Explained with ayahs 98–99
کافروں کا انجام
اہل کتاب کے کافروں کو اللہ تعالیٰ دھمکاتا ہے جو حق سے دشمنی کرتے اور اللہ تعالیٰ کی آیتوں سے کفر کرتے دوسرے لوگوں کو بھی پورے زور سے اسلام سے روکتے تھے باوجود یکہ رسول کی حقانیت کا انہیں یقینی علم تھا اگلے انبیاء اور رسولوں کی پیش گوئیاں اور ان کی بشارتیں ان کے پاس موجود تھیں نبی امی ہاشمی عربی مکی مدنی سید الولد آدم خاتم الانبیاء رسول رب ارض و سماء ﷺ کا ذکر ان کتابوں میں موجود تھا پھر بھی اپنی بےایمانی پر بضد تھے اس لئے ان سے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں خوب دیکھ رہا ہوں تم کس طرح میرے نبیوں کی تکذیب کرتے ہو اور کس طرح خاتم الانبیاء کو ستاتے ہو اور کس طرح میرے مخلص بندوں کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 98–102
سورة اٰلِ عِمْرٰن 82
یعنی مرتے دم تک اللہ کی فرماں برداری اور وفاداری پر قائم رہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 98–101
ربط آیات
اوپر سے اہل کتاب کے عقائد فاسدہ اور ان کے شبہات پر کلام چل رہا تھا، درمیان میں بیت اللہ اور حج کا تذکرہ آیا، آگے پھر اہل کتاب ہی سے خطاب ہے جس کا تعلق ایک خاص واقعہ سے ہے، کہ ایک یہودی شماس بن قیس مسلمانوں سے بہت کینہ رکھتا تھا، اس نے ایک مجلس میں انصار کے دو قبیلوں اوس اور خزرج کو ایک جگہ مجتمع و متفق دیکھا تو حسد سے بےچین ہوگیا، اور ان میں تفریق ڈالنے کی فکر میں لگا، آخر یہ تجویز کی کہ ایک شخص سے کہا کہ ان دونوں قبیلوں میں اسلام سے پہلے جو ایک بڑی جنگ عرصہ دراز تک رہ چکی ہے، اور اس کے متعلق فریقین کے فخریہ اشعار ہیں وہ اشعار ان کی مجلس میں پڑھ دیئے جائیں۔ چناچہ اشعار کا پڑھنا تھا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 98–99
تفسیر آیت 98-99: اب یہ اہل کتاب کو زجر اور ملامت ہے کہ اللہ کی جو نشانیاں ملت ابراہیم، بیت اللہ اور آخری رسول سے متعلق خود تمہارے اپنے صحیفوں میں موجود ہیں ان کو اور ان کے مصداق کو جان بوجھ کر کیوں جھٹلاتے ہو ؟ اور لوگوں کے ذہن میں کیوں شبہات بھر رہے ہو ؟ یہ بات تمہیں معلوم رہنی چاہیے کہ اللہ اور اس کی آیت کے ساتھ یہ شرارت جو تم کر رہے ہو یہ گویا اللہ کی موجودگی میں کر رہے ہو اور وہ سب کچھ دیکھ رہا ہے۔ جنہوں نے اللہ کی توفیق سے یہ راہ پالی ہے اب تم یہ چاہتے ہو کہ ان کے ذہن میں شبہات پیدا کر کے ان کو کسی ایسے رخ پر موڑ دو کہ ان کی ملی ہوئی راہ پھر گم ہو کر رہا جائے حالانکہ تم کو اللہ نے پہلے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 98–99
99۔ 1 یعنی تم جانتے ہو کہ یہ دین اسلام حق ہے، اس کے داعی اللہ کے سچے پیغمبر ہیں کیونکہ یہ باتیں ان کتابوں میں درج ہیں جو تمہارے انبیاء پر اتریں اور جنہیں تم پڑھتے ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 97–99
تشریح : یہاں سے 108 تک کی آیات ایک خاص واقعے کے بارے میں نازل ہوئی ہیں، مدینہ منورہ میں دو قبیلے اوس و خزرج کے نام سے آباد تھے، اسلام سے پہلے ان کے درمیان سخت دشمنی تھی اور دونوں میں وقتاً فوقتاً جنگیں ہوتی رہتی تھیں جو بعض اوقات سالہا سال جاری رہتی تھیں، جب ان قبیلوں کے لوگ مسلمان ہوگئے تو اسلام کی برکت سے ان کی یہ دشمنی ختم ہوگئی اور اسلام کے دامن میں آکر وہ شیر وشکر ہو کر رہنے لگے، بعض یہودیوں کو ان کا یہ اتحاد ایک آنکھ نہیں بھاتا تھا، ایک مرتبہ دونوں قبیلوں کے لوگ ایک مجلس میں جمع تھے، ایک یہودی شماس بن قیس نے ان کے پیار محبت کا یہ منظر دیکھا تو اس سے نہ رہا گیا اور اس نے ان کے درمیان…
Read the full tafseer →اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کا تعارف ان الفاظ میں کیا ہے ۔ لِمَ تَصُدُّونَ عَنْ سَبِيلِ اللَّهِ مَنْ آمَنَ تَبْغُونَهَا عِوَجًا……………” یہ تمہاری کیا روش ہے کہ جو اللہ کی بات مانتا ہے اسے تم اللہ کے راستے سے روکتے ہو اور چاہتے ہو کہ وہ ٹیڑھی راہ چلے ۔ “ یہ ایک بامعنی جائزہ ہے ۔ اور اس میں بہت بڑا راز ہے ۔ یعنی اللہ کا راستہ تو بالکل سیدھا راستہ ہے اور اس کے علاوہ جو راستے ہیں وہ سب ٹیڑھے راستے ہیں ۔ اور جب لوگوں کو سیدھے راستے سے روکا گیا اور جب ابھی ایمان کو اسلامی نظام حیات سے محروم کیا گی تو تمام انسانی امور میں اتقامت اور سیدھ ختم ہوجائے گی اور حسن وقبح کے پیمانے صحیح و سلامت نہ رہیں گے ۔ اور…
Read the full tafseer →2 یعنی نہ صرف یہ کہ خود ایمانی سعادت حاصل کرنے سے محروم ہو، دوسروں کو بھی چاہتے ہو کہ اللہ کے راستہ سے روک دو اور جو سعید روحیں مشرف بایمان ہوچکی ہیں ان کو اسلام کے فرضی عیب بتلا کر دین اسلام سے واپس لے آؤ۔ پھر یہ حرکتیں محض جہل و بیخبر ی سے نہیں کر رہے، بلکہ سمجھ بوجھ کر سیدھی باتوں کو ٹیڑھا ثابت کرنے کی فکر میں رہتے ہو، تمہارے اس ہیر پھیر سے خدا بیخبر نہیں، مناسب وقت پر اکھٹی سزا دے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 99–100
آیت 99 قُلْ یٰٓاَہْلَ الْکِتٰبِ لِمَ تَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰہِ مَنْ اٰمَنَ
تَبْغُوْنَہَا عِوَجًا
تم چاہتے ہو کہ جو اہل ایمان ہیں وہ بھی ٹیڑھے راستے پر چلیں۔ چناچہ تم سازشیں کرتے ہو کہ صبح کو ایمان لاؤ اور شام کو کافر ہوجاؤ تاکہ اہل ایمان کے دلوں میں بھی وسوسے اور دغدغے پیدا ہوجائیں۔
وَّاَنْتُمْ شُہَدَآءُ ط حالانکہ تم خود گواہ ہو !
تم راہ راست کو پہچانتے ہو اور جو کچھ کر رہے ہو جانتے بوجھتے کر رہے ہو۔
وَمَا اللّٰہُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ ۔
لیکن ان تمام سازشوں کے جواب میں اہل ایمان سے فرمایا گیا ہے :
Read the full tafseer →88 یہود کی اسلام دشمنی کا ایک طریقہ یہ تھا کہ جو شخص مسلمان ہونے لگتا اسے طرح طرح کے شکوک و شبہات میں مبتلا کردیتے تھے۔ پہلی بات جو اسے ذہن نشین کرائی جاتی وہ یہ تھی کہ جس نبی آخر الزمان کی بشارت ہماری کتابوں میں دی گئی ہے وہ یہ نبی نہیں۔ اگر یہ وہی نبی ہوتا تو قبلہ کو کیوں تبدیل کرتا۔ جو سب انبیاء کا قبلہ رہا ہے یا جو چیزیں حرام ہیں انہیں حلال کیوں بنا رہا ہے کیونکہ وہ اپنے غلط قسم کے مسائل کو اصل بنیاد قرار دے کر مسلمان ہونے والوں کو برگشتہ کرنے کی ہر ممکن کوشش کرتے تھے اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے ان کی ایسی ہی حرکات پر گرفت فرمائی ہے۔
Read the full tafseer →211 ۔ (سو اس کی گرفت اور عذاب سے اپنے کو باہر نہ سمجھو) (آیت) ” تصدون عن سبیل اللہ “۔ یہود خود تو اسلام سے منکر تھے ہی اب ان کی جرأتیں اتنی بڑھ گئی تھیں کہ طرح طرح کے مکروفن سے دوسروں کو بھی دین حق سے ہٹانے کی فکر میں لگے رہتے تھے۔ (آیت) ” تبغونھا عوجا “۔ یہود مسلمانوں کے آپس میں طرح طرح کی مخفی فتنہ انگیزی اور مفسدہ پردازی کرتے رہتے تھے کہ اگر وہ کچھ نہیں بن پڑتا تو یہی ہو کہ یہ آپس میں مرکٹ کے تباہ ہوجائیں، چناچہ ایک مرتبہ ایک مجمع میں جہاں مدینہ کے دونوں مشہور اور جنگجو قبیلوں اوس اور خزرج کے مسلمان جمع تھے ایک یہودی شماس بن قیس نے ان کی عہد جاہلیت کی مشہور لڑائی جنگ بعاث کے پرجوش جنگ نامہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 99–102
آیت نمبر 102 تا 109
ترجمہ : اے ایمان والو اللہ سے ڈرو جیسا کہ اسے سے ڈرنے کا حق ہے بایں طور کہ اس کی اطاعت کی جائے اس کی نافرمانی نہ کی جائے اس کا شکر ادا کیا جائے ناشکری نہ کی جائے اور اس کو یاد رکھا جائے بھلایا نہ جائے تو صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ اس کی کس کو قدرت ہے۔ تو اس حکم کو اللہ تعالیٰ نے اپنے قول فاتقوا اللہ ما استطعتم سے منسوخ کردیا۔ اور تم جان نہ دینا بجز اس حال کے کہ تم مسلم موحد ہو اور اللہ کی رسی یعنی اس کے دین کو سب مل کر مضبوطی سے تھامے رہو اور اسلام کے بعد باہم نااتفافی نہ کرو اور اے اوس اور خزرج کے لوگو ! اپنے اوپر اللہ کے انعام کو یاد کرو جب کہ تم اسلام سے پہلے ایک…
Read the full tafseer →قل یا اھل الکتاب لم تصدون عن سبیل اللہ من امن آپ کہہ دیں اے اہل کتاب تم کیوں اللہ کے راستہ سے یعنی اسلام کی راہ سے جو اللہ تک پہنچاتی ہے۔ ایمان لانے والوں کو روکتے ہو یعنی جو لوگ ایمان لانا چاہتے ہیں ان کو ایمان لانے سے کیوں روکتے ہو خطاب اور استفہام کی تکرار سے اس طرف اشارہ ہے کہ کفر اور ایمان سے باز داشت دونوں بجائے خود قبیح اور موجب عذاب ہیں اور کسی ایک فعل کا عذر بھی ممکن نہیں گویا دو مرتبہ خطاب اور استفہام کرکے یہودیوں کی دونوں بےجا حرکتوں پر قوت کے ساتھ تنبیہ فرمائی ہے۔
تبغونھا عوجا عوجاً مصدر بمعنی اسم مفعول ہے یعنی تم چاہتے ہو کہ اللہ کا راستہ ٹیڑھا ہو یا مصدری معنی ہی مراد ہے اور ھا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 98–99
(98۔ 99) اے اہل کتاب رسول اکرم ﷺ اور قرآن کریم کا کس لیے انکار کرتے ہو حالانکہ کہ اللہ تعالیٰ تمہارے کفر و گناہ کے چھپانے کو جانتا ہے اور کیوں ایسے شخص کو اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور اس کے دین سے ہٹانے کی کوشش میں لگے رہتے ہو جو کہ اللہ تعالیٰ اور رسول اکرم ﷺ اور قرآن کریم پر ایمان لا چکا ہے، اور اب اسے تم کجی اور گمراہی کے تلاش کرنے کی وجہ سے ہٹاتے ہو ؟ اللہ کے سامنے یہ راز نہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ تمہاری کفر و گناہ کی پوشیدہ کاروائیوں تک کو جانتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 98–99
قُلْ يٰٓاَھْلَ الْكِتٰبِ۔۔ : اہل کتاب کے شبہات کی تردید کرنے کے بعد اب انھیں ڈانٹ پلائی جا رہی ہے کہ تم نہ صرف یہ کہ حق پر خود ایمان نہیں لاتے، بلکہ جو لوگ اس پر ایمان لا چکے ہیں ان میں طرح طرح کے فتنے اور شوشے چھوڑ کر حق کی راہ میں کجی پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہو۔ ”تبغونہا عوجا“ کا مطلب ہے : ”تَبْغُوْنَ فِیْہَا عِوَجًا“ (تم اس دین میں کوئی نہ کوئی کجی تلاش کرتے ہو) اور پھر یہ سب کچھ جان بوجھ کر کر رہے ہو۔ اللہ تعالیٰ کو تمہارے یہ کرتوت خوب معلوم ہیں، تمہیں اپنے اس جرم کی سزا بھگتنا پڑے گی۔ ”سَبِيْلِ اللّٰهِ“ سے مراد یہاں اسلام ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 98–99
آیت نمبر 99۔
قولہ تعالیٰ : (آیت) ” قل یاھل الکتب لم تصدون عن سبیل اللہ “۔ یعنی (اے اہل کتاب) تم کیونکر اللہ تعالیٰ کے دین سے پھرتے ہو۔ (آیت) ” من امن “۔ (اے جو ایمان لا چکا) حسن نے تصدون ’ تاء کے ضمہ اور صاد کے کسرہ کے ساتھ قرات کی ہے اور یہ دونوں لغتیں ہیں (یعنی) صد اور اصد مثلا صل اللحم اور اصل جب گوشت بدبودار ہوجائے، اور ختم اور اختم بھی ہے جب تغیر اور تبدیلی آجائے، (آیت) ” تبغونھا عوجا “۔ یعنی تم اس کے لئے چاہتے ہو۔ (یعنی تبغونھا بمعنی تطلبون لھا ہے) پھر اس سے لام کو حذف کردیا گیا ہے جیسا کہ واذا کالوھم میں کہا گیا ہے، کہا جاتا ہے : بغیت لہ کذا یعنی طلبتہ میں نے اسے طلب کیا، چاہا، اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 99–102
(1) ابن المبارک نے زھد میں وعبد الرزاق والفریابی وعبد بن حمید وابن ابی شیبہ ابن جریر ابن المنذر ابن ابی حاتم ونحاس نے ناسخ میں طبرانی اور حاکم نے اس کو صحیح کہا اور ابن مردویہ نے حضرت ابن مسعود ؓ سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” اتقوا اللہ حق تقتہ “ سے مراد ہے کہ اس کی اطاعت کی جائے اور اس کی نافرمانی نہ کی جائے اور اللہ تعالیٰ کو یاد کیا جائے اور بھولا یا نہ جائے اور اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرے اور ناشکری نہ کرے۔
(2) حاکم نے اس کو صحیح کہا ابن مردویہ نے ایک اور سند سے حضرت ابن مسعود ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا لفظ آیت ” اتقوا اللہ حق تقتہ “ سے مراد ہے کہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرے…
Read the full tafseer →[قُلْ : آپ ﷺ کہیے ] [ يٰٓاَھْلَ الْكِتٰبِ : اے اہل کتاب ] [لِمَ تَصُدُّوْنَ : تم لوگ کیوں روکتے ہو ] [عَنْ سَبِیْلِ اللّٰہِ : اللہ کے راستے سے ] [مَنْ : اس کو جو ] [اٰمَنَ : ایمان لایا ] [تَـبْغُوْنَـہَا : تم لوگ تلاش کرتے ہو اس میں ] [عِوَجًا : پیچیدگی کو ] [وَّ : حالانکہ ] [اَنْتُمْ : تم لوگ ] [شُہَدَآئُ : گواہ ہو ] [وَمَا اللّٰہُ : اور اللہ نہیں ہے ] [بِغَافِلٍ : غافل ] [عَمَّا : اس سے جو ] [تَعْمَلُوْنَ : تم لوگ کرتے ہو ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 98–101
یہودیوں کی شرارت سے مسلمانوں میں انتشار، اور مسلمانوں کو اتحاد و اتفاق کا حکم
تفسیر درمنثور صفحہ 57: ج 2 میں ان آیات کا سبب نزول یوں لکھا ہے کہ شاس بن قیس ایک بوڑھا یہودی تھا جو بہت بڑا کافر تھا، یہ مسلمانوں سے بہت زیادہ کینہ رکھتا تھا اور بہت سخت حاسد بھی تھا۔ صحابہ ؓ کی ایک مجلس پر گزرا جس میں اوس اور خزرج کے حضرات جمع تھے۔ آپس میں باتیں کر رہے تھے۔ (اوس اور خزرج کے درمیان زمانہ جاہلیت میں لڑائیاں رہتی تھی) اس حاسد کو ان حضرات کا انس اور محبت کے ساتھ جمع ہونا اور آپس میں ان کی صلح ہونا بہت ناگوار ہوا۔ اس نے ایک یہودی نوجوان کو حکم دیا کہ تو جا کر ان کے پاس بیٹھ جا اور ان کو ان کی پرانی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 98–99
ملامت اہل کتاب بر کفر واغواء۔
قال تعالیٰ قل یا اھل الکتاب لم تکفرون تا تعملون۔
ربط۔ گزشتہ آیات میں یہود کے شبہات کا جواب دے کر یہ ثابت کردیا کہ نبی کریم ﷺ دین ابراہیمی پر ہیں اور خانہ کعبہ ہی اول معبد اور بناء ابراہیمی ہے اب ان آیات میں اہل کتاب کو ملامت کی جاتی ہے کہ حق واضح ہوجانے کے بعد تمہارا عجب حال ہے کہ خود بھی قبول حق سے محروم اور دوسروں کو بھی راہ حق سے ہٹانے کی کوشش میں لگے ہوئے ہو اسلام میں جھوٹے اور فرضی شکوک نکال نکال کر لوگوں کو یہ باور کرانا چاہتے ہو کہ اسلام سیدھا راستہ نہیں بلکہ ٹیڑھا ہے اللہ تمہاری ان سازشوں سے غافل نہیں چناچہ فرماتے ہیں آپ کہہ دیجئے کہ اے اہل کتاب کیوں منکر…
Read the full tafseer →142 سسَبِیْل اللہِ سے مراد توحید اور دین اسلام ہے جو لوگ دین اسلام کو قبول کرلیتے تھے۔ یہود نصاریٰ کے علماء مختلف حیلوں اور بہانوں سے ان کے دلوں میں شبہات ڈال کر انہیں اسلام سے روکنے کی کوشش کرتے تھے تو اللہ تعالیٰ نے انہیں اس پر ملامت فرمائی وھو الاسلام وکانوا یمنعون من اراد الدخول فیہ بجھدھم ومحل (مدارک ص 134 ج) وکان صدھم عن سبیل اللہ بالقاء الشبہ والشکوک فی قلوب الضعفۃ من المسلمین الخ (کبیر ص 20 ج 2) ۔
143 تَبْغُونَھَا میں ضمیر منصوب سَبِیْلِ اللہِ کی طرف راجع ہے اور اس سے پہلے لام محذوف ہے۔ تطلبون لھا فحذف اللام مثل واذا کالوھم (قرطبی ص 154 ج 4) ای تبغون لہا (روح ص 15 ج 4) عوج سے ٹیڑھا پن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 98–101
ربط آیات :
گذشتہ اسباق میں اللہ تعالیٰ نے اہل کتاب کے غلط ملط اعتراضات کے جوابات دیے اور ملت ابراہیمی کی وضاحت فرمائی۔ اور یہ بھی واضح کیا کہ حضور خاتم النبیین ﷺ اور آپ کے ساتھی ہی اصل ملت ابراہیمی پر قائم ہیں۔ اس کے علاوہ ملت ابراہیمی کے مرکزی قبلہ بیت اللہ شریف کا تذکرہ ہوا ، اور اس کے فضائل بھی بیان ہوئے۔ اللہ تعالیٰ نے ملت ابراہیمی کے اتباع کا بطور خصوصی حکم دیا۔ اب ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے بطور نصیحت اور تنبیہ اہل کتاب سے خطاب فرمایا ہے۔ کہ جب ھضور (علیہ السلام) کا ملت ابراہیمی پر قائم ہونا ثابت ہوچکا ، تو پھر اہل کتاب کو اس حقیقت کو تسلیم کرلینا چاہیئے۔ اور انہیں جان لینا چاہیئے۔ کہ…
Read the full tafseer →قُلْ يٰٓاَھْلَ الْكِتٰبِ لِمَ تَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِيْلِ اللہِ مَنْ اٰمَنَ تَبْغُوْنَھَا عِوَجًا وَّاَنْتُمْ شُہَدَاۗءُ 0 ۭ وَمَا اللہُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ 99
صدد
الصُّدُودُ والصَّدُّ قد يكون انصرافا عن الشّيء وامتناعا، نحو : يَصُدُّونَ عَنْكَ صُدُوداً [ النساء/ 61] ، وقد يكون صرفا ومنعا نحو : وَزَيَّنَ لَهُمُ الشَّيْطانُ أَعْمالَهُمْ فَصَدَّهُمْ عَنِ السَّبِيلِ [ النمل/ 24]
( ص د د ) الصدود والصد
۔ کبھی لازم ہوتا ہے جس کے معنی کسی چیز سے رو گردانی اور اعراض برتنے کے ہیں جیسے فرمایا ؛يَصُدُّونَ عَنْكَ صُدُوداً ، [ النساء/ 61] کہ تم سے اعراض کرتے اور کے جاتے ہیں ۔ اور کبھی متعدی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 97–99
3 ؎ یعنی باوجود استطاعت کے حج بیت اللہ نہ کرے بلانے سے اس کے دربار میں نہ آئے تو اس کو بھی کسی کی پروا نہیں۔ 12 منہ
Read the full tafseer →قُلْ یٰٓـاَہْلَ الْـکِتٰبِ لِمَ تَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰہِ مَنْ اٰمَنَ تَبْغُوْنَہَا عِوَجًا وَّاَنْـتُمْ شُہَدَآئُ ط وَمَا اللّٰہُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ ۔
(کہہ دیجیے کہ اے اہل کتاب ! تم اللہ کے راستے سے کیوں روکتے ہو، ان لوگوں کو جو ایمان لائے ہیں۔ تم اس میں کجی پیدا کرنا چاہتے ہو حالانکہ تمہیں گواہ بنایا گیا تھا اور اللہ باخبر ہے اس سے جو کچھ تم کرتے ہو) (99)
مزید شرم دلائی گئی ہے
گزشتہ آیت کریمہ کے مضمون کو آگے بڑھاتے ہوئے فرمایا گیا ہے کہ حیرت کی بات ہے کہ تم نہ صرف خود اللہ کی آیات کا انکار کرتے ہو بلکہ تمہاری جسارتوں کا عالم یہ ہے کہ تم ہر ایمان لانے والے شخص کو اللہ کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 99–100
فہم القرآن
ربط کلام : پہلی آیت میں اہل کتاب کو اسلام کے راستے میں رکاوٹ ڈالنے سے روکا گیا ہے۔ اب مسلمانوں کو متنبہ فرمایا کہ اہل کتاب کی پیروی نہ کرنا یہ تمہیں گمراہ کرنے کے درپے رہتے ہیں۔
قرآن مجید متعدد مقامات پر مسلمانوں کو ہدایت کرتا ہے کہ اگر تم اہل کتاب کو راضی کرنے کی کوشش کرو گے تو وہ ہرگز راضی نہیں ہوں گے۔ ان کی خواہش اور کوشش ہے کہ تمہیں ایمان سے منحرف کر کے کافر بنا دیں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے آخری پیغمبر حضرت محمد ﷺ کو متنبہ کرتے ہوئے فرمایا میرے پیغمبر ! جب تک آپ ان کی خواہشات کی پیروی نہ کریں گے تب تک یہ آپ پر بھی راضی نہ ہوں گے۔ [ البقرۃ : 120] اس لیے ارشاد ہوتا ہے کہ تم کس طرح…
Read the full tafseer →اللہ کی راہ سے روکنے پر وعید :
99: قُلْ یٰٓاَھْلَ الْکِتٰبِ لِمَ تَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰہِ مَنْ ٰامَنَ تَبْغُوْنَھَا عِوَجًا وَّ اَنْتُمْ شُھَدَآئُ وَمَا اللّٰہُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ ۔ (اے اہل کتاب تم کیوں روکتے ہو) الصدُّ ۔ منع کرنا۔ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰہِ مَنْ ٰامَنَ (اللہ تعالیٰ کی راہ سے ان لوگوں کو جو ایمان لائے) یعنی تم دین حق سے کیوں روکتے ہو۔ اس سے یہ بات معلوم ہوئی کہ اللہ تعالیٰ کا وہ راستہ جس پر چلنے کا حکم دیا گیا وہ اسلام ہے۔ جو آدمی اسلام میں داخل ہونا چاہتا وہ پوری کوشش کر کے اس سے روکتے۔ تَبْغُوْنَھَا (تم اس میں تلاش کرتے ہو) ای تطلبون لہا تم اللہ کے راستہ کے…
Read the full tafseer →99۔ (آیت)” قل یاھل الکتاب لم تصدون عن سبیل اللہ “۔ کیوں پھیرتے ہو اللہ کے راستے سے (آیت)” من امن تبغونھا “۔ جو تم طلب کرتے ہو ، ” عوجا “ کجی اور مائل ہونے کو مطلب یہ ہے کہ تم کیوں اللہ کے راستے سے ہٹاتے ہو ان کے ساتھ بغاوت اور کجی کرتے ہوئے ، ابو عبیدہ ؓ فرماتے ہیں عوج کسرہ کے ساتھ دین ، قول ، عمل میں کجی کو کہتے ہیں اور عوج عین کے فتحہ کے ساتھ ہو تو دیوار کے معنی میں ہوگا یا ہر وہ شخص جو کھڑا ہو (آیت)” وانتم شھداء وما اللہ بغافل عما تعملون “۔ تورات میں آپ ﷺ کے اوصاف مذکور تھے اور اسلام کا دین خدا ہونا جو تورات میں مذکور ہے تم خود اس کے گواہ ہو ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 98–99
(98 ۔ 99) ۔ تفسیر ابن جریر وغیرہ میں حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے روایتیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ یہود نے پہلے تو ملت ابراہیمی پر اپنے آپ کو بتلایا اور جب ملت ابراہیمی کے موافق ان سے آنحضرت ﷺ نے حج ادا کرنے کو کہا تو حج سے انہوں نے انکار کیا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ اور فرما دیا کہ جو لوگ اللہ کے حکم کے تابع ہیں استطاعت کی حالت میں ان پر حج فرض ہے اور اہل کتاب کی طرح جو لوگ اللہ تعالیٰ کے حکم کے منکر ہیں اللہ کو ان کے انکار کی کچھ پرواہ نہیں۔ مگر اللہ ان کے کاموں سے غافل نہیں ہے وقت مقررہ پر اپنے کئے کی سزا پائیں گے۔ اس آیت میں اہل کتاب کو یہ بھی تنبیہ ہے کہ وہ تورات اور انجیل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 98–101
اللہ تعالیٰ یہود و نصاریٰ کو زجر وتوبیخ فرماتا ہے کیونکہ انہوں نے اللہ کی آیات کے ساتھ کفر کیا، جو اس نے اپنے رسولوں پر نازل کیں، جنہیں اللہ نے اپنے بندوں کے لئے رحمت بنایا کہ ان کی رہنمائی میں اللہ تک پہنچ سکیں اور ان کی مدد سے تمام اہم مقاصد اور مفید علوم حاصل کریں۔ ان کافروں نے ان کا انکار بھی کیا، ان پر ایمان لانے والوں کو روکا، ان میں تحریف کی، انہیں اصل مفہوم سے پھیرنے کی کوشش کی۔ وہ خود ان جرائم کو تسلیم کرتے ہیں۔ انہیں خوب معلوم ہے کہ ان کا یہ کام بہت بڑا کفر ہے، جس کی سزا بہت سخت ہے۔ جیسے ارشاد ہے : (الذین کفروا وصدوا عن سبیل اللہ زدنھم عذاباً فوق العذاب بما کانوا یفسدون) (النحل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 98–102
تقوی کی حد
قول باری ہے (یایھا الذین آمنوا اتقوا اللہ حق تقاتہ، اے ایمان والو اللہ سے ڈرو جیسا کہ اس سے ڈرنے کا حق ہے) حضرت عبداللہ ؓ ، حسن اور قتادہ سے مروی ہے کہ (حق تقاتہ) کا مطلب یہ ہے کہ اس کی اطاعت کی جائے ادرنافرمانی نہ کی جائے اس کا شکراداکیاجائے اور ناشکری نہ کی جائے اسے یادکیاجائے اور بھلایانہ جائے۔ ایک قول میں اس کے معنی یہ بیان کیئے گئے ہیں کہ تمام گناہوں اور نافرنیوں سے پرہیز کیا جائے، اس آیت کے منسوخ ہونے کے متعلق اختلاف ہے۔
حضرت ابن عباس ؓ اور طاؤس سے مروی ہے کہ یہ محکم ہے منسوخ نہیں ہوئی۔ قتادہ ربیع بن انس اور سدی سے مروی ہے کہ یہ قول باری (فاتقوا اللہ مااستطعتم، جہاں تک تم سے…
Read the full tafseer →201 راہ حق سے روکنے کی سنگینی اور ممانعت کا ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا اے اہل کتاب تم کیوں روکتے ہو اللہ کی راہ سے ان لوگوں کو جو ایمان لاتے ہیں۔ سو اہل کتاب سے کہو کہ تم دوسروں کو اللہ کی راہ سے کیوں روکتے ہو اور اس طرح تم خود گمراہ ہو کر دوسروں کو بہکانے، بھٹکانے اور گمراہ کرنے کے دوہرے جرم کا ارتکاب کرتے ہو، اور اپنے لئے ڈبل عذاب کا سامان کرتے ہو۔ اور تم نہیں سمجھتے کہ اس طرح تم لوگ خود اپنا ہی نقصان اور کس قدربڑا نقصان کرتے ہو کہ اللہ کی سیدھی راہ سے روکنا بڑی ہی محرومی اور ہولناک خسارہ ہے ۔ وَالْعِیَاذ باللّٰہ العظیم ۔ پس تم لوگ باز آجاؤ اللہ کے راستے سے روکنے کے اس سنگین جرم سے، کہ اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 98–99
اہل کتاب کا انکار
تشریح : یہاں یہود و نصارٰی کا ہی ذکر ہے اللہ رب العزت رسول اللہ ﷺ کو مخاطب کرتے ہوئے یہی فرماتے ہیں کہ غلط اور ہٹ دھرم لوگ یہی سمجھے ہوئے ہیں کہ بس زندگی یہی ہے کہ خود بھی غلط راہ پر چلو اور دوسروں کو بھی ادھر ہی چلاؤ۔ اللہ رب العزت ان کے تمام اعمال اور نیتوں کو خوب اچھی طرح جانتے ہیں۔ اللہ رب العزت ان کی حالت پر افسوس کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ اے نبی ﷺ ! ان لوگوں کو کیا ہوگیا ہے۔ سب کچھ ان کو وضاحت سے بتا دیا گیا ہے حق و باطل کو یہ لوگ اچھی طرح جان چکے ہیں، نیکی اور بدی کی تمیز انہیں خوب اچھی طرح کروا دی گئی ہے اور یہ سمجھ بھی گئے ہیں مگر عقل کی خرابی یہ ہے کہ حق کو حق نہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 92–101
آیات 92- 101
اسرارومعارف
لن تنالو البر……………فان اللہ بہ علیم۔
بر سے مراد نیکی ہے اور نیکی کی اصل قرب رسول ہے کہ نبوت ایک ایسی نعمت ہے جس کی وجہ سے نبی معصوم ہوتا ہے یعنی مکالمہ باری کی برکات میں سے عصمت بھی ہے جو تمام انبیاء (علیہم السلام) کو نصیب ہوتی ہے۔
حصول بر قرب رسالت کا نام ہے :
اسی طرح نبی کے قرب سے ایک خاص وصف ، جو مومن میں پیدا ہوتا ہے وہ گناہ سے نفرت اور نیکی کی محبت ہے جس کے باعث مومن گناہ سے محفوظ ہوجاتا ہے۔ اسی درجے کو حصول بر کہہ سکتے ہیں۔ اب اگر کسی شخص کو کسی طرح کا مال یا منافع اتنا عزیز ہو کہ وہ اسے حاصل کرنے کے لئے اپنے مسلمان ہونے کا اعلان کرے تو وہ اسلام کو کیسے پاسکتا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 98–99
ف 1 رد شبہات کے بعد ان آیات میں اہل کتاب کو زجر وتوبیخ کی کہ تم نہ صرف یہ کہ حق پر خود ایمان نہیں لاتے بلکہ جو لوگ اس پر ایمان لا چکے ہیں ان میں طرح طرح کے فتنے اور مئو شے چھوڑ کر حق کی راہ میں کجی پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہو اور پھر یہ سب کچھ جان بوجھ کر کر رہے ہو اللہ تعالیٰ کو تمہارے یہ کر توت خوب معلوم ہیں۔ تمہیں اپنے اس جرم کی سزا بھگتی پڑے گی (کبیر)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 99–102
(3:99) تصدون۔ صد (نصر) تم روکتے ہو۔ تم بند کرتے ہو۔ مضارع جمع مذکر حاضر۔
تبغونھا۔ تم اس کو چاہتے ہو بغی سے۔ مضارع جمع مذکر حاضر۔ ھا ضمیر واحد مؤنث غائب جو سبیل اللہ کی طرف راجع ہے۔ سبیل مذکر مؤنث دونوں طرح استعمال ہوتا ہے۔
عوج یعوج (سمع) سے اس ہے ٹیڑھا ہونا۔ کج ہونا۔ جو کجی آنکھوں سے نظر آجائے۔ مثلاً دیوار کا ٹیڑھا ہونا۔ وہ عوج (بفتح عین) ہے اور جو نظر نہ آئے مثلاً سوچ و سمجھ میں کجی۔ قول میں کجی (عین کے کسرہ کے ساتھ) ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 93–101
لغات القرآن آیت نمبر 93 تا 101
الطعام (کھانا) غنی (بےنیاز، بےپرواہ) فاتوا (پھر تم لے آؤ) تصدون (تم روکتے ہو) من افترٰی (جس نے گھڑا، جو کوئی تہمت لگائے) عوج (ٹیڑھ پن) صدق اللہ (اللہ نے سچ فرمایا) تتلیٰ (تلاوت کی گئی) اول بیتٍ (پہلاگھر) یعتصم مضبوط پکڑلیتا ہے) وضع (جس کو طاقت ہے، جو استطاعت رکھتا ہے) ۔
تشریح : آیت نمبر 93 تا 101
عیسائیوں اور یہودیوں کو اس بات پر بڑا فخر تھا کہ وہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی نسل سے ہیں۔ وہ اس بات کے بھی مدعی تھے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا اصل مذہب سینہ بہ سینہ ان تک ہی پہنچا ہے۔ جب نبی کریم ﷺ نے اپنا ملت ابراہیمی پر ہونا ہر اعتبار سے ثابت کردیا تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 97–99
استطاعت کی حالت میں مسلمان پر حج فرض ہے
شان نزول : تفسیر ابن جریر وغیرہ میں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے راوایتیں ہیں۔ ان کا حاصل یہ ہے کہ یہود نے پہلے تو ملت ابراہیمی پر اپنے آپ کو بتلایا اور جب ملت ابراہیمی کے موافق آنحضرت ﷺ نے ان سے حج ادا کرنے کو کہا تو حج سے انہوں نے انکار کیا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں اور فرما دیا کہ جو لوگ اللہ کے حکم کے تابع ہیں، استطاعت کی حالت میں ان پر حج فرض ہے۔ اور اہل کتاب کی طرح جو لوگ اللہ تعالیٰ کے حکم کے منکر ہیں اللہ کو ان کے انکار کی کچھ پرواہ نہیں۔ مگر اللہ ان کے کاموں سے غافل نہیں ہے وقت مقررہ پر اپنے کئے کی سزا پاویں گے۔ اس آیت میں اہل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 97–102
[37] یعنی ایسی علامات جو اس گھر کے اللہ کی جناب میں قبول ہونے پر دلالت کرتی ہیں اور وہ یہ ہیں : (1) لق و دق صحرا میں بنایا گیا اور پھر اللہ نے اس جگہ کو آباد کردیا اور وہاں کے رہنے والوں کے لئے رزق رسانی کے لئے بہتر سے بہتر انتظام کردیا۔ (2) ڈھائی ہزار برس تک دور جاہلیت میں تمام عرب فتنہ و فساد میں مبتلا رہا۔ صرف خانہ کعبہ اور اسی کے اطراف کا ایک خطہ ایسا تھا جس میں امن قائم رہا بلکہ اسی کعبہ کی یہ برکت تھی کہ سال بھر میں چار مہینے کے لئے پورے ملک میں اسی کی بدولت امن قائم ہوجاتا تھا۔ (3) یمن کی حبشی حکومت کے عیسائی بادشاہ ابرہہ نے اس آیت کے نزول سے صرف پچاس سال قبل جب کعبہ کو ڈھانے کی غرض سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 98–100
(ف 1) ان آیات میں اہل کتاب کی مخالفانہ اور معاندانہ کوششوں کا ذکر ہے کہ وہ جانتے ہوئے بھی حق وصداقت کا انکار کرتے ہیں اور صرف انکار پر ہی کفایت نہین کرتے بلکہ چاہتے ہیں کہ ان کے ساتھ دوسرے مسلمان بھی شریک ہوجائیں اور اراتداد اختیار کرلیں ، فرمایا مسلمانوں سے اس قسم کی توقعات رکھنا درست نہیں ، اس لئے کہ وہ صبح وشام قرآن حکیم کی آیات سنتے ہیں جن میں تمہارے ہر فریب کی تشریح موجود ہے اور ان کے شبہات دور کرنے کے لئے خود اللہ کا رسول ﷺ ان میں موجود ہے جو بجائے خود ہر کفر ونفاق کا ایک مستقل جواب ہے ، جب تک اس کا وجود مسعود مسلمانوں میں موجود ہے ، انہیں ارتداد کا خوف نہیں ، اور اگر کوئی بخت پہلے سے…
Read the full tafseer →ف 2 اے نبی آپ ان اہل کتاب سے یہ بھی فرمائیے کہ اے اہل کتاب تم ایسے شخص کو اللہ کی راہ سے جو ایمان لائے کیوں روکتے ہو اور اس شخص کو جو ایمان لا چکا ہو کیوں اللہ کی راہ سے ہٹاتے ہو اور تمہاری حالت یہ ہے کہ تم اس راہ میں کجی اور عیب نکالنے کی تلاش میں لگے رہتے ہو حالانکہ تم خود ان حرکات کے مذموم ہونے کو جانتے ہو اور سبیل اللہ کے راہ راست ہونے پر گواہ ہو اور اس راہ کی حقانیت سے باخبر ہو اور اللہ تعالیٰ ان کاموں سے جو تم کیا کرتے ہو غافل اور بیخبر نہیں ہے۔ (تیسیر)
اللہ کی راہ سے مراد اسلام ہے چونکہ اہل کتاب ان لوگوں کو جو مسلمان ہوجاتے تھے مرتد کرنے کی کوشش کرتے تھے جو ایمان لانے والے ہوتے تھے ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 98–102
ف 1۔ کامل ڈرنے کا مطلب یہ ہے کہ جس طرح شروکفر سے بچے ہو کل معاسی سے بھی بچا کرو آیت کا مطلب یہ ہے کہ ادنی تقوی پر اکتفامت کرو بلکہ اعلی اور کامل درجہ کا تقوی اختیار کرو جس میں معاصی سے بھی بچنا آگیا۔
Read the full tafseer →اہل کتاب کی یہ کوتاہی کہ وہ خود بھی انکار کرتے ہیں اور دوسروں کو بھی روکتے ہیں :
191: اہل کتاب کی یہ کوتاہی کہ وہ خود تو انکار کرتے ہی ہیں اور پھر ان کو اس بات پر بس نہیں بلکہ دوسروں کو اسلام سے روکنے کا باعث بھی ہیں کیونکہ وہ طرح طرح کی اسکیمیں لڑاتے رہتے ہیں جس سے دوسرے لوگ بھی اسلام سے برگشتہ ہوجائیں۔ جس طرح پیچھے گزر چکا کہ انہوں نے یہ اسکیم بھی شروع کی تھی کہ اپنے لوگوں کو منافقت کی بنا پر اسلام قبول کرنے کی تلقین کی کہ تم لوگ دن کے پہلے حصہ میں ایمان لاؤ اور دن کے پچھلے حصہ میں ایمان سے برگشتہ ہوجاؤ اور یہ پروپیگنڈا جاری کرو کہ ہم نے اسلام میں داخل ہو کر دیکھ لیا جو کچھ وہ ہے ؟ یعنی وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 98–101
Commentary
Several verses earlier, the text was dealing with the people of the Book, their false beliefs and their doubts. Then, appeared the mention of بیت اللہ Baytullah and Hajj. Now once again, the people of the Book are the addressees. These verses relate to a particular event. There was a Jew, Shammas ibn Qays, who harboured a chronic malice against Muslims. Once, when he saw two Ansar tribes, Aws and Khazraj, gathered together amiably at one place, his malevolence got the better of him and he went about looking for ways to sow seeds of discord between them. Finally, he set up a man…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 98–102
82. They should remain steadfast in their obedience and loyalty to God.
Read the full tafseer →