Explained with ayahs 19–26
ایک موازنہ۔
ارشاد ہوتا ہے کہ مومن و کفار برابر نہیں۔ جس طرح اندھا اور دیکھتا۔ اندھیرا اور روشنی، سایہ اور دھوپ، زندہ اور مردہ برابر نہیں۔ جس طرح ان چیزوں میں زمین و آسمان کا فرق ہے اسی طرح ایمان دار اور بےایمان میں بھی بےانتہا فرق ہے۔ مومن آنکھوں والے اجالے، سائے اور زندہ کی مانند ہے۔ برخلاف اس کے کافر اندھے اندھیرے اور بھرپور لو والی گرمی کی مانند ہے۔ جیسے فرمایا (اَوَمَنْ كَانَ مَيْتًا فَاَحْيَيْنٰهُ وَجَعَلْنَا لَهٗ نُوْرًا يَّمْشِيْ بِهٖ فِي النَّاسِ كَمَنْ مَّثَلُهٗ فِي الظُّلُمٰتِ لَيْسَ بِخَارِجٍ مِّنْهَا ۭ كَذٰلِكَ زُيِّنَ لِلْكٰفِرِيْنَ مَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ01202) 6۔ الانعام…
Read the full tafseer →سورة فَاطِر 45
یہ بات قرآن مجید میں متعدد مقامات پر فرمائی گئی ہے کہ دنیا میں کوئی امت ایسی نہیں گزری ہے جس کی ہدایت کے لیے اللہ تعالیٰ نے نبی مبعوث نہ فرمائے ہوں۔ سورة رعد میں فرمایا وَلِکُلِّ قَوْمٍ ھَادٍ (آیت 7)۔ سورة حجر میں فرمایا وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِکَ فِیْ شِیَعِ الْاَوَّلِیْنَ (آیت 10)۔ سورة نحل میں فرمایا وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِیْ کُلِّ اُمَّۃٍ رَّسُوْلاً (آیت 36)۔ سورة شعراء میں فرمایا وَمَا اَھْلَکْنَا مِنْ قَرْیَۃٍ اِلَّا لَھَا مُنْذِرُوْنَ (آیت 208)۔ مگر اس سلسلے میں دو باتیں سمجھ لینی چاہییں تاکہ کوئی غلط فہمی نہ ہو۔ اول یہ کہ ایک نبی کی تبلیغ جہاں جہاں تک پہنچ سکتی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–26
(آیت) وما انت بمسمع من فی القبور، اس آیت کے شروع میں کفار کی مثال مردوں سے اور مومنین کی زندوں سے دی گئی ہے۔ اسی کی مناسبت سے یہاں من فی القبور سے مراد کفار ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ جس طرح آپ مردوں کو نہیں سنا سکتے ان زندہ کافروں کو بھی نہیں سنا سکتے۔
اس آیت نے خود یہ بات واضح کردی کہ یہاں سنانے سے مراد وہ سنانا ہے جو مفید وموثر اور نافع ہو، ورنہ مطلق سنانا تو کفار کو ہمیشہ ہوتا ہی رہا، اور مشاہدہ میں آتا رہا ہے کہ ان کو تبلیغ کرتے اور وہ سنتے تھے۔ اس لئے مراد اس آیت کی یہ ہے کہ جس طرح آپ مردوں کو کلام حق سنا کر راہ حق پر نہیں لا سکتے کیونکہ وہ دنیا کے دارالعمل سے آخرت کے دار الجزاء میں منتقل ہوچکے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–24
آیت 22
یہ وہی مضمون دوسرے الفاظ اور دوسرے اسلوب میں بیان ہوا ہے۔ اس دور میں نبی ﷺ کو اپنی قوم کو بیزاری سے بڑی پریشانی تھی۔ آپ کو اندیشہ تھا کہ مبادا اس میں آپ ﷺ ہی کی کسی کوتاہی کو دخل ہو۔ آپ ﷺ کی یہ پریشانی دور کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے مختلف اسلوبوں سے تسلی دی کہ تمہارا کام زندوں کو سنانا ہے، مردوں کو جگانا تمہاری ذمہ داری نہیں ہے۔ جن کی صلاحیتوں زندہ ہیں وہ تمہاری بات سن رہے ہیں اور مان رہے ہیں۔ رہے وہ جو عقلی و روحانی اعتبار سے بالکل مردہ ہوچکے ہیں اگر تم چاہتے ہو کہ یہ تمہاری بات سننے والے بن جائیں تو یہ ہونے سے رہا۔
’ ان اللہ یسمع من یشاء۔ ’ اسماع ‘ یہاں بات کو سننے اور ماننے کی توفیق…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–24
23۔ 1 یعنی آپ ﷺ کا کام صرف دعوت و تبلیغ ہے۔ ہدایت اور ضلالت یہ اللہ کے اختیار میں ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–27
7: جن لوگوں نے ضد اور ہٹ دھرمی سے حق بات ماننے کے تمام دروازے اپنے اوپر بند کرلئے ہیں، ان کو پہلے اندھوں سے تشبیہ دی گئی ہے، اور ان کے کفر کو اندھیروں سے، اور اس کی سزا میں انہیں دوزخ کے جس عذاب کا سامنا کرنا پڑے گا اس کو دھوپ سے۔ اس کے مقابلے میں حق پرستوں کو دیکھنے والوں سے، ان کے دین کو روشنی سے، اور جنت کی جو نعمتیں انہیں حاصل ہوں گی، ان کو سائے سے تعبیر کیا گیا ہے۔ پھر فرمایا گیا ہے کہ جن لوگوں نے حق کو قبول کرنے کی صلاحیت ہی ختم کرلی ہے، وہ تو مردوں جیسے ہیں، اور مردوں کو آپ اپنی مرضی سے کچھ سنا نہیں سکتے۔ اس طرح آنحضرت ﷺ کو تسلی دی جا رہی ہے کہ اگر یہ لوگ حق کو قبول نہیں کر رہے تو آپ…
Read the full tafseer →وان من امۃ الا خلا فیھا نذیر (35: 24) ” اور کوئی امت نہیں گزری جس میں کوئی متنبہ کرنے والا نہ آیا ہو “ اگر آپ کی قوم تکذیب کر رہی ہے تو بیشمار رسولوں کی اقوام نے اسی طرح تکذیب کی ہے اور اس تکذیب کی وجہ رسولوں کی تبلیغ کا قصور نہ تھا۔ اور نہ دلائل کی کمی تھی۔
Read the full tafseer →2 ڈر سنانے والا خواہ نبی ہو یا نبی کا قائم مقام جو اس کی راہ کی طرف بلائے۔ اس کے متعلق سورة " نمل " کے چوتھے رکوع میں کچھ لکھا جا چکا ہے۔
Read the full tafseer →آیت 24 { اِنَّآ اَرْسَلْنٰکَ بِالْحَقِّ بَشِیْرًا وَّنَذِیْرًا } ”یقینا ہم نے بھیجا ہے آپ ﷺ کو حق کے ساتھ بشیر اور نذیر بنا کر۔“
{ وَاِنْ مِّنْ اُمَّۃٍ اِلَّا خَلَا فِیْہَا نَذِیْرٌ} ”اور کوئی امت ایسی نہیں جس میں کوئی خبردار کرنے والا نہ گزرا ہو۔“
Read the full tafseer →30 اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہر امت اور بستی میں اللہ نے کوئی نہ کوئی نبی یا رسول ضرور بھیجا ہے۔ بلکہ اس سے مراد صرف وہ امت یا وہ لوگ ہیں جن تک کسی نبی کی تعلیم نہ پہنچ سکی ہو۔ خواہ اس کی وجہ فاصلہ کی دوری ہو یا مدت کی دوری ہو۔ بالفاظ دیگر تمام انسانوں تک اللہ کی دعوت کی آواز یقینی طور پر پہنچ چکی ہے خواہ ان کے پاس کوئی رسول آیا ہو یا نہ آیا ہو۔
Read the full tafseer →36۔ (خواہ بحثییت پیغمبر خواہ بطور نائب پیغمبر کے) یعنی ہر قوم کے اوپر تبلیغ حق کسی نہ کسی طریقہ پر ہو ضرور چکی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–26
آیت نمبر 15 تا 26
ترجمہ : اے لوگو ! تم ہرحال میں اللہ کے محتاج ہو اور اللہ تو اپنی مخلوق سے بےنیاز ہے اور وہ اپنی مخلوق پہر احسان کی وجہ سے سزاوار حمد ہے اگر وہ چاہے تو تم کو فنا کردے اور تمہاری جگہ ایک نئی مخلوق پیدا کردے اور یہ بات اللہ کے لئے کچھ مشکل نہیں، کوئی بھی گنہ گار شخص دوسرے کے گناہ کا بوجھ نہیں اٹھائے گا، گوجس شخص کو بلایا گیا ہے رشتہ دار ہی کیوں نہ ہو، جیسا کہ باپ اور بیٹا اور دونوں صورتوں میں عدم حمل اللہ کا حکم ہے، آپ تو صرف ان ہی لوگوں کو ڈراسکتے ہیں جو اپنے رب سے غائبانہ ڈرتے ہوں یعنی اس سے ڈرتے ہوں حالانکہ اس کو دیکھا نہیں ہے، اس لئے کہ یہی لوگ تنبیہ سے فائدہ اٹھانے والے…
Read the full tafseer →انا ارسلنک بالحق بشیرًا ونذیرًا وان من امۃ الا خلافیھا نذیر . ہم نے ہی آپ کو (دین) حق
دے کر خوشخبری سنانے والا اور ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے اور کوئی امت ایسی نہیں گذری کہ اس میں کوئی ڈر سنانے والا نہ گذرا ہو۔
بَشِیْرًا مؤمنوں کو سچے وعدہ کے ساتھ خوشخبری دینے والا۔
نَذِیْرًا کافروں کو سچی وعید کے ساتھ ڈرانے والا۔
مِّنْ اُمَّۃٍ گذشتہ امتوں میں سے کوئی امت ایسی نہیں ہوئی۔
اِلاَّ خَلاَفَیْھَا نَذِیْرٌ نذیر سے مراد ہے نبی یا نبی کے قائم مقام کوئی عالم ‘ چونکہ پہلے جملہ میں نذیر کے ساتھ بشیر کا ذکر آچکا تھا ‘ اسلئے اس جگہ مکرر بشیر کے ذکر کرنے کی ضرورت نہیں تھی۔ صرف نذیر کا ذکر کرنے کی ایک وجہ یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–24
(19۔ 24) اور کافر مومن دونوں برابر نہیں اور نہ کفر و ایمان اور نہ جنت و دوزخ اور نہ مومنین و کافرین اطاعت و بزرگی میں برابر ہوسکتے ہیں اور اللہ تعالیٰ جو اس چیز کا اہل ہوتا ہے اس کو سمجھا دیتا ہے اور آپ ان لوگوں کو نہیں سمجھا سکتے جو ایسے ہیں جیسا کہ قبروں میں دفن کیے گئے ہیں۔
آپ تو صرف قرآن کریم کے ذریعے سے ڈرانے والے پیغمبر ہیں۔
ہم ہی نے آپ کو قرآن کریم دے کر مسلمانوں کو جنت کی خوشخبری سنانے والا اور کافروں کو دوزخ سے ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے کوئی امت ایسی نہیں ہوئی جس میں کوئی اللہ کی طرف سے ڈرانے والا پیغمبر نہ گزرا ہو۔
Read the full tafseer →اِنَّآ اَرْسَلْنٰكَ بالْحَقِّ بَشِيْرًا وَّنَذِيْرًا : حق سے مراد اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ شریعت ہے۔ یعنی اے رسول ! ہم نے تجھے حق دے کر بھیجا ہے، تاکہ جو تجھ پر ایمان لائیں انھیں جنت کی بشارت دے اور جو تجھے جھٹلائیں انھیں اللہ کے عذاب سے ڈرائے۔ اس میں رسول اللہ ﷺ کے لیے بشارت اور تسلی ہے۔
وَاِنْ مِّنْ اُمَّةٍ اِلَّا خَلَا فِيْهَا نَذِيْرٌ : اس میں اللہ تعالیٰ نے لوگوں پر اپنی رحمت کا اور اپنے فضل کا بیان فرمایا ہے کہ اس نے لوگوں کو اندھیروں میں بھٹکتا ہوا نہیں چھوڑا کہ ان کے لیے سیدھے اور غلط راستے کی نشان دہی نہ کرے، بلکہ اس سے پہلے جو قوم بھی گزری اس نے اس کی طرف کوئی نہ کوئی ڈرانے والا…
Read the full tafseer →یعنی اہل اطات کو جنت کی بشارت دینے والا (2) (تفسیر الماوردی، جلد 4، صفحہ 470) اور اہل معصیت کو جہنم سے ڈرانے والا ا۔ آیت : ان انت الا نذیر سے مراد ہے ہر امت میں نبی گزرا ہے۔ ابن جریج نے کہا : مگر عربوں میں نہیں گزرا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–26
(آیت) ” وما یستوی الاحیآء ولا الا موات “ سے مراد ہے مؤمن اور کافر، ان اللہ یسمع من یشآء “ (اللہ تعالیٰ سنتا ہے جس کو چاہتا ہے) یعنی ہدایت دیتا ہے جس کو چاہتا ہے۔
سماع موتی کا مسئلہ :
10:۔ ابوسہل السری بن سہل الجندب بوری الخامس نے اپنی حدیث میں عبدالقدوس کے طریق سے احمد ابوصالح سے ابن عباس ؓ سے (آیت) ” انک لا تسمع الموتی “ (الروم آیت 52) (یہ آپ مردوں کو نہیں سنا سکتے) اور (آیت) ” وما انت بمسمع من فی القبور “ (اور آپ ان لوگوں کو سنانے والے نہیں ہیں جو قبروں میں مدفون ہیں) کہ بارے میں روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ بدر کے دن مقتولین پر کھڑے ہوئے اور فرمایا (آیت) ” ھل وجدتم ماوعدربکم حقا “ یا فلاں بن…
Read the full tafseer →اِنَّآ اَرْسَلْنٰكَ بِالْحَقِّ [بیشک ہم نے بھیجا آپ ﷺ کو حق کے ساتھ ] بَشِيْرًا وَّنَذِيْرًا ۭ[بشارت دینے والا اور خبردار کرنے والا ] وَاِنْ مِّنْ اُمَّةٍ [اور نہیں ہے کوئی بھی امت ] اِلَّا خَلَا فِيْهَا [مگر (یہ کہ) گزرا اس میں ] نَذِيْرٌ [کوئی خبردار کرنے والا ] ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–26
سب اللہ کے محتاج ہیں، قیامت کے دن کوئی کسی کا بوجھ نہ اٹھائے گا، بینا اور نابینا، اندھیریاں اور روشنی، زندہ اور مردہ برابر نہیں، ہر امت میں نذیر بھیجا گیا ہے
یہ پورے ایک رکوع کا ترجمہ ہے جس میں بہت سے امور پر تنبیہ فرمائی ہے اور متعدد نصیحتیں فرمائیں۔
اولاً یہ فرمایا کہ اے لوگو تم سب اللہ ہی کے محتاج ہو، اللہ تعالیٰ غنی ہے جسے کسی چیز کی حاجت نہیں ہے، کوئی بھی ایمان لانے والا اور اس کی عبادت کرنے والا یہ نہ سمجھے کہ اسے میری حاجت اور ضرورت ہے، بلکہ یہ سمجھ کر اس کی عبادت کرے کہ مجھے اسے راضی کرنے کی حاجت ہے، وہ غنی ہے، بےنیاز ہے اور ہر تعریف کا مستحق ہے، وہ ہر عیب سے پاک ہے اور صفات جلیلہ سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–26
ذکر فقرواحتیاج بشرواستغنا خداوند بر وبحر
قال اللہ تعالی۔ یایھا الناس انتم الفقراء الی اللہ۔۔۔ الی۔۔۔ فکیف کان نکیر۔
(ربط) اوپر سے منکرین توحید کا رد چلا آرہا ہے اب یہ بتلاتے ہیں کہ یہ لوگ متکبر اور مغرور ہیں اور دراہم معدودہ کے نشہ کے میں چور ہیں اور خدا کی پکڑ سے بےفکر ہیں اور اس کی یاد سے دور ہیں۔ اور یہ نہیں سمجھتے کہ کل عالم اپنے وجود میں اور اپنی بقاء میں اللہ کا محتاج ہے اور خاص کر انسان تو سب سے زیادہ حاجتوں میں جکڑا ہوا ہے اور خداوند ذوالجلال۔ غنی مطلق اور بےنیاز مطلق ہے جب چاہے پکڑ سکتا ہے اللہ کو نہ کسی کے مال و دولت کی حاجت ہے اور نہ کسی کی عبادت کی حاجت ہے۔ وہ سب سے بےنیاز ہے پس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–25
25:۔ ان انت الخ : آپ کو ہم نے دین حق اور پیغام توحید دے کر اور بشیر و نذیر بنا کر بھیجا ہے۔ آپ کا کام پیغام حق پہنچانا۔ ماننے والوں کو خوشخبری دینا اور منکرین کو عذاب سے ڈرانا ہے۔ منوانا آپ کا کام نہیں۔ اسی طرح ہر امت میں ڈرانے والے ہوئے ہیں۔ وان یکذبوک الخ : یہ آنحضرت ﷺ کے لیے تسلی ہے۔ اگر مشرکین عرب ضد وعناد سے آپ کی تکذیب کرتے ہیں اور دعوت توحید کو نہیں مانتے تو آپ غم نہ کریں۔ گذشتہ قوموں نے بھی اپنے پیغمبروں کے ساتھ یہی سلوک کیا ہے۔ ان کے پاس انبیاء (علیہم السلام) معجزات، صحیفے اور کتابیں لے کر آئے لیکن انہوں نے پھر بھی نہ مانا من الامم العاتیۃ فلا تحزن من تکذیب ھؤلاء ایاک (روح ج 22 ص…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–26
ربط آیات
گزشتہ آیات میں مشرکین کا رد تھا۔ نیز ساری مخلوق کے احتیاج اور اللہ تعالیٰ کی بےنیازی کا ذکر تھا۔ اس بنا پر تمام حاجات اللہ وحدہ لاشریک سے طلب کرنی چاہئیں اور اسی کی عبادت کرنی چاہئے۔ اللہ تعالیٰ قادر مطلق ہے ، وہ چاہے تو ساری مخلوق کو صفحہ ہستی سے نابود کرکے اس کی جگہ دوسری مخلوق کو لے آئے۔ لہٰذا ہر انسان کو محاسبہ اعمال کی فکر کرنی چاہئے۔ قیامت والے دن کوئی عزیز ترین رشتہ دار بھی کسی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔ اللہ نے حضور ﷺ کو مخاطب کرکے فرمایا کہ آپ ایسے لوگوں کو ڈراتے ہیں جو خدا تعالیٰ سے بن دیکھے ڈرمتے ہیں اور اس پر ایمان رکھتے ہیں۔ وہ لوگ نماز پڑھتے ہیں اور ظاہری و باطنی…
Read the full tafseer →اِنَّآ اَرْسَلْنٰكَ بِالْحَقِّ بَشِيْرًا وَّنَذِيْرًا 0ۭ وَاِنْ مِّنْ اُمَّۃٍ اِلَّا خَلَا فِيْہَا نَذِيْرٌ 24
رسل
وجمع الرّسول رُسُلٌ. ورُسُلُ اللہ تارة يراد بها الملائكة، وتارة يراد بها الأنبیاء، فمن الملائكة قوله تعالی: إِنَّهُ لَقَوْلُ رَسُولٍ كَرِيمٍ [ التکوير/ 19] ، وقوله : إِنَّا رُسُلُ رَبِّكَ لَنْ يَصِلُوا إِلَيْكَ [هود/ 81] ،
( ر س ل ) الرسل
اور رسول کی جمع رسل آتہ ہے اور قرآن پاک میں رسول اور رسل اللہ سے مراد کبھی فرشتے ہوتے ہیں جیسے فرمایا : إِنَّهُ لَقَوْلُ رَسُولٍ كَرِيمٍ [ التکوير/ 19] کہ یہ ( قرآن ) بیشک معزز فرشتے ( یعنی جبریل ) کا ( پہنچایا ہوا ) پیام ہے ۔ إِنَّا رُسُلُ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–26
ترکیب : بالحق متعلق بارسلنا و یمکن ان یکون حالا اے متلبسا بالحق، وکذا بشیرا و نذیرا حالان ویمکن ان یکونا مفعولا لا جلہ۔ وان یکذبوک شرط و جواب محذوف اے فاصبر کما صبر الانبیاء فقد کذب الخ دلیل لہ، زبر جمع زبور بالفتح، قال فی الصراح زبر بالکسر بنشتہ زبور بضم ج و بالفتح بنشتہ وھو فعول بمعنی مفعول و کتاب دائود ( علیہ السلام) انتہٰی۔
تفسیر ہر ملک میں نبی آتے ہیں : جبکہ یہ فرمایا تھا کہ ان انت الا نذیر اس کے بعد یہ بھی فرمایا۔ انا ارسلنک بالحق بشیرا و نذیرا کہ اے نبی آپ اپنی طرف سے نذیر نہیں بن گئے ہیں بلکہ ہم نے آپ کو بشیر و نذیر بناکر بھیجا ہے اور یہ کوئی نئی بات نہیں ہے۔ وان من امۃ الاخلا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–24
اِنْ اَنْتَ اِلاَّ نَذِیْرٌ۔ اِنَّـآ اَرْسَلْنٰـکَ بِالْحَقِّ بَشِیْرًاوَّنَذِیْرًا ط وَاِنْ مِّنْ اُمَّۃٍ اِلاَّ خَلاَ فِیْھَا نَذِیْرٌ۔ (فاطر : 23، 24)
(آپ تو بس ایک خبردار کرنے والے ہیں۔ ہم نے آپ کو حق کے ساتھ بشیر اور نذیر بنا کر بھیجا ہے اور کوئی امت ایسی نہیں گزری جس میں کوئی باخبر کرنے والا نہ آیا ہو۔ )
آپ ﷺ کی اصل حیثیت اور اس کی حد
نبی کریم ﷺ کو تسلی دیتے ہوئے تبلیغ و دعوت کے حوالے سے آپ کی ذمہ داری کی حد بھی واضح کردی ہے۔ یعنی آپ کا کام لوگوں کو دعوت دینا اور انھیں آنے والے خطرے سے آگاہ کردینا ہے۔ کیونکہ ہم نے آپ کو نذیر بنا کر بھیجا ہے۔ اور نذیر کا کام آگاہ کردینا ہوتا ہے منوانا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–24
فہم القرآن
ربط کلام : شرک اور التوحید کا ایک اور موازنہ۔
جس طرح اندھا اور بینا، اندھیرے اور روشنی، دھوپ اور سایہ برابر نہیں ہوسکتے اسی طرح زندہ اور مردہ برابر نہیں ہوتے۔ توحید اور شرک کے درمیان موازنہ فرما کر یہ ثابت کیا گیا ہے کہ توحید کا عقیدہ رکھنے والے زندہ ہیں اور شرک میں مبتلا ہونے والے مردہ ہیں۔ اللہ تعالیٰ جسے چاہتا ہے اسے سننے کی توفیق بخشتا ہے۔ اے حبیب ﷺ ! آپ قبروں میں دفن لوگوں کو نہیں سنا سکتے۔ آپ تو لوگوں کو ان کے برے اعمال کے نتیجہ سے ڈرا نے والے ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو حق کے ساتھ اس لیے بھیجا ہے کہ آپ حق قبول کرنے والوں کو خوشخبری سنائیں اور انکار کرنے والوں کو ان کے…
Read the full tafseer →24: اِنَّآ اَرْسَلْنٰکَ بِالْحَقِّ (ہم ہی نے آپ کو حق دے کر بھیجا) بالحق : یہ دونوں میں سے ایک سے حال ہے۔ ای محقا یا محقین۔ نمبر 2۔ مصدر کی صفت ہے ای ارسالا مصحوبا بالحق۔ ایسا بھیجنا جو حق سے ملا ہوا ہے۔ بَشِیْرًا (خوشخبری سنانے والے ہیں) وعدوں کے ساتھ وَّ نَذِیْرًا ( اور ڈر سنانے والے ہیں) وعید کے ذریعہ وَاِنْ مِّنْ اُمَّۃٍ (اور کوئی امت ایسی نہیں) جو امت بھی آپ کی امت سے پہلے ہوئی۔ الامہؔ کثیر جماعت کو کہتے ہیں۔ جیسا اس ارشاد میں ہے وجد علیہ امۃ من الناس ] القصص : 23[ امت ہر زمانہ والوں کو کہا جاتا ہے یہاں اہل زمانہ ہی مراد ہیں۔ انذار کے آثار حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور محمد ﷺ کے درمیان…
Read the full tafseer →24، انا ارسلنا ک بالحق بشیر اونذیرا وان من امۃ، جو امتیں ماقبل میں گزر چکی ہیں۔ ، الا خلا فیھا نذیر، وہ نبی جو ڈرانے والا ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–26
24 تا 26۔ آنحضرت ﷺ کے ذکر کے ساتھ خوشخبری دینے والا اور ڈرانے والا اور اور انبیاء کے ذکر میں فقط ڈرانیوالا اس واسطے فرمایا کہ صاحب شریعت انبیاء کی ابتدا حضرت نوح (علیہ السلام) سے شروع ہو کر حضرت شعیب بلکہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے زمانہ تک ڈرانے کے طور پر جو کچھ انبیاء نے اپنی امتوں سے کہا تھا اسی کا ظہور زیادہ ہوتا رہا یہ سب عام امتیں عذاب الٰہی سے ہلاک ہوتی رہیں اور بہت تھوڑے لوگ ان میں سے راہ راست پر آئے آنحضرت ﷺ کی امت میں سے اکثر لوگ مسلمان ہوئے اور تھوڑے نافرمانی سے غارت ہوئے اس لیے آپ کے ذکر میں آپ کو دونوں صفتوں کا ذکر فرما کر اللہ تعالیٰ نے آپ کی تسکین فرمادی ہے کہ آپ کی امت کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–25
آیت 24
اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ حکمت الٰہی اور اس نے اپنے بندوں کو فطرت عطا کی ہے، ان کے لحاظ سے اضداد برابر نہیں ہوتیں، فرمایا : (وما یستوی الاعمی) ” اور نہیں ہے برابر اندھا “ جس کی بینائی نہیں۔ (آیت) ” اور دیکھنے والا، نہ انندھیرے اور روشنی، نہ سایہ اور دھوپ (برابر ہیں) اور نہ زندے اور مردے یکساں ہوتے ہیں۔ “ جیسا کہ تمہارے نزدیک بھی یہ ایک تسلیم شدہ حقیقت اور کسی شک و شب ہے سے پاک ہے کہ مذکورہ بالا تمام چیزیں برابر نہیں ہیں، تب تمہیں یہ حقیقت بھی معلوم ہونی چاہیے کہ معنوی طور پر متضاد اشیا میں عدم مساوات زیادہ اولیٰ ہے۔
پس مومن اور کافر برابر نہیں ہیں، نہ ہدایت یافتہ اور گمراہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–27
حانث نہ ہونے کی صورتیں
قول باری ہے (ومن کل تاکلون لحما طریاو تستخرجون حلیۃ تلبسونھا اور ہر ایک سے تم تازہ گوشت کھاتے ہو اور زیور نکالتے ہو جسے تم پہنتے ہو) حلیہ سے یہاں موتی اور وہ چیزیں مراد ہیں جو سمندر سے نکالی جاتی ہیں اور بطور زیور انہیں پہنا جاتا ہے۔
اگر کوئی عورت زیور نہ پہننے کی قسم کھالے تو اس قسم کے بارے میں فقہاء کے مابین اختلاف رائے ہے۔ امام ابوحنیفہ کا قول ہے کہ تنہا موتی زیور نہیں کہلاتے جب تک ان کے ساتھ سونا نہ ہو۔
کیونکہ قول باری ہے (ومما یوقدون علیہ فی النار ابتغآء حلیۃ او متاع اور جن چیزوں کو زیور یا (اور) اسباب بنانے کی غرض سے آگ کے اندر تپاتے ہیں) یہ بات سونے میں ہوتی ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–25
56 پیغمبر کا کام انذار وتبشیر اور بس : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " ہم نے آپ کو بھیجا خوشخبری سنانے والا اور خبردار کرنے والا بنا کر " یعنی حق کو منوانا اور اس کے قبول پر مجبور کرنا نہ تو آپ ﷺ کے ذمے ہے اور نہ ہی یہ آپ ﷺ کے بس میں ہے۔ آپ ﷺ کا کام تو حق کو صاف صاف پہنچا دینا ہے۔ اور ماننے والوں کو خوشخبری سنا دینا اور نہ ماننے والوں کو خبردار کردینا ہے اور بس۔ معلوم ہوا کہ نبی مختار کل نہیں ہوتا جس طرح کہ اہل بدعت کا کہنا اور ماننا ہے کہ مختار کل تو اللہ پاک ہی کی ذات اقدس و اعلیٰ ہے۔ پیغمبر کا کام ہے ابلاغ و تبلیغ اور انذاز وتبشیر اور بس ۔ اِنْ عَلَیْکَ اِلّا الْبَلاغُ وَ عَلَیْنَا الْحِسَابُ ۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–45
سچ تو یہ ہے جو اللہ نے اعلان کیا ہے
تشریح : ان آیات کی وضاحت کیا کی جائے یہ تو بذات خود علم و عرفان اور کلام الٰہی کی انتہائی آسان اور عام فہم مضمون کا مجموعہ ہیں۔ اہل علم کو معلوم ہے کہ مومن کو آنکھوں والا، زندہ اور نور سے تشبیہ دی گئی ہے جبکہ کافر کو اندھا، تاریکی اور مردہ کہا گیا ہے۔ پھر کفار کی ایک خاص خصلت کا ذکر کیا گیا ہے کہ وہ اتنا ہٹ دھرم اور ضد کا پکا ہوتا ہے کہ ہمیشہ نبیوں کو جھٹلاتا رہتا ہے اس لیے سیدنامحمد ﷺ کو بار بار یہ تاکید کی گئی ہے کہ آپ ان کی ضد پر پریشان نہ ہوا کریں بس آپ ان کو سمجھاتے رہیں ان سے نمٹنا اللہ کا کام ہے۔ بار بار کفار کے لیے دوزخ اور مومن کے لیے جنت کا اعلان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–26
رکوع نمبر 3 ۔ آیات 15 تا 26:
اسرار و معارف :
لوگو تمہارے بس میں تو کچھ بھی نہیں تمہارا سارا سرمایہ صرف احتیاج ہے اپنے وجود اپنی ذات اپنے اوصاف میں تم ہر طرح سے محتاج ہو اور اللہ ایسا بےنیاز نہ اسے تمہاری احتیاج ہے اور نہ ہی کسی اور کی بلکہ وہ ہی ایسا کامل ہے جسے ہر تعریف سزاوار ہے بھلا تم اس کی ناشکری اور کفر کا راستہ اپناتے جو اس قدر بےنیاز اور قادر ہے کہ چاہے تو ایک آن میں تم سب کو تباہ اور نابود کردے اور تمہاری جگہ ایک نئی مخلوق پیدا کردے کہ یہ اس کے لیے کچھ بھی مشکل نہیں یہ اس کی شان کریمی ہے کہ تمہیں باوجود تمہاری نافرمانیوں کے مہلت دے رکھی ہے مگر اس کا یہ مطلب بھی نہیں کہ تمہیں کوئی…
Read the full tafseer →ف 11 یعنی اطاعت گزاروں کو جنت کی خوشخبری دینے والا اور نافرمانوں کو خدا کے عذاب سے ڈرانے والا۔12 درانے والا، خواہ نبی ہو، خواہ جو نبی کے راہ پر ہو۔ اس آیت سے معلوم ہوا کہ ہر قوم اور ہر ایک میں ڈر سنانیوالے ہر گزرے ہیں۔ ( دیکھئے سورة رعد آیت 7 سورة نحل : 36)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–24
(35:23) الاموات۔ المیت کی جمع ہے مردے۔ مراد جاہل لوگ۔
یسمع۔ مضارع واحد مذکر غائب۔ اسماع مصدر۔ (باب افعال) وہ سناتا ہے۔ وہ سنا کر دل میں بٹھا دیتا ہے۔ مسمع۔ اسم فاعل بحالت جر۔ واحد مذکر ۔ سنانے والا۔
من فی القبور۔ وہ جو قبروں کے اندر ہیں۔ کفر پر جمے رہنے والوں کو مردوں سے تشبیہ دی گئی ہے۔ اور مردے بھی وہ جو قبروں کے اندر ہوں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–26
لغات القرآن : آیت نمبر 15 تا 26
فقرائ ( محتاج ، ضرورت مند) الغنی ( بےنیاز ، جو کسی کا محتاج نہ ہو) الحمید (جس کی ذات میں ہر طرح کی خوبیاں موجود ہوں) لا تزر (بوجھ نہیں اٹھاتا ہے) مثقلۃ ( لدا ہوا بوجھ) حمل (بوجھ) مسمع ( سنانے والا) خلا (گزر گیا) زبر (صحیفے ، کتابیں) نکیر (عذاب)
تشریح : آیت نمبر 15 تا 26 :۔ انسان کی سب سے بڑی بھول اور نادانی یہ ہے کہ وہ اپنی حاجتوں اور ضرورتوں کے لئے ایک اللہ کو چھوڑ کر بہت سی ایسے کمزور اور ناقابل اعتبار سہاروں میں زندگی گزارنے کی کوشش کرتا ہے جن کی کوئی حیثیت اور اہمیت نہیں ہوتی اور اس طرح وہ زندگی بھر گمراہی کے اسی دائرے میں گھومتا رہتا ہے۔ ایسے نادانوں سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–26
(ف 1) ان آیتوں میں فرمایا، اے محبوب ﷺ ہم نے تم کو سچا دین دے کر ان لوگوں کے واسطے جو اس کا مانیں خوش خبری دینے والابھیجا ہے اور جو اس کو نہ مانیں ان کا ڈرانے والا، اور کوئی امت ایسی نہیں ہے جس میں کوئی نبی اس امت کا ڈرانے والانہ گزرا ہو اور اگر مشرکین آپ کی تکذیب کریں تو ان سے پہلے لوگوں نے بھی تو اپنے اپنے نبی کی تکذیب کی تھی، باوجودیکہ وہ انبیاء ان کے پاس ظاہر دلیلیں یعنی معجزے اور صحیفے اور روشن کتاب لے کر آئے تھے پھر بھی انہوں نے انکار کیا، تو جیسے ان انبیاء نے صبر کیا آپ بھی صبر کیجئے پھر ان کافروں کو جنہوں نے انبیاء کی تکذیب کی تھی ان کی تکذیب کی وجہ سے ہم نے عذاب میں گرفتار کیا سو میرا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–28
[13] یعنی جس طرح نباتات، جمادات اور حیوانات میں رنگ برنگ کی مخلوق ہے اس طرح انسانوں میں بھی ہر ایک کی طرح جدا ہے۔ یہ کب ہوسکتا ہے کہ سب انسان ایک طرح کے ہوجائیں اور مومن و کافر سب یکساں ہوجائیں۔ اس آیت میں آپ ﷺ کو تسلی دی گئی کہ لوگوں کے اختلاف سے غمگین نہ ہوں۔
[14] یہاں علم سے مراد دنیوی علوم نہیں بلکہ اللہ کی عظمت اور اس کی صفات کا علم ہے جس شخص کو اللہ کی عظمت وصفات کی جتنی معرفت ہوگی اتنا ہی وہ اس کی نافرمانی سے ڈرے گا۔ نیز اس آیت میں '' علمائ '' سے وہ اصطلاحی علماء مراد نہیں ہیں جو قرآن و حدیث اور فقہ کا علم رکھنے کی بناء پر علمائے دین کہے جاتے ہیں۔ وہ اس آیت کے مصداق صرف اسی صورت میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–25
ف 2: اس آیت میں وحدت تعلیم کے نظریہ کو پیش کیا گیا ہے ۔ کہ اللہ تعالیٰ نے ہر زمانے اور ہر قریہ میں اپنے پیغمبروں کو معبوث فرمایا ہے ۔ اور اپنے پیغام کو ان تک پہنچایا ہے ۔
حل لغات :۔ الحرور ۔ تمازت ۔ دھوپ ۔
Read the full tafseer →(24) بلاشبہ اے پیغمبر ہم نے آپ کو دین حق کے ساتھ خوشخبری اور بشارت دینے والا اور ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے اور کوئی جماعت اور قوم ایسی نہیں ہوئی جس میں کوئی ڈرانے والا نہ گزرا ہو۔
یعنی ایمان لانے والوں اور مسلمانوں کو خوشخبری دینے والوں اور دین حق کو قبول کرنے سے انکار کرنے والوں کو ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے ہر امت میں کوئی نہ کوئی ڈرانے والا ضرور آیا ہے خواہ کوئی رسول ہو یا رسول کا رسول ہو۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں ڈرانے والا خواہ نبی ہو یا نبی کی راہ پر ہو۔
یعنی کسی نبی پر ایمان رکھنے والا پہنچا۔ بہرحال ! کوئی امت ایسی نہیں جس کو حق نہ پہنچا ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–27
ف 4۔ جب یہ مردے ہیں، تو مردوں کو زندہ کرنا خدا کی قدرت میں ہے بندہ کی قدرت میں نہیں۔
Read the full tafseer →اس امت مرحومہ سے پہلے کوئی امت نہیں گزری جس کے پاس کوئی ڈرانے والا نہ آیا ہو
24 ۔ قرآن کریم میں اس کی بار بار تصریح کی گئی ہے کہ ہر قوم کی طرف اللہ تعالیٰ نے کوئی نہ کوئی ڈرانے والا بھیجا جس نے اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچایا۔ یہ مضمون سورة رعد کی آیت 7 ، سورة الحجر کی آیت 10 ، سورة النحل کی آیت 36 ، سورة الشعرا کی آیت 208 میں بیان کیا گیا ہے اگرچہ بستی سے مراد بعض اوقات صرف ایک قوم ہے اور بعض اوقات ایک خاندان اور ایک علاقہ بھی مرادہوسکتا ہے اسی طرح ایک ہی قوم کے پاس بیک وقت ایک سے زیادہ ڈرانے والے بھی آئے جیسا کہ سورة یٰسٓ میں ذکر کیا گیا ہے۔ بہرحال نبوت کا سلسلہ کسی ملک ، علاقہ یا قوم کے ساتھ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–26
At the beginning of the verse: وَمَا أَنتَ بِمُسْمِعٍ مَّن فِي الْقُبُورِ (And you cannot make hear those who are in the graves - 22.), disbelievers have been likened to the dead and believers, to the living. In congruence to this, the expression: (those in the graves) here means the disbelievers. The sense is that 'the way you cannot make the dead hear you, you can also not make these living disbelievers hear you.'
This verse has itself clarified it that, at this place, making someone hear means the kind of listening that is going to be useful, effective and beneficial. Otherwise, the…
Read the full tafseer →45 That there has been no community in the world for whose guidance Allah did not appoint the Prophets, has been stated at several places in the Qur'an. In Surah Ar-Ra'd: 7, it was said: "Every people has its guide ;" in Surah Al-Hijr: 10: "O Prophet, We have already sent Messengers before you among many of the ancient peoples;" in Surah An-Nahl: 36: "We sent to every community a Messenger;" and in Surah Ash-Shu'ara: 208: "We have never destroyed a habitation unless it had its warners to administer admonition. " But, in this connection, one should note two things so that there remains no…
Read the full tafseer →