیں جن کو اپنے ڈیل ڈول، قدوقامت، فکر و دانش اور تعمیر و ترقی پر بڑا ناز تھا۔ کہاں گئی وہ قوم لوط، قوم شعیب اور قوم سباء وغیرہ جن کے بڑے چرچے تھے۔ اب قصے کہانیوں کے سوا ان کا کوئی وجود تک نہیں ۔ { اِنَّ فِیْ ذَالِکَ لَعِبْرَۃٌ } ۔ سو کفر و انکار اور تکذیبِ حق کا انجام بہت برا اور بڑا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–45
سچ تو یہ ہے جو اللہ نے اعلان کیا ہے
تشریح : ان آیات کی وضاحت کیا کی جائے یہ تو بذات خود علم و عرفان اور کلام الٰہی کی انتہائی آسان اور عام فہم مضمون کا مجموعہ ہیں۔ اہل علم کو معلوم ہے کہ مومن کو آنکھوں والا، زندہ اور نور سے تشبیہ دی گئی ہے جبکہ کافر کو اندھا، تاریکی اور مردہ کہا گیا ہے۔ پھر کفار کی ایک خاص خصلت کا ذکر کیا گیا ہے کہ وہ اتنا ہٹ دھرم اور ضد کا پکا ہوتا ہے کہ ہمیشہ نبیوں کو جھٹلاتا رہتا ہے اس لیے سیدنامحمد ﷺ کو بار بار یہ تاکید کی گئی ہے کہ آپ ان کی ضد پر پریشان نہ ہوا کریں بس آپ ان کو سمجھاتے رہیں ان سے نمٹنا اللہ کا کام ہے۔ بار بار کفار کے لیے دوزخ اور مومن کے لیے جنت کا اعلان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–26
رکوع نمبر 3 ۔ آیات 15 تا 26:
اسرار و معارف :
لوگو تمہارے بس میں تو کچھ بھی نہیں تمہارا سارا سرمایہ صرف احتیاج ہے اپنے وجود اپنی ذات اپنے اوصاف میں تم ہر طرح سے محتاج ہو اور اللہ ایسا بےنیاز نہ اسے تمہاری احتیاج ہے اور نہ ہی کسی اور کی بلکہ وہ ہی ایسا کامل ہے جسے ہر تعریف سزاوار ہے بھلا تم اس کی ناشکری اور کفر کا راستہ اپناتے جو اس قدر بےنیاز اور قادر ہے کہ چاہے تو ایک آن میں تم سب کو تباہ اور نابود کردے اور تمہاری جگہ ایک نئی مخلوق پیدا کردے کہ یہ اس کے لیے کچھ بھی مشکل نہیں یہ اس کی شان کریمی ہے کہ تمہیں باوجود تمہاری نافرمانیوں کے مہلت دے رکھی ہے مگر اس کا یہ مطلب بھی نہیں کہ تمہیں کوئی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–28
ف 1 علم سے مراد اللہ تعالیٰ کی صفات، افعال و احکام اور قدرتوں کا علم ہے نہ کہ صرف و نحو، فلسفہ تاریخ جغرافیہ اور سائنس وغیرہ رسی علوم اور حقیقت ہے کہ جس کسی شخص کو معرفت باللہ زیادہ حاصل ہوگی، اسی قدر وہ اللہ تعالیٰ سے زیادہ ڈرنے والا ہوگا یعنی تقویٰ بقدر علم ہوتا ہے۔ انبیاء ( علیہ السلام) کو چونکہ حسب مراتب معرفت باللہ دوسرے لوگوں سے زیادہ ہوتی ہے۔ اس لئے آنحضرت ﷺ نے فرمایا : (انا اخشاکم للہ واتقاکم لہ) میں تم سب کی بہ نسبت اللہ تعالیٰ سے زیادہ ڈرنے والا ہو۔ عالم وہ ہے جو اللہ تعالیٰ سے ڈرنا ہے اور جو اللہ تعالیٰ سے نہیں ڈرتا وہ عالم نہیں ہے۔ پس اللہ تعالیٰ کا ڈر بڑا علم ہے اور اس سے بےخوفی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–27
(35:25) ان یکذبوک۔ میں ان شرطیہ ہے۔ یکذبوا۔ اصل میں یکذبون تھا۔ مضارع کا صیغہ جمع مذکر غائب بوجہ عمل ان نون اعرابی گرگیا۔ ک ضمیر مفعول واحد مذکر حاضر۔ یہاں خطاب رسول کریم ﷺ سے ہے۔ اور ضمیر فاعل کفار مکہ کی طرف راجع ہے۔ اگر یہ لوگ (کفار مکہ) آپ کو جھٹلاتے ہیں۔
اس کے بعد جواب شرط محذوف ہے۔ ای فاصبر کما صبرا الانبیاء من قبلک۔ آپ صبر کریں جس طرح آپ سے پہلے انبیا (علیہم السلام ) نے صبر کیا۔
فقد کذب الذین من قبلہم۔ میں الذین من قبلہم فاعل ہے کذب کا۔ اور قبلہم (مضاف مضاف الیہ) میں ہم ضمیر جمع مذکر غائب کا مرجع کفار مکہ کی طرف راجع ہے۔ یعنی جو لوگ ان (کفار مکہ سے پہلے تھے وہ بھی تکذیب کرچکے ہیں (اپنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–26
لغات القرآن : آیت نمبر 15 تا 26
فقرائ ( محتاج ، ضرورت مند) الغنی ( بےنیاز ، جو کسی کا محتاج نہ ہو) الحمید (جس کی ذات میں ہر طرح کی خوبیاں موجود ہوں) لا تزر (بوجھ نہیں اٹھاتا ہے) مثقلۃ ( لدا ہوا بوجھ) حمل (بوجھ) مسمع ( سنانے والا) خلا (گزر گیا) زبر (صحیفے ، کتابیں) نکیر (عذاب)
تشریح : آیت نمبر 15 تا 26 :۔ انسان کی سب سے بڑی بھول اور نادانی یہ ہے کہ وہ اپنی حاجتوں اور ضرورتوں کے لئے ایک اللہ کو چھوڑ کر بہت سی ایسے کمزور اور ناقابل اعتبار سہاروں میں زندگی گزارنے کی کوشش کرتا ہے جن کی کوئی حیثیت اور اہمیت نہیں ہوتی اور اس طرح وہ زندگی بھر گمراہی کے اسی دائرے میں گھومتا رہتا ہے۔ ایسے نادانوں سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–26
(ف 1) ان آیتوں میں فرمایا، اے محبوب ﷺ ہم نے تم کو سچا دین دے کر ان لوگوں کے واسطے جو اس کا مانیں خوش خبری دینے والابھیجا ہے اور جو اس کو نہ مانیں ان کا ڈرانے والا، اور کوئی امت ایسی نہیں ہے جس میں کوئی نبی اس امت کا ڈرانے والانہ گزرا ہو اور اگر مشرکین آپ کی تکذیب کریں تو ان سے پہلے لوگوں نے بھی تو اپنے اپنے نبی کی تکذیب کی تھی، باوجودیکہ وہ انبیاء ان کے پاس ظاہر دلیلیں یعنی معجزے اور صحیفے اور روشن کتاب لے کر آئے تھے پھر بھی انہوں نے انکار کیا، تو جیسے ان انبیاء نے صبر کیا آپ بھی صبر کیجئے پھر ان کافروں کو جنہوں نے انبیاء کی تکذیب کی تھی ان کی تکذیب کی وجہ سے ہم نے عذاب میں گرفتار کیا سو میرا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–28
[13] یعنی جس طرح نباتات، جمادات اور حیوانات میں رنگ برنگ کی مخلوق ہے اس طرح انسانوں میں بھی ہر ایک کی طرح جدا ہے۔ یہ کب ہوسکتا ہے کہ سب انسان ایک طرح کے ہوجائیں اور مومن و کافر سب یکساں ہوجائیں۔ اس آیت میں آپ ﷺ کو تسلی دی گئی کہ لوگوں کے اختلاف سے غمگین نہ ہوں۔
[14] یہاں علم سے مراد دنیوی علوم نہیں بلکہ اللہ کی عظمت اور اس کی صفات کا علم ہے جس شخص کو اللہ کی عظمت وصفات کی جتنی معرفت ہوگی اتنا ہی وہ اس کی نافرمانی سے ڈرے گا۔ نیز اس آیت میں '' علمائ '' سے وہ اصطلاحی علماء مراد نہیں ہیں جو قرآن و حدیث اور فقہ کا علم رکھنے کی بناء پر علمائے دین کہے جاتے ہیں۔ وہ اس آیت کے مصداق صرف اسی صورت میں…
Read the full tafseer →سرکشی کا نتیجہ
1: حضور ﷺ سے مخاطب ہے ۔ کہ آپ اول رسول ﷺ نہیں ہیں ۔ اگر یہ لوگ پیغام الٰہی کے پہلے مخاطب نہیں ہیں ۔ آپ سے پہلے بھی کئی ہزار انبیاء معبوث ہوئے ہیں ۔ اور انہوں نے پوری وضاحت و تفصیل کے ساتھ اللہ کے پیغام کو لوگوں تک پہنچایا ہے ۔ پھر ان پاکبازوں کی آواز کو بھی بدبختان ازلی نے ٹھکرایا ۔ اور اللہ کے حکموں کو ماننے سے انکار کردیا ۔ نتیجہ یہ ہوا کہ اللہ کی غیرت جوش میں آئی ۔ اور اس کا قانون مکافات برروئے کار آیا ۔ چناچہ قومیں باجود ظاہری شان و شوکت کے صفحہ ہستی سے مٹ گئیں ۔ کہ کوئی ان کو جانتا تک نہیں ہے ۔ اسی طرح مکہ کے سرکشوں کا حشر ہونے والا ہے ۔ ان کے آئمہ کفر کو معلوم ہو ۔ کہ تم…
Read the full tafseer →(26) پھر آخر کار میں نے ان دین حق کے منکروں کو پکڑ لیا اور ان کی گرفت کی۔ سو دیکھ لو میرے انکار کا نتیجہ ان کے حق میں کیسا ہوا اور میرا عذاب کیسا ہوا۔ یعنی آخر ان کی گرفت کی گئی اور سب کو ہلاک کردیا گیا۔
نواں پاک کروں ٭ آئینہ
٭ نیا بدز سنگ آئینہ
ان کے دل آئینہ تھے جو صاف ہوسکتے ان کے دل پتھر ہوچکے تھے جس کو آئینہ بنانا ناممکن ہوگیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–27
ف 4۔ جب یہ مردے ہیں، تو مردوں کو زندہ کرنا خدا کی قدرت میں ہے بندہ کی قدرت میں نہیں۔
Read the full tafseer →میں نے ان جھٹلانے والوں کو پکڑ لیا پھر دیکھو میرا عذاب کیونکر ہوا ؟
26 ۔ گزشتہ انبیاء کرام کے جھٹلانے والوں کو ہم نے پکڑا اور اس طرح پکڑا کہ ان کا نام ونشان تک مٹا کر رکھ دیا اور عبرت کے لئے ان کے کھنڈرات چھوڑ دیئے آپ ﷺ ایک نبی ورسول کے حالات پڑھتے جائیں جتنی قومیں گزریں سب کا انجام یہی ہوا اور اگر پہلوں کیساتھ ایسا ہوا تو آپ ﷺ کی قوم کے ساتھ ایسا کیوں نہیں ہوگا کہ ہم جھٹلانے والوں کو نابود کردیں گے ان کو بھی سخت عذاب میں مبتلا کیا گیا اور ان جھٹلانے والوں کو بھی عذاب میں مبتلا کریں گے۔ ہاں ! وہ فرق جو دوسرے نبیوں ، رسولوں اور محمد رسول اللہ ﷺ میں واضح ہے وہ یہی ہے کہ چونکہ ان میں سے ہر ایک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–26
At the beginning of the verse: وَمَا أَنتَ بِمُسْمِعٍ مَّن فِي الْقُبُورِ (And you cannot make hear those who are in the graves - 22.), disbelievers have been likened to the dead and believers, to the living. In congruence to this, the expression: (those in the graves) here means the disbelievers. The sense is that 'the way you cannot make the dead hear you, you can also not make these living disbelievers hear you.'
This verse has itself clarified it that, at this place, making someone hear means the kind of listening that is going to be useful, effective and beneficial. Otherwise, the…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–27
46 Clear proofs": Proofs which clearly testified that they were Allah's Messengers.
47 "Scriptures" probably consisted of good counsels and moral precepts and "the Book" comprised a complete code of the law.
Read the full tafseer →