Explained with ayahs 96–97
ذکر بیت اللہ اور احکامات حج
یعنی لوگوں کی عبادت قربانی طواف نماز اعتکاف وغیرہ کے لئے اللہ تعالیٰ کا گھر ہے جس کے بانی حضرت ابراہیم خلیل ہیں، جن کی تابعداری کا دعویٰ یہود و نصاریٰ مشرکین اور مسلمان سب کو ہے وہ اللہ کا گھر جو سب سے پہلے مکہ میں بنایا گیا ہے، اور بلاشبہ خلیل اللہ ہی حج کے پہلے منادی کرنے والے ہیں تو پھر ان پر تعجب اور افسوس ہے جو ملت حنیفی کا دعویٰ کریں اور اس گھر کا احترام نہ کریں حج کو یہاں نہ آئیں بلکہ اپنے قبلہ اور کعبہ الگ الگ بناتے پھریں۔ اس بیت اللہ کی بنیادوں میں ہی برکت و ہدایت ہے اور تمام جہان والوں کے لئے ہے، حضرت ابوذر ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا کہ سب سے پہلے کونسی…
Read the full tafseer →سورة اٰلِ عِمْرٰن 79
یہودیوں کا دوسرا اعتراض یہ تھا کہ تم نے بیت المقدس کو چھوڑ کر کعبہ کو قبلہ کیوں بنایا، حالانکہ پچھلے انبیا کا قبلہ بیت المقدس ہی تھا۔ اس کا جواب سورة بقرہ میں دیا جا چکا ہے۔ لیکن یہودی اس کے بعد بھی اپنے اعتراض پر مصر رہے۔ لہٰذا یہاں پھر اس کا جواب دیا گیا ہے۔ بیت المقدس کے متعلق خود بائیبل ہی کی شہادت موجود ہے کہ حضرت موسیٰ ؑ کے ساڑھے چار سو برس بعد حضرت سلیمان ؑ نے اس کو تعمیر کیا (1۔ سلاطین، باب 6۔ آیت 1)۔ اور حضرت سلیمان ؑ ہی کے زمانہ میں وہ قبلہ اہل توحید قرار دیا گیا (کتاب مذکور، باب 8، آیت 29۔ 30)۔ برعکس اس کے یہ تمام عرب کی متواتر اور متفق علیہ روایات سے ثابت ہے…
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر
یقینا وہ مکان جو سب (مکانات عبادت) سے پہلے لوگوں (کی عبادت گاہ بننے) کے واسطے (منجانب اللہ) مقرر کیا گیا وہ مکان ہے جو کہ (شہر) مکہ میں ہے (یعنی خانہ کعبہ) جس کی حالت یہ ہے کہ وہ برکت والا ہے (کیونکہ اس میں دینی نفع یعنی ثواب ہے) اور (عبادت خاص مثلا نماز کا رخ بتلانے میں) جہان بھر کے لوگوں کا رہنما ہے (مطلب یہ ہے کہ حج وہاں ہوتا ہے اور مثلا نماز کا ثواب بروئے تصریح حدیث وہاں بہت زیادہ ہوتا ہے، دینی برکت تو یہ ہوئی، اور جو وہاں نہیں ہیں ان کو اس مکان کے ذریعے سے نماز کا رخ معلوم ہوتا ہے یہ رہنمائی ہوئی)۔
معارف و مسائل
مذکورہ آیت میں ساری دنیا کے مکانات یہاں تک کہ تمام مساجد کے…
Read the full tafseer →”بکہ“ کی تحقیق : ”بَکَّہ“ سے مراد مکہ ہے۔ قدیم صحیفوں میں اس کا یہی نام آیا ہے۔ لغوی معنی اس کے شہر کے ہیں مثلاً بعلبک (بعل کا شہر) یہود نے آخری بعثت کے نشانات گم کرنے کے لیے قراءت کے تور مروڑ یا بالفاظِ قرآن ”لَیِّ لِسان“ کے ذریعہ سے جو تحریفیں کی ہیں، ان کی ایک مثال یہ لفظ بھی ہے۔ اس کو یہود نے بگاڑ کر بکہ کے بجائے بکاء بنایا اور اس کو مصدر قرار دے کر ترجمہ اس کا رونا کردیا اور اس طرح وادی بکہ کو رونے کی وادی میں تبدیل کر کے اس سب سے بڑے نشان کو گم کردیا، (ملاحظہ ہو مزمور 84)۔ جس سے خلق کو آخری نبی کے بارے میں رہنمائی مل سکتی تھی۔ اس آیت میں قرآن نے مکہ کو بکہ کے نام سے ذکر کرکے مکہ کے اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–96
96۔ ا یہ یہود کے دوسرے اعتراض کا جواب ہے، وہ کہتے تھے کہ بیت المقدس سب سے پہلا عبادت خانہ ہے۔ محمد ﷺ اور ان کے ساتھیوں نے اپنا قبلہ کیوں بدل لیا ؟ اس کے جواب میں اور اس کے جواب میں کہا گیا تمہارا یہ دعویٰ بھی غلط ہے۔ پہلا گھر جو اللہ کی عبادت کے لیے تعمیر کی گیا ہے وہ ہے جو مکہ میں ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–96
34: یہ یہودیوں کے ایک اور اعتراض کا جواب ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بنی اسرائیل کے تمام انبیائے کرام بیت المقدس کو اپنا قبلہ قرار دیتے آئے ہیں، مسلمانوں نے اسے چھوڑ کر مکہ کے کعبہ کو کیوں قبلہ بنا لیا۔ آیت نے جواب یہ دیا ہے کہ کعبہ تو بیت المقدس کی تعمیر سے بہت پہلے وجود میں آچکا تھا، اور وہ حضرت ابراہیم ؑ کی نشانی ہے۔ لہذا اسے پھر سے قبلہ اور مقدس عبادت گاہ بنانا ہرگز قابل اعتراض نہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 95–96
یہ الفاظ کہ ” اللہ نے جو کچھ کہا سچ کہا “ اس طرف اشارہ کرتے ہیں کہ اس بارے میں اللہ تعالیٰ نے اس سے پہلے جو وضاحت کردی ہے وہ درست ہے یعنی یہ کہ خانہ کعبہ کو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور حضرت اسماعیل (علیہ السلام) نے اس لئے تعمیر فرمایا تھا کہ یہ لوگوں کے لئے زیارت گاہ ہو اور جائے امن وسلامتی ہو ‘ اور اہل ایمان کے قبلہ اور جائے عبادت ہو ۔ اسی لئے یہاں حکم دیا جاتا ہے کہ تم حضرت ابراہیم کے طریقے کی پیروی کرو اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا طریقہ اور نظریہ حیات ہمہ جہت توحیدی نظریہ تھا ‘ جس میں شرک کا کوئی شائبہ نہ ہو فَاتَّبِعُوا مِلَّةَ إِبْرَاهِيمَ حَنِيفًا وَمَا كَانَ مِنَ…
Read the full tafseer →6 مسلمانوں کے اس دعوے پر کہ ہم سب سے زیادہ ابراہیم سے اشبہ و اقرب ہیں، یہود کو یہ بھی اعتراض تھا کہ ابراہیم (علیہ السلام) نے وطن اصلی (عراق) چھوڑ کر شام کو ہجرت کی، وہیں رہے وہیں وفات پائی، بعدہ، ان کی اولاد شام میں رہی، کتنے انبیاء اسی مقدس سرزمین میں مبعوث ہوئے سب کا قبلہ بیت المقدس رہا کیا، پھر تم حجاز کے رہنے والے جنہوں نے بیت المقدس کو چھوڑ کر کعبہ کو اپنا قبلہ بنا لیا ہے اور سرزمین شام سے دور ایک طرف پڑے ہو کس منہ سے دعویٰ کرسکتے ہو کہ ابراہیم و ملت ابراہیم سے تم کو زیادہ قرب و مناسبت حاصل ہے۔ اس آیت میں معترضین کو بتلایا گیا کہ بیت المقدس وغیرہ مقامات مقدسہ تو بعد میں تعمیر ہوئے ہیں،…
Read the full tafseer →آیت 96 اِنَّ اَوَّلَ بَیْتٍ وُّضِعَ للنَّاسِ لَلَّذِیْ بِبَکَّۃَ
بَکَّۃ اور مَکَّۃدرحقیقت ایک ہی لفظ کے لیے دو تلفظ pronunciations ہیں۔
Read the full tafseer →84 یہ یہود کے ایک دوسرے اعتراض کا جواب ہے۔ ان کا اعتراض یہ تھا کہ تمام انبیاء کا قبلہ بیت المقدس ہی رہا ہے اور تمام انبیاء نے وہاں ہجرت کی۔ لہذا یہ مقام کعبہ سے افضل ہے اب مسلمانوں نے بیت المقدس کے بجائے کعبہ کو اپنا قبلہ بنایا ہے تو یہ ملت ابراہیمی سے روگردانی کی ہے۔ اس اعتراض کا جواب اللہ تعالیٰ نے یہ دیا ہے کہ لوگوں کی عبادت کے لیے سب سے پہلے جو گھر تعمیر ہوا۔ وہ بیت اللہ تھا۔ بیت المقدس نہیں تھا۔ کیونکہ بیت اللہ ہی وہ گھر ہے جسے حضرت ابراہیم نے اللہ ہی کی عبادت کے لیے لوگوں کے مرجع کی حیثیت سے تعمیر کیا تھا اور بیت المقدس کو تو حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی وفات…
Read the full tafseer →204 ۔ (دنیا میں بہ طور عبادت گاہ کے) مراد خانہ کعبہ ہے جس کی اولین تعمیر حضرت آدم (علیہ السلام) نے کی تھی اور اس کے منہدم ہوجانے کے بعد از سر نو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور حضرت اسمعیل (علیہ السلام) نے۔ (آیت) ” وضع للناس “۔ یعنی لوگوں کی طاعت و عبادت کے لیے بنا۔ ای وضعہ اللہ موضعا للطاعات والخیرات والعبادات (کبیر) ای لعموم الناس لعبادتھم ونسکھم یطوفون بہ ویصلون بہ ویعتکفون عندہ (ابن کثیر) وضع للناس بعبداللہ فیہ (معالم) (آیت) ” اول بیت “۔ حدیث نبوی ﷺ اوراقوال تابعین سب میں اس اولیت اوراقدمیت کی تشریح ملتی ہے۔ ثبت فی صحیح مسلم عن ابی ذر قال سالت رسول اللہ ﷺ من اول مسجد وضع فی الارض قال…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–96
فضائل اور تاریخ تعمیر بیت اللہ : اِنَّ اَوَّلَ بَیْتٍ وُّضِعَ لِلنَّاسِ لَلَّذِیْ بِبَکَّۃَ مُبَارَکًا۔ (الآیۃ) ۔ یہ یہود کے اس اعتراض کے جواب میں ہے کہ وہ کہتے تھے کہ بیت المقدس سب سے پہلا عبادت خانہ ہے محمد ﷺ اور ان کے ساتھیوں نے اپنا قبلہ کیوں بدل دیا ؟ اس کے جواب میں کہا گیا تمہارا یہ دعویٰ غلط ہے پہلا گھر جو اللہ کی عبادت کیلئے تعمیر کیا گیا وہ مکہ میں ہے۔
مذکورہ آیت میں پوری دنیا کے مکانات یہاں تک کہ تمام مساجد کے مقابلہ میں بیت اللہ (کعبہ) کے شرف اور فضیلت کا بیان ہے، اور یہ شرف اور فضیلت کئی وجہ سے ہے اول اس لیے کہ وہ دنیا کی تمام عبادت گاہوں میں سب سے پہلی عبادت گاہ ہے دوسرے یہ کہ وہ…
Read the full tafseer →ان اول بیت وضع للناس سب سے پہلا مکان جو لوگوں کے لیے قائم کیا گیا یعنی اللہ نے لوگوں کے لیے قبلہ بنایا بعض کے نزدیک یہ مطلب ہے کہ لوگوں کے حج کرنے کے لیے سب سے پہلا مکان جو اللہ نے قائم کیا۔ حسن اور کلبی نے کہا کہ اوّل ترین مسجد اور عبادت خانہ مراد ہے ؟ جو اللہ کی عبادت کے لیے مقرر کیا گیا (گویا بیت سے مراد ہے مسجد) جیسا کہ دوسری آیت میں آیا ہے : فِی بُیُوْتٍ اَذِنَ اللہ اَنْ تُرْفَعَ ۔ اس جگہ بھی بیوت سے مراد ہے مسجدیں۔
للذی ببکۃ یقیناً وہی مکان ہے جو مکہ میں ہے بکہ اور مکہ دونوں ہم معنی ہیں اہل عرب میم کو باء سے بدل لیتے ہیں جیسے نمیط و نبی ط لازم و لازب۔ راتب و راتم۔ بعض علماء نے کہا مکہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 96–97
(96۔ 97) سب سے پہلی مسجد جو مسلمانوں کے لیے بنائی گئی یعنی خانہ کعبہ اور مکہ کو ”بکہ“ اس لیے کہا گیا کیوں کہ طواف میں ہجوم کی بنا پر ایک دوسرے پر گرتے ہیں اور بڑے بڑے سرکش ونافرمان آکر وہاں آہ زاری کرتے ہیں ،
اور وہ مقام مغفرت و رحمت والا ہے اور وہ ہر ایک نبی رسول صدیق اور مومن کا قبلہ ہے اور اس میں کھلی نشانیاں موجود ہیں اور حضرت اسماعیل ؑ کا پتھر اور حجر اسود موجود ہے اور اس میں جو داخل ہو وہ حملہ سے امن والا ہوجاتا ہے اور مسلمانوں میں سے اس شخص پر جو وہاں تک جانے آنے کھانے پینے اور اپنی واپسی تک اپنے اہل و عیال کو خرچہ دینے کی طاقت رکھتا ہو اس پر حج بیت اللہ فرض ہے، اور جو شخص اللہ تعالیٰ…
Read the full tafseer →اِنَّ اَوَّلَ بَيْتٍ : یہ یہود کے دوسرے شبہ کا جواب ہے کہ ابراہیم ؑ نے شام کی طرف ہجرت کی اور ان کی اولاد میں سے تمام انبیاء شام میں ہوئے، ان کا قبلہ بیت المقدس تھا اور مسلمانوں نے اس قدیم قبلہ کو چھوڑ کر کعبہ کو قبلہ بنا لیا ہے، پھر یہ ملت ابراہیم کے متبع کیسے ہوسکتے ہیں ؟ قرآن نے بتایا کہ دنیا میں سب سے پہلا عبادت خانہ تو کعبہ ہے، جو ”بکہ“ میں ہے۔ بکہ مکہ ہی کا نام ہے، جسے اللہ تعالیٰ نے شرف قبولیت بخشا۔ اس پر بہت سے واضح دلائل موجود ہیں۔ جن میں سے ایک دلیل یہ ہے کہ دور جاہلیت سے یہ محترم چلا آ رہا ہے کہ اگر کسی کے باپ کا قاتل بھی اس میں داخل ہوجائے تو وہ اس سے تعرض نہیں کرتا، نیز اس میں…
Read the full tafseer →اس میں پانچ مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر : (1) صحیح مسلم میں حضرت ابو ذر ؓ سے ثابت ہے کہ انہوں نے بیان کیا میں نے رسول اللہ ﷺ سے اس پہلی مسجد کے بارے میں پوچھا جو زمین پر بنائی گئی ؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا :” مسجد حرام “ میں نے عرض کی پھر کون سی مسجد بنائی گئی ؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا ’ مسجد اقصی “ میں نے عرض کیا : ان دونوں کے درمیان کتنی مدت کا فاصلہ ہے ؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا :” چالیس سال، پھر ساری زمین تیرے لئے مسجد بنا دی گئی جہاں کہیں تجھے نماز کا وقت ہوجائے تو تو وہیں نماز پڑھ لے۔ (1) (صحیح بخاری، باب یزفون النسلان فی المشی، حدیث نمبر 3115 ضیاء القرآن پبلی کیشنز)
حضرت مجاہد (رح) اور حضرت قتادہ (رح) نے کہا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–96
(1) ابن المنذروابن ابی حاتم نے شعبی کے طریق سے حضرت علی بن ابی طالب ؓ سے اللہ تعالیٰ کے اس قول لفظ آیت ” ان اول بیت وضع للناس للذی ببکۃ “ کے بارے میں روایت کیا ہے کہ اس سے پہلے گھر تھے لیکن یہ پہلا گھر تھا جو اللہ تعالیٰ کی عبادت کے لیے بنایا گیا۔
(2) ابن جریج نے حضرت ابوذر ؓ سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ لفظ آیت ” ان اول بیت وضع للناس “ سے وہ گھر مراد ہے کہ جس میں اللہ تعالیٰ کی عبادت کی جائے ” للذی ببکۃ “ جو مکہ میں ہے۔
(3) ابن ابی شیبہ واحمد وعبد بن حمید و بخاری ومسلم وابن جریر والبیہقی نے شعب الایمان میں حضرت ابوذر ؓ سے روایت کیا ہے کہ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! کونسی مسجد سب سے…
Read the full tafseer →[اِنَّ : یقینا ] [اَوَّلَ بَیْتٍ : کوئی پہلا گھر جو ] [وُّضِعَ : رکھا گیا (یعنی بنایا گیا) ] [لِلنَّاسِ : لوگوں کے لیے
لَلَّذِیْ : لازماً وہ ہے جو ] [بِبَکَّۃَ : مکہ میں ہے ] [مُبٰـرَکًا : برکت دیا ہوا ہوتے ہوئے ] [وَّہُدًی : اور ہدایت ہوتے ہوئے ] [لِّلْعٰلَمِیْنَ : تمام جہانوں کے لیے ]
نوٹ (1) : تورات میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے ہاتھوں جس بیت ایل (بیت اللہ) کی تعمیر کا ذکر ہے وہ خانۂ کعبہ ہی ہوسکتا ہے نہ کہ بیت المقدس (تدبر قرآن) ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ بائبل ہی کی شہادت کے مطابق حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کے 450 سال بعد حضرت سلیمان ( علیہ السلام) نے بیت المقدس کو تعمیر کیا ۔ اس طرح یہ…
Read the full tafseer →کعبہ شریف کی تعمیر اور حج کی فرضیت
روح المعانی میں حضرت ابن جریج سے نقل کیا ہے کہ یہودیوں نے کہا کہ بیت المقدس کعبہ سے اعظم ہے کیونکہ وہ اس جگہ ہے جہاں حضرات انبیاء (علیہ السلام) ہجرت کرتے رہے اور وہ ارض مقدسہ میں ہے اور مسلمانوں نے کہا کہ کعبہ شریف اعظم ہے اس پر آیت بالا نازل ہوئی، اور حضرت مجاہد نے فرمایا کہ جب گذشتہ آیت میں کافروں کو حکم دیا کہ ملت ابراہیمیہ کا اتباع کریں تو بیت اللہ یعنی کعبہ شریف کی تعظیم کا بھی حکم دیا اور اس کی فضیلت اور حرمت بیان فرمائی کیونکہ کعبہ کا حج کرنا اور اس کی فضیلت و حرمت کا اقرار کرنا یہ بھی ملت ابراہیمی میں شامل ہے۔
کعبہ شریف کا کثیر البرکت ہونا :
آیت بالا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 96–97
قال تعالیٰ ان اول بیت وضع للناس ببکۃ۔۔۔۔ تا۔۔۔ عن العالمین
اب آیات میں یہود کے دوسرے شبہ کا جواب ذکر فرماتے ہیں کہ بیت المقدس خانہ کعبہ سے افضل ہے اور وہی تمام انبیاء کا قبلہ ہے تو اے مسلمانوں تمہارے نبی نے بیت المقدس کو چھوڑ کر خانہ کعبہ کو کیوں اپنا قبلہ بنایا حق جل شانہ نے ان آیات میں یہ بتلایا کہ خانہ کعبہ بیت المقدس سے افضل اور اشرف ہے لہذا اسی کو قبلہ بنانا بہتر ہے چناچہ فرماتے ہیں تحقیق پہلا گھر جو من جانب اللہ لوگوں کی عبادت کے لیے قبلہ مقرر کیا گیا وہ وہی مکان اور گھر ہے جو شہر مکہ میں ہے جس کو خانہ کعبہ بیت اللہ کہتے ہیں بڑی خیرو برکت ولاجس میں ایک نماز ادا کرنے سے ایک لاکھ نمازوں…
Read the full tafseer →136 بکہ مکہ ہی کا دوسرا نام ہے۔ قال مجاہد بکہۃ ہی مکۃ (قرطبی ص 138 ج 4) بکۃ من اسماء عکۃ اعلی المشہور (ابن کثیر ص 382 ج 1) تو اللہ تعالیٰ نے اس کا جواب دیا کہ دنیا میں سب سے پہلا گھر۔ جسے لوگوں کے لیے معبد اور عبادت گاہ بنایا گیا وہ وہ گھر ہے جو مکہ میں ہے یعنی خانہ کعبہ ای لعموم الناس لعبادتھم ونسکہم یطوفون بہ ویصلون بہ ویعتکفون عندہ (ابن کثیر ص 383 ج 1) ان ھذا البیت وضع اللہ موضعا للطاعات والخیرات والعبادات (کبیر ص 8 ج) صحیح حدیث میں وارد ہے کہ زمین پر سب سے پہلی عبادت گاہ مسجد حرام ہے ثبت فی صحیح مسلم عن ابی ذر قال سالت رسول اللہ ﷺ عن اول مسجد وضع فی الارض قال المسجد الحرام (قرطبی ص 137 ج…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 96–97
گذشتہ سے پیوستہ :
یہودیوں نے ملت ابراہیمی کی نسبت مسلمانوں پر دو سوال کیے تھے اول یہ کہ اگر اہل اسلام ملت ابراہیمی پر ہونے کے دعویدار ہیں ، تو پھر وہ اونٹ کا گوشت اور اونٹنی کا دودھ کیوں استعمال کرتے ہیں۔ جب کہ ملت ابراہیمی میں یہ چیزیں حرام تھیں۔ اس سوال کا جواب گذشتہ آیات میں آچکا ہے۔ کہ یہ چیزیں ملت ابراہیمی میں حرام تھیں۔ صرف یعقوب (علیہ السلام) نے اپنی نذر کی تکمیل میں از خود ان اشیاء کو اپنے اوپر حرام کرلیا تھا۔ باقی سب لوگوں کے لیے حلال تھیں مگر آپکی اولاد نے بھی محض آپکی اتباع میں ان چیزوں کا استعمال ترک کردیا۔ یہ تو نزول تورات سے سینکڑوں سال پہلے کی بات ہے۔ البتہ تورات کے نازل ہونے…
Read the full tafseer →اِنَّ اَوَّلَ بَيْتٍ وُّضِــعَ لِلنَّاسِ لَلَّذِيْ بِبَكَّۃَ مُبٰرَكًا وَّھُدًى لِّـلْعٰلَمِيْنَ 96 ۚ
بيت
أصل البیت : مأوى الإنسان باللیل، قال عزّ وجلّ : فَتِلْكَ بُيُوتُهُمْ خاوِيَةً بِما ظَلَمُوا [ النمل/ 52] ،
( ب ی ت ) البیت
اصل میں بیت کے معنی انسان کے رات کے ٹھکانہ کے ہیں ۔ کیونکہ بات کا لفظ رات کو کسی جگہ اقامت کرنے پر بولا جاتا ہے ۔ قرآن میں ہے ؛۔ فَتِلْكَ بُيُوتُهُمْ خاوِيَةً بِما ظَلَمُوا [ النمل/ 52] یہ ان کے گھر ان کے ظلم کے سبب خالی پڑے ہیں ۔
وضع
الوَضْعُ أعمّ من الحطّ ، ومنه : المَوْضِعُ. قال تعالی: يُحَرِّفُونَ الْكَلِمَ عَنْ مَواضِعِهِ
[ النساء/ 46] ويقال ذلک في الحمل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 95–96
ترکیب : حنیفا حال ہے ابراہیم سے اور ممکن ہے کہ ملۃ سے بھی ہو کیونکہ ملۃ بمعنی دین ہے پھر حال اور ذوالحال دونوں مذکر ہیں وضع
موضع جر میں صفت بیت کی اور للذی ببکۃ ان کی خبر بکہ یعنی مکہ ہے م اور ب کا بدلہ ہوجاتا ہے جیسا کہ لازب اور لازم بعض کہتے ہیں مکہ شہر اور بکہ مسجد الحرام ہے۔ مبارکا اور ھدی دونوں ضمیر وضع سے حال ہیں۔ آیت بینات مبتدافیہ خبر مقام ابراھیم مبتداء اور خبر محذوف اے منہا حج البیت بالفتح والکسر بعض کہتے ہیں بالکسر اسم مصدر ہے مبتداء ‘ علی الناس خبر للّٰہ متعلق علی 1 ؎ سے متعلق ہے من استطاع الناس سے بدل بعض ہے۔
تفسیر : یہ تتمہ ہے پہلی گفتگو کا کہ اللہ نے سچی بات کہہ دی۔ اب اسی پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 96–97
اِنَّ اَوَّلَ بَیْتٍ وُّضِعَ لِلنَّاسِ لَلَّذِیْ بِبَکَّۃَ مُبٰرَکًا وَّہُدًی لِّـلْعٰـلَمِیْنَ ۔ ج فِیْہِ اٰیٰتٌ م بَـیِّنٰتٌ مَّقَامُ اِبْـٰرہِیْمَ 5 ج وَمَنْ دَخَلَـہٗ کَانَ اٰمِنًا ط وَلِلّٰہِ عَلَی النَّاسِ حِجُّ الْـبَـیْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ اِلَیْہِ سَبِیْلاً ط وَمَنْ کَفَرَ فَاِنَّ اللّٰہَ غَنِیٌّ عَنِ الْعٰـلَمِیْنَ ۔
(بےشک سب سے پہلا گھر جو لوگوں کے لیے بنایا گیا یہی ہے جو مکہ میں ہے برکت والا اور ہدایت تمام جہان والوں کے لیے۔ اس میں واضح نشانیاں ہیں جیسے مقام ابراہیم ہے اور جو اس میں داخل ہوگیا وہ مامون ہوگیا اور جو لوگ وہاں تک پہنچنے کی استطاعت رکھتے ہیں ان کے اوپر اس گھر کا حج ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 95–96
فہم القرآن
ربط کلام : یہود و نصارٰی کہتے ہیں کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے بیت اللہ تعمیر نہیں کیا تھا جس کی یہاں بھرپور طریقہ سے تردید کی گئی ہے۔
یہودی یہ دعو ٰی بھی کرتے ہیں کہ ابراہیم (علیہ السلام) نے کعبہ کی بجائے پہلے بیت المقدس تعمیر کیا اور یہی ان کا قبلہ تھا۔ اے نبی ! آپ یہ اعلان فرمائیں کہ دنیا میں سب سے پہلے لوگوں کے لیے جو گھر تعمیر ہوا وہ مکہ معظمہ میں بیت اللہ ہے جسے اللہ تعالیٰ نے لوگوں کے لیے ہدایت کا مرکز قرار دیا اور اس میں بےپناہ برکات رکھی ہیں۔
(عَنْ أَبِيْ ذَرٍّ ؓ قَالَ قُلْتُ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ أَيُّ مَسْجِدٍ وُضِعَ فِي الْأَرْضِ أَوَّلَ قَالَ الْمَسْجِدُ الْحَرَامُ…
Read the full tafseer →پہلی عبادت گاہ کعبہ ہے :
96: اِنَّ اَوَّلَ بَیْتٍ وُّضِعَ لِلنَّاسِ لَلَّذِیْ بِبَکَّۃَ مُبٰرَکًا وَّ ھُدًی لِّلْعٰلَمِیْنَ ۔ سب سے پہلا مکان جو لوگوں کے لئے قائم کیا گیا (یعنی عبادت کے لئے) بنانے والی ذات اللہ تعالیٰ کی ہے۔ لوگوں کے لئے اللہ تعالیٰ کے وضع کرنے کا مطلب بطور عبادت گاہ کے لوگوں کیلئے مقرر کرنا ہے۔ گویا اس طرح فرمایا لوگوں کے لئے پہلی عبادت گاہ کعبہ ہے۔ حدیث میں ہے کہ مسجد حرام بیت المقدس سے چالیس سال قبل بنائی گئی۔
دوسرا یہ کہا گیا ہے کہ سب سے پہلے ابراہیم ( علیہ السلام) نے اس کو بنایا۔ تیسرا قول یہ ہے کہ پہلا گھر جس کا طوفان کے بعد حج کیا گیا وہ بیت اللہ ہے۔ چوتھا قول یہ ہے…
Read the full tafseer →96۔ (آیت)” ان اول بیت وضع للناس للذی ببکۃ مبارکا “۔ اس آیت کا سبب نزول یہ ہے کہ یہودیوں نے مسلمانوں سے کہا کہ بیت المقدس ہمارا قبلہ ہے اور وہ کعبہ سے افضل ہے اور وہ قدیم ہے اور انبیاء کرام (علیہم السلام) کا مقام ہجرت بھی قرار دیا ، مسلمانوں نے اس کے اس سوال کا جواب دیا کہ کعبہ افضل ہے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی ۔ (آیت)” ان اول بیت وضع للناس للذی ببکۃ مبارکا وھدی اللعالمین “۔۔۔۔۔۔ فیہ ایات بینات مقام ابراہیم ولن دخلہ کان امنا۔۔۔۔۔۔ فان اللہ غنی لمن العلمین “۔
Read the full tafseer →مکہ اور بکہ دونوں نام ہیں تفسیر ابن ابی حاتم میں حضرت علی ؓ سے روایت ہے لوگوں کے رہنے کے گھر دنیا میں مکہ سے پہلے بھی تھے لیکن اللہ کی عبادت کا یہ پہلا گھر ہے جو روئے زمین پر بنایا گیا ہے 2۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 93–96
آیت 93-95
یہ یہودیوں کے اس زعم باطل کی تردید ہے کہ احکام کی منسوخ ہونا جائز نہیں۔ اس لئے انہوں نے حضرت عیسیٰ اور حضرت محمد کی نبوت کا انکار کیا، کیونکہ ان دونوں حضرات نے حلال و حرام کے بعض ایسے مسائل بیان فرمائے جو تورات کے احکام کے خلاف تھے۔ بحث میں انصاف کو مدنظر رکھتے ہوئے ان کے خلاف خود ان کی مسلمہ کتاب تورات سے دلیل پیش کی گئی ہے کہ کھانے کی تمام چیزیں بنی اسرائیل کے لئے حلال تھیں۔ (الا ما حرم اسرآئیل علی نفسہ) ” سوائے اس کے جس چیز کو اسرائیل یعنی یعقوب نے اپنے اوپر حرام کرلیا تھا “ یہ چیزیں اللہ نے حرام نہیں کی تھیں، آپ کو عرق النساء کی بیماری ہوگئی تو آپ نے نذر مان لی کہ اگر اللہ نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–96
بکہ اور مکہ میں فرق
قول باری ہے (ان اول بیت وضع للناس للذی ببکۃ مبارکا وھدی للعالمین، بیشک سب سے پہلاگھرجولوگوں کے لیے (ان کی عبادت گاہ کے طورپر) بنایا گیا وہ مکہ میں ہے۔ اس میں بڑی برکتیں ہیں اور وہ تمام جہان والوں کے لیے ہدایت کامرکز ہے) مجاہد اورقتادہ کا قول ہے کہ خانہ کعبہ سے پہلے روئے زمین پر کوئی گھر نہیں بنا یا گیا ۔ حضرت علی ؓ اور حسن بصری روایت ہے کہ یہ پہلاگھر تھا جو عبادت کے لیے تعمیر کیا گیا تھا۔ لفظ بکہ کے متعلق اختلاف ہے زھری کا قول ہے بکہ مسجد کا نام ہے اور مکہ پورے حرم کا نام ہے۔
مجاہد کا قول ہے کہ بکہ اور مکہ دونوں کا مفہوم ایک ہے۔ اس قول کے مطابق حرف باء حرف میم سے تبدیل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–96
191 افتراء علی اللہ سب سے بڑا ظلم ۔ والعیاذ باللہ : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ افتراء علی اللہ یعنی اللہ پر جھوٹ باندھنا سب سے بڑا ظلم ہے۔ سو جو اللہ پر اس طرح کا جھوٹ باندھے اور کہے کہ نہیں صاحب یہ چیزیں تو پہلے سے ہی حرام چلی آرہی تھیں اور اللہ نے ان کو حضرت ابراہیم وغیرہ پر حرام فرمایا تھا وغیرہ۔ اور استفہام ظاہر ہے کہ انکاری ہے یعنی ایسے شخص سے بڑھ کر ظالم اور کوئی نہیں ہوسکتا۔ سو اللہ پر جھوٹ باندھنا سب سے بڑا ظلم اور ایسا شخص سب سے بڑا ظالم ہے ۔ وَالْعِیَاذ باللّٰہ الْعَظِیْم مِنْ کُل زَیْغ وَّضَلَال و سُوْئٍ وّ انْحِرَاف۔ سو جو چیزیں ملت ابراہیمی میں حرام نہیں تھیں ان کو حرام قرار…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 96–97
اللہ کا گھر خانہ کعبہ
تشریح : ان آیات میں خانہ کعبہ کے سب سے پہلے بننے کا ذکر کیا گیا ہے، یعنی سب سے پہلی عبادت گاہ اور پھر اس کو تمام دنیا کے مسلمانوں کے لیے مقدس و محترم قرار دیا گیا ہے۔ کیونکہ قرآن مجید نے اس کو اول عبادت گاہ کہا ہے، پھر اس کو بہت سی فضیلتیں بھی دی گئی ہیں، مثلاً :
اول کہ وہ دنیا کی تمام سچی عبادت گاہوں میں سے پہلی عبادت گاہ ہے۔
دوسرے یہ کہ وہ برکت والا ہے۔
تیسرے یہ کہ وہ پورے جہان کے لیے ہدایت و رہنمائی کا ذریعہ ہے۔
یہود کا یہ بھی اعتراض تھا کہ مسلمانوں نے بیت المقدس کو چھوڑ کر مکہ میں خانہ کعبہ کو کس طرح قبلہ بنا لیا ہے ؟ انہی لوگوں کو جواب دیا گیا ہے کہ تمام مقدس مقامات…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 92–101
آیات 92- 101
اسرارومعارف
لن تنالو البر……………فان اللہ بہ علیم۔
بر سے مراد نیکی ہے اور نیکی کی اصل قرب رسول ہے کہ نبوت ایک ایسی نعمت ہے جس کی وجہ سے نبی معصوم ہوتا ہے یعنی مکالمہ باری کی برکات میں سے عصمت بھی ہے جو تمام انبیاء (علیہم السلام) کو نصیب ہوتی ہے۔
حصول بر قرب رسالت کا نام ہے :
اسی طرح نبی کے قرب سے ایک خاص وصف ، جو مومن میں پیدا ہوتا ہے وہ گناہ سے نفرت اور نیکی کی محبت ہے جس کے باعث مومن گناہ سے محفوظ ہوجاتا ہے۔ اسی درجے کو حصول بر کہہ سکتے ہیں۔ اب اگر کسی شخص کو کسی طرح کا مال یا منافع اتنا عزیز ہو کہ وہ اسے حاصل کرنے کے لئے اپنے مسلمان ہونے کا اعلان کرے تو وہ اسلام کو کیسے پاسکتا…
Read the full tafseer →ف 4 یہ یہود کے دوسرے شبہ کو جواب ہے کہ حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) نے شام کی طرف ہجرت کی اور ان کی اولاد میں سے تمام انبیا شام میں ہوئے ان کا قبلہ بیت المقدس تھا اور مسلمانوں نے اس قدیم قبلہ کو چھوڑ کر کعبہ قبلہ بنالیا ہے پھر یہ ملت ابراہیم کے متبع کیسے ہوسکتے ہیں۔ قرآن نے بتایا کہ دنیا بخشا۔ اس پر بہت سے واضح دلائل موجود ہیں جن میں سے ایک دلیل یہ ہے کہ جاہلیت سے یہ محترم چلا آتا ہے کہ اگر کسی کے باپ کا قتل اس میں داخل ہوجائے تو وہ اس سے تعرض نہیں کرتا نیز اس میں مقام ابرہیم ( علیہ السلام) یعنی وہ پتھر موجود ہے جو اس بات کی دلیل ہے کہ اس کے بانی حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) ہیں اور یہ کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 95–96
(3:95) ملۃ۔ دین کی طرح ملت بھی اس دستور کا نام ہے۔ جو اللہ تعالیٰ نے انبیاء کی زبان پر بندوں کے لئے مقرر فرمایا تھا۔ تاکہ اس کے ذریعہ وہ قرب خداوندی حاصل کرسکیں دین اور ملت میں فرق یہ ہے کہ ملت کی اضافت صرف اس نبی کی طرف ہوتی ہے جس کا وہ دین ہوتا ہے پس فاتبعوا ۔۔ ابراہیم۔ پس دین ابراہیم کی پیروی کرو۔
حنیفا۔ الحنف کے معنی گمراہی سے استقامت کی طرف مائل ہونے کے ہیں۔ الحنیف بروزن فعیل جو باطل کو چھوڑ کر استقامت پر آجائے۔ جو سب سے بےتعلق ہو کر صرف خدا کا ہوجائے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 93–101
لغات القرآن آیت نمبر 93 تا 101
الطعام (کھانا) غنی (بےنیاز، بےپرواہ) فاتوا (پھر تم لے آؤ) تصدون (تم روکتے ہو) من افترٰی (جس نے گھڑا، جو کوئی تہمت لگائے) عوج (ٹیڑھ پن) صدق اللہ (اللہ نے سچ فرمایا) تتلیٰ (تلاوت کی گئی) اول بیتٍ (پہلاگھر) یعتصم مضبوط پکڑلیتا ہے) وضع (جس کو طاقت ہے، جو استطاعت رکھتا ہے) ۔
تشریح : آیت نمبر 93 تا 101
عیسائیوں اور یہودیوں کو اس بات پر بڑا فخر تھا کہ وہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی نسل سے ہیں۔ وہ اس بات کے بھی مدعی تھے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا اصل مذہب سینہ بہ سینہ ان تک ہی پہنچا ہے۔ جب نبی کریم ﷺ نے اپنا ملت ابراہیمی پر ہونا ہر اعتبار سے ثابت کردیا تو…
Read the full tafseer →مکہ اور بکہ دونوں نام مکہ کے نام ہیں۔ تفسیر ابن ابی حاتم میں حضرت علی ؓ سے روایت ہے کہ لوگوں کے رہنے کے گھر دنیا میں مکہ سے پہلے بھی تھے۔ لیکن اللہ کی عبادت کا یہ پہلا گھر ہے جو رؤئے زمین پر بنایا گیا ہے۔
خواص القرآن : آیت لن تنالوا البر سے صٰدقین تک بخیل کے کپڑے پر مشک وگلاب سے لکھ کر پانی سے دھو کر اسے پلا دیا جائے اس کا بخل جاتا رہے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 93–96
[34] یہود کا رسول اکرم ﷺ پر ایک اعتراض یہ تھا کہ فلاں فلاں چیزیں تم حلال سمجھتے ہو اور اپنے دین کو ابراہیم کا پیرو بھی کہے جاتے ہو حالانکہ وہ چیزیں ابراہیم کے وقت سے حرام چلی آرہی ہیں۔ اسی اعتراض کا جواب دیا جا رہا ہے۔
[35] تشریح کے لئے ملاحظہ ہو سورة بقرہ حاشیہ 34 صفحہ 99
[36] یعقوب (علیہ السلام) نے بعض چیزوں سے طبعی کراہت یا کسی مرض کی بنا پر احتراز فرمایا تھا اور ان کی اولاد نے بعد میں انہیں ممنوع سمجھ لیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–96
پہلا گھر :
(ف 1) خدا کا گھر جو تمام نسل انسانی کا مرکز عبادت ہے ‘ وہ صرف بیت اللہ الحرام ہے ، جہاں برکات وہدایات کے ہزاروں چشمے پھوٹتے ہیں اور جس میں عبادت ونیاز مندی کی لاکھوں نشانیاں پنہاں ہیں ، جو مقام ابراہیم (علیہ السلام) کے شرف سے مفتحز ہے اور جو روح وقلب کی عام سعادتوں کی ضامن وکفیل ہے اس لئے یہ دلیل ہے ، اس بات کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) خدا کے سچے پیغمبر تھے اور وہ لوگ جو ان کے نقش قدم پر چلتے ہیں ‘ وہ بھی صداقت وصفا کے پیکر ہیں ، غور کرو ایک غیر معروف شخص ایک بنجر اور سنگلاخ زمین میں ایک عبادت گاہ بناتا ہے ، جو بالکل سادہ ہے فن تعمیر کے لحاظ سے جس میں کوئی خوبی نہیں لیکن اس کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–96
ف 2۔ جملہ اشیاء خوردنی جو مابہ النزاع ہیں یہ سب نزول تورات سے قبل ہی بنی اسرائیل پر حلال تھیں ۔ بجزان چند چیزوں کے جو حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے خود اپنی ذات پر حرام کرلی تھیں یعنی اونٹ کے گوشت اور اونٹ کے دودہ کے علاوہ باقی جو چیزیں کھانے پینے کی عام طور سے حلال ہیں وہ سب بنی اسرائیل پر بھی نزول تورات سے قبل حلال تھیں ۔ اے پیغمبر ﷺ ! آپ ان سے یہ مطلب کیجئے کہ تورا ت لائو اور اس کو لا کر پڑھو اگر تم سچے اور راست باز ہوتا کہ ہمارا تمہارا جھگڑا صاف ہوجائے پھر اگر اب کوئی اس صحیح مطالبے اور حقیقی الزام قائم ہوجانے کے بعد بھی اللہ عتالیٰ پر جھوٹ بات کی تہمت لگائے اور جھوٹی افترا پر دای کرے تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–96
ف 4۔ سب عبادت گاہوں سے پہلے اس کے مقرر ہونے سے یہ بھی معلوم ہوگیا کہ بیت المقدس سے بھی پہلے بنا ہے چناچہ حدیث صحیحین میں اس کی تصریح بھی ہے۔
5۔ یعنی خانہ کعبہ
6۔ مطلب یہ کہ حج وہاں ہوتا ہے اور مثلا نماز کا ثواب بروئے تصریح حدیث بہت زیادہ ہوتا ہے دینی برکت تو یہ ہوئی اور جو وہاں نہیں ہیں ان کو اس مکان کے ذریعہ سے نماز کا رخ معلوم ہوتا ہے یہ رہنمائی ہوئی۔
Read the full tafseer →پہلا گھر جو عبادت کے لیے بنایا گیا وہ مکہ ہی میں ہے :
186: یعنی مانہ کے لحاظ سے عبادت کے لیے بنایا گیا پہلا گھر بیت اللہ ہی ہے اور مرتبہ کے لحاظ سے سے بھی وہ سب عبادت خانوں پر فوقیت رکھتا ہے اور آخری مرجع عالم بھی وہی قرار پایا۔ ” وُضِعَ “ کا استعمال ایجاد اور خلق کے معنی میں ہوا ہے۔ ” بُكَّه “ اور ” مکہ “ ایک ہی نام کی دو مختلف صورتیں ہیں اور ایک ہی شہر کو مکہ اور بکہ کے نام سے بلایا گیا ہے جو مکہ ہے وہی بکہ ہے اور جو بکہ ہے وہی مکہ ہے۔ ” مُبَارَكًا “ برک سے ہے۔ یعنی برکت والا مبارک وہ ہے جس کی طرف خیر کثیر آتی رہی ہو اور بکہ کو ” مُبَارَكًا “ اس لیے کہا گیا ہے کہ اس کی طرف سے خیر کثیرآتی…
Read the full tafseer →Commentary:
The above verse points out to the distinction and superiority of the House of Allah, the Ka'bah, as compared to the houses, and even mosques, of the whole world. There are several reasons for this status, which have been mentioned in this verse, namely:
1. Among the true houses of worship in this world, the Ka'bah enjoys the distinction of being the first.
2. It is full of blessings.
3. It is a source of guidance for the entire world.
The gist of the words used in the verse is that the first House designated for people by Allah is none other than the one which is in Makkah…
Read the full tafseer →79. The second objection raised by the Jews was that the direction for Prayer had been changed from Jerusalem to the Ka'bah. This objection is answered in Surah 2 (see verses 142 ff. and nn. 142 and 147 above). The Bible, itself, testifies that Jerusalem was built by Solomon more than four and a half centuries after Moses (see 1 Kings 6: 1), and that it was during his time that the worshippers of the One God began to pray towards it (1 Kings 8: 29-30). It is established by traditions from numerous sources which are undisputed throughout Arabia, however, that the Ka'bah was constructed by…
Read the full tafseer →