Faatir 35:17

Faatir · from ayah 17

35:17

وَمَا ذٰلِكَ عَلَی اللّٰهِ بِعَزِیْزٍ ۟وَمَا ذٰ لِكَ عَلَى اللّٰهِ بِعَزِيۡزٍ

اور یہ خدا کو کچھ مشکل نہیں

— Fateh Muhammad Jalandhari

And that is for Allah not difficult.

— Saheeh International

Juz 22 · Ruku 3 of surah · Ruku 15 of juz

Read the whole surah · Surah Faatir

All translations of 35:17

ایسا کرنا اللہ کے لیے کچھ بھی دشوار نہیں

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور یہ خدا کو کچھ مشکل نہیں

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور یہ بات اللہ کو کچھ مشکل نہیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور یہ کام اللہ کے لیے کچھ بھی مشکل نہیں ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور یہ اللہ پر کچھ دشوار نہیں،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور یہ اﷲ پر کچھ مشکل نہیں ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور یہ اللہ پر کچھ مشکل نہیں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور یہ بات اللہ تعالیٰ پر کچھ دشوار نہیں

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور یہ اللہ کے لئے ذرا مشکل نہیں۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور ایسا کرنا اللہ کے لئے کچھ بھی دشوار نہیں

— مولانا اسحاق مدنی

اور یہ اللہ کو کچھ بھی مشکل نہیں۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور یہ اللہ پر ہرگز بھاری نہیں ہے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور یہ اللہ کے لیے کچھ مشکل نہیں۔

— محترمہ رفعت اعجاز

That surely is not difficult for Allah.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

For Allah, that is not something difficult.

— Muhammad Taqi Usmani

For Allah, that is not something difficult.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And that is not hard for Allah.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And that is for Allah not difficult.

— Saheeh International

This would not cost God dear at all.

— Muhammad Sarwar

And this is not hard to Allah.

— Muhammad Habib Shakir

And with Allah that shall not be hard.

— Abdul Majid Daryabadi

Tafseer of 35:17

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 15–18

اللہ قادر مطلق۔ اللہ ساری مخلوق سے بےنیاز ہے اور تمام مخلوق اس کی محتاج ہے۔ وہ غنی ہے اور سب فقیر ہیں۔ وہ بےپرواہ ہے اور سب اس کے حاجت مند ہیں۔ اس کے سامنے ہر کوئی ذلیل ہے اور وہ عزیز ہے کسی قسم کی حرکت و سکون پر کوئی قادر نہیں سانس تک لینا کسی کے بس میں نہیں۔ مخلوق بالکل ہی بےبس ہے۔ غنی بےپرواہ اور بےنیاز صرف اللہ ہی ہے تمام باتوں پر قادر وہی ہے۔ وہ جو کرتا ہے اس میں قابل تعریف ہے۔ اس کا کوئی کام حکمت و تعریف سے خالی نہیں۔ اپنے قول میں اپنے فعل میں اپنی شرع میں تقدیروں کے مقرر کرنے میں غرض ہر طرح سے وہ بزرگ اور لائق حمد وثناء ہے۔ لوگو اللہ کی قدرت ہے اگر وہ چاہے تو تم سب کو غارت و برباد کر…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة فَاطِر 38 یعنی تم کچھ اپنے بل بوتے پر اس کی زمین میں نہیں دندنا رہے ہو۔ اس کا ایک اشارہ اس بات کے لیے کافی ہے کہ تمہیں یہاں سے چلتا کرے اور کسی اور قوم کو تمہاری جگہ اٹھا کھڑا کرے۔ لہٰذا اپنی اوقات پہچانو اور وہ روش اختیار نہ کرو جس سے آخر کار قوموں کی شامت آیا کرتی ہے۔ خدا کی طرف سے جب کسی کی شامت آتی ہے تو ساری کائنات میں کوئی طاقت ایسی نہیں ہے جو اس کا ہاتھ پکڑ سکے اور اس کے فیصلے کو نافذ ہونے سے روک سکے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 15–17

خلاصہ تفسیر اے لوگو تم (ہی) خدا کے محتاج ہو اور اللہ (تو) بےنیاز (اور خود تمام) خوبیوں والا ہے (پس تمہاری احتیاج دیکھ کر تمہارے لئے توحید وغیرہ کی تعلیم کی گئی ہے، اگر تم نہیں مانو گے تو تم اپنا ضرر کرو گے۔ باقی حق تعالیٰ کو تو بوجہ غنائے ذاتی و کمال ذاتی کے تمہاری یا تمہارے عمل کی کوئی حاجت ہی نہیں کہ اس کے ضرر کا احتمال ہو اور کفر یہ جو ضرر ہونے والا ہے خدا تعالیٰ اس کے فی الحال ایقاع پر بھی قادر ہے چنانچہ) اگر وہ چاہے تو (تمہارے کفر کی سزا میں) تم کو فنا کر دے اور ایک نئی مخلوق پیدا کر دے (جو تمہاری طرح کفر و انکار نہ کریں) اور یہ بات خدا کو کچھ مشکل نہیں (لیکن بمصلحت مہلت دے رکھی ہے۔ غرض…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 15–17

آیت 15۔ 17 یہ اسی تنبیہ پر اضافہ اور نہایت زور دار اضافہ ہے۔ خطاب میں ’ یایھا الناس ‘ کے الفاظ سے ہے کہ سب کان کھول کر سن لیں کہ تعلیم وتذکیر کا یہ سارا اہتمام جو کیا گیا ہے، اور خدا کا رسول لوگوں کو جگانے اور جھنجوڑنے کے لئے اپنے رات دن جو ایک کیے ہوئے ہے تو اس لئے نہیں کہ لوگوں کے ایمان نہ لانے سے خدا کا کوئی کام اٹکا ہوا ہے، خدا تو بالکل بےنیاز اور اپنی ذات میں ستودہ صفات ہے، البتہ تم لوگ خود خدا کے محتاج ہو، اس دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔ خدا کی بےنیازی کا تو یہ عالم ہے کہ وہ چاہے تو تم سب کو فنا کردے اور تمہاری جگہ ایک دوسری نئی مخلوق لا بسائے۔ اگر وہ یہ کرنا چاہے تو یہ کام ذرا بھی اس…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 16–17

16۔ 1 یہ بھی اس کی شان بےنیازی ہی کی ایک مثال ہے کہ اگر وہ چاہے تو تمہیں فنا کے گھاٹ اتار کے تمہاری جگہ ایک نئی مخلوق پیدا کر دے، جو اس کی اطاعت گزار ہو، اس کی نافرمان نہیں یا یہ مطلب ہے کہ ایک نئی مخلوق اور نیا عالم پیدا کر دے جس سے تم ناآشنا ہو۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 15–21

6: یعنی اللہ تعالیٰ دوسروں کی عبادت اور ان کے تعریف کرنے سے بالکل بےنیاز ہے، کوئی اس کی تعریف کرے یا نہ کرے، وہ بذات خود قابل تعریف ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 15–17

درس نمبر 202 ایک نظر میں ایک بار پھر پکارا جاتا ہے کہ لوگو ! ذرا اپنی حقیقت پر غور کرو ، اور اپنے تعلق باللہ کا جائزہ لو ، ایک بار پھر حضور اکرم ﷺ کو تسلی دی جاتی ہے کہ آپ صبر کریں۔ یہ جو لوگ روگردانی کرتے ہیں یہ خود اپنا نقصان کرتے ہیں۔ اس سورة کے دوسرے سبق میں بھی حضور ﷺ کو ایسی ہی تسلی دی گئی تھی۔ البتہ یہاں ذرا اس بات کی وضاحت کردی جاتی ہے کہ ہدایت اور ضلالت کی حقیقت اور ماہیت ایک نہیں ہے ، دونوں کے درمیان اس طرح کا فرق و امتیاز ہے جس طرح اندھے اور بینا میں ہوتا ہے۔ جس طرح نور و تاریکی میں ہے ، جس طرح سائے اور کڑکتی دھوپ میں ہے۔ جس طرح موت وحیات میں ہے۔ پھر ہدایت ، بصیرت ، نور ، سائے اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 16–17

5 یعنی تم نہ مانو تو وہ قادر ہے کہ تم کو ہٹا کر دوسری خلقت باد کر دے جو بہمہ وجوہ اس کی فرمانبرداری اور اطاعت گزار ہو، جیسے آسمانوں پر فرشتے اور ایسا کرنا اللہ کو کچھ مشکل نہیں، اور آخر میں ہر ایک اپنے نیک و بعد عمل کا بدلہ پائے تاکہ اس طرح اس کی تمامی صفات کا ظہور ہو۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 17 { وَمَا ذٰلِکَ عَلَی اللّٰہِ بِعَزِیْزٍ } ”اور یہ اللہ پر ہرگز بھاری نہیں ہے۔“

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 16–17

24 یعنی اگر تم اللہ کی نافرمانی کی راہ اختیار کرو گے تو تمہیں پرے ہٹا دے گا۔ صفحہ ہستی سے نیست و نابود کر دے گا اور تمہاری جگہ ایسے لوگوں کو لاآباد کرے گا جو اس کے فرمانبردار ہوں۔ پھر ان کی آزمائش کرے گا۔ ابتدائے نوع انسان سے اللہ کا یہی دستور رہا ہے۔ کہ وہ نافرمان اور سرکش قوموں کا سر کچل کر ان کی جگہ دوسری قومیں لاآباد کرتا ہے اور یہ بات اللہ کے لیے کچھ مشکل بھی نہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

30۔ (لیکن وہ اپنی حکمتوں اور مصلحتوں سے فوری سزا کو ملتوی کیے ہوئے ہے) ” ذلک “۔ یعنی یہ تمہارا مٹانا اور دوسروں کا بنا دینا۔ اے ما ذکر من اذھابھم والاتیان بخلق جدید (روح) اے الانشاء والافناء (مدارک)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 15–26

آیت نمبر 15 تا 26 ترجمہ : اے لوگو ! تم ہرحال میں اللہ کے محتاج ہو اور اللہ تو اپنی مخلوق سے بےنیاز ہے اور وہ اپنی مخلوق پہر احسان کی وجہ سے سزاوار حمد ہے اگر وہ چاہے تو تم کو فنا کردے اور تمہاری جگہ ایک نئی مخلوق پیدا کردے اور یہ بات اللہ کے لئے کچھ مشکل نہیں، کوئی بھی گنہ گار شخص دوسرے کے گناہ کا بوجھ نہیں اٹھائے گا، گوجس شخص کو بلایا گیا ہے رشتہ دار ہی کیوں نہ ہو، جیسا کہ باپ اور بیٹا اور دونوں صورتوں میں عدم حمل اللہ کا حکم ہے، آپ تو صرف ان ہی لوگوں کو ڈراسکتے ہیں جو اپنے رب سے غائبانہ ڈرتے ہوں یعنی اس سے ڈرتے ہوں حالانکہ اس کو دیکھا نہیں ہے، اس لئے کہ یہی لوگ تنبیہ سے فائدہ اٹھانے والے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

وما ذلک علی اللہ بعزیز . اور یہ بات اللہ کیلئے کچھ مشکل نہیں ہے۔ بِخَلْقٍ جَدِیْد یعنی ایک اور مخلوق جو تمہاری جگہ آباد ہو اور تم سے زیادہ اطاعت گذار ہو ‘ ایک نیا عالم جس سے تم ناواقف ہو۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 16–17

(16۔ 17) اور اے مکہ والو اگر وہ چاہے تو تمہیں فنا کردے اور تم سے بہتر اور زیادہ فرمانبردار ایک نئی مخلوق پیدا کردے اور یہ فنا اور نئی مخلوق کا پیدا کرنا اللہ تعالیٰ پر کوئی مشکل بات نہیں۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 16–17

اِنْ يَّشَاْ يُذْهِبْكُمْ۔۔ : زمخشری نے فرمایا : ”اس آیت میں شریک بنانے کی وجہ سے ان پر غضب کا اظہار ہے، جیسا کہ فرمایا : (وَاِنْ تَتَوَلَّوْا يَسْتَبْدِلْ قَوْمًا غَيْرَكُمْ ۙ ثُمَّ لَا يَكُوْنُوْٓا اَمْثَالَكُمْ) [ محمد : 38 ] ”اور اگر تم پھر جاؤ گے تو وہ تمہاری جگہ تمہارے سوا اور لوگوں کو لے آئے گا، پھر وہ تمہاری طرح نہیں ہوں گے۔“ غضب کے اظہار کے ساتھ اپنے غنی ہونے کا بھی بیان ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ تمہیں ہلاک کرنا چاہے تو کرسکتا ہے، کیونکہ اس نے تمہیں اپنی کوئی محتاجی دور کرنے کے لیے پیدا نہیں فرمایا۔ نہ تمہارے نہ ہونے سے اس کے ملک میں کوئی کمی واقع ہوگی، نہ یہ کہ وہ تمہارے جیسے اور پیدا…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیت : وماذلک علی اللہ بعذیز اللہ تعالیٰ پر مشکل نہیں۔ سورة ابراہیم میں یہ بحث گزر چکی ہے۔

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 14–17

1:۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” ان تدعوھم لا یسمعوا دعآء کم ولو سمعوا ما استجابوا لکم “ (اگر تم ان کو پکاروہ گے تو وہ تمہاری پکار کو نہیں سنیں گے اور اگر سن لیں گے تو تمہارا کہنا قبول نہ کریں گے) یعنی تم سے اس پکارنے کو قبول نہیں کریں گے (آیت) ” ویوم القیمۃ یکفرون بشرککم “ (اور قیامت کے دن وہ تمہارے شرک کو انکار کردیں گے) یعنی وہ راضی ہوں گے اور نہ اس کا اقرار کریں گے (آیت) ” ولا ینبئک مثل خبیر “ (اور تم کو خبر رکھنے والے کے برابر کوئی نہیں بتائے گا) یعنی اللہ تعالیٰ وہی خبیر ہیں عنقریب یہ ان کے حکم میں سے ہوگا قیامت کے دن۔ 2:۔ ابن ابی…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

وَمَا ذٰلِكَ [اور نہیں ہے یہ ] عَلَي اللّٰهِ [اللہ پر ] بِعَزِيْزٍ [کچھ بھاری ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 15–26

سب اللہ کے محتاج ہیں، قیامت کے دن کوئی کسی کا بوجھ نہ اٹھائے گا، بینا اور نابینا، اندھیریاں اور روشنی، زندہ اور مردہ برابر نہیں، ہر امت میں نذیر بھیجا گیا ہے یہ پورے ایک رکوع کا ترجمہ ہے جس میں بہت سے امور پر تنبیہ فرمائی ہے اور متعدد نصیحتیں فرمائیں۔ اولاً یہ فرمایا کہ اے لوگو تم سب اللہ ہی کے محتاج ہو، اللہ تعالیٰ غنی ہے جسے کسی چیز کی حاجت نہیں ہے، کوئی بھی ایمان لانے والا اور اس کی عبادت کرنے والا یہ نہ سمجھے کہ اسے میری حاجت اور ضرورت ہے، بلکہ یہ سمجھ کر اس کی عبادت کرے کہ مجھے اسے راضی کرنے کی حاجت ہے، وہ غنی ہے، بےنیاز ہے اور ہر تعریف کا مستحق ہے، وہ ہر عیب سے پاک ہے اور صفات جلیلہ سے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 15–26

ذکر فقرواحتیاج بشرواستغنا خداوند بر وبحر قال اللہ تعالی۔ یایھا الناس انتم الفقراء الی اللہ۔۔۔ الی۔۔۔ فکیف کان نکیر۔ (ربط) اوپر سے منکرین توحید کا رد چلا آرہا ہے اب یہ بتلاتے ہیں کہ یہ لوگ متکبر اور مغرور ہیں اور دراہم معدودہ کے نشہ کے میں چور ہیں اور خدا کی پکڑ سے بےفکر ہیں اور اس کی یاد سے دور ہیں۔ اور یہ نہیں سمجھتے کہ کل عالم اپنے وجود میں اور اپنی بقاء میں اللہ کا محتاج ہے اور خاص کر انسان تو سب سے زیادہ حاجتوں میں جکڑا ہوا ہے اور خداوند ذوالجلال۔ غنی مطلق اور بےنیاز مطلق ہے جب چاہے پکڑ سکتا ہے اللہ کو نہ کسی کے مال و دولت کی حاجت ہے اور نہ کسی کی عبادت کی حاجت ہے۔ وہ سب سے بےنیاز ہے پس…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 15–17

21:۔ یا ایہا الناس الخ : یہ آٹھویں عقلی دلیل ہے یعنی تم سب خدا کے محتاج ہو اور وہ کسی کا محتاج نہیں اور تمام صفات کمال سے متصف ہے لہذا اس کے سوا تمہاری کوئی معبود نہیں وہ اگر چاہے تو تم سب کو مار ڈالے اور دوسروں کو پیدا کرلے لیکن تمہارے مزعومہ معبودوں میں یہ قدرت نہیں جب انہیں اتنا بھی اختیار نہیں تو ان عاجزوں کو کیوں غائبانہ پکارتے ہو جیسا کہ دوسری جگہ ارشاد ہے۔ ان اراد ان یہلک المسیح بن مریم وامہ و من فی الارض جمیعا (المائدہ) ۔ وہ ان سب کو ہلاک کرسکتا ہے تو وہ معبود کس طرح بن سکتے ہیں۔ نیز فرمایا ان یشا یذھبکم و یستخلف من بعدکم ما یشاء (انعام) ۔ انسان جو اشرف المخلوقات ہے جب وہ خدا کا محتاج…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 15–18

گزشتہ آیات کی طرح آج کے درس میں بھی توحید کا اثبات ، شرک کا رد ، وقوع قیامت اور محاسبہ اعمال کا بیان ہے۔ ساتھ ساتھ منکرین کے لیے جبر و تنبیہ کا پہلو بھی ہے۔ تمام بنی نوع انسان کو خطاب کرکے انہیں ان کی ذمہ داری کا احساس دلایا جارہا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے یایھا الناس ان تم للفقرا الی اللہ اے دنیا جہان کے لوگو ! تم سب کے سب اللہ تعالیٰ کی طرف محتاج ہو۔ فقار دراصل پشت کے مہرے کو کہا جاتا ہے جس شخص کا مہرہ ٹوٹا ہوا ہو اس کی کمر سیدھی نہیں ہوکستی اور اس لحاظ سے وہ محتاج ہوتا ہے۔ تو فرمایا تم سارے کے سارے اللہ کے دروازے کے فقیر ہو اور اپنی تمام حاجات اسی سے طلب کرتے ہو۔ سورة الرتین میں بھی فرمایا ہے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَمَا ذٰلِكَ عَلَي اللہِ بِعَزِيْزٍ۝ 17 عزیز ( مشكل) كذا : صَعُبَ ، قال : عَزِيزٌ عَلَيْهِ ما عَنِتُّمْ [ التوبة/ 128] ، أي : صَعُبَ ، ( ع ز ز ) العزۃ عز علی کذا مجھ پر یہ بات نہایت ہی گراں گذری ۔ قرآن میں ہے ۔ عَزِيزٌ عَلَيْهِ ما عَنِتُّمْ [ التوبة/ 128] تمہاری تکلیف ان پر گراں گزرتی ہے ۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 15–17

ترکیب : ان شرطیۃ یشاء شرط مفعولہ محذوف یذھبکم جواب الشرط ویات معطوف علیہ ولذاقرء مجزومین، وزر اخریٰ مفعول ولا تزر منتقلۃ قال الفراء ای نفس مثقلۃ بالذنوب قال وھذا یقع للمذکروالمؤنث الحمل بالکسر مایحمل علی الظھر و نحوہ والجمع احمال و حمول، والحمل بالفتح ماکان فی البطن وعلی راس شجرۃ، یقال امرء ۃ حامل و حاملۃ اذا کانت حبلٰی، قال الازھری، ولو وصیلتہ تتعلق بلا یحمل انما تنذر مستانفۃ، ولا الحرور فعول من الحر غلب علی السموم وقیل السموم مایہبّ نار اوالحرور مایکون بالیل خاصتہ وقیل عکسہ، ولا لتا کیدنفی الاستواء و تکریرھا لمزید التاکید۔ تفسیر : جبکہ نبی ﷺ کی طرف سے کفار کو ہدایت پر بلانے میں اصرار ہوا…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 15–17

یٰٓـاَیُّھَاالنَّاسُ اَنْتُمُ الْفُقَرَآئُ اِلَی اللّٰہِ ج وَاللّٰہُ ھُوَالْغَنِیُّ الْحَمِیْدُ ۔ اِنْ یَّشَاْبُذْھِبْکُمْ وَیَاتِ بِخَلْقٍ جَدِیْدٍ ۔ وَمَا ذٰلِکَ عَلَی اللّٰہِ بِعَزِیْزٍ ۔ (فاطر : 15 تا 17) (اے لوگو ! تم ہی اللہ کے محتاج ہو، اللہ تو غنی اور ستودہ صفات ہے۔ اگر وہ چاہے تو تمہیں ہلاک کردے اور ایک نئی مخلوق تمہاری جگہ لے آئے۔ اور یہ اللہ کے لیے کچھ بھی مشکل نہیں۔ ) اللہ تعالیٰ غنی اور حمید ہے گزشتہ آیات میں مختلف حوالوں سے اللہ تعالیٰ کی بےپایاں قدرت اور جن قوتوں کو اس کا شریک ٹھہرایا گیا ہے ان کی بےبسی کو بیان فرمایا گیا ہے۔ اور ساتھ ہی ساتھ انسانوں کی غیرمعمولی ضروریات اور…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 15–17

فہم القرآن ربط کلام : ” اللہ “ ہی کی بادشاہی ہے۔ اس کی باشاہی میں کوئی اس کا شریک نہیں۔ طالب اور مطلوب سب کے سب اسی کے در کے فقیر ہیں۔ اے لوگو ! تم تمام کے تمام اپنے رب کی بارگاہ کے فقیر ہو اور اللہ غنی ہے۔ ساری کائنات اسی کی ثناء خواں اور محتاج ہے۔ وہ چاہے تو تمہیں ختم کرکے نئی مخلوق پیدا کردے وہ اتنا بڑا فیصلہ کرنے اور اسے نافذ کرنے پر قادر ہے۔ اس سے پہلے اللہ تعالیٰ نے اپنی بڑی بڑی قدرتوں کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا کہ جن کو ” اللہ “ کی خدائی میں شریک سمجھتے ہو وہ تو ایک چھلکے کے بھی مالک نہیں ہیں اور نہ ہی تمہاری دعاؤں کو سننے اور قبول کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اب ارشاد فرمایا کہ جن سے تم…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

Explained with ayahs 16–17

16، 17: اِنْ یَّشَاْ یُذْ ھِبْکُمْ (اگر وہ چاہے تم کو فناء کر دے) تم سب کو عدم میں پہنچا دے۔ ان کا غناء قدم میں تمہاری وجہ سے نہیں بلکہ ذاتی ہے۔ وَیَاْ تِ بِخَلْقٍ جَدِیْدٍ (اور نئی مخلوق کو لے آئے) وہ تمہاری حمد کے بغیر بھی حمید ہے۔ وَمَا ذٰلِکَ (اور یہ) پیدائش و افناء عَلَی اللّٰہِ بِعَزِیْزٍ (اللہ تعالیٰ پر مشکل نہیں) ممتنع نہیں۔ قول ابن عباس ؓ : وہ تمہارے بعد ایسے لوگ پیدا کر دے جو اس کی عبادت کرنے والے ہوں اور اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک کرنے والے نہ ہوں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

Explained with ayahs 15–17

15، یایھا الناس انتم الفقراء الی اللہ، اللہ کا فضل فقیر محتاج ۔ ، واللہ ھو الغنی الحمید ، وہ فی نفسہ مخلوق کی حمد کی مستحق ہے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 13–17

13 تا 17۔ یہ ایک اور قدرت کی نشانی بیان فرمائی کہ گرمی کے موسم میں رات کا کچھ حصہ دن میں ملایا جا کر دن کو بڑا کردیا جاتا ہے اور جاڑے کے موسم میں اسی طرح رات کو بڑھا دیا جاتا ہے پھر فرمایا سورج اور چاند کو اللہ تعالیٰ نے لوگوں کے نفع کے لیے کام میں لگا رکھا کہ ہر ایک چلتا ہے مقدار معین کے ساتھ مدت مقرر تک پھر فرمایا یہ ہے اللہ پروردگار ہے تمہارا جس نے یہ سارے کام کئے ہیں اسی کے واسطے بادشاہت ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں اور جن کو تم اس کے سوا پوجتے ہو وہ مالک نہیں ایک قطمیر کے ‘ قطمیر چھلکے کو کہتے ہیں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ اور مجاہد وغیرہ نے کہا ہے کہ قطمیر وہ چھلکا ہے جو کھجور کی کٹھلی پر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 15–23

آیت 15 اللہ تبارک وتعالیٰ تمام لوگوں سے مخاطب ہے، انہیں ان کے احوال و اوصاف سے آگاہ فرماتا ہے کہ وہ ہر لحاظ سے اللہ تعالیٰ کے محتاج ہیں : (1) وہ وجود میں آنے کے لئے اس کے محتاج ہیں اگر اللہ تعالیٰ ان کو جود میں نہ لائے تو وہ وجود میں نہیں آسکتے۔ (2) وہ اپنے مختلف قویٰ اعضاء اور جوارح کے حصول میں اس کے محتاج ہیں۔ اگر اللہ تعالیٰ ان کو یہ قوی عطا نہ کرے تو کسی کام کے لئے ان میں کوئی استعداد نہیں۔ (3) وہ خوراک، رزق اور دیگر ظاہری و باطنی نعمتوں کے حصول میں اسی کے محتاج ہیں۔ اگر اس کا فضل و کرم نہ ہو اور اگر وہ ان امور کے حصول میں آسانی پیدا نہ کرے تو وہ رزق اور دیگر نعمتیں حاصل نہیں کرسکتے۔ (4)…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 12–27

حانث نہ ہونے کی صورتیں قول باری ہے (ومن کل تاکلون لحما طریاو تستخرجون حلیۃ تلبسونھا اور ہر ایک سے تم تازہ گوشت کھاتے ہو اور زیور نکالتے ہو جسے تم پہنتے ہو) حلیہ سے یہاں موتی اور وہ چیزیں مراد ہیں جو سمندر سے نکالی جاتی ہیں اور بطور زیور انہیں پہنا جاتا ہے۔ اگر کوئی عورت زیور نہ پہننے کی قسم کھالے تو اس قسم کے بارے میں فقہاء کے مابین اختلاف رائے ہے۔ امام ابوحنیفہ کا قول ہے کہ تنہا موتی زیور نہیں کہلاتے جب تک ان کے ساتھ سونا نہ ہو۔ کیونکہ قول باری ہے (ومما یوقدون علیہ فی النار ابتغآء حلیۃ او متاع اور جن چیزوں کو زیور یا (اور) اسباب بنانے کی غرض سے آگ کے اندر تپاتے ہیں) یہ بات سونے میں ہوتی ہے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

46 نعمت امہال کی تذکیر و یاددہانی : سو ارشاد فرمایا گیا " اور اللہ کیلئے تمہاری جگہ کسی نئی مخلوق کو لا بسانا کچھ مشکل نہیں "۔ کہ وہ قادر مطلق ہے جو چاہے اور جیسا چاہے کرے۔ سو تمہارے نزدیک تو شاید یہ بڑی مشکل اور ایک انہونی سی بات ہو مگر اللہ پاک کے لئے یہ کچھ بھی مشکل نہیں کہ وہ قادر مطلق ہے جو چاہے جب چاہے اور جیسے چاہے کرے۔ اس کی شان قدرت تو یہ ہے کہ جب اس کو کوئی کام کرنا ہوتا ہے تو اس کیلئے صرف اس کے حکم اور اشارہ کی دیر ہوتی ہے اور بس۔ وہ جو تم لوگوں کو تمہاری بےقدری اور نا شکری کے باوجود ڈھیل اور مہلت پر مہلت دیے جا رہا ہے تو محض اپنی شان کرم اور حمت و عنایت کی بنا پر دیے جا رہا ہے۔ سو…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 15–45

سچ تو یہ ہے جو اللہ نے اعلان کیا ہے تشریح : ان آیات کی وضاحت کیا کی جائے یہ تو بذات خود علم و عرفان اور کلام الٰہی کی انتہائی آسان اور عام فہم مضمون کا مجموعہ ہیں۔ اہل علم کو معلوم ہے کہ مومن کو آنکھوں والا، زندہ اور نور سے تشبیہ دی گئی ہے جبکہ کافر کو اندھا، تاریکی اور مردہ کہا گیا ہے۔ پھر کفار کی ایک خاص خصلت کا ذکر کیا گیا ہے کہ وہ اتنا ہٹ دھرم اور ضد کا پکا ہوتا ہے کہ ہمیشہ نبیوں کو جھٹلاتا رہتا ہے اس لیے سیدنامحمد ﷺ کو بار بار یہ تاکید کی گئی ہے کہ آپ ان کی ضد پر پریشان نہ ہوا کریں بس آپ ان کو سمجھاتے رہیں ان سے نمٹنا اللہ کا کام ہے۔ بار بار کفار کے لیے دوزخ اور مومن کے لیے جنت کا اعلان…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 15–26

رکوع نمبر 3 ۔ آیات 15 تا 26: اسرار و معارف : لوگو تمہارے بس میں تو کچھ بھی نہیں تمہارا سارا سرمایہ صرف احتیاج ہے اپنے وجود اپنی ذات اپنے اوصاف میں تم ہر طرح سے محتاج ہو اور اللہ ایسا بےنیاز نہ اسے تمہاری احتیاج ہے اور نہ ہی کسی اور کی بلکہ وہ ہی ایسا کامل ہے جسے ہر تعریف سزاوار ہے بھلا تم اس کی ناشکری اور کفر کا راستہ اپناتے جو اس قدر بےنیاز اور قادر ہے کہ چاہے تو ایک آن میں تم سب کو تباہ اور نابود کردے اور تمہاری جگہ ایک نئی مخلوق پیدا کردے کہ یہ اس کے لیے کچھ بھی مشکل نہیں یہ اس کی شان کریمی ہے کہ تمہیں باوجود تمہاری نافرمانیوں کے مہلت دے رکھی ہے مگر اس کا یہ مطلب بھی نہیں کہ تمہیں کوئی…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 17–18

ف 4 بوجھ سے مراد گناہوں کا بوجھ ہے۔ یہ آیت اس آیت کے منافی نہیں ہے جس میں ارشاد ہے۔ ( ولیحملن اتقالھم و اتقالا مع القالھم ) ( اور وہ ضرور اپنے بوجھ اٹھائیں گے اور اپنے بوجھوں کے ساتھ کچھ اور بوجھ) کیونکہ وہ جودو طرح کے بوجھ اٹھائیں گے وہ ان کے اپنے ہی ہوں گے، ایک ان کے خواہ گمراہ ہونے کا اور دوسرا اپنے علاوہ دوسروں کو گمراہ کرنے کا۔ جیسا کہ ایک حدیث میں ہے : (من سن سنۃ سیۃ فعلیہ وزرھا ووزرمن عمل بھا الی یوم القیامۃ) یعنی ” جس نے کوئی برا طریقہ جاری کیا اس پر اس کا اور ان تمام لوگوں کا بوجھ ہے جو قیامت تک اس پر عمل کریں “۔ (فتح البیان)5 حدیث میں ہے : باپ بیٹے کے گناہ میں نہ پکڑا جائے گا اور نہ…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(35:17) وما ذلک علی اللہ بعزیز۔ عز یعز عزۃ۔ عز وعزازۃ ۔۔ علی۔ شاق وگراں گذرنا۔ جیسے عزیر علیہ ما عنتم۔ (9:128) جو چیز تمہیں مضرت پہنچاتی ہے اسے بہت گراں گذرتی ہے۔ عزیز۔ عزۃ سے بمعنی دشوار، مشکل۔ وما ذلک علی اللہ بعزیز۔ اور یہ بات اللہ کو کچھ مشکل نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ عزیز ہے کیونکہ وہ اتنا شدید القوت ہے اور زبردست ہے جس پر کوئی شی غالب نہیں آسکتی۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 15–26

لغات القرآن : آیت نمبر 15 تا 26 فقرائ ( محتاج ، ضرورت مند) الغنی ( بےنیاز ، جو کسی کا محتاج نہ ہو) الحمید (جس کی ذات میں ہر طرح کی خوبیاں موجود ہوں) لا تزر (بوجھ نہیں اٹھاتا ہے) مثقلۃ ( لدا ہوا بوجھ) حمل (بوجھ) مسمع ( سنانے والا) خلا (گزر گیا) زبر (صحیفے ، کتابیں) نکیر (عذاب) تشریح : آیت نمبر 15 تا 26 :۔ انسان کی سب سے بڑی بھول اور نادانی یہ ہے کہ وہ اپنی حاجتوں اور ضرورتوں کے لئے ایک اللہ کو چھوڑ کر بہت سی ایسے کمزور اور ناقابل اعتبار سہاروں میں زندگی گزارنے کی کوشش کرتا ہے جن کی کوئی حیثیت اور اہمیت نہیں ہوتی اور اس طرح وہ زندگی بھر گمراہی کے اسی دائرے میں گھومتا رہتا ہے۔ ایسے نادانوں سے…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 13–17

(ف 1) یہ ایک اور قدرت کی نشانی بیان فرمائی کہ گرمی کے موسم میں رات کا کچھ حصہ دن میں ملاکردن کو بڑا کردیاجاتا ہے اور جاڑے کے موسم میں اسی طرح رات کو بڑھا دیاجاتا ہے پھر فرمایا کہ سورج اور چاند کو اللہ تعالیٰ نے نفع کے لیے کام میں لگارکھا ہے کہ ہر ایک بندھے ہوئے وقتوں پر چلتا ہے پھر فرمایا کہ یہی اللہ پروردگار ہے تمہارا، جس نے یہ سارے کام کیے ہیں اسی کے واسطے دونوں جہانوں میں بادشاہت ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں اور جن کو تم اس کے سوا پوجتے ہو وہ تو کھجور کی گٹھلی کے چھلکے کے برابر بھی اختیار نہیں رکھتے، اور اگر تم بتوں کو پکارو تو وہ تمہاری پکار کو بھی نہیں سنتے ، اس لیے کہ وہ پتھر ہی جس میں…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 15–22

[11] یعنی جس کی ہدایت منظور ہو۔ اور اللہ کو ہدایت اسی کی منظور ہے جو طالب ہدایت ہو۔ اس کو قبول ہدایت کی توفیق عطا فرماتا ہے۔ [12] یعنی جن لوگوں کے سینے ضمیر کا مدفن بن چکے ہیں۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

ف 2: فرمایا ۔ کہ اللہ کو تمہاری احتیاج نہیں ہے ۔ بلکہ تم اس کے محتاج ہو جب تک اس کے احکام پر چلو گے ۔ باقی اور زندہ رہو گے اور جہاں تم نے سرکشی اور اس کی نافرمانی کی ۔ وہ تم کو صفحہ ہستی سے مٹا دے گا ۔ اور ایک دوسری قوم پیدا کردے گا ۔ جو اس کی اطاعت شعاری کا دم بھرے گی ۔ اور زمین میں اس کے مشن کی تکمیل میں مصروف جدوجہد رہے گا ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(17) اور یہ لے جانا اور لے آنا اللہ تعالیٰ پر کچھ دشوار نہیں۔ یہ مضمون کئی جگہ گزر چکا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ قوموں کی الٹ پلٹ ہمارے لئے کچھ مشکل نہیں ہم تمہارے کفر کی وجہ سے تم کو فنا کردیں اور تمہاری جگہ عبادت گزار لوگوں کو لے آئیں۔ اللہ تعالیٰ پر ایسا کرنا دشوار نہیں۔ قوموں کی تاریخیں اس قسم کے انقلابات سے لبریز ہیں جس وقت چاہیں ایسا کرسکتے ہیں کہ بروں کو فنا کر کے اچھوں کو لے آئیں لیکن بمقتضائے حکمت برزوں کو مہلت دی جاتی ہے۔ آگے قیامت کا ذکر فرمایا۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 14–17

ف 1۔ اوپر توحید کا ذکر تھا چونکہ کفار اس کا انکار کرتے تھے، اور اس انکار سے رسول اللہ ﷺ کو حزن بھی ہوتا تھا، اس لئے آگے انکار سے حق تعالیٰ کا ضرر نہ ہونا بلکہ خود ان کفار ہی کا ضرر ہونا اور تسلیم سے حق تعالیٰ کا کچھ نفع نہ ہونا بلکہ خود ان کا ہی نفع ہونا اور دنیا میں اس کا ضرر کا احتمال اور آخرت میں اس کا وقوع بیان کر کے کفار کی تحذیر اور اس کے بعد رسول اللہ ﷺ کے حزن پر آپ کے تسلیہ کا مضمون ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اگر وہ چاہے تو اس کے لئے کوئی مشکل کام نہیں 17 ۔ آنکھ جھپکنے میں کتنی دیر لگتی ہے ؟ اللہ تعالیٰ کو اس نظام کے بدلنے ، ان ملکیتوں کے بدلنے میں اتنی بھی دیر نہیں لگتی لحظہ بھر میں وہ حکومتوں کو بدل کر رکھدیتا ہے۔ زندگی میں ہم نے کتنی بار دیکھا کہ ایک شخص نے قطعہ زمین خریدا اور اپنے نام انتقال کرانے کے لئے تحصیل ہیڈ کو ارٹر پہنچا ، انتقال ہوگیا لیکن ابھی اس انتقال کی سیاہی بھی خشک نہ ہوئی کہ ملکیت بدل گئی اور لوگوں نے نئے انتقال کے لئے سوچنا شروع کردیا اور یہی بات قرآن کریم نے زور دے کر بیان فرمائی کہ اللہ تعالیٰ کے لئے پہلی مخلوق کو لے جانا اور دوسری کو لا بسانا کوئی مشکل نہیں ہے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 14–17

In the last verse: إِن تَدْعُوهُمْ لَا يَسْمَعُوا دُعَاءَكُمْ وَلَوْ سَمِعُوا مَا اسْتَجَابُوا لَكُمْ (If you call them, they do not hear your call, and even if they were to hear, they would not respond to you. - 35:14). To explain, it can be said that if you call those idols or some prophets or angels you take as god and worship them asking them to help you in distress, they will, first of all, be unable to listen to you because idols do not have the ability to listen. Though, prophets and angels have this ability, yet they are not present everywhere nor do they hear that which is said by…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

38 That is, °You are not enjoying life on Allah's earth solely by dim of your own power and might. He has the power to remove you from here in no time and raise another people to take your place. Therefore, you should understand your true worth, and should desist from adopting the conduct which has been causing the downfall of the nations. When Allah wills to send someone to his doom. there is no one in the universe, who can stop Him and withhold His decree from being enforced."

Read the full tafseer →