Explained with ayahs 93–95
بارگاہ رسالت ﷺ میں یہودی وفد
مسند احمد میں ہے کہ یہودیوں کی ایک جماعت حضور ﷺ کے پاس آئی اور کہنے لگی کہ ہم آپ سے چند سوال کرنا چاہتے ہیں جن کے جواب نبیوں کے سوا اور کوئی نہیں آپ نے فرمایا پوچھو لیکن پہلے تم لوگ وعدہ کرو اگر میں صحیح صحیح جواب دے دوں تو تمہیں میری نبوت کے تسلیم کرلینے میں کوئی عذر نہ ہوگا انہوں نے اس شرط کو منظور کرلیا کہ اگر آپ نے سچے جواب دے تو ہم اسلام قبول کرلیں گے ساتھ ہی انہوں نے بڑی بڑی قسمیں بھی کھائیں پھر پوچھا کہ بتائیے۔ حضرت اسرائیل نے کیا چیز اپنے اوپر حرام کی تھی ؟ عورت مرد کے پانی کی کیا کیفیت ہے ؟ اور کیوں کبھی لڑکا ہوتا ہے اور کبھی لڑکی ؟ اور نبی امی کی نیند…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–95
سورة اٰلِ عِمْرٰن 78
مطلب یہ ہے کہ ان فقہی جزئیات میں کہاں جا پھنسے ہو۔ دین کی جڑ تو اللہ واحد کی بندگی ہے جسے تم نے چھوڑ دیا اور شرک کی آلائشوں میں مبتلا ہوگئے۔ اب بحث کرتے ہو فقہی مسائل میں، حالانکہ یہ وہ مسائل ہیں جو اصل ملت ابراہیمی سے ہٹ جانے کے بعد انحطاط کی طویل صدیوں میں تمہارے علماء کی موشگافیوں سے پیدا ہوئے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 93–95
خلاصہ تفسیر
(جن کھانے کی چیزوں میں گفتگو ہے یہ) سب کھانے کی چیزیں (حضرت ابراہیم ؑ کے وقت سے ہرگز حرام نہیں چلی آرہی ہیں بلکہ یہ چیزیں) نزول توراۃ کے قبل باستثناء اس کے (یعنی گوشت شتر کے) جس کو (حضرت) یعقوب ؑ نے (ایک خاص وجہ سے) اپنے نفس پر حرام کرلیا تھا، (اور پھر وہ ان کی اولاد میں بھی حرام چلا آیا، باقی سب چیزیں خود) بنی اسرائیل (تک) پر (بھی) حلال تھیں (تو ابراہیم ؑ کے وقت سے ان کی تحریم کا دعوی کب صحیح ہوسکتا ہے، اور نزول توراۃ کے قبل اس واسطے فرمایا کہ نزول توراۃ کے بعد ان مذکورہ حلال چیزوں میں سے بھی بہت سی چیزیں حرام ہوگئی تھیں، جس کی کچھ تفصیل سورة انعام کی اس آیت میں ہے (وعلی الذین…
Read the full tafseer →یعنی جو لوگ اس وضاحت کے بعد بھی اس اس بات پر اڑے رہیں کہ جن چیزوں کو انہوں نے حرام ٹھہرا رکھا ہے وہ ملت ابراہیم میں بھی حرام تھیں اور ان کو اللہ تعالیٰ نے حرام ٹھہرایا ہے تو یہ لوگ اللہ پر جھوٹ باندھ رہے ہیں اور جو لوگ اللہ پر جھوٹ باندھیں ان سے بڑھ کر ظالم کون ہوسکتا ہے !
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–96
96۔ ا یہ یہود کے دوسرے اعتراض کا جواب ہے، وہ کہتے تھے کہ بیت المقدس سب سے پہلا عبادت خانہ ہے۔ محمد ﷺ اور ان کے ساتھیوں نے اپنا قبلہ کیوں بدل لیا ؟ اس کے جواب میں اور اس کے جواب میں کہا گیا تمہارا یہ دعویٰ بھی غلط ہے۔ پہلا گھر جو اللہ کی عبادت کے لیے تعمیر کی گیا ہے وہ ہے جو مکہ میں ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–96
34: یہ یہودیوں کے ایک اور اعتراض کا جواب ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بنی اسرائیل کے تمام انبیائے کرام بیت المقدس کو اپنا قبلہ قرار دیتے آئے ہیں، مسلمانوں نے اسے چھوڑ کر مکہ کے کعبہ کو کیوں قبلہ بنا لیا۔ آیت نے جواب یہ دیا ہے کہ کعبہ تو بیت المقدس کی تعمیر سے بہت پہلے وجود میں آچکا تھا، اور وہ حضرت ابراہیم ؑ کی نشانی ہے۔ لہذا اسے پھر سے قبلہ اور مقدس عبادت گاہ بنانا ہرگز قابل اعتراض نہیں۔
Read the full tafseer →اہل کتاب کے اعتراضات میں سے ایک اعتراض تحویل قبلہ پر بھی تھا ‘ یہ اعتراض بھی وہ بار بار دہراتے تھے ۔ یہ اعتراض اس لئے پیدا ہوا تھا کہ رسول ﷺ نے ہجرت فرمائی تو مدینہ طیبہ میں آپ سولہ ‘ سترہ یا اٹھارہ مہینوں تک نماز بیت المقدس کی طرف منہ کرکے پڑھتے رہے تھے ۔ باوجود اس کے کہ اس سے پہلے ‘ سورة بقرہ میں ‘ اس موضوع پر تفصیلی بحث کی گئی تھی ‘ اور یہ بتایا گیا تھا کہ خانہ کعبہ دراصل حقیقی اور اصلی قبلہ تھا ‘ اور بیت المقدس کو عارضی طور پر ‘ بعض مصلحتوں کے تحت ‘ قبلہ قراردیا گیا تھا ‘ جس کی وضاحت اللہ تعالیٰ نے اپنی جگہ کردی تھی ‘ لیکن اس اظہار حقیقت کے باوجود یہودی باربار اسی اعتراض کو دہراتے رہتے…
Read the full tafseer →4 یعنی بڑی بےانصافی ہوگی اگر اس کے بعد بھی وہی مرغے کی ایک ٹانگ گاتے رہو کہ نہیں، یہ چیزیں ابراہیم کے زمانہ سے حرام ہیں اور دین ابراہیم کے اصلی پیرو ہم ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 93–94
آیت 93 کُلُّ الطَّعَامِ کَان حلاًّ لِّبَنِیْ اِسْرَآءِ یْلَ اِلاَّ مَا حَرَّمَ اِسْرَآءِ یْلُ عَلٰی نَفْسِہٖ مِنْ قَبْلِ اَنْ تُنَزَّلَ التَّوْرٰٹۃُ ط
یہودی شریعت محمدی ﷺ پر اعتراض کرتے تھے کہ اس میں بعض ایسی چیزیں حلال قرار دی گئی ہیں جو شریعت موسوی علیہ السلام میں حرام تھیں۔ مثلاً ان کے ہاں اونٹ کا گوشت حرام تھا ‘ لیکن شریعت محمدی ﷺ میں یہ حرام نہیں ہے۔ اگر یہ بھی آسمانی شریعت ہے تو یہ تغیر کیسے ہوگیا ؟ یہاں اس کی حقیقت بتائی جا رہی ہے کہ تورات کے نزول سے قبل حضرت یعقوب علیہ السلام نے طبعی کراہت یا کسی مرض کے باعث بعض چیزیں اپنے لیے ممنوع قرار دے لی تھیں جن میں اونٹ کا گوشت بھی شامل تھا۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 93–94
82 یہ دراصل یہود کے مسلمانوں پر ایک اعتراض کا جواب ہے۔ وہ مسلمانوں سے یہ کہتے تھے کہ تم نے تو شریعت کی حرام کردہ چیزوں کو حلال بنا رکھا ہے۔ تم لوگ اونٹ کا گوشت شوق سے کھاتے ہو اور اس کا دودھ بھی پیتے ہو ؟ اللہ تعالیٰ نے اس کا جواب یہ دیا کہ یہ چیزیں میں نے حرام نہیں کی تھیں بلکہ تورات کے نازل ہونے سے مدتوں پہلے یعقوب نے خود اپنے آپ پر حرام قرار دے لی تھیں۔ یعقوب نے ان چیزوں کو کیوں حرام قرار دے لیا تھا ؟ اس بارے میں کئی روایات ہیں جن میں سے ایک یہ ہے کہ انہیں ان چیزوں سے طبعاً کراہت تھی اور دوسری یہ کہ آپ کو عرق النساء کی بیماری تھی اور پرہیز کے طور پر آپ نے ایسا کیا تھا۔ پھر ان کی اتباع میں…
Read the full tafseer →202 ۔ یعنی قرآن نے امر حق واضح کردیا ہے، اور تم نے جو جھوٹ اپنے ہی اکا بر اور اپنے مقدس نوشتوں کی بابت گڑھ رکھے تھے، ان کی قلعی کھول دی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–96
فضائل اور تاریخ تعمیر بیت اللہ : اِنَّ اَوَّلَ بَیْتٍ وُّضِعَ لِلنَّاسِ لَلَّذِیْ بِبَکَّۃَ مُبَارَکًا۔ (الآیۃ) ۔ یہ یہود کے اس اعتراض کے جواب میں ہے کہ وہ کہتے تھے کہ بیت المقدس سب سے پہلا عبادت خانہ ہے محمد ﷺ اور ان کے ساتھیوں نے اپنا قبلہ کیوں بدل دیا ؟ اس کے جواب میں کہا گیا تمہارا یہ دعویٰ غلط ہے پہلا گھر جو اللہ کی عبادت کیلئے تعمیر کیا گیا وہ مکہ میں ہے۔
مذکورہ آیت میں پوری دنیا کے مکانات یہاں تک کہ تمام مساجد کے مقابلہ میں بیت اللہ (کعبہ) کے شرف اور فضیلت کا بیان ہے، اور یہ شرف اور فضیلت کئی وجہ سے ہے اول اس لیے کہ وہ دنیا کی تمام عبادت گاہوں میں سب سے پہلی عبادت گاہ ہے دوسرے یہ کہ وہ…
Read the full tafseer →فمن افتری علی اللہ الکذب پس اب جو لوگ اللہ پر دروغ بندی کریں گے اور دعویٰ کریں گے کہ اللہ نے اونٹ کا گوشت حضرت نوح اور حضرت ابراہیم کے لیے حرام کردیا تھا۔
من بعد ذالک اس کے بعد کہ ان کے قول کے خلاف خود توریت میں دلیل موجود ہے۔
فاولءِک ھم الظالمون پس یہی لوگ درحقیقت ظالم (حق ناشناس) ہیں جو حقانیت کے واضح ہوجانے کے بعد جھگڑا کرتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 93–94
(93۔ 94) سب کھانے کی چیزیں نزول توریت سے پہلے سوائے اس کے جس کو حضرت یعقوب ؑ نے اپنے اوپر حرام کرلیا تھا، بنی اسرائیل پر حلال تھیں وہ سب کھانے کی چیزیں آج رسول اکرم ﷺ اور آپ کی امت پر حلال ہیں۔
توریت کے نازل ہونے سے پہلے حضرت یعقوب ؑ نے نذر مانی تھی جس کی بنا پر انہوں نے اپنے اوپر اونٹ کا گوشت اور اس کا دودھ حرام کرلیا تھا۔
جب یہ آیت مبارکہ نازل ہوئی تو رسول اکرم ﷺ نے یہود سے دریافت کیا کہ حضرت یعقوب ؑ نے اپنے کون سے کھانوں کو حرام کیا تھا وہ بولے حضرت یعقوب ؑ نے اپنے اوپر کھانے کی کسی بھی چیز کو حرام نہیں کیا تھا اور جو چیزیں ہم پر حرام ہیں، جیسا کہ اونٹ کا گوشت اور اس کا دودھ اور گائے، بکری…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 93–94
كُلُّ الطَّعَامِ۔۔ : اوپر کی آیات میں رسول اللہ ﷺ کی نبوت کے اثبات میں دلائل پیش کیے اور اہل کتاب پر الزامات قائم کیے ہیں۔ اب یہاں سے ان کے شبہات کا جواب ہے، جو وہ آپ ﷺ کی نبوت پر پیش کرتے تھے۔ (رازی) جب قرآن نے بیان کیا کہ یہود کے ظلم اور سرکشی کی وجہ سے بہت سی چیزیں ان پر حرام کردی گئیں۔ (النساء : 160۔ الأنعام : 146) ورنہ یہ چیزیں ابراہیم ؑ کے عہد نبوت میں حلال تھیں، تو یہود نے ان آیات کو جھٹلایا اور کہنے لگے کہ یہ چیزیں تو ابراہیم ؑ کے وقت سے حرام چلی آئی ہیں، اس پر یہ آیات نازل ہوئیں۔ (شوکانی) بعض مفسرین نے ان آیات (93، 94) کی شان نزول میں لکھا ہے کہ یہود تورات میں نسخ کے قائل نہیں تھے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 93–94
آیت نمبر : 93۔
اس میں چار مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر : (1) قولہ تعالیٰ : (آیت) ” حلا “ یعنی حلال، (کھانے کی ہر چیز حلال تھی) پھر استثنا کی اور فرمایا (آیت) ” الا ما حرم اسرآء یل علی نفسہ “۔ اور یہ حضرت یعقوب (علیہ السلام) ہیں۔ ترمذی میں حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ یہودیوں نے حضور نبی مکرم ﷺ کو کہا : آپ ہمیں بتائیے کون سی شے اسرائیل (حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے اپنے آپ پر حرام کی تھی ؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا : ” وہ جنگل میں رہتے تھے اور وہ عرق النسائ (کی بیماری) میں مبتلا ہوگئے اور وہ اونٹوں کے گوشت اور ان کے دودھ کے سوا کوئی پسندیدہ اور مناسب شے نہ پاتے تھے ، “ انہوں نے کہا آپ نے سچ فرمایا : (1)…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–96
(1) ابن المنذروابن ابی حاتم نے شعبی کے طریق سے حضرت علی بن ابی طالب ؓ سے اللہ تعالیٰ کے اس قول لفظ آیت ” ان اول بیت وضع للناس للذی ببکۃ “ کے بارے میں روایت کیا ہے کہ اس سے پہلے گھر تھے لیکن یہ پہلا گھر تھا جو اللہ تعالیٰ کی عبادت کے لیے بنایا گیا۔
(2) ابن جریج نے حضرت ابوذر ؓ سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ لفظ آیت ” ان اول بیت وضع للناس “ سے وہ گھر مراد ہے کہ جس میں اللہ تعالیٰ کی عبادت کی جائے ” للذی ببکۃ “ جو مکہ میں ہے۔
(3) ابن ابی شیبہ واحمد وعبد بن حمید و بخاری ومسلم وابن جریر والبیہقی نے شعب الایمان میں حضرت ابوذر ؓ سے روایت کیا ہے کہ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! کونسی مسجد سب سے…
Read the full tafseer →[فَمَنِ : پھر جس نے ] [افْتَرٰی : گھڑا ] [عَلَی اللّٰہِ : اللہ پر ] [الْکَذِبَ : جھوٹ ] [مِنْم بَعْدِ ذٰلِکَ : اس کے بعد سے ] [فَاُولٰٓئِکَ : تو وہ لوگ ] [ہُمُ الظّٰلِمُوْنَ : ہی ظالم ہیں ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 93–94
ملت ابراہیمیہ میں کیا چیزیں حلال تھیں
معالم التنزیل صفحہ 326: ج 2 میں ہے کہ یہودیوں نے رسول اللہ ﷺ پر یہ اعتراض کیا کہ آپ کا دعویٰ ہے کہ آپ ملت ابراہیم پر ہیں اور ابراہیم اونٹوں کا گوشت نہیں کھاتے تھے اور اونٹنیوں کا دودھ نہیں پیتے تھے معلوم ہوا کہ آپ ان کی ملت پر نہیں ہیں، اس کے جواب میں رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ یہ چیزیں ابراہیم (علیہ السلام) کے لیے حلال تھیں وہ کہنے لگے ہر وہ چیز جو ہمارے نزدیک حرام ہے وہ نوح پر اور ابراہیم ( علیہ السلام) پر حرام تھیں اور اس کی حرمت اسی طرح ہم تک پہنچی ہے اللہ جل شانہٗ نے ان کی تردید کرتے ہوئے آیت بالا نازل فرمائی اور فرمایا کہ سب کھانے بنی اسرائیل کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 93–95
قال تعالی۔ کل الطعام الی مشرکین
دور سے سلسلہ کلام اہل کتاب کے متعلق چلا آ رہا ہے افتراء کا ذکر درمیان میں استطرادا اور تبعا ہوگیا تھا اب پھر اہل کتاب کے متعلق ارشاد فرماتے ہیں یا یوں کہو کہ شروع سورت سے لے کر یہاں تک کہ توحید الہی اور آنحضرت کی نبوت و رسالت کے بارے میں زیادہ تر نصاری سے محاجہ اور مباحثہ اور مباہلہ کا ذکر ہوا اب یہاں سے حق تعالیٰ یہود کے دو شبہوں کا جواب دیتے ہیں جو وہ دین اسلام پر کرتے تھے۔
پہلا شبہ۔ یہ تھا کہ اے محمد آپ اپنے آپ کو دین ابراہیمی اور انبیاء سابقین کے طریقہ پر بتلاتے ہیں تو پھر آپ ان چیزوں کو کیسے حلال بتلالتے ہیں جو حضرت ابراہیم اور تمام انبیاء پر حرام تھیں۔…
Read the full tafseer →134 اللہ تعالیٰ کے اس واضح بیان سے یہودیوں کے جھوٹ اور کذب وافترا کا بھانڈا پھوٹ گیا۔ اب اگر اس کے بعد بھی وہ غلط بیانی سے باز نہ آئیں اور بدستور اکابر انبیاء (علیہم السلام) اور آسمانی کتابوں پر افترا کرتے اور بہتان تراشتے رہیں تو یہ بہت بڑے ظالم ہیں کیونکہ وہ حق واضح ہوجانے کے بعد بھی اپنی شرارتوں سے باز نہیں آئے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 93–95
شان نزول : گذشتہ رکوع میں اللہ تعالیٰ نے ملت ابراہیمی کے اصول بیان کرکے واضح کیا تھا۔ کہ ملت ابراہیم ، حنیفیت یا اسلام کا مطلب ایک ہی ہے۔ لہذا حضور ﷺ نے اہل کتاب کو اسی ملت ابراہیمی کی طرف دعوت دی۔ اور فرمایا کہ ملت ابراہیمی کے اصل پیروکار اہل اسلام ہیں۔ لہذا اہل اسلام کو چاہئے کہ وہ بھی مسلمانوں کے طریقے کے مطابق ملت ابراہیمی کی پیروی کریں۔ اس کے برخلاف یہودیوں کا دعوی یہ تھا۔ کہ اصل ابراہیمی وہ ہیں۔ انہوں نے جوابا کہا کہ اگر مسلمانوں کو ملت ابراہیمی کے پیروکار ہونے کا دعوی ہے۔ تو پھر ملت ابراہیمی میں حرام کردہ چیزوں کو وہ کیوں حلال سمجھتے ہیں۔ ان کی مراد اونٹ کے گوشت اور اونٹنی کے دودھ سے…
Read the full tafseer →فَمَنِ افْتَرٰى عَلَي اللہِ الْكَذِبَ مِنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ فَاُولٰۗىِٕكَ ھُمُ الظّٰلِمُوْنَ 94 ۬
فری
الفَرْيُ : قطع الجلد للخرز والإصلاح، والْإِفْرَاءُ للإفساد، والِافْتِرَاءُ فيهما، وفي الإفساد أكثر، وکذلک استعمل في القرآن في الکذب والشّرک والظّلم . نحو : وَمَنْ يُشْرِكْ بِاللَّهِ فَقَدِ افْتَرى إِثْماً عَظِيماً [ النساء/ 48] ،
(ری ) القری ( ن )
کے معنی چمڑے کو سینے اور درست کرنے کے لئے اسے کاٹنے کے ہیں اور افراء افعال ) کے معنی اسے خراب کرنے کے لئے کاٹنے کے ۔ افتراء ( افتعال کا لفظ صلاح اور فساد دونوں کے لئے آتا ہے اس کا زیادہ تر استعمال افسادی ہی کے معنوں میں ہوتا ہے اسی لئے قرآن پاک میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 93–94
؎ کل الطعام سے وہ کل طعام مراد ہیں کہ جن میں بحث تھی جیسا کہ اونٹ کا گوشت۔ اس سے ہر قسم کا کھانا مراد لے کر قرآن پر یہ اعتراض کرنا (کہ ہر قسم کا کھانا کب بنی اسرائیل کو حرام تھا) لغو بات ہے۔
2 ؎ فاتو بالتورات ان کے ادعا کے موافق فرمایا ہے اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ آنحضرت ﷺ کے عہد میں موسیٰ کی اصلی تورات بلاتفسیر موجود تھی۔النیل ادراک الشیء ولخوفۃ یقال نالتی من فلان معروف وای وصل الی والنوال العطاء یقال نواتہ تنویا والتناول یقال نلتہ انوار (13) کس لئے کہ ماسوائے اللہ کے جب ایک حجاب اکبر ہے اس کا صرف کرنا بر یعنی مقصود کا حاصل کرنا ہے۔ 12 منہ
Read the full tafseer →Explained with ayahs 93–94
کُلُّ الطَّعَامِ کَانَ حِلًّا لِّـبَنِیْٓ اِسْرَآئِ یْلَ اِلَّا مَا حَرَّمَ اِسْرَآئِ یْلُ عَلٰی نَفْسِہٖ ِمنْ قَبْلِ اَنْ تُنَزَّلَ التَّوْرٰۃُ ط قُلْ فَاْتُوْا بِالتَّوْرٰۃِ فَاتْلُوْہَـآ اِنْ کُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ ۔ فَمَنِ افْتَرٰی عَلَی اللّٰہِ الْکَذِبَ مِنْ م بَعْدِ ذٰلِکَ فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الظّٰلِمُوْنَ ۔
(سب کھانے کی چیزیں بنی اسرائیل کے لیے حلال تھیں مگر وہ جو اسرائیل نے اپنے اوپر حرام ٹھہرا لی تھیں توراۃ کے نازل ہونے سے پہلے، کہہ دیجیے ! لائو تورات پھر اسے پڑھ کے سنائو اگر تم سچے ہو۔ جو لوگ اس کے بعد بھی اللہ پر جھوٹ باندھیں تو وہی ظالم ہیں) (93 تا 94)
آنحضرت ﷺ اور امت مسلمہ نے جب…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : حضرت یعقوب (علیہ السلام) کا کسی وجہ سے اونٹ کا گوشت کھانا چھوڑنے کو یہ کہنا کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر اونٹ کا گوشت حرام کیا تھا سراسر جھوٹ ہے جس کی تردید کی گئی ہے۔
اللہ تعالیٰ نے تورات میں اونٹ کا گوشت یا دودھ حرام نہیں کیا۔ تورات کے حوالے سے اسے حرام قرار دینا تمہارا اللہ تعالیٰ پر جھوٹ بولنے کے مترادف ہے۔ اللہ تعالیٰ پر ظالم لوگ ہی جھوٹ باندھا کرتے ہیں۔ اے رسول معظم ﷺ ! آپ فرما دیں کہ یہودیو ! تمہاری بات غلط اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد سچا ہے۔ لہٰذا ملت ابراہیم کی اتباع کرو۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ہر طرف سے کٹ کر اللہ ہی کے ہوچکے تھے اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا…
Read the full tafseer →حق ناشناس ظالم ہے :
94: فَمَنِ افْتَرٰی عَلَی اللّٰہِ الْکَذِبَ مِنْم بَعْدِ ذٰلِکَ فَاُولٰٓپکَ ھُمُ الظّٰلِمُوْنَ ۔ (پس جو شخص اللہ تعالیٰ پر افتراء باندھے) اس طرح گمان کر کے کہ یہ چیزیں ملت نوح ( علیہ السلام) و ابراہیم ( علیہ السلام) میں حرام تھیں۔ مِنْم بَعْدِ ذٰلِکَ (اس قطعی حجت کے پیش کردینے کے بعد) فَاُولٰٓپکَ ھُمُ الظّٰلِمُوْنَ ۔ (وہ ہی ظالم ہیں) یعنی بیجا جھگڑا کرنے والے ہیں نہ وہ خود حق شناس ہیں اور نہ ہی دلائل کی طرف متوجہ ہونے والے ہیں۔
Read the full tafseer →(تفسیر) 94۔:
(آیت)” فمن افتری علی اللہ الکذب “۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 93–95
(93 ۔ 94) ۔ یہود نے ایک روز آنحضرت ﷺ سے بحث کی کہ آپ ملت ابراہیمی پر اپنے آپ کو بتلاتے ہیں اور اونٹ کا گوشت کھاتے ہیں اور اونٹنی کا دودھ پیتے ہیں۔ حالانکہ ملت ابراہیمی میں یہ دونوں چیزیں حرام ہیں تورات میں اس کا ذکر موجود ہے آپ نے فرمایا تورات میں یہ ہرگز نہیں ہے کہ ملت ابراہیم میں یہ دونوں چیزیں حرام ہیں بلکہ حضرت یعقوب ایک دفعہ بیمار ہوگئے تھے انہوں نے نذر مانی تھی کہ اس بیماری سے اللہ تعالیٰ ان کو صحت دے۔ تو جو چیز ان کو بہت بھاتی تھی وہ اس کو چھوڑ دیں گے۔ چناچہ اللہ تعالیٰ نے ان کو صحت دی۔ اور یہ دونوں چیزیں ان کو بہت بھاتی تھیں ان کو انہوں نے چھوڑ دیا۔ یہود نے اس بات کو نہ مانا اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 93–96
آیت 93-95
یہ یہودیوں کے اس زعم باطل کی تردید ہے کہ احکام کی منسوخ ہونا جائز نہیں۔ اس لئے انہوں نے حضرت عیسیٰ اور حضرت محمد کی نبوت کا انکار کیا، کیونکہ ان دونوں حضرات نے حلال و حرام کے بعض ایسے مسائل بیان فرمائے جو تورات کے احکام کے خلاف تھے۔ بحث میں انصاف کو مدنظر رکھتے ہوئے ان کے خلاف خود ان کی مسلمہ کتاب تورات سے دلیل پیش کی گئی ہے کہ کھانے کی تمام چیزیں بنی اسرائیل کے لئے حلال تھیں۔ (الا ما حرم اسرآئیل علی نفسہ) ” سوائے اس کے جس چیز کو اسرائیل یعنی یعقوب نے اپنے اوپر حرام کرلیا تھا “ یہ چیزیں اللہ نے حرام نہیں کی تھیں، آپ کو عرق النساء کی بیماری ہوگئی تو آپ نے نذر مان لی کہ اگر اللہ نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–96
بکہ اور مکہ میں فرق
قول باری ہے (ان اول بیت وضع للناس للذی ببکۃ مبارکا وھدی للعالمین، بیشک سب سے پہلاگھرجولوگوں کے لیے (ان کی عبادت گاہ کے طورپر) بنایا گیا وہ مکہ میں ہے۔ اس میں بڑی برکتیں ہیں اور وہ تمام جہان والوں کے لیے ہدایت کامرکز ہے) مجاہد اورقتادہ کا قول ہے کہ خانہ کعبہ سے پہلے روئے زمین پر کوئی گھر نہیں بنا یا گیا ۔ حضرت علی ؓ اور حسن بصری روایت ہے کہ یہ پہلاگھر تھا جو عبادت کے لیے تعمیر کیا گیا تھا۔ لفظ بکہ کے متعلق اختلاف ہے زھری کا قول ہے بکہ مسجد کا نام ہے اور مکہ پورے حرم کا نام ہے۔
مجاہد کا قول ہے کہ بکہ اور مکہ دونوں کا مفہوم ایک ہے۔ اس قول کے مطابق حرف باء حرف میم سے تبدیل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–96
191 افتراء علی اللہ سب سے بڑا ظلم ۔ والعیاذ باللہ : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ افتراء علی اللہ یعنی اللہ پر جھوٹ باندھنا سب سے بڑا ظلم ہے۔ سو جو اللہ پر اس طرح کا جھوٹ باندھے اور کہے کہ نہیں صاحب یہ چیزیں تو پہلے سے ہی حرام چلی آرہی تھیں اور اللہ نے ان کو حضرت ابراہیم وغیرہ پر حرام فرمایا تھا وغیرہ۔ اور استفہام ظاہر ہے کہ انکاری ہے یعنی ایسے شخص سے بڑھ کر ظالم اور کوئی نہیں ہوسکتا۔ سو اللہ پر جھوٹ باندھنا سب سے بڑا ظلم اور ایسا شخص سب سے بڑا ظالم ہے ۔ وَالْعِیَاذ باللّٰہ الْعَظِیْم مِنْ کُل زَیْغ وَّضَلَال و سُوْئٍ وّ انْحِرَاف۔ سو جو چیزیں ملت ابراہیمی میں حرام نہیں تھیں ان کو حرام قرار…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 93–95
بنی اسرائیل کی حلال و حرام پر بحث
تشریح : ان آیات کا شان نزول یہ ہے کہ یہودیوں نے رسول اللہ ﷺ پر اعتراض کیا کہ آپ تو اپنے آپ کو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے پیرو کہتے ہیں جب کہ آپ وہ چیزیں کھاتے ہیں جو ان پر حرام تھیں، مثلاً : اونٹ کا گوشت اور دودھ۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ان کو کہو اپنی کتاب تورات میں سے یہ حکم دکھائیں۔ یہ کہیں بھی حکم نہیں دیا گیا۔ بلکہ یہ خود انہوں نے اپنے اوپر حرام کر رکھی تھیں۔ ہاں تورات میں کچھ دوسری چیزوں کا ذکر ہے جو ان پر حرام کی گئی تھیں۔ اونٹ کا گوشت اور دودھ کے حرام کرنے کا حکم اللہ کی طرف سے نہ تھا بلکہ اس کی وجہ یہ تھی کہ حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے اپنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 92–101
آیات 92- 101
اسرارومعارف
لن تنالو البر……………فان اللہ بہ علیم۔
بر سے مراد نیکی ہے اور نیکی کی اصل قرب رسول ہے کہ نبوت ایک ایسی نعمت ہے جس کی وجہ سے نبی معصوم ہوتا ہے یعنی مکالمہ باری کی برکات میں سے عصمت بھی ہے جو تمام انبیاء (علیہم السلام) کو نصیب ہوتی ہے۔
حصول بر قرب رسالت کا نام ہے :
اسی طرح نبی کے قرب سے ایک خاص وصف ، جو مومن میں پیدا ہوتا ہے وہ گناہ سے نفرت اور نیکی کی محبت ہے جس کے باعث مومن گناہ سے محفوظ ہوجاتا ہے۔ اسی درجے کو حصول بر کہہ سکتے ہیں۔ اب اگر کسی شخص کو کسی طرح کا مال یا منافع اتنا عزیز ہو کہ وہ اسے حاصل کرنے کے لئے اپنے مسلمان ہونے کا اعلان کرے تو وہ اسلام کو کیسے پاسکتا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 93–94
ف 6 اوپر کی آیات میں آنحضرت ﷺ کی نبوت کے اثبات کے اثبات میں دلائل پیش کیے اور اہل کتاب پر الزامات قائم کیے ہیں۔ اب یہاں سے انکے شہبات کا جواب ہے ج و آنحضرت ﷺ کی نبوت پر پیش کرتے تھے۔ (کبیر) جب قرآن نے بیان کیا کہ یہود کے ظلم وبغی کو جہ سے بہت سی چیزیں ان پر حرام کردی گئیں۔ (النسائ آیت 160 الا نعام آیت 146) اور نہ یہ چیزیں حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) کے عہد نبوت میں حلال تھیں تو یہود نے ان آیات کی تکذیب کی اور کہنے لگے کہ یہ چیزیں تو حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) کے وقت سے حرام چلی آتی ہیں اس پر یہ آیات نازل ہوئیں (شوکانی) بعض مفسرین نے ان آیات کل الطعام تا الظالمون کی شان نزول میں لکھا ہے کہ…
Read the full tafseer →(3:94) افتری۔ اس نے جھوٹ باندھا اس نے بہتان تراشا۔ افتراء (افتعال) ماضی واحد مذکر غائب فری حروف مادہ الفری (نصر) کے معنی چمڑے کو سینے اور درست کرنے کے لئے اسے کاٹنے کے ہیں۔ اور افراء (افعال) کے معنی اسے خراب کرنے کے لئے کاٹنے کے ہیں۔ افترائ۔ جھوٹ۔ دشمنی۔
افتری علیہ الکذب کسی پر تہمت لگانا۔ کسی پر جھوٹ باندھنا۔ فمن ۔۔ الکذب۔ پس جو شخص اللہ پر جھوٹا بہتان تراشتا ہے۔ من بعد ذلک۔ اس وضاحت کے بعد جو آیۃ 93 میں کی گئی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 93–101
لغات القرآن آیت نمبر 93 تا 101
الطعام (کھانا) غنی (بےنیاز، بےپرواہ) فاتوا (پھر تم لے آؤ) تصدون (تم روکتے ہو) من افترٰی (جس نے گھڑا، جو کوئی تہمت لگائے) عوج (ٹیڑھ پن) صدق اللہ (اللہ نے سچ فرمایا) تتلیٰ (تلاوت کی گئی) اول بیتٍ (پہلاگھر) یعتصم مضبوط پکڑلیتا ہے) وضع (جس کو طاقت ہے، جو استطاعت رکھتا ہے) ۔
تشریح : آیت نمبر 93 تا 101
عیسائیوں اور یہودیوں کو اس بات پر بڑا فخر تھا کہ وہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی نسل سے ہیں۔ وہ اس بات کے بھی مدعی تھے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا اصل مذہب سینہ بہ سینہ ان تک ہی پہنچا ہے۔ جب نبی کریم ﷺ نے اپنا ملت ابراہیمی پر ہونا ہر اعتبار سے ثابت کردیا تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 93–95
یہود کی بےعقلی
شان نزول : یہود نے ایک روز آنحضرت ﷺ سے بحث کی کہ آپ ملت ابراہیمی پر اپنے آپ کو بتلاتے ہیں اور اونٹ کا گوشت کھاتے ہیں اور اونٹنی کا دودھ پیتے ہیں، حالانکہ ملت ابراہیمی میں یہ دونوں چیزیں حرام ہیں۔ توریت میں اس کا ذکر موجود ہے۔ آپ نے فرمایا :” توریت میں یہ ہرگز نہیں ہے کہ ملت ابراہیمی میں یہ دونوں چیزیں حرام ہیں۔ بلکہ حضرت یعقوب (علیہ السلام) ایک دفعہ بیمار ہوگئے تھے۔ اس وقت انہوں نے نذر مانی تھی کہ اس بیماری سے اگر اللہ تعالیٰ ان کو صحت دے گا تو جو چیز ان کو بہت بھاتی ہوگی وہ اس کو چھوڑ دیں گے چناچہ اللہ تعالیٰ نے اسن کو صحت دی۔ اس وجہ سے انہوں نے یہ دونوں چیزیں چھوڑ دیں۔ مگر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 93–96
[34] یہود کا رسول اکرم ﷺ پر ایک اعتراض یہ تھا کہ فلاں فلاں چیزیں تم حلال سمجھتے ہو اور اپنے دین کو ابراہیم کا پیرو بھی کہے جاتے ہو حالانکہ وہ چیزیں ابراہیم کے وقت سے حرام چلی آرہی ہیں۔ اسی اعتراض کا جواب دیا جا رہا ہے۔
[35] تشریح کے لئے ملاحظہ ہو سورة بقرہ حاشیہ 34 صفحہ 99
[36] یعقوب (علیہ السلام) نے بعض چیزوں سے طبعی کراہت یا کسی مرض کی بنا پر احتراز فرمایا تھا اور ان کی اولاد نے بعد میں انہیں ممنوع سمجھ لیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–96
پہلا گھر :
(ف 1) خدا کا گھر جو تمام نسل انسانی کا مرکز عبادت ہے ‘ وہ صرف بیت اللہ الحرام ہے ، جہاں برکات وہدایات کے ہزاروں چشمے پھوٹتے ہیں اور جس میں عبادت ونیاز مندی کی لاکھوں نشانیاں پنہاں ہیں ، جو مقام ابراہیم (علیہ السلام) کے شرف سے مفتحز ہے اور جو روح وقلب کی عام سعادتوں کی ضامن وکفیل ہے اس لئے یہ دلیل ہے ، اس بات کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) خدا کے سچے پیغمبر تھے اور وہ لوگ جو ان کے نقش قدم پر چلتے ہیں ‘ وہ بھی صداقت وصفا کے پیکر ہیں ، غور کرو ایک غیر معروف شخص ایک بنجر اور سنگلاخ زمین میں ایک عبادت گاہ بناتا ہے ، جو بالکل سادہ ہے فن تعمیر کے لحاظ سے جس میں کوئی خوبی نہیں لیکن اس کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–96
ف 2۔ جملہ اشیاء خوردنی جو مابہ النزاع ہیں یہ سب نزول تورات سے قبل ہی بنی اسرائیل پر حلال تھیں ۔ بجزان چند چیزوں کے جو حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے خود اپنی ذات پر حرام کرلی تھیں یعنی اونٹ کے گوشت اور اونٹ کے دودہ کے علاوہ باقی جو چیزیں کھانے پینے کی عام طور سے حلال ہیں وہ سب بنی اسرائیل پر بھی نزول تورات سے قبل حلال تھیں ۔ اے پیغمبر ﷺ ! آپ ان سے یہ مطلب کیجئے کہ تورا ت لائو اور اس کو لا کر پڑھو اگر تم سچے اور راست باز ہوتا کہ ہمارا تمہارا جھگڑا صاف ہوجائے پھر اگر اب کوئی اس صحیح مطالبے اور حقیقی الزام قائم ہوجانے کے بعد بھی اللہ عتالیٰ پر جھوٹ بات کی تہمت لگائے اور جھوٹی افترا پر دای کرے تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–96
ف 4۔ سب عبادت گاہوں سے پہلے اس کے مقرر ہونے سے یہ بھی معلوم ہوگیا کہ بیت المقدس سے بھی پہلے بنا ہے چناچہ حدیث صحیحین میں اس کی تصریح بھی ہے۔
5۔ یعنی خانہ کعبہ
6۔ مطلب یہ کہ حج وہاں ہوتا ہے اور مثلا نماز کا ثواب بروئے تصریح حدیث بہت زیادہ ہوتا ہے دینی برکت تو یہ ہوئی اور جو وہاں نہیں ہیں ان کو اس مکان کے ذریعہ سے نماز کا رخ معلوم ہوتا ہے یہ رہنمائی ہوئی۔
Read the full tafseer →” میں نہ مانوں “ کہنے والوں کے لیے کوئی دلیل کارگر ثابت نہیں ہوتی :
184: كهاوت ہے کہ کسی نے ماں سے کہا تھا کہ ماں میں شرط لگا کر آیا ہوں کہ کوا سفید ہوتا ہے۔ ماں نے کہا بیٹا ! یہ شرط تو آپ ہی کو ادا کرنا ہوگی۔ کیوں ؟ ماں نے کہا اس لیے کہ ساری دنیا جانتی ہے کہ کوا سفید نہیں ہوتا بلکہ سیاہ ہوتا ہے۔ بیٹے نے جواب دیا کہ واہ ماں ! میں مانوں گا تو شرط پڑے گی۔ میں مانوں ہی گا کب ؟ جو مجھے شرط پڑے گی سو جن لوگوں نے نہ ماننے کی قسم کھائی ہے ان کا کوئی علاج ؟
قرآن کریم نے امرحق واضح کردیا اور تم نے جو جھوٹ اپنے ہی اکابر اور اپنے نوشتوں کی بابت کھڑ رکھے تھے ان کی کلی کھول دی اور ظاہر ہے کہ جھوٹ گڑنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 93–95
Commentary
In the verses appearing above, there is a continuity of arguments against positions taken by the people of the Book. At some places, it concerns Jews and at others, the Christians. One such argument, which has been reported in Ruh al-Ma'ani on the authority of Wahidi and al-Kalbi, recounts the incident when the Holy Prophet ﷺ stated his adherence to the community of Abraham ﷺ with reference to all fundamentals of the religious code, and most of the subsidiaries, the Jews objected by saying: 'You eat camel meat and partake of its milk although these were unlawful for Abraham (علیہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–95
78. The Jews had enmeshed themselves in legalistic minutiae and these had become their major concern. They had abandoned service to the One True God and had allowed their religious life to become corrupted by polytheism. Instead of attending to the fundamentals of religion they indulged in discussions about questions that had only arisen because of the hair-splitting legalism of their scholars during their centuries of decadence.
Read the full tafseer →