Explained with ayahs 19–26
ایک موازنہ۔
ارشاد ہوتا ہے کہ مومن و کفار برابر نہیں۔ جس طرح اندھا اور دیکھتا۔ اندھیرا اور روشنی، سایہ اور دھوپ، زندہ اور مردہ برابر نہیں۔ جس طرح ان چیزوں میں زمین و آسمان کا فرق ہے اسی طرح ایمان دار اور بےایمان میں بھی بےانتہا فرق ہے۔ مومن آنکھوں والے اجالے، سائے اور زندہ کی مانند ہے۔ برخلاف اس کے کافر اندھے اندھیرے اور بھرپور لو والی گرمی کی مانند ہے۔ جیسے فرمایا (اَوَمَنْ كَانَ مَيْتًا فَاَحْيَيْنٰهُ وَجَعَلْنَا لَهٗ نُوْرًا يَّمْشِيْ بِهٖ فِي النَّاسِ كَمَنْ مَّثَلُهٗ فِي الظُّلُمٰتِ لَيْسَ بِخَارِجٍ مِّنْهَا ۭ كَذٰلِكَ زُيِّنَ لِلْكٰفِرِيْنَ مَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ01202) 6۔ الانعام…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–21
سورة فَاطِر 39
" بوجھ " سے مراد اعمال کی ذمہ داریوں کا بوجھ ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ کے ہاں ہر شخص اپنے عمل کا خود ذمہ دار ہے، اور ہر ایک پر صرف اس کے اپنے ہی عمل کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ اس امر کا کوئی امکان نہیں ہے کہ ایک شخص کی ذمہ داری کا بار اللہ تعالیٰ کی طرف سے کسی دوسرے پر ڈال دیا جائے۔ اور نہ یہی ممکن کہ کوئی شخص کسی دوسرے کی ذمہ داری کا بار خود اپنے اوپر لے لے اور اسے بچانے کے لیے اپنے آپ کو اس کے جرم میں پکڑوا دے۔ یہ بات یہاں اس بنا پر فرمائی جا رہی ہے کہ مکہ معظمہ میں جو لوگ اسلام قبول کر رہے تھے ان سے ان کے مشرک رشتہ دار اور برادری کے لوگ کہتے تھے کہ تم ہمارے کہنے سے اس نئے دین کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–21
معارف و مسائل
(آیت) ولا تزر وازرة وزر اخری، یعنی قیامت کے روز کوئی آدمی دوسرے آدمی کے گناہوں کا بوجھ نہ اٹھا سکے گا، ہر ایک کو اپنا بوجھ خود ہی اٹھانا پڑے گا۔ اور سورة عنکبوت میں جو آیا ہے کہ ولیحملن اثقالہم واتقالاً مع اثقالہم، یعنی گمراہ کرنے والے لوگ اپنے گمراہ ہونے کا بوجھ بھی اٹھائیں گے اور اتنا ہی دوسرا بوجھ اس کا اٹھائیں گے کہ انہوں نے دوسروں کو گمراہ کیا تھا۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ جن کو گمراہ کیا تھا ان کا بوجھ یہ لوگ کچھ ہلکا کر دینگے، بلکہ ان کا بوجھ اپنی جگہ پر ان پر پورا ہوگا، اور گمراہ کرنے والوں کا جرم دوہرا ہونے کی وجہ سے ان کا بوجھ بھی دوہرا ہوجائے گا۔ ایک گمراہ ہونے کا دوسرا…
Read the full tafseer →4۔ آگے کا مضمون۔ آیت 19۔ 28
آگے یہ حقیقت واضح فرمائی کہ کس طرح کے لوگ ایمان لائیں گے اور کس قسم کے لوگ اس نعمت سے محروم رہیں گے۔ اس حقیقت کو سمجھانے کے لئے اس کائنات کے اندر اضداد کے وجود کی طرف توجہ دلائی کہ دیکھتے ہو کہ اس کے اندر روشنی بھی ہے اور تاریکی بھی، گرمی بھی ہے اور سردی بھی۔ اسی طرح زمین میں زرخیز قطعات بھی ہیں جو بارش کا چھینٹا پڑتے ہی لہلہا اٹھتے ہیں اور بنجر علاقے بھی ہیں جو ہزار بارش ہو لیکن ویران ہی پڑے رہ جاتے ہیں۔ اسی طرح اشخاص و افراد کے اندر بھی مختلف قسم کی صلاحیتیں رکھنے والے ہیں۔ جن کی صلاحیتیں زندہ ہیں وہ اس رحمت کی بارش سے، جو قرآن کی صورت میں نازل ہوئی ہے، فائدہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–19
18۔ 1 ہاں جس نے دوسروں کو گمراہ کیا ہوگا، وہ اپنے گناہوں کے بوجھ کے ساتھ ان کے گناہوں کا بوجھ بی اٹھائے گا، جیسا کہ آیت (وَلَيَحْمِلُنَّ اَثْــقَالَهُمْ وَاَثْــقَالًا مَّعَ اَثْقَالِهِمْ) 29۔ العنکبوت :13) واضح ہے لیکن یہ دوسروں کا بوجھ بھی درحقیقت ان کا اپنا ہی بوجھ کہ ان ہی نے ان دوسروں کو گمراہ کیا تھا۔
18۔ 2 ایسا انسان جو گناہوں کے بوجھ سے لدا ہو ہوگا، وہ اپنا بوجھ اٹھانے کے لئے اپنے رشتہ دار کو بھی بلائے گا تو وہ آمادہ نہیں ہوگا۔
18۔ 3 یعنی تیرے انذار و تبلیغ کا فائدہ انہی لوگوں کو ہوسکتا ہے تو یا تو انہی کو ڈراتا ہے ان کو نہیں جن کو انذار سے کوئی فائدہ نہیں ہوتا جس طرح دوسرے مقام پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–21
6: یعنی اللہ تعالیٰ دوسروں کی عبادت اور ان کے تعریف کرنے سے بالکل بےنیاز ہے، کوئی اس کی تعریف کرے یا نہ کرے، وہ بذات خود قابل تعریف ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–21
وما یستوی ۔۔۔۔۔۔ ولا الاموات (19 – 21) یہاں ایک طرف کفر ، اندھے پن ، تاریکی ، گرمی اور موت سب کے سب ایک مزاج رکھتے ہیں اور ان کے مفہومات کے درمیان ربط ہے۔ دوسری جانب ایمان ، نور ، بصارت ، چھاؤں اور زندگی کے مفہومات کا ایک ہی مزاج ہے اور یہ ایک دوسرے کے ساتھ مربوط ہے۔
ایمان نور ہے۔ دل میں نور ، اعضاء میں نور ، حواس میں نور ، ایسا نور جس سے اشیاء کی حقیقت منکشف ہوتی ہے۔ اقدار اور واقعات روشن ہوتے ہیں اور ان کی حدود اور روابط واضح ہوتے ہیں۔ مومن اس نور سے تمام اشیاء کو دیکھتا ہے اور وہ روشنی کے اندر واقعات کو دیکھتا ہے۔ اس لیے اس کے معاملات اچھے ہوتے ہیں۔ اس کے اقدامات درست سمت میں ہوتے ہیں اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–22
9 یعنی مومن جس کو اللہ نے دل کی آنکھیں دی ہیں، حق کے اجالے اور وحی الٰہی کی روشنی میں بےکھٹکے راستہ قطع کرتا ہوا جنت کے باغوں اور رحمت الٰہی کے سایہ میں جا پہنچا ہے۔ کیا اس کی برابری وہ کافر کرسکے گا جو دل کا اندھا اوہام و ہواء کی اندھیریوں میں بھٹکتا ہوا جہنم کی آگ اور اس کی جھلس دینے والی لوؤں کی طرف بےتحاشا چلا جا رہا ہے۔ ہرگز نہیں۔ ایسا ہو تو یوں سمجھو کہ مردہ اور زندہ برابر ہوگیا۔ فی الحقیقت مومن و کافر میں اس سے بھی زیادہ تفاوت ہے جو ایک زندہ تندرست آدمی اور مردہ لاش میں ہوتا ہے، اصل اور دائمی زندگی صرف روح ایمان سے ملتی ہے۔ بدون اس کے انسان کو ہزار مردوں سے بدتر مردہ سمجھنا چاہیے۔
Read the full tafseer →آیت 19 { وَمَا یَسْتَوِی الْاَعْمٰی وَالْبَصِیْرُ } ”اور برابر نہیں ہوسکتے اندھا اور دیکھنے والا۔“
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–20
25 وزر کا لغوی مفہوم اور قانون جزاء و سزا :۔ وزر کا لفظ، بالخصوص گناہوں کے بوجھ کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ اور اس کا ضابطہ یہ ہے کہ جو کرے گا، وہی بھرے گا۔ یہ ناممکن ہے کہ کرے کوئی اور بھرے کوئی دوسرا یہ کہ اسے اتنی ہی سزا ملے گی جتنا اس نے گناہ کیا ہوگا اس سے زیادہ نہیں۔ البتہ اگر کوئی شخص ایسا گناہ کا کام رائج کر جائے جس پر بعد میں آنے والے لوگ عمل پیراہوں مثلاً کوئی شرکیہ عقیدہ یا کام یا کوئی بدعت رائج کرجائے تو حصہ رسدی کے طور پر اس کے اپنے گناہوں کے بوجھ میں اضافہ بھی ہوتا رہے گا۔ اور دوسری حقیقت یہ ہے کہ کوئی شخص کسی دوسرے کا بوجھ اپنے ذمہ لینے کو تیار بھی نہ ہوگا۔ نہ باپ بیٹے کا گناہ اپنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–22
34۔ (اسی طرح کافر اور مومن بھی یکساں نہیں ہوسکتے) (آیت) ” البصیر۔ النور۔ الظل۔ الاحیآء “۔ ادراک حق ہونے کے لحاظ سے مومن کی مثال آنکھوں والے اور نور اور سایہ اور زندہ کی ہے۔ (آیت) ” الاعمی۔ الظلمت۔ الحرور۔ الاموات “۔ ادراک حق نہ کرنے کے لحاظ سے کافر کی مثال نابینا اور تاریکی اور چلچلاتی دھوپ اور مردہ کی ہے۔ لا۔ لا۔ لا۔ تاکید نفی کیلیے ہے، اور اس کی تکرار تاکید مزید کے لیے ہے۔ لا لتاکید نفی الاستوآء وتکریر ھا علی الشقین لمزید التاکید (بیضاوی) وزیادۃ ” لا “ لتاکید معنی النفی (مدارک)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–26
آیت نمبر 15 تا 26
ترجمہ : اے لوگو ! تم ہرحال میں اللہ کے محتاج ہو اور اللہ تو اپنی مخلوق سے بےنیاز ہے اور وہ اپنی مخلوق پہر احسان کی وجہ سے سزاوار حمد ہے اگر وہ چاہے تو تم کو فنا کردے اور تمہاری جگہ ایک نئی مخلوق پیدا کردے اور یہ بات اللہ کے لئے کچھ مشکل نہیں، کوئی بھی گنہ گار شخص دوسرے کے گناہ کا بوجھ نہیں اٹھائے گا، گوجس شخص کو بلایا گیا ہے رشتہ دار ہی کیوں نہ ہو، جیسا کہ باپ اور بیٹا اور دونوں صورتوں میں عدم حمل اللہ کا حکم ہے، آپ تو صرف ان ہی لوگوں کو ڈراسکتے ہیں جو اپنے رب سے غائبانہ ڈرتے ہوں یعنی اس سے ڈرتے ہوں حالانکہ اس کو دیکھا نہیں ہے، اس لئے کہ یہی لوگ تنبیہ سے فائدہ اٹھانے والے…
Read the full tafseer →وما یستوی الاعمی والبصیر۔ اور اندھا اور آنکھوں والا برابر نہیں
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–24
(19۔ 24) اور کافر مومن دونوں برابر نہیں اور نہ کفر و ایمان اور نہ جنت و دوزخ اور نہ مومنین و کافرین اطاعت و بزرگی میں برابر ہوسکتے ہیں اور اللہ تعالیٰ جو اس چیز کا اہل ہوتا ہے اس کو سمجھا دیتا ہے اور آپ ان لوگوں کو نہیں سمجھا سکتے جو ایسے ہیں جیسا کہ قبروں میں دفن کیے گئے ہیں۔
آپ تو صرف قرآن کریم کے ذریعے سے ڈرانے والے پیغمبر ہیں۔
ہم ہی نے آپ کو قرآن کریم دے کر مسلمانوں کو جنت کی خوشخبری سنانے والا اور کافروں کو دوزخ سے ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے کوئی امت ایسی نہیں ہوئی جس میں کوئی اللہ کی طرف سے ڈرانے والا پیغمبر نہ گزرا ہو۔
Read the full tafseer →وَمَا يَسْتَوِي الْاَعْمٰى وَالْبَصِيْرُ : یہ کافر اور مومن کی مثال ہے کہ کافر اندھا ہے اور مومن آنکھوں والا۔
Read the full tafseer →آیت : وما یستوی الاعمی والبصیر یعنی کافر اور مومن، جاہل اور عالم برابر نہیں (1) ( معالم التنزیل، جلد 4، صفحۃ 523 ) ، جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے آیت : قل لایستوی الخمیث وطیب (المائدہ :100)
Read the full tafseer →8:۔ عبدالرزاق وابن المنذر وابن ابی حاتم نے قتادہ ؓ سے (آیت) ” وما یستوی الاعمی والبصیر کے بارے میں روایت کیا کہ یہ وہ مثال ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے کافر اور مؤمن کے لئے بیان فرمایا اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں جس طرح اندھا اور بینا برابر نہیں ہوسکتے اس طرح کافر اور مؤمن بھی برابر نہیں ہوسکتے۔
9:۔ ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” وما یستوی الاعمی والبصیر سے مراد ہے کافر اور مؤمن ”
Read the full tafseer →[وَمَا يَسْتَوِي : اور برابر نہیں ہوتے ] [ الْاَعْمٰى وَالْبَصِيْرُ : اندھا اور بصارت والا ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–26
سب اللہ کے محتاج ہیں، قیامت کے دن کوئی کسی کا بوجھ نہ اٹھائے گا، بینا اور نابینا، اندھیریاں اور روشنی، زندہ اور مردہ برابر نہیں، ہر امت میں نذیر بھیجا گیا ہے
یہ پورے ایک رکوع کا ترجمہ ہے جس میں بہت سے امور پر تنبیہ فرمائی ہے اور متعدد نصیحتیں فرمائیں۔
اولاً یہ فرمایا کہ اے لوگو تم سب اللہ ہی کے محتاج ہو، اللہ تعالیٰ غنی ہے جسے کسی چیز کی حاجت نہیں ہے، کوئی بھی ایمان لانے والا اور اس کی عبادت کرنے والا یہ نہ سمجھے کہ اسے میری حاجت اور ضرورت ہے، بلکہ یہ سمجھ کر اس کی عبادت کرے کہ مجھے اسے راضی کرنے کی حاجت ہے، وہ غنی ہے، بےنیاز ہے اور ہر تعریف کا مستحق ہے، وہ ہر عیب سے پاک ہے اور صفات جلیلہ سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–26
ذکر فقرواحتیاج بشرواستغنا خداوند بر وبحر
قال اللہ تعالی۔ یایھا الناس انتم الفقراء الی اللہ۔۔۔ الی۔۔۔ فکیف کان نکیر۔
(ربط) اوپر سے منکرین توحید کا رد چلا آرہا ہے اب یہ بتلاتے ہیں کہ یہ لوگ متکبر اور مغرور ہیں اور دراہم معدودہ کے نشہ کے میں چور ہیں اور خدا کی پکڑ سے بےفکر ہیں اور اس کی یاد سے دور ہیں۔ اور یہ نہیں سمجھتے کہ کل عالم اپنے وجود میں اور اپنی بقاء میں اللہ کا محتاج ہے اور خاص کر انسان تو سب سے زیادہ حاجتوں میں جکڑا ہوا ہے اور خداوند ذوالجلال۔ غنی مطلق اور بےنیاز مطلق ہے جب چاہے پکڑ سکتا ہے اللہ کو نہ کسی کے مال و دولت کی حاجت ہے اور نہ کسی کی عبادت کی حاجت ہے۔ وہ سب سے بےنیاز ہے پس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–21
23:۔ وما یستوی الخ : یہ مومن و کافر اور توحید و شرک کی تمثیلات ہیں۔ جس طرح اندھا ظاہری روشنی سے مھروم ہے اسی طرح کافر و مشرک نور ایمان و توحید سے محروم ہے۔ علی ہذا جس طرح سوانکھا ظاہری بینائی رکھتا ہے۔ اسی طرح مومن کا دل نور توحید سے روشن ہوتا ہے۔ الاعمی والبصیر مثلان للکافر والمومن کما قال قتادۃ والسدی و غیرھما (روح ج 22 ص 186) ۔ الظلمات کفر و شرک کے اندھیرے۔ النور، ایمان و توحید کی روشنی۔ الظل، سایہ اس سے ثواب یا جنت مراد ہے۔ الحرور، شدت گرما لیکن بقرینہ تقابل یہاں دھوپ کے معنی میں ہے۔ اور اس سے مراد عذاب یا جہنم ہے (قرطبی، خازن، روح) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–26
ربط آیات
گزشتہ آیات میں مشرکین کا رد تھا۔ نیز ساری مخلوق کے احتیاج اور اللہ تعالیٰ کی بےنیازی کا ذکر تھا۔ اس بنا پر تمام حاجات اللہ وحدہ لاشریک سے طلب کرنی چاہئیں اور اسی کی عبادت کرنی چاہئے۔ اللہ تعالیٰ قادر مطلق ہے ، وہ چاہے تو ساری مخلوق کو صفحہ ہستی سے نابود کرکے اس کی جگہ دوسری مخلوق کو لے آئے۔ لہٰذا ہر انسان کو محاسبہ اعمال کی فکر کرنی چاہئے۔ قیامت والے دن کوئی عزیز ترین رشتہ دار بھی کسی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔ اللہ نے حضور ﷺ کو مخاطب کرکے فرمایا کہ آپ ایسے لوگوں کو ڈراتے ہیں جو خدا تعالیٰ سے بن دیکھے ڈرمتے ہیں اور اس پر ایمان رکھتے ہیں۔ وہ لوگ نماز پڑھتے ہیں اور ظاہری و باطنی…
Read the full tafseer →وَمَا يَسْتَوِي الْاَعْمٰى وَالْبَصِيْرُ 19ۙ
استوا
أن يقال لاعتدال الشیء في ذاته، نحو : ذُو مِرَّةٍ فَاسْتَوى[ النجم/ 6]
( س و ی ) المسا واۃ
کسی چیز کے اپنی ذات کے اعتبار سے حالت اعتدال پر ہونے کے لئے بولا جاتا ہے جیسے فرمایا : ۔ ذُو مِرَّةٍ فَاسْتَوى[ النجم/ 6] یعنی جبرائیل ) طاقتور نے پھر وہ پورے نظر آئے
عمی
العَمَى يقال في افتقاد البصر والبصیرة، ويقال في الأوّل : أَعْمَى، وفي الثاني : أَعْمَى وعَمٍ ، وعلی الأوّل قوله : أَنْ جاءَهُ الْأَعْمى[ عبس/ 2] ، وعلی الثاني ما ورد من ذمّ العَمَى في القرآن نحو قوله : صُمٌّ بُكْمٌ عُمْيٌ [ البقرة/ 18]
( ع م ی ) العمی ٰ
یہ بصارت اور بصیرت دونوں قسم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–23
انما تنذر الذین الخ فرماتا ہے۔ اے نبی (علیک السلام) آپ کا وعظ و پند اور ڈر سنانا انہی کو نافع اور کارآمد ہے جو غائبانہ اپنے اللہ سے ڈرتے ہیں اور نماز پڑھتے ہیں اور یہ بھی یاد رہے کہ من تزکیٰ الخ جو کوئی اصلاح پذیر ہوتا ہے اور نیک بختی اختیار کرتا ہے تو اس کا فائدہ اسی کے لیے ہے۔ اللہ اور نبی کو کوئی فائدہ نہیں، والی اللہ المصیر اور اللہ ہی کے پاس لوٹ کر جانا ہے۔ ہر شخص اپنے کئے کا بدلہ وہاں پاوے گا اور یہ گمراہ اپنی گمراہی پر کیا نازاں ہیں۔ کافرو مومن برابر نہیں ہوسکتے۔ جیسا کہ اندھا اور آنکھوں والا اور روشنی اور اندھیرا اور سایہ اور دھوپ اور مردہ اور زندہ برابر نہیں۔ یہ کافر و مومن کی مثالیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–21
وَمَا یَسْتَوِی الْاَعْمٰی وَالْبَصِیْرُ ۔ وَلاَ الظُّلُمٰتُ وَلاَالنُّوْرُ ۔ وَلاَالظِّلُّ وَلاَالْحَرُوْرُ ۔ (فاطر : 19 تا 21)
(اندھا اور آنکھوں والا برابر نہیں۔ اور نہ تاریکیاں اور روشنی۔ اور نہ سایہ اور دھوپ (یکساں ہیں) ۔ (
اَعْمٰی سے مراد عقل اور دل کے اندھے ہیں اور بصیر سے مراد وہ لوگ ہیں جن کی عقل کی صلاحیتیں زندہ ہیں اور دل کا نور روشن ہے۔ اور وہ اپنی صلاحیتوں سے صحیح کام لینے کا طریقہ جانتے ہیں اور اس کی فکر بھی رکھتے ہیں۔
اضداد سے استدلال اور آنحضرت ﷺ کو تسلی
ظُلُمٰتُ سے مراد وہ تاریکیاں ہیں جو انسان اپنے جاہلانہ اوہام اور قیاسات و مفروضات سے خود اپنے گرد پیدا کرلیتا ہے۔ اور نور سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–21
فہم القرآن
ربط کلام : عقیدہ توحید اور دین سے انحراف کرنے والا در حقیقت اندھا ہوتا ہے۔ اندھا اور بینا برابر نہیں ہوسکتے۔
اللہ تعالیٰ نے انسان کو بصیرت اور بصارت اس لیے عطا فرمائی ہے کہ وہ اپنے رب کو پہنچانے اور اس کی فرمانبرداری اختیار کرے۔ جو انسان اپنے رب کو فراموش کردیتا ہے در حقیقت وہ اندھا ہوتا ہے۔ کیونکہ وہ کائنات کی سب سے بڑی حقیقت اور ضمیر کی آواز فراموش کرکے دل کی روشنی کھو بیٹھتا ہے۔
ضمیر کی روشنی اور کائنات کی حقیقت یہ ہے کہ انسان اپنے خالق، مالک اور رازق کو پہچانے اور اس کی فرمانبرداری میں زندگی بسر کرے۔ پہلی بات کا نام عقیدہ توحید اور دوسری بات کا نام دین ہے۔ جو اس پر عمل کرتا ہے…
Read the full tafseer →مومن و کافر برابر نہیں جیسے اندھیرا و روشنی ‘ سایہ و دھوپ برابر نہیں :
19: وَمَا یَسْتَوِی الْاَعْمٰی وَالْبَصِیْرُ (اور اندھا اور آنکھوں والا برابر نہیں) یہ مومن و کافر کی مثال ہے۔ نمبر 2۔ عالم و جاہل کی مثال ہے۔
Read the full tafseer →19، وما یستوی الا عمی والبصیر ، اس سے جاہل اور عالم مراد ہے۔ بعض نے کہا کہ اعمی راہ راست سے بصیر سے مراد ہدایت یافتہ ہے، بصیر سے مراد مؤمن اور اعمی سے مرادو مشرک ، کافر ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–23
18 تا 23۔ ترمذی ابوداؤد نسائی اور بیہقی وغیرہ میں ابی رمثہ کی حدیث 2 ؎ میں آنحضرت ﷺ نے اس آیت کو جو تفسیر فرمائی ہے (2 ؎ تفسیر الدر المنثورص 248 ج 5) حاصل اس کا یہ ہے کہ ابی رمثہ کہتے ہیں میں اپنے باپ کے ساتھ آنحضرت ﷺ کی خدمت میں ایک روز گیا جب آنحضرت پر میری نظر پڑی تو آپ نے میرے باپ سے پوچھا کہ یہ لڑکا تمہارا بیٹا ہے میرے باپ نے جواب دیا کہ ہاں آپ نے فرمایا کہ باپ بیٹے کا تعلق دنیا ہی دنیا کا ہے آخرت میں نہ بیٹا باپ کے کچھ گناہ بٹا سکتا ہے نہ باپ بیٹے کے یہ فرما کر پھر آپ نے یہ آیت پڑھی اسی طرح آپ کا وہ فرمانا مشہور ہے جو حجتہ الوداع میں آپ نے نصیحت کے طور پر فرمایا تھا جس کی روایت مسند…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–23
آیت 15
اللہ تبارک وتعالیٰ تمام لوگوں سے مخاطب ہے، انہیں ان کے احوال و اوصاف سے آگاہ فرماتا ہے کہ وہ ہر لحاظ سے اللہ تعالیٰ کے محتاج ہیں :
(1) وہ وجود میں آنے کے لئے اس کے محتاج ہیں اگر اللہ تعالیٰ ان کو جود میں نہ لائے تو وہ وجود میں نہیں آسکتے۔
(2) وہ اپنے مختلف قویٰ اعضاء اور جوارح کے حصول میں اس کے محتاج ہیں۔ اگر اللہ تعالیٰ ان کو یہ قوی عطا نہ کرے تو کسی کام کے لئے ان میں کوئی استعداد نہیں۔
(3) وہ خوراک، رزق اور دیگر ظاہری و باطنی نعمتوں کے حصول میں اسی کے محتاج ہیں۔ اگر اس کا فضل و کرم نہ ہو اور اگر وہ ان امور کے حصول میں آسانی پیدا نہ کرے تو وہ رزق اور دیگر نعمتیں حاصل نہیں کرسکتے۔
(4)…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–27
حانث نہ ہونے کی صورتیں
قول باری ہے (ومن کل تاکلون لحما طریاو تستخرجون حلیۃ تلبسونھا اور ہر ایک سے تم تازہ گوشت کھاتے ہو اور زیور نکالتے ہو جسے تم پہنتے ہو) حلیہ سے یہاں موتی اور وہ چیزیں مراد ہیں جو سمندر سے نکالی جاتی ہیں اور بطور زیور انہیں پہنا جاتا ہے۔
اگر کوئی عورت زیور نہ پہننے کی قسم کھالے تو اس قسم کے بارے میں فقہاء کے مابین اختلاف رائے ہے۔ امام ابوحنیفہ کا قول ہے کہ تنہا موتی زیور نہیں کہلاتے جب تک ان کے ساتھ سونا نہ ہو۔
کیونکہ قول باری ہے (ومما یوقدون علیہ فی النار ابتغآء حلیۃ او متاع اور جن چیزوں کو زیور یا (اور) اسباب بنانے کی غرض سے آگ کے اندر تپاتے ہیں) یہ بات سونے میں ہوتی ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–19
47 قیامت کے روز کوئی کسی کا بوجھ نہیں اٹھائے گا : سو ارشاد فرمایا گیا اور صاف اور صریح طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ " کوئی بوجھ اٹھانے والا کسی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا "۔ پس کبھی تم لوگ اس طرح کی کسی غلط فہمی میں نہ رہنا کہ ہم نے فلاں کا لڑ پکڑ رکھا ہے وہی ہمیں کافی ہے۔ ہمارا بوجھ وہ خود اٹھا لیں گے۔ اور اس طرح ہمارا کام یونہی بن جائے گا وغیرہ کہ اس طرح کی ہر غلطی تمہیں بڑی ہولناک ہلاکت اور تباہی میں ڈال دے گی ۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم ۔ سو یہ تو ہوسکتا ہے۔ ہونا چاہیئے اور ہوگا کہ دوسروں کو گمراہ کرنے والوں کو دوہرا عذاب دیا جائے۔ ایک ضلال کا اور دوسرا اضلال کا۔ یعنی ایک گمراہ ہونے کا اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–45
سچ تو یہ ہے جو اللہ نے اعلان کیا ہے
تشریح : ان آیات کی وضاحت کیا کی جائے یہ تو بذات خود علم و عرفان اور کلام الٰہی کی انتہائی آسان اور عام فہم مضمون کا مجموعہ ہیں۔ اہل علم کو معلوم ہے کہ مومن کو آنکھوں والا، زندہ اور نور سے تشبیہ دی گئی ہے جبکہ کافر کو اندھا، تاریکی اور مردہ کہا گیا ہے۔ پھر کفار کی ایک خاص خصلت کا ذکر کیا گیا ہے کہ وہ اتنا ہٹ دھرم اور ضد کا پکا ہوتا ہے کہ ہمیشہ نبیوں کو جھٹلاتا رہتا ہے اس لیے سیدنامحمد ﷺ کو بار بار یہ تاکید کی گئی ہے کہ آپ ان کی ضد پر پریشان نہ ہوا کریں بس آپ ان کو سمجھاتے رہیں ان سے نمٹنا اللہ کا کام ہے۔ بار بار کفار کے لیے دوزخ اور مومن کے لیے جنت کا اعلان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–26
رکوع نمبر 3 ۔ آیات 15 تا 26:
اسرار و معارف :
لوگو تمہارے بس میں تو کچھ بھی نہیں تمہارا سارا سرمایہ صرف احتیاج ہے اپنے وجود اپنی ذات اپنے اوصاف میں تم ہر طرح سے محتاج ہو اور اللہ ایسا بےنیاز نہ اسے تمہاری احتیاج ہے اور نہ ہی کسی اور کی بلکہ وہ ہی ایسا کامل ہے جسے ہر تعریف سزاوار ہے بھلا تم اس کی ناشکری اور کفر کا راستہ اپناتے جو اس قدر بےنیاز اور قادر ہے کہ چاہے تو ایک آن میں تم سب کو تباہ اور نابود کردے اور تمہاری جگہ ایک نئی مخلوق پیدا کردے کہ یہ اس کے لیے کچھ بھی مشکل نہیں یہ اس کی شان کریمی ہے کہ تمہیں باوجود تمہاری نافرمانیوں کے مہلت دے رکھی ہے مگر اس کا یہ مطلب بھی نہیں کہ تمہیں کوئی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–22
ف 8 یعنی اسی طرح مومن اور کافر برابر نہیں ہوسکتے۔ مومن کا ٹھکانہ جنت اور کافر کا جہنم شاہ صاحب (رح) لکھتے ہیں :” یعنی سب خلق برابر نہیں جن کو ایمان دینا ہے انہیں کو ملے گا تو بتھری آرزوکرے تو کیا ہوتا ہے ؟ “ (موضح)9 یعنی مردوں کو مراد وہ کافر ہیں جن کے دل مردہ ہوچکے ہیں۔ اس آیت سے معلوم ہوا کہ جو لوگ قبروں میں مردہ میں انہیں کوئی بات نہیں سنائی جاسکتی۔ یہ ایک عام حقیقت ہے جس سے صرف وہ صورتیں مستثنیٰ ہیں جو دلیل ( کتاب و سنت) سے ثابت ہوں۔ (دیکھئے سورة نمل آیت 80) ۔
Read the full tafseer →(35:19) الاعمی۔ عمی سے صفت مشبہ کا صیغہ۔ اندھا۔ نابینا۔ مراد راہ راست سے نابینا۔ یعنی کافر۔ جاہل۔
البصیر۔ بروزن فعیل بمعنی فاعل۔ اسم فاعل واحد مذکر ۔ بینا۔ یعنی مؤمن۔ یا جاننے والا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–26
لغات القرآن : آیت نمبر 15 تا 26
فقرائ ( محتاج ، ضرورت مند) الغنی ( بےنیاز ، جو کسی کا محتاج نہ ہو) الحمید (جس کی ذات میں ہر طرح کی خوبیاں موجود ہوں) لا تزر (بوجھ نہیں اٹھاتا ہے) مثقلۃ ( لدا ہوا بوجھ) حمل (بوجھ) مسمع ( سنانے والا) خلا (گزر گیا) زبر (صحیفے ، کتابیں) نکیر (عذاب)
تشریح : آیت نمبر 15 تا 26 :۔ انسان کی سب سے بڑی بھول اور نادانی یہ ہے کہ وہ اپنی حاجتوں اور ضرورتوں کے لئے ایک اللہ کو چھوڑ کر بہت سی ایسے کمزور اور ناقابل اعتبار سہاروں میں زندگی گزارنے کی کوشش کرتا ہے جن کی کوئی حیثیت اور اہمیت نہیں ہوتی اور اس طرح وہ زندگی بھر گمراہی کے اسی دائرے میں گھومتا رہتا ہے۔ ایسے نادانوں سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–23
مسلمان اور کافر کی مثال۔
(ف 1) ان آیتوں میں فرمایا کہ کوئی شخص قیامت کے دن کسی دوسرے شخص کے گناہ کا ذمہ دار نہیں اور اگر کوئی شخص اپنے گناہوں میں لدا ہوا کسی دوسرے شخص کو اس بوجھ کے اٹھانے کے واسطے پکارے گا تو وہ شخص اگرچہ اس کا بہت قریب کا رشتہ دار ہی کیوں نہ ہو جیسے باپ یابـیٹا ، جب بھی اسکے گناہوں کا بوجھ اپنے سرنہ لے گا، ان دونوں صورتوں میں بوجھ کہ نہ اٹھانا اللہ کے حکم کی وجہ سے ہے اب قیامت کا نفسانفسی اور قرابت داروں کے غیر ہوجانے کا حال ذکر فرماکر کہ بغیر دیکھے قیامت کی باتوں کا اور خدا کے سامنے کھڑے ہونے کا جن کو خوف ہے ان کو ہی اللہ کے رسول کی نصیحت کچھ کارگر ہوتی ہے دنیا کی محبت میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–22
[11] یعنی جس کی ہدایت منظور ہو۔ اور اللہ کو ہدایت اسی کی منظور ہے جو طالب ہدایت ہو۔ اس کو قبول ہدایت کی توفیق عطا فرماتا ہے۔
[12] یعنی جن لوگوں کے سینے ضمیر کا مدفن بن چکے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–21
ف 3: یعنی ہر شخص اپے اعمال کا ذمہ دار ہے ۔ یہ نہیں ہوسکے گا کہ گناہ تو ہم کریں ۔ اور سزا میں کسی دوسرے شخص کو گرفتار کیا جائے ۔ اسی طرح یہ بھی درست نہیں ہے ۔ کہ زید گناہ کرے اور دوسرے قالب میں بکر پکڑا جائے ۔ سزا اور اجر کا وہ ” انا “ مستحق ہے ۔ جس کا براہ راست اعمال سے تعلق ہے ۔ اس ” انا “ میں کوئی تبدیلی نہیں ہوسکتی ۔ کفارہ اور تناسخ عقیدہ اس لئے غلط ہے ۔ کہ ان دونوں صورتوں میں سزا اور جزا کا تعلق اس ” انا “ سے باقی نہیں رہتا ۔ اور مکافات عمل کے اصول پر منطقی طور پر اعتراضات وارد ہوتے ہیں ۔ جن کی تفصیل کا یہ موقع نہیں ۔
حل لغات :۔ انفظرائ۔ فقیر کی جمع ہے ۔ بمعنی محتاج وزر ۔ بوجھ ۔
Read the full tafseer →(19) اور اندھا اور آنکھوں والا برابر نہیں ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–20
ف 2۔ مطلب یہ کہ طالب حق کو نفع ہوا کرتا ہے، یہ لوگ طالب حق ہی نہیں، ان سے امید نہ رکھیئے۔
Read the full tafseer →اندھا اور بینا کبھی یکساں نہیں ہوتے
19 ۔ قرآن کریم میں جہاں بھی { اعمیٰ } کا لفظ آیا ہے زیادہ تر اس سے مراد ان ظاہری آنکھوں کا نابینا مراد نہیں لیا گیا بلکہ دل کے اندھے ہی مراد لیا گیا ہے اور انبیاء کرام اور رسل عظام جن اندھوں جو باذن اللہ درست کرنے کرنے کے لئے تشریف لائے وہ وہی اندھے تھے جو دلوں کے اندھے تھے اور یہ بھی کہ ان ظاہری آنکھوں کا اندھا ہونا انسان کی اختیاری بات ہیں اس لئے ان اندھوں جن کی آنکھوں کی روشنی بالکل ضائع ہوچکی ہو وہ قوت ہی مردہ ہوجائے جو دیکھنے کے کام آتی ہے تو کبھی آنکھیں درست نہیں ہوسکتیں اس کے مقابلہ میں دل کا اندھا ہونا اختیاری بات ہے اور اگر کوئی شخص چاہے کہ وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–21
Commentary
Verse 18: وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَىٰ (And no bearer will bear the burden of any other person) means that, on the Day of Judgment, no one will be able to bear the burden of another person's sins. Everyone will have to bear his or her burden. As for what appears in Surah Al-` Ankabut (29:13): وَأَثْقَالًا مَّعَ أَثْقَالِهِمْ , which means that people who make others go astray will not only bear the burden of going astray personally, but will also bear the burden of having made others go astray. it does not mean that they will somehow lighten the burden of those they…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–21
39 "Burden": the burden of the responsibilities of actions. It means: In the sight of Allah every one is responsible for his own actions and for no one else's. There is no possibility that AIlah will place the burden of one man's responsibility upon the other, nor is there the possibility that a person will take the burden of another's responsibility upon himself and get himself seized for the crime committed by the other. This thing has been said here because the polytheist kinsmen and relatives of the people who were embracing Islam in Makkah, used to urge them, saying, °Give up Islam and…
Read the full tafseer →