اِنْ اَنْتَ اِلَّا نَذِیْرٌ ۟اِنۡ اَنۡتَ اِلَّا نَذِيۡرٌ
تم تو صرف ڈرانے والے ہو
— Fateh Muhammad Jalandhari
You, [O Muhammad], are not but a warner.
— Saheeh International
Juz 22 · Ruku 3 of surah · Ruku 15 of juz
اِنْ اَنْتَ اِلَّا نَذِیْرٌ ۟اِنۡ اَنۡتَ اِلَّا نَذِيۡرٌ
تم تو صرف ڈرانے والے ہو
— Fateh Muhammad Jalandhari
You, [O Muhammad], are not but a warner.
— Saheeh International
Juz 22 · Ruku 3 of surah · Ruku 15 of juz
Read the whole surah · Surah Faatir
تم تو بس ایک خبردار کرنے والے ہو
تم تو صرف ڈرانے والے ہو
آپ تو صرف ڈرانے والے ہیں
تم تو بس ایک خبردار کرنے والے ہو۔
تم تو یہی ڈر سنانے والے ہو
آپ تو فقط ڈر سنانے والے ہیں،
تو تو محض ایک ڈرانے والا ہے۔
آپ تو صرف ایک ڈرانے والے ہیں۔
تم تو بس ایک نذیر ہو۔
آپ کا کام تو بس خبردار کردینا ہے (برے انجام سے)
آپ تو صرف ڈرانے والے ہیں۔
آپ ﷺ نہیں ہیں مگر صرف خبردار کرنے والے
تم تو صرف ڈرانے والے ہو۔
You are no more than a warner.
You are but a warner.
You are but a warner.
You are only a warner.
Thou art but a warner.
— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran
You, [O Muhammad], are not but a warner.
You are simply a warner.
You are naught but a warner.
Thou art naught but a warner.
Thou art no other than a warner.
— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary
Explained with ayahs 19–26
ایک موازنہ۔ ارشاد ہوتا ہے کہ مومن و کفار برابر نہیں۔ جس طرح اندھا اور دیکھتا۔ اندھیرا اور روشنی، سایہ اور دھوپ، زندہ اور مردہ برابر نہیں۔ جس طرح ان چیزوں میں زمین و آسمان کا فرق ہے اسی طرح ایمان دار اور بےایمان میں بھی بےانتہا فرق ہے۔ مومن آنکھوں والے اجالے، سائے اور زندہ کی مانند ہے۔ برخلاف اس کے کافر اندھے اندھیرے اور بھرپور لو والی گرمی کی مانند ہے۔ جیسے فرمایا (اَوَمَنْ كَانَ مَيْتًا فَاَحْيَيْنٰهُ وَجَعَلْنَا لَهٗ نُوْرًا يَّمْشِيْ بِهٖ فِي النَّاسِ كَمَنْ مَّثَلُهٗ فِي الظُّلُمٰتِ لَيْسَ بِخَارِجٍ مِّنْهَا ۭ كَذٰلِكَ زُيِّنَ لِلْكٰفِرِيْنَ مَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ01202) 6۔ الانعام…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–23
سورة فَاطِر 42 ان تمثیلات میں مومن اور کافر کے حال اور مستقبل کا فرق بتایا گیا ہے۔ ایک وہ شخص ہے جو حقائق سے آنکھیں بند کیے ہوئے ہے اور کچھ نہیں دیکھتا کہ کائنات کا سارا نظام اور خود اس کا اپنا وجود صداقت کی طرف اشارے کر رہا ہے۔ دوسرا وہ شخص ہے جس کی آنکھیں کھلی ہیں اور وہ صاف دیکھ رہا ہے کہ اس کے باہر اور اندر کی ہر چیز خدا کی توحید اور اس کے حضور انسان کی جوابدہی پر گواہی دے رہی ہے۔ ایک وہ شخص ہے جو جاہلانہ اوہام اور مفروضات و قیاسات کی تاریکیوں میں بھٹک رہا ہے اور پیغمبر کی روشن کی ہوئی شمع کے قریب بھی پھٹکنے کے لیے تیار نہیں۔ دوسرا وہ شخص ہے جس کی آنکھیں کھلی ہیں اور پیغمبر کی پھیلائی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–26
(آیت) وما انت بمسمع من فی القبور، اس آیت کے شروع میں کفار کی مثال مردوں سے اور مومنین کی زندوں سے دی گئی ہے۔ اسی کی مناسبت سے یہاں من فی القبور سے مراد کفار ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ جس طرح آپ مردوں کو نہیں سنا سکتے ان زندہ کافروں کو بھی نہیں سنا سکتے۔ اس آیت نے خود یہ بات واضح کردی کہ یہاں سنانے سے مراد وہ سنانا ہے جو مفید وموثر اور نافع ہو، ورنہ مطلق سنانا تو کفار کو ہمیشہ ہوتا ہی رہا، اور مشاہدہ میں آتا رہا ہے کہ ان کو تبلیغ کرتے اور وہ سنتے تھے۔ اس لئے مراد اس آیت کی یہ ہے کہ جس طرح آپ مردوں کو کلام حق سنا کر راہ حق پر نہیں لا سکتے کیونکہ وہ دنیا کے دارالعمل سے آخرت کے دار الجزاء میں منتقل ہوچکے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–24
آیت 22 یہ وہی مضمون دوسرے الفاظ اور دوسرے اسلوب میں بیان ہوا ہے۔ اس دور میں نبی ﷺ کو اپنی قوم کو بیزاری سے بڑی پریشانی تھی۔ آپ کو اندیشہ تھا کہ مبادا اس میں آپ ﷺ ہی کی کسی کوتاہی کو دخل ہو۔ آپ ﷺ کی یہ پریشانی دور کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے مختلف اسلوبوں سے تسلی دی کہ تمہارا کام زندوں کو سنانا ہے، مردوں کو جگانا تمہاری ذمہ داری نہیں ہے۔ جن کی صلاحیتوں زندہ ہیں وہ تمہاری بات سن رہے ہیں اور مان رہے ہیں۔ رہے وہ جو عقلی و روحانی اعتبار سے بالکل مردہ ہوچکے ہیں اگر تم چاہتے ہو کہ یہ تمہاری بات سننے والے بن جائیں تو یہ ہونے سے رہا۔ ’ ان اللہ یسمع من یشاء۔ ’ اسماع ‘ یہاں بات کو سننے اور ماننے کی توفیق…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–24
23۔ 1 یعنی آپ ﷺ کا کام صرف دعوت و تبلیغ ہے۔ ہدایت اور ضلالت یہ اللہ کے اختیار میں ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–27
7: جن لوگوں نے ضد اور ہٹ دھرمی سے حق بات ماننے کے تمام دروازے اپنے اوپر بند کرلئے ہیں، ان کو پہلے اندھوں سے تشبیہ دی گئی ہے، اور ان کے کفر کو اندھیروں سے، اور اس کی سزا میں انہیں دوزخ کے جس عذاب کا سامنا کرنا پڑے گا اس کو دھوپ سے۔ اس کے مقابلے میں حق پرستوں کو دیکھنے والوں سے، ان کے دین کو روشنی سے، اور جنت کی جو نعمتیں انہیں حاصل ہوں گی، ان کو سائے سے تعبیر کیا گیا ہے۔ پھر فرمایا گیا ہے کہ جن لوگوں نے حق کو قبول کرنے کی صلاحیت ہی ختم کرلی ہے، وہ تو مردوں جیسے ہیں، اور مردوں کو آپ اپنی مرضی سے کچھ سنا نہیں سکتے۔ اس طرح آنحضرت ﷺ کو تسلی دی جا رہی ہے کہ اگر یہ لوگ حق کو قبول نہیں کر رہے تو آپ…
Read the full tafseer →فلا تذھب نفسک علیھم حسرت (35: 8) ” پس آپ ﷺ ان پر حسرت کرکے اپنے آپ کو گھلا نہ دیں “۔ اللہ نے رسول اللہ ﷺ کو بشیر و نذیر بنا کر بھیجا تھا۔ آپ ﷺ کا منصب ایسا ہی ہے جیسا کہ آپ کے دوسرے بھائی رسولوں کا تھا۔ وہ تعداد میں تو بہت زیادہ تھے کیونکہ ہر امت اور ہر قوم کے لیے رسول بھیجا جاتا رہا ہے۔
Read the full tafseer →1 یعنی اللہ چاہے تو مردوں کو بھی سنا دے یہ قدرت اوروں کو نہیں۔ اسی طرح سمجھ لو کہ پیغمبر کا کام خبر پہنچانا اور بھلے برے سے آگاہ کردینا ہے۔ کوئی مردہ دل کافر ان کی بات نہ سنے تو یہ ان کے بس کی بات نہیں۔ حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں۔ " یعنی سب خلق برابر نہیں جنہیں ایمان دینا ہے ان ہی کو ملے گا۔ تو بہتیری آرزو کرے تو کیا ہوتا ہے۔ اور یہ جو فرمایا۔ " نہ اندھیرا نہ اجالا " یعنی نہ اندھیرا برابر اجالے کے اور نہ اجالا برابر اندھیرے کے (یہ " لا " کی تکریر کا فائدہ بتلا دیا) اور فرمایا " تو نہیں سنانے والا قبر میں پڑے ہوؤں کو۔ " حدیث میں آیا کہ مردوں سے سلام علیکم کرو۔ اور بہت جگہ مردوں کو خطاب کیا ہے۔ اس…
Read the full tafseer →آیت 23 { اِنْ اَنْتَ اِلَّا نَذِیْرٌ } ”آپ ﷺ نہیں ہیں مگر صرف خبردار کرنے والے !“ آپ ﷺ کا کام تو بس لوگوں کو خبردار کردینا ہے۔ اس کے بعد اگر کوئی ہوش میں نہیں آتا اور اپنی گمراہیوں میں بھٹکتا رہتا ہے تو اس کی کوئی ذمہ داری آپ ﷺ پر نہیں ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–23
28 یہاں زندہ سے مراد وہ لوگ ہیں جن کے دل اور ضمیر زندہ ہیں۔ جو بدی کو بدی ہی سمجھتے ہیں اور نیکی کی راہ کی تلاش میں رہتے ہیں۔ پھر اس پر عمل پیرا بھی ہوتے ہیں۔ اور مردہ سے مردہ دل لوگ یا کافر ہیں۔ ان کے ضمیر اور ان کے دل اس قدر مرچکے ہیں کہ ہدایت کی بات ان کے دل تک پہنچتی ہی نہیں۔ نہ وہ اسے سننا گوارا کرتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ آپ کا ایسے لوگوں کو نصیحت کرنا بےسود ہے۔ 29 سماع موتی کا رد :۔ ربط مضمون کے لحاظ سے یہ مطلب بھی لیا جاسکتا ہے کہ قبروں میں پڑے لوگوں سے مراد یہی مردہ دل کافر لوگ ہیں مگر الفاظ کے ظاہری معنوں کا اعتبار کرنا زیادہ صحیح ہوگا۔ یعنی جو لوگ قبروں میں جاچکے ہیں انہیں اللہ تو سنا…
Read the full tafseer →35۔ (کسی کے دل میں ہدایت اتار دینا، کسی پر ہدایت ٹھونس دینا آپ ﷺ کے بس میں نہیں) (آیت) ” ان ..... القبور “۔ یعنی اللہ ہی ان کی ہدایت دے دے تو اور بات ہے، ورنہ بندوں کے بس میں تو یہ ہے نہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–26
آیت نمبر 15 تا 26 ترجمہ : اے لوگو ! تم ہرحال میں اللہ کے محتاج ہو اور اللہ تو اپنی مخلوق سے بےنیاز ہے اور وہ اپنی مخلوق پہر احسان کی وجہ سے سزاوار حمد ہے اگر وہ چاہے تو تم کو فنا کردے اور تمہاری جگہ ایک نئی مخلوق پیدا کردے اور یہ بات اللہ کے لئے کچھ مشکل نہیں، کوئی بھی گنہ گار شخص دوسرے کے گناہ کا بوجھ نہیں اٹھائے گا، گوجس شخص کو بلایا گیا ہے رشتہ دار ہی کیوں نہ ہو، جیسا کہ باپ اور بیٹا اور دونوں صورتوں میں عدم حمل اللہ کا حکم ہے، آپ تو صرف ان ہی لوگوں کو ڈراسکتے ہیں جو اپنے رب سے غائبانہ ڈرتے ہوں یعنی اس سے ڈرتے ہوں حالانکہ اس کو دیکھا نہیں ہے، اس لئے کہ یہی لوگ تنبیہ سے فائدہ اٹھانے والے…
Read the full tafseer →اِنْ اَنْتَ الاَّ نَذِیْرٌ کا یہ مطلب ہے کہ آپ کا کام صرف دوزخ کا خوف دلانا ہے ‘ ہدایت یاب کرنے پر آپ کو قدرت نہیں ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–24
(19۔ 24) اور کافر مومن دونوں برابر نہیں اور نہ کفر و ایمان اور نہ جنت و دوزخ اور نہ مومنین و کافرین اطاعت و بزرگی میں برابر ہوسکتے ہیں اور اللہ تعالیٰ جو اس چیز کا اہل ہوتا ہے اس کو سمجھا دیتا ہے اور آپ ان لوگوں کو نہیں سمجھا سکتے جو ایسے ہیں جیسا کہ قبروں میں دفن کیے گئے ہیں۔ آپ تو صرف قرآن کریم کے ذریعے سے ڈرانے والے پیغمبر ہیں۔ ہم ہی نے آپ کو قرآن کریم دے کر مسلمانوں کو جنت کی خوشخبری سنانے والا اور کافروں کو دوزخ سے ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے کوئی امت ایسی نہیں ہوئی جس میں کوئی اللہ کی طرف سے ڈرانے والا پیغمبر نہ گزرا ہو۔
Read the full tafseer →اِنْ اَنْتَ اِلَّا نَذِيْرٌ : یعنی تیرا کام لوگوں کو خبردار کرنے اور اللہ کے عذاب سے ڈرانے سے زیادہ کچھ نہیں، انھیں ہدایت دینا اور ان کے دل میں ایمان اتار دینا تیرا کام نہیں، یہ صرف اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے، اس لیے تو ان کے ایمان نہ لانے پر اس قدر دلبرداشتہ اور غم زدہ نہ ہو۔
Read the full tafseer →یعنی آپ ڈرانے والے رسول ہیں آپ کے ذمہ صرف تبلیغ ہے، آپ کے ذمہ ہدایت دینا نہیں، ہدایت اللہ تعالیٰ نے اپنے قبضہ قدرت میں رکھی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–26
(آیت) ” وما یستوی الاحیآء ولا الا موات “ سے مراد ہے مؤمن اور کافر، ان اللہ یسمع من یشآء “ (اللہ تعالیٰ سنتا ہے جس کو چاہتا ہے) یعنی ہدایت دیتا ہے جس کو چاہتا ہے۔ سماع موتی کا مسئلہ : 10:۔ ابوسہل السری بن سہل الجندب بوری الخامس نے اپنی حدیث میں عبدالقدوس کے طریق سے احمد ابوصالح سے ابن عباس ؓ سے (آیت) ” انک لا تسمع الموتی “ (الروم آیت 52) (یہ آپ مردوں کو نہیں سنا سکتے) اور (آیت) ” وما انت بمسمع من فی القبور “ (اور آپ ان لوگوں کو سنانے والے نہیں ہیں جو قبروں میں مدفون ہیں) کہ بارے میں روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ بدر کے دن مقتولین پر کھڑے ہوئے اور فرمایا (آیت) ” ھل وجدتم ماوعدربکم حقا “ یا فلاں بن…
Read the full tafseer →اِنْ اَنْتَ [آپ ﷺ نہیں ہیں ] اِلَّا نَذِيْرٌ [مگر ایک خبردار کرنے والے ] ۔ نوٹ۔ 2: یہ بات قرآن مجید میں متعدد مقامات پر فرمائی گئی ہے کہ دنیا مین کوئی امت ایسی نہیں گزری ہے جس کی ہدایت کے لئے اللہ تعالیٰ نے نبی مبعوث نہ فرمائے ہوں، مگر اس سلسلہ میں دو باتیں سمجھ لینی چاہئیں تاکہ کوئی غلط فہمی نہ ہو۔ اول یہ کہ ایک نبی کی تبلیغ جہاں جہاں تک پہنچ سکتی ہو وہاں کے لئے وہی نبی کافی ہے۔ یہ ضروری نہیں کہ ہر ہر بستی اور ہر ہر قوم میں الگ الگ انبیاء بھیجے جائیں۔ دوم یہ کہ ایک نبی کی دعوت و ہدایت کے آثار اور اس کی رہنمائی کے نقوش قدم جب تک محفوظ رہیں اس وقت تک کسی نئے نبی کی ضرورت نہیں ہے۔ (تفہیم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–26
سب اللہ کے محتاج ہیں، قیامت کے دن کوئی کسی کا بوجھ نہ اٹھائے گا، بینا اور نابینا، اندھیریاں اور روشنی، زندہ اور مردہ برابر نہیں، ہر امت میں نذیر بھیجا گیا ہے یہ پورے ایک رکوع کا ترجمہ ہے جس میں بہت سے امور پر تنبیہ فرمائی ہے اور متعدد نصیحتیں فرمائیں۔ اولاً یہ فرمایا کہ اے لوگو تم سب اللہ ہی کے محتاج ہو، اللہ تعالیٰ غنی ہے جسے کسی چیز کی حاجت نہیں ہے، کوئی بھی ایمان لانے والا اور اس کی عبادت کرنے والا یہ نہ سمجھے کہ اسے میری حاجت اور ضرورت ہے، بلکہ یہ سمجھ کر اس کی عبادت کرے کہ مجھے اسے راضی کرنے کی حاجت ہے، وہ غنی ہے، بےنیاز ہے اور ہر تعریف کا مستحق ہے، وہ ہر عیب سے پاک ہے اور صفات جلیلہ سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–26
ذکر فقرواحتیاج بشرواستغنا خداوند بر وبحر قال اللہ تعالی۔ یایھا الناس انتم الفقراء الی اللہ۔۔۔ الی۔۔۔ فکیف کان نکیر۔ (ربط) اوپر سے منکرین توحید کا رد چلا آرہا ہے اب یہ بتلاتے ہیں کہ یہ لوگ متکبر اور مغرور ہیں اور دراہم معدودہ کے نشہ کے میں چور ہیں اور خدا کی پکڑ سے بےفکر ہیں اور اس کی یاد سے دور ہیں۔ اور یہ نہیں سمجھتے کہ کل عالم اپنے وجود میں اور اپنی بقاء میں اللہ کا محتاج ہے اور خاص کر انسان تو سب سے زیادہ حاجتوں میں جکڑا ہوا ہے اور خداوند ذوالجلال۔ غنی مطلق اور بےنیاز مطلق ہے جب چاہے پکڑ سکتا ہے اللہ کو نہ کسی کے مال و دولت کی حاجت ہے اور نہ کسی کی عبادت کی حاجت ہے۔ وہ سب سے بےنیاز ہے پس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–25
25:۔ ان انت الخ : آپ کو ہم نے دین حق اور پیغام توحید دے کر اور بشیر و نذیر بنا کر بھیجا ہے۔ آپ کا کام پیغام حق پہنچانا۔ ماننے والوں کو خوشخبری دینا اور منکرین کو عذاب سے ڈرانا ہے۔ منوانا آپ کا کام نہیں۔ اسی طرح ہر امت میں ڈرانے والے ہوئے ہیں۔ وان یکذبوک الخ : یہ آنحضرت ﷺ کے لیے تسلی ہے۔ اگر مشرکین عرب ضد وعناد سے آپ کی تکذیب کرتے ہیں اور دعوت توحید کو نہیں مانتے تو آپ غم نہ کریں۔ گذشتہ قوموں نے بھی اپنے پیغمبروں کے ساتھ یہی سلوک کیا ہے۔ ان کے پاس انبیاء (علیہم السلام) معجزات، صحیفے اور کتابیں لے کر آئے لیکن انہوں نے پھر بھی نہ مانا من الامم العاتیۃ فلا تحزن من تکذیب ھؤلاء ایاک (روح ج 22 ص…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–26
ربط آیات گزشتہ آیات میں مشرکین کا رد تھا۔ نیز ساری مخلوق کے احتیاج اور اللہ تعالیٰ کی بےنیازی کا ذکر تھا۔ اس بنا پر تمام حاجات اللہ وحدہ لاشریک سے طلب کرنی چاہئیں اور اسی کی عبادت کرنی چاہئے۔ اللہ تعالیٰ قادر مطلق ہے ، وہ چاہے تو ساری مخلوق کو صفحہ ہستی سے نابود کرکے اس کی جگہ دوسری مخلوق کو لے آئے۔ لہٰذا ہر انسان کو محاسبہ اعمال کی فکر کرنی چاہئے۔ قیامت والے دن کوئی عزیز ترین رشتہ دار بھی کسی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔ اللہ نے حضور ﷺ کو مخاطب کرکے فرمایا کہ آپ ایسے لوگوں کو ڈراتے ہیں جو خدا تعالیٰ سے بن دیکھے ڈرمتے ہیں اور اس پر ایمان رکھتے ہیں۔ وہ لوگ نماز پڑھتے ہیں اور ظاہری و باطنی…
Read the full tafseer →اِنْ اَنْتَ اِلَّا نَذِيْرٌ 23 النذیر والنَّذِيرُ : المنذر، ويقع علی كلّ شيء فيه إنذار، إنسانا کان أو غيره . إِنِّي لَكُمْ نَذِيرٌ مُبِينٌ [ نوح/ 2] ( ن ذ ر ) النذیر النذیر کے معنی منذر یعنی ڈرانے والا ہیں ۔ اور اس کا اطلاق ہر اس چیز پر ہوتا ہے جس میں خوف پایا جائے خواہ وہ انسان ہو یا کوئی اور چیز چناچہ قرآن میں ہے : ۔ وَما أَنَا إِلَّا نَذِيرٌ مُبِينٌ [ الأحقاف/ 9] اور میرا کام تو علانیہ ہدایت کرنا ہے ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–23
انما تنذر الذین الخ فرماتا ہے۔ اے نبی (علیک السلام) آپ کا وعظ و پند اور ڈر سنانا انہی کو نافع اور کارآمد ہے جو غائبانہ اپنے اللہ سے ڈرتے ہیں اور نماز پڑھتے ہیں اور یہ بھی یاد رہے کہ من تزکیٰ الخ جو کوئی اصلاح پذیر ہوتا ہے اور نیک بختی اختیار کرتا ہے تو اس کا فائدہ اسی کے لیے ہے۔ اللہ اور نبی کو کوئی فائدہ نہیں، والی اللہ المصیر اور اللہ ہی کے پاس لوٹ کر جانا ہے۔ ہر شخص اپنے کئے کا بدلہ وہاں پاوے گا اور یہ گمراہ اپنی گمراہی پر کیا نازاں ہیں۔ کافرو مومن برابر نہیں ہوسکتے۔ جیسا کہ اندھا اور آنکھوں والا اور روشنی اور اندھیرا اور سایہ اور دھوپ اور مردہ اور زندہ برابر نہیں۔ یہ کافر و مومن کی مثالیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–24
اِنْ اَنْتَ اِلاَّ نَذِیْرٌ۔ اِنَّـآ اَرْسَلْنٰـکَ بِالْحَقِّ بَشِیْرًاوَّنَذِیْرًا ط وَاِنْ مِّنْ اُمَّۃٍ اِلاَّ خَلاَ فِیْھَا نَذِیْرٌ۔ (فاطر : 23، 24) (آپ تو بس ایک خبردار کرنے والے ہیں۔ ہم نے آپ کو حق کے ساتھ بشیر اور نذیر بنا کر بھیجا ہے اور کوئی امت ایسی نہیں گزری جس میں کوئی باخبر کرنے والا نہ آیا ہو۔ ) آپ ﷺ کی اصل حیثیت اور اس کی حد نبی کریم ﷺ کو تسلی دیتے ہوئے تبلیغ و دعوت کے حوالے سے آپ کی ذمہ داری کی حد بھی واضح کردی ہے۔ یعنی آپ کا کام لوگوں کو دعوت دینا اور انھیں آنے والے خطرے سے آگاہ کردینا ہے۔ کیونکہ ہم نے آپ کو نذیر بنا کر بھیجا ہے۔ اور نذیر کا کام آگاہ کردینا ہوتا ہے منوانا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–24
فہم القرآن ربط کلام : شرک اور التوحید کا ایک اور موازنہ۔ جس طرح اندھا اور بینا، اندھیرے اور روشنی، دھوپ اور سایہ برابر نہیں ہوسکتے اسی طرح زندہ اور مردہ برابر نہیں ہوتے۔ توحید اور شرک کے درمیان موازنہ فرما کر یہ ثابت کیا گیا ہے کہ توحید کا عقیدہ رکھنے والے زندہ ہیں اور شرک میں مبتلا ہونے والے مردہ ہیں۔ اللہ تعالیٰ جسے چاہتا ہے اسے سننے کی توفیق بخشتا ہے۔ اے حبیب ﷺ ! آپ قبروں میں دفن لوگوں کو نہیں سنا سکتے۔ آپ تو لوگوں کو ان کے برے اعمال کے نتیجہ سے ڈرا نے والے ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو حق کے ساتھ اس لیے بھیجا ہے کہ آپ حق قبول کرنے والوں کو خوشخبری سنائیں اور انکار کرنے والوں کو ان کے…
Read the full tafseer →23: اِنْ اَنْتَ اِلَّا نَذِیْرٌ (آپ تو صرف ڈر سنانے والے ہیں) یعنی آپ کے ذمہ صرف یہ ہے کہ آپ پہنچا دیں اور ڈرائیں خواہ جس کو ڈرسنایا گیا۔ ان میں سے ہو جو سن کر نفع حاصل کرتا ہے۔ خواہ ان میں سے ہو جو نفع حاصل نہیں کرتا بلکہ اصرار علی الکفر کرنے والا ہے۔ آپ پر کچھ گناہ نہ ہوگا۔
Read the full tafseer →23، ان انت الا نذیر، آپ کا کام صرف دوزخ کا خوف دلانا ہے ہدایت یافتہ کرنے پر آپ کو قدرت نہیں ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–23
18 تا 23۔ ترمذی ابوداؤد نسائی اور بیہقی وغیرہ میں ابی رمثہ کی حدیث 2 ؎ میں آنحضرت ﷺ نے اس آیت کو جو تفسیر فرمائی ہے (2 ؎ تفسیر الدر المنثورص 248 ج 5) حاصل اس کا یہ ہے کہ ابی رمثہ کہتے ہیں میں اپنے باپ کے ساتھ آنحضرت ﷺ کی خدمت میں ایک روز گیا جب آنحضرت پر میری نظر پڑی تو آپ نے میرے باپ سے پوچھا کہ یہ لڑکا تمہارا بیٹا ہے میرے باپ نے جواب دیا کہ ہاں آپ نے فرمایا کہ باپ بیٹے کا تعلق دنیا ہی دنیا کا ہے آخرت میں نہ بیٹا باپ کے کچھ گناہ بٹا سکتا ہے نہ باپ بیٹے کے یہ فرما کر پھر آپ نے یہ آیت پڑھی اسی طرح آپ کا وہ فرمانا مشہور ہے جو حجتہ الوداع میں آپ نے نصیحت کے طور پر فرمایا تھا جس کی روایت مسند…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–23
آیت 15 اللہ تبارک وتعالیٰ تمام لوگوں سے مخاطب ہے، انہیں ان کے احوال و اوصاف سے آگاہ فرماتا ہے کہ وہ ہر لحاظ سے اللہ تعالیٰ کے محتاج ہیں : (1) وہ وجود میں آنے کے لئے اس کے محتاج ہیں اگر اللہ تعالیٰ ان کو جود میں نہ لائے تو وہ وجود میں نہیں آسکتے۔ (2) وہ اپنے مختلف قویٰ اعضاء اور جوارح کے حصول میں اس کے محتاج ہیں۔ اگر اللہ تعالیٰ ان کو یہ قوی عطا نہ کرے تو کسی کام کے لئے ان میں کوئی استعداد نہیں۔ (3) وہ خوراک، رزق اور دیگر ظاہری و باطنی نعمتوں کے حصول میں اسی کے محتاج ہیں۔ اگر اس کا فضل و کرم نہ ہو اور اگر وہ ان امور کے حصول میں آسانی پیدا نہ کرے تو وہ رزق اور دیگر نعمتیں حاصل نہیں کرسکتے۔ (4)…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–27
حانث نہ ہونے کی صورتیں قول باری ہے (ومن کل تاکلون لحما طریاو تستخرجون حلیۃ تلبسونھا اور ہر ایک سے تم تازہ گوشت کھاتے ہو اور زیور نکالتے ہو جسے تم پہنتے ہو) حلیہ سے یہاں موتی اور وہ چیزیں مراد ہیں جو سمندر سے نکالی جاتی ہیں اور بطور زیور انہیں پہنا جاتا ہے۔ اگر کوئی عورت زیور نہ پہننے کی قسم کھالے تو اس قسم کے بارے میں فقہاء کے مابین اختلاف رائے ہے۔ امام ابوحنیفہ کا قول ہے کہ تنہا موتی زیور نہیں کہلاتے جب تک ان کے ساتھ سونا نہ ہو۔ کیونکہ قول باری ہے (ومما یوقدون علیہ فی النار ابتغآء حلیۃ او متاع اور جن چیزوں کو زیور یا (اور) اسباب بنانے کی غرض سے آگ کے اندر تپاتے ہیں) یہ بات سونے میں ہوتی ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–23
54 مومن زندہ اور کافر و مشرک مردہ : سو ارشاد فرمایا گیا " اور نہ ہی زندے اور مردے آپس میں برابر ہوسکتے ہیں "۔ یہ اس تمثیل و توضیح میں مزید ترقی ہے کہ یہ لوگ صرف اندھوں ہی کی طرح نہیں بلکہ یہ تو مردے ہیں۔ کیونکہ اندھوں میں تو ان کے اندھے پن کے باوجود افادہ و استفادہ کی قوت و صلاحیت موجود ہوتی ہے بخلاف مردوں کے کہ ان میں کسی افادہ و استفادہ کی کوئی صلاحیت ہی سرے سے نہیں ہوتی۔ پس یہ کفار و مشرکین دراصل مردہ ہیں۔ ان کے ضمیر مرچکے ہیں اور ان کے سینے ان کے ان مردہ ضمیروں کے لئے مدفن اور قبرستان بن چکے ہیں۔ پس نہ تو ان سے خیر کی کوئی توقع رکھو اور نہ ان کے سلوک و کردار سے دل گرفتہ ہوؤ کہ یہ اگرچہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–45
سچ تو یہ ہے جو اللہ نے اعلان کیا ہے تشریح : ان آیات کی وضاحت کیا کی جائے یہ تو بذات خود علم و عرفان اور کلام الٰہی کی انتہائی آسان اور عام فہم مضمون کا مجموعہ ہیں۔ اہل علم کو معلوم ہے کہ مومن کو آنکھوں والا، زندہ اور نور سے تشبیہ دی گئی ہے جبکہ کافر کو اندھا، تاریکی اور مردہ کہا گیا ہے۔ پھر کفار کی ایک خاص خصلت کا ذکر کیا گیا ہے کہ وہ اتنا ہٹ دھرم اور ضد کا پکا ہوتا ہے کہ ہمیشہ نبیوں کو جھٹلاتا رہتا ہے اس لیے سیدنامحمد ﷺ کو بار بار یہ تاکید کی گئی ہے کہ آپ ان کی ضد پر پریشان نہ ہوا کریں بس آپ ان کو سمجھاتے رہیں ان سے نمٹنا اللہ کا کام ہے۔ بار بار کفار کے لیے دوزخ اور مومن کے لیے جنت کا اعلان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–26
رکوع نمبر 3 ۔ آیات 15 تا 26: اسرار و معارف : لوگو تمہارے بس میں تو کچھ بھی نہیں تمہارا سارا سرمایہ صرف احتیاج ہے اپنے وجود اپنی ذات اپنے اوصاف میں تم ہر طرح سے محتاج ہو اور اللہ ایسا بےنیاز نہ اسے تمہاری احتیاج ہے اور نہ ہی کسی اور کی بلکہ وہ ہی ایسا کامل ہے جسے ہر تعریف سزاوار ہے بھلا تم اس کی ناشکری اور کفر کا راستہ اپناتے جو اس قدر بےنیاز اور قادر ہے کہ چاہے تو ایک آن میں تم سب کو تباہ اور نابود کردے اور تمہاری جگہ ایک نئی مخلوق پیدا کردے کہ یہ اس کے لیے کچھ بھی مشکل نہیں یہ اس کی شان کریمی ہے کہ تمہیں باوجود تمہاری نافرمانیوں کے مہلت دے رکھی ہے مگر اس کا یہ مطلب بھی نہیں کہ تمہیں کوئی…
Read the full tafseer →ف 10 یعنی لوگوں کو اللہ تعالیٰ کے عذاب سے خبردار کرنے والا رہا ہدایت کرنا اور راہ راست پر لانا تو یہ اللہ تعالیٰ کا کام ہے۔ آپ ﷺ پر اس کی کوئی ذمہ داری نہیں ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–24
(35:23) الاموات۔ المیت کی جمع ہے مردے۔ مراد جاہل لوگ۔ یسمع۔ مضارع واحد مذکر غائب۔ اسماع مصدر۔ (باب افعال) وہ سناتا ہے۔ وہ سنا کر دل میں بٹھا دیتا ہے۔ مسمع۔ اسم فاعل بحالت جر۔ واحد مذکر ۔ سنانے والا۔ من فی القبور۔ وہ جو قبروں کے اندر ہیں۔ کفر پر جمے رہنے والوں کو مردوں سے تشبیہ دی گئی ہے۔ اور مردے بھی وہ جو قبروں کے اندر ہوں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–26
لغات القرآن : آیت نمبر 15 تا 26 فقرائ ( محتاج ، ضرورت مند) الغنی ( بےنیاز ، جو کسی کا محتاج نہ ہو) الحمید (جس کی ذات میں ہر طرح کی خوبیاں موجود ہوں) لا تزر (بوجھ نہیں اٹھاتا ہے) مثقلۃ ( لدا ہوا بوجھ) حمل (بوجھ) مسمع ( سنانے والا) خلا (گزر گیا) زبر (صحیفے ، کتابیں) نکیر (عذاب) تشریح : آیت نمبر 15 تا 26 :۔ انسان کی سب سے بڑی بھول اور نادانی یہ ہے کہ وہ اپنی حاجتوں اور ضرورتوں کے لئے ایک اللہ کو چھوڑ کر بہت سی ایسے کمزور اور ناقابل اعتبار سہاروں میں زندگی گزارنے کی کوشش کرتا ہے جن کی کوئی حیثیت اور اہمیت نہیں ہوتی اور اس طرح وہ زندگی بھر گمراہی کے اسی دائرے میں گھومتا رہتا ہے۔ ایسے نادانوں سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–23
مسلمان اور کافر کی مثال۔ (ف 1) ان آیتوں میں فرمایا کہ کوئی شخص قیامت کے دن کسی دوسرے شخص کے گناہ کا ذمہ دار نہیں اور اگر کوئی شخص اپنے گناہوں میں لدا ہوا کسی دوسرے شخص کو اس بوجھ کے اٹھانے کے واسطے پکارے گا تو وہ شخص اگرچہ اس کا بہت قریب کا رشتہ دار ہی کیوں نہ ہو جیسے باپ یابـیٹا ، جب بھی اسکے گناہوں کا بوجھ اپنے سرنہ لے گا، ان دونوں صورتوں میں بوجھ کہ نہ اٹھانا اللہ کے حکم کی وجہ سے ہے اب قیامت کا نفسانفسی اور قرابت داروں کے غیر ہوجانے کا حال ذکر فرماکر کہ بغیر دیکھے قیامت کی باتوں کا اور خدا کے سامنے کھڑے ہونے کا جن کو خوف ہے ان کو ہی اللہ کے رسول کی نصیحت کچھ کارگر ہوتی ہے دنیا کی محبت میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–28
[13] یعنی جس طرح نباتات، جمادات اور حیوانات میں رنگ برنگ کی مخلوق ہے اس طرح انسانوں میں بھی ہر ایک کی طرح جدا ہے۔ یہ کب ہوسکتا ہے کہ سب انسان ایک طرح کے ہوجائیں اور مومن و کافر سب یکساں ہوجائیں۔ اس آیت میں آپ ﷺ کو تسلی دی گئی کہ لوگوں کے اختلاف سے غمگین نہ ہوں۔ [14] یہاں علم سے مراد دنیوی علوم نہیں بلکہ اللہ کی عظمت اور اس کی صفات کا علم ہے جس شخص کو اللہ کی عظمت وصفات کی جتنی معرفت ہوگی اتنا ہی وہ اس کی نافرمانی سے ڈرے گا۔ نیز اس آیت میں '' علمائ '' سے وہ اصطلاحی علماء مراد نہیں ہیں جو قرآن و حدیث اور فقہ کا علم رکھنے کی بناء پر علمائے دین کہے جاتے ہیں۔ وہ اس آیت کے مصداق صرف اسی صورت میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–23
ف 1: غرض یہ ہے کہ اسلام ہے بصارت کا ۔ نور کا ۔ اور سراسر زندگی کا ۔ عظمت و تاریکی ہے ۔ اور موت کے مترادف ہے ۔ اور ان دونوں میں بہت بڑا فرق ہے ۔ یہ ناممکن ہے ۔ درجہ میں دونوں برابری حاصل کرسکیں ۔ فرمایا کہ یہ مکہ والے چونکہ جہل وتعصب کی تاریک قبروں میں مدفون ہیں ۔ اس لئے آپ کی جانوں کو نہیں سمجھ سکتے ۔ اور باوجود اس کے کہ اسلام اور کفر میں ایک بین فرق ہے ۔ یہ نہیں محسوس کرسکتے ۔
Read the full tafseer →(23) آپ تو صرف ڈرانے والے ہیں۔ یعنی اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈرانا صرف آپ کا یہی کام ہے آپ کسی کے قبول کرنے نہ کرنے کے ذمہ دار نہیں ہیں۔ اس لئے آپ کو لوگوں کے ایمان نہ لانے پر افسوس نہ کرنا چاہیے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–27
ف 4۔ جب یہ مردے ہیں، تو مردوں کو زندہ کرنا خدا کی قدرت میں ہے بندہ کی قدرت میں نہیں۔
Read the full tafseer →اے پیغمبر اسلام ! آپ ﷺ کا کام نذارت ہے اسی لئے ان کو خبردا کردیں 23 ۔ اے پیغمبر اسلام ! آپ ﷺ کا کام سوئے ہوئوں کو جگا دینا ہے کہ ” قم قم یا حبیبی کم تنام “ بہت سو لیا ہے تم نے ، جاگو اور اپنی آنے والی زندگی کے لئے کچھ کرلو۔ ہاں ! وہ جو جاگنے کے باوجود سوگئے ہیں ان کو کوئی نہیں جگا سکتا۔ آپ ﷺ ان کے جگانے کے ذمہ دار بھی نہیں ہیں۔ سونا ، جاگنایا جاگنے کے باوجود سوجانا ، ان کی ذمہ داری ہے آپ ﷺ کا کام فقط خبردار کردینا ہے۔ اس لئے جب آپ ﷺ نے ان کو خبردار کردیا تو گویا اپنی ذمہ داری پوری کردی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–26
At the beginning of the verse: وَمَا أَنتَ بِمُسْمِعٍ مَّن فِي الْقُبُورِ (And you cannot make hear those who are in the graves - 22.), disbelievers have been likened to the dead and believers, to the living. In congruence to this, the expression: (those in the graves) here means the disbelievers. The sense is that 'the way you cannot make the dead hear you, you can also not make these living disbelievers hear you.' This verse has itself clarified it that, at this place, making someone hear means the kind of listening that is going to be useful, effective and beneficial. Otherwise, the…
Read the full tafseer →44 That is, "Your only duty is to warn the people and nothing else. If even after this a person dces not come to his senses, and remains lost in his deviations, you are not to blame for that, for you have not been entrusted with the duty of making the blind to see and the deaf to hear. "
Read the full tafseer →