Aal-i-Imraan 3:95

Aal-i-Imraan · from ayah 95

3:95

قُلْ صَدَقَ اللّٰهُ ۫— فَاتَّبِعُوْا مِلَّةَ اِبْرٰهِیْمَ حَنِیْفًا ؕ— وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِیْنَ ۟قُلۡ صَدَقَ اللّٰهُ‌ ۗ فَاتَّبِعُوۡا مِلَّةَ اِبۡرٰهِيۡمَ حَنِيۡفًا ؕ وَمَا كَانَ مِنَ الۡمُشۡرِكِيۡنَ

کہہ دو کہ خدا نے سچ فرمایا دیا پس دین ابراہیم کی پیروی کرو جو سب سے بےتعلق ہو کر ایک (خدا) کے ہو رہے تھے اور مشرکوں سے نہ تھے

— Fateh Muhammad Jalandhari

Say, "Allah has told the truth. So follow the religion of Abraham, inclining toward truth; and he was not of the polytheists."

— Saheeh International

Juz 4 · Ruku 10 of surah · Ruku 1 of juz

Read the whole surah · Surah Aal-i-Imraan

All translations of 3:95

کہو، اللہ نے جو کچھ فرمایا ہے سچ فرمایا ہے، تم کو یکسو ہو کر ابراہیمؑ کے طریقہ کی پیروی کرنی چاہیے، اور ابراہیمؑ شرک کرنے والوں میں سے نہ تھا

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

کہہ دو کہ خدا نے سچ فرمایا دیا پس دین ابراہیم کی پیروی کرو جو سب سے بےتعلق ہو کر ایک (خدا) کے ہو رہے تھے اور مشرکوں سے نہ تھے

— مولانا فتح محمد جالندہری

کہہ دیجئے کہ اللہ تعالیٰ سچا ہے تم سب ابراہیم حنیف کے ملت کی پیروی کرو، جو مشرک نہ تھے

— مولانا محمد جوناگڑہی

آپ کہیے کہ اللہ نے سچ کہا ہے، لہذا تم ابراہیم کے دین کا اتباع کرو جو پوری طرح سیدھے راستے پر تھے، اور ان لوگوں میں سے نہیں تھے جو اللہ کی خدائی میں کسی کو شریک مانتے ہیں۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

تم فرماؤ اللہ سچا ہے، تو ابراہیم کے دین پر چلو جو ہر باطل سے جدا تھے اور شرک والوں میں نہ تھے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

فرما دیں کہ اللہ نے سچ فرمایا ہے، سو تم ابراہیم ؑ کے دین کی پیروی کرو جو ہر باطل سے منہ موڑ کر صرف اللہ کے ہوگئے تھے، اور وہ مشرکوں میں سے نہیں تھے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

کہہ دے اللہ نے سچ فرمایا، سو تم ابراہیم کی ملت کی پیروی کرو، جو ایک طرف کا تھا اور وہ شرک کرنے والوں سے نہ تھا۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

آپ ان سے کہئے کہ اللہ نے (جو کچھ فرمایا ہے) سچ فرمایا ہے لہذا تمہیں حضرت ابراہیم کے طریقہ کی پیروی کرنا چاہیے جو اللہ ہی کے ہوگئے تھے اور وہ شرک کرنے والوں میں سے نہیں تھے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

کہہ دو اللہ نے سچ فرمایا تو ابراہیم کی ملت کی پیروی کرو جو حنیف تھا اور مشرکین میں سے نہ تھا۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

کہو اللہ نے (حق اور) سچ بیان فرما دیا، سو اب تم (بھی اے یہود، مسلمانوں کی طرح) پیروی کرو ملت ابراہیمی کی، جو کہ (سب سے کٹ کر) ایک ہی کے ہوگئے تھے، اور ان کا کوئی لگاؤ نہیں تھا مشرکوں سے

— مولانا اسحاق مدنی

آپ کہہ دیجئے کہ اللہ نے سچ بات فرمادی ہے سو تم سیدھی راہ والے ابراہیم ؑ کے دین کی پیروی کرو اور وہ مشرکوں میں سے نہ تھے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

کہہ دیجیے اللہ نے جو کچھ فرمایا ہے سچ فرمایا ہے پس پیروی کروّ ملت ابراہیم کی جو یکسو تھے (یا یکسو ہو کر !) اور وہ مشرکین میں سے نہیں تھے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

کہو اللہ نے جو کچھ فرمایا ہے سچ فرمایا ہے تم کو یکسو ہو کر ابراہیم ؑ کے طریقے کی پیروی کرنی چاہیے اور ابراہیم ؑ شرک کرنے والوں میں سے نہ تھے

— محترمہ رفعت اعجاز

Say: 'Whatever Allah has said is true. Follow, then, the way of Abraham in total devotion to Allah. He was not one of those who associate others with Allah in His divinity.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Say, :Allah has told the truth. So, follow the Faith of Ibrahim, the upright one. He was not one of those who ascribe partners to Allah.

— Muhammad Taqi Usmani

Say, :Allah has told the truth. So, follow the Faith of Ibrahim, the upright one. He was not one of those who ascribe partners to Allah.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Say:"Allah has spoken the truth; follow the religion of Ibrahim the Hanif (monotheist), and he was not of the Mushrikin (idolators)."

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Say: Allah speaketh truth. So follow the religion of Abraham, the upright. He was not of the idolaters.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Say, "Allah has told the truth. So follow the religion of Abraham, inclining toward truth; and he was not of the polytheists."

— Saheeh International

(Muhammad), say, "God has spoken the Truth. Follow the upright tradition of Abraham who was not an idolater."

— Muhammad Sarwar

Say: Allah has spoken the truth, therefore follow the religion of Ibrahim, the upright one; and he was not one of the polytheists.

— Muhammad Habib Shakir

Say thou: Allah hath spoken the truth; follow therefore the faith of Ibrahim the upright; and he was not of the associators.

— Abdul Majid Daryabadi

Say: "Allah speaketh the Truth: follow the religion of Abraham, the sane in faith; he was not of the Pagans."

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 3:95

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 93–95

بارگاہ رسالت ﷺ میں یہودی وفد مسند احمد میں ہے کہ یہودیوں کی ایک جماعت حضور ﷺ کے پاس آئی اور کہنے لگی کہ ہم آپ سے چند سوال کرنا چاہتے ہیں جن کے جواب نبیوں کے سوا اور کوئی نہیں آپ نے فرمایا پوچھو لیکن پہلے تم لوگ وعدہ کرو اگر میں صحیح صحیح جواب دے دوں تو تمہیں میری نبوت کے تسلیم کرلینے میں کوئی عذر نہ ہوگا انہوں نے اس شرط کو منظور کرلیا کہ اگر آپ نے سچے جواب دے تو ہم اسلام قبول کرلیں گے ساتھ ہی انہوں نے بڑی بڑی قسمیں بھی کھائیں پھر پوچھا کہ بتائیے۔ حضرت اسرائیل نے کیا چیز اپنے اوپر حرام کی تھی ؟ عورت مرد کے پانی کی کیا کیفیت ہے ؟ اور کیوں کبھی لڑکا ہوتا ہے اور کبھی لڑکی ؟ اور نبی امی کی نیند…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 94–95

سورة اٰلِ عِمْرٰن 78 مطلب یہ ہے کہ ان فقہی جزئیات میں کہاں جا پھنسے ہو۔ دین کی جڑ تو اللہ واحد کی بندگی ہے جسے تم نے چھوڑ دیا اور شرک کی آلائشوں میں مبتلا ہوگئے۔ اب بحث کرتے ہو فقہی مسائل میں، حالانکہ یہ وہ مسائل ہیں جو اصل ملت ابراہیمی سے ہٹ جانے کے بعد انحطاط کی طویل صدیوں میں تمہارے علماء کی موشگافیوں سے پیدا ہوئے ہیں۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 93–95

خلاصہ تفسیر (جن کھانے کی چیزوں میں گفتگو ہے یہ) سب کھانے کی چیزیں (حضرت ابراہیم ؑ کے وقت سے ہرگز حرام نہیں چلی آرہی ہیں بلکہ یہ چیزیں) نزول توراۃ کے قبل باستثناء اس کے (یعنی گوشت شتر کے) جس کو (حضرت) یعقوب ؑ نے (ایک خاص وجہ سے) اپنے نفس پر حرام کرلیا تھا، (اور پھر وہ ان کی اولاد میں بھی حرام چلا آیا، باقی سب چیزیں خود) بنی اسرائیل (تک) پر (بھی) حلال تھیں (تو ابراہیم ؑ کے وقت سے ان کی تحریم کا دعوی کب صحیح ہوسکتا ہے، اور نزول توراۃ کے قبل اس واسطے فرمایا کہ نزول توراۃ کے بعد ان مذکورہ حلال چیزوں میں سے بھی بہت سی چیزیں حرام ہوگئی تھیں، جس کی کچھ تفصیل سورة انعام کی اس آیت میں ہے (وعلی الذین…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

فرمایا کہ ان لوگوں سے کہہ دو کہ جو کچھ تم کہہ رہے ہو یہ تو محض اللہ پر جھوٹا بہتان ہے البتہ اللہ تعالیٰ نے جو کچھ فرمایا یہ سچ ہے۔ تو اپنی بدعات کو ملت ابراہیم ثابت کرنے کی کوشش نہ کرو بلکہ اس ملت ابراہیم کی پیروی کرو جس کی دعوت میں دے رہا ہوں۔ ابراہیم ؑ اسلام کی راہ پر بالکل یکسو تھے، نہ انہوں نے اسراہ سے دوسری پگڈنڈیاں نکالیں اور نہ وہ مشرکین میں سے تھے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 94–96

96۔ ا یہ یہود کے دوسرے اعتراض کا جواب ہے، وہ کہتے تھے کہ بیت المقدس سب سے پہلا عبادت خانہ ہے۔ محمد ﷺ اور ان کے ساتھیوں نے اپنا قبلہ کیوں بدل لیا ؟ اس کے جواب میں اور اس کے جواب میں کہا گیا تمہارا یہ دعویٰ بھی غلط ہے۔ پہلا گھر جو اللہ کی عبادت کے لیے تعمیر کی گیا ہے وہ ہے جو مکہ میں ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 94–96

34: یہ یہودیوں کے ایک اور اعتراض کا جواب ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بنی اسرائیل کے تمام انبیائے کرام بیت المقدس کو اپنا قبلہ قرار دیتے آئے ہیں، مسلمانوں نے اسے چھوڑ کر مکہ کے کعبہ کو کیوں قبلہ بنا لیا۔ آیت نے جواب یہ دیا ہے کہ کعبہ تو بیت المقدس کی تعمیر سے بہت پہلے وجود میں آچکا تھا، اور وہ حضرت ابراہیم ؑ کی نشانی ہے۔ لہذا اسے پھر سے قبلہ اور مقدس عبادت گاہ بنانا ہرگز قابل اعتراض نہیں۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 95–96

یہ الفاظ کہ ” اللہ نے جو کچھ کہا سچ کہا “ اس طرف اشارہ کرتے ہیں کہ اس بارے میں اللہ تعالیٰ نے اس سے پہلے جو وضاحت کردی ہے وہ درست ہے یعنی یہ کہ خانہ کعبہ کو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور حضرت اسماعیل (علیہ السلام) نے اس لئے تعمیر فرمایا تھا کہ یہ لوگوں کے لئے زیارت گاہ ہو اور جائے امن وسلامتی ہو ‘ اور اہل ایمان کے قبلہ اور جائے عبادت ہو ۔ اسی لئے یہاں حکم دیا جاتا ہے کہ تم حضرت ابراہیم کے طریقے کی پیروی کرو اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا طریقہ اور نظریہ حیات ہمہ جہت توحیدی نظریہ تھا ‘ جس میں شرک کا کوئی شائبہ نہ ہو فَاتَّبِعُوا مِلَّةَ إِبْرَاهِيمَ حَنِيفًا وَمَا كَانَ مِنَ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

5 یعنی خدا تعالیٰ نے حلال و حرام کے متعلق نیز اسلام اور محمد ﷺ کے باب میں سچی سچی اور کھری کھری باتیں تم کو سنا دیں جن کو کوئی جھٹلا نہیں سکتا۔ اب چاہیے کہ تم بھی مسلمانوں کی طرح اصلی دین ابراہیم کی پیروی اور اس کے اصول کا اتباع کرنے لگو جن میں سب سے بڑی چیز توحید خالص تھی۔ چاہیے کہ تم بھی عزیر و مسیح اور احبارو رہبان کی پرستش چھوڑ کر پکے موحد مسلم بن جاؤ۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 95 قُلْ صَدَقَ اللّٰہُ قف فَاتَّبِعُوْا مِلَّۃَ اِبْرٰہِیْمَ حَنِیْفًا ط حَنِیْفًاابراہیم کا حال ہے۔ اگر اسے اِتَّبِعُوْا“ کا حال بمعنی حَنِیْفِیِّیْنَ مانا جائے تو دوسرا ترجمہ ہوگا۔ یعنی یکسو ہو کر ‘ بعد کی تمام تقسیمات سے بلند تر ہو کر ‘ ابراہیم علیہ السلام کے طریقے کی پیروی کرو !

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

83 ملت ابراہیم سے مراد دین کی اصولی باتیں ہیں جو ہر نبی پر نازل کی جاتی رہیں۔ مثلاً صرف ایک اللہ کی عبادت کرنا، اسے وحدہ لاشریک سمجھنا اور اس کے سوا کسی دوسری قوت کے سامنے سر تسلیم خم نہ کرنا۔ اللہ کو ہی حرام و حلال قرار دینے کا مختار سمجھنا، اخروی سزاوجزا کے قانون پر ایسے ہی اعتقاد رکھنا، جیسے کتاب اللہ میں اس کی وضاحت ہے وغیرہ۔ رہے شرعی مسائل یا شریعت تو وہ ہر دور کے تقاضوں کے مطابق مختلف رہے ہیں۔ کھانے پینے کی چیزوں کی حلت و حرمت بھی ایسے ہی مسائل سے ہے اور ان میں تبدیلی ہوتی رہی ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

203 ۔ (آیت) ” ابرھیم “۔ ملۃ ابراھیم، حنیف، سب پر حاشیہ پارۂ اول کے ختم کے قریب سورة بقرہ کے رکوع 15، 16 میں گزر چکے۔ (آیت) ” فاتبعوا ملۃ ابرھیم، یعنی انہی ابراہیم کے دین کی پیروی کرو جنہیں تم بھی اپنا مقتدی و پیشوا مانتے ہو۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 94–96

فضائل اور تاریخ تعمیر بیت اللہ : اِنَّ اَوَّلَ بَیْتٍ وُّضِعَ لِلنَّاسِ لَلَّذِیْ بِبَکَّۃَ مُبَارَکًا۔ (الآیۃ) ۔ یہ یہود کے اس اعتراض کے جواب میں ہے کہ وہ کہتے تھے کہ بیت المقدس سب سے پہلا عبادت خانہ ہے محمد ﷺ اور ان کے ساتھیوں نے اپنا قبلہ کیوں بدل دیا ؟ اس کے جواب میں کہا گیا تمہارا یہ دعویٰ غلط ہے پہلا گھر جو اللہ کی عبادت کیلئے تعمیر کیا گیا وہ مکہ میں ہے۔ مذکورہ آیت میں پوری دنیا کے مکانات یہاں تک کہ تمام مساجد کے مقابلہ میں بیت اللہ (کعبہ) کے شرف اور فضیلت کا بیان ہے، اور یہ شرف اور فضیلت کئی وجہ سے ہے اول اس لیے کہ وہ دنیا کی تمام عبادت گاہوں میں سب سے پہلی عبادت گاہ ہے دوسرے یہ کہ وہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

قل صدق اللہ اے محمد ﷺ آپ کہہ دیجئے کہ اللہ نے سچ فرمایا ہے : اِنَّ اَوْلَی النَّاس بابْرَاھِیْمَ لَلَّذِیْنَ اتَّبَعُوْہُ وَ ھٰذَا النَّبِیُّ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا اور یہود و نصاریٰ جھوٹے ہیں جو اپنے اپنے گروہ کو دین ابراہیمی پر بتاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ابراہیم یہودی یا عیسائی تھے۔ فاتبعوا ملۃ ابراہیم پس اے طلب گار ان دین ابراہیم (علیہ السلام) ملت ابراہیمی یعنی اسلام کا اتباع کرو جو محمد ﷺ اور ان کی امت کا دین ہے یہی دین ابراہیم (علیہ السلام) تھا یعنی حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے زمانہ میں آپ کا دین یہی تھا یا دین اسلام دین ابراہیمی سے کامل مشابہت رکھتا ہے (گویا دونوں ایک ہی ہیں) ۔ رسول…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(95) اے محمد ﷺ آپ فرما دیجیے کہ اللہ تعالیٰ نے سچ کہا کہ حضرت ابرہیم ؑ نہ یہودی تھے اور نہ عیسائی یا یہ کہ حلال و حرام جو بیان کی گئی ہے، اس میں اللہ تعالیٰ نے سچ فرمایا لہٰذا دین ابراہیمی کی پیروی کرو جس میں ذرہ برابر کجی نہیں (اور توحید خالص کے علم بردار تھے)

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

قُلْ صَدَقَ اللّٰهُ : یعنی اللہ تعالیٰ کا بیان صدق پر مبنی ہے کہ کھانے کی یہ قسم پہلے حلال تھی، اس کے بعد اسرائیل اور ان کی اولاد پر حرام کردی گئی، لہٰذا ”نسخ“ صحیح ہے اور تمہارا شبہ باطل ہے، رسول اللہ ﷺ نے جو ان کے حلال ہونے کا فتویٰ دیا ہے، یہ عین ملت ابراہیم ؑ کے مطابق ہے۔ لہٰذا تم بھی دین اسلام میں داخل ہوجاؤ، جو اصول و فروع کے اعتبار سے عین دین ابراہیم کے مطابق ہے۔ (ابن کثیر)

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیت نمبر 95۔ اے محمد ﷺ آپ فرما دیجئے اللہ تعالیٰ نے سچ فرمایا ہے، بلاشبہ وہ تورات میں حرام نہیں کیا گیا ہے۔ (آیت) ” فاتبعوا ملت ابراھیم حنیفا “ یعنی اللہ تعالیٰ نے آپ کے دین کی اتباع کا حکم دیا ہے۔ (آیت) ” وما کان من المشرکین “۔ یہ ان کے باطل دعوی کو انہی پر رد کرنا اور لوٹانا ہے، جیسا کہ پہلے گزر چکا ہے۔

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 94–96

(1) ابن المنذروابن ابی حاتم نے شعبی کے طریق سے حضرت علی بن ابی طالب ؓ سے اللہ تعالیٰ کے اس قول لفظ آیت ” ان اول بیت وضع للناس للذی ببکۃ “ کے بارے میں روایت کیا ہے کہ اس سے پہلے گھر تھے لیکن یہ پہلا گھر تھا جو اللہ تعالیٰ کی عبادت کے لیے بنایا گیا۔ (2) ابن جریج نے حضرت ابوذر ؓ سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ لفظ آیت ” ان اول بیت وضع للناس “ سے وہ گھر مراد ہے کہ جس میں اللہ تعالیٰ کی عبادت کی جائے ” للذی ببکۃ “ جو مکہ میں ہے۔ (3) ابن ابی شیبہ واحمد وعبد بن حمید و بخاری ومسلم وابن جریر والبیہقی نے شعب الایمان میں حضرت ابوذر ؓ سے روایت کیا ہے کہ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! کونسی مسجد سب سے…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[قُلْ : آپ ﷺ کہیے ] [صَدَقَ : سچ کہا ] [اللّٰہُ : اللہ نے ] [فَاتَّبِعُوْا : پس تم لوگ پیروی کرو ] [مِلَّۃَ اِبْرٰہِیْمَ : ابراہیم (علیہ السلام) کے دین کی ] [حَنِیْفًا : یکسو ہو کر ] [وَمَا کَانَ : اور وہ نہیں تھے ] [مِنَ الْمُشْرِکِیْنَ : شرک کرنے والوں میں سے ] ب ر ک بَرَکَ (ن) بُرُوْکًا : غیر حسی خیر اور بھلائی والا ہونا۔ بَرَکَۃٌ (اسم ذات) : غیر حسی خیر اور بھلائی ‘ برکت (جو خیر اور بھلائی حواسِ خمسہ کے دائرے کے باہر ہو اور محسوس نہ کی جاسکے ‘ اسے برکت کہتے ہیں۔ اردو میں بھی برکت ہی استعمال ہوتا ہے ‘ کوئی دوسرا ہم معنی لفظ نہیں ہے) ۔ { رَحْمَتُ اللّٰہِ وَبَرَکٰتُہٗ عَلَیْکُمْ اَھْلَ…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

ملت ابراہیمیہ کے اتباع کا حکم : آخر میں فرمایا (قُلْ صَدَقَ اللّٰہُ فَاتَّبِعُوْا مِلَّۃَ اِبْرٰھِیْمَ حَنِیْفًا وَ مَا کَانَ مِنَ الْمُشْرِکِیْنَ ) (آپ فرما دیجیے کہ اللہ نے سچ فرمایا کہ کھانے کی سب چیزیں بنی اسرائیل پر حلال تھیں (سوائے اس کے جن کو اسرائیل نے اپنے اوپر حرام کرلیا تھا) یہ جو کچھ اسرائیل نے حرام کرلیا تھا حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی ملت میں حرام نہ تھا۔ لہٰذا تم ملت ابراہیمیہ کا اتباع کرو جو دین اسلام ہے جسے لے کر حضرت محمد رسول اللہ ﷺ تشریف لائے ہیں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) حنیف تھے جو تمام باطل دینوں سے ہٹ کر اور بچ کر دین حق پر رہے جو دین توحید تھا۔ اور تمام عبادات میں…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 93–95

قال تعالی۔ کل الطعام الی مشرکین دور سے سلسلہ کلام اہل کتاب کے متعلق چلا آ رہا ہے افتراء کا ذکر درمیان میں استطرادا اور تبعا ہوگیا تھا اب پھر اہل کتاب کے متعلق ارشاد فرماتے ہیں یا یوں کہو کہ شروع سورت سے لے کر یہاں تک کہ توحید الہی اور آنحضرت کی نبوت و رسالت کے بارے میں زیادہ تر نصاری سے محاجہ اور مباحثہ اور مباہلہ کا ذکر ہوا اب یہاں سے حق تعالیٰ یہود کے دو شبہوں کا جواب دیتے ہیں جو وہ دین اسلام پر کرتے تھے۔ پہلا شبہ۔ یہ تھا کہ اے محمد آپ اپنے آپ کو دین ابراہیمی اور انبیاء سابقین کے طریقہ پر بتلاتے ہیں تو پھر آپ ان چیزوں کو کیسے حلال بتلالتے ہیں جو حضرت ابراہیم اور تمام انبیاء پر حرام تھیں۔…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

135 ۔ اللہ تعالیٰ نے توحید اور دفع شبہات کے سلسلے میں جو کچھ بیان فرمایا ہے وہ سب حقیقت اور صداقت پر مبنی ہے لہذا تم توحید پر قائم ہوجاؤ اور ابراہیم (علیہ السلام) کی ملت کا اتباع کرو جو باطل دینوں سے یکسو اور شرک سے بیزار تھے اور ملت ابراہیمی سے مراد اسلام ہے۔ حنیفا مائلا عن الباطل وھی ملۃ الاسلام (جامع البیان ص 56) بیان بالا سے معلوم ہوگیا کہ اونٹ کا گوشت ابراہیمی مذہب میں حرام نہیں تھا اور نہ بنی اسرائیل پر حرام تھا اب اس اعتراض کو چھوڑ دو اور حق بات کو قبول کرلو اور ملت ابراہیمی کا پورا پورا اتباع کرو۔ شرک کو چھوڑ دو اور توحید کو قبول کرلو۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 93–95

شان نزول : گذشتہ رکوع میں اللہ تعالیٰ نے ملت ابراہیمی کے اصول بیان کرکے واضح کیا تھا۔ کہ ملت ابراہیم ، حنیفیت یا اسلام کا مطلب ایک ہی ہے۔ لہذا حضور ﷺ نے اہل کتاب کو اسی ملت ابراہیمی کی طرف دعوت دی۔ اور فرمایا کہ ملت ابراہیمی کے اصل پیروکار اہل اسلام ہیں۔ لہذا اہل اسلام کو چاہئے کہ وہ بھی مسلمانوں کے طریقے کے مطابق ملت ابراہیمی کی پیروی کریں۔ اس کے برخلاف یہودیوں کا دعوی یہ تھا۔ کہ اصل ابراہیمی وہ ہیں۔ انہوں نے جوابا کہا کہ اگر مسلمانوں کو ملت ابراہیمی کے پیروکار ہونے کا دعوی ہے۔ تو پھر ملت ابراہیمی میں حرام کردہ چیزوں کو وہ کیوں حلال سمجھتے ہیں۔ ان کی مراد اونٹ کے گوشت اور اونٹنی کے دودھ سے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

قُلْ صَدَقَ اللہُ۝ 0 ۣ فَاتَّبِعُوْا مِلَّــۃَ اِبْرٰہِيْمَ حَنِيْفًا۝ 0 ۭ وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِيْنَ۝ 95 صدق الصِّدْقُ والکذب أصلهما في القول، ماضیا کان أو مستقبلا، وعدا کان أو غيره، ولا يکونان بالقصد الأوّل إلّا في القول، ولا يکونان في القول إلّا في الخبر دون غيره من أصناف الکلام، ولذلک قال : وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] ، ( ص دق) الصدق ۔ یہ ایک الکذب کی ضد ہے اصل میں یہ دونوں قول کے متعلق استعمال ہوتے ہیں خواہ اس کا تعلق زمانہ ماضی کے ساتھ ہو یا مستقبل کے ۔ وعدہ کے قبیل سے ہو یا وعدہ کے قبیل سے نہ ہو ۔ الغرض بالذات یہ قول ہی کے متعلق استعمال ہوتے ہیں پھر قول میں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 95–96

ترکیب : حنیفا حال ہے ابراہیم سے اور ممکن ہے کہ ملۃ سے بھی ہو کیونکہ ملۃ بمعنی دین ہے پھر حال اور ذوالحال دونوں مذکر ہیں وضع موضع جر میں صفت بیت کی اور للذی ببکۃ ان کی خبر بکہ یعنی مکہ ہے م اور ب کا بدلہ ہوجاتا ہے جیسا کہ لازب اور لازم بعض کہتے ہیں مکہ شہر اور بکہ مسجد الحرام ہے۔ مبارکا اور ھدی دونوں ضمیر وضع سے حال ہیں۔ آیت بینات مبتدافیہ خبر مقام ابراھیم مبتداء اور خبر محذوف اے منہا حج البیت بالفتح والکسر بعض کہتے ہیں بالکسر اسم مصدر ہے مبتداء ‘ علی الناس خبر للّٰہ متعلق علی 1 ؎ سے متعلق ہے من استطاع الناس سے بدل بعض ہے۔ تفسیر : یہ تتمہ ہے پہلی گفتگو کا کہ اللہ نے سچی بات کہہ دی۔ اب اسی پر…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

قُلْ صَدَقَ اللّٰہُ قف فَاتَّبِعُوْا مِلَّـۃَ اِبْرٰہِیْمَ حَنِیْفًا ط وَمَا کَانَ مِنَ الْمُشْرِکِیْنَ ۔ (آپ کہہ دیجیے ! سچ فرمایا ہے اللہ نے پس پیروی کرو تم ملت ابراہیم کی جو حنیف تھا اور مشرکین میں سے نہ تھا) (95) یعنی قرآن کریم تمہیں جس بات کی راہنمائی دے رہا ہے یہی اللہ کی صحیح تعلیم ہے اور جو کچھ تم کہہ رہے ہو وہ سراسر اللہ پر جھوٹا بہتان ہے۔ اس لیے اپنی خرافات کو ملت ابراہیم ثابت کرنے کی کوشش نہ کرو بلکہ اس ملت ابراہیم کی پیروی کرو جس کی دعوت نبی کریم ﷺ دے رہے ہیں۔ ابراہیم (علیہ السلام) کا طریقہ سراسر اللہ کی بندگی پر قائم تھا اور وہ اس باب میں بالکل یکسو تھے۔ نہ انھوں نے اس راہ سے…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 95–96

فہم القرآن ربط کلام : یہود و نصارٰی کہتے ہیں کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے بیت اللہ تعمیر نہیں کیا تھا جس کی یہاں بھرپور طریقہ سے تردید کی گئی ہے۔ یہودی یہ دعو ٰی بھی کرتے ہیں کہ ابراہیم (علیہ السلام) نے کعبہ کی بجائے پہلے بیت المقدس تعمیر کیا اور یہی ان کا قبلہ تھا۔ اے نبی ! آپ یہ اعلان فرمائیں کہ دنیا میں سب سے پہلے لوگوں کے لیے جو گھر تعمیر ہوا وہ مکہ معظمہ میں بیت اللہ ہے جسے اللہ تعالیٰ نے لوگوں کے لیے ہدایت کا مرکز قرار دیا اور اس میں بےپناہ برکات رکھی ہیں۔ (عَنْ أَبِيْ ذَرٍّ ؓ قَالَ قُلْتُ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ أَيُّ مَسْجِدٍ وُضِعَ فِي الْأَرْضِ أَوَّلَ قَالَ الْمَسْجِدُ الْحَرَامُ…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

کذبِ یہود پر تعریض : 95: قُلْ صَدَقَ اللّٰہُ فَاتَّبِعُوْا مِلَّۃَ اِبْرٰھِیْمَ حَنِیْفًاط وَمَاکَانَ مِنَ الْمُشْرِکِیْنَ ۔ (کہہ دیں اللہ تعالیٰ نے سچ فرمایا) اپنی اطلاعات میں کہ اللہ تعالیٰ نے ان چیزوں کو حرام نہیں کیا۔ اس آیت میں ان کے کذب پر تعریض کی گئی ہے یعنی یہ بات ثابت ہوگئی کہ اللہ تعالیٰ نے جو چیز اتاری ہے وہ اسکے اتارنے میں سچے ہیں۔ اور تم جھوٹے ہو۔ فَاتَّبِعُوْا مِلَّۃَ اِبْرٰھِیْمَ ( تم ملت ابراہیم کی اتباع کرو) ملت ابراہیم سے مراد ملت اسلام ہے جس پر محمد ﷺ اور ان کے پیروکار کاربند ہیں۔ تاکہ تم اس یہودیت کو خیر باد کہہ دو جس نے تمہیں باندھ کر یہاں تک مجبور کردیا کہ تم اپنی اغراض…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

95۔ (آیت)” قل صدق اللہ فاتبعوا ملۃ ابراھیم حنیفا وما کان من المشرکین “۔ ان کو ملت ابراہیمی کی اتباع کی طرف بلاؤ کیونکہ ملت ابراہیمی کا اتباع دراصل محمد ﷺ کی اتباع ہے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 93–95

(93 ۔ 94) ۔ یہود نے ایک روز آنحضرت ﷺ سے بحث کی کہ آپ ملت ابراہیمی پر اپنے آپ کو بتلاتے ہیں اور اونٹ کا گوشت کھاتے ہیں اور اونٹنی کا دودھ پیتے ہیں۔ حالانکہ ملت ابراہیمی میں یہ دونوں چیزیں حرام ہیں تورات میں اس کا ذکر موجود ہے آپ نے فرمایا تورات میں یہ ہرگز نہیں ہے کہ ملت ابراہیم میں یہ دونوں چیزیں حرام ہیں بلکہ حضرت یعقوب ایک دفعہ بیمار ہوگئے تھے انہوں نے نذر مانی تھی کہ اس بیماری سے اللہ تعالیٰ ان کو صحت دے۔ تو جو چیز ان کو بہت بھاتی تھی وہ اس کو چھوڑ دیں گے۔ چناچہ اللہ تعالیٰ نے ان کو صحت دی۔ اور یہ دونوں چیزیں ان کو بہت بھاتی تھیں ان کو انہوں نے چھوڑ دیا۔ یہود نے اس بات کو نہ مانا اللہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 93–96

آیت 93-95 یہ یہودیوں کے اس زعم باطل کی تردید ہے کہ احکام کی منسوخ ہونا جائز نہیں۔ اس لئے انہوں نے حضرت عیسیٰ اور حضرت محمد کی نبوت کا انکار کیا، کیونکہ ان دونوں حضرات نے حلال و حرام کے بعض ایسے مسائل بیان فرمائے جو تورات کے احکام کے خلاف تھے۔ بحث میں انصاف کو مدنظر رکھتے ہوئے ان کے خلاف خود ان کی مسلمہ کتاب تورات سے دلیل پیش کی گئی ہے کہ کھانے کی تمام چیزیں بنی اسرائیل کے لئے حلال تھیں۔ (الا ما حرم اسرآئیل علی نفسہ) ” سوائے اس کے جس چیز کو اسرائیل یعنی یعقوب نے اپنے اوپر حرام کرلیا تھا “ یہ چیزیں اللہ نے حرام نہیں کی تھیں، آپ کو عرق النساء کی بیماری ہوگئی تو آپ نے نذر مان لی کہ اگر اللہ نے…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 94–96

بکہ اور مکہ میں فرق قول باری ہے (ان اول بیت وضع للناس للذی ببکۃ مبارکا وھدی للعالمین، بیشک سب سے پہلاگھرجولوگوں کے لیے (ان کی عبادت گاہ کے طورپر) بنایا گیا وہ مکہ میں ہے۔ اس میں بڑی برکتیں ہیں اور وہ تمام جہان والوں کے لیے ہدایت کامرکز ہے) مجاہد اورقتادہ کا قول ہے کہ خانہ کعبہ سے پہلے روئے زمین پر کوئی گھر نہیں بنا یا گیا ۔ حضرت علی ؓ اور حسن بصری روایت ہے کہ یہ پہلاگھر تھا جو عبادت کے لیے تعمیر کیا گیا تھا۔ لفظ بکہ کے متعلق اختلاف ہے زھری کا قول ہے بکہ مسجد کا نام ہے اور مکہ پورے حرم کا نام ہے۔ مجاہد کا قول ہے کہ بکہ اور مکہ دونوں کا مفہوم ایک ہے۔ اس قول کے مطابق حرف باء حرف میم سے تبدیل…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 94–96

191 افتراء علی اللہ سب سے بڑا ظلم ۔ والعیاذ باللہ : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ افتراء علی اللہ یعنی اللہ پر جھوٹ باندھنا سب سے بڑا ظلم ہے۔ سو جو اللہ پر اس طرح کا جھوٹ باندھے اور کہے کہ نہیں صاحب یہ چیزیں تو پہلے سے ہی حرام چلی آرہی تھیں اور اللہ نے ان کو حضرت ابراہیم وغیرہ پر حرام فرمایا تھا وغیرہ۔ اور استفہام ظاہر ہے کہ انکاری ہے یعنی ایسے شخص سے بڑھ کر ظالم اور کوئی نہیں ہوسکتا۔ سو اللہ پر جھوٹ باندھنا سب سے بڑا ظلم اور ایسا شخص سب سے بڑا ظالم ہے ۔ وَالْعِیَاذ باللّٰہ الْعَظِیْم مِنْ کُل زَیْغ وَّضَلَال و سُوْئٍ وّ انْحِرَاف۔ سو جو چیزیں ملت ابراہیمی میں حرام نہیں تھیں ان کو حرام قرار…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 93–95

بنی اسرائیل کی حلال و حرام پر بحث تشریح : ان آیات کا شان نزول یہ ہے کہ یہودیوں نے رسول اللہ ﷺ پر اعتراض کیا کہ آپ تو اپنے آپ کو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے پیرو کہتے ہیں جب کہ آپ وہ چیزیں کھاتے ہیں جو ان پر حرام تھیں، مثلاً : اونٹ کا گوشت اور دودھ۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ان کو کہو اپنی کتاب تورات میں سے یہ حکم دکھائیں۔ یہ کہیں بھی حکم نہیں دیا گیا۔ بلکہ یہ خود انہوں نے اپنے اوپر حرام کر رکھی تھیں۔ ہاں تورات میں کچھ دوسری چیزوں کا ذکر ہے جو ان پر حرام کی گئی تھیں۔ اونٹ کا گوشت اور دودھ کے حرام کرنے کا حکم اللہ کی طرف سے نہ تھا بلکہ اس کی وجہ یہ تھی کہ حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے اپنی…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 92–101

آیات 92- 101 اسرارومعارف لن تنالو البر……………فان اللہ بہ علیم۔ بر سے مراد نیکی ہے اور نیکی کی اصل قرب رسول ہے کہ نبوت ایک ایسی نعمت ہے جس کی وجہ سے نبی معصوم ہوتا ہے یعنی مکالمہ باری کی برکات میں سے عصمت بھی ہے جو تمام انبیاء (علیہم السلام) کو نصیب ہوتی ہے۔ حصول بر قرب رسالت کا نام ہے : اسی طرح نبی کے قرب سے ایک خاص وصف ، جو مومن میں پیدا ہوتا ہے وہ گناہ سے نفرت اور نیکی کی محبت ہے جس کے باعث مومن گناہ سے محفوظ ہوجاتا ہے۔ اسی درجے کو حصول بر کہہ سکتے ہیں۔ اب اگر کسی شخص کو کسی طرح کا مال یا منافع اتنا عزیز ہو کہ وہ اسے حاصل کرنے کے لئے اپنے مسلمان ہونے کا اعلان کرے تو وہ اسلام کو کیسے پاسکتا…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 3 یعنی اللہ تعالیٰ کا یہ بیان مبنی بر صداقت ہے کہ طعام کی یہ قسم پہلے حلال تھی اس کے بعد اسرائیل اور اس کی اولاد پر حرام کردی گئی لہذا نسخ صحیح ہے اور تمہارا شبہ باطل ہے اور آنحضرت ﷺ نے جو ان کی حلت کا فتوی دیا ہے یہ عین ملت ابراہیمی کے مطابق ہے لہذا تم بھی ملت ابراہیم میں داخل ہو ہوجا و اور دین اسلام میں دا خل ہوجا و جو اصول وہ فروغ کے اعتبار سے عین دین ابراہیم کے مطا بق ہے۔ (کبیر۔ ابن کثیر )

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

Explained with ayahs 95–96

(3:95) ملۃ۔ دین کی طرح ملت بھی اس دستور کا نام ہے۔ جو اللہ تعالیٰ نے انبیاء کی زبان پر بندوں کے لئے مقرر فرمایا تھا۔ تاکہ اس کے ذریعہ وہ قرب خداوندی حاصل کرسکیں دین اور ملت میں فرق یہ ہے کہ ملت کی اضافت صرف اس نبی کی طرف ہوتی ہے جس کا وہ دین ہوتا ہے پس فاتبعوا ۔۔ ابراہیم۔ پس دین ابراہیم کی پیروی کرو۔ حنیفا۔ الحنف کے معنی گمراہی سے استقامت کی طرف مائل ہونے کے ہیں۔ الحنیف بروزن فعیل جو باطل کو چھوڑ کر استقامت پر آجائے۔ جو سب سے بےتعلق ہو کر صرف خدا کا ہوجائے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 93–101

لغات القرآن آیت نمبر 93 تا 101 الطعام (کھانا) غنی (بےنیاز، بےپرواہ) فاتوا (پھر تم لے آؤ) تصدون (تم روکتے ہو) من افترٰی (جس نے گھڑا، جو کوئی تہمت لگائے) عوج (ٹیڑھ پن) صدق اللہ (اللہ نے سچ فرمایا) تتلیٰ (تلاوت کی گئی) اول بیتٍ (پہلاگھر) یعتصم مضبوط پکڑلیتا ہے) وضع (جس کو طاقت ہے، جو استطاعت رکھتا ہے) ۔ تشریح : آیت نمبر 93 تا 101 عیسائیوں اور یہودیوں کو اس بات پر بڑا فخر تھا کہ وہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی نسل سے ہیں۔ وہ اس بات کے بھی مدعی تھے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا اصل مذہب سینہ بہ سینہ ان تک ہی پہنچا ہے۔ جب نبی کریم ﷺ نے اپنا ملت ابراہیمی پر ہونا ہر اعتبار سے ثابت کردیا تو…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 93–95

یہود کی بےعقلی شان نزول : یہود نے ایک روز آنحضرت ﷺ سے بحث کی کہ آپ ملت ابراہیمی پر اپنے آپ کو بتلاتے ہیں اور اونٹ کا گوشت کھاتے ہیں اور اونٹنی کا دودھ پیتے ہیں، حالانکہ ملت ابراہیمی میں یہ دونوں چیزیں حرام ہیں۔ توریت میں اس کا ذکر موجود ہے۔ آپ نے فرمایا :” توریت میں یہ ہرگز نہیں ہے کہ ملت ابراہیمی میں یہ دونوں چیزیں حرام ہیں۔ بلکہ حضرت یعقوب (علیہ السلام) ایک دفعہ بیمار ہوگئے تھے۔ اس وقت انہوں نے نذر مانی تھی کہ اس بیماری سے اگر اللہ تعالیٰ ان کو صحت دے گا تو جو چیز ان کو بہت بھاتی ہوگی وہ اس کو چھوڑ دیں گے چناچہ اللہ تعالیٰ نے اسن کو صحت دی۔ اس وجہ سے انہوں نے یہ دونوں چیزیں چھوڑ دیں۔ مگر…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 93–96

[34] یہود کا رسول اکرم ﷺ پر ایک اعتراض یہ تھا کہ فلاں فلاں چیزیں تم حلال سمجھتے ہو اور اپنے دین کو ابراہیم کا پیرو بھی کہے جاتے ہو حالانکہ وہ چیزیں ابراہیم کے وقت سے حرام چلی آرہی ہیں۔ اسی اعتراض کا جواب دیا جا رہا ہے۔ [35] تشریح کے لئے ملاحظہ ہو سورة بقرہ حاشیہ 34 صفحہ 99 [36] یعقوب (علیہ السلام) نے بعض چیزوں سے طبعی کراہت یا کسی مرض کی بنا پر احتراز فرمایا تھا اور ان کی اولاد نے بعد میں انہیں ممنوع سمجھ لیا۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 94–96

پہلا گھر : (ف 1) خدا کا گھر جو تمام نسل انسانی کا مرکز عبادت ہے ‘ وہ صرف بیت اللہ الحرام ہے ، جہاں برکات وہدایات کے ہزاروں چشمے پھوٹتے ہیں اور جس میں عبادت ونیاز مندی کی لاکھوں نشانیاں پنہاں ہیں ، جو مقام ابراہیم (علیہ السلام) کے شرف سے مفتحز ہے اور جو روح وقلب کی عام سعادتوں کی ضامن وکفیل ہے اس لئے یہ دلیل ہے ، اس بات کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) خدا کے سچے پیغمبر تھے اور وہ لوگ جو ان کے نقش قدم پر چلتے ہیں ‘ وہ بھی صداقت وصفا کے پیکر ہیں ، غور کرو ایک غیر معروف شخص ایک بنجر اور سنگلاخ زمین میں ایک عبادت گاہ بناتا ہے ، جو بالکل سادہ ہے فن تعمیر کے لحاظ سے جس میں کوئی خوبی نہیں لیکن اس کی…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

Explained with ayahs 94–96

ف 2۔ جملہ اشیاء خوردنی جو مابہ النزاع ہیں یہ سب نزول تورات سے قبل ہی بنی اسرائیل پر حلال تھیں ۔ بجزان چند چیزوں کے جو حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے خود اپنی ذات پر حرام کرلی تھیں یعنی اونٹ کے گوشت اور اونٹ کے دودہ کے علاوہ باقی جو چیزیں کھانے پینے کی عام طور سے حلال ہیں وہ سب بنی اسرائیل پر بھی نزول تورات سے قبل حلال تھیں ۔ اے پیغمبر ﷺ ! آپ ان سے یہ مطلب کیجئے کہ تورا ت لائو اور اس کو لا کر پڑھو اگر تم سچے اور راست باز ہوتا کہ ہمارا تمہارا جھگڑا صاف ہوجائے پھر اگر اب کوئی اس صحیح مطالبے اور حقیقی الزام قائم ہوجانے کے بعد بھی اللہ عتالیٰ پر جھوٹ بات کی تہمت لگائے اور جھوٹی افترا پر دای کرے تو…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 94–96

ف 4۔ سب عبادت گاہوں سے پہلے اس کے مقرر ہونے سے یہ بھی معلوم ہوگیا کہ بیت المقدس سے بھی پہلے بنا ہے چناچہ حدیث صحیحین میں اس کی تصریح بھی ہے۔ 5۔ یعنی خانہ کعبہ 6۔ مطلب یہ کہ حج وہاں ہوتا ہے اور مثلا نماز کا ثواب بروئے تصریح حدیث بہت زیادہ ہوتا ہے دینی برکت تو یہ ہوئی اور جو وہاں نہیں ہیں ان کو اس مکان کے ذریعہ سے نماز کا رخ معلوم ہوتا ہے یہ رہنمائی ہوئی۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

185: اللہ تعالیٰ نے سچائی ظاہر کردی اور اس کی وضاحت فرما دی کہ یہود ونصاریٰ جھوٹے ہیں جو اپنے اپنے گرہوں کو دین ابراہیمی پر بتاتے ہیں اور برملا کہتے ہیں کہ ابراہیم (علیہ السلام) یہودی یا عیسائی ہیں ۔ حالانکہ ابراہیم (علیہ السلام) نہ تو یہودی تھے اور نہ عیسائی اس لیے کہ یہودی اور عیسائیت تو ابراہیم (علیہ السلام) سے ہزاروں برس بعد میں معرض وجود میں آئی۔ غور کرو کہ اللہ تعالیٰ آجانے کے بعد کسی کی گواہی جو تمہاری باتوں کی تصدیق کردے گی ؟ تم ہی بتاؤ کہ ” مَنْ اَصْدَقُ مِنَ اللّٰهِ حَدِیْثًا “ (النساء 4 : 87) وَ مَنْ اَصْدَقُ مِنَ اللّٰهِ قِیْلًا 00122 (النساء 4 : 122) اور اللہ سے بھ کر بات کہنے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 93–95

Commentary In the verses appearing above, there is a continuity of arguments against positions taken by the people of the Book. At some places, it concerns Jews and at others, the Christians. One such argument, which has been reported in Ruh al-Ma'ani on the authority of Wahidi and al-Kalbi, recounts the incident when the Holy Prophet ﷺ stated his adherence to the community of Abraham ﷺ with reference to all fundamentals of the religious code, and most of the subsidiaries, the Jews objected by saying: 'You eat camel meat and partake of its milk although these were unlawful for Abraham (علیہ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 94–95

78. The Jews had enmeshed themselves in legalistic minutiae and these had become their major concern. They had abandoned service to the One True God and had allowed their religious life to become corrupted by polytheism. Instead of attending to the fundamentals of religion they indulged in discussions about questions that had only arisen because of the hair-splitting legalism of their scholars during their centuries of decadence.

Read the full tafseer →