Aal-i-Imraan 3:98

Aal-i-Imraan · from ayah 98

3:98

قُلْ یٰۤاَهْلَ الْكِتٰبِ لِمَ تَكْفُرُوْنَ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ ۖۗ— وَاللّٰهُ شَهِیْدٌ عَلٰی مَا تَعْمَلُوْنَ ۟قُلۡ يٰۤـاَهۡلَ الۡكِتٰبِ لِمَ تَكۡفُرُوۡنَ بِاٰيٰتِ اللّٰهِ ۖ وَاللّٰهُ شَهِيۡدٌ عَلٰى مَا تَعۡمَلُوۡنَ

کہو کہ اہلِ کتاب! تم خدا کی آیتوں سے کیوں کفر کرتے ہو اور خدا تمہارے سب اعمال سے باخبر ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

Say, "O People of the Scripture, why do you disbelieve in the verses of Allah while Allah is Witness over what you do?"

— Saheeh International

Juz 4 · Ruku 10 of surah · Ruku 1 of juz

Read the whole surah · Surah Aal-i-Imraan

All translations of 3:98

کہو، اے اہل کتاب! تم کیوں اللہ کی باتیں ماننے سے انکار کرتے ہو؟ جو حرکتیں تم کر رہے ہو اللہ سب کچھ دیکھ رہا ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

کہو کہ اہلِ کتاب! تم خدا کی آیتوں سے کیوں کفر کرتے ہو اور خدا تمہارے سب اعمال سے باخبر ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

آپ کہہ دیجئے کہ اے اہل کتاب تم اللہ تعالیٰ کی آیتوں کے ساتھ کفر کیوں کرتے ہو؟ جو کچھ تم کرتے ہو، اللہ تعالیٰ اس پر گواه ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

کہہ دو کہ : اے اہل کتاب ! اللہ کی آیتوں کا کیوں انکار کرتے ہو ؟ جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اس سب کا گواہ ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

تم فرماؤ اے کتابیو! اللہ کی آیتیں کیوں نہیں مانتے اور تمہارے کام اللہ سامنے ہیں،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

فرما دیں: اے اہلِ کتاب! تم اللہ کی آیتوں کا انکار کیوں کرتے ہو؟ اور اللہ تمہارے کاموں کا مشاہدہ فرما رہا ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

کہہ دے اے اہل کتاب ! تم کیوں اللہ کی آیات کے ساتھ کفر کرتے ہو، جب کہ اللہ اس پر پوری طرح شاہد ہے جو تم کرتے ہو۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

آپ ان اہل کتاب سے کہئے کہ تم اللہ کی آیات کا کیوں انکار کرتے ہو حالانکہ جو کچھ تم کرتے ہو، اللہ سب کچھ دیکھ رہا ہے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

پو چھو اے اہل کتاب تم اللہ کی آیتوں کا کیوں انکار کرتے ہو۔ در آنحالیکہ جو کچھ تم کر رہے ہو سب خدا کی نظر میں ہے۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

(ان سے) کہو کہ اے کتاب والو ! تم کیوں انکار کرتے ہو اللہ کی آیتوں کا حالانکہ اللہ گواہ ہے تمہارے ان سب کاموں پر جو تم لوگ کرتے ہو

— مولانا اسحاق مدنی

آپ کہیے کہ اے اہل کتاب تم کیوں اللہ کی نشانیوں سے کفر کررہے ہو درآنحالیکہ اللہ تمہارے کرتوتوں کا گواہ ہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

کہہ دیجیے اے اہل کتاب ! تم کیوں اللہ کی آیات کا انکار کر رہے ہو ؟ جبکہ جو کچھ تم کر رہے ہو اللہ اسے دیکھ رہا ہے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

کہو اے اہل کتاب ! تم کیوں اللہ کی باتیں ماننے سے انکار کرتے ہو ؟ جو حرکتیں تم کر رہے ہو اللہ اس پر گواہ ہے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Say: 'People of the Book! Why do you reject the signs of Allah when Allah is witness to all that you do?'

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Say, :O people of the Book, why do you reject the verses of Allah while Allah is witness to what you do?

— Muhammad Taqi Usmani

Say, :O people of the Book, why do you reject the verses of Allah while Allah is witness to what you do?

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Say: "O People of the Scripture (Jews and Christians)! Why do you reject the Ayat of Allah, while Allah is Witness to what you do"

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Say: O People of the Scripture! Why disbelieve ye in the revelations of Allah, when Allah (Himself) is Witness of what ye do?

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Say, "O People of the Scripture, why do you disbelieve in the verses of Allah while Allah is Witness over what you do?"

— Saheeh International

(Muhammad), ask the People of the Book, "Why do you deny the revelations of God when He is Well-Aware of your dealings?".

— Muhammad Sarwar

Say: O followers of the Book! why do you disbelieve in the communications of Allah? And Allah is a witness of what you do.

— Muhammad Habib Shakir

Say thou: O People of the Book! wherefore disbelieve ye in the revelations of Allah, whereas Allah is witness of that which ye work!

— Abdul Majid Daryabadi

Say: "O People of the Book! Why reject ye the Signs of Allah, when Allah is Himself witness to all ye do?"

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 3:98

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 98–99

کافروں کا انجام اہل کتاب کے کافروں کو اللہ تعالیٰ دھمکاتا ہے جو حق سے دشمنی کرتے اور اللہ تعالیٰ کی آیتوں سے کفر کرتے دوسرے لوگوں کو بھی پورے زور سے اسلام سے روکتے تھے باوجود یکہ رسول کی حقانیت کا انہیں یقینی علم تھا اگلے انبیاء اور رسولوں کی پیش گوئیاں اور ان کی بشارتیں ان کے پاس موجود تھیں نبی امی ہاشمی عربی مکی مدنی سید الولد آدم خاتم الانبیاء رسول رب ارض و سماء ﷺ کا ذکر ان کتابوں میں موجود تھا پھر بھی اپنی بےایمانی پر بضد تھے اس لئے ان سے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں خوب دیکھ رہا ہوں تم کس طرح میرے نبیوں کی تکذیب کرتے ہو اور کس طرح خاتم الانبیاء کو ستاتے ہو اور کس طرح میرے مخلص بندوں کی…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 98–102

سورة اٰلِ عِمْرٰن 82 یعنی مرتے دم تک اللہ کی فرماں برداری اور وفاداری پر قائم رہو۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 98–101

ربط آیات اوپر سے اہل کتاب کے عقائد فاسدہ اور ان کے شبہات پر کلام چل رہا تھا، درمیان میں بیت اللہ اور حج کا تذکرہ آیا، آگے پھر اہل کتاب ہی سے خطاب ہے جس کا تعلق ایک خاص واقعہ سے ہے، کہ ایک یہودی شماس بن قیس مسلمانوں سے بہت کینہ رکھتا تھا، اس نے ایک مجلس میں انصار کے دو قبیلوں اوس اور خزرج کو ایک جگہ مجتمع و متفق دیکھا تو حسد سے بےچین ہوگیا، اور ان میں تفریق ڈالنے کی فکر میں لگا، آخر یہ تجویز کی کہ ایک شخص سے کہا کہ ان دونوں قبیلوں میں اسلام سے پہلے جو ایک بڑی جنگ عرصہ دراز تک رہ چکی ہے، اور اس کے متعلق فریقین کے فخریہ اشعار ہیں وہ اشعار ان کی مجلس میں پڑھ دیئے جائیں۔ چناچہ اشعار کا پڑھنا تھا…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 98–99

تفسیر آیت 98-99: اب یہ اہل کتاب کو زجر اور ملامت ہے کہ اللہ کی جو نشانیاں ملت ابراہیم، بیت اللہ اور آخری رسول سے متعلق خود تمہارے اپنے صحیفوں میں موجود ہیں ان کو اور ان کے مصداق کو جان بوجھ کر کیوں جھٹلاتے ہو ؟ اور لوگوں کے ذہن میں کیوں شبہات بھر رہے ہو ؟ یہ بات تمہیں معلوم رہنی چاہیے کہ اللہ اور اس کی آیت کے ساتھ یہ شرارت جو تم کر رہے ہو یہ گویا اللہ کی موجودگی میں کر رہے ہو اور وہ سب کچھ دیکھ رہا ہے۔ جنہوں نے اللہ کی توفیق سے یہ راہ پالی ہے اب تم یہ چاہتے ہو کہ ان کے ذہن میں شبہات پیدا کر کے ان کو کسی ایسے رخ پر موڑ دو کہ ان کی ملی ہوئی راہ پھر گم ہو کر رہا جائے حالانکہ تم کو اللہ نے پہلے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 98–99

99۔ 1 یعنی تم جانتے ہو کہ یہ دین اسلام حق ہے، اس کے داعی اللہ کے سچے پیغمبر ہیں کیونکہ یہ باتیں ان کتابوں میں درج ہیں جو تمہارے انبیاء پر اتریں اور جنہیں تم پڑھتے ہو۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 97–99

تشریح : یہاں سے 108 تک کی آیات ایک خاص واقعے کے بارے میں نازل ہوئی ہیں، مدینہ منورہ میں دو قبیلے اوس و خزرج کے نام سے آباد تھے، اسلام سے پہلے ان کے درمیان سخت دشمنی تھی اور دونوں میں وقتاً فوقتاً جنگیں ہوتی رہتی تھیں جو بعض اوقات سالہا سال جاری رہتی تھیں، جب ان قبیلوں کے لوگ مسلمان ہوگئے تو اسلام کی برکت سے ان کی یہ دشمنی ختم ہوگئی اور اسلام کے دامن میں آکر وہ شیر وشکر ہو کر رہنے لگے، بعض یہودیوں کو ان کا یہ اتحاد ایک آنکھ نہیں بھاتا تھا، ایک مرتبہ دونوں قبیلوں کے لوگ ایک مجلس میں جمع تھے، ایک یہودی شماس بن قیس نے ان کے پیار محبت کا یہ منظر دیکھا تو اس سے نہ رہا گیا اور اس نے ان کے درمیان…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

یہ تہدید اور اس قسم کا ڈراوا اس سورت میں اور ایسی ہی دوسری سورتوں میں باربار آیا ہے ۔ اس کا پہلا اثر یہ مرتب ہوتا ہے کہ اہل کتاب کو اپنے موقف کی اصلیت کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور ان کی اصل حقیقت سامنے آجاتی ہے کہ وہ اپنے آپ کو بڑا مومن اور بڑا دیندار ظاہر کرتے ہیں ‘ جبکہ فی الحقیقت وہ اہل کفر میں سے ہیں ‘ کیونکہ وہ اللہ کی نازل کردہ آیات قرآنی کا انکار کرتے ہیں ۔ اس لئے جو شخص اللہ کے کسی بھی جزء کا انکار کرے گا ‘ گویا وہ سب کتاب کا انکار کرے گا ۔ اس کا منطقی نتیجہ یہ ہے کہ اگر وہ خود ان کے پاس محفوظ کتاب پر ایمان لائے ہوتے تو وہ لازماً ہر آنے والے رسول پر نازل ہونے والی ہدایات پر ایمان لائے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

1 پہلے سے خطاب یہود و نصاریٰ کو کیا جا رہا تھا۔ درمیان میں ان کے بعض شبہات کا جواب دیا گیا۔ یہاں سے پھر ان کو تنبیہ و توبیخ کی گئی۔ یعنی حق و صداقت کے واضح دلائل اور قرآن کریم کی ایسی سچی اور پکی باتیں سننے کے بعد بھی تمہیں کیا ہوا کہ باوجود اہل کتاب کہلانے کے برابر کلام اللہ اور اسکے لانے والے کے انکار پر تلے ہوئے ہو۔ یاد رکھو تمہاری سب کاروائیاں خدا کے سامنے ہیں تمہاری نیتوں اور تدبیروں کو وہ خوب جانتا ہے، جس وقت پکڑے گا، رتی رتی کا حساب لے کر چھوڑے گا۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 97–98

آیت 97 فِیْہِ اٰیٰتٌم بَیِّنٰتٌ مَّقَامُ اِبْرٰہِیْمَ ج ۔ سورۃ البقرۃ کے نصفِ اوّل کے آخری چار رکوعوں 15 ‘ 16 ‘ 17 ‘ 18 میں پہلے حضرت ابراہیم علیہ السلام اور خانہ کعبہ کا ذکر ہے ‘ پھر باقی ساری گفتگو ہے۔ یہاں سورة آل عمران کے نصفِ اوّل کے تیسرے حصے میں حضرت ابراہیم علیہ السلام اور خانہ کعبہ کا تذکرہ آخر میں آیا ہے۔ گویا مضامین وہی ہیں ‘ ترتیب بدل گئی ہے۔ وَمَنْ دَخَلَہٗ کَانَ اٰمِنًا ط آ جاتا ہے۔ جاہلیت کے بدترین دور میں بھی بیت اللہ امن کا گہوارہ تھا۔ پورے عرب کے اندر خونریزی ہوتی تھی ‘ لیکن حرم کعبہ میں اگر کوئی اپنے باپ کے قاتل کو بھی دیکھ لیتا تھا تو اسے کچھ نہیں کہتا تھا۔ حرم کی یہ…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 97–98

85 آیات بینات سے مراد ایسی واضح نشانیاں جنہیں سب لوگ دیکھتے یا دیکھ سکتے ہیں۔ مثلاً یہ کہ یہ گھر ایک لق و دق میدان میں تعمیر کیا گیا۔ اسی جگہ اللہ تعالیٰ نے معجزانہ طور پر زمزم کا چشمہ پیدا فرمایا اور اس سے بڑا معجزہ یہ ہے کہ دنیا بھر کے مسلمان وہاں جا کر یہ پانی استعمال کرتے اور اپنے گھروں میں لاتے ہیں، مگر اس چشمہ کا پانی ختم ہونے میں نہیں آتا۔ نیز یہ پانی بھوک اور پیاس دونوں کو دور کرتا اور کئی بیماریوں کے لیے شفا ہے پھر اس گھر کو اللہ نے ایسا مامون بنادیا کہ اگر کسی کا جانی دشمن بھی کعبہ میں داخل ہوجائے تو وہ اسے ایذا پہنچانے کی جرات نہیں کرسکتا۔ نیز اللہ نے کعبہ کے علاوہ اس پورے علاقہ کو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

210 ۔ اور اس حاظر وناظر، ہمہ بین۔ ہمہ دان حاکم کے آگے کوئی حیلہ۔ بہانہ نہ چل سکے گا) (آیت) ” اھل الکتب “ سے اشارہ خاص طور پر یہود کی جانب ہے جو مسلمانوں کو طرح طرح پر بہکاتے رہتے تھے۔ (آیت) ” تکفرون بایت اللہ “۔ آیات اللہ سے مراد خاص طور پر نبوت محمدی ﷺ کے شواہد و دلائل ہیں۔ اور کفر سے مراد نبوت محمدی ﷺ سے انکار ہے۔ المراد من ایات اللہ الایات اللتی نصھا اللہ تعالیٰ علی نبوۃ محمد (علیہ الصلوۃ والسلام) والمراد بکفرھم بھا کفر ھم بدلال تھا علی نبوۃ محمد (علیہ الصلوۃ والسلام) (کبیر) مشرکوں کو بار بار یہ جتلانے اور یاد دلانے کی ضرورت تھی کہ اللہ صرف موجود ہی نہیں بلکہ ذرہ ذرہ سے باخبر بھی ہے۔…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

قُلْ یَآاَھْلَ الْکِتَابِ لِمَ تَکْفُرُوْنَ بِآیَاتِ اللہِ ۔ سابق میں اہل کتاب کے عقائد فاسدہ کا بیان چل رہا تھا۔ درمیان میں حج کا ذکر آگیا، اب پھر سابق عنوان کی طرف عود کیا اس آیت میں اہل کتاب سے خطاب ہے اور اس کا تعلق ایک واقعہ سے ہے۔ ابن اسحاق نے اور زید بن اسلم سے ایک جماعت نے بیان کیا کہ ایک یہودی جس کا نام شماس بن قیس تھا جو اسلام اور مسلمانوں سے نہایت بغض اور کینہ رکھتا تھا ایک روز اس کا گزر ایک مجلس پر ہوا جس میں انصار کے دو قبیلہ اوس اور خزرج ایک جگہ بیٹھے ہوئے تھے شماس نے جب ان کی محبت اور الفت کو دیکھا تو حسد کی آگ سے جل بھن گیا، زمانہ جاہلیت میں ان دونوں قبیلوں میں شدید عداوت اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

قل یا اھل الکتاب لم تکفرون بایات اللہ اے محمد ﷺ آپ کہہ دیں کہ اے حاملان کتاب (سماوی) تم اللہ کے ان نقلی اور عقلی دلائل کا کیوں انکار کرتے ہو جو محمد رسول اللہ کے فرضیت حج وغیرہ کے دعوے کی سچائی کو ظاہر کر رہی ہیں۔ اہل کتاب کو خصوصیت کے ساتھ مخاطب کرنے کا حکم اس وجہ سے دیا کہ کتاب کو جانتے ہوئے کفر کرنا بد ترین فعل ہے۔ وا اللہ شہید علی ما تعملون حالانکہ اللہ تعالیٰ تمہارے کفر اور تحریف کتاب کے عمل سے باخبر ہے (دیکھ رہا ہے) تم کو اس کی ضرور سزا دے گا اس لیے حق کو پوشیدہ رکھنے کی تمہاری خواہش سود مند نہیں ہوگی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 98–99

(98۔ 99) اے اہل کتاب رسول اکرم ﷺ اور قرآن کریم کا کس لیے انکار کرتے ہو حالانکہ کہ اللہ تعالیٰ تمہارے کفر و گناہ کے چھپانے کو جانتا ہے اور کیوں ایسے شخص کو اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور اس کے دین سے ہٹانے کی کوشش میں لگے رہتے ہو جو کہ اللہ تعالیٰ اور رسول اکرم ﷺ اور قرآن کریم پر ایمان لا چکا ہے، اور اب اسے تم کجی اور گمراہی کے تلاش کرنے کی وجہ سے ہٹاتے ہو ؟ اللہ کے سامنے یہ راز نہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ تمہاری کفر و گناہ کی پوشیدہ کاروائیوں تک کو جانتا ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 98–99

قُلْ يٰٓاَھْلَ الْكِتٰبِ۔۔ : اہل کتاب کے شبہات کی تردید کرنے کے بعد اب انھیں ڈانٹ پلائی جا رہی ہے کہ تم نہ صرف یہ کہ حق پر خود ایمان نہیں لاتے، بلکہ جو لوگ اس پر ایمان لا چکے ہیں ان میں طرح طرح کے فتنے اور شوشے چھوڑ کر حق کی راہ میں کجی پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہو۔ ”تبغونہا عوجا“ کا مطلب ہے : ”تَبْغُوْنَ فِیْہَا عِوَجًا“ (تم اس دین میں کوئی نہ کوئی کجی تلاش کرتے ہو) اور پھر یہ سب کچھ جان بوجھ کر کر رہے ہو۔ اللہ تعالیٰ کو تمہارے یہ کرتوت خوب معلوم ہیں، تمہیں اپنے اس جرم کی سزا بھگتنا پڑے گی۔ ”سَبِيْلِ اللّٰهِ“ سے مراد یہاں اسلام ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 98–99

آیت نمبر 99۔ قولہ تعالیٰ : (آیت) ” قل یاھل الکتب لم تصدون عن سبیل اللہ “۔ یعنی (اے اہل کتاب) تم کیونکر اللہ تعالیٰ کے دین سے پھرتے ہو۔ (آیت) ” من امن “۔ (اے جو ایمان لا چکا) حسن نے تصدون ’ تاء کے ضمہ اور صاد کے کسرہ کے ساتھ قرات کی ہے اور یہ دونوں لغتیں ہیں (یعنی) صد اور اصد مثلا صل اللحم اور اصل جب گوشت بدبودار ہوجائے، اور ختم اور اختم بھی ہے جب تغیر اور تبدیلی آجائے، (آیت) ” تبغونھا عوجا “۔ یعنی تم اس کے لئے چاہتے ہو۔ (یعنی تبغونھا بمعنی تطلبون لھا ہے) پھر اس سے لام کو حذف کردیا گیا ہے جیسا کہ واذا کالوھم میں کہا گیا ہے، کہا جاتا ہے : بغیت لہ کذا یعنی طلبتہ میں نے اسے طلب کیا، چاہا، اور…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

(1) ابن اسحاق وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے زید بن اسلم ؓ سے روایت کیا ہے کہ شاس بن قیس جو زمانہ جاہلیت میں بہت بوڑھا آدمی تھا بڑا کافر تھا مسلمانوں کے ساتھ سخت کینہ رکھنے والا اور ان پر بہت حسد کرنے والا تھا ایک مرتبہ رسول اللہ ﷺ کے صحابہ اوس اور خزرج میں سے ایک مجلس میں اکٹھے بیٹھ کر آپس میں باتیں کر رہے تھے اس نے ان کی آپس میں محبت اور ان کا آپس میں جمع ہونا اور اسلام قبول کرنے کی وجہ سے باہمی مصالحت کو دیکھ کر بہت غصہ ہوا جبکہ زمانہ جاہلیت میں ان کے درمیان آپس میں سخت دشمنی تھی اس نے کہا کہ بنو قیلہ کے خاندان آپس میں اس شہر میں اکٹھے ہوگئے، اللہ کی قسم ! جبکہ یہ شہر…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[ قُلْ : آپ ﷺ کہیے ] يٰٓاَھْلَ الْكِتٰبِ : اے اہل کتاب ] [لِمَ تَـکْفُرُوْنَ : تم لوگ کیوں انکار کرتے ہو ] [بِاٰیٰتِ اللّٰہِ : اللہ کی آیات کا ] [وَ : حالانکہ ] [اللّٰہُ : اللہ ] [شَہِیْدٌ : گواہ ہے ] [عَلٰی مَا : اس پر جو ] [تَعْمَلُوْنَ : تم لوگ کرتے ہو ] ع و ج عَوِجَ (س) عَوْجًا : کسی چیز کا ٹیڑھا ہونا۔ عِوَجٌ (اسم ذات) : کجی ‘ پیچیدگی ‘ آیت زیر مطالعہ۔ ترکیب : ” تَصُدُّوْنَ “ کا مفعول ” مَنْ اٰمَنَ “ ہے۔ ” تَـبْغُوْنَـھَا “ کی ضمیر مفعولی ” سَبِیْل “ کے لیے ہے۔ ” سَبِیْلٌ“ مذکر و مؤنث دونوں طرح استعمال ہوتا ہے اس لیے مؤنث ضمیر بھی درست ہے ۔ ” عِوَجًا “ مفعول ثانی ہے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 98–101

یہودیوں کی شرارت سے مسلمانوں میں انتشار، اور مسلمانوں کو اتحاد و اتفاق کا حکم تفسیر درمنثور صفحہ 57: ج 2 میں ان آیات کا سبب نزول یوں لکھا ہے کہ شاس بن قیس ایک بوڑھا یہودی تھا جو بہت بڑا کافر تھا، یہ مسلمانوں سے بہت زیادہ کینہ رکھتا تھا اور بہت سخت حاسد بھی تھا۔ صحابہ ؓ کی ایک مجلس پر گزرا جس میں اوس اور خزرج کے حضرات جمع تھے۔ آپس میں باتیں کر رہے تھے۔ (اوس اور خزرج کے درمیان زمانہ جاہلیت میں لڑائیاں رہتی تھی) اس حاسد کو ان حضرات کا انس اور محبت کے ساتھ جمع ہونا اور آپس میں ان کی صلح ہونا بہت ناگوار ہوا۔ اس نے ایک یہودی نوجوان کو حکم دیا کہ تو جا کر ان کے پاس بیٹھ جا اور ان کو ان کی پرانی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 98–99

ملامت اہل کتاب بر کفر واغواء۔ قال تعالیٰ قل یا اھل الکتاب لم تکفرون تا تعملون۔ ربط۔ گزشتہ آیات میں یہود کے شبہات کا جواب دے کر یہ ثابت کردیا کہ نبی کریم ﷺ دین ابراہیمی پر ہیں اور خانہ کعبہ ہی اول معبد اور بناء ابراہیمی ہے اب ان آیات میں اہل کتاب کو ملامت کی جاتی ہے کہ حق واضح ہوجانے کے بعد تمہارا عجب حال ہے کہ خود بھی قبول حق سے محروم اور دوسروں کو بھی راہ حق سے ہٹانے کی کوشش میں لگے ہوئے ہو اسلام میں جھوٹے اور فرضی شکوک نکال نکال کر لوگوں کو یہ باور کرانا چاہتے ہو کہ اسلام سیدھا راستہ نہیں بلکہ ٹیڑھا ہے اللہ تمہاری ان سازشوں سے غافل نہیں چناچہ فرماتے ہیں آپ کہہ دیجئے کہ اے اہل کتاب کیوں منکر…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

141 پہلے اہل کتاب کے شبہات کا جواب دیا۔ اب یہاں سے انہیں زجر فرمایا۔ اے اہل کتاب تم اللہ کی آیتوں کا انکار کیوں کرتے ہو۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ تمہارے تمام ظاہری اور باطنی اعمال کو اچھی طرح جانتا ہے اور وہ تمہیں تمہاری بد اعمالیوں پر پوری پوری سزا دے گا۔ اور اہل کتاب سے یہودونصاریٰ کے علماء مراد ہیں۔ جیسا کہ حضرت حسن سے مروی ہے۔ قال الحسن ھم علماء اھل الکتاب الخ (کبیر ص 20 ج 2) ۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 98–101

ربط آیات : گذشتہ اسباق میں اللہ تعالیٰ نے اہل کتاب کے غلط ملط اعتراضات کے جوابات دیے اور ملت ابراہیمی کی وضاحت فرمائی۔ اور یہ بھی واضح کیا کہ حضور خاتم النبیین ﷺ اور آپ کے ساتھی ہی اصل ملت ابراہیمی پر قائم ہیں۔ اس کے علاوہ ملت ابراہیمی کے مرکزی قبلہ بیت اللہ شریف کا تذکرہ ہوا ، اور اس کے فضائل بھی بیان ہوئے۔ اللہ تعالیٰ نے ملت ابراہیمی کے اتباع کا بطور خصوصی حکم دیا۔ اب ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے بطور نصیحت اور تنبیہ اہل کتاب سے خطاب فرمایا ہے۔ کہ جب ھضور (علیہ السلام) کا ملت ابراہیمی پر قائم ہونا ثابت ہوچکا ، تو پھر اہل کتاب کو اس حقیقت کو تسلیم کرلینا چاہیئے۔ اور انہیں جان لینا چاہیئے۔ کہ…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

قُلْ يٰٓاَھْلَ الْكِتٰبِ لِمَ تَكْفُرُوْنَ بِاٰيٰتِ اللہِ۝ 0 ۤۖ وَاللہُ شَہِيْدٌ عَلٰي مَا تَعْمَلُوْنَ۝ 98 شَّهِيدُ وأمّا الشَّهِيدُ فقد يقال لِلشَّاهِدِ ، والْمُشَاهِدِ للشیء، وقوله : مَعَها سائِقٌ وَشَهِيدٌ [ ق/ 21] ، أي : من شهد له وعليه، وکذا قوله : فَكَيْفَ إِذا جِئْنا مِنْ كُلِّ أُمَّةٍ بِشَهِيدٍ وَجِئْنا بِكَ عَلى هؤُلاءِ شَهِيداً [ النساء/ 41] شھید یہ کبھی بمعنی شاہد یعنی گواہ آتا ہے چناچہ آیت مَعَها سائِقٌ وَشَهِيدٌ [ ق/ 21] اسکے ساتھ ( ایک) چلانے والا اور ( ایک ، گواہ ہوگا ۔ میں شہید بمعنی گواہ ہی ہے جو اس کے لئے یا اس پر گواہی دیگا ۔ اسی طرح آیت کریمہ : فَكَيْفَ إِذا جِئْنا مِنْ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 97–99

3 ؎ یعنی باوجود استطاعت کے حج بیت اللہ نہ کرے بلانے سے اس کے دربار میں نہ آئے تو اس کو بھی کسی کی پروا نہیں۔ 12 منہ

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

قُلْ یٰٓـاَہْلَ الْـکِتٰبِ لِمَ تَـکْفُرُوْنَ بِاٰیٰتِ اللّٰہِ صلے ق وَاللّٰہُ شَہِیْدٌ عَلٰی مَا تَعْمَلُوْنَ ۔ (اے پیغمبر کہہ دیجیے ! اے اہل کتاب تم اللہ کی آیات کا کیوں انکار کرتے ہو ؟ حالانکہ اللہ تعالیٰ گواہ ہے اس پر جو کچھ تم کر رہے ہو) (98) گزشتہ آیات میں قرآن کریم نے مختلف پہلوئوں سے اہل کتاب پر تنقید بھی کی اور ان کے بعض اعتراضات کا جواب بھی دیا اور پھر ان کے بنیادی سوال کو جس پر ان کی پوری تاریخ اور آنحضرت ﷺ اور اسلام کی مخالفت کا انحصار ہے۔ سوال کا ذکر کیے بغیر چھیڑا ہے اور نہایت پہلو دار طریقہ سے اس کا جواب دیا ہے۔ یہود کا زیادہ تر انحصار اس بات پر ہے کہ محمد رسول اللہ ﷺ چونکہ…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 97–98

فہم القرآن ربط کلام : حضرت یعقوب (علیہ السلام) کے حوالے سے اللہ تعالیٰ پر جھوٹ بولنا اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو بانئ کعبہ تسلیم نہ کرنا اور ملت ابراہیم سے انحراف کرنا کفر ہے۔ اہل کتاب ایسے حقائق کا انکار کرتے ہیں جو قیامت تک زندہ شہادت کے طور پر دنیا میں موجود ہیں اور رہیں گے۔ یعنی بیت اللہ کا مرکز ہدایت اور اللہ تعالیٰ کی رحمت و برکت کا مرجع قرار پانا ‘ زم زم کی برکات اور اس کا ہر وقت رواں دواں رہنا ‘ مقام ابراہیم کی شکل میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے قدموں کے نشانات ثبت ہونا ‘ صفا اور مروہ کا حضرت ہاجرہ[ کی سعی کی خاموش گواہی دینا۔ زمین کی چھاتی پر نسل در نسل کروڑہا انسانوں کا…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

98: قُلْ یٰٓاَھْلَ الْکِتٰبِ لِمَ تَکْفُرُوْنَ بِٰایٰتِ اللّٰہِ وَاللّٰہُ شَھِیْدٌ عَلٰی مَاتَعْمَلُوْنَ ۔ (اے اہل کتاب تم کیوں اللہ تعالیٰ کی آیات کا انکار کرتے ہو حالانکہ اللہ تعالیٰ گواہ ہیں تمہارے اعمال پر) وَاللّٰہُ میں وائو حالیہ ہے۔ مطلب یہ ہے تم ان آیات اللہ کا کیوں انکار کرتے ہو جو حضرت محمد ﷺ کی صداقت پر دلالت کرنے والی ہیں۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ تمہارے اعمال سے واقف ہیں پس وہ ان پر تمہیں سزادیں گے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 98–99

(98 ۔ 99) ۔ تفسیر ابن جریر وغیرہ میں حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے روایتیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ یہود نے پہلے تو ملت ابراہیمی پر اپنے آپ کو بتلایا اور جب ملت ابراہیمی کے موافق ان سے آنحضرت ﷺ نے حج ادا کرنے کو کہا تو حج سے انہوں نے انکار کیا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ اور فرما دیا کہ جو لوگ اللہ کے حکم کے تابع ہیں استطاعت کی حالت میں ان پر حج فرض ہے اور اہل کتاب کی طرح جو لوگ اللہ تعالیٰ کے حکم کے منکر ہیں اللہ کو ان کے انکار کی کچھ پرواہ نہیں۔ مگر اللہ ان کے کاموں سے غافل نہیں ہے وقت مقررہ پر اپنے کئے کی سزا پائیں گے۔ اس آیت میں اہل کتاب کو یہ بھی تنبیہ ہے کہ وہ تورات اور انجیل…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 98–101

اللہ تعالیٰ یہود و نصاریٰ کو زجر وتوبیخ فرماتا ہے کیونکہ انہوں نے اللہ کی آیات کے ساتھ کفر کیا، جو اس نے اپنے رسولوں پر نازل کیں، جنہیں اللہ نے اپنے بندوں کے لئے رحمت بنایا کہ ان کی رہنمائی میں اللہ تک پہنچ سکیں اور ان کی مدد سے تمام اہم مقاصد اور مفید علوم حاصل کریں۔ ان کافروں نے ان کا انکار بھی کیا، ان پر ایمان لانے والوں کو روکا، ان میں تحریف کی، انہیں اصل مفہوم سے پھیرنے کی کوشش کی۔ وہ خود ان جرائم کو تسلیم کرتے ہیں۔ انہیں خوب معلوم ہے کہ ان کا یہ کام بہت بڑا کفر ہے، جس کی سزا بہت سخت ہے۔ جیسے ارشاد ہے : (الذین کفروا وصدوا عن سبیل اللہ زدنھم عذاباً فوق العذاب بما کانوا یفسدون) (النحل…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 98–102

تقوی کی حد قول باری ہے (یایھا الذین آمنوا اتقوا اللہ حق تقاتہ، اے ایمان والو اللہ سے ڈرو جیسا کہ اس سے ڈرنے کا حق ہے) حضرت عبداللہ ؓ ، حسن اور قتادہ سے مروی ہے کہ (حق تقاتہ) کا مطلب یہ ہے کہ اس کی اطاعت کی جائے ادرنافرمانی نہ کی جائے اس کا شکراداکیاجائے اور ناشکری نہ کی جائے اسے یادکیاجائے اور بھلایانہ جائے۔ ایک قول میں اس کے معنی یہ بیان کیئے گئے ہیں کہ تمام گناہوں اور نافرنیوں سے پرہیز کیا جائے، اس آیت کے منسوخ ہونے کے متعلق اختلاف ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ اور طاؤس سے مروی ہے کہ یہ محکم ہے منسوخ نہیں ہوئی۔ قتادہ ربیع بن انس اور سدی سے مروی ہے کہ یہ قول باری (فاتقوا اللہ مااستطعتم، جہاں تک تم سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

200 اللہ تعالیٰ کے علم و آگہی کی تذکیر و یاددہانی : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ گواہ ہے تمہارے ان تمام کاموں پر جو تم لوگ کرتے ہو۔ پس تمہارا کوئی بھی قول و فعل اس سے مخفی نہیں رہ سکتا، اور تمہیں اس وحدہ لاشریک کے حضور حاضر ہو کر اپنے کئے کرائے کا جواب دینا اور بھرپور صلہ و بدلہ پانا ہے۔ پس ہر کوئی اپنا معاملہ خود دیکھ لے اور اپنے بارے میں خود غورو فکر کرلے کہ وہ کیا کررہا ہے اور اس وحدہ لاشریک کے یہاں وہ کس صلہ و بدلہ کا مستحق ہوسکتا ہے ۔ اللّٰھُمْ وَفقْنَا لِمَا تُحِبُّ وَتَرْضٰی مِنَ الْقَوْل وَالْعَمَلِِ ۔ بہر کیف اس میں اہل کتاب کو زجرو ملامت ہے کہ تم لوگ اللہ کی آیتوں کا انکار کیوں کرتے…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 98–99

اہل کتاب کا انکار تشریح : یہاں یہود و نصارٰی کا ہی ذکر ہے اللہ رب العزت رسول اللہ ﷺ کو مخاطب کرتے ہوئے یہی فرماتے ہیں کہ غلط اور ہٹ دھرم لوگ یہی سمجھے ہوئے ہیں کہ بس زندگی یہی ہے کہ خود بھی غلط راہ پر چلو اور دوسروں کو بھی ادھر ہی چلاؤ۔ اللہ رب العزت ان کے تمام اعمال اور نیتوں کو خوب اچھی طرح جانتے ہیں۔ اللہ رب العزت ان کی حالت پر افسوس کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ اے نبی ﷺ ! ان لوگوں کو کیا ہوگیا ہے۔ سب کچھ ان کو وضاحت سے بتا دیا گیا ہے حق و باطل کو یہ لوگ اچھی طرح جان چکے ہیں، نیکی اور بدی کی تمیز انہیں خوب اچھی طرح کروا دی گئی ہے اور یہ سمجھ بھی گئے ہیں مگر عقل کی خرابی یہ ہے کہ حق کو حق نہیں…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 92–101

آیات 92- 101 اسرارومعارف لن تنالو البر……………فان اللہ بہ علیم۔ بر سے مراد نیکی ہے اور نیکی کی اصل قرب رسول ہے کہ نبوت ایک ایسی نعمت ہے جس کی وجہ سے نبی معصوم ہوتا ہے یعنی مکالمہ باری کی برکات میں سے عصمت بھی ہے جو تمام انبیاء (علیہم السلام) کو نصیب ہوتی ہے۔ حصول بر قرب رسالت کا نام ہے : اسی طرح نبی کے قرب سے ایک خاص وصف ، جو مومن میں پیدا ہوتا ہے وہ گناہ سے نفرت اور نیکی کی محبت ہے جس کے باعث مومن گناہ سے محفوظ ہوجاتا ہے۔ اسی درجے کو حصول بر کہہ سکتے ہیں۔ اب اگر کسی شخص کو کسی طرح کا مال یا منافع اتنا عزیز ہو کہ وہ اسے حاصل کرنے کے لئے اپنے مسلمان ہونے کا اعلان کرے تو وہ اسلام کو کیسے پاسکتا…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 98–99

ف 1 رد شبہات کے بعد ان آیات میں اہل کتاب کو زجر وتوبیخ کی کہ تم نہ صرف یہ کہ حق پر خود ایمان نہیں لاتے بلکہ جو لوگ اس پر ایمان لا چکے ہیں ان میں طرح طرح کے فتنے اور مئو شے چھوڑ کر حق کی راہ میں کجی پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہو اور پھر یہ سب کچھ جان بوجھ کر کر رہے ہو اللہ تعالیٰ کو تمہارے یہ کر توت خوب معلوم ہیں۔ تمہیں اپنے اس جرم کی سزا بھگتی پڑے گی (کبیر)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

Explained with ayahs 97–98

(3:97) فیہ ایت بینت مقام ابراہیم۔ ومن دخلہ کان امنکم۔ فیہ اور دخلہ میں ہ ضمیر واحد مذکر غائب۔ بینت کی طرف راجع ہے جو آیہ ما قبل میں مذکور ہے۔ فیہ ایت بینت (فمنھا) مقام ابراہیم۔ اس میں کئی روشن نشانیاں ہیں (ان میں سے ایک) مقام ابراہیم ہے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 93–101

لغات القرآن آیت نمبر 93 تا 101 الطعام (کھانا) غنی (بےنیاز، بےپرواہ) فاتوا (پھر تم لے آؤ) تصدون (تم روکتے ہو) من افترٰی (جس نے گھڑا، جو کوئی تہمت لگائے) عوج (ٹیڑھ پن) صدق اللہ (اللہ نے سچ فرمایا) تتلیٰ (تلاوت کی گئی) اول بیتٍ (پہلاگھر) یعتصم مضبوط پکڑلیتا ہے) وضع (جس کو طاقت ہے، جو استطاعت رکھتا ہے) ۔ تشریح : آیت نمبر 93 تا 101 عیسائیوں اور یہودیوں کو اس بات پر بڑا فخر تھا کہ وہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی نسل سے ہیں۔ وہ اس بات کے بھی مدعی تھے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا اصل مذہب سینہ بہ سینہ ان تک ہی پہنچا ہے۔ جب نبی کریم ﷺ نے اپنا ملت ابراہیمی پر ہونا ہر اعتبار سے ثابت کردیا تو…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 97–99

استطاعت کی حالت میں مسلمان پر حج فرض ہے شان نزول : تفسیر ابن جریر وغیرہ میں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے راوایتیں ہیں۔ ان کا حاصل یہ ہے کہ یہود نے پہلے تو ملت ابراہیمی پر اپنے آپ کو بتلایا اور جب ملت ابراہیمی کے موافق آنحضرت ﷺ نے ان سے حج ادا کرنے کو کہا تو حج سے انہوں نے انکار کیا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں اور فرما دیا کہ جو لوگ اللہ کے حکم کے تابع ہیں، استطاعت کی حالت میں ان پر حج فرض ہے۔ اور اہل کتاب کی طرح جو لوگ اللہ تعالیٰ کے حکم کے منکر ہیں اللہ کو ان کے انکار کی کچھ پرواہ نہیں۔ مگر اللہ ان کے کاموں سے غافل نہیں ہے وقت مقررہ پر اپنے کئے کی سزا پاویں گے۔ اس آیت میں اہل…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 97–102

[37] یعنی ایسی علامات جو اس گھر کے اللہ کی جناب میں قبول ہونے پر دلالت کرتی ہیں اور وہ یہ ہیں : (1) لق و دق صحرا میں بنایا گیا اور پھر اللہ نے اس جگہ کو آباد کردیا اور وہاں کے رہنے والوں کے لئے رزق رسانی کے لئے بہتر سے بہتر انتظام کردیا۔ (2) ڈھائی ہزار برس تک دور جاہلیت میں تمام عرب فتنہ و فساد میں مبتلا رہا۔ صرف خانہ کعبہ اور اسی کے اطراف کا ایک خطہ ایسا تھا جس میں امن قائم رہا بلکہ اسی کعبہ کی یہ برکت تھی کہ سال بھر میں چار مہینے کے لئے پورے ملک میں اسی کی بدولت امن قائم ہوجاتا تھا۔ (3) یمن کی حبشی حکومت کے عیسائی بادشاہ ابرہہ نے اس آیت کے نزول سے صرف پچاس سال قبل جب کعبہ کو ڈھانے کی غرض سے…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 98–100

(ف 1) ان آیات میں اہل کتاب کی مخالفانہ اور معاندانہ کوششوں کا ذکر ہے کہ وہ جانتے ہوئے بھی حق وصداقت کا انکار کرتے ہیں اور صرف انکار پر ہی کفایت نہین کرتے بلکہ چاہتے ہیں کہ ان کے ساتھ دوسرے مسلمان بھی شریک ہوجائیں اور اراتداد اختیار کرلیں ، فرمایا مسلمانوں سے اس قسم کی توقعات رکھنا درست نہیں ، اس لئے کہ وہ صبح وشام قرآن حکیم کی آیات سنتے ہیں جن میں تمہارے ہر فریب کی تشریح موجود ہے اور ان کے شبہات دور کرنے کے لئے خود اللہ کا رسول ﷺ ان میں موجود ہے جو بجائے خود ہر کفر ونفاق کا ایک مستقل جواب ہے ، جب تک اس کا وجود مسعود مسلمانوں میں موجود ہے ، انہیں ارتداد کا خوف نہیں ، اور اگر کوئی بخت پہلے سے…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

ف 1 اے پیغمبر آپ ان اہل کتاب سے فرمائیے اے اہل کتاب تم لوگ آیات الٰہی اور احکام خداوندی کے ساتھ کیوں کفر کرتے ہو اور حقائق واقعیہ کے قبول کرنے سے کلبوں انکار کرتے ہو، حالانکہ اللہ تعالیٰ ان تمام کارروائیوں سے جو تم کرتے ہو باخبر اور آگاہ ہے اور تم جو کچھ کر رہے ہو وہ ان سب پر مطلع ہے اور یہ سب کچھ اس کے روبرو ہو رہا ہے۔ (تیسیر) شہید کے معنی موجود اور حاضر ہونے کے ہیں یہاں مراد یہ ہے کہ جو تم کر رہے ہو اس کی موجودگی میں کر رہے ہو پھر بھی تم کو اس کی نافرمانی کرنے میں کوئی جھجک محسوس نہیں ہوتی۔ بغوی نے اس آیت کے شان نزول میں شماس بن قیس کا ایک واقعہ ذکر کیا ہے یہ بڑا متعصب تھا اور مسلمانوں کی…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 98–102

ف 1۔ کامل ڈرنے کا مطلب یہ ہے کہ جس طرح شروکفر سے بچے ہو کل معاسی سے بھی بچا کرو آیت کا مطلب یہ ہے کہ ادنی تقوی پر اکتفامت کرو بلکہ اعلی اور کامل درجہ کا تقوی اختیار کرو جس میں معاصی سے بھی بچنا آگیا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اہل کتاب کو تنبیہ کہ اللہ کی آیتوں کا انکار کرنے والو باز آجاؤ : 190: اہل کتاب کو مخاطب کر کے فرمایا جارہا ہے کہ اے اہل کتاب تم اللہ کی آیات کا کیونکر انکار کرتے ہو یعنی تمہارے پاس محمد رسول اللہ ﷺ اور آپ ﷺ کی لائی ہوئی آیات بینات کے انکار کی ٓاخر کیا دلیل ہے ؟ اس لیے کہ محمد رسول اللہ ﷺ بنی اعظم و آخر کو تسلیم کرنے اور ماننے کی تلقین تو تمہاری مذہی کتابوں توراة و انجیل میں تاکیداً درج ہے۔ دوسری قومیں انکار کریں تو ان کے انکار کی وجہ تو لاعلمی اور نادانی ہو سکتی ہے۔ لیکن تمہارے انکار کی وجہ کیا ہو سکتی ہے کیا تم کو یہ سمجھ نہیں آتی کہ تم نے محمد رسول اللہ ﷺ اور اللہ کریم کا جو اللہ تعالیٰ کی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 98–101

Commentary Several verses earlier, the text was dealing with the people of the Book, their false beliefs and their doubts. Then, appeared the mention of بیت اللہ Baytullah and Hajj. Now once again, the people of the Book are the addressees. These verses relate to a particular event. There was a Jew, Shammas ibn Qays, who harboured a chronic malice against Muslims. Once, when he saw two Ansar tribes, Aws and Khazraj, gathered together amiably at one place, his malevolence got the better of him and he went about looking for ways to sow seeds of discord between them. Finally, he set up a man…

Read the full tafseer →