Faatir 35:21

Faatir · from ayah 21

35:21

وَلَا الظِّلُّ وَلَا الْحَرُوْرُ ۟ۚوَلَا الظِّلُّ وَلَا الۡحَـرُوۡرُۚ

اور نہ سایہ اور دھوپ

— Fateh Muhammad Jalandhari

Nor are the shade and the heat,

— Saheeh International

Juz 22 · Ruku 3 of surah · Ruku 15 of juz

Read the whole surah · Surah Faatir

All translations of 35:21

نہ ٹھنڈی چھاؤں اور دھوپ کی تپش ایک جیسی ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور نہ سایہ اور دھوپ

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور نہ چھاؤں اور نہ دھوپ

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور نہ سایہ اور نہ تیز دھوپ

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور نہ سایہ اور نہ دھوپ،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور نہ سایہ اور نہ دھوپ۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور نہ سایہ اور دھوپ ایک جیسی ہے۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور سایہ اور دھوپ یکساں ہیں

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور نہ ہی سایہ اور دھوپ کی تپش

— مولانا اسحاق مدنی

اور نہ (ٹھنڈا) سایہ اور (جلتی ہوئی

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور نہ سایہ اور دھوپ (برابر ہوسکتے ہیں

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور نہ سایہ اور دھوپ۔

— محترمہ رفعت اعجاز

nor cool shade and torrid heat;

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

nor shade and heat of the sun.

— Muhammad Taqi Usmani

nor shade and heat of the sun.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Nor are the shade and the sun's heat.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Nor is the shadow equal with the sun's full heat;

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Nor are the shade and the heat,

— Saheeh International

nor shade and heat

— Muhammad Sarwar

Nor the shade and the heat,

— Muhammad Habib Shakir

- Nor the shade and the sun's heat.

— Abdul Majid Daryabadi

Nor are the (chilly) shade and the (genial) heat of the sun:

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 35:21

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 19–26

ایک موازنہ۔ ارشاد ہوتا ہے کہ مومن و کفار برابر نہیں۔ جس طرح اندھا اور دیکھتا۔ اندھیرا اور روشنی، سایہ اور دھوپ، زندہ اور مردہ برابر نہیں۔ جس طرح ان چیزوں میں زمین و آسمان کا فرق ہے اسی طرح ایمان دار اور بےایمان میں بھی بےانتہا فرق ہے۔ مومن آنکھوں والے اجالے، سائے اور زندہ کی مانند ہے۔ برخلاف اس کے کافر اندھے اندھیرے اور بھرپور لو والی گرمی کی مانند ہے۔ جیسے فرمایا (اَوَمَنْ كَانَ مَيْتًا فَاَحْيَيْنٰهُ وَجَعَلْنَا لَهٗ نُوْرًا يَّمْشِيْ بِهٖ فِي النَّاسِ كَمَنْ مَّثَلُهٗ فِي الظُّلُمٰتِ لَيْسَ بِخَارِجٍ مِّنْهَا ۭ كَذٰلِكَ زُيِّنَ لِلْكٰفِرِيْنَ مَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ01202) 6۔ الانعام…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 18–21

سورة فَاطِر 39 " بوجھ " سے مراد اعمال کی ذمہ داریوں کا بوجھ ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ کے ہاں ہر شخص اپنے عمل کا خود ذمہ دار ہے، اور ہر ایک پر صرف اس کے اپنے ہی عمل کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ اس امر کا کوئی امکان نہیں ہے کہ ایک شخص کی ذمہ داری کا بار اللہ تعالیٰ کی طرف سے کسی دوسرے پر ڈال دیا جائے۔ اور نہ یہی ممکن کہ کوئی شخص کسی دوسرے کی ذمہ داری کا بار خود اپنے اوپر لے لے اور اسے بچانے کے لیے اپنے آپ کو اس کے جرم میں پکڑوا دے۔ یہ بات یہاں اس بنا پر فرمائی جا رہی ہے کہ مکہ معظمہ میں جو لوگ اسلام قبول کر رہے تھے ان سے ان کے مشرک رشتہ دار اور برادری کے لوگ کہتے تھے کہ تم ہمارے کہنے سے اس نئے دین کو…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 18–21

معارف و مسائل (آیت) ولا تزر وازرة وزر اخری، یعنی قیامت کے روز کوئی آدمی دوسرے آدمی کے گناہوں کا بوجھ نہ اٹھا سکے گا، ہر ایک کو اپنا بوجھ خود ہی اٹھانا پڑے گا۔ اور سورة عنکبوت میں جو آیا ہے کہ ولیحملن اثقالہم واتقالاً مع اثقالہم، یعنی گمراہ کرنے والے لوگ اپنے گمراہ ہونے کا بوجھ بھی اٹھائیں گے اور اتنا ہی دوسرا بوجھ اس کا اٹھائیں گے کہ انہوں نے دوسروں کو گمراہ کیا تھا۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ جن کو گمراہ کیا تھا ان کا بوجھ یہ لوگ کچھ ہلکا کر دینگے، بلکہ ان کا بوجھ اپنی جگہ پر ان پر پورا ہوگا، اور گمراہ کرنے والوں کا جرم دوہرا ہونے کی وجہ سے ان کا بوجھ بھی دوہرا ہوجائے گا۔ ایک گمراہ ہونے کا دوسرا…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 20–21

آیت 20۔ 21 فرمایا کہ جس طرح اس دنیا میں تاریکی بھی ہے اور روشنی بھی، سایہ بھی ہے اور گرمی بھی۔ اور یہ دونوں یکساں نہیں ہوسکتے، اسی طرح یہ دونوں قسم کے لوگ جن کا ذکر اوپرہوا یکساں نہیں ہوسکتے۔ تاہم جس طرح تاریکی اور روشنی، سایہ اور گرمی دونوں میں اس دنیا کی مصلحت مضمر ہے، اسی طرح اس قسم کے لوگوں کے وجود میں بھی قدرت کی مصلحت ہے۔ اس مصلحت کا ذکر قرآن کے دوسرے مقامات میں ہوا ہے۔ وہاں واضح فرمایا ہے کہ یہ دنیا اللہ تعالیٰ نے چونکہ انسان کے اختیار کے امتحان کے لئے پیدا کی ہے اس وجہ سے اس کی حکمت کا تقاضا یہ ہوا کہ اس میں ایک خاص حد تک ان لوگوں کو بھی مہلت ملے جو اس کی بخشی ہوئی صلاحیتوں کی قدر…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 15–21

6: یعنی اللہ تعالیٰ دوسروں کی عبادت اور ان کے تعریف کرنے سے بالکل بےنیاز ہے، کوئی اس کی تعریف کرے یا نہ کرے، وہ بذات خود قابل تعریف ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 19–21

وما یستوی ۔۔۔۔۔۔ ولا الاموات (19 – 21) یہاں ایک طرف کفر ، اندھے پن ، تاریکی ، گرمی اور موت سب کے سب ایک مزاج رکھتے ہیں اور ان کے مفہومات کے درمیان ربط ہے۔ دوسری جانب ایمان ، نور ، بصارت ، چھاؤں اور زندگی کے مفہومات کا ایک ہی مزاج ہے اور یہ ایک دوسرے کے ساتھ مربوط ہے۔ ایمان نور ہے۔ دل میں نور ، اعضاء میں نور ، حواس میں نور ، ایسا نور جس سے اشیاء کی حقیقت منکشف ہوتی ہے۔ اقدار اور واقعات روشن ہوتے ہیں اور ان کی حدود اور روابط واضح ہوتے ہیں۔ مومن اس نور سے تمام اشیاء کو دیکھتا ہے اور وہ روشنی کے اندر واقعات کو دیکھتا ہے۔ اس لیے اس کے معاملات اچھے ہوتے ہیں۔ اس کے اقدامات درست سمت میں ہوتے ہیں اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 19–22

9 یعنی مومن جس کو اللہ نے دل کی آنکھیں دی ہیں، حق کے اجالے اور وحی الٰہی کی روشنی میں بےکھٹکے راستہ قطع کرتا ہوا جنت کے باغوں اور رحمت الٰہی کے سایہ میں جا پہنچا ہے۔ کیا اس کی برابری وہ کافر کرسکے گا جو دل کا اندھا اوہام و ہواء کی اندھیریوں میں بھٹکتا ہوا جہنم کی آگ اور اس کی جھلس دینے والی لوؤں کی طرف بےتحاشا چلا جا رہا ہے۔ ہرگز نہیں۔ ایسا ہو تو یوں سمجھو کہ مردہ اور زندہ برابر ہوگیا۔ فی الحقیقت مومن و کافر میں اس سے بھی زیادہ تفاوت ہے جو ایک زندہ تندرست آدمی اور مردہ لاش میں ہوتا ہے، اصل اور دائمی زندگی صرف روح ایمان سے ملتی ہے۔ بدون اس کے انسان کو ہزار مردوں سے بدتر مردہ سمجھنا چاہیے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 21 { وَلَا الظِّلُّ وَلَا الْحَرُوْرُ } ”اور نہ سایہ اور دھوپ برابر ہوسکتے ہیں۔“

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

27 بینا اور نابینا کون لوگ ہیں ؟ یعنی ایک شخص اس طرح دل کا اندھا بنا ہوا ہے کہ کائنات میں ہر سو اللہ تعالیٰ کی بکھری ہوئی نشانیوں میں غور کرنا بھی گوارا نہیں کرتا۔ دوسرا شخص انہی نشانیوں کو دیکھ کر اللہ تعالیٰ کی توحید کو تسلیم کرنے پر مجبور ہوجاتا ہے اور عجائبات قدرت میں غور کرنے کے بعد اس کا دل اللہ تعالیٰ کی محبت سے سرشار ہوجاتا ہے اور بےاختیار اللہ کی حمد و ثنا اس کی زبان پر آجاتی ہے۔ تو کیا یہ دونوں ایک جیسے ہوسکتے ہیں ؟ یا ایک شخص جہالت کی تاریکیوں میں مسلسل آگے بڑھتا جارہا ہے اور دوسرا علم کی روشنی میں محتاط رہ کر اپنا سفر زندگی جاری رکھتا ہے کیا یہ دونوں ایک جیسے ہیں ؟ ظاہر ہے کہ یہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 19–22

34۔ (اسی طرح کافر اور مومن بھی یکساں نہیں ہوسکتے) (آیت) ” البصیر۔ النور۔ الظل۔ الاحیآء “۔ ادراک حق ہونے کے لحاظ سے مومن کی مثال آنکھوں والے اور نور اور سایہ اور زندہ کی ہے۔ (آیت) ” الاعمی۔ الظلمت۔ الحرور۔ الاموات “۔ ادراک حق نہ کرنے کے لحاظ سے کافر کی مثال نابینا اور تاریکی اور چلچلاتی دھوپ اور مردہ کی ہے۔ لا۔ لا۔ لا۔ تاکید نفی کیلیے ہے، اور اس کی تکرار تاکید مزید کے لیے ہے۔ لا لتاکید نفی الاستوآء وتکریر ھا علی الشقین لمزید التاکید (بیضاوی) وزیادۃ ” لا “ لتاکید معنی النفی (مدارک)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 15–26

آیت نمبر 15 تا 26 ترجمہ : اے لوگو ! تم ہرحال میں اللہ کے محتاج ہو اور اللہ تو اپنی مخلوق سے بےنیاز ہے اور وہ اپنی مخلوق پہر احسان کی وجہ سے سزاوار حمد ہے اگر وہ چاہے تو تم کو فنا کردے اور تمہاری جگہ ایک نئی مخلوق پیدا کردے اور یہ بات اللہ کے لئے کچھ مشکل نہیں، کوئی بھی گنہ گار شخص دوسرے کے گناہ کا بوجھ نہیں اٹھائے گا، گوجس شخص کو بلایا گیا ہے رشتہ دار ہی کیوں نہ ہو، جیسا کہ باپ اور بیٹا اور دونوں صورتوں میں عدم حمل اللہ کا حکم ہے، آپ تو صرف ان ہی لوگوں کو ڈراسکتے ہیں جو اپنے رب سے غائبانہ ڈرتے ہوں یعنی اس سے ڈرتے ہوں حالانکہ اس کو دیکھا نہیں ہے، اس لئے کہ یہی لوگ تنبیہ سے فائدہ اٹھانے والے…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 19–24

(19۔ 24) اور کافر مومن دونوں برابر نہیں اور نہ کفر و ایمان اور نہ جنت و دوزخ اور نہ مومنین و کافرین اطاعت و بزرگی میں برابر ہوسکتے ہیں اور اللہ تعالیٰ جو اس چیز کا اہل ہوتا ہے اس کو سمجھا دیتا ہے اور آپ ان لوگوں کو نہیں سمجھا سکتے جو ایسے ہیں جیسا کہ قبروں میں دفن کیے گئے ہیں۔ آپ تو صرف قرآن کریم کے ذریعے سے ڈرانے والے پیغمبر ہیں۔ ہم ہی نے آپ کو قرآن کریم دے کر مسلمانوں کو جنت کی خوشخبری سنانے والا اور کافروں کو دوزخ سے ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے کوئی امت ایسی نہیں ہوئی جس میں کوئی اللہ کی طرف سے ڈرانے والا پیغمبر نہ گزرا ہو۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَلَا الظِّلُّ وَلَا الْحَــرُوْرُ : ”الْحَــرُوْرُ“ سخت گرم ہوا، لُو۔ یہ ثواب اور عذاب یعنی جنت و جہنم کی مثال ہے کہ جنت سایہ ہے اور جہنم لُو۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 20–21

آیت : ولا الظلمت ولا النورا خفش اور سعید نے کہا : لا زائدہ ہے اس کا معنی ہے ولا الظلمات والنور ولا الظل والحر ورنہ تاریکیاں اور نور اور نہ سائے اور تپش۔ اخفش نے کہا : حرور (تپش) سورج کے ساتھ ہوتی ہے اور سموم رات کے ساتھ ہوتی ہے (2) ( تفسیر الماوردی، جلد 4، صفحہ 469) ایک قول اس کے برعکس کیا گیا ہے۔ مہدوی نے حکایت بیان کی ہے، فراء نے کہا : سموم دن کے وقت ہوتی ہے اور حرور دن اور رات میں ہوتی ہے (3) (ایضا) ۔ نحاس نے کہا : یہ قول زیادہ صحیح ہے، کیونکہ حرور فعول کا وزن ہے یہ حر سے مشتق ہے اس میں کثرت کا معنی پایا جاتا ہے یعنی تکلیف دہ گری۔ میں کہتا ہوں : حضرت ابوہریرہ ؓ سے صحیح مسلم میں روایت مروی…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 20–21

ولا الظلمت “ سے مراد ہے کفر ” ولا النور “ سے مراد ہے ایمان اور ” ولا الظل “ سے مراد ہے جنت ” ولا الحرور “ سے مراد ہے دوزخ۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 15–26

سب اللہ کے محتاج ہیں، قیامت کے دن کوئی کسی کا بوجھ نہ اٹھائے گا، بینا اور نابینا، اندھیریاں اور روشنی، زندہ اور مردہ برابر نہیں، ہر امت میں نذیر بھیجا گیا ہے یہ پورے ایک رکوع کا ترجمہ ہے جس میں بہت سے امور پر تنبیہ فرمائی ہے اور متعدد نصیحتیں فرمائیں۔ اولاً یہ فرمایا کہ اے لوگو تم سب اللہ ہی کے محتاج ہو، اللہ تعالیٰ غنی ہے جسے کسی چیز کی حاجت نہیں ہے، کوئی بھی ایمان لانے والا اور اس کی عبادت کرنے والا یہ نہ سمجھے کہ اسے میری حاجت اور ضرورت ہے، بلکہ یہ سمجھ کر اس کی عبادت کرے کہ مجھے اسے راضی کرنے کی حاجت ہے، وہ غنی ہے، بےنیاز ہے اور ہر تعریف کا مستحق ہے، وہ ہر عیب سے پاک ہے اور صفات جلیلہ سے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 15–26

ذکر فقرواحتیاج بشرواستغنا خداوند بر وبحر قال اللہ تعالی۔ یایھا الناس انتم الفقراء الی اللہ۔۔۔ الی۔۔۔ فکیف کان نکیر۔ (ربط) اوپر سے منکرین توحید کا رد چلا آرہا ہے اب یہ بتلاتے ہیں کہ یہ لوگ متکبر اور مغرور ہیں اور دراہم معدودہ کے نشہ کے میں چور ہیں اور خدا کی پکڑ سے بےفکر ہیں اور اس کی یاد سے دور ہیں۔ اور یہ نہیں سمجھتے کہ کل عالم اپنے وجود میں اور اپنی بقاء میں اللہ کا محتاج ہے اور خاص کر انسان تو سب سے زیادہ حاجتوں میں جکڑا ہوا ہے اور خداوند ذوالجلال۔ غنی مطلق اور بےنیاز مطلق ہے جب چاہے پکڑ سکتا ہے اللہ کو نہ کسی کے مال و دولت کی حاجت ہے اور نہ کسی کی عبادت کی حاجت ہے۔ وہ سب سے بےنیاز ہے پس…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 19–21

23:۔ وما یستوی الخ : یہ مومن و کافر اور توحید و شرک کی تمثیلات ہیں۔ جس طرح اندھا ظاہری روشنی سے مھروم ہے اسی طرح کافر و مشرک نور ایمان و توحید سے محروم ہے۔ علی ہذا جس طرح سوانکھا ظاہری بینائی رکھتا ہے۔ اسی طرح مومن کا دل نور توحید سے روشن ہوتا ہے۔ الاعمی والبصیر مثلان للکافر والمومن کما قال قتادۃ والسدی و غیرھما (روح ج 22 ص 186) ۔ الظلمات کفر و شرک کے اندھیرے۔ النور، ایمان و توحید کی روشنی۔ الظل، سایہ اس سے ثواب یا جنت مراد ہے۔ الحرور، شدت گرما لیکن بقرینہ تقابل یہاں دھوپ کے معنی میں ہے۔ اور اس سے مراد عذاب یا جہنم ہے (قرطبی، خازن، روح) ۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 19–26

ربط آیات گزشتہ آیات میں مشرکین کا رد تھا۔ نیز ساری مخلوق کے احتیاج اور اللہ تعالیٰ کی بےنیازی کا ذکر تھا۔ اس بنا پر تمام حاجات اللہ وحدہ لاشریک سے طلب کرنی چاہئیں اور اسی کی عبادت کرنی چاہئے۔ اللہ تعالیٰ قادر مطلق ہے ، وہ چاہے تو ساری مخلوق کو صفحہ ہستی سے نابود کرکے اس کی جگہ دوسری مخلوق کو لے آئے۔ لہٰذا ہر انسان کو محاسبہ اعمال کی فکر کرنی چاہئے۔ قیامت والے دن کوئی عزیز ترین رشتہ دار بھی کسی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔ اللہ نے حضور ﷺ کو مخاطب کرکے فرمایا کہ آپ ایسے لوگوں کو ڈراتے ہیں جو خدا تعالیٰ سے بن دیکھے ڈرمتے ہیں اور اس پر ایمان رکھتے ہیں۔ وہ لوگ نماز پڑھتے ہیں اور ظاہری و باطنی…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَلَا الظِّلُّ وَلَا الْحَــرُوْرُ۝ 21ۚ ظلل الظِّلُّ : ضدُّ الضَّحِّ ، وهو أعمُّ من الفیء، فإنه يقال : ظِلُّ اللّيلِ ، وظِلُّ الجنّةِ ، ويقال لكلّ موضع لم تصل إليه الشّمس : ظِلٌّ ، ولا يقال الفیءُ إلّا لما زال عنه الشمس، ويعبّر بِالظِّلِّ عن العزّة والمنعة، وعن الرّفاهة، قال تعالی: إِنَّ الْمُتَّقِينَ فِي ظِلالٍ [ المرسلات/ 41] ، أي : في عزّة ومناع، ( ظ ل ل ) الظل ۔ سایہ یہ الضح ( دهوپ ) کی ضد ہے اور فیی سے زیادہ عام ہے کیونکہ ( مجازا الظل کا لفظ تورات کی تاریکی اور باغات کے سایہ پر بھی بولا جاتا ہے نیز ہر وہ جگہ جہاں دہوپ نہ پہنچنے اسے ظل کہہ دیا جاتا ہے مگر فییء صرف اس سے سایہ کو کہتے ہیں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 18–23

انما تنذر الذین الخ فرماتا ہے۔ اے نبی (علیک السلام) آپ کا وعظ و پند اور ڈر سنانا انہی کو نافع اور کارآمد ہے جو غائبانہ اپنے اللہ سے ڈرتے ہیں اور نماز پڑھتے ہیں اور یہ بھی یاد رہے کہ من تزکیٰ الخ جو کوئی اصلاح پذیر ہوتا ہے اور نیک بختی اختیار کرتا ہے تو اس کا فائدہ اسی کے لیے ہے۔ اللہ اور نبی کو کوئی فائدہ نہیں، والی اللہ المصیر اور اللہ ہی کے پاس لوٹ کر جانا ہے۔ ہر شخص اپنے کئے کا بدلہ وہاں پاوے گا اور یہ گمراہ اپنی گمراہی پر کیا نازاں ہیں۔ کافرو مومن برابر نہیں ہوسکتے۔ جیسا کہ اندھا اور آنکھوں والا اور روشنی اور اندھیرا اور سایہ اور دھوپ اور مردہ اور زندہ برابر نہیں۔ یہ کافر و مومن کی مثالیں…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 19–21

وَمَا یَسْتَوِی الْاَعْمٰی وَالْبَصِیْرُ ۔ وَلاَ الظُّلُمٰتُ وَلاَالنُّوْرُ ۔ وَلاَالظِّلُّ وَلاَالْحَرُوْرُ ۔ (فاطر : 19 تا 21) (اندھا اور آنکھوں والا برابر نہیں۔ اور نہ تاریکیاں اور روشنی۔ اور نہ سایہ اور دھوپ (یکساں ہیں) ۔ ( اَعْمٰی سے مراد عقل اور دل کے اندھے ہیں اور بصیر سے مراد وہ لوگ ہیں جن کی عقل کی صلاحیتیں زندہ ہیں اور دل کا نور روشن ہے۔ اور وہ اپنی صلاحیتوں سے صحیح کام لینے کا طریقہ جانتے ہیں اور اس کی فکر بھی رکھتے ہیں۔ اضداد سے استدلال اور آنحضرت ﷺ کو تسلی ظُلُمٰتُ سے مراد وہ تاریکیاں ہیں جو انسان اپنے جاہلانہ اوہام اور قیاسات و مفروضات سے خود اپنے گرد پیدا کرلیتا ہے۔ اور نور سے…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 19–21

فہم القرآن ربط کلام : عقیدہ توحید اور دین سے انحراف کرنے والا در حقیقت اندھا ہوتا ہے۔ اندھا اور بینا برابر نہیں ہوسکتے۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو بصیرت اور بصارت اس لیے عطا فرمائی ہے کہ وہ اپنے رب کو پہنچانے اور اس کی فرمانبرداری اختیار کرے۔ جو انسان اپنے رب کو فراموش کردیتا ہے در حقیقت وہ اندھا ہوتا ہے۔ کیونکہ وہ کائنات کی سب سے بڑی حقیقت اور ضمیر کی آواز فراموش کرکے دل کی روشنی کھو بیٹھتا ہے۔ ضمیر کی روشنی اور کائنات کی حقیقت یہ ہے کہ انسان اپنے خالق، مالک اور رازق کو پہچانے اور اس کی فرمانبرداری میں زندگی بسر کرے۔ پہلی بات کا نام عقیدہ توحید اور دوسری بات کا نام دین ہے۔ جو اس پر عمل کرتا ہے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

21: وَ لَا الظِّلُّ وَلَا الْحَرُوْرُ (اور نہ سایہ اور نہ دھوپ) حق اور باطل نمبر 2۔ جنت و دوزخ۔ الحرورؔ گرم ہوا کو کہتے ہیں جیسے لُو۔ البتہ لو ؔ دن کو ہوتی ہے۔ اور الحرور یہ دن، رات ہوتی ہے، یہ فراء سے منقول ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

21، ولاالظل ولا الحرور، ظل سے مراد چھائیں یعنی جنت اور حرور سے مراد گرمی یعنی دوزخ کی آگ ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ حرور سے مراد گرم ہواجورات کو چلتی ہے اور سموم دن کی ہوا۔ بعض نے کہا حروروہ گرم ہواجو سورج کی تپش کی وجہ سے ہوتی ہے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 18–23

18 تا 23۔ ترمذی ابوداؤد نسائی اور بیہقی وغیرہ میں ابی رمثہ کی حدیث 2 ؎ میں آنحضرت ﷺ نے اس آیت کو جو تفسیر فرمائی ہے (2 ؎ تفسیر الدر المنثورص 248 ج 5) حاصل اس کا یہ ہے کہ ابی رمثہ کہتے ہیں میں اپنے باپ کے ساتھ آنحضرت ﷺ کی خدمت میں ایک روز گیا جب آنحضرت پر میری نظر پڑی تو آپ نے میرے باپ سے پوچھا کہ یہ لڑکا تمہارا بیٹا ہے میرے باپ نے جواب دیا کہ ہاں آپ نے فرمایا کہ باپ بیٹے کا تعلق دنیا ہی دنیا کا ہے آخرت میں نہ بیٹا باپ کے کچھ گناہ بٹا سکتا ہے نہ باپ بیٹے کے یہ فرما کر پھر آپ نے یہ آیت پڑھی اسی طرح آپ کا وہ فرمانا مشہور ہے جو حجتہ الوداع میں آپ نے نصیحت کے طور پر فرمایا تھا جس کی روایت مسند…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 15–23

آیت 15 اللہ تبارک وتعالیٰ تمام لوگوں سے مخاطب ہے، انہیں ان کے احوال و اوصاف سے آگاہ فرماتا ہے کہ وہ ہر لحاظ سے اللہ تعالیٰ کے محتاج ہیں : (1) وہ وجود میں آنے کے لئے اس کے محتاج ہیں اگر اللہ تعالیٰ ان کو جود میں نہ لائے تو وہ وجود میں نہیں آسکتے۔ (2) وہ اپنے مختلف قویٰ اعضاء اور جوارح کے حصول میں اس کے محتاج ہیں۔ اگر اللہ تعالیٰ ان کو یہ قوی عطا نہ کرے تو کسی کام کے لئے ان میں کوئی استعداد نہیں۔ (3) وہ خوراک، رزق اور دیگر ظاہری و باطنی نعمتوں کے حصول میں اسی کے محتاج ہیں۔ اگر اس کا فضل و کرم نہ ہو اور اگر وہ ان امور کے حصول میں آسانی پیدا نہ کرے تو وہ رزق اور دیگر نعمتیں حاصل نہیں کرسکتے۔ (4)…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 12–27

حانث نہ ہونے کی صورتیں قول باری ہے (ومن کل تاکلون لحما طریاو تستخرجون حلیۃ تلبسونھا اور ہر ایک سے تم تازہ گوشت کھاتے ہو اور زیور نکالتے ہو جسے تم پہنتے ہو) حلیہ سے یہاں موتی اور وہ چیزیں مراد ہیں جو سمندر سے نکالی جاتی ہیں اور بطور زیور انہیں پہنا جاتا ہے۔ اگر کوئی عورت زیور نہ پہننے کی قسم کھالے تو اس قسم کے بارے میں فقہاء کے مابین اختلاف رائے ہے۔ امام ابوحنیفہ کا قول ہے کہ تنہا موتی زیور نہیں کہلاتے جب تک ان کے ساتھ سونا نہ ہو۔ کیونکہ قول باری ہے (ومما یوقدون علیہ فی النار ابتغآء حلیۃ او متاع اور جن چیزوں کو زیور یا (اور) اسباب بنانے کی غرض سے آگ کے اندر تپاتے ہیں) یہ بات سونے میں ہوتی ہے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

53 ایمان و یقین راحت بخش سایہ اور کفر و شرک دھوپ کی تپش : سو ارشاد فرمایا " اور نہ ہی سایہ اور دھوپ کی تپش باہم برابر ہوسکتے ہیں "۔ سو اسی طرح ایمان و توحید کا سایہ رحمت اور کفر و شرک کی جھلساتی لو بھی آپس میں کبھی برابر نہیں ہوسکتے۔ پس قیامت کا ہونا ضروری ہے تاکہ ان دونوں قسم کے لوگوں کے درمیان فیصلہ ہو سکے۔ اور ہر ایک کا نتیجہ و انجام عملاً اور آخری طور پر واضح ہوجائے۔ اور ہر کوئی اپنے کیے کرائے کا پورا صلہ اور بدلہ پا سکے۔ سو اس کے مطابق ایمان اور تقویٰ کی دولت رکھنے والے جنت کی سدابہار نعمتوں اور اس کے ظلِّ ظلیل میں ہوں گے اور کفر و شرک کے اندھیروں والے دوزخ کی نار شدید اور دور حجیم میں…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 15–45

سچ تو یہ ہے جو اللہ نے اعلان کیا ہے تشریح : ان آیات کی وضاحت کیا کی جائے یہ تو بذات خود علم و عرفان اور کلام الٰہی کی انتہائی آسان اور عام فہم مضمون کا مجموعہ ہیں۔ اہل علم کو معلوم ہے کہ مومن کو آنکھوں والا، زندہ اور نور سے تشبیہ دی گئی ہے جبکہ کافر کو اندھا، تاریکی اور مردہ کہا گیا ہے۔ پھر کفار کی ایک خاص خصلت کا ذکر کیا گیا ہے کہ وہ اتنا ہٹ دھرم اور ضد کا پکا ہوتا ہے کہ ہمیشہ نبیوں کو جھٹلاتا رہتا ہے اس لیے سیدنامحمد ﷺ کو بار بار یہ تاکید کی گئی ہے کہ آپ ان کی ضد پر پریشان نہ ہوا کریں بس آپ ان کو سمجھاتے رہیں ان سے نمٹنا اللہ کا کام ہے۔ بار بار کفار کے لیے دوزخ اور مومن کے لیے جنت کا اعلان…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 15–26

رکوع نمبر 3 ۔ آیات 15 تا 26: اسرار و معارف : لوگو تمہارے بس میں تو کچھ بھی نہیں تمہارا سارا سرمایہ صرف احتیاج ہے اپنے وجود اپنی ذات اپنے اوصاف میں تم ہر طرح سے محتاج ہو اور اللہ ایسا بےنیاز نہ اسے تمہاری احتیاج ہے اور نہ ہی کسی اور کی بلکہ وہ ہی ایسا کامل ہے جسے ہر تعریف سزاوار ہے بھلا تم اس کی ناشکری اور کفر کا راستہ اپناتے جو اس قدر بےنیاز اور قادر ہے کہ چاہے تو ایک آن میں تم سب کو تباہ اور نابود کردے اور تمہاری جگہ ایک نئی مخلوق پیدا کردے کہ یہ اس کے لیے کچھ بھی مشکل نہیں یہ اس کی شان کریمی ہے کہ تمہیں باوجود تمہاری نافرمانیوں کے مہلت دے رکھی ہے مگر اس کا یہ مطلب بھی نہیں کہ تمہیں کوئی…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 19–22

ف 8 یعنی اسی طرح مومن اور کافر برابر نہیں ہوسکتے۔ مومن کا ٹھکانہ جنت اور کافر کا جہنم شاہ صاحب (رح) لکھتے ہیں :” یعنی سب خلق برابر نہیں جن کو ایمان دینا ہے انہیں کو ملے گا تو بتھری آرزوکرے تو کیا ہوتا ہے ؟ “ (موضح)9 یعنی مردوں کو مراد وہ کافر ہیں جن کے دل مردہ ہوچکے ہیں۔ اس آیت سے معلوم ہوا کہ جو لوگ قبروں میں مردہ میں انہیں کوئی بات نہیں سنائی جاسکتی۔ یہ ایک عام حقیقت ہے جس سے صرف وہ صورتیں مستثنیٰ ہیں جو دلیل ( کتاب و سنت) سے ثابت ہوں۔ (دیکھئے سورة نمل آیت 80) ۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(35:21) الظل۔ سایہ، چھائوں، دھوپ کی ضد ہے مراد جنت و ثواب۔ الحرور۔ دھوپ کی تپش۔ لو۔ گرم ہوا۔ مراد یہاں دوزخ اور عذاب ہے۔ الحرور۔ اسم ہے اور مصدر بھی۔ حرارۃ بھی مصدر ہے۔ حر مادہ ۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 15–26

لغات القرآن : آیت نمبر 15 تا 26 فقرائ ( محتاج ، ضرورت مند) الغنی ( بےنیاز ، جو کسی کا محتاج نہ ہو) الحمید (جس کی ذات میں ہر طرح کی خوبیاں موجود ہوں) لا تزر (بوجھ نہیں اٹھاتا ہے) مثقلۃ ( لدا ہوا بوجھ) حمل (بوجھ) مسمع ( سنانے والا) خلا (گزر گیا) زبر (صحیفے ، کتابیں) نکیر (عذاب) تشریح : آیت نمبر 15 تا 26 :۔ انسان کی سب سے بڑی بھول اور نادانی یہ ہے کہ وہ اپنی حاجتوں اور ضرورتوں کے لئے ایک اللہ کو چھوڑ کر بہت سی ایسے کمزور اور ناقابل اعتبار سہاروں میں زندگی گزارنے کی کوشش کرتا ہے جن کی کوئی حیثیت اور اہمیت نہیں ہوتی اور اس طرح وہ زندگی بھر گمراہی کے اسی دائرے میں گھومتا رہتا ہے۔ ایسے نادانوں سے…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 18–23

مسلمان اور کافر کی مثال۔ (ف 1) ان آیتوں میں فرمایا کہ کوئی شخص قیامت کے دن کسی دوسرے شخص کے گناہ کا ذمہ دار نہیں اور اگر کوئی شخص اپنے گناہوں میں لدا ہوا کسی دوسرے شخص کو اس بوجھ کے اٹھانے کے واسطے پکارے گا تو وہ شخص اگرچہ اس کا بہت قریب کا رشتہ دار ہی کیوں نہ ہو جیسے باپ یابـیٹا ، جب بھی اسکے گناہوں کا بوجھ اپنے سرنہ لے گا، ان دونوں صورتوں میں بوجھ کہ نہ اٹھانا اللہ کے حکم کی وجہ سے ہے اب قیامت کا نفسانفسی اور قرابت داروں کے غیر ہوجانے کا حال ذکر فرماکر کہ بغیر دیکھے قیامت کی باتوں کا اور خدا کے سامنے کھڑے ہونے کا جن کو خوف ہے ان کو ہی اللہ کے رسول کی نصیحت کچھ کارگر ہوتی ہے دنیا کی محبت میں…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 15–22

[11] یعنی جس کی ہدایت منظور ہو۔ اور اللہ کو ہدایت اسی کی منظور ہے جو طالب ہدایت ہو۔ اس کو قبول ہدایت کی توفیق عطا فرماتا ہے۔ [12] یعنی جن لوگوں کے سینے ضمیر کا مدفن بن چکے ہیں۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 18–21

ف 3: یعنی ہر شخص اپے اعمال کا ذمہ دار ہے ۔ یہ نہیں ہوسکے گا کہ گناہ تو ہم کریں ۔ اور سزا میں کسی دوسرے شخص کو گرفتار کیا جائے ۔ اسی طرح یہ بھی درست نہیں ہے ۔ کہ زید گناہ کرے اور دوسرے قالب میں بکر پکڑا جائے ۔ سزا اور اجر کا وہ ” انا “ مستحق ہے ۔ جس کا براہ راست اعمال سے تعلق ہے ۔ اس ” انا “ میں کوئی تبدیلی نہیں ہوسکتی ۔ کفارہ اور تناسخ عقیدہ اس لئے غلط ہے ۔ کہ ان دونوں صورتوں میں سزا اور جزا کا تعلق اس ” انا “ سے باقی نہیں رہتا ۔ اور مکافات عمل کے اصول پر منطقی طور پر اعتراضات وارد ہوتے ہیں ۔ جن کی تفصیل کا یہ موقع نہیں ۔ حل لغات :۔ انفظرائ۔ فقیر کی جمع ہے ۔ بمعنی محتاج وزر ۔ بوجھ ۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

ف 3۔ یعنی ان لوگوں سے کیا توقع رکھی جائے کہ ان کا ادراک مثل ادراک مومنین کی طرح یہ بھی حق کو قبول کرلیں۔ اور قبول حق کے ثمرات دینی میں بھی یہ لوگ شریک ہوجاویں، کیونکہ مومنین کی مثلا ادراک حق میں بصیر کی سی ہے، اور ان کی مثال عدم ادراک حق میں اعمی کی سی ہے، اور اسی طرح مومن نے ادراک حق کے ذریعہ سے جس طریق ہدایت کو اختیار کیا ہے اس طریق حق کی مثال نور کی سی ہے اور کافر نے عدم ادراک حق سے جس طریقہ کو اختیار کیا ہے اس کی مثال ظلمت کی سی ہے، اور اسی طرح جو ثمرہ جنت وغیرہ اس طریق حق پر مرتب ہوگا، اس کی مثال ظل بارد کی سی ہے، اور جو ثمرہ جہنم وغیرہ طریق باطل پر مرتب ہوگا اس کی مثال جلتی دھوپ کی سی…

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اور دیکھ لو کہ سایہ اور دھوپ بھی کبھی برابر نہیں ہوسکتے 21 ۔ بلا شبہ سایہ یعنی ثواب اور عتاب بھی دونوں کبھی برابر نہیں ہوسکتے۔ تیز دھوپ کو نبی کریم ﷺ نے بھی جہنم سے تعبیر کیا ہے اور اس جگہ مراد بہرحال دو مخالف چیزوں سے ہے اگرچہ سایہ اپنی افادیثت رکھتا ہے اور دھوپ بھی ایک اپنا مقام رکھتی ہے تاہم سایہ اور دھوپ ایک دوسرے کے مخالف ہیں اس لئے دو مخالف چیزوں کی تفہیم کے لئے ان کو بیان کردیا گیا ہے اس لئے اگر دونوں کو الگ الگ کریں وت چاہے دونوں ہی مفید ہوں اور چاہے دونوں مضر پڑیں یہ افادہ اپنی جگہ پر ہے اس جگہ دو مخالف چیزوں کے لئے بولا گیا ہے اور یہی مفہوم مراد ہے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 18–21

Commentary Verse 18: وَلَا تَزِرُ‌ وَازِرَ‌ةٌ وِزْرَ‌ أُخْرَ‌ىٰ (And no bearer will bear the burden of any other person) means that, on the Day of Judgment, no one will be able to bear the burden of another person's sins. Everyone will have to bear his or her burden. As for what appears in Surah Al-` Ankabut (29:13): وَأَثْقَالًا مَّعَ أَثْقَالِهِمْ , which means that people who make others go astray will not only bear the burden of going astray personally, but will also bear the burden of having made others go astray. it does not mean that they will somehow lighten the burden of those they…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 18–21

39 "Burden": the burden of the responsibilities of actions. It means: In the sight of Allah every one is responsible for his own actions and for no one else's. There is no possibility that AIlah will place the burden of one man's responsibility upon the other, nor is there the possibility that a person will take the burden of another's responsibility upon himself and get himself seized for the crime committed by the other. This thing has been said here because the polytheist kinsmen and relatives of the people who were embracing Islam in Makkah, used to urge them, saying, °Give up Islam and…

Read the full tafseer →