Explained with ayahs 19–26
ایک موازنہ۔
ارشاد ہوتا ہے کہ مومن و کفار برابر نہیں۔ جس طرح اندھا اور دیکھتا۔ اندھیرا اور روشنی، سایہ اور دھوپ، زندہ اور مردہ برابر نہیں۔ جس طرح ان چیزوں میں زمین و آسمان کا فرق ہے اسی طرح ایمان دار اور بےایمان میں بھی بےانتہا فرق ہے۔ مومن آنکھوں والے اجالے، سائے اور زندہ کی مانند ہے۔ برخلاف اس کے کافر اندھے اندھیرے اور بھرپور لو والی گرمی کی مانند ہے۔ جیسے فرمایا (اَوَمَنْ كَانَ مَيْتًا فَاَحْيَيْنٰهُ وَجَعَلْنَا لَهٗ نُوْرًا يَّمْشِيْ بِهٖ فِي النَّاسِ كَمَنْ مَّثَلُهٗ فِي الظُّلُمٰتِ لَيْسَ بِخَارِجٍ مِّنْهَا ۭ كَذٰلِكَ زُيِّنَ لِلْكٰفِرِيْنَ مَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ01202) 6۔ الانعام…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–23
سورة فَاطِر 42
ان تمثیلات میں مومن اور کافر کے حال اور مستقبل کا فرق بتایا گیا ہے۔ ایک وہ شخص ہے جو حقائق سے آنکھیں بند کیے ہوئے ہے اور کچھ نہیں دیکھتا کہ کائنات کا سارا نظام اور خود اس کا اپنا وجود صداقت کی طرف اشارے کر رہا ہے۔ دوسرا وہ شخص ہے جس کی آنکھیں کھلی ہیں اور وہ صاف دیکھ رہا ہے کہ اس کے باہر اور اندر کی ہر چیز خدا کی توحید اور اس کے حضور انسان کی جوابدہی پر گواہی دے رہی ہے۔ ایک وہ شخص ہے جو جاہلانہ اوہام اور مفروضات و قیاسات کی تاریکیوں میں بھٹک رہا ہے اور پیغمبر کی روشن کی ہوئی شمع کے قریب بھی پھٹکنے کے لیے تیار نہیں۔ دوسرا وہ شخص ہے جس کی آنکھیں کھلی ہیں اور پیغمبر کی پھیلائی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–26
(آیت) وما انت بمسمع من فی القبور، اس آیت کے شروع میں کفار کی مثال مردوں سے اور مومنین کی زندوں سے دی گئی ہے۔ اسی کی مناسبت سے یہاں من فی القبور سے مراد کفار ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ جس طرح آپ مردوں کو نہیں سنا سکتے ان زندہ کافروں کو بھی نہیں سنا سکتے۔
اس آیت نے خود یہ بات واضح کردی کہ یہاں سنانے سے مراد وہ سنانا ہے جو مفید وموثر اور نافع ہو، ورنہ مطلق سنانا تو کفار کو ہمیشہ ہوتا ہی رہا، اور مشاہدہ میں آتا رہا ہے کہ ان کو تبلیغ کرتے اور وہ سنتے تھے۔ اس لئے مراد اس آیت کی یہ ہے کہ جس طرح آپ مردوں کو کلام حق سنا کر راہ حق پر نہیں لا سکتے کیونکہ وہ دنیا کے دارالعمل سے آخرت کے دار الجزاء میں منتقل ہوچکے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–24
آیت 22
یہ وہی مضمون دوسرے الفاظ اور دوسرے اسلوب میں بیان ہوا ہے۔ اس دور میں نبی ﷺ کو اپنی قوم کو بیزاری سے بڑی پریشانی تھی۔ آپ کو اندیشہ تھا کہ مبادا اس میں آپ ﷺ ہی کی کسی کوتاہی کو دخل ہو۔ آپ ﷺ کی یہ پریشانی دور کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے مختلف اسلوبوں سے تسلی دی کہ تمہارا کام زندوں کو سنانا ہے، مردوں کو جگانا تمہاری ذمہ داری نہیں ہے۔ جن کی صلاحیتوں زندہ ہیں وہ تمہاری بات سن رہے ہیں اور مان رہے ہیں۔ رہے وہ جو عقلی و روحانی اعتبار سے بالکل مردہ ہوچکے ہیں اگر تم چاہتے ہو کہ یہ تمہاری بات سننے والے بن جائیں تو یہ ہونے سے رہا۔
’ ان اللہ یسمع من یشاء۔ ’ اسماع ‘ یہاں بات کو سننے اور ماننے کی توفیق…
Read the full tafseer →22۔ 1 احیاء سے مومن اور اموات سے کافر یا علماء اور جاہل یا عقلمند اور غیر عقلمند مراد ہیں۔
22۔ 2 یعنی جسے اللہ ہدایت سے نواز نے والا ہوتا ہے اور جنت اس کی مقدر ہوتی ہے، اسے حجت یا دلیل سننے اور پھر اسے قبول کرنے کی تو فیق دے دیتا ہے۔
22۔ 3 یعنی جس طرح قبروں میں مردہ اشخاص کی کوئی بات نہیں سنائی جاسکتی اسی طرح جن لوگوں کے دلوں کو کفر نے موت سے ہمکنار کیا اے پیغمبر تو انہیں حق کی بات نہیں سنا سکتا مطلب یہ ہوا کہ جس طرح مرنے اور قبر میں دفن ہونے کے بعد مردہ کوئی فائدہ نہیں اٹھا سکتا، اسی طرح کافر و مشرک جن کی قسمت میں بدبختی لکھی ہے دعوت و تبلیغ سے انہیں فائدہ نہیں ہوتا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–27
7: جن لوگوں نے ضد اور ہٹ دھرمی سے حق بات ماننے کے تمام دروازے اپنے اوپر بند کرلئے ہیں، ان کو پہلے اندھوں سے تشبیہ دی گئی ہے، اور ان کے کفر کو اندھیروں سے، اور اس کی سزا میں انہیں دوزخ کے جس عذاب کا سامنا کرنا پڑے گا اس کو دھوپ سے۔ اس کے مقابلے میں حق پرستوں کو دیکھنے والوں سے، ان کے دین کو روشنی سے، اور جنت کی جو نعمتیں انہیں حاصل ہوں گی، ان کو سائے سے تعبیر کیا گیا ہے۔ پھر فرمایا گیا ہے کہ جن لوگوں نے حق کو قبول کرنے کی صلاحیت ہی ختم کرلی ہے، وہ تو مردوں جیسے ہیں، اور مردوں کو آپ اپنی مرضی سے کچھ سنا نہیں سکتے۔ اس طرح آنحضرت ﷺ کو تسلی دی جا رہی ہے کہ اگر یہ لوگ حق کو قبول نہیں کر رہے تو آپ…
Read the full tafseer →ان اللہ یسمع ۔۔۔۔۔ فکیف کان نکیر (22 – 26) ”
اس کائنات کی حقیقت اور نفس انسانی کی ماہیت میں امتیازات حقیقی نوعیت کے ہوتے ہیں۔ لوگوں کا مزاج مختلف ہوتا ہے اور دعوت اسلامی کے حوالے سے ان کا ردعمل بھی جدا ہوتا ہے اس طرح جس طرح بصارت اور اندھے پن کا ، سائے اور دھوپ کا ، اندھیروں اور روشنی کا اور حیات اور موت کا ، اور ان تمام معاملات کی پشت پر اللہ کی حکمت اور قدرت کام کر رہی ہوتی ہے۔
لہٰذا رسول صرف نذیر ہوتا ہے۔ اس کی انسانی طاقت محدود ہوتی ہے۔ وہ قبروں کے اندر پڑے مردوں تک دعوت نہیں پہنچا سکتا۔ نہ ایسے چلتے پھرتے مردوں کو وہ دعوت دے سکتا ہے یا سنا سکتا ہے۔ وہ اصل میں حقیقی مردوں کی طرح ہوتے ہیں۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–22
9 یعنی مومن جس کو اللہ نے دل کی آنکھیں دی ہیں، حق کے اجالے اور وحی الٰہی کی روشنی میں بےکھٹکے راستہ قطع کرتا ہوا جنت کے باغوں اور رحمت الٰہی کے سایہ میں جا پہنچا ہے۔ کیا اس کی برابری وہ کافر کرسکے گا جو دل کا اندھا اوہام و ہواء کی اندھیریوں میں بھٹکتا ہوا جہنم کی آگ اور اس کی جھلس دینے والی لوؤں کی طرف بےتحاشا چلا جا رہا ہے۔ ہرگز نہیں۔ ایسا ہو تو یوں سمجھو کہ مردہ اور زندہ برابر ہوگیا۔ فی الحقیقت مومن و کافر میں اس سے بھی زیادہ تفاوت ہے جو ایک زندہ تندرست آدمی اور مردہ لاش میں ہوتا ہے، اصل اور دائمی زندگی صرف روح ایمان سے ملتی ہے۔ بدون اس کے انسان کو ہزار مردوں سے بدتر مردہ سمجھنا چاہیے۔
Read the full tafseer →آیت 22 { وَمَا یَسْتَوِی الْاَحْیَآئُ وَلَا الْاَمْوَاتُ } ”اور نہ برابر ہوسکتے ہیں زندہ اور مردہ لوگ۔“
یہاں مردوں سے مراد وہ مردے نہیں جو قبروں میں دفن ہیں ‘ بلکہ یہ ان جیتے جاگتے انسانوں کا تذکرہ ہے جن کی روحیں مردہ ہوچکی ہیں۔ اگرچہ جسمانی اعتبار سے تو ایسے لوگ زندوں میں شمار ہوتے ہیں لیکن حقیقت میں وہ چلتے پھرتے مقبرے اور تعزیے ہیں ‘ کیونکہ ان کی انسانیت مر کر ان کے جسموں کے اندر دفن ہوچکی ہے۔ اسی طرح یہاں زندوں سے وہ لوگ مراد ہیں جن کی روحیں اور جن کے دل زندہ ہیں۔ زندگی کے اس فلسفے کو میر در ؔد نے اس طرح بیان کیا ہے : ؎
مجھے یہ ڈر ہے دل زندہ تو نہ مرجائے کہ زندگانی عبارت ہے تیرے جینے سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–23
28 یہاں زندہ سے مراد وہ لوگ ہیں جن کے دل اور ضمیر زندہ ہیں۔ جو بدی کو بدی ہی سمجھتے ہیں اور نیکی کی راہ کی تلاش میں رہتے ہیں۔ پھر اس پر عمل پیرا بھی ہوتے ہیں۔ اور مردہ سے مردہ دل لوگ یا کافر ہیں۔ ان کے ضمیر اور ان کے دل اس قدر مرچکے ہیں کہ ہدایت کی بات ان کے دل تک پہنچتی ہی نہیں۔ نہ وہ اسے سننا گوارا کرتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ آپ کا ایسے لوگوں کو نصیحت کرنا بےسود ہے۔
29 سماع موتی کا رد :۔ ربط مضمون کے لحاظ سے یہ مطلب بھی لیا جاسکتا ہے کہ قبروں میں پڑے لوگوں سے مراد یہی مردہ دل کافر لوگ ہیں مگر الفاظ کے ظاہری معنوں کا اعتبار کرنا زیادہ صحیح ہوگا۔ یعنی جو لوگ قبروں میں جاچکے ہیں انہیں اللہ تو سنا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–22
34۔ (اسی طرح کافر اور مومن بھی یکساں نہیں ہوسکتے) (آیت) ” البصیر۔ النور۔ الظل۔ الاحیآء “۔ ادراک حق ہونے کے لحاظ سے مومن کی مثال آنکھوں والے اور نور اور سایہ اور زندہ کی ہے۔ (آیت) ” الاعمی۔ الظلمت۔ الحرور۔ الاموات “۔ ادراک حق نہ کرنے کے لحاظ سے کافر کی مثال نابینا اور تاریکی اور چلچلاتی دھوپ اور مردہ کی ہے۔ لا۔ لا۔ لا۔ تاکید نفی کیلیے ہے، اور اس کی تکرار تاکید مزید کے لیے ہے۔ لا لتاکید نفی الاستوآء وتکریر ھا علی الشقین لمزید التاکید (بیضاوی) وزیادۃ ” لا “ لتاکید معنی النفی (مدارک)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–26
آیت نمبر 15 تا 26
ترجمہ : اے لوگو ! تم ہرحال میں اللہ کے محتاج ہو اور اللہ تو اپنی مخلوق سے بےنیاز ہے اور وہ اپنی مخلوق پہر احسان کی وجہ سے سزاوار حمد ہے اگر وہ چاہے تو تم کو فنا کردے اور تمہاری جگہ ایک نئی مخلوق پیدا کردے اور یہ بات اللہ کے لئے کچھ مشکل نہیں، کوئی بھی گنہ گار شخص دوسرے کے گناہ کا بوجھ نہیں اٹھائے گا، گوجس شخص کو بلایا گیا ہے رشتہ دار ہی کیوں نہ ہو، جیسا کہ باپ اور بیٹا اور دونوں صورتوں میں عدم حمل اللہ کا حکم ہے، آپ تو صرف ان ہی لوگوں کو ڈراسکتے ہیں جو اپنے رب سے غائبانہ ڈرتے ہوں یعنی اس سے ڈرتے ہوں حالانکہ اس کو دیکھا نہیں ہے، اس لئے کہ یہی لوگ تنبیہ سے فائدہ اٹھانے والے…
Read the full tafseer →ومایستوی الاحیاء ولا الاموات . اور زندہ اور مردے برابر نہیں ہوسکتے۔
اَ لْاَعْمٰی راہ راست سے نابینا ‘ یعنی کافر یا جاہل۔
اَلْبَصِیْرُ دیکھنے والا ‘ یعنی مؤمن یا جاننے والا۔
الظُّلُمٰتُ تاریکیاں ‘ یعنی کفر۔
النُّوْرُ روشنی ‘ یعنی ایمان۔
الظِلُّ چھاؤں ‘ یعنی جنت اور ثواب۔
اَلْحَرُوْرُ یعنی دوزخ اور عذاب۔
وَمَا یَسْتَوِی الْاَحْیَاءُ وَلاَ الْاَمْوَاتُ یہ اہل ایمان و کفر کی دوسری تشبیہ ہے جو اول تشبیہ سے زیادہ بلیغ ہے اس لئے فعل کو مکرر ذکر کیا۔ بعض کے نزدیک یہ اہل علم و جہل کی تمثیل ہے (اور اول الذکر تشبیہ اہل ایمان و کفر کی ہے) ۔
ان اللہ لسیمع من یشاء . اللہ بلاشبہ جس کو (راہ راست پر چلانا)…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–24
(19۔ 24) اور کافر مومن دونوں برابر نہیں اور نہ کفر و ایمان اور نہ جنت و دوزخ اور نہ مومنین و کافرین اطاعت و بزرگی میں برابر ہوسکتے ہیں اور اللہ تعالیٰ جو اس چیز کا اہل ہوتا ہے اس کو سمجھا دیتا ہے اور آپ ان لوگوں کو نہیں سمجھا سکتے جو ایسے ہیں جیسا کہ قبروں میں دفن کیے گئے ہیں۔
آپ تو صرف قرآن کریم کے ذریعے سے ڈرانے والے پیغمبر ہیں۔
ہم ہی نے آپ کو قرآن کریم دے کر مسلمانوں کو جنت کی خوشخبری سنانے والا اور کافروں کو دوزخ سے ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے کوئی امت ایسی نہیں ہوئی جس میں کوئی اللہ کی طرف سے ڈرانے والا پیغمبر نہ گزرا ہو۔
Read the full tafseer →وَمَا يَسْتَوِي الْاَحْيَاۗءُ وَلَا الْاَمْوَاتُ ۭ : یہ ایمان لانے والوں کی اور ایمان نہ لانے والوں کی مثال ہے کہ ایمان لانے والے زندوں کی طرح ہیں اور ایمان نہ لانے والے مردوں کی طرح۔ ابن کثیر ؓ نے فرمایا، جس طرح یہ باہم متضاد اور مختلف چیزیں برابر نہیں ہیں کہ اندھا اور دیکھنے والا برابر نہیں، بلکہ دونوں کے درمیان بہت سا فرق اور بعد ہے اور جس طرح اندھیرے اور روشنی برابر نہیں اور سایہ اور لو برابر نہیں، اسی طرح زندہ اور مردے برابر نہیں۔ یہ مثال ہے جو اللہ تعالیٰ نے ایمان والوں کے لیے بیان فرمائی ہے کہ وہ زندہ ہیں اور کافروں کے لیے کہ وہ مردہ ہیں، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (اَوَمَنْ كَانَ…
Read the full tafseer →آیت : ومایستوی الاحیاء ولا الاموات ابن قتیبہ نے کہا : احیا سے مراد عقلاء ہیں اور اموات سے مراد جہلاء ہیں (1) ( زاد المسیر، جز 6، صفحہ 262 ) ۔
قتادہ نے کہا : یہ سب امثال ہیں، یعنی جس طرح یہ اشیاء برابر نہیں ہو سکتیں اسی طرح کافر اور مومن برابر نہیں ہو سکتے۔ آیت : ان اللہ یسمع من یشاء اللہ تعالیٰ اپنے ان اولیاء کو سناتا ہے ج ہیں اللہ تعالیٰ نے جنت کے لیے پیدا کیا۔ آیت : وما انت بمسع من فی القبور یعنی وہ کفارجنکے دلوں کو کفر نے مار دیا۔ یعنی جس طرح جو مر چکا ہے اسے آپ نہیں سناتے اسی طرح جس کا دل مردہ ہے اسے آپ نہیں سناتے۔ حضرت حسن بصری، عیسیٰ ثقفی اور عمرو بن میمون نے بمسع من فی القبور تنوین کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–26
(آیت) ” وما یستوی الاحیآء ولا الا موات “ سے مراد ہے مؤمن اور کافر، ان اللہ یسمع من یشآء “ (اللہ تعالیٰ سنتا ہے جس کو چاہتا ہے) یعنی ہدایت دیتا ہے جس کو چاہتا ہے۔
سماع موتی کا مسئلہ :
10:۔ ابوسہل السری بن سہل الجندب بوری الخامس نے اپنی حدیث میں عبدالقدوس کے طریق سے احمد ابوصالح سے ابن عباس ؓ سے (آیت) ” انک لا تسمع الموتی “ (الروم آیت 52) (یہ آپ مردوں کو نہیں سنا سکتے) اور (آیت) ” وما انت بمسمع من فی القبور “ (اور آپ ان لوگوں کو سنانے والے نہیں ہیں جو قبروں میں مدفون ہیں) کہ بارے میں روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ بدر کے دن مقتولین پر کھڑے ہوئے اور فرمایا (آیت) ” ھل وجدتم ماوعدربکم حقا “ یا فلاں بن…
Read the full tafseer →وَمَا يَسْتَوِي [اور برابر نہیں ہوتے ] الْاَحْيَاۗءُ وَلَا الْاَمْوَاتُ ۭ [زندہ لوگ اور نہ مردے ] اِنَّ اللّٰهَ يُسْمِعُ [بیشک اللہ سناتا ہے ] مَنْ يَّشَاۗءُ ۚ [اس کو جس کو وہ چاہتا ہے ] وَمَآ اَنْتَ بِمُسْمِعٍ [اور آپ ﷺ سنانے والے نہیں ہیں ] مَّنْ فِي الْقُبُوْرِ [ان کو جو قبروں میں ہیں ] ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–26
سب اللہ کے محتاج ہیں، قیامت کے دن کوئی کسی کا بوجھ نہ اٹھائے گا، بینا اور نابینا، اندھیریاں اور روشنی، زندہ اور مردہ برابر نہیں، ہر امت میں نذیر بھیجا گیا ہے
یہ پورے ایک رکوع کا ترجمہ ہے جس میں بہت سے امور پر تنبیہ فرمائی ہے اور متعدد نصیحتیں فرمائیں۔
اولاً یہ فرمایا کہ اے لوگو تم سب اللہ ہی کے محتاج ہو، اللہ تعالیٰ غنی ہے جسے کسی چیز کی حاجت نہیں ہے، کوئی بھی ایمان لانے والا اور اس کی عبادت کرنے والا یہ نہ سمجھے کہ اسے میری حاجت اور ضرورت ہے، بلکہ یہ سمجھ کر اس کی عبادت کرے کہ مجھے اسے راضی کرنے کی حاجت ہے، وہ غنی ہے، بےنیاز ہے اور ہر تعریف کا مستحق ہے، وہ ہر عیب سے پاک ہے اور صفات جلیلہ سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–26
ذکر فقرواحتیاج بشرواستغنا خداوند بر وبحر
قال اللہ تعالی۔ یایھا الناس انتم الفقراء الی اللہ۔۔۔ الی۔۔۔ فکیف کان نکیر۔
(ربط) اوپر سے منکرین توحید کا رد چلا آرہا ہے اب یہ بتلاتے ہیں کہ یہ لوگ متکبر اور مغرور ہیں اور دراہم معدودہ کے نشہ کے میں چور ہیں اور خدا کی پکڑ سے بےفکر ہیں اور اس کی یاد سے دور ہیں۔ اور یہ نہیں سمجھتے کہ کل عالم اپنے وجود میں اور اپنی بقاء میں اللہ کا محتاج ہے اور خاص کر انسان تو سب سے زیادہ حاجتوں میں جکڑا ہوا ہے اور خداوند ذوالجلال۔ غنی مطلق اور بےنیاز مطلق ہے جب چاہے پکڑ سکتا ہے اللہ کو نہ کسی کے مال و دولت کی حاجت ہے اور نہ کسی کی عبادت کی حاجت ہے۔ وہ سب سے بےنیاز ہے پس…
Read the full tafseer →ف 24:۔ وما یستوی الاحیاء الخ۔ احیاء (زندے) سے مراد مومنین اور اموت (مردے) سے مراد کفار ہیں۔ دل کی زندگی اور موت ایمان اور کفر ہے اس لیے مومنوں کو زندوں سے اور کافروں کو مردوں سے تشبیہ دی گئی ہے۔ ضد وعناد کی وجہ سے ان کافروں کے دلوں پر مہر جباریت ثبت ہوچکی ہے اور ان کے دلوں سے قبول حق کی صلاحیت سلب کرلی گئی ہے۔ اس لیے تبلیغ و انذار سے انہیں کوئی فائدہ نہ ہوگا ای کما لا تسمع من مات کذالک لا تسمع من مات قلبہ (قرطبی ج 14 ص 340) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–26
ربط آیات
گزشتہ آیات میں مشرکین کا رد تھا۔ نیز ساری مخلوق کے احتیاج اور اللہ تعالیٰ کی بےنیازی کا ذکر تھا۔ اس بنا پر تمام حاجات اللہ وحدہ لاشریک سے طلب کرنی چاہئیں اور اسی کی عبادت کرنی چاہئے۔ اللہ تعالیٰ قادر مطلق ہے ، وہ چاہے تو ساری مخلوق کو صفحہ ہستی سے نابود کرکے اس کی جگہ دوسری مخلوق کو لے آئے۔ لہٰذا ہر انسان کو محاسبہ اعمال کی فکر کرنی چاہئے۔ قیامت والے دن کوئی عزیز ترین رشتہ دار بھی کسی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔ اللہ نے حضور ﷺ کو مخاطب کرکے فرمایا کہ آپ ایسے لوگوں کو ڈراتے ہیں جو خدا تعالیٰ سے بن دیکھے ڈرمتے ہیں اور اس پر ایمان رکھتے ہیں۔ وہ لوگ نماز پڑھتے ہیں اور ظاہری و باطنی…
Read the full tafseer →وَمَا يَسْتَوِي الْاَحْيَاۗءُ وَلَا الْاَمْوَاتُ 0 ۭ اِنَّ اللہَ يُسْمِعُ مَنْ يَّشَاۗءُ 0 ۚ وَمَآ اَنْتَ بِمُسْمِعٍ مَّنْ فِي الْقُبُوْرِ 22
استوا
أن يقال لاعتدال الشیء في ذاته، نحو : ذُو مِرَّةٍ فَاسْتَوى[ النجم/ 6]
( س و ی ) المسا واۃ
کسی چیز کے اپنی ذات کے اعتبار سے حالت اعتدال پر ہونے کے لئے بولا جاتا ہے جیسے فرمایا : ۔ ذُو مِرَّةٍ فَاسْتَوى[ النجم/ 6] یعنی جبرائیل ) طاقتور نے پھر وہ پورے نظر آئے
حيى
الحیاة تستعمل علی أوجه :
الأوّل : للقوّة النّامية الموجودة في النّبات والحیوان، ومنه قيل : نبات حَيٌّ ، قال عزّ وجلّ : اعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ يُحْيِ الْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِها[ الحدید/…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–23
انما تنذر الذین الخ فرماتا ہے۔ اے نبی (علیک السلام) آپ کا وعظ و پند اور ڈر سنانا انہی کو نافع اور کارآمد ہے جو غائبانہ اپنے اللہ سے ڈرتے ہیں اور نماز پڑھتے ہیں اور یہ بھی یاد رہے کہ من تزکیٰ الخ جو کوئی اصلاح پذیر ہوتا ہے اور نیک بختی اختیار کرتا ہے تو اس کا فائدہ اسی کے لیے ہے۔ اللہ اور نبی کو کوئی فائدہ نہیں، والی اللہ المصیر اور اللہ ہی کے پاس لوٹ کر جانا ہے۔ ہر شخص اپنے کئے کا بدلہ وہاں پاوے گا اور یہ گمراہ اپنی گمراہی پر کیا نازاں ہیں۔ کافرو مومن برابر نہیں ہوسکتے۔ جیسا کہ اندھا اور آنکھوں والا اور روشنی اور اندھیرا اور سایہ اور دھوپ اور مردہ اور زندہ برابر نہیں۔ یہ کافر و مومن کی مثالیں…
Read the full tafseer →وَمَا یَسْتَوِی الْاَحْیَـآئُ وَلاَ الْاَمْوَاتُط اِنَّ اللّٰہَ یُسْمِعُ مَنْ یَّشَـآئُ ج وَمَـآ اَنْتَ بِمُسْمِعٍ مَّنْ فِی الْقُبُوْرِ ۔ (فاطر : 22)
(اور نہ زندے اور مردے برابر ہیں، اللہ ہی جن کو چاہتا ہے سناتا ہے، اور آپ ان کو سنانے والے نہیں ہیں جو قبروں کے اندر ہیں۔ )
ہدایت قبول نہ کرنے والے خود اپنی ضلالت کے ذمہ دار ہیں
جن لوگوں نے اپنی صلاحیتوں کو غلط استعمال کی وجہ سے ناکارہ کردیا، اور ضمیر کے نور سے محروم ہوگئے، یہ لوگ درحقیقت زندہ نہیں مردہ ہیں۔ کیونکہ :
دلِ مردہ دل نہیں ہے، اسے زندہ کر دوبارہ
کہ یہی ہے امتوں کے مرض کہن کا چارہ
ظاہر ہے کہ زندہ اور مردہ کسی لحاظ سے برابر نہیں ہوسکتے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–24
فہم القرآن
ربط کلام : شرک اور التوحید کا ایک اور موازنہ۔
جس طرح اندھا اور بینا، اندھیرے اور روشنی، دھوپ اور سایہ برابر نہیں ہوسکتے اسی طرح زندہ اور مردہ برابر نہیں ہوتے۔ توحید اور شرک کے درمیان موازنہ فرما کر یہ ثابت کیا گیا ہے کہ توحید کا عقیدہ رکھنے والے زندہ ہیں اور شرک میں مبتلا ہونے والے مردہ ہیں۔ اللہ تعالیٰ جسے چاہتا ہے اسے سننے کی توفیق بخشتا ہے۔ اے حبیب ﷺ ! آپ قبروں میں دفن لوگوں کو نہیں سنا سکتے۔ آپ تو لوگوں کو ان کے برے اعمال کے نتیجہ سے ڈرا نے والے ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو حق کے ساتھ اس لیے بھیجا ہے کہ آپ حق قبول کرنے والوں کو خوشخبری سنائیں اور انکار کرنے والوں کو ان کے…
Read the full tafseer →کفار کو مردوں کی طرح مسموعات سے فائدہ نہیں :
22: وَمَا یَسْتَوِی الْاَحْیَآ ئُ وَلَا الْاَمْوَاتُ (اور برابر نہیں زندہ اور نہ مردہ) یہ ان لوگوں کی مثال ہے جو اسلام میں داخل ہوئے اور وہ لوگ جو اس میں داخل نہ ہوئے۔ اور لاؔ کا اضافہ نفی کے معنی کی تاکید کیلئے ہے۔ اور ان واوات کے درمیان فرق یہ ہے کہ بعض تو طاق کو طاق کے ساتھ اور بعض جفت سے جفت تک کیلئے ہیں۔ اِنَّ اللّٰہَ یُسْمِعُ مَنْ یَّشَآ ئُ وَمَآ اَنْتَ بِمُسْمِعٍ مَّنْ فِی القُبُوْرِ (بیشک اللہ تعالیٰ جس کو چاہتا ہے سنا سکتا ہے اور آپ ان کو نہیں سنا سکتے جو قبروں میں ہیں) ۔ یعنی وہ جانتا ہے کہ کون اسلام میں داخل ہوگا۔ اور کون نہیں داخل ہوگا۔…
Read the full tafseer →22، یستوی الا حیاء ولا الا موات ، مؤمن اور کفار برابر نہیں ہوسکتے ۔ بعض نے کہا کہ علماء اور جہال مراد ہیں ۔ ، ان اللہ یسمع من یشائ، جو نصیحت سنتا ہے اور اس کا جواب دیتا ہ۔
، وما انت بمسمع من فی القبور، اس سے مراد کفار ہیں ، ان کو قبروں کے مردوں سے تشبیہ دی ہے جیسا کہ وہ جواب نہیں دے سکتے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–23
18 تا 23۔ ترمذی ابوداؤد نسائی اور بیہقی وغیرہ میں ابی رمثہ کی حدیث 2 ؎ میں آنحضرت ﷺ نے اس آیت کو جو تفسیر فرمائی ہے (2 ؎ تفسیر الدر المنثورص 248 ج 5) حاصل اس کا یہ ہے کہ ابی رمثہ کہتے ہیں میں اپنے باپ کے ساتھ آنحضرت ﷺ کی خدمت میں ایک روز گیا جب آنحضرت پر میری نظر پڑی تو آپ نے میرے باپ سے پوچھا کہ یہ لڑکا تمہارا بیٹا ہے میرے باپ نے جواب دیا کہ ہاں آپ نے فرمایا کہ باپ بیٹے کا تعلق دنیا ہی دنیا کا ہے آخرت میں نہ بیٹا باپ کے کچھ گناہ بٹا سکتا ہے نہ باپ بیٹے کے یہ فرما کر پھر آپ نے یہ آیت پڑھی اسی طرح آپ کا وہ فرمانا مشہور ہے جو حجتہ الوداع میں آپ نے نصیحت کے طور پر فرمایا تھا جس کی روایت مسند…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–23
آیت 15
اللہ تبارک وتعالیٰ تمام لوگوں سے مخاطب ہے، انہیں ان کے احوال و اوصاف سے آگاہ فرماتا ہے کہ وہ ہر لحاظ سے اللہ تعالیٰ کے محتاج ہیں :
(1) وہ وجود میں آنے کے لئے اس کے محتاج ہیں اگر اللہ تعالیٰ ان کو جود میں نہ لائے تو وہ وجود میں نہیں آسکتے۔
(2) وہ اپنے مختلف قویٰ اعضاء اور جوارح کے حصول میں اس کے محتاج ہیں۔ اگر اللہ تعالیٰ ان کو یہ قوی عطا نہ کرے تو کسی کام کے لئے ان میں کوئی استعداد نہیں۔
(3) وہ خوراک، رزق اور دیگر ظاہری و باطنی نعمتوں کے حصول میں اسی کے محتاج ہیں۔ اگر اس کا فضل و کرم نہ ہو اور اگر وہ ان امور کے حصول میں آسانی پیدا نہ کرے تو وہ رزق اور دیگر نعمتیں حاصل نہیں کرسکتے۔
(4)…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–27
حانث نہ ہونے کی صورتیں
قول باری ہے (ومن کل تاکلون لحما طریاو تستخرجون حلیۃ تلبسونھا اور ہر ایک سے تم تازہ گوشت کھاتے ہو اور زیور نکالتے ہو جسے تم پہنتے ہو) حلیہ سے یہاں موتی اور وہ چیزیں مراد ہیں جو سمندر سے نکالی جاتی ہیں اور بطور زیور انہیں پہنا جاتا ہے۔
اگر کوئی عورت زیور نہ پہننے کی قسم کھالے تو اس قسم کے بارے میں فقہاء کے مابین اختلاف رائے ہے۔ امام ابوحنیفہ کا قول ہے کہ تنہا موتی زیور نہیں کہلاتے جب تک ان کے ساتھ سونا نہ ہو۔
کیونکہ قول باری ہے (ومما یوقدون علیہ فی النار ابتغآء حلیۃ او متاع اور جن چیزوں کو زیور یا (اور) اسباب بنانے کی غرض سے آگ کے اندر تپاتے ہیں) یہ بات سونے میں ہوتی ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–23
54 مومن زندہ اور کافر و مشرک مردہ : سو ارشاد فرمایا گیا " اور نہ ہی زندے اور مردے آپس میں برابر ہوسکتے ہیں "۔ یہ اس تمثیل و توضیح میں مزید ترقی ہے کہ یہ لوگ صرف اندھوں ہی کی طرح نہیں بلکہ یہ تو مردے ہیں۔ کیونکہ اندھوں میں تو ان کے اندھے پن کے باوجود افادہ و استفادہ کی قوت و صلاحیت موجود ہوتی ہے بخلاف مردوں کے کہ ان میں کسی افادہ و استفادہ کی کوئی صلاحیت ہی سرے سے نہیں ہوتی۔ پس یہ کفار و مشرکین دراصل مردہ ہیں۔ ان کے ضمیر مرچکے ہیں اور ان کے سینے ان کے ان مردہ ضمیروں کے لئے مدفن اور قبرستان بن چکے ہیں۔ پس نہ تو ان سے خیر کی کوئی توقع رکھو اور نہ ان کے سلوک و کردار سے دل گرفتہ ہوؤ کہ یہ اگرچہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–45
سچ تو یہ ہے جو اللہ نے اعلان کیا ہے
تشریح : ان آیات کی وضاحت کیا کی جائے یہ تو بذات خود علم و عرفان اور کلام الٰہی کی انتہائی آسان اور عام فہم مضمون کا مجموعہ ہیں۔ اہل علم کو معلوم ہے کہ مومن کو آنکھوں والا، زندہ اور نور سے تشبیہ دی گئی ہے جبکہ کافر کو اندھا، تاریکی اور مردہ کہا گیا ہے۔ پھر کفار کی ایک خاص خصلت کا ذکر کیا گیا ہے کہ وہ اتنا ہٹ دھرم اور ضد کا پکا ہوتا ہے کہ ہمیشہ نبیوں کو جھٹلاتا رہتا ہے اس لیے سیدنامحمد ﷺ کو بار بار یہ تاکید کی گئی ہے کہ آپ ان کی ضد پر پریشان نہ ہوا کریں بس آپ ان کو سمجھاتے رہیں ان سے نمٹنا اللہ کا کام ہے۔ بار بار کفار کے لیے دوزخ اور مومن کے لیے جنت کا اعلان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–26
رکوع نمبر 3 ۔ آیات 15 تا 26:
اسرار و معارف :
لوگو تمہارے بس میں تو کچھ بھی نہیں تمہارا سارا سرمایہ صرف احتیاج ہے اپنے وجود اپنی ذات اپنے اوصاف میں تم ہر طرح سے محتاج ہو اور اللہ ایسا بےنیاز نہ اسے تمہاری احتیاج ہے اور نہ ہی کسی اور کی بلکہ وہ ہی ایسا کامل ہے جسے ہر تعریف سزاوار ہے بھلا تم اس کی ناشکری اور کفر کا راستہ اپناتے جو اس قدر بےنیاز اور قادر ہے کہ چاہے تو ایک آن میں تم سب کو تباہ اور نابود کردے اور تمہاری جگہ ایک نئی مخلوق پیدا کردے کہ یہ اس کے لیے کچھ بھی مشکل نہیں یہ اس کی شان کریمی ہے کہ تمہیں باوجود تمہاری نافرمانیوں کے مہلت دے رکھی ہے مگر اس کا یہ مطلب بھی نہیں کہ تمہیں کوئی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–22
ف 8 یعنی اسی طرح مومن اور کافر برابر نہیں ہوسکتے۔ مومن کا ٹھکانہ جنت اور کافر کا جہنم شاہ صاحب (رح) لکھتے ہیں :” یعنی سب خلق برابر نہیں جن کو ایمان دینا ہے انہیں کو ملے گا تو بتھری آرزوکرے تو کیا ہوتا ہے ؟ “ (موضح)9 یعنی مردوں کو مراد وہ کافر ہیں جن کے دل مردہ ہوچکے ہیں۔ اس آیت سے معلوم ہوا کہ جو لوگ قبروں میں مردہ میں انہیں کوئی بات نہیں سنائی جاسکتی۔ یہ ایک عام حقیقت ہے جس سے صرف وہ صورتیں مستثنیٰ ہیں جو دلیل ( کتاب و سنت) سے ثابت ہوں۔ (دیکھئے سورة نمل آیت 80) ۔
Read the full tafseer →(35:22) الاحیائ۔ الحی کی جمع ہے۔ زندہ لوگ۔ مراد اہل علم۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–26
لغات القرآن : آیت نمبر 15 تا 26
فقرائ ( محتاج ، ضرورت مند) الغنی ( بےنیاز ، جو کسی کا محتاج نہ ہو) الحمید (جس کی ذات میں ہر طرح کی خوبیاں موجود ہوں) لا تزر (بوجھ نہیں اٹھاتا ہے) مثقلۃ ( لدا ہوا بوجھ) حمل (بوجھ) مسمع ( سنانے والا) خلا (گزر گیا) زبر (صحیفے ، کتابیں) نکیر (عذاب)
تشریح : آیت نمبر 15 تا 26 :۔ انسان کی سب سے بڑی بھول اور نادانی یہ ہے کہ وہ اپنی حاجتوں اور ضرورتوں کے لئے ایک اللہ کو چھوڑ کر بہت سی ایسے کمزور اور ناقابل اعتبار سہاروں میں زندگی گزارنے کی کوشش کرتا ہے جن کی کوئی حیثیت اور اہمیت نہیں ہوتی اور اس طرح وہ زندگی بھر گمراہی کے اسی دائرے میں گھومتا رہتا ہے۔ ایسے نادانوں سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–23
مسلمان اور کافر کی مثال۔
(ف 1) ان آیتوں میں فرمایا کہ کوئی شخص قیامت کے دن کسی دوسرے شخص کے گناہ کا ذمہ دار نہیں اور اگر کوئی شخص اپنے گناہوں میں لدا ہوا کسی دوسرے شخص کو اس بوجھ کے اٹھانے کے واسطے پکارے گا تو وہ شخص اگرچہ اس کا بہت قریب کا رشتہ دار ہی کیوں نہ ہو جیسے باپ یابـیٹا ، جب بھی اسکے گناہوں کا بوجھ اپنے سرنہ لے گا، ان دونوں صورتوں میں بوجھ کہ نہ اٹھانا اللہ کے حکم کی وجہ سے ہے اب قیامت کا نفسانفسی اور قرابت داروں کے غیر ہوجانے کا حال ذکر فرماکر کہ بغیر دیکھے قیامت کی باتوں کا اور خدا کے سامنے کھڑے ہونے کا جن کو خوف ہے ان کو ہی اللہ کے رسول کی نصیحت کچھ کارگر ہوتی ہے دنیا کی محبت میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–22
[11] یعنی جس کی ہدایت منظور ہو۔ اور اللہ کو ہدایت اسی کی منظور ہے جو طالب ہدایت ہو۔ اس کو قبول ہدایت کی توفیق عطا فرماتا ہے۔
[12] یعنی جن لوگوں کے سینے ضمیر کا مدفن بن چکے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–23
ف 1: غرض یہ ہے کہ اسلام ہے بصارت کا ۔ نور کا ۔ اور سراسر زندگی کا ۔ عظمت و تاریکی ہے ۔ اور موت کے مترادف ہے ۔ اور ان دونوں میں بہت بڑا فرق ہے ۔ یہ ناممکن ہے ۔ درجہ میں دونوں برابری حاصل کرسکیں ۔ فرمایا کہ یہ مکہ والے چونکہ جہل وتعصب کی تاریک قبروں میں مدفون ہیں ۔ اس لئے آپ کی جانوں کو نہیں سمجھ سکتے ۔ اور باوجود اس کے کہ اسلام اور کفر میں ایک بین فرق ہے ۔ یہ نہیں محسوس کرسکتے ۔
Read the full tafseer →(22) اور نہ زندے اور مردے دونوں برابر ہوسکتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ جس کو چاہتا ہے سنوا دیتا ہے اور آپ ان لوگوں کو نہیں سنا سکتے جو قبروں میں پڑے ہوئے ہیں۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی سب خلق برابر نہیں جن کو ایمان دیا ہے انہی کو ملے گا تو بہتیری آرزو کرے تو کیا ہوتا ہے اور یہ جو فرمایا اندھیرا نہ اجالا یعنی نہ اندھیرا برابر اجالے کے اور نہ اجالا برابر اندھیرے کے اور فرمایا تو نہیں سناتا قبروں میں پڑوں کو۔ حدیث میں آیا ہے کہ مردوں سے سلام علیک کرو وہ سنتے ہیں اور بہت جگہ مردے کو خطاب کیا ہے۔ اس کی حقیقت یہ ہے کہ مردے کی روح سنتی ہے اور قبر میں پڑا ہے دھڑ وہ نہیں سن سکتا۔ اس آیت میں اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–27
ف 4۔ جب یہ مردے ہیں، تو مردوں کو زندہ کرنا خدا کی قدرت میں ہے بندہ کی قدرت میں نہیں۔
Read the full tafseer →زندہ اور مردہ برابر نہیں ہوتے اللہ تو جس کو چاہے سنا سکتا ہے
22 ۔ زندوں سے بھی اس جگہ ایمان والے اور مردوں سے کفار مراد ہیں اور گزشتہ مضمون کی طرح یہاں بھی ان دونوں کو محض ایک دوسرے کی مخالفت کے لئے بیان کیا گیا ہے اور قرآن کریم نے جہاں بھی ان دونوں کو بطور تقابل بیان کیا ہے موت سے مراد کفر ہی لی ہے اور اس موت کے مرے ہوئے لوگوں کو ایمان کی زندگی دینے کے لئے انبیاء کرام اور رسل عظام تشریف لائے اور اسی کفر کو مٹانے کے لئے محمد رسول اللہ ﷺ کی بعثت ہوئی لیکن اس کے باوجود جن بدبختوں کو کفر کی موت مرنا تھا وہ ایمان کی زندگی حاصل نہ کرسکے باوجود اس کے کہ انبیاء کا کام ایمان کی زندگی تقسیم کرنا تھا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–26
At the beginning of the verse: وَمَا أَنتَ بِمُسْمِعٍ مَّن فِي الْقُبُورِ (And you cannot make hear those who are in the graves - 22.), disbelievers have been likened to the dead and believers, to the living. In congruence to this, the expression: (those in the graves) here means the disbelievers. The sense is that 'the way you cannot make the dead hear you, you can also not make these living disbelievers hear you.'
This verse has itself clarified it that, at this place, making someone hear means the kind of listening that is going to be useful, effective and beneficial. Otherwise, the…
Read the full tafseer →42 In these comparisons the present and the future of a believer and a disbeliever have been contrasted. There is a person who has closed his eyes to the realities and does not care to see as to what truth the whole system of the universe and his own existence itself are pointing. There is the other person, whose eyes are open and who clearly sees that everything outside and inside himself bears evidence to the Unity of God and to man's answerability before him. There is a person, who is wandering blindly in the superstitions of ignorance and the darknesses of presumptions and speculations,…
Read the full tafseer →