Al-Ahzaab 33:34

Al-Ahzaab · from ayah 34

33:34

وَاذْكُرْنَ مَا یُتْلٰی فِیْ بُیُوْتِكُنَّ مِنْ اٰیٰتِ اللّٰهِ وَالْحِكْمَةِ ؕ— اِنَّ اللّٰهَ كَانَ لَطِیْفًا خَبِیْرًا ۟۠وَاذۡكُرۡنَ مَا يُتۡلٰى فِىۡ بُيُوۡتِكُنَّ مِنۡ اٰيٰتِ اللّٰهِ وَالۡحِكۡمَةِؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ لَطِيۡفًا خَبِيۡرًا

اور تمہارے گھروں میں جو خدا کی آیتیں پڑھی جاتی ہیں اور حکمت (کی باتیں سنائی جاتی ہیں) ان کو یاد رکھو۔ بےشک خدا باریک بیں اور باخبر ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

And remember what is recited in your houses of the verses of Allah and wisdom. Indeed, Allah is ever Subtle and Acquainted [with all things].

— Saheeh International

Juz 22 · Ruku 4 of surah · Ruku 1 of juzع

Read the whole surah · Surah Al-Ahzaab

All translations of 33:34

یاد رکھو اللہ کی آیات اور حکمت کی باتوں کو جو تمہارے گھروں میں سنائی جاتی ہیں بے شک اللہ لطیف اور باخبر ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور تمہارے گھروں میں جو خدا کی آیتیں پڑھی جاتی ہیں اور حکمت (کی باتیں سنائی جاتی ہیں) ان کو یاد رکھو۔ بےشک خدا باریک بیں اور باخبر ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور تمہارے گھروں میں اللہ کی جو آیتیں اور رسول کی احادیﺚ پڑھی جاتی ہیں ان کا ذکر کرتی رہو، یقیناً اللہ تعالیٰ لطف کرنے واﻻ خبردار ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور تمہارے گھروں میں اللہ کی جو آیتیں اور حکمت کی جو باتیں سنائی جاتی ہیں ان کو یاد رکھو۔ یقین جانو اللہ بہت باریک بین اور ہر بات سے باخبر ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور یاد کرو جو تمہارے گھروں میں پڑھی جاتی ہیں اللہ کی آیتیں اور حکمت بیشک اللہ ہر باریکی جانتا خبردار ہے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور تم اللہ کی آیتوں کو اور (رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی) سنت و حکمت کو جن کی تمہارے گھروں میں تلاوت کی جاتی ہے یاد رکھا کرو، بیشک اللہ (اپنے اولیاء کے لئے) صاحبِ لُطف (اور ساری مخلوق کے لئے) خبردار ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور تمہارے گھروں میں اللہ کی جن آیات اور دانائی کی باتوں کی تلاوت کی جاتی ہے انھیں یاد کرو۔ بیشک اللہ ہمیشہ سے نہایت باریک بین، پوری خبر رکھنے والا ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور جو تمہارے گھروں میں اللہ کی آیات اور حکمت کی باتیں پڑھ کر سنائی جاتی ہیں انہیں یاد رکھو۔ بلاشبہ اللہ بڑا باریک بین اور باخبر ہے۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور تمہارے گھروں میں اللہ کی آیات اور حکمت کی جو تعلیم ہوتی ہے اس کا چرچا کرو۔ بیشک اللہ نہایت ہی باریک بین اور خبر رکھنے والا ہے۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور یاد رکھو اللہ کی ان آیتوں اور حکمت کی ان باتوں کو جو (صبح و شام) پڑھی جاتی ہیں تمہارے گھروں میں بلاشبہ اللہ بڑا ہی باریک بیں نہایت ہی باخبر ہے

— مولانا اسحاق مدنی

اور تم اللہ کی ان آیتوں اور اس علم کو یاد رکھو جو تمہارے گھروں میں پڑھ کر سنائے جاتے رہتے ہیں۔ بیشک اللہ بڑا باریک بین ہے پورا خبردار ہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور یاد کیا کرو جو تمہارے گھروں میں اللہ کی آیات تلاوت کی جاتی ہیں اور حکمت کی باتیں (سنائی جاتی ہیں) } یقینا اللہ بہت باریک بین ہرچیز سے باخبر ہے۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور تمہارے گھروں میں جو اللہ کی آیات پڑھی جاتی ہیں اور حکمت کی باتیں سنائی جاتی ہیں، ان کو یاد رکھو۔ بیشک اللہ باریک بین اور باخبر ہے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Remember the Signs of Allah and the words of wisdom which are rehearsed in your homes. Verily Allah is All-Subtle, All-Aware.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

And be mindful of Allah‘s verses and the wisdom that is recited in your homes. Surely, Allah is All-Kind, All-Aware.

— Muhammad Taqi Usmani

And be mindful of Allah‘s verses and the wisdom that is recited in your homes. Surely, Allah is All-Kind, All-Aware.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And remember, that which is recited in your houses of the Ayat of Allah and Al-Hikmah. Verily, Allah is Ever Most Courteous, Well-Acquainted with all things.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And bear in mind that which is recited in your houses of the revelations of Allah and wisdom. Lo! Allah is Subtile, Aware.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And remember what is recited in your houses of the verses of Allah and wisdom. Indeed, Allah is ever Subtle and Acquainted [with all things].

— Saheeh International

Wives of the Prophet, remember the revelations of God and Words of wisdom that are recited in your homes. God is Most Kind and All-aware.

— Muhammad Sarwar

And keep to mind what is recited in your houses of the communications of Allah and the wisdom; surely Allah is Knower of subtleties, Aware.

— Muhammad Habib Shakir

And bear in mind that which is rehearsed in your homes of the revelations of Allah and the wisdom. Verily Allah is ever Subtile, Aware.

— Abdul Majid Daryabadi

And recite what is rehearsed to you in your homes, of the Signs of Allah and His Wisdom: for Allah understands the finest mysteries and is well-acquainted (with them).

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 33:34

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 32–34

ارشادات الٰہی کی روشنی میں اسوہ امہات المومنین اللہ تعالیٰ اپنے نبی ﷺ کی بیویوں کو آداب سکھاتا ہے اور چونکہ تمام عورتیں انہی کے ماتحت ہیں۔ اس لئے یہ احکام سب مسلمان عورتوں کے لئے ہیں پس فرمایا کہ تم میں سے جو پرہیزگاری کریں وہ بہت بڑی فضیلت اور مرتبے والی ہیں۔ مردوں سے جب تمہیں کوئی بات کرنی پڑے تو آواز بنا کر بات نہ کرو کہ جن کے دلوں میں روگ ہے انہیں طمع پیدا ہو۔ بلکہ بات اچھی اور مطابق دستور کرو۔ پس عورتوں کو غیر مردوں سے نزاکت کے ساتھ خوش آوازی سے باتیں کرنی منع ہیں۔ گھل مل کر وہ صرف اپنے خاوندوں سے ہی کلام کرسکتی ہیں۔ پھر فرمایا بغیر کسی ضروری کام کے گھر سے باہر نہ نکلو۔ مسجد میں نماز کے…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْاَحْزَاب 51 اصل میں لفظ واذْکُرْنَ استعمال ہوا ہے، جس کے دو معنی ہیں " یاد رکھو " اور " بیان کرو "۔ پہلے معنی کے لحاظ سے مطلب یہ ہے کہ اے نبی کی بیویو، تم کبھی اس بات کو فراموش نہ کرنا کہ تمہارا گھر وہ ہے جہاں سے دنیا بھر کو آیات الٰہی اور حکمت و دانائی کی تعلیم دی جاتی ہے، اس لیے تمہاری ذمہ داری بڑی سخت ہے۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ اسی گھر میں لوگ جاہلیت کے نمونے دیکھنے لگیں۔ دوسرے معنی کے لحاظ سے مطلب یہ ہے کہ نبی کی بیویو، جو کچھ تم سنو اور دیکھو اسے لوگوں کے سامنے بیان کرتی رہو، کیونکہ رسول کے ساتھ ہر وقت کی معاشرت سے بہت سی ہدایات تمہارے علم میں ایسی آئیں گی جو تمہارے سوا کسی اور ذریعہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

آیت میں اہل بیت سے کیا مراد ہے ؟ اوپر کی آیات میں نساء النبی ﷺ کو خطاب تھا، اس لئے بصیغہ تانیث خطاب کیا گیا۔ یہاں اہل البیت میں ازواج مطہرات کے ساتھ ان کی اولاد وآباء بھی داخل ہیں، اس لئے بصیغہ مذکر فرمایا عنکم، ویطہرکم اور بعض آئمہ تفسیر نے اہل بیت سے مراد صرف ازواج مطہرات کو قرار دیا ہے۔ حضرت عکرمہ و مقاتل نے یہی فرمایا ہے اور سعید بن جبیر نے حضرت ابن عباس سے بھی یہی روایت نقل کی ہے کہ انہوں نے آیت میں اہل بیت سے مراد ازواج مطہرات کو قرار دیا۔ اور استدلال میں اگلی آیت پیش فرمائی، (آیت) واذاکرن مایتلی فی بیوتکن (رواہ ابن ابی حاتم وابن جریر) اور سابقہ آیات میں نساء النبی کے الفاظ سے خطاب بھی…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

واذکرن مایتلی فی بیوتکن من ایت اللہ والحکمۃ ان اللہ کان لطیفا خبیرا (34) یہ نبی ﷺ کی ازواج کو ان کا اصل مقصد زندگی بتایا گیا ہے کہ ان کو اللہ تعالیٰ نے ان کاموں کے لئے نہیں منتخب فرمایا ہے جن کی دعوت منافقات دے رہی ہیں بلکہ قرآن اور حکمت کی جو تعلیم ان کے گھروں میں دی جا رہی ہے وہ اس کا چرچا کریں۔ یہاں یہ بات یادر رکھنی چاہیے کہ نبی ﷺ کی بعثت جس طرح مردوں کی رہنمائی کے لئے ہوئی تھی اسی طرح عورتوں کے لئے بھی ہوئی تھی۔ آپ جس طرح باہر لوگوں کو تعلیم دیتے رہتے تھے اسی طرح اپنے گھروں کے اندر بھی تعلیم دیتے رہتے تھے۔ وحی جس طرح باہر آپ پر نازل ہوتی تھی اسی طرح گھر کے اندر بھی نازل ہوتی تھی۔ نیز جس…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

34-1یعنی ان پر عمل کرو حکمت سے مراد احادیث ہیں۔ اس سے استدلال کرتے ہوئے۔ بعض علماء نے کہا ہے کہ حدیث بھی قرآن کی طرح ثواب کی نیت سے پڑھی جاسکتی ہے۔ علاوہ ازیں یہ آیت بھی ازواج مطہرات کے اہل بیت ہونے پر دلالت کرتی ہے، اس لئے کہ وحی کا نزول، جس کا ذکر اس آیت میں ہے، ازواج مطہرات کے گھروں میں ہی ہوتا تھا، بالخصوص حضرت عائشہ ؓ کے گھر میں۔ جیسا کہ احادیث میں ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 33–34

26: اس آیت نے یہ واضح فرمادیا ہے کہ عورت کا اصل مقام اس کا گھر ہے، اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ اس کے لئے گھر سے نکلنا جائز نہیں، کیونکہ آنحضرت ﷺ کی احادیث نے واضح فرمادیا ہے کہ حاجت کے وقت عورت پردے کے ساتھ باہر جاسکتی ہے، لیکن اس فقرے نے یہ عظیم اصول بیان فرمایا ہے کہ عورت کا اصل فریضہ گھر اور خاندان کی تعمیر ہے اور ایسی سرگرمیاں جو اس مقصد میں خلل انداز ہوں، اس کے اصل مقصد زندگی کے خلاف ہیں، اور ان سے معاشرے کا توازن بگڑجاتا ہے۔ 27: پہلی جاہلیت سے مراد آنحضرت ﷺ کی بعثت سے پہلے کا زمانہ ہے جس میں عورتیں بےحیائی کے ساتھ بناؤ سنگھار غیر مردوں کو دکھاتی پھرتی تھیں، اور پہلی جاہلیت کے لفظ سے اس طرف…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 32–34

ینساء النبی لستن ۔۔۔۔۔ ان اللہ کان لطیفا خبیرا (32 – 34) ۔ جب اسلام آیا تو اس وقت عربی معاشرے میں ، تمام دوسرے جاہلی معاشروں کی طرح حالت یہ تھی کہ عورت کو سامان تعیش سمجھا جاتا تھا اور فقط شہوات وانی کا ذریعہ سمجھا جاتا تھا ۔ یہی وجہ ہے کہ انسانی نقطہ نظر سے اسے ایک گری ہوئی مخلوق سمجھا جاتا تھا۔ نیز عربی معاشرے میں جنسی اعتبار سے بھی بڑی بےقاعدگی اور افراتفری پائی جاتی تھی اور نظام خاندانی میں ثبات نہ تھا جس طرح اس سورة میں ہم نے تفصیلات دی ہیں۔ پھر جاہلیت کے زمانے میں عورت کی صنف کی طرف نہایت گری ہوئی نظروں سے دیکھا جاتا تھا اور ذوق جمال بھی نہایت گرا ہوا تھا۔ ننگے اجسام کی طرف زیادہ توجہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

7 یعنی قرآن و سنت میں جو اللہ کے احکام اور دانائی کی باتیں ہیں، انھیں سیکھو، یاد کرو، دوسروں کو سکھاؤ اور اللہ کے احسان عظیم کا شکر ادا کرو کہ تم کو ایسے گھر میں رکھا جو حکمت کا خزانہ اور ہدایت کا سرچشمہ ہے۔ 8 اس کی آیتوں میں بڑے باریک بھید اور پتے کی باتیں ہیں اور وہ ہی جانتا ہے کہ کون اس امانت کے اٹھانے کا اہل ہے اس نے اپنے لطف و مہربانی سے محمد ﷺ کو وحی کے لیے اور تم کو ان کی زوجیت کے لیے چن لیا۔ کیونکہ وہ ہر ایک کے احوال و استعداد کی خبر رکھتا ہے کوئی کام یوں ہی بےجواز نہیں کرسکتا۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 34 { وَاذْکُرْنَ مَا یُتْلٰی فِیْ بُیُوْتِکُنَّ مِنْ اٰیٰتِ اللّٰہِ وَالْحِکْمَۃِ } ”اور یاد کیا کرو جو تمہارے گھروں میں اللہ کی آیات تلاوت کی جاتی ہیں اور حکمت کی باتیں سنائی جاتی ہیں۔“ آپ لوگوں کے گھروں میں اللہ کے رسول ﷺ پر وحی نازل ہوتی ہے اور یہاں سے دنیا بھر کو آیات الٰہی اور حکمت و دانائی کی تعلیم دی جاتی ہے ‘ اس لیے آپ لوگ سب سے بڑھ کر آیات ِالٰہی کو سننے اور ان پر عمل کرنے کی مکلف ہو۔ اس لحاظ سے بھی ازواج مطہرات رض کے درمیان حضرت عائشہ رض کو امتیازی شرف حاصل ہے۔ حضور ﷺ نے ایک بار حضرت اُمّ سلمہ رض سے حضرت عائشہ رض کے بارے میں فرمایا تھا : فَاِنَّـہٗ وَاللّٰہِ مَا نَزَلَ عَلَیَّ…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

52 حکمت کیا چیز ہے :۔ حکمت کا معنی صرف دانائی یا دانائی کی باتیں ہیں۔ پھر اس کی دو قسمیں ہیں ایک حکمت علمی یعنی آیات قرآنی سے استنباطات اور اجتہادات دوسرے حکمت عملی۔ یعنی احکام الٰہی کو عملی طور پر نافذ کرنے کا طریقہ کار۔ قرآن میں بیشمار مقامات پر کتاب و حکمت کا لفظ اکٹھا آیا ہے۔ اور امام شافعی نے بیشمار دلائل سے یہ ثابت کیا ہے کہ حکمت سے مراد سنت نبوی ہے۔ یعنی خواہ آپ زبانی کسی آیت کی تشریح و تفسیر امت کو سمجھا دیں یا کسی حکم پر عمل کرکے امت کو دکھا دیں۔ یہ سب کچھ حکمت کے مفہوم میں شامل ہے۔ لیکن اس کا یہ مطلب بھی نہیں کہ ساری حکمت صرف سنت نبوی میں ہی محصور ہے بلکہ قرآن میں بھی موجود ہے اسی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

66۔ (اور خود بھی اس پر عمل کرو، اور دوسروں تک بھی اسے پہنچاؤ) امر اللہ ازواج رسولہ بان یخبرن بما انزل اللہ من القران فی بیوتھن وما یرین من افعال النبی ﷺ واقوالہ فیھن حتی یبلغ ذلک الی الناس فیعملوا بما فیہ ویقتدوا بہ (ابن العربی) اور یہیں سے بعض نکتہ رس فقہاء نے مسائل دین میں خبر واحد کے قبول کا جواز نکالا ہے۔ وھذا یدل علی جواز قبول خبر الواحد من الرجال والنساء فی الدین (ابن العربی) (آیت) ” فی بیوتکن “۔ رسول اللہ ﷺ کا کوئی الگ مستقل مکان حجرات ازواج کے علاوہ تو تھا نہیں۔ یہاں (آیت) ” بیوتکن “۔ لاکر بیوی صاحبان کو اس شرف وفضیلت کی یاد دلائی گئی ہے کہ نزول وحی و حکمت خاص تمہارے ہی گھروں میں تو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 28–34

آیت نمبر 28 تا 34 ترجمہ : اے نبی آپ اپنی ازواج سے کہہ دیجئے اگر تم دنیوی زندگی (کا عیش) اور اس کی زینت چاہتی ہو تو آؤ میں تم کو کچھ یعنی متعۂ طلاق دیدوں اور اگر تمام اللہ اور اس کے رسول اور دار آخرت کو چاہتی ہو یعنی جنت کو تو یقین جانو کہ تم میں نیک کام کرنے والیوں کے لئے اللہ تعالیٰ نے ارادۂ آخرت پر زبردست اجر یعنی جنت تیار کررکھی ہے، چناچہ ان سب نے آخرت کو دنیا پر ترجیح دی، اے نبی کی بیبیو ! جو بھی تم میں سے کھلی ہوئی بیہودگی کا ارتکاب کرے گی مُبَیِّنَۃً میں ی کے فتحہ اور اس کے کسرہ کے ساتھ یعنی ظاہر کی ہوئی یا کھلی ہوئی تو اس کو دوہرا عذاب دیا جائے گا اور ایک قراءت میں یُضَعَّف تشدید کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

واذکرن ما یتلی فی بیوتکن من ایت اللہ والحکمۃ . اور تم ان آیات خداوندی کو اور اس علم (احکام) کو جس کا چرچا تمہارے گھروں میں ہوتا ہے ‘ یاد رکھو۔ آیات اللہ سے مراد قرآن اور حکمت سے مراد وحی غیر منطوق یعنی حدیث ہے۔ مقاتل کے نزدیک آیات اللہ سے مراد ہیں : قرآن کے احکام و مواعظ۔ بیضاوی نے نزدیک (ماتیلٰیسے مراد قرآن ہے) مطلب یہ ہے کہ قرآن کو یاد رکھو جس کے اندر دونوں امر ہیں ‘ نمبر 1: اللہ کے انعام کی یادداشت کہ اللہ نے تم کو نبی کا اہل بیت بنایا ‘ تمہارے گھروں کو نزول گاہ وحی قرار دیا ‘ نمبر 2: اور وحی آنے کے وقت جو تکلیف ہوتی ہے وہ تمہاری نظر کے سامنے ہوتی ہے جس سے تمہارے ایمان میں پختگی اور جذبۂ…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

اور تم آیات قرآنیہ اور اوامرو نواہی حلال و حرام کے احکام کو یاد رکھو جس کا تمہارے گھروں میں چرچا ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ تمہارے دلوں کی باتوں کو جاننے والا اور تمہارے اعمال سے پورا باخبر ہے یا یہ کہ نبی اکرم نے جس وقت تمہیں طلاق دینے کا ارادہ فرمایا اللہ تعالیٰ اس سے اور تمہاری نیکیوں سے واقف ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَاذْكُرْنَ مَا يُتْلٰى فِيْ بُيُوْتِكُنَّ۔۔ : پچھلی آیات میں امہات المومنین کو عمل کا حکم دیا تھا، جس میں کچھ چیزوں سے اجتناب اور کچھ چیزوں کے ادا کرنے کا حکم تھا، اب انھیں علم حاصل کرنے اور اسے آگے پہنچانے کا حکم دیا۔ ”اذْكُرْنَ“ ”ذِکْرٌ“ سے مشتق ہے، جس کا معنی دل میں یاد کرنا اور یاد رکھنا بھی ہے اور کسی کلام کو زبان پر لانا بھی۔ یعنی تمہارے گھروں میں اللہ کی آیات اور حکمت کی جو تلاوت کی جاتی ہے، اسے یاد کرو اور یاد رکھو، کبھی اس سے غفلت نہ کرو اور اسے دوسرے لوگوں کے سامنے بھی ذکر کرو اور ان تک پہنچاؤ۔ کیونکہ رسول اللہ ﷺ کی ذمہ داری یہ تھی کہ اللہ کے احکام امت تک پہنچا دیں۔ آپ ﷺ کے ایک مرد…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

اس میں تین مسائل ہیں : مسئلہ نمبر 1۔ آیت واذکرن ما یتلی فی بیوتکن من ایت اللہ والحکمۃ یہ الفاظ یہ معنی دیتے ہیں کہ اہل بیت سے مراد حضور ﷺ کی ازواج ہیں۔ اہل علم نے اس میں اختلاف کیا ہے کہ اہل بیت کون ہیں ؟ (1) ۔ عطا، عکرمہ اور حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : مراد صرف آپ کی ازواج ہیں ان کے ساتھ کوئی مرد اہل بیت میں شامل نہیں۔ وہ اس طرف گئے ہیں کہ بیت سے مراد حضور ﷺ کے مسکن ہیں، کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : آیت واذکرن مایتلی فی بیوتکن، ایک فرقہ نے کہا : جن میں کلبی ہیں : مراد حضرت علی، حضرت فاطمہ، حضرت حسن اور حضرت حسین ؓ ہیں (1) ۔ اس بارے میں نبی کریم ﷺ سے کئی احادیث مروی ہیں۔ انہوں نے اس آیت…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

1۔ عبدالرزاق وابن سعد وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ آیت واذکرن مایتلی فی بیوتکن من اٰیت اللہ والحکمۃ اور تم ان آیات خداوندی اور حکمت کو یاد کرو جو تمہارے گھروں میں پڑھی جاتی ہیں اس سے قرآن اور سنت مراد ہے اس آیت کے ذریعے ازواج مطہرات پر عتاب فرمایا 2۔ ابن سعد نے ابو امامہ بن سہیل ؓ سے آیت واذکرن مایتلی فی بیوتکن من اٰت اللہ والحکمۃ کے بارے میں روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ اپنی ازواج مطہرات کے گھروں میں رات اور دن نماز ادا فرماتے تھے۔

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

وَاذْكُرْنَ مَا [اور یاد رکھو اس کو جو ] يُتْلٰى [تلاوت کیا جاتا ہے ] فِيْ بُيُوْتِكُنَّ [تمہارے گھروں میں ] مِنْ اٰيٰتِ اللّٰهِ [اللہ کی آیات میں سے ] وَالْحِكْمَةِ ۭ[اور حکمت میں سے ] اِنَّ اللّٰهَ كَانَ [بیشک اللہ ہے ] لَطِيْفًا [باریک بین ] خَبِيْرًا [باخبر ] ۔ نوٹ۔ 2: آیت۔ 34 ۔ میں ایت اللہ سے مراد قرآن اور الحکمۃ سے مراد رسول اللہ ﷺ کی تعلیمات اور سنت رسول ﷺ ہے۔ ابن عربی نے احکام القرآن میں فرمایا کہ اس آیت سے یہ ثابت ہوا کہ جو شخص ﷺ سے کوئی آیت قرآن یا حدیث سنے اس پر لازم ہے کہ وہ امت کو پہنچائے۔ یہاں تک کہ ازواج مطہرات پر بھی لازم کیا گیا کہ اللہ کی امنات امت کو پہنچائیں۔ (معارف…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

آخر میں فرمایا : (وَاذْکُرْنَ مَا یُتْلٰی فِیْ بُیُوْتِکُنَّ مِنْ اٰیٰتِ اللّٰہِ وَالْحِکْمَۃِ ) آیات اللہ سے قرآن حکیم اور حکمت سے رسول اللہ ﷺ کی تعلیمات اور سنتیں مراد ہیں، جیسا کہ مفسرین نے تفسیر کی ہے، اور واذکرن کے دو مفہوم ہوسکتے ہیں، ایک یہ کہ ان چیزوں کو خود یاد رکھنا جن پر عمل کرنا ہے، دوسرے یہ کہ جو کچھ قرآن ان کے گھروں میں ان کے سامنے نازل ہو یا جو تعلیمات رسول اللہ ﷺ نے ان کو دیں اس کا ذکر امت کے دوسرے لوگوں سے کریں اور ان کو پہنچائیں۔ جس طرح قرآن حکیم کی تعلیم اور تدریس لازم ہے اسی طرح رسول اللہ ﷺ کے اقوال کی تحدیث اور تبلیغ بھی ضروری ہے کیونکہ قرآن مجید کے مجمل احکام کی رسول…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 31–34

فضائل وخصائص ازواج مطہرات قال اللہ تعالیٰ ومن یقنت منکن للہ ورسولہ۔۔۔ الی۔۔۔ ان اللہ کان لطیفا خبیرا۔ (ربط) گذشتہ آیات میں اگرچہ ازواج مطہرات کی تنبیہ اور تادیب کا ذکر تھا لیکن وہ تنبیہ وتادیب بھی ان کے شرف اور امتیاز کو متضمن تھی اس لئے کہ فاحشہ کے ارتکاب پر دوہرے عذاب کی دھمکی بھی ان کے بلند مرتبہ ہونے کی وجہ سے تھی اور اسی شرف کی وجہ سے خطاب صراحۃ خود ازواج مطہرات کو تھا۔ اب آئندہ آیات میں بھی صراحۃً ازواج مطہرات کو خطاب کر کے ان کے مزید شرف اور امتیاز کو بیان کرتے ہیں تاکہ پہلے سے زیادہ انقیاد اور پرہیزگاری اور اللہ اور اس کے رسول کی فرمانبرداری اور زہد اور قناعت پر اور دنیا سے بیزاری…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 33–34

36:۔ وقرن الخ، اپنے گھروں میں رہو اور جاہلیت کی بناوٹ اور تصنع سے پرہیز کرو، نماز قائم کرو، زکوۃ دیا کرو، اور ہر معاملے میں اللہ و رسول کی اطاعت کیا کرو۔ انما یرید اللہ الخ، الرجس عام ہے اور اس سے ہر قسم کی اخلاقی نجاست اور گناہوں کی گندگی مراد ہو۔ الرجس یقع علی الاثم وعلی العذاب وعلی النجاسۃ وعلی النقائص والمراد بہ ھھنا ما یعم کل ذلک (روح ج 22 ص 12) ۔ اے ازواجِ نبی ! اللہ نے یہ احکام تمہیں اس لیے دیے ہیں تاکہ ان کے ذریعے تم ہر قسم کی اخلاق کمزوریوں سے محفوظ رہو اور اللہ ور سول کی نافرمانی کے جرم اور گناہ سے پاک صاف رہو۔ واذکرن الخ، قرآن کی آیتوں اور رسول اللہ ﷺ کے ارشادات کو اپنے گھروں میں…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 32–34

ربط آیات جب ازواج مطہرات نے اپنے اخراجات میں اضافہ کا مطالبہ کیا تو حضور ﷺ نے ناراض ہو کر ایک ماہ کے لئے علیحدگی اختیار کرلی۔ پھر اللہ نے یہ آیات نازل فرما کر نبی کی بیویوں کو تنبیہ کی۔ گزشتہ درس میں یہ گزر چکا ہے کہ اللہ نے نبی (علیہ السلام) کو حکم دیا کہ اپنی عورتوں سے کہہ دیں کہ اگر وہ دنیا کی زیب وزینت چاہتی ہیں تو آئو میں تمہیں طلاق دے کر اچھے طریقے سے رخصت کر دوں اور اگر تم اللہ اور اس کے رسول کی رضا اور آخرت کے گھر کی متلاشی ہو تو یاد رکھو ! اللہ تعالیٰ نے نیکی کرنے والوں کے لئے بہت بڑا اجر تیار کر رکھا ہے دنیا کی خواہش خدا اور اس کے رسول کے قرب کے منافی ہے۔ پھر فرمایا کہ اگر تم میں سے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَاذْكُرْنَ مَا يُتْلٰى فِيْ بُيُوْتِكُنَّ مِنْ اٰيٰتِ اللہِ وَالْحِكْمَۃِ۝ 0 ۭ اِنَّ اللہَ كَانَ لَطِيْفًا خَبِيْرًا۝ 34ۧ ذكر الذِّكْرُ : تارة يقال ويراد به هيئة للنّفس بها يمكن للإنسان أن يحفظ ما يقتنيه من المعرفة، وهو کالحفظ إلّا أنّ الحفظ يقال اعتبارا بإحرازه، والذِّكْرُ يقال اعتبارا باستحضاره، وتارة يقال لحضور الشیء القلب أو القول، ولذلک قيل : الذّكر ذکران : ذكر بالقلب . وذکر باللّسان . وكلّ واحد منهما ضربان : ذكر عن نسیان . وذکر لا عن نسیان بل عن إدامة الحفظ . وكلّ قول يقال له ذكر، فمن الذّكر باللّسان قوله تعالی: لَقَدْ أَنْزَلْنا إِلَيْكُمْ كِتاباً فِيهِ ذِكْرُكُمْ [ الأنبیاء/ 10] ، (…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 31–34

ترکیب : ومن شرطیۃ یقنت بالیاء رعایۃ للفظ من وبالتاء رعایۃ لمعنا ھا۔ تعمل معطوف علی یقنت نوتہا، جوابھا، واعتدنا، معطوف علی نوء تھا کا حد اصل احد وحد بمعنی الواحد ثم وضع فی النفیء العام مستوھا فیہ المذکر والمونث والواحد والکثیر والمغنی لستن کجماعۃ واحدۃ من جماعات النساء فی الفضل، اھل البیت منصوبا علی النداء والمدح من آیات بیان لمایتقی والحکمۃ معطوف علیٰ آیات اللہ۔ تفسیر : اس آیت کے متعلق یہ بات باقی رہ گئی، وہ یہ کہ علماء کی اس بارے میں بحث ہے کہ یہ اختیار کیا، تفویض طلاق تھی کہ نفس اختیار سے طلاق واقع ہوجاتی یا نہیں ؟ حسن اور قتادہ اور اکثر اہل علم اس بات کے قائل ہیں کہ یہ بات نہ تھی، بلکہ اس…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

وَاذْکُرْنَ مَایُتْلٰی فِیْ بُیُوْتِکُنَّ مِنْ اٰیٰتِ اللّٰہِ وَالْحِکْمَۃِ ط اِنَّ اللّٰہَ کَانَ لَطِیْفًا خَبِیْرًا۔ (الاحزاب : 34) (یاد رکھو اللہ کی آیات اور حکمت کی ان باتوں کو جو تمہارے گھروں میں سنائی جاتی ہیں، بیشک اللہ نہایت ہی باریک بین اور خبر رکھنے والا ہے۔ ) وَاذْکُرْنَ … یہ جمع مونث حاضر امر کا صیغہ ہے، جس کے دو معنی ہوسکتے ہیں 1 یاد کرو یا یاد رکھو۔ 2 بیان کرو۔ ازواجِ مطہرات کا مقصدزندگی ناچیز کی رائے میں دونوں ہی معنی مراد ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ کو مردوں اور عورتوں دونوں کے لیے رسول، معلم، مربی اور مزکی بنا کے بھیجا تھا۔ آپ ﷺ جس طرح مردوں کی رہنمائی کرتے تھے اسی طرح…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

فہم القرآن ربط کلام : نبی اکرم ﷺ کے گھر کا ماحول۔ آیت 28 سے لے کر مختلف انداز میں نبی اکرم ﷺ کے گھر والوں کو خطاب کیا ہے اس موقعہ پر آخری حکم ہوا کہ پاک صاف ماحول میں رہتے ہوئے ” اللہ “ کی آیات اور حکمت کی باتیں جو تمہارے گھروں میں وحی کی صورت میں پڑھی جاتی ہیں ان کو یاد رکھو اور ان کی تلاوت کیا کرو۔ ہمیشہ عقیدہ اپناؤ کہ اللہ تعالیٰ نہایت مہربان اور ہر بات کی خبر رکھنے والا ہے۔ اس فرمان میں یہ بات کھل گئی ہے کہ اہل بیت میں نبی اکرم ﷺ کی ازواج بدرجہ اولیٰ شامل ہیں کیونکہ وحی حضرت علی ؓ کے گھر میں نازل نہیں ہوتی تھی جب آپ ﷺ گھر میں ہوتے تو وحی امّہات المؤمنین کے حجروں میں ہی نازل ہوا کرتی…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

34: وَاذْکُرْنَ مَایُتْلٰی فِیْ بُیُوْتِکُنَّ مِنْ ٰایٰتِ اللّٰہِ وَالْحِکْمَۃِ (اور تم یاد رکھو ان آیات الٰہیہ اور علم کی باتوں کو جن کا تمہارے گھروں میں چرچا رہتا ہے) آیات سے مراد قرآن اور حکمت سے سنت مراد ہے۔ یا حکمت سے معانی قرآن کی وضاحت۔ اِنَّ اللّٰہَ کَانَ لَطِیْفًا (بیشک اللہ تعالیٰ راز داں ہے) وہ اشیاء کی گہرائیوں کو جاننے والا ہے۔ خَبِیْرًا (خبردار ہے) اشیاء کے حقائق سے واقف ہے مطلب یہ ہے وہ تمہارے افعال و اقوال اور احوال کو جاننے والا ہے۔ امرونہی کی مخالفت سے بچتی رہو اور اس کے رسول کی نافرمانی نہ کرو۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

تفسیر 34۔ ، واذکرن مایتلی فی بیوتکن من ایات اللہ ، اس سے مراد قرآن ہے۔ ، والحکمۃ ، قتادہ نے اس کا معنی سنت سے کیا ہے۔ مقاتل کے نزدیک آیات اللہ سے مراد ہے قرآن کے احکام ومواعظ۔ ، ان اللہ کان لطیفا خبیرا، وہ لطیف ہے ان کے اولیاء پر اور تمام مخلوقات پر خیبر ہے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 33–34

33‘ 34۔ اوپر سے ازواج مطہرات ؓ کا ذکر چلا آتا ہے اس واسطے بعضے علماء نے تو یہ کہا ہے کہ یہ آیت خاص کر ازواج کی ہی شان میں نازل ہوئی اور اکثر 2 ؎ حدیثوں میں یہ جو آیات ہے (2 ؎ تفسیر فتح البیان ص 616 ج 3 (طبع بھوپال) میں یہ روایات مذکور ہیں۔ ) کہ آنحضرت ﷺ نے حضرت علی ؓ حضرت فاطمہ ؓ اور حضرت امام حسن ؓ امام حسین ؓ کو ایک کپڑے کی آڑ اور اوجھل میں کیا اور یہ دعا مانگی کہ یا اللہ یہ میرے اہل بیت ہیں ان کو پاک فرمادے ان حدیثوں کے سبب سے بعضے علماء نے یہ کہا ہے کہ یہ آیت خاص کر حضرت علی ؓ حضرت فاطمہ ؓ اور حضرت حسین ؓ کی ہی شان میں ہے ازواج مطہراب اس آیت کے حکم میں داخل نہیں ہیں لیکن جب کہ قرآن شریف…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 32–34

آیت 32 (ینسآء النبی) ” اے نبی کی بیویو ! “ یہ تمام ازواج مطہرات سے خطاب ہے۔ (لستن کا حدمن النسآء ان اتقین) ” تم عام عورتوں کی مانند نہیں ہو، اگر تم اللہ تعالیٰ سے ڈرو “ کیونکہ اس طرح تمہیں تمام عورتوں پر فوقیت حاصل ہوگی اور کوئی عورت تمہارے درجے کو نہیں پہنچ سکے گی۔ پس ازواج رسول نے تقویٰ کی اس کے تمام وسائل اور مقاصد کے ساتھ تکمیل کی، اسی لئے اللہ تعالیٰ نے تمام حرام وسائل کو منقطع کرنے میں ان کی راہنمائی فرمائی اور فرمایا : (فلا تخضعن بالقول) ” پس تم نزاکت کے ساتھ بات نہ کرو۔ “ یعنی مردوں کے ساتھ مخاطب ہوتے ہوئے یا اس وقت کہ لوگ تمہاری گفتگو سن رہے ہوں اور تم دھیمے لہجے اور رغبت دلانے والی…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 33–35

عورتوں کا وقار گھر کا قرار ہے قول باری ہے (وقرن فی بیوتکن اور اپنے گھروں میں قرار سے رہو) ہشام نے محمد بن سیرین سے روایت کی ہے کہ ام المومنین حضرت سودہ ؓ بنت زمعہ سے کہا گیا کہ آپ بھی اپنی بہنوں کی طرح باہر نکلا کریں۔ انہوں نے جواب میں فرمایا : ” بخدا ! میں نے حج اور عمرہ کیا پھر مجھے اللہ تعالیٰ نے اپنے گھر میں قرار پکڑنے کا حکم دے دیا، خدا کی قسم، اب میں اپنے گھر سے باہر قدم نہیں رکھوں گی۔ “ چناچہ انہوں نے گھر سے کبھی قدم باہر نہیں نکالا حتیٰ کہ اس گھر سے ان کا جنازہ ہی نکلا۔ ایک قول کے مطابق (وقرن فی بیو تکن) کا مفہوم یہ ہے کہ وقار وتمکنت اور سکون واطمینان سے اپنے گھروں میں رہو۔ جب ایک شخص…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

65 اَزواج پیغمبر کو ان کے اصل مقصد اور منصب کی تذکیر و یاددہانی : سو اس سے ازواج مطہرات کو ان کے اصل مقصد و منصب کی تذکیر و یاددہانی کے سلسلے میں اللہ تعالیٰ کی آیتیں پڑھنے اور حکمت کی باتیں یاد رکھنے کی تعلیم و تلقین فرمائی گئی۔ تاکہ ان کے مطابق خود عمل کرنے کے علاوہ ان کو تم دوسروں تک بھی پہنچا سکو کہ مہبط وحی کے پاس رہتے ہوئے تمہاری ذمہ داریاں بھی بہت بڑی اور اہم ہیں۔ سو اس سے رسول اللہ ۔ ﷺ ۔ کی کثرت ازواج کے مقصد پر بھی روشنی پڑتی ہے کہ اس میں دوسرے مختلف اجتماعی اور اہم مقاصد کے علاوہ ایک بڑا مقصد علوم نبوت کی تعلیم و تبلیغ بھی تھا۔ جیسا کہ ہوا بھی۔ ورنہ جس ذات اقدس ﷺ نے جوانی کی پچیس…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 31–34

عورتوں کے لیے احکام الٰہی تشریح : ان آیات میں بھی خالصتاً رشد و ہدایت کے احکامات بیان ہوئے ہیں۔ غیر مردوں سے بات کرتے ہوئے اپنی آواز کو قدرے سخت اور بارعب رکھو۔ نرم اور پرکشش آواز سے بات مت کرو، کیونکہ جیسے عورت کے حسن و جمال سے غیر مرد متاثر ہوتے ہیں اسی طرح نسوانی آواز میں بھی مردوں کیلئے کشش ہوتی ہے جو کہ بےحیائی کی طرف لے جاتی ہے۔ اس لیے باقی جسمانی حسن و جمال کے ساتھ آواز کے حسن کو بھی قابو میں رکھو۔ بےضرورت گھر سے باہر حسن و جمال نہ دکھاتی پھرو بلکہ بہتر ہے کہ گھر کے اندر وقار سے رہو۔ باہر نکلو تو چادر سے اپنے آپ کو اچھی طرح لپیٹ کر نکلو۔ نماز باقاعدہ پڑھو، زکوٰۃ دو اور اللہ و رسول کی…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 28–34

آیات 28 تا 34 اسرار ومعارف جب یہ فتوحات حاصل ہوئیں تو مال غنیمت بھی ملا اور صابہ کرام رضہ اللہ عنہ کے معاشی حالات بھی کافی حد تک سدھر گئے مگر کاشانہ نبوی پر وہی حال تھا کہ کبھی بھی ایک دن دونوں وقت کا کھانا پیٹ بھر کر میسر نہ ہوتا تھا اور مہینوں چولہا نہ جلا کرتا تھا ازواج مطہرات نے باہمی مشورہ کر کے عرض کیا کہ اب تو اللہ نے فراخی بخشی ہے تو ساری غنیمت سحابہ میں نہ بٹ جائے بلکہمہ میں بھی کچھ آسانی اور فراخی عطا ہو اور گھر کے لیے کچھ نہ کچھ عطا ہوا کرے کہ یہ عسرت اور تنگدستی نہ رہے مگر یہ بات اپنی ذات اور اپنے گھر کے لیے آپ کو پسند نہ آئی اس پر یہ آیات نازل ہوئیں اور ازواج مطہرات کو اختیار دیا…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 34–35

ف 1 حضرت ام سلمہ ؓ سے روایت ہے کہ میں نے عرض کیا ” اے اللہ کے رسول ﷺ ! قرآن ! میں جس طرح مردوں کا ذکر ہوتا ہے ہم عورتوں کا نہیں ہوتا۔ یکایک ایک روز میرے کان میں نبی ﷺ کی آواز آئی اور میں نے دیکھا کہ آپ ﷺ منبر پر کھڑے لوگوں کو یہ آیت سنا رہے ہیں۔ دوسری آیت میں ہے کہ نبی ﷺ سے یہ سوال حضرت ام عمارہ ؓ نے کیا اور اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ ( ابن کثیر) ۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(33:34) اذکرن۔ ذکر سے امر کا صیغہ جمع مؤنث حاضر (باب نصر) تم یاد کرو ما اسم موصول ہے اور اذکرن کا مفعول۔ یتلی مضارع مجہول واحد مذکر غائب اس کا مفعول مالم یسم فاعلہ ما ہے من ایت اللہ میں منتبعیض کا ہے من ایت اللہ سے مراد القرآن ہے والحکمۃ ای ومن الحکمۃ حکمت کی باتیں۔ ترجمہ یوں ہوگا :۔ اور تمہارے گھروں میں جو اللہ کی آیات اور حکمت کی باتیں تم کو پڑھ کر سنائی جاتی ہیں ان کو یاد رکھو (اور مت بھولو) ۔ اذکرن سے مراد اذکرن للناس بھی ہوسکتا ہے یعنی خود بھی عمل کرو اور دوسروں تک بھی اسے پہنچائو۔ لطیفا (بہت باریک بین، صفت مشبہ کا صیغہ ہے) ۔ خبیرا۔ (بہت خبر والا۔ صفت مشبہ کا صیغہ) دونوں بوجہ کان خی خبر…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 28–34

لغات القرآن : آیت نمبر 28 تا 34 کنتن : تم ہو تعالین : تم سب آجاؤ امتع : میں سامان دوں گا اسرح : چھوڑ دوں گا۔ رخصت کردیتا ہوں یضعف : وہ دو گنا کردے گا یقنت : اطاعت کرے گی، جھکے گی مرتین : دو مرتبہ۔ دوھرا۔ دوگنا اتقیتن : تم پرہیزگاری اختیار کرو لا تخضعن : نرمی نہ کرو۔ لوچ پیدا نہ کرو یطمع : وہ لالچ کرے گا قرن : ٹکی رہیں۔ جمی رہیں تبرج : ابھر کر آنا۔ جسم اور چہرہ کی نمائش کرنا الرجس : گندگی ۔ آلودگی اھل البیت : گھر والے۔ اہل خانہ یتلی : تلاوت کیا گیا خبیر : خبر رکھنے والا۔ اللہ کی صفت تشریح آیت نمبر 28 تا 34 اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ کی زندگی کو ” احسنہ “ فرمایا ہے یعنی آپ کی زندگی کا ہر عمل امت…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 33–34

(ف 1) اس آیت سے اہل بیت کی فضیلت ثابت ہوتی ہے اور اہل بیت میں نبی ﷺ کی ازواج مطہرات اور حضرت خاتون جنت فاطمہ الزہراء اور علی مرتضی اور امام حسن اور امام حسین ؓ اجمعین سب داخل ہیں آیات واحادیث کو جمع کرنے سے یہی نتیجہ نکلتا ہے اور یہی حضرت امام ابومنصور ماتریدی سے منقول ہے ان آیات میں اہل بیت کو یہ نصیحت فرمائی گئی ہے کہ وہ گناہوں سے بچیں اور تقوی وپرہیزگاری کو پاکی سے استعارہ فرمایا گیا کیونکہ گناہوں کامرتکب ان سے ایسا ہی ملوث ہوتا ہے جیسا جسم نجاستوں سے ، اس طرز کلام سے مقصود یہ ہے کہ ارباب عقول کو گناہوں سے نفرت دلائی جائے اور تقوی وپرہیزگاری کی ترغیب دی جائے ، فرمایا تمہارے گھروں میں جو…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

[32] ان آیات میں اگرچہ خطاب ازواج مطہرات سے ہے مگر مقصود تمام مسلمان عورتوں کو سنانا ہے۔ اور اس سے غرض یہ ہے کہ جب ازواج مطہرات ان احکام کی پیروی کریں گی تو تمام مسلمان عورتیں ان کی تقلید کریں گی کیونکہ پیغمبر کا گھر ان کے لئے نمونہ تھا۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 33–34

ف 1: اسلامی نقطہ نگاہ سے عورتوں اور مردوں کی تگ ودو کے لئے دو الگ الگ دائرے ہیں ۔ مردوں کے لئے گھر سے باہر کی دنیا میں دلچسپی ہے ۔ اور عورتوں کے لئے انتظام خانہ داری کے مسائل ہیں ۔ مرد اس لئے پیدا کیا گیا ہے ۔ کہ وہ دنیت صالحہ کے لئے بہترین ثقافت کی تعمیر کرے ۔ اور عورت اس لئے پیدا کی گئی ہے ۔ کہ وہ اپنی آغوت میں ایسے بچوں کی تربیت کرے جو آئندہ نسل کے لئے فخر ومباہات کا باعث ہوسکیں ۔ دونوں کے لئے بالکل جدا جدا میدان عمل موجود ہیں اور یہ وہ نظریہ ہے جس کو یورت نے بالآخر ہر ار خرابی کے بعد تسلیم کرلیا ہے ۔ اور جس پر تمام نوع انسانی کی سعادتوں کا مدار ہے ۔ قرآن حکیم فرماتا ہے ۔ اے عورتو ! تم…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

34۔ اور جو آیات الٰہی تمہارے گھروں میں پڑھتی جاتی ہیں اور جن حکمت کی باتوں کا تذکرہ اور چرچا تمہارے گھروں میں ہوتا رہتا ہے انکو یاد رکھو بلا شبہ اللہ تعالیٰ واقف اسرار ہے خبردار ! یعنی جو اللہ تعالیٰ کے احکام اور نادائی کی باتیں تمہارے ہوتی ہیں ان کو خود بھی سیکھو اور دوسروں کو بھی سیکھائو یہ اللہ تعالیٰ کا بڑا احسان ہے کہ اس نے تم کو ایسے گھرانے میں رکھا جو آسمانی علم و حکمت کا خزانہ ہے اور چونکہ اللہ تعالیٰ بڑا رازوں اور جلہ اسرار سے وقف اور با خبر ہے اس لئے اس نے تم کو اسے گھرانے میں رکھا جو آسمانی علم و حکمت کا خزانہ ہے اور چونکہ اللہ تعالیٰ بڑا رازوں اور جملہ اسرار سے واقف اور با خبر ہے…

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اللہ کی آیات اور حکمت کی باتیں جو تمہارے گھروں میں بیان کی جاتی ہیں ان کو یاد کرو 34 ۔ نبی اعظم وآخر ﷺ کی بیویوں کے دلوں کی پاکیزگی او طہارت کے بعد یعنی دنیوی مال و دولت کے حرص و لالچ کے بعد ان کی جو اصل ذمہ داری ہے وہ ان کو یاد دلائی جارہی ہے کہ اللہ تعالیٰ کا ارادہ تو یہ ہے کہ وہ رجس اور اس کے ساتھ ہر قسم کی برائیوں سے اہل بیت نبوی کو پاک کرکے تم کو امہات امت صحیح معنوں میں بنائے تاکہ تم بھی رسول کے ساتھ امت کی روحانی پرورش کرنے والیاں اور امت کے لئے نمونہ بن جائو بلا شبہ یہی ارادہ الٰہی تھا کہ تم بیبیوں کو اختیار دیا گیا کہ تم دنیا کا مال لے کر اگر چاہو تو نبی کریم ﷺ سے علیحدہ ہوجائو تو تم…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

What does أَهْلَ الْبَيْتِ : Ahl al-Bayt: People of the House" signify in this verse? In verses appearing earlier in the present sequence, the address was to the blessed wives of the Holy Prophet ﷺ ، therefore, the form used was in the feminine gender. Here, the expression: أَهْلَ الْبَيْتِ ahl al-bayt) includes, along with the blessed wives, their children and fathers as well, therefore, the form used was in the masculine gender, that is: عَنکُم (from you) and: وَيُطَهِّرَ‌كُمْ (purifies you). And some Tafsir authorities take 'ahl al-bayt' to mean the blessed wives only. ` Ikrimah and…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

51 The word wadhkurna in the original has two meanings: Remember and mention. According to the first meaning the verse would mean: "O wives of the Prophet, you should never forget that yours is the house from where the would is being instructed in Divine Revelations and Wisdom; therefore, your responsibility is very great. Let it not happen that the people might see specimens of ignorance in this very house." According to the second meaning, it would mean: "O wives of the Prophet, you should mention and relate before the people whatever you hear and see, for by virtue of your close and…

Read the full tafseer →