Explained with ayahs 15–18
اللہ قادر مطلق۔
اللہ ساری مخلوق سے بےنیاز ہے اور تمام مخلوق اس کی محتاج ہے۔ وہ غنی ہے اور سب فقیر ہیں۔ وہ بےپرواہ ہے اور سب اس کے حاجت مند ہیں۔ اس کے سامنے ہر کوئی ذلیل ہے اور وہ عزیز ہے کسی قسم کی حرکت و سکون پر کوئی قادر نہیں سانس تک لینا کسی کے بس میں نہیں۔ مخلوق بالکل ہی بےبس ہے۔ غنی بےپرواہ اور بےنیاز صرف اللہ ہی ہے تمام باتوں پر قادر وہی ہے۔ وہ جو کرتا ہے اس میں قابل تعریف ہے۔ اس کا کوئی کام حکمت و تعریف سے خالی نہیں۔ اپنے قول میں اپنے فعل میں اپنی شرع میں تقدیروں کے مقرر کرنے میں غرض ہر طرح سے وہ بزرگ اور لائق حمد وثناء ہے۔ لوگو اللہ کی قدرت ہے اگر وہ چاہے تو تم سب کو غارت و برباد کر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–21
سورة فَاطِر 39
" بوجھ " سے مراد اعمال کی ذمہ داریوں کا بوجھ ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ کے ہاں ہر شخص اپنے عمل کا خود ذمہ دار ہے، اور ہر ایک پر صرف اس کے اپنے ہی عمل کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ اس امر کا کوئی امکان نہیں ہے کہ ایک شخص کی ذمہ داری کا بار اللہ تعالیٰ کی طرف سے کسی دوسرے پر ڈال دیا جائے۔ اور نہ یہی ممکن کہ کوئی شخص کسی دوسرے کی ذمہ داری کا بار خود اپنے اوپر لے لے اور اسے بچانے کے لیے اپنے آپ کو اس کے جرم میں پکڑوا دے۔ یہ بات یہاں اس بنا پر فرمائی جا رہی ہے کہ مکہ معظمہ میں جو لوگ اسلام قبول کر رہے تھے ان سے ان کے مشرک رشتہ دار اور برادری کے لوگ کہتے تھے کہ تم ہمارے کہنے سے اس نئے دین کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–21
معارف و مسائل
(آیت) ولا تزر وازرة وزر اخری، یعنی قیامت کے روز کوئی آدمی دوسرے آدمی کے گناہوں کا بوجھ نہ اٹھا سکے گا، ہر ایک کو اپنا بوجھ خود ہی اٹھانا پڑے گا۔ اور سورة عنکبوت میں جو آیا ہے کہ ولیحملن اثقالہم واتقالاً مع اثقالہم، یعنی گمراہ کرنے والے لوگ اپنے گمراہ ہونے کا بوجھ بھی اٹھائیں گے اور اتنا ہی دوسرا بوجھ اس کا اٹھائیں گے کہ انہوں نے دوسروں کو گمراہ کیا تھا۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ جن کو گمراہ کیا تھا ان کا بوجھ یہ لوگ کچھ ہلکا کر دینگے، بلکہ ان کا بوجھ اپنی جگہ پر ان پر پورا ہوگا، اور گمراہ کرنے والوں کا جرم دوہرا ہونے کی وجہ سے ان کا بوجھ بھی دوہرا ہوجائے گا۔ ایک گمراہ ہونے کا دوسرا…
Read the full tafseer →آیت 18
’ ان تدع مثقلۃ الی حملھا لا یحمل منہ شئی ولو کان ذا قربی۔ ’ مثقلۃ ‘ سے پہلے موصوف مخدوف ہے۔ یعنی نفس مثقلۃ (اپنے بار گناہ کے نیچے دبی ہوئی جان)۔ اسی طرح ’ الیٰ حملھا ‘ میں ’ حمل ‘ سے پہلے مضاف مخذوف ہے اور ’ کان ‘ کے بعد اس کا اسم ’ المدعو ‘ مخدوف ہے۔ یہ تمام مخدوفات اعلیٰ عربیت کے معروف قواعد کے مطابق ہیں۔
مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی اپنے گناہوں سے بوجھل جان کسی کا پکارے گی کہ ذرا وہ اس کے بوجھ کے اٹھانے میں اس کو سہارا دے دے تو کوئی اسی کا ہاتھ بٹانے والا نہیں بنے گا اگرچہ جس کو وہ مدد کے لئے پکارے وہ قریبی رشتہ دار ہی کیوں نہ ہو۔ نیک تو اس لئے اس کا ہاتھ نہیں بٹائیں گے کہ جب وہ دنیا میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–19
18۔ 1 ہاں جس نے دوسروں کو گمراہ کیا ہوگا، وہ اپنے گناہوں کے بوجھ کے ساتھ ان کے گناہوں کا بوجھ بی اٹھائے گا، جیسا کہ آیت (وَلَيَحْمِلُنَّ اَثْــقَالَهُمْ وَاَثْــقَالًا مَّعَ اَثْقَالِهِمْ) 29۔ العنکبوت :13) واضح ہے لیکن یہ دوسروں کا بوجھ بھی درحقیقت ان کا اپنا ہی بوجھ کہ ان ہی نے ان دوسروں کو گمراہ کیا تھا۔
18۔ 2 ایسا انسان جو گناہوں کے بوجھ سے لدا ہو ہوگا، وہ اپنا بوجھ اٹھانے کے لئے اپنے رشتہ دار کو بھی بلائے گا تو وہ آمادہ نہیں ہوگا۔
18۔ 3 یعنی تیرے انذار و تبلیغ کا فائدہ انہی لوگوں کو ہوسکتا ہے تو یا تو انہی کو ڈراتا ہے ان کو نہیں جن کو انذار سے کوئی فائدہ نہیں ہوتا جس طرح دوسرے مقام پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–21
6: یعنی اللہ تعالیٰ دوسروں کی عبادت اور ان کے تعریف کرنے سے بالکل بےنیاز ہے، کوئی اس کی تعریف کرے یا نہ کرے، وہ بذات خود قابل تعریف ہے۔
Read the full tafseer →ولا تزر وازرۃ وزرا اخری ۔۔۔۔۔۔۔ والی اللہ المصیر (18)
انفرادی ذمہ داری کے اصول کا انسانی اخلاقیات پر بہت گہرا اثر ہوتا ہے اور اسی طرح انسانی طرز عمل پر بھی اس کا فیصلہ کن اثر پوتا ہے۔ کسی انسان میں یہ شعور پیدا ہونا ضروری ہے کہ اسے سزا و جزاء صرف اس کے اعمال پر ہوگی اور اس سے مواخذہ صرف اس کے اعمال پر ہوگا۔ کسی دوسرے کی بدعملی پر اسے سزا نہ ہوگی اور اپنے اعمال بد سے بھی وہ کسی طرح بچ کر نہ نکل سکے گا۔ یہ ایک ایسا فیکٹر ہے جو انسان کو ہر وقت بیدار رکھتا ہے اور اس کا یہ فائدہ بھی ہوتا ہے کہ انسان جھوٹی امیدوں پر تکیہ نہیں کرتا کہ کوئی اسے فائدہ دے گا یا اس کی جگہ کوئی ذمہ داری برداشت کرلے گا۔…
Read the full tafseer →6 یعنی نہ کوئی از خود دوسرے کا بوجھ اپنے سر رکھے گا کہ اس کے گناہ اپنے اوپر لے لے اور نہ دوسرے کے پکارنے پر اس کا کچھ ہاتھ بٹا سکے گا خواہ قریبی رشتہ دار ہی کیوں نہ ہو۔ سب کو نفسی نفسی پڑی ہوگی۔ محض اللہ تعالیٰ کے فضل و رحمت ہی سے بیڑا پار ہوگا۔7 یعنی آپ کے ڈرانے سے وہ ہی اپنا رویہ درست کر کے نفع اٹھائے گا جو خدا سے بن دیکھے ڈرتا ہے اور ڈر کر اس کی بندگی میں لگا رہتا ہے جس کے دل میں خدا کا خوف ہی نہ ہو وہ ان دھمکیوں سے کیا متاثر ہوگا۔
8 یعنی آپ کی نصیحت سن کر جو شخص مان لے اور اپنا حال درست کرلے تو کچھ آپ پر یا خدا پر احسان نہیں بلکہ اسی کا فائدہ ہے اور یہ فائدہ پوری طرح اس وقت ظاہر ہوگا جب…
Read the full tafseer →آیت 18 { وَلَا تَزِرُ وَازِرَۃٌ وِّزْرَ اُخْرٰی } ”اور کوئی جان نہیں اٹھائے گی کسی دوسری جان کا بوجھ۔“
{ وَاِنْ تَدْعُ مُثْقَلَۃٌ اِلٰی حِمْلِہَا } ”اور اگر بوجھ تلے دبی کوئی جان کسی کو پکارے گی اپنے بوجھ کے ہٹانے کے لیے“
{ لَا یُحْمَلْ مِنْہُ شَیْئٌ وَّلَوْ کَانَ ذَا قُرْبٰی } ”تو نہیں اٹھائے گا کوئی اس میں سے کچھ بھی اگرچہ وہ قرابت دار ہی ہو۔“
میدانِ حشر میں اگر کوئی گنہگار اپنے گناہوں کے بوجھ کو ناقابل برداشت پا کر اپنے کسی قریبی رشتہ دار کو بھی مدد کے لیے پکارے گا تو وہ بھی بیگانوں کی طرح اس کے قریب سے گزر جائے گا اور اس کی کوئی مدد نہیں کرے گا۔
{ اِنَّمَا تُنْذِرُ الَّذِیْنَ یَخْشَوْنَ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–20
25 وزر کا لغوی مفہوم اور قانون جزاء و سزا :۔ وزر کا لفظ، بالخصوص گناہوں کے بوجھ کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ اور اس کا ضابطہ یہ ہے کہ جو کرے گا، وہی بھرے گا۔ یہ ناممکن ہے کہ کرے کوئی اور بھرے کوئی دوسرا یہ کہ اسے اتنی ہی سزا ملے گی جتنا اس نے گناہ کیا ہوگا اس سے زیادہ نہیں۔ البتہ اگر کوئی شخص ایسا گناہ کا کام رائج کر جائے جس پر بعد میں آنے والے لوگ عمل پیراہوں مثلاً کوئی شرکیہ عقیدہ یا کام یا کوئی بدعت رائج کرجائے تو حصہ رسدی کے طور پر اس کے اپنے گناہوں کے بوجھ میں اضافہ بھی ہوتا رہے گا۔ اور دوسری حقیقت یہ ہے کہ کوئی شخص کسی دوسرے کا بوجھ اپنے ذمہ لینے کو تیار بھی نہ ہوگا۔ نہ باپ بیٹے کا گناہ اپنے…
Read the full tafseer →31۔ (پس اس بھروسہ پر رہنا کہ ہمارے آباء و اجداد مقبولین میں ہوئے ہیں، کیسی شدید حماقت ہے) (آیت) ” ولاتزر ...... اخری “۔ یہ سب کشف حقائق و ظہور نتائج کے دن، یعنی قیامت میں ہوگا۔ (آیت) ” وزر سے مراد کفر ومعصیت کا بوجھ ہے۔ اور اس کا تعلق ذاتی عمل سے ہے۔ ورنہ اعانت جرم، یعنی اغواء واضلال تو خودایک مستقل جرم ہے۔ آیت میں خاص طور پر رد ان مذہبوں کا ہے، جن کا دارومدار ہی کفارہ وشفاعت کے عقائد پر ہے۔
32۔ (اور وہ مومنین ہیں) مطلب یہ ہوا کہ آپ ﷺ کی تعلیم وتبلیغ سے نفع تو صرف وہی حاصل کرتے ہیں جو طالب حق ہوتے ہیں۔
33۔ (اور وہی سب کے فیصلہ کے لیے کافی ہے) (آیت) ’ من ..... لنفسہ “۔ اس لیے اگر کوئی آپ ﷺ کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–26
آیت نمبر 15 تا 26
ترجمہ : اے لوگو ! تم ہرحال میں اللہ کے محتاج ہو اور اللہ تو اپنی مخلوق سے بےنیاز ہے اور وہ اپنی مخلوق پہر احسان کی وجہ سے سزاوار حمد ہے اگر وہ چاہے تو تم کو فنا کردے اور تمہاری جگہ ایک نئی مخلوق پیدا کردے اور یہ بات اللہ کے لئے کچھ مشکل نہیں، کوئی بھی گنہ گار شخص دوسرے کے گناہ کا بوجھ نہیں اٹھائے گا، گوجس شخص کو بلایا گیا ہے رشتہ دار ہی کیوں نہ ہو، جیسا کہ باپ اور بیٹا اور دونوں صورتوں میں عدم حمل اللہ کا حکم ہے، آپ تو صرف ان ہی لوگوں کو ڈراسکتے ہیں جو اپنے رب سے غائبانہ ڈرتے ہوں یعنی اس سے ڈرتے ہوں حالانکہ اس کو دیکھا نہیں ہے، اس لئے کہ یہی لوگ تنبیہ سے فائدہ اٹھانے والے…
Read the full tafseer →ولا تزروازرۃ وزراخری . اور کوئی دوسرے کا (گناہ کا) بوجھ (اپنے اوپر) نہیں اٹھائے گا۔
یعنی کوئی گناہ گار آدمی دوسرے شخص کے گناہ کا بوجھ برداشت نہیں کرے گا۔
ایک شبہ :
ایک آیت ہے : وَلَیَحْمَلُنَّ اَثْقَالَھُمْ وَاَثْقَالَھُمْ وَاَثْقَالاً مَّعَ اَثْقَالِھِمْ اور وہ اپنے بار گناہ اٹھائیں گے اور اپنے بوجھ کے ساتھ اور بوجھ بھی اٹھائیں گے۔ اس سے ثابت ہوا کہ لوگ اپنا بار گناہ اٹھائیں گے اور دوسروں کے گناہ بھی ان پر لادے جائیں گے۔
ازالۂ شبہ :
یہ آیت ان لوگوں کے بارے میں ہے جو خود بھی گناہ گار ہیں اور دوسروں کو گمراہ کرنے والے بھی ہیں۔ ان لوگوں پر اپنے گمراہ ہونے کا بار بھی پڑے گا اور دوسروں کے گمراہ…
Read the full tafseer →اور کوئی خوشی سے کسی کے گناہوں کا بوجھ نہیں اٹھائے گا لیکن زبردستی دوسرا اس پر لادنا چاہے گا یا یہ کہ کسی کو دوسرے کے گناہ میں نہیں پکڑا جائے گا یا یہ کہ کسی انسان کو بغیر گناہ کے عذاب نہیں دیا جائے گا اور اگر کوئی گناہوں کے بوجھ سے لدا ہوا کسی کو اپنے گناہوں کا بوجھ اٹھانے کے لیے بلا لے گا تو بھی اس کے سننے والوں سے کچھ بھی بوجھ نہیں اٹھایا جائے گا اگرچہ وہ شخص قرابت دار یعنی ماں باپ اور اولاد ہی کیوں نہ ہو۔ اے نبی اکرم آپ کا ڈرانا تو ایسے لوگوں کو نفع پہنچاتا ہے جو بغیر دیکھے اپنے پروردگار کی عبادت کرتے ہیں حالانکہ اللہ تعالیٰ سے کوئی چیز بھی پوشیدہ نہیں اور پانچوں نمازوں کی پابندی کرتے ہیں…
Read the full tafseer →وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزْرَ اُخْرٰى : اس آیت میں مشرکین کے اس غلط خیال کا رد فرمایا کہ قیامت کے دن کچھ لوگ ان کے گناہ اپنے ذمے لے کر انھیں چھڑا لیں گے، جیسا کہ نصرانیوں کا کہنا ہے کہ مسیح ؑ ان کے گناہوں کی پاداش میں سولی پر چڑھ گئے اور بعض کلمہ گو حضرات کا کہنا ہے کہ حسین ؓ کی محبت کی وجہ سے انھیں قیامت کے دن کوئی نہیں پوچھے گا، کیونکہ انھوں نے شہید ہو کر اپنے ساتھ محبت کرنے والوں کے گناہوں کا بوجھ خود اٹھا لیا ہے۔ آیت میں ”وَازِرَةٌ“ محذوف لفظ ”نَفْسٌ“ کی صفت ہے، جو مؤنث ہے، اس لیے صفت بھی مؤنث آئی ہے اور یہ لفظ اس لیے اختیار فرمایا کہ اس میں مرد عورتیں سب آجاتے ہیں۔ یعنی کوئی بوجھ اٹھانے…
Read the full tafseer →اس کے بارے میں گفتگو پہلے گزر چکی ہے، یہ کلام ماقبل کلام سے الگ کی گئی ہے اصل میں یہ توزر تھا، یزر کی اتباع سے دائو کو حزف کردیا گیا۔ وازرۃ یہ محزوف موصوف کی صفت ہے تقدیر کلام یہ ہے نفس وازرۃ اسی طرح۔ آیت : و ان تدع مثقلۃ الیٰ حملھا ہے فراء نے کہا : نفس مثقلۃ اودابۃ مثقلۃ اور کہا : یہ نفس مذکر اور مونث دونوں کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ اخفش نے کہا : اگر تدع کا مفعول بہ انسان ہو تو مراد اس کے گناہ ہوں گے (1) ( زاد المسیر، جز 6، صفحہ 261) اور حمل سے مرا وہ چیز ہے جو کسی کی پشت پر ہو اور حمل یہ عورت کا حمل اور کھجور کا حمل ہے۔ کسائی نے دونوں کو فتحہ کے ساتھ بیان کیا ہے کسی اور طریقہ سے بیان نہیں…
Read the full tafseer →1:۔ احمد اور ترمذی (اور ترمذی (رح) نے اس کو صحیح بھی کہا ہے) و نسائی وابن ماجہ نے عمر بن احوص ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے حجۃ الوداع میں فرمایا خبردار ! کہ جنایت کرنے والے کا وبال اس کی ذات پر ہوگا، باپ کی جنایت کا مؤاخذہ بیٹے سے اور بیٹے کا مؤاخذہ باپ سے نہ ہوگا۔
2:۔ سعید بن منصور، ابو داؤد والترمذی والنسائی وابن مردویہ نے ابو رمثہ ؓ سے روایت کیا کہ میں اپنے والد کے ساتھ نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا جب میں نے آپ کو دیکھا تو میرے والد سے فرمایا یہ تیرا بیٹا ہے ؟ عرض کیا کعبہ کے رب کی قسم ہاں (یہ میرا بیٹا ہے) آپ نے فرمایا تیرے بیٹے کی جنایت کا تجھ سے تیرے جنایت کا تیرے بیٹے سے مواخذہ…
Read the full tafseer →وَلَا تَزِرُ [اور نہیں اٹھائے گی ] وَازِرَةٌ [کوئی اٹھانے والی (جان)] وِّزْرَ اُخْرٰى ۭ [کسی دوسری (جان) کا بوجھ ] وَاِنْ تَدْعُ [اور اگر پکارے گی ] مُثْقَلَةٌ [کوئی بوجھل کی ہوئی (جان)] اِلٰى حِمْلِهَا [اپنے بوجھ کی طرف ] لَا يُحْمَلْ [تو نہیں اٹھایا جائے گا ] مِنْهُ [اس (بوجھ) میں سے ] شَيْءٌ [کچھ بھی ] وَّلَوْ كَانَ [اور اگرچہ وہ ہو ] ذَا قُرْبٰى ۭ [قرابت والا ] اِنَّمَا تُنْذِرُ [آپ ﷺ تو بس خبردار کرتے ہیں ] الَّذِيْنَ [ان لوگوں کو جو ] يَخْشَوْنَ [ڈرتے ہیں ] رَبَّهُمْ بِالْغَيْبِ [اپنے رب سے بن دیکھے ] وَاَقَامُوا الصَّلٰوةَ ۭ [اور قائم کرتے ہیں نماز کو ] وَمَنْ تَزَكّٰى [اور جو اپنا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–26
سب اللہ کے محتاج ہیں، قیامت کے دن کوئی کسی کا بوجھ نہ اٹھائے گا، بینا اور نابینا، اندھیریاں اور روشنی، زندہ اور مردہ برابر نہیں، ہر امت میں نذیر بھیجا گیا ہے
یہ پورے ایک رکوع کا ترجمہ ہے جس میں بہت سے امور پر تنبیہ فرمائی ہے اور متعدد نصیحتیں فرمائیں۔
اولاً یہ فرمایا کہ اے لوگو تم سب اللہ ہی کے محتاج ہو، اللہ تعالیٰ غنی ہے جسے کسی چیز کی حاجت نہیں ہے، کوئی بھی ایمان لانے والا اور اس کی عبادت کرنے والا یہ نہ سمجھے کہ اسے میری حاجت اور ضرورت ہے، بلکہ یہ سمجھ کر اس کی عبادت کرے کہ مجھے اسے راضی کرنے کی حاجت ہے، وہ غنی ہے، بےنیاز ہے اور ہر تعریف کا مستحق ہے، وہ ہر عیب سے پاک ہے اور صفات جلیلہ سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–26
ذکر فقرواحتیاج بشرواستغنا خداوند بر وبحر
قال اللہ تعالی۔ یایھا الناس انتم الفقراء الی اللہ۔۔۔ الی۔۔۔ فکیف کان نکیر۔
(ربط) اوپر سے منکرین توحید کا رد چلا آرہا ہے اب یہ بتلاتے ہیں کہ یہ لوگ متکبر اور مغرور ہیں اور دراہم معدودہ کے نشہ کے میں چور ہیں اور خدا کی پکڑ سے بےفکر ہیں اور اس کی یاد سے دور ہیں۔ اور یہ نہیں سمجھتے کہ کل عالم اپنے وجود میں اور اپنی بقاء میں اللہ کا محتاج ہے اور خاص کر انسان تو سب سے زیادہ حاجتوں میں جکڑا ہوا ہے اور خداوند ذوالجلال۔ غنی مطلق اور بےنیاز مطلق ہے جب چاہے پکڑ سکتا ہے اللہ کو نہ کسی کے مال و دولت کی حاجت ہے اور نہ کسی کی عبادت کی حاجت ہے۔ وہ سب سے بےنیاز ہے پس…
Read the full tafseer →22:۔ ولا تزر وازرۃ الخ : یہ تخویف اخروی ہے۔ قیامت کے دن ہر شخص اپنے اپنے اعمال کا جوابدہ ہوگا اور کوئی کسی کا بوجھ اٹھا کر اس کا ہاتھ نہیں بٹائے گا۔ اگرچہ قریب ترین رشتہ دار ہی کیوں نہ ہو۔ انما تنذر الخ : یہ بشارت اخروی ہے۔ تبلیغ و انذار سے صرف انہی لوگوں کو فائدہ پہنچ سکتا ہے جو اللہ سے ڈرتے اور نماز قائم کرتے ہیں جو شخص تقوی اختیار کرتا اور اپنے نفس کو پاک کرتا ہے اس کا فائدہ بھی اسی کو پہنچے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–18
گزشتہ آیات کی طرح آج کے درس میں بھی توحید کا اثبات ، شرک کا رد ، وقوع قیامت اور محاسبہ اعمال کا بیان ہے۔ ساتھ ساتھ منکرین کے لیے جبر و تنبیہ کا پہلو بھی ہے۔ تمام بنی نوع انسان کو خطاب کرکے انہیں ان کی ذمہ داری کا احساس دلایا جارہا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے یایھا الناس ان تم للفقرا الی اللہ اے دنیا جہان کے لوگو ! تم سب کے سب اللہ تعالیٰ کی طرف محتاج ہو۔ فقار دراصل پشت کے مہرے کو کہا جاتا ہے جس شخص کا مہرہ ٹوٹا ہوا ہو اس کی کمر سیدھی نہیں ہوکستی اور اس لحاظ سے وہ محتاج ہوتا ہے۔ تو فرمایا تم سارے کے سارے اللہ کے دروازے کے فقیر ہو اور اپنی تمام حاجات اسی سے طلب کرتے ہو۔ سورة الرتین میں بھی فرمایا ہے…
Read the full tafseer →وَلَا تَزِرُ وَازِرَۃٌ وِّزْرَ اُخْرٰى 0 ۭ وَاِنْ تَدْعُ مُثْقَلَۃٌ اِلٰى حِمْلِہَا لَا يُحْمَلْ مِنْہُ شَيْءٌ وَّلَوْ كَانَ ذَا قُرْبٰى 0 ۭ اِنَّمَا تُنْذِرُ الَّذِيْنَ يَخْشَوْنَ رَبَّہُمْ بِالْغَيْبِ وَاَقَامُوا الصَّلٰوۃَ 0 ۭ وَمَنْ تَزَكّٰى فَاِنَّمَا يَتَزَكّٰى لِنَفْسِہٖ 0 ۭ وَاِلَى اللہِ الْمَصِيْرُ 18
وزر
الوَزَرُ : الملجأ الذي يلتجأ إليه من الجبل .
قال تعالی: كَلَّا لا وَزَرَ إِلى رَبِّكَ [ القیامة/ 11] والوِزْرُ : الثّقلُ تشبيها بِوَزْرِ الجبلِ ، ويعبّر بذلک عن الإثم کما يعبّر عنه بالثقل . قال تعالی:
لِيَحْمِلُوا أَوْزارَهُمْ كامِلَةً (يَوْمَ الْقِيامَةِ ) وَمِنْ أَوْزارِ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–23
انما تنذر الذین الخ فرماتا ہے۔ اے نبی (علیک السلام) آپ کا وعظ و پند اور ڈر سنانا انہی کو نافع اور کارآمد ہے جو غائبانہ اپنے اللہ سے ڈرتے ہیں اور نماز پڑھتے ہیں اور یہ بھی یاد رہے کہ من تزکیٰ الخ جو کوئی اصلاح پذیر ہوتا ہے اور نیک بختی اختیار کرتا ہے تو اس کا فائدہ اسی کے لیے ہے۔ اللہ اور نبی کو کوئی فائدہ نہیں، والی اللہ المصیر اور اللہ ہی کے پاس لوٹ کر جانا ہے۔ ہر شخص اپنے کئے کا بدلہ وہاں پاوے گا اور یہ گمراہ اپنی گمراہی پر کیا نازاں ہیں۔ کافرو مومن برابر نہیں ہوسکتے۔ جیسا کہ اندھا اور آنکھوں والا اور روشنی اور اندھیرا اور سایہ اور دھوپ اور مردہ اور زندہ برابر نہیں۔ یہ کافر و مومن کی مثالیں…
Read the full tafseer →وَلاَ تَزِرُوَازِرَۃٌ وِّزْرَ اُخْرٰی ط وَاِنْ تَدْعُ مُثْقَلَۃٌ اِلٰی حِمْلِھَا لاَ یُحْمَلْ مِنْہُ شَیْ ئٌ وَّلَوْکَانَ ذَا قُرْبٰیط اِنَّمَا تُنْذِرُالَّذِیْنَ یَخْشَوْنَ رَبَّھُمْ بِالْغَیْبِ وَاَقَامُوا الصَّلٰوَۃ ط وَمَنْ تَزَکّٰی فَاِنَّمَا یَتَزَکّٰی لِنَفْسِہٖ ط وَاِلَی اللّٰہِ الْمَصِیْرُ ۔ (فاطر : 18)
(اور کوئی بوجھ اٹھانے والا کسی دوسرے کا بوجھ نہ اٹھائے گا، اور اگر کوئی بوجھل نفس اپنا بوجھ اٹھانے کے لیے کسی کو پکارے گا تو اس کے بوجھ کا ادنیٰ حصہ بھی کوئی اٹھانے کے لیے نہیں آئے گا اگرچہ وہ قرابت دار ہی کیوں نہ ہو۔ اے پیغمبر ! تم صرف انھیں لوگوں کو ڈرا سکتے ہو جو بےدیکھے اپنے رب سے…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : جو دنیا میں اپنے آپ کو نہیں بچاسکتے وہ آخرت میں کسی کی ذمہ داری کیا اٹھائیں گے۔
مشرکین کا عقیدہ ہے کہ جن بزرگوں کے حضور ہم نذرو نیاز دیتے ہیں وہ قیامت کے دن ہمیں اللہ تعالیٰ کی گرفت سے چھڑا لیں گے۔ ایسا عقیدہ رکھنے والوں پر یہ حقیقت واضح کی گئی ہے کہ اس دن کوئی بوجھ اٹھانے والا دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا جو شخص بوجھ تلے دبا ہوگا وہ بڑی آہ وزاری کے ساتھ اپنے اقرباء اور احباب کو آواز پر آواز دے گا لیکن اس کا بوجھ اٹھانے کے لیے کوئی تیار نہ ہوگا۔ یہاں تک کہ باپ بیٹے سے، بھائی اپنے بھائی سے، ماں اپنے جگر گوشوں سے، بیٹیاں اپنی مامتا سے دور بھاگ جائیں گی۔ اسی لیے نبی اکرم ﷺ…
Read the full tafseer →ہر ایک اپنا ذمہ دار ہوگا :
18: وَلَا تَزِرُ وَازِرَۃٌ وِّ زْرَ اُخْرٰی (اور کوئی بوجھ اٹھانے والا دوسرے کا بوجھ نہ اٹھائے گا) کوئی گناہ گار نفس کسی دوسرے نفس کا گناہ اپنے اوپر نہ اٹھائے گا۔
الوزر اور الوقر دونوں لفظ ایک ہیں۔ کہتے ہیں وزرالشی جبکہ وہ اس کو اٹھائے الوازرۃؔ یہ نفس کی صفت ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ہر نفس قیامت کے دن اپنا بوجھ ہی اٹھائے گا۔ جو ان گناہوں کا ہوگا جن کا اس نے ارتکاب کیا۔ کوئی دوسرا نفس اس کے گناہوں کے بدلے میں پکڑا نہ جائے گا۔ جیسا کہ دنیا کے جبابرہ دوست کو دوست اور پڑوسی کو دوسرے پڑوسی کے بدلے پکڑتے ہیں۔
یہاں وازرۃ فرمایا گیا۔ ولاتزر نہیں فرمایا کیونکہ مطلب آیت کا ہے کہ…
Read the full tafseer →18، ولا تزر وازرۃ اخری وان تدع مثقلۃ، یعنی اس شخص پر گناہوں کا بوجھ لادویا گیا ہو۔ ، الی حملھا، گناہوں کا بوجھ ۔ ، لا یحمل منہ شیئ،۔۔۔۔۔۔ ولوکان ذاقربی ، کوئی شخص دوسرے کے گناہ کا بار نہیں اٹھائے گا، اگرچہ قریبی ہی کیوں نہ ہو۔ بیٹا ہو یا باپ ، ماں ہو یا بھائی۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا ماں باپ بیٹے کو پکاریں گے اور کہیں گے بیٹے ہمارا کچھ بارتواٹھا لے، ، بیٹاجواب دے گا مجھ میں برداشت کی طاقت نہیں، میرے عمل کا بارہی کافی ہے۔ ، انما تنذرالذین یخشون ، وہ ڈرتے ہیں۔ ، ربھم بالغیب ، انہوں نے اپنے رب کو دیکھا نہیں ۔ اخفش کا بیان ہے کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ ڈرانے سے انہی لوگوں کو فائدہ پہنچا سکتے ہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–23
18 تا 23۔ ترمذی ابوداؤد نسائی اور بیہقی وغیرہ میں ابی رمثہ کی حدیث 2 ؎ میں آنحضرت ﷺ نے اس آیت کو جو تفسیر فرمائی ہے (2 ؎ تفسیر الدر المنثورص 248 ج 5) حاصل اس کا یہ ہے کہ ابی رمثہ کہتے ہیں میں اپنے باپ کے ساتھ آنحضرت ﷺ کی خدمت میں ایک روز گیا جب آنحضرت پر میری نظر پڑی تو آپ نے میرے باپ سے پوچھا کہ یہ لڑکا تمہارا بیٹا ہے میرے باپ نے جواب دیا کہ ہاں آپ نے فرمایا کہ باپ بیٹے کا تعلق دنیا ہی دنیا کا ہے آخرت میں نہ بیٹا باپ کے کچھ گناہ بٹا سکتا ہے نہ باپ بیٹے کے یہ فرما کر پھر آپ نے یہ آیت پڑھی اسی طرح آپ کا وہ فرمانا مشہور ہے جو حجتہ الوداع میں آپ نے نصیحت کے طور پر فرمایا تھا جس کی روایت مسند…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–23
آیت 15
اللہ تبارک وتعالیٰ تمام لوگوں سے مخاطب ہے، انہیں ان کے احوال و اوصاف سے آگاہ فرماتا ہے کہ وہ ہر لحاظ سے اللہ تعالیٰ کے محتاج ہیں :
(1) وہ وجود میں آنے کے لئے اس کے محتاج ہیں اگر اللہ تعالیٰ ان کو جود میں نہ لائے تو وہ وجود میں نہیں آسکتے۔
(2) وہ اپنے مختلف قویٰ اعضاء اور جوارح کے حصول میں اس کے محتاج ہیں۔ اگر اللہ تعالیٰ ان کو یہ قوی عطا نہ کرے تو کسی کام کے لئے ان میں کوئی استعداد نہیں۔
(3) وہ خوراک، رزق اور دیگر ظاہری و باطنی نعمتوں کے حصول میں اسی کے محتاج ہیں۔ اگر اس کا فضل و کرم نہ ہو اور اگر وہ ان امور کے حصول میں آسانی پیدا نہ کرے تو وہ رزق اور دیگر نعمتیں حاصل نہیں کرسکتے۔
(4)…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–27
حانث نہ ہونے کی صورتیں
قول باری ہے (ومن کل تاکلون لحما طریاو تستخرجون حلیۃ تلبسونھا اور ہر ایک سے تم تازہ گوشت کھاتے ہو اور زیور نکالتے ہو جسے تم پہنتے ہو) حلیہ سے یہاں موتی اور وہ چیزیں مراد ہیں جو سمندر سے نکالی جاتی ہیں اور بطور زیور انہیں پہنا جاتا ہے۔
اگر کوئی عورت زیور نہ پہننے کی قسم کھالے تو اس قسم کے بارے میں فقہاء کے مابین اختلاف رائے ہے۔ امام ابوحنیفہ کا قول ہے کہ تنہا موتی زیور نہیں کہلاتے جب تک ان کے ساتھ سونا نہ ہو۔
کیونکہ قول باری ہے (ومما یوقدون علیہ فی النار ابتغآء حلیۃ او متاع اور جن چیزوں کو زیور یا (اور) اسباب بنانے کی غرض سے آگ کے اندر تپاتے ہیں) یہ بات سونے میں ہوتی ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–19
47 قیامت کے روز کوئی کسی کا بوجھ نہیں اٹھائے گا : سو ارشاد فرمایا گیا اور صاف اور صریح طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ " کوئی بوجھ اٹھانے والا کسی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا "۔ پس کبھی تم لوگ اس طرح کی کسی غلط فہمی میں نہ رہنا کہ ہم نے فلاں کا لڑ پکڑ رکھا ہے وہی ہمیں کافی ہے۔ ہمارا بوجھ وہ خود اٹھا لیں گے۔ اور اس طرح ہمارا کام یونہی بن جائے گا وغیرہ کہ اس طرح کی ہر غلطی تمہیں بڑی ہولناک ہلاکت اور تباہی میں ڈال دے گی ۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم ۔ سو یہ تو ہوسکتا ہے۔ ہونا چاہیئے اور ہوگا کہ دوسروں کو گمراہ کرنے والوں کو دوہرا عذاب دیا جائے۔ ایک ضلال کا اور دوسرا اضلال کا۔ یعنی ایک گمراہ ہونے کا اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–45
سچ تو یہ ہے جو اللہ نے اعلان کیا ہے
تشریح : ان آیات کی وضاحت کیا کی جائے یہ تو بذات خود علم و عرفان اور کلام الٰہی کی انتہائی آسان اور عام فہم مضمون کا مجموعہ ہیں۔ اہل علم کو معلوم ہے کہ مومن کو آنکھوں والا، زندہ اور نور سے تشبیہ دی گئی ہے جبکہ کافر کو اندھا، تاریکی اور مردہ کہا گیا ہے۔ پھر کفار کی ایک خاص خصلت کا ذکر کیا گیا ہے کہ وہ اتنا ہٹ دھرم اور ضد کا پکا ہوتا ہے کہ ہمیشہ نبیوں کو جھٹلاتا رہتا ہے اس لیے سیدنامحمد ﷺ کو بار بار یہ تاکید کی گئی ہے کہ آپ ان کی ضد پر پریشان نہ ہوا کریں بس آپ ان کو سمجھاتے رہیں ان سے نمٹنا اللہ کا کام ہے۔ بار بار کفار کے لیے دوزخ اور مومن کے لیے جنت کا اعلان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–26
رکوع نمبر 3 ۔ آیات 15 تا 26:
اسرار و معارف :
لوگو تمہارے بس میں تو کچھ بھی نہیں تمہارا سارا سرمایہ صرف احتیاج ہے اپنے وجود اپنی ذات اپنے اوصاف میں تم ہر طرح سے محتاج ہو اور اللہ ایسا بےنیاز نہ اسے تمہاری احتیاج ہے اور نہ ہی کسی اور کی بلکہ وہ ہی ایسا کامل ہے جسے ہر تعریف سزاوار ہے بھلا تم اس کی ناشکری اور کفر کا راستہ اپناتے جو اس قدر بےنیاز اور قادر ہے کہ چاہے تو ایک آن میں تم سب کو تباہ اور نابود کردے اور تمہاری جگہ ایک نئی مخلوق پیدا کردے کہ یہ اس کے لیے کچھ بھی مشکل نہیں یہ اس کی شان کریمی ہے کہ تمہیں باوجود تمہاری نافرمانیوں کے مہلت دے رکھی ہے مگر اس کا یہ مطلب بھی نہیں کہ تمہیں کوئی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–18
ف 4 بوجھ سے مراد گناہوں کا بوجھ ہے۔ یہ آیت اس آیت کے منافی نہیں ہے جس میں ارشاد ہے۔ ( ولیحملن اتقالھم و اتقالا مع القالھم ) ( اور وہ ضرور اپنے بوجھ اٹھائیں گے اور اپنے بوجھوں کے ساتھ کچھ اور بوجھ) کیونکہ وہ جودو طرح کے بوجھ اٹھائیں گے وہ ان کے اپنے ہی ہوں گے، ایک ان کے خواہ گمراہ ہونے کا اور دوسرا اپنے علاوہ دوسروں کو گمراہ کرنے کا۔ جیسا کہ ایک حدیث میں ہے : (من سن سنۃ سیۃ فعلیہ وزرھا ووزرمن عمل بھا الی یوم القیامۃ) یعنی ” جس نے کوئی برا طریقہ جاری کیا اس پر اس کا اور ان تمام لوگوں کا بوجھ ہے جو قیامت تک اس پر عمل کریں “۔ (فتح البیان)5 حدیث میں ہے : باپ بیٹے کے گناہ میں نہ پکڑا جائے گا اور نہ…
Read the full tafseer →(35:18) لا تزر۔ مضارع منفی واحد مؤنث غائب۔ وزر مصدر (باب ضرب) وہ بوجھ نہیں اٹھاتی ہے۔ وہ بوجھ نہیں اٹھائے گی۔ وازرۃ اسم فاعل واحد مؤنث (بوجھ اٹھانے والا نفس) وزر۔ بوجھ۔ اوزار جمع۔ ہتھیار۔ وزیر مشیر سلطنت۔ بادشاہ کا مدد گار ۔ بادشاہ کے ساتھ حکومت کا بوجھ اٹھانے والا۔ وزر اخری۔ مضاف، مضاف الیہ۔ کسی دوسرے کا بوجھ۔
ان تدع۔ ان شرطیہ۔ تدع مضارع واحد مؤنث غائب۔ اصل میں تدعو تھا ان شرطیہ کے سبب سے آخر سے وائو حذف ہوگیا۔ دعاء مصدر (باب نصر) اگر وہ مثقلہ پکارے۔ (اگر بوجھ سے لدی ہوئی جان کسی کو پکارے) ۔
مثقلۃ۔ اسم مفعول واحد مؤنث۔ وہ نفس جس پر (گناہوں کا) بوجھ لدا ہوگا۔ عربی میں نفس مؤنث ہے۔ اس لئے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–26
لغات القرآن : آیت نمبر 15 تا 26
فقرائ ( محتاج ، ضرورت مند) الغنی ( بےنیاز ، جو کسی کا محتاج نہ ہو) الحمید (جس کی ذات میں ہر طرح کی خوبیاں موجود ہوں) لا تزر (بوجھ نہیں اٹھاتا ہے) مثقلۃ ( لدا ہوا بوجھ) حمل (بوجھ) مسمع ( سنانے والا) خلا (گزر گیا) زبر (صحیفے ، کتابیں) نکیر (عذاب)
تشریح : آیت نمبر 15 تا 26 :۔ انسان کی سب سے بڑی بھول اور نادانی یہ ہے کہ وہ اپنی حاجتوں اور ضرورتوں کے لئے ایک اللہ کو چھوڑ کر بہت سی ایسے کمزور اور ناقابل اعتبار سہاروں میں زندگی گزارنے کی کوشش کرتا ہے جن کی کوئی حیثیت اور اہمیت نہیں ہوتی اور اس طرح وہ زندگی بھر گمراہی کے اسی دائرے میں گھومتا رہتا ہے۔ ایسے نادانوں سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–23
مسلمان اور کافر کی مثال۔
(ف 1) ان آیتوں میں فرمایا کہ کوئی شخص قیامت کے دن کسی دوسرے شخص کے گناہ کا ذمہ دار نہیں اور اگر کوئی شخص اپنے گناہوں میں لدا ہوا کسی دوسرے شخص کو اس بوجھ کے اٹھانے کے واسطے پکارے گا تو وہ شخص اگرچہ اس کا بہت قریب کا رشتہ دار ہی کیوں نہ ہو جیسے باپ یابـیٹا ، جب بھی اسکے گناہوں کا بوجھ اپنے سرنہ لے گا، ان دونوں صورتوں میں بوجھ کہ نہ اٹھانا اللہ کے حکم کی وجہ سے ہے اب قیامت کا نفسانفسی اور قرابت داروں کے غیر ہوجانے کا حال ذکر فرماکر کہ بغیر دیکھے قیامت کی باتوں کا اور خدا کے سامنے کھڑے ہونے کا جن کو خوف ہے ان کو ہی اللہ کے رسول کی نصیحت کچھ کارگر ہوتی ہے دنیا کی محبت میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–22
[11] یعنی جس کی ہدایت منظور ہو۔ اور اللہ کو ہدایت اسی کی منظور ہے جو طالب ہدایت ہو۔ اس کو قبول ہدایت کی توفیق عطا فرماتا ہے۔
[12] یعنی جن لوگوں کے سینے ضمیر کا مدفن بن چکے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–21
ف 3: یعنی ہر شخص اپے اعمال کا ذمہ دار ہے ۔ یہ نہیں ہوسکے گا کہ گناہ تو ہم کریں ۔ اور سزا میں کسی دوسرے شخص کو گرفتار کیا جائے ۔ اسی طرح یہ بھی درست نہیں ہے ۔ کہ زید گناہ کرے اور دوسرے قالب میں بکر پکڑا جائے ۔ سزا اور اجر کا وہ ” انا “ مستحق ہے ۔ جس کا براہ راست اعمال سے تعلق ہے ۔ اس ” انا “ میں کوئی تبدیلی نہیں ہوسکتی ۔ کفارہ اور تناسخ عقیدہ اس لئے غلط ہے ۔ کہ ان دونوں صورتوں میں سزا اور جزا کا تعلق اس ” انا “ سے باقی نہیں رہتا ۔ اور مکافات عمل کے اصول پر منطقی طور پر اعتراضات وارد ہوتے ہیں ۔ جن کی تفصیل کا یہ موقع نہیں ۔
حل لغات :۔ انفظرائ۔ فقیر کی جمع ہے ۔ بمعنی محتاج وزر ۔ بوجھ ۔
Read the full tafseer →(18) اور کوئی بوجھ اٹھانے والا کسی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا اور اگر کوئی گر انبار کسی کو اپنا بوجھ بٹانے کو پکارے گا تب بھی اس کے بوجھ میں سے کچھ نہ بٹایا جائے گا۔ خواہ اس پکارنے والے نے جس کو اپنا بوجھ بٹانے کو پکارا تھا وہ اس پکارنے والے کا قرابت دار ہی کیوں نہ ہو۔ اے پیغمبر آپ تو بس انہی لوگوں کو ڈرا سکتے ہیں جو بن دیکھے اپنے پروردگار سے ڈرتے ہیں اور نماز کی پابندی کرتے ہیں اور جو شخص سنورتا ہے اور پاکیزگی اختیار کرتا ہے تو وہ اپنے ہی بھلے کو اور اپنے ہی فائدہ کو سنورتا اور پاک ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ ہی کی طرف سب کو لوٹ کر جانا ہے۔
یعنی قیامت کا دن ایسی افراتفری کا ہوگا کہ کوئی کسی کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–20
ف 2۔ مطلب یہ کہ طالب حق کو نفع ہوا کرتا ہے، یہ لوگ طالب حق ہی نہیں، ان سے امید نہ رکھیئے۔
Read the full tafseer →قیامت کے روز کوئی ایک بھی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا اگرچہ وہ کتنا قریبی ہو
18 ۔ ” اور کوئی بوجھ اٹھانے والا دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا “ اس بوجھ سے مراد وہ مرئی بوجھ نہیں جو اینٹ ، پتھر اور لوہے کا ہوتا ہے بلکہ وہ غیرمرئی بوجھ ہے جو بداعمالیوں کا انسان اپنے سر اٹھا لیتا ہے اور اس کی تفصیل پیچھے عروۃ الوثقی ، جلد سوم سورة الانعام 164 ، جلد پنجم سورة الاسراء کی آیت 15 میں گزر چکی ہے۔ خیال رہے کہ زیر نظر جلد میں سورة العنکبوت کی آیت 13 میں دوسروں کے بوجھ اٹھانے کا ذکر ہے وہ اس آیت کے خلاف نہیں ہے اس کی وضاحت محولہ آیت کے زیر تحت بیان کردی ہے۔
” اگر کوئی گراں بار کسی دوسرے کو اپنا بوجھ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–21
Commentary
Verse 18: وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَىٰ (And no bearer will bear the burden of any other person) means that, on the Day of Judgment, no one will be able to bear the burden of another person's sins. Everyone will have to bear his or her burden. As for what appears in Surah Al-` Ankabut (29:13): وَأَثْقَالًا مَّعَ أَثْقَالِهِمْ , which means that people who make others go astray will not only bear the burden of going astray personally, but will also bear the burden of having made others go astray. it does not mean that they will somehow lighten the burden of those they…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–21
39 "Burden": the burden of the responsibilities of actions. It means: In the sight of Allah every one is responsible for his own actions and for no one else's. There is no possibility that AIlah will place the burden of one man's responsibility upon the other, nor is there the possibility that a person will take the burden of another's responsibility upon himself and get himself seized for the crime committed by the other. This thing has been said here because the polytheist kinsmen and relatives of the people who were embracing Islam in Makkah, used to urge them, saying, °Give up Islam and…
Read the full tafseer →