Explained with ayahs 96–97
ذکر بیت اللہ اور احکامات حج
یعنی لوگوں کی عبادت قربانی طواف نماز اعتکاف وغیرہ کے لئے اللہ تعالیٰ کا گھر ہے جس کے بانی حضرت ابراہیم خلیل ہیں، جن کی تابعداری کا دعویٰ یہود و نصاریٰ مشرکین اور مسلمان سب کو ہے وہ اللہ کا گھر جو سب سے پہلے مکہ میں بنایا گیا ہے، اور بلاشبہ خلیل اللہ ہی حج کے پہلے منادی کرنے والے ہیں تو پھر ان پر تعجب اور افسوس ہے جو ملت حنیفی کا دعویٰ کریں اور اس گھر کا احترام نہ کریں حج کو یہاں نہ آئیں بلکہ اپنے قبلہ اور کعبہ الگ الگ بناتے پھریں۔ اس بیت اللہ کی بنیادوں میں ہی برکت و ہدایت ہے اور تمام جہان والوں کے لئے ہے، حضرت ابوذر ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا کہ سب سے پہلے کونسی…
Read the full tafseer →سورة اٰلِ عِمْرٰن 80
یعنی اس گھر میں ایسی صریح علامات پائی جاتی ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ اللہ کی جناب میں مقبول ہوا ہے اور اسے اللہ نے اپنے گھر کی حیثیت سے پسند فرما لیا ہے۔ لق و دق بیابان میں بنایا گیا اور پھر اللہ نے اس کے جوار میں رہنے والوں کی رزق رسانی کا بہتر سے بہتر انتظام کردیا۔ ڈھائی ہزار برس تک جاہلیت کے سبب سے سارا ملک عرب انتہائی بدامنی کی حالت میں رہا، مگر اس فساد بھری سر زمین میں کعبہ اور اطراف کعبہ ہی کا ایک خطہ ایسا تھا جس میں امن قائم رہا۔ بلکہ اسی کعبہ کی یہ برکت تھی کہ سال بھر میں چار مہینہ کے لیے پورے ملک کو اس کی بدولت امن میسر آجاتا تھا۔ پھر ابھی نصف صدی پہلے ہی سب…
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر
اس میں (کچھ تشریعی کچھ تکوینی) کھلی نشانیاں (اس کی افضلیت کی موجود) ہیں (چنانچہ تشریعی نشانیوں میں اس کا مبارک اور ہدی بتفسیر مذکور ہونا بیان ہوچکا اور کچھ مقام ابراہیم کے بعد مذکور ہیں یعنی اس میں داخل ہونے والے کا مستحق امن ہوجانا اور اس کا حج بشرائطہ فرض ہونا جو کہ مطلق مشروعیۃ مذکورہ سابق پر زائد مفہوم ہے۔ یہ چار نشانیاں تو تشریعی اس جگہ مذکور ہیں، اب درمیان میں تکوینی کا ذکر فرماتے ہیں کہ) منجملہ ان (نشانیوں) کے ایک مقام ابراہیم (نشانی) ہے، اور (ایک تشریعی نشانی یہ ہے کہ) جو شخص اس (کے حدود متعلقہ) میں داخل ہوجاوے وہ (شرعا) امن والا ہوجاتا ہے اور (ایک تشریعی نشانی یہ ہے کہ)…
Read the full tafseer →کعبہ کے بیت اللہ ہونے کی نشانیاں : فِيْهِ اٰيٰتٌۢ بَيِّنٰتٌ، یعنی اس میں نہایت واضح نشانیاں اس بات کی موجود ہیں کہ یہی گھر حضرت ابراہیم ؑ کا بنایا ہوا ہے۔ ان نشانیوں کو اگرچہ یہود نے مٹٓنے کی کوشش کی لیکن تورات میں آج بھی ایسے ناقابلِ تردید شواہد موجود ہیں جو یہود کی تمام تحریفات کا پردہ چاک کر کے اصل حقیقت کو بالکل بےنقاب کردیتے ہیں ہم نے سورة بقرہ کی تفسیر میں قبلہ کی بحث میں اس مسئلے پر سیر حاصل بحث کی ہے۔ جو لوگ تفصیل کے طالب ہوں اس بحث کو پڑھیں، یہاں اس کے دہرانے میں طوالت ہوگی۔
نشانیوں کا بالاجمال ذکر کرنے کے بعد جس طرح عام کے بعد خاص کا ذکر ہوتا ہے تین چیزوں کی طرف خاص طور پر اشارہ…
Read the full tafseer →97۔ 1 اس میں قتال، خون ریزی، شکار حتٰی کہ درخت تک کاٹنا ممنوع ہے۔
97۔ 2 راہ پاسکتے ہوں کا مطلب زاد راہ کی استطاعت اور فراہمی ہے۔ یعنی اتنا خرچ کہ سفر کے اخراجات پورے ہوجائیں۔ علاوہ ازیں استطاعت کے مفہوم میں یہ بھی داخل ہے کہ راستہ پر امن ہو اور جان و مال محفوظ رہے اسی طرح یہ بھی ضروری ہے کہ صحت اور تندرستی کے لحاظ سے سفر کے قابل ہو نیز عورت کے لئے محرم بھی ضروری ہے۔ یہ آیت ہر صاحب استطاعت کے لئے وجوب حج کی دلیل ہے اور احادیث سے امر کی وضاحت ہوتی ہے کہ یہ عمر میں صرف ایک دفعہ فرض ہے۔
97۔ 3 استطاعت کے باوجود حج نہ کرنے کو قرآن نے کفر سے تعبیر کیا ہے جس سے حج کی فرضیت میں اور اس کی تاکید میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 97–99
تشریح : یہاں سے 108 تک کی آیات ایک خاص واقعے کے بارے میں نازل ہوئی ہیں، مدینہ منورہ میں دو قبیلے اوس و خزرج کے نام سے آباد تھے، اسلام سے پہلے ان کے درمیان سخت دشمنی تھی اور دونوں میں وقتاً فوقتاً جنگیں ہوتی رہتی تھیں جو بعض اوقات سالہا سال جاری رہتی تھیں، جب ان قبیلوں کے لوگ مسلمان ہوگئے تو اسلام کی برکت سے ان کی یہ دشمنی ختم ہوگئی اور اسلام کے دامن میں آکر وہ شیر وشکر ہو کر رہنے لگے، بعض یہودیوں کو ان کا یہ اتحاد ایک آنکھ نہیں بھاتا تھا، ایک مرتبہ دونوں قبیلوں کے لوگ ایک مجلس میں جمع تھے، ایک یہودی شماس بن قیس نے ان کے پیار محبت کا یہ منظر دیکھا تو اس سے نہ رہا گیا اور اس نے ان کے درمیان…
Read the full tafseer →یہاں انداز تعبیر قابل توجہ ہے ‘ فرضیت حج نہایت ہی عموم اور شمول پر مشتمل ہے ۔ اس کے لئے علی الناس ” تمام لوگوں پر “ کا لفظ استعمال کیا گیا ہے ‘ اس میں پہلا اشارہ تو یہ ہے کہ یہ حج ان یہودیوں پر بھی فرض کیا گیا ہے جو اس وقت رسول اکرم ﷺ کے ساتھ مناظرہ اور محاربہ کررہے ہیں کہ کیوں مسلمانوں نے اس کی طرف منہ کرکے عبادت کرنا شروع کردیا ہے۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے خود اہل کتاب سے بھی یہی مطالبہ کیا ہے کہ وہ گھر کا حج کریں ۔ اس کی طرف متوجہ ہوں ‘ کیونکہ یہ ان کے باپ ابراہیم کا تعمیر کردہ ہے اور پھر اس کرہ ارض پر یہ پہلا گھر ہے اللہ کا اور جو صرف اس کی عبادت کے لئے تعمیر کیا گیا ہے ۔ اس لئے…
Read the full tafseer →7 حق تعالیٰ نے شروع سے اس گھر کو ظاہری و باطنی، حسی و معنوی برکات سے معمور کیا اور سارے جہان کی ہدایت کا سرچشمہ ٹھہرایا ہے۔ روئے زمین پر جس کسی مکان میں برکت و ہدایت پائی جاتی ہے اسے بیت مقدس کا ایک عکس اور پر تو سمجھنا چاہیئے۔ یہیں سے رسول الثَّقَلین کو اٹھایا، مناسک حج ادا کرنے کے لئے سارے جہان کو اسی کی طرف دعوت دی۔ عالمگیر مذہب اسلام کے پیرو وں کو مشرق و مغرب میں اسی کی طرف منہ کر کے نماز پڑھنے کا حکم ہوا۔ اسکے طواف کرنے والوں پر عجیب و غریب برکات و انوار کا افاضہ فرمایا۔ انبیائے سابقین بھی حج ادا کرنے کے لئے نہایت شوق و ذوق سے تلبیہ پکارتے ہوئے اسی شمع کے پروانے بنے اور طرح طرح کی ظاہر و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 97–98
آیت 97 فِیْہِ اٰیٰتٌم بَیِّنٰتٌ مَّقَامُ اِبْرٰہِیْمَ ج ۔
سورۃ البقرۃ کے نصفِ اوّل کے آخری چار رکوعوں 15 ‘ 16 ‘ 17 ‘ 18 میں پہلے حضرت ابراہیم علیہ السلام اور خانہ کعبہ کا ذکر ہے ‘ پھر باقی ساری گفتگو ہے۔ یہاں سورة آل عمران کے نصفِ اوّل کے تیسرے حصے میں حضرت ابراہیم علیہ السلام اور خانہ کعبہ کا تذکرہ آخر میں آیا ہے۔ گویا مضامین وہی ہیں ‘ ترتیب بدل گئی ہے۔
وَمَنْ دَخَلَہٗ کَانَ اٰمِنًا ط
آ جاتا ہے۔
جاہلیت کے بدترین دور میں بھی بیت اللہ امن کا گہوارہ تھا۔ پورے عرب کے اندر خونریزی ہوتی تھی ‘ لیکن حرم کعبہ میں اگر کوئی اپنے باپ کے قاتل کو بھی دیکھ لیتا تھا تو اسے کچھ نہیں کہتا تھا۔ حرم کی یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 97–98
85 آیات بینات سے مراد ایسی واضح نشانیاں جنہیں سب لوگ دیکھتے یا دیکھ سکتے ہیں۔ مثلاً یہ کہ یہ گھر ایک لق و دق میدان میں تعمیر کیا گیا۔ اسی جگہ اللہ تعالیٰ نے معجزانہ طور پر زمزم کا چشمہ پیدا فرمایا اور اس سے بڑا معجزہ یہ ہے کہ دنیا بھر کے مسلمان وہاں جا کر یہ پانی استعمال کرتے اور اپنے گھروں میں لاتے ہیں، مگر اس چشمہ کا پانی ختم ہونے میں نہیں آتا۔ نیز یہ پانی بھوک اور پیاس دونوں کو دور کرتا اور کئی بیماریوں کے لیے شفا ہے پھر اس گھر کو اللہ نے ایسا مامون بنادیا کہ اگر کسی کا جانی دشمن بھی کعبہ میں داخل ہوجائے تو وہ اسے ایذا پہنچانے کی جرات نہیں کرسکتا۔ نیز اللہ نے کعبہ کے علاوہ اس پورے علاقہ کو…
Read the full tafseer →206 ۔ تقدیر کلام یوں ہے منھا مقام ابراہیم والتقدیر منھا مقام ابراھیم قال الاخفش (قرطبی) (آیت) ” فیہ “۔ یعنی اس اول بیت میں (آیت) ”۔ ایت بینت “۔ کھلے ہوئے توحید الہی کے شعائر یا حج کے شعائر۔ والمراد بالایات شعائر الحج (کبیر) (آیت) ” مقام ابرھیم “۔ پر حاشیہ پارۂ اول کے آخر یعنی سورة بقرہ کے رکوع 16 میں گزر چکا۔ (آیت) ” بیت “۔ سے یہاں مراد خانہ کعبہ نہیں بلکہ سارا حرم شریف ہے۔ (آیت) ” مقام ابرھیم “۔ کے نام سے جو پتھر رکھا ہوا ہے وہ خانہ کعبہ کے اندر نہیں باہر ہی ہے۔ المراد بالبیت ھنا الحرم کلہ لان ھذہ الایات موجودۃ فی الحرم ومقام ابراھیم لیس فی البیت انما ھو خارج البیت (جصاص)
207 ۔ (شریعت الہی…
Read the full tafseer →مَقَامُ اِبْرَاھَیْمَ ۔ یہ یا تو مبتدا محذوف الخبر ہے۔ ای منھا مقام ابراہیم، یا مبتداء محذوف کی خبر ہے، ای اَحْدُھَا مَقام ابراھیم، اور بعض نے آیات بَیّنٰت سے بدل البعض اور بعض نے عطف بیان قرار دیا ہے۔ ان نشانیوں میں سے ایک بڑی نشانی مقام ابراہیم ہے اسی لیے قرآن کریم نے اس کو مستقل علیحدہ طور پر بیان فرمایا۔ مقام ابراہیم وہ پتھر ہے جس پر کھڑے ہو کر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) بیت اللہ کی تعمیر فرماتے تھے، اور بعض روایات میں ہے کہ یہ پتھر تعمیر کی بلندی کے ساتھ ساتھ خود بخود بلند ہوجاتا تھا اور نیچے اترنے کے وقت نیچا ہوجاتا تھا، اس کے اوپر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے قدم مبارک کا گہرا نشان آج…
Read the full tafseer →فیہ ایٰت بینات اسی میں (صداقت و حقانیت کی) بکثرت واضح علامات موجود ہیں مثلاً پرندے اس کے اوپر نہیں اڑتے۔ شکاری جانور حرم کے باہر اپنے شکار پر حملہ کرتا ہے لیکن اگر شکار بھاگ کر حرم میں داخل ہوجائے تو درندہ اندر نہیں آتا باہر ہی رک جاتا ہے۔
مقام ابراہیم ان نشانیوں میں سے ایک نشانی مقام ابراہیم ہے یہ ترجمہ اس وقت ہوگا جب مقام ابراہیم کو مبتداء اور خبر کو محذوف قرار دیا جائے لیکن یہ بھی ممکن ہے کہ مقام ابراہیم کو آیات سے بدل قرار دیا جائے اس وقت ترجمہ اس طرح ہوگا کہ کعبہ کے اندر بکثرت واضح نشانیاں ہیں یعنی مقام ابراہیم ہے وغیرہ وغیرہ مقام ابراہیم وہ پتھر ہے جس پر کھڑے ہو کر حضرت ابراہیم نے بیت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 96–97
(96۔ 97) سب سے پہلی مسجد جو مسلمانوں کے لیے بنائی گئی یعنی خانہ کعبہ اور مکہ کو ”بکہ“ اس لیے کہا گیا کیوں کہ طواف میں ہجوم کی بنا پر ایک دوسرے پر گرتے ہیں اور بڑے بڑے سرکش ونافرمان آکر وہاں آہ زاری کرتے ہیں ،
اور وہ مقام مغفرت و رحمت والا ہے اور وہ ہر ایک نبی رسول صدیق اور مومن کا قبلہ ہے اور اس میں کھلی نشانیاں موجود ہیں اور حضرت اسماعیل ؑ کا پتھر اور حجر اسود موجود ہے اور اس میں جو داخل ہو وہ حملہ سے امن والا ہوجاتا ہے اور مسلمانوں میں سے اس شخص پر جو وہاں تک جانے آنے کھانے پینے اور اپنی واپسی تک اپنے اہل و عیال کو خرچہ دینے کی طاقت رکھتا ہو اس پر حج بیت اللہ فرض ہے، اور جو شخص اللہ تعالیٰ…
Read the full tafseer →وَلِلّٰهِ عَلَي النَّاسِ حِجُّ الْبَيْتِ : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے، اس بات کی شہادت کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اور اس کی (شہادت) کہ محمد ﷺ اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں اور نماز قائم کرنا اور زکوٰۃ دینا اور حج کرنا اور رمضان کے روزے رکھنا۔“ [ بخاری، الإیمان، باب دعاؤکم إیمانکم : 8، عن ابن عباس ؓ ] ہر عاقل و بالغ مسلمان پر جو کعبہ تک پہنچنے کی استطاعت رکھتا ہے، اس پر عمر بھر میں ایک مرتبہ حج فرض ہے۔ [ مسلم، الحج، باب فرض الحج مرۃ فی العمر : 1337 ]
مَنِ اسْـتَـطَاعَ اِلَيْهِ سَبِيْلًا : استطاعت کی تفسیر حدیث میں زاد راہ اور سواری سے کی گئی ہے۔ […
Read the full tafseer →قولہ تعالیٰ : (آیت) ” وللہ علی الناس حج البیت من استطاع الیہ سبیلا ومن کفر فان اللہ غنی عن العلمین “۔
اس میں نو مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر : (1) قولہ تعالیٰ : (آیت) ” وللہ “ اس میں لام ایجاب والزام کے لئے ہے پھر اسے ارشاد باری تعالیٰ ” علی “ کے ساتھ مؤکد کیا، یہ عربوں کے نزدیک الفاظ وجوب کی تاکید لگانے والے حروف میں سے ہے، پس جب کوئی عربی یہ کہے : لفلان علی کذا تو تحقیق اس نے اسے مؤکد کردیا اور اپنے اوپر واجب کرلیا، تو اللہ تعالیٰ نے بلیغ ترین الفاظ وجوب کے ساتھ حج کا ذکر کیا اپنے حق کی تاکید لگاتے ہوئے اور اس کی حرمت کی تعظیم کرتے ہوئے اور اس کے فرض ہونے میں کوئی اختلاف نہیں اور یہ ارکان اسلام…
Read the full tafseer →(1) سعید بن منصور، فریابی، عبد بن حمید، ابن المنذر اور ابن الانباری نے مصاحف میں حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ وہ اس طرح پڑھتے تھے لفظ آیت ” فیہ ایت بینت مقام ابراہیم “۔
(2) ابن الانباری نے مجاہد (رح) سے روایت کیا ہے کہ وہ اس کو ” فیہ ایت بینت “ پڑھتے تھے۔
(3) عبدبن حمید نے عاصم بن ابی النجود (رح) سے ” فیہ ایت بینت “ روایت کیا ہے یعنی جمع کے صیغوں کے ساتھ۔
(4) ابن جریر وابن ابی حاتم نے عوفی کے طریق سے حضرت ابن عباس ؓ سے لفظ آیت ” فیہ ایت بینت “ کے بارے میں روایت کیا ہے کہ ان سے مراد مقام ابراہیم اور مشعر الحرام ہیں۔
(5) ابن جریر نے مجاہد و قتادہ رحمۃ اللہ علیہما سے اس آیت کے بارے میں…
Read the full tafseer →[فِیْہِ : اس میں ] [اٰيٰتٌۢ بَيِّنٰتٌ : کچھ واضح نشانیاں ہیں ] [مَّقَامُ اِبْرٰہِیْمَ : (ان میں سے) ابراہیم (علیہ السلام) کے کھڑے ] [ہونے کی جگہ ہے ] [وَمَنْ : اور جو ] [دَخَلَہٗ : داخل ہوگا اس میں ] [کَانَ : تو وہ ہوگا ] [اٰمِنًا : امن میں ہونے والا ] [وَلِلّٰہِ : اور اللہ کے لیے ہی ہے ] [عَلَی النَّاسِ : لوگوں پر ] [حِجُّ الْبَیْتِ : البیت (یعنی خانۂ کعبہ) کا حج ] [مَنِ : (ان میں سے) اس پر جو ] [اسْتَطَاعَ : قدرت رکھتا ہو ] [اِلَـیْہِ : اس کی طرف ] [سَبِیْلاً : راستے کی ] [وَمَنْ : اور جس نے ] [کَفَرَ : انکار کیا ] [فَاِنَّ اللّٰہَ : تو بیشک اللہ ] [غَنِیٌّ : بےنیاز ہے ] [عَنِ…
Read the full tafseer →آیات بینات اور مقام ابراہیم :
پھر فرمایا (فِیْہِ اٰیٰتٌ بَیِّنٰتٌ مَّقَامُ اِبْرٰھِیْمَ ) (اس میں آیات بینات ہیں اور مقام ابراہیم ہے) جن آیات کا تذکرہ فرمایا ہے ان میں سے بعض آیات تکوینی ہیں اور بعض آیات تشریعی ہیں۔ کعبہ شریف کا مبارک ہونا اور (ھُدًی لِّلْعٰلَمِیْنَ ) ہونا اور جو شخص وہاں داخل ہوجائے اس کا مامون ہونا اور بشرط استطاعت حج کا فرض ہونا یہ تشریعی نشانیاں ہیں اور مقام ابراہیم کا وہاں موجود ہونا (یہ وہ پتھر ہے جو زینہ کا کام کرتا تھا۔ اس پر کھڑے ہو کر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) تعمیر کرتے تھے) یہ تکوینی نشانی ہے جو اب تک موجود ہے۔ سب کی نظروں کے سامنے ہے۔ نیز کعبہ شریف کی تکوینی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 96–97
قال تعالیٰ ان اول بیت وضع للناس ببکۃ۔۔۔۔ تا۔۔۔ عن العالمین
اب آیات میں یہود کے دوسرے شبہ کا جواب ذکر فرماتے ہیں کہ بیت المقدس خانہ کعبہ سے افضل ہے اور وہی تمام انبیاء کا قبلہ ہے تو اے مسلمانوں تمہارے نبی نے بیت المقدس کو چھوڑ کر خانہ کعبہ کو کیوں اپنا قبلہ بنایا حق جل شانہ نے ان آیات میں یہ بتلایا کہ خانہ کعبہ بیت المقدس سے افضل اور اشرف ہے لہذا اسی کو قبلہ بنانا بہتر ہے چناچہ فرماتے ہیں تحقیق پہلا گھر جو من جانب اللہ لوگوں کی عبادت کے لیے قبلہ مقرر کیا گیا وہ وہی مکان اور گھر ہے جو شہر مکہ میں ہے جس کو خانہ کعبہ بیت اللہ کہتے ہیں بڑی خیرو برکت ولاجس میں ایک نماز ادا کرنے سے ایک لاکھ نمازوں…
Read the full tafseer →137 فِیْهِ کی ضمیر کا مرجع بیت (یعنی خانہ کعبہ) ہے اور آیات سے بیت اللہ کی فضیلت اور حرمت کی نشانیاں مراد ہیں جن میں سے کچھ تو اس سے پہلے مذکور ہوچکی ہیں مثلاً بیت اللہ کا مبارک اور مرکز ہدایت ہونا اور کچھ کا ذکر آرہا ہے مثلاً اس میں داخل ہونیوالوں کا امن اور محفوظ ہوجانا اور اس کے حج کا فرض ہونا والجملۃ اما مستانفۃ فی ٗ بھا بیان وتفسیرا للھدی (روح ص 6 ج 4) قال الزجاج ان ومن دخلہ کان آمنا من بقیۃ تفسیر الایات الخ (کبری ص 14 ج 3) اور مقام ابراہیم مبتدا ہے اور اس کی خبر مِنْھَا محذوف ہے (روح) یعنی منجملہ ان آیات بینات کے مقام ابراہیم ہے اور مقام ابراہیم سے مشہور تفسیر کے مطابق وہ پتھر مراد ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 96–97
گذشتہ سے پیوستہ :
یہودیوں نے ملت ابراہیمی کی نسبت مسلمانوں پر دو سوال کیے تھے اول یہ کہ اگر اہل اسلام ملت ابراہیمی پر ہونے کے دعویدار ہیں ، تو پھر وہ اونٹ کا گوشت اور اونٹنی کا دودھ کیوں استعمال کرتے ہیں۔ جب کہ ملت ابراہیمی میں یہ چیزیں حرام تھیں۔ اس سوال کا جواب گذشتہ آیات میں آچکا ہے۔ کہ یہ چیزیں ملت ابراہیمی میں حرام تھیں۔ صرف یعقوب (علیہ السلام) نے اپنی نذر کی تکمیل میں از خود ان اشیاء کو اپنے اوپر حرام کرلیا تھا۔ باقی سب لوگوں کے لیے حلال تھیں مگر آپکی اولاد نے بھی محض آپکی اتباع میں ان چیزوں کا استعمال ترک کردیا۔ یہ تو نزول تورات سے سینکڑوں سال پہلے کی بات ہے۔ البتہ تورات کے نازل ہونے…
Read the full tafseer →فِيْہِ اٰيٰتٌۢ بَيِّنٰتٌ مَّقَامُ اِبْرٰہِيْمَ 0ۥۚ وَمَنْ دَخَلَہٗ كَانَ اٰمِنًا 0 ۭ وَلِلہِ عَلَي النَّاسِ حِجُّ الْبَيْتِ مَنِ اسْـتَـطَاعَ اِلَيْہِ سَبِيْلًا 0 ۭ وَمَنْ كَفَرَ فَاِنَّ اللہَ غَنِىٌّ عَنِ الْعٰلَمِيْنَ 97
الآية
والآية : هي العلامة الظاهرة، وحقیقته لکل شيء ظاهر، وهو ملازم لشیء لا يظهر ظهوره، فمتی أدرک مدرک الظاهر منهما علم أنه أدرک الآخر الذي لم يدركه بذاته، إذ کان حكمهما سواء، وذلک ظاهر في المحسوسات والمعقولات، فمن علم ملازمة العلم للطریق المنهج ثم وجد العلم علم أنه وجد الطریق، وکذا إذا علم شيئا مصنوعا علم أنّه لا بدّ له من صانع .
الایۃ ۔
اسی کے معنی علامت ظاہر ہ یعنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 97–99
3 ؎ یعنی باوجود استطاعت کے حج بیت اللہ نہ کرے بلانے سے اس کے دربار میں نہ آئے تو اس کو بھی کسی کی پروا نہیں۔ 12 منہ
Read the full tafseer →Explained with ayahs 96–97
اِنَّ اَوَّلَ بَیْتٍ وُّضِعَ لِلنَّاسِ لَلَّذِیْ بِبَکَّۃَ مُبٰرَکًا وَّہُدًی لِّـلْعٰـلَمِیْنَ ۔ ج فِیْہِ اٰیٰتٌ م بَـیِّنٰتٌ مَّقَامُ اِبْـٰرہِیْمَ 5 ج وَمَنْ دَخَلَـہٗ کَانَ اٰمِنًا ط وَلِلّٰہِ عَلَی النَّاسِ حِجُّ الْـبَـیْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ اِلَیْہِ سَبِیْلاً ط وَمَنْ کَفَرَ فَاِنَّ اللّٰہَ غَنِیٌّ عَنِ الْعٰـلَمِیْنَ ۔
(بےشک سب سے پہلا گھر جو لوگوں کے لیے بنایا گیا یہی ہے جو مکہ میں ہے برکت والا اور ہدایت تمام جہان والوں کے لیے۔ اس میں واضح نشانیاں ہیں جیسے مقام ابراہیم ہے اور جو اس میں داخل ہوگیا وہ مامون ہوگیا اور جو لوگ وہاں تک پہنچنے کی استطاعت رکھتے ہیں ان کے اوپر اس گھر کا حج ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 97–98
فہم القرآن
ربط کلام : حضرت یعقوب (علیہ السلام) کے حوالے سے اللہ تعالیٰ پر جھوٹ بولنا اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو بانئ کعبہ تسلیم نہ کرنا اور ملت ابراہیم سے انحراف کرنا کفر ہے۔
اہل کتاب ایسے حقائق کا انکار کرتے ہیں جو قیامت تک زندہ شہادت کے طور پر دنیا میں موجود ہیں اور رہیں گے۔ یعنی بیت اللہ کا مرکز ہدایت اور اللہ تعالیٰ کی رحمت و برکت کا مرجع قرار پانا ‘ زم زم کی برکات اور اس کا ہر وقت رواں دواں رہنا ‘ مقام ابراہیم کی شکل میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے قدموں کے نشانات ثبت ہونا ‘ صفا اور مروہ کا حضرت ہاجرہ[ کی سعی کی خاموش گواہی دینا۔ زمین کی چھاتی پر نسل در نسل کروڑہا انسانوں کا…
Read the full tafseer →کعبہ خود نشانات میں سے بڑا نشان ہے :
97: فِیْہِ ٰایٰتٌم بَیِّنٰتٌ مَّقَامُ اِبْرٰھِیْمَ وَمَنْ دَخَلَہٗ کَانَ ٰامِنًاط وَلِلّٰہِ عَلَی النَّاسِ حِجُّ الْبَیْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ اِلَیْہِ سَبِیلًاط وَمَنْ کَفَرَ فَاِنَّ اللّٰہَ غَنِیٌّ عَنِ الْعٰلَمِیْنَ ۔ (اس میں واضح نشانات ہیں) جو کسی پر مشتبہ نہیں مَّقَامُ اِبْرٰھِیْمَ مقام ابراہیم یہ آیات بینات سے عطف بیان ہے۔ یعنی کعبہ میں کثرت سے واضح نشانیاں یعنی مقام ابراہیم ہے۔ جمع کا عطف بیان واحد آسکتا ہے۔ کیونکہ نمبر 1۔ وہ اکیلا ہی کئی واضح نشانات کے قائم مقام ہے۔ کیونکہ اس کی شان ظاہر ہے اور قدرت الٰہی پر اسکی دلالت انتہائی قوی ہے۔ اور نبوت ابراہیم…
Read the full tafseer →(تفسیر) 97۔
(آیت)” فیہ ایات بینات مقام ابراہیم ومن دخلہ کان امنا “۔ یہ فضائل بیت المقدس کے بارے میں نہیں۔
(اول بیت وضع سے کیا مراد ہے)
علماء کا اس بات میں اختلاف ہے کہ (آیت)” اول بیت وضع “ سے کیا مراد ہے ؟ بعض حضرات کے نزدیک آسمان و زمین کی پیدائش کے زمانے میں پانی کی سطح سے سب سے پہلے کعبہ کا مقام نمودار ہوا، شروع میں یہ سفید جھاگ تھی جو بعد میں منجمد ہوگئی زمین کی پیدائش سے دو ہزار سال پہلے ، اس کی تخلیق ہوئی تھی پھر اس کے نیچے سے زمین پھیلائی ، یہ قول عبداللہ بن عمر ؓ ، امام مجاہد (رح) ، قتادہ (رح) ، اور سدی (رح) ، کا ہے ۔
بعض نے کہا کہ زمین پر سب سے پہلا گھر جو بنایا گیا وہ بیت اللہ…
Read the full tafseer →سنن سعید منصور میں عکرمہ سے روایت ہے کہ بنی اسرائیل نے اپنے آپ کا ملت ابراہیم پر ہونے کا دعویٰ کیا تو آنحضرت ﷺ نے بنی اسرائیل سے فرمایا ملت ابراہیم پر ہو تو حج کیوں نہیں کرتے بنی اسرائیل نے حج کی فرضیت کا انکار کیا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی 3۔ بعض مفسرین نے اگرچہ لکھا ہے کہ آیت واتموالج سے حج فرض ہوا ہے۔ لیکن جمہور مفسرین کے نزدیک حج کی یہی آیت ہے استطاعت سے مراد زاد اور راحلہ ہے اور زاد و راحلہ کا یہ مطلب ہے کہ حج جب فرض ہوتا ہے کہ آدمی کے پاس راستہ کا خرچ ہو اور سواری کا بھی انتظام ہوسکے۔ باقی حج کی بحث سورة بقرہ میں گذر چکی ہے۔
Read the full tafseer →آیات 97
اللہ تعالیٰ کعبہ شریف کا شرف بیان فرما رہا ہے کہ یہ پہلا گھر ہے جو اللہ تعالیٰ نے لوگوں کے لئے اس مقصد کے لئے مقرر کیا ہے کہ وہ اس میں اپنے رب کی عبادت کریں اور ان کے گناہ معاف ہوں اور انہیں وہ نیکیاں حاصل ہوں جن کی وجہ سے انہیں رب کی رضا حاص لہو، اور وہ ثواب حاصل کر کے اللہ کے عذاب سے بچ جائیں۔ اس لئے فرمایا : (مبرکا) ” برکت والا ہے “ اس میں بہت سی برکتیں اور دینی و دنیوی فوائد موجود ہیں۔ جیسے دوسرے مقام (لیشھدوا منافع لھم ویذکروا اسم اللہ فی ایام معلومت علی مارزقھم من بھیمۃ الانعام) (الحج :28/22) ” تاکہ وہ اپنے فائدے حاصل کرنے کو آجائیں اور ان مقررہ دنوں میں ان چوپایوں پر اللہ کا…
Read the full tafseer →مقام ابراہیم بھی اللہ کی نشانی ہے۔
قول باری ہے (فیہ ایات بینات مقام ابراھیم ، اس میں کھلی نشانیاں ہیں، ابراہیم کا مقام عبادت ہے) ابوبکرجصاص کہتے ہیں کہ مقام ابراہیم نشانی یہ ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے دونوں قدم اللہ کی قدرت سے ایک تھوس پتھر میں دھنس کر اپنا نقش چھوڑگئے تاکہ یہ نقش یانشان اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی نبوت کی صداقت وصحت کی دلالت اور علامت بن جائے۔
بیت اللہ کی امتیازی نشانیاں
بیت اللہ کی نشانیوں میں سے ایک نشانی وہ ہے جس کا ہم نے پہلے ذکرکر دیا ہے کہ جنگلی جانوروں کو یہاں امن طتا ہے اور وہ چیرپھاڑ کرنے والے درندوں کے ساتھ مل جل کر رہتے ہیں۔…
Read the full tafseer →196 مقام ابراہیم سے مقصود و مراد ؟ : یعنی وہ پتھر جس پر کھڑے ہو کر آنجناب " بیت اللہ " کی تعمیر فرماتے تھے، اور جس پر آپ کے قدم مبارک کے نشان پڑگئے تھے جو بعد میں لوگوں کے ہاتھوں کے چھونے کے باعث مٹ گئے تھے۔ (حاشیہ بیضاوی بحوالہ معارف القران للکاندھلوی (رح) ) ۔ اور یہ پتھر بیت اللہ کی دیوار کے ساتھ موجود تھا جسکو بعد میں حضرت عمر ؓ نے اپنے دور خلافت میں وہاں سے مشرقی جانب میں پیچھے ہٹا لیا تھا تاکہ بیت اللہ کا طواف کرنے والوں کیلئے دشواری نہ ہو۔ (ابن کثیر وغیرہ) ۔ بہرکیف مقام ابراہیم کے بارے میں حضرات اہل علم کا یہ ایک قول ہے۔ جبکہ اس بارے میں دوسرا قول کچھ حضرات اہل علم کا یہ ہے کہ اس سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 96–97
اللہ کا گھر خانہ کعبہ
تشریح : ان آیات میں خانہ کعبہ کے سب سے پہلے بننے کا ذکر کیا گیا ہے، یعنی سب سے پہلی عبادت گاہ اور پھر اس کو تمام دنیا کے مسلمانوں کے لیے مقدس و محترم قرار دیا گیا ہے۔ کیونکہ قرآن مجید نے اس کو اول عبادت گاہ کہا ہے، پھر اس کو بہت سی فضیلتیں بھی دی گئی ہیں، مثلاً :
اول کہ وہ دنیا کی تمام سچی عبادت گاہوں میں سے پہلی عبادت گاہ ہے۔
دوسرے یہ کہ وہ برکت والا ہے۔
تیسرے یہ کہ وہ پورے جہان کے لیے ہدایت و رہنمائی کا ذریعہ ہے۔
یہود کا یہ بھی اعتراض تھا کہ مسلمانوں نے بیت المقدس کو چھوڑ کر مکہ میں خانہ کعبہ کو کس طرح قبلہ بنا لیا ہے ؟ انہی لوگوں کو جواب دیا گیا ہے کہ تمام مقدس مقامات…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 92–101
آیات 92- 101
اسرارومعارف
لن تنالو البر……………فان اللہ بہ علیم۔
بر سے مراد نیکی ہے اور نیکی کی اصل قرب رسول ہے کہ نبوت ایک ایسی نعمت ہے جس کی وجہ سے نبی معصوم ہوتا ہے یعنی مکالمہ باری کی برکات میں سے عصمت بھی ہے جو تمام انبیاء (علیہم السلام) کو نصیب ہوتی ہے۔
حصول بر قرب رسالت کا نام ہے :
اسی طرح نبی کے قرب سے ایک خاص وصف ، جو مومن میں پیدا ہوتا ہے وہ گناہ سے نفرت اور نیکی کی محبت ہے جس کے باعث مومن گناہ سے محفوظ ہوجاتا ہے۔ اسی درجے کو حصول بر کہہ سکتے ہیں۔ اب اگر کسی شخص کو کسی طرح کا مال یا منافع اتنا عزیز ہو کہ وہ اسے حاصل کرنے کے لئے اپنے مسلمان ہونے کا اعلان کرے تو وہ اسلام کو کیسے پاسکتا…
Read the full tafseer →ف 5 یعنی ہر عاقل وبالغ مسلمان پر جو کعبہ تک پہچنے کی استطاعت رکھا ہے عمر بھر میں ایک حج فرض ہے اس پر امت کا اجماع ہے حدیث میں استطاعتہ کی تفسیر زاد راہ اور سواری سے کی گئے ی ہے (ترمذی) اور استطاعت کے مفہوم میں یہ چیز بھی داخل ہے کہ راستہ پر امن ہو اور کسی قسم کے جان ومال کے تلف ہونے کا اندیشہ نہ ہو عورت کے لیے کسی محرم کا ساتھ ہونا بھی ضروری ہے۔ (ابن کثیر۔ شوکانی)6 یعنی جس نے استطاعت کے باوجود انکار کیا۔ حدیث میں ہے جو شخص بلا کسی عذر کے حج کیے بغیر مرجائے فلا علیہ ان یموت یھود یا اونصرا نیا۔ ابن کثیر )
Read the full tafseer →Explained with ayahs 97–98
(3:97) فیہ ایت بینت مقام ابراہیم۔ ومن دخلہ کان امنکم۔ فیہ اور دخلہ میں ہ ضمیر واحد مذکر غائب۔ بینت کی طرف راجع ہے جو آیہ ما قبل میں مذکور ہے۔
فیہ ایت بینت (فمنھا) مقام ابراہیم۔ اس میں کئی روشن نشانیاں ہیں (ان میں سے ایک) مقام ابراہیم ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 93–101
لغات القرآن آیت نمبر 93 تا 101
الطعام (کھانا) غنی (بےنیاز، بےپرواہ) فاتوا (پھر تم لے آؤ) تصدون (تم روکتے ہو) من افترٰی (جس نے گھڑا، جو کوئی تہمت لگائے) عوج (ٹیڑھ پن) صدق اللہ (اللہ نے سچ فرمایا) تتلیٰ (تلاوت کی گئی) اول بیتٍ (پہلاگھر) یعتصم مضبوط پکڑلیتا ہے) وضع (جس کو طاقت ہے، جو استطاعت رکھتا ہے) ۔
تشریح : آیت نمبر 93 تا 101
عیسائیوں اور یہودیوں کو اس بات پر بڑا فخر تھا کہ وہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی نسل سے ہیں۔ وہ اس بات کے بھی مدعی تھے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا اصل مذہب سینہ بہ سینہ ان تک ہی پہنچا ہے۔ جب نبی کریم ﷺ نے اپنا ملت ابراہیمی پر ہونا ہر اعتبار سے ثابت کردیا تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 97–99
استطاعت کی حالت میں مسلمان پر حج فرض ہے
شان نزول : تفسیر ابن جریر وغیرہ میں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے راوایتیں ہیں۔ ان کا حاصل یہ ہے کہ یہود نے پہلے تو ملت ابراہیمی پر اپنے آپ کو بتلایا اور جب ملت ابراہیمی کے موافق آنحضرت ﷺ نے ان سے حج ادا کرنے کو کہا تو حج سے انہوں نے انکار کیا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں اور فرما دیا کہ جو لوگ اللہ کے حکم کے تابع ہیں، استطاعت کی حالت میں ان پر حج فرض ہے۔ اور اہل کتاب کی طرح جو لوگ اللہ تعالیٰ کے حکم کے منکر ہیں اللہ کو ان کے انکار کی کچھ پرواہ نہیں۔ مگر اللہ ان کے کاموں سے غافل نہیں ہے وقت مقررہ پر اپنے کئے کی سزا پاویں گے۔ اس آیت میں اہل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 97–102
[37] یعنی ایسی علامات جو اس گھر کے اللہ کی جناب میں قبول ہونے پر دلالت کرتی ہیں اور وہ یہ ہیں : (1) لق و دق صحرا میں بنایا گیا اور پھر اللہ نے اس جگہ کو آباد کردیا اور وہاں کے رہنے والوں کے لئے رزق رسانی کے لئے بہتر سے بہتر انتظام کردیا۔ (2) ڈھائی ہزار برس تک دور جاہلیت میں تمام عرب فتنہ و فساد میں مبتلا رہا۔ صرف خانہ کعبہ اور اسی کے اطراف کا ایک خطہ ایسا تھا جس میں امن قائم رہا بلکہ اسی کعبہ کی یہ برکت تھی کہ سال بھر میں چار مہینے کے لئے پورے ملک میں اسی کی بدولت امن قائم ہوجاتا تھا۔ (3) یمن کی حبشی حکومت کے عیسائی بادشاہ ابرہہ نے اس آیت کے نزول سے صرف پچاس سال قبل جب کعبہ کو ڈھانے کی غرض سے…
Read the full tafseer →حج بیت اللہ :
(ف 2) اسلام کے ارکان خمسہ میں سے حج ایک بہت اہم رکن ہے ، اس آیت میں اس کی فرضیت پر زور دیا ہے اور کہا ہے کہ ہر شخص جو استطاعت رکھتا ہو ، مکلف ہے کہ بیت اللہ پہنچے اور مناسک حج ادا کرے مگر استطاعت کیا ہے ؟ اس کے مفہوم میں اختلاف ہے ، بعض کے نزدیک صرف زاد راہ اور راحلہ کافی ہے ، اکثر اہل علم کا یہی مذہب ہے امام مالک (رح) کے نددیک نفس قوت کفایت کرتی ہے ، اگرچہ زاد راہ نہ ہو ، ابن زبیر شعبی (رح) اور عکرمہ (رح) اسی طرف گئے ہیں ، ضحاک (رح) نے کہا ہے کہ اگر کوئی شخص مضبوط اور تندرست ہو تو حج کے لئے چاکری یا ملازمت اختیار کرے ، جب ازاد راہ کا سامان ہوجائے تو حج کو چلا جائے ، گویا ان کے…
Read the full tafseer →ف 3۔ اے نبی آپ کہہ دیجئے کہ اللہ تعالیٰ نے سچ فرمایا یعنی تم پر جو چیزیں حرام کی گئیں وہ تمہاری سرکشی کے باعث ہوئیں ورنہ وہ چیزیں حصرت ابراہیم کی ملت میں حرام نہ تھیں ۔ لہٰذا جب قرآن کی صداقت ثابت ہوگئی تو اب تم ملت ابراہیمی کے پیرو ہو جائو ۔ وہ ابراہیم جو سب سے یکسو ہو کر صرف خدا کا ہوگیا تھا اور وہ مشرکوں میں سے نہ تھا ۔ بلا شبہ جو مکان سب سے پہلے لوگوں کے لئے اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے کی غرض سے مقرر کیا گیا وہ مکان وہ ہے جو شہر مکہ میں واقع ہے اس مکان کی شان یہ ہے کہ وہ بڑا با برکت ہے اور اقوام عالم کے لئے رہنما اور مرکز ہدایت ہے اس مکان میں بہت سی واضح اور کھلی نشانیاں ہیں ، منجملہ ان…
Read the full tafseer →ف 7۔ مقام ابراہیم ایک پتھر ہے جس پر کھڑے ہو کر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے کعبہ کی تعمیر کی تھی اور اس پتھر میں آپ کے قدموں کا نشان بن گیا تھا اب وہ پتھر خانہ کعبہ سے ذرا فاصلے پر ایک محفوظ مکان میں رکھا ہے۔
8۔ سبیل کی تفسیر میں حدیث میں زادوراحلہ کے ساتھ آئی ہے۔
9۔ حاصل میں استدلال کا یہ ہوا کہ دیکھو یہ احکام شرعیہ خانہ کعبہ سے متعلق ہیں جن کا اس سے متعلق ہونا دلائل سے ثابت ہے اور ایسے احکام بیت المقدس سے متعلق مشروع نہیں کیے گئے پس خانہ کعبہ کی افضلیت ثابت ہوگئی
Read the full tafseer →بیت اللہ کی مختلف نشانیاں اور خصوصاً مقام ابراہیم :
187: ” اس میں روشن نشانیاں ہیں جن میں سے ایک مقام ابراہیم بھی ہے۔ “ وہ روشن نشانیاں کیا ہیں ؟ قرآن کریم نے خود ان کا ذکر کردیا ہے۔ چناچہ ارشاد الٰہی ہے کہ ” بلاشبہ صفا اور مروہ نامی دو پہاڑیاں اللہ کی حکمت و رحمت کی نشانیاں ہیں پس جو شخص حج یا عمرہ ادا کرے اس کے لیے کوئی گناہ نہیں کہ وہ ان دونوں کے درمیان طواف کرے۔ “ (البقرة 2:158) اور ایک جگہ ارشاد ہوتا ہے۔
” پس جب عرفات نامی مقام سے انبوہ درانبوہ واپس لوٹو تو ” مشعر الحرام “ جو مزدلفہ میں ایک خاص مقام ہے میں ٹھہر کر اللہ کا ذکر کرو۔ “ (البقرة 2:199) ایک جگہ ارشاد ہوتا ہے کہ
اونٹ تو ہم نے…
Read the full tafseer →Commentary
Three distinctions of بیت اللہ Baytullah
Related in this verse are distinctions and merits of the House of Allah, that is, the Ka` bah. Firstly, it has many signs of Allah's power, one of them being the station of Ibrahim مقام ابراھیم (Maqamu Ibrahim). Secondly, one who enters there becomes a recipient of peace and remains protected; he cannot be killed by anybody. Thirdly, it is obligatory on all Muslims around the world that they make the Hajj of the House of Allah, subject to the condition that one has the means and the ability to reach as far as there.
The signs of Allah's…
Read the full tafseer →80. Here it is stressed that there are several clear signs which prove that the Makkan sanctuary enjoys God's blessing and has been chosen by Him as His sanctuary. Even though it is located in the middle of wide expanses of desert God has seen to it that its inhabitants enjoy a satisfactory living. Although the rest of Arabia was plunged into chaos and disorder for about two and a half thousand years, peace and tranquillity reigned in both the precincts and the environs of the Ka'bah. Thanks to the Ka'bah the entire Arabian peninsula enjoyed four months of peace and order every year. These…
Read the full tafseer →