Aal-i-Imraan 3:93

Aal-i-Imraan · from ayah 93

3:93

كُلُّ الطَّعَامِ كَانَ حِلًّا لِّبَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ اِلَّا مَا حَرَّمَ اِسْرَآءِیْلُ عَلٰی نَفْسِهٖ مِنْ قَبْلِ اَنْ تُنَزَّلَ التَّوْرٰىةُ ؕ— قُلْ فَاْتُوْا بِالتَّوْرٰىةِ فَاتْلُوْهَاۤ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ ۟كُلُّ الطَّعَامِ كَانَ حِلًّا لِّبَنِىۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ اِلَّا مَا حَرَّمَ اِسۡرَآءِيۡلُ عَلٰى نَفۡسِهٖ مِنۡ قَبۡلِ اَنۡ تُنَزَّلَ التَّوۡرٰٮةُ ‌ؕ قُلۡ فَاۡتُوۡا بِالتَّوۡرٰٮةِ فَاتۡلُوۡهَاۤ اِنۡ كُنۡتُمۡ صٰدِقِيۡنَ

بنی اسرائیل کے لیے (تورات کے نازل ہونے سے) پہلے کھانے کی تمام چیزیں حلال تھیں بجز ان کے جو یعقوب نے خود اپنے اوپر حرام کر لی تھیں کہہ دو کہ اگر سچے ہو تو تورات لاؤ اور اسے پڑھو (یعنی دلیل پیش کرو)

— Fateh Muhammad Jalandhari

All food was lawful to the Children of Israel except what Israel had made unlawful to himself before the Torah was revealed. Say, [O Muhammad], "So bring the Torah and recite it, if you should be truthful."

— Saheeh International

Juz 4 · Ruku 10 of surah · Ruku 1 of juz

Read the whole surah · Surah Aal-i-Imraan

All translations of 3:93

کھانے کی یہ ساری چیزیں (جو شریعت محمدیؐ میں حلال ہیں) بنی اسرائیل کے لیے بھی حلال تھیں، البتہ بعض چیزیں ایسی تھیں جنہیں توراۃ کے نازل کیے جانے سے پہلے اسرائیل نے خود اپنے اوپر حرام کر لیا تھا ان سے کہو، اگر تم (ا پنے اعتراض میں) سچے ہو تو لاؤ توراۃ اور پیش کرو اس کی کوئی عبارت

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

بنی اسرائیل کے لیے (تورات کے نازل ہونے سے) پہلے کھانے کی تمام چیزیں حلال تھیں بجز ان کے جو یعقوب نے خود اپنے اوپر حرام کر لی تھیں کہہ دو کہ اگر سچے ہو تو تورات لاؤ اور اسے پڑھو (یعنی دلیل پیش کرو)

— مولانا فتح محمد جالندہری

توراة کے نزول سے پہلے (حضرت) یعقوب ؑ نے جس چیز کو اپنے اوپر حرام کر لیا تھا اس کے سوا تمام کھانے بنی اسرائیل پر حلال تھے، آپ کہہ دیجئے کہ اگر تم سچے ہو تو توراة لے آو اور پڑھ کر سناؤ

— مولانا محمد جوناگڑہی

تورات کے نازل ہونے سے پہلے کھانے کی تمام چیزیں (جو مسلمانوں کے لیے حلال ہیں) بنی اسرائیل کے لیے (بھی) حلال تھیں، سوائے اس چیز کے جو اسرائیل (یعنی یعقوب ؑ) نے اپنے اوپر حرام کرلی تھی۔ (اے پیغمبر ! یہودیوں سے) کہہ دو کہ : اگر تم سچے ہو تو تورات لے کر آؤ اور اس کی تلاوت کرو۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

سب کھانے بنی اسرائیل کو حلال تھے مگر وہ جو یعقوبؑ نے اپنے اوپر حرام کرلیا تھا توریت اترنے سے پہلے تم فرماؤ توریت لاکر پڑھو اگر سچے ہو

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

تورات کے اترنے سے پہلے بنی اسرائیل کے لئے ہر کھانے کی چیز حلال تھی سوائے ان (چیزوں) کے جو یعقوب ؑ نے خود اپنے اوپر حرام کر لی تھیں، فرما دیں: تورات لاؤ اور اسے پڑھو اگر تم سچے ہو،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

کھانے کی ہر چیز بنی اسرائیل کے لیے حلال تھی مگر جو اسرائیل نے اپنے آپ پر حرام کرلی، اس سے پہلے کہ تورات اتاری جائے، کہہ دے تو لاؤ تورات، پھر اسے پڑھو، اگر تم سچے ہو۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

بنی اسرائیل کے لیے کھانے پینے کی سب چیزیں حلال تھیں مگر وہ چیزیں جنہیں تورات کے نزول سے پیشتر اسرائیل (یعقوب) نے خود اپنے اوپر حرام کرلیا تھا۔ آپ ان یہود سے کہئے کہ اگر تم اپنے دعویٰ میں سچے ہو تو تورات لاؤ اور اس میں سے وہ عبارت پڑھو

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

کھانے کی ساری چیزیں بنی اسرائیل کے لیے حلال تھیں، مگر وہ جو اسرائیل نے تورات کے نازل کیے جانے سے پہلے اپنے اوپر حرام ٹھہرا لی تھیں۔ کہہ دو لاؤ تورات اور اس کو پڑھو اگر تم سچے ہو۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

کھانے کی سب ہی چیزیں (جو شریعت محمدیہ میں حلال ہیں) بنی اسرائیل کے لئے بھی حلال تھیں، بجز ان کے جن کو اسرائیل (یعقوب) نے خود اپنے اوپر حرام کرلیا تھا، قبل اس سے کہ تورات نازل کی جاتی، (ان سے) کہو کہ اچھا تو لاؤ تم لوگ تورات کو، اور پڑھ کر سناؤ اسے، اگر تم واقعی سچے ہو (اپنے دعویٰ میں)

— مولانا اسحاق مدنی

ہر کھانا بنی اسرائیل کے لیے حلال تھا بجز اس کے کہ جو خود اسرائیل نے اپنے اوپر حرام کرلیا تھا قبل اس کے کہ توریت اترے۔ تو آپ کہیے کہ توریت لاؤ اور اسے پڑھو اگر تم سچے ہو۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

کھانے کی ساری چیزیں (جو شریعت محمدی ﷺ میں حلال ہیں) بنی اسرائیل کے لیے بھی حلال تھیں سوائے ان چیزوں کے جنہیں اسرائیل (حضرت یعقوب (ؑ) نے حرام ٹھہرا لیا تھا اپنی جان پر اس سے پہلے کہ تورات نازل ہو (اے نبی ﷺ ! ان سے) کہیے لاؤ تورات اور اس کو پڑھو اگر تم (اپنے اعتراض میں) سچے ہو

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

کھانے کی یہ ساری چیزیں (جو شریعت محمدی ﷺ میں حلال ہیں) بنی اسرائیل کے لیے بھی حلال تھیں، البتہ بعض چیزیں ایسی تھیں جنہیں تورات کے نازل کئے جانے سے پہلے اسرائیل نے خود اپنے اوپر حرام کرلیا تھا۔ ان سے کہو، اگر تم سچے ہو تو لاؤ تورات پیش کرو اس کی کوئی عبارت پڑھو

— محترمہ رفعت اعجاز

All food (that is lawful in the Law revealed to Muhammad) was lawful to the Children of Israel, except what Israel made unlawful to themselves before the revelation of the Torah. Tell them: 'Bring the Torah and recite any passage of it if you are truthful.'

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Every (kind of) food was lawful for the children of Isra‘il, except what Isra‘il had made unlawful for himself, well before the Torah was revealed. Say, :Then, bring the Torah and recite it, if you are true.

— Muhammad Taqi Usmani

Every (kind of) food was lawful for the children of Isra‘il, except what Isra‘il had made unlawful for himself, well before the Torah was revealed. Say, :Then, bring the Torah and recite it, if you are true.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

All food was lawful to the Children of Israel, except what Isra'il made unlawful for himself before the Tawrah was revealed. Say: "Bring here the Tawrah and recite it, if you are truthful. "

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

All food was lawful unto the Children of Israel, save that which Israel forbade himself, (in days) before the Torah was revealed. Say: Produce the Torah and read it (unto us) if ye are truthful.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

All food was lawful to the Children of Israel except what Israel had made unlawful to himself before the Torah was revealed. Say, [O Muhammad], "So bring the Torah and recite it, if you should be truthful."

— Saheeh International

All food was lawful for the children of Israel except for what Israel had deemed unlawful for himself before the Torah was revealed. (Muhammad), ask them to bring the Torah and read it, if they are true in their claim (that all food was not unlawful for the children of Israel).

— Muhammad Sarwar

All food was lawful to the children of Israel except that which Israel had forbidden to himself, before the Taurat was revealed. Say: Bring then the Taurat and read it, if you are truthful.

— Muhammad Habib Shakir

Every foods was allowable unto the Children of Isra'il, save that which Isra'il had forbidden unto himself, ere the Taurat was revealed. Say thou: bring ye then the Taurat and recite it, if ye say sooth.

— Abdul Majid Daryabadi

All food was lawful to the Children of Israel, except what Israel Made unlawful for itself, before the Law (of Moses) was revealed. Say: "Bring ye the Law and study it, if ye be men of truth."

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 3:93

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 93–95

بارگاہ رسالت ﷺ میں یہودی وفد مسند احمد میں ہے کہ یہودیوں کی ایک جماعت حضور ﷺ کے پاس آئی اور کہنے لگی کہ ہم آپ سے چند سوال کرنا چاہتے ہیں جن کے جواب نبیوں کے سوا اور کوئی نہیں آپ نے فرمایا پوچھو لیکن پہلے تم لوگ وعدہ کرو اگر میں صحیح صحیح جواب دے دوں تو تمہیں میری نبوت کے تسلیم کرلینے میں کوئی عذر نہ ہوگا انہوں نے اس شرط کو منظور کرلیا کہ اگر آپ نے سچے جواب دے تو ہم اسلام قبول کرلیں گے ساتھ ہی انہوں نے بڑی بڑی قسمیں بھی کھائیں پھر پوچھا کہ بتائیے۔ حضرت اسرائیل نے کیا چیز اپنے اوپر حرام کی تھی ؟ عورت مرد کے پانی کی کیا کیفیت ہے ؟ اور کیوں کبھی لڑکا ہوتا ہے اور کبھی لڑکی ؟ اور نبی امی کی نیند…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة اٰلِ عِمْرٰن 76 قرآن اور محمد ﷺ کی تعلیمات پر جب علماء یہود کوئی اصولی اعتراض نہ کرسکے (کیونکہ اساس دین جن امور پر ہے ان میں انبیاء سابقین کی تعلیمات اور نبی عربی ﷺ کی تعلیم میں یک سرمو فرق نہ تھا) تو انہوں نے فقہی اعتراضات شروع کیے۔ اس سلسلہ میں ان کا پہلا اعتراض یہ تھا کہ آپ نے کھانے پینے کی بعض ایسی چیزوں کو حلال قرار دیا ہے جو پچھلے انبیاء کے زمانہ سے حرام چلی آرہی ہیں۔ اسی اعتراض کا یہاں جواب دیا جا رہا ہے۔ سورة اٰلِ عِمْرٰن 77 ”اسرائیل“ سے مراد اگر بنی اسرائیل لیے جائیں تو مطلب یہ ہوگا کہ نزول توراة سے قبل بعض چیزیں بنی اسرائیل نے محض رسماً حرام قرار دے لی تھیں۔ اور اگر اس سے مراد…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 93–95

خلاصہ تفسیر (جن کھانے کی چیزوں میں گفتگو ہے یہ) سب کھانے کی چیزیں (حضرت ابراہیم ؑ کے وقت سے ہرگز حرام نہیں چلی آرہی ہیں بلکہ یہ چیزیں) نزول توراۃ کے قبل باستثناء اس کے (یعنی گوشت شتر کے) جس کو (حضرت) یعقوب ؑ نے (ایک خاص وجہ سے) اپنے نفس پر حرام کرلیا تھا، (اور پھر وہ ان کی اولاد میں بھی حرام چلا آیا، باقی سب چیزیں خود) بنی اسرائیل (تک) پر (بھی) حلال تھیں (تو ابراہیم ؑ کے وقت سے ان کی تحریم کا دعوی کب صحیح ہوسکتا ہے، اور نزول توراۃ کے قبل اس واسطے فرمایا کہ نزول توراۃ کے بعد ان مذکورہ حلال چیزوں میں سے بھی بہت سی چیزیں حرام ہوگئی تھیں، جس کی کچھ تفصیل سورة انعام کی اس آیت میں ہے (وعلی الذین…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

یہود کے ایک اعتراض کا جواب : یہ یہود کے اس اعتراض کا ضمنی جواب ہے جس کی طرف ہم نے اوپر اشارہ کیا ہے۔ یہود مدعی تھے کہ اصل ملت ابراہیم پردہ ہیں نہ کہ مسلمان۔ اپنے اس دعوے کے ثبوت میں جو باتیں وہ کہتے تھے ان میں سے ایک بات یہ بھی تھی کہ مسلمانوں نے جو چیزیں جائز کر رکھی ہیں ان میں سے بعض چیزیں ملت ابراہیم میں حرام تھیں لیکن مسلمان نہ صرف یہ کہ ان کو جائز رکھتے ہیں بلکہ ان کے برّ وتقوی اور ان کے انفاق وقربانی کا انحصار انہی چیزوں پر ہے۔ ان کا اشارہ اونٹ کے ذبیحہ اور اس کی قربانی کی طرف ہوگا اس لیے کہ اونٹ عرب کے محبوب ترین اموال میں سے تھا، اور یہود کی شریعت میں، جیسا کہ احبار میں وارد ہے، وہ…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

93۔ 1 یہ اور ما بعد دو آیتیں یہود کے اس اعتراض پر نازل ہوئیں کہ انہوں نے نبی کریم ﷺ سے کہا کہ آپ ﷺ دین ابراہیمی کے پیروکار ہونے کا دعوی کرتے ہیں اور اونٹ کا گوشت بھی کھاتے ہیں جب کہ اونٹ کا گوشت اور اس کا دودھ دین ابراہیمی میں حرام تھا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا یہود کا دعوی غلط ہے حضرت ابراہیم کے دین میں یہ چیزیں حرام نہیں تھیں۔ ہاں البتہ بعض چیزیں اسرائیل (حضرت یعقوب ؑ نے خود اپنے اوپر حرام کرلی تھیں اور وہ یہی اونٹ کا گوشت اور دودھ تھا (اس کی ایک وجہ نذر یا بیماری تھی اور حضرت یعقوب ؑ کا یہ فعل بھی نزول تورات سے پہلے کا ہے۔ اس لیے کہ تورات تو حضرت ابراہیم ؑ و حضرت یعقوب ؑ کے بہت بعد نازل ہوئی…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

تشریح : بعض یہودیوں نے مسلمانوں پر یہ اعتراض کیا تھا کہ آپ یہ دعوی کرتے ہیں کہ آپ حضرت ابراہیم ؑ کے پیروکار ہیں حالانکہ آپ اونٹ کا گوشت کھاتے ہیں جو تورات کی رو سے حرام ہے، ان آیات میں اس اعتراض کا جواب یہ دیا گیا ہے کہ اونٹ کا گوشت حضرت ابراہیم ؑ کے دین میں حرام نہیں تھا ؛ بلکہ تورات نازل ہونے سے پہلے بنی اسرائیل کے لئے بھی وہ سب چیزیں حلال تھیں جو آج مسلمانوں کے لئے حلال ہیں ؛ البتہ ہوا یہ تھا کہ حضرت یعقوب ؑ نے اونٹ کا گوشت اپنے اوپر حرام کرلیا تھا جس کی وجہ حضرت ابن عباس ؓ نے یہ بتائی ہے کہ ان کو عرق النساء کی بیماری تھی اور انہوں نے یہ نذر مانی تھی کہ اگر مجھے اس بیماری سے شفا ہوگئی تو…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

یہودیوں کا یہ طریقہ تھا کہ وہ ہر قسم ‘ شبہ اور ہر دلیل ڈھونڈ ڈھونڈ کر لاتے تھے ‘ اور ہر طرح کا حیلہ اور مکر و فریب کام میں لاتے تھے تاکہ وہ رسالت محمدیہ کی صحت میں کوئی شبہ پیدا کردیں۔ تحریک اسلامی میں فکری بحران پیدا کردیں اور لوگوں کے دلوں میں اضطراب پیدا کردیں ۔ چناچہ یہ لوگ ہر وقت شکوک و شبہات پھیلاتے پھرتے تھے ۔ جب قرآن کریم نے یہ دعویٰ کیا کہ وہ توراۃ کی تصدیق کرتا ہے تو انہیں یہ اعتراض کرنے کا موقعہ ملا اگر قرآن کریم توراۃ کا مصداق ہے تو پھر اس کا جواز کیا ہے کہ وہ بعض چیزوں کو حلال قرار دیتا ہے جو بنی اسرائیل کے لئے حرام تھیں ۔ روایات میں آتا ہے کہ انہوں نے اس سلسلے میں اونٹوں کا گوشت…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

2 یہود آنحضرت ﷺ اور مسلمانوں سے کہتے تھے کہ تم اپنے کو دین ابراہیم پر کیسے بتلاتے ہو جبکہ وہ چیزیں کھاتے ہو جو اللہ تعالیٰ نے ابراہیم کے گھرانے پر حرام کی تھیں جیسے اونٹ کا گوشت اور دودھ۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جتنی چیزیں اب لوگ کھاتے ہیں سب ابراہیم کے وقت میں حلال تھیں جب تک تورات نازل ہوئی، بیشک تورات میں خاص بنی اسرائیل پر بعض چیزیں حرام ہوئی ہیں۔ مگر ایک اونٹ تورات سے پہلے حضرت اسرائیل (یعقوب) (علیہ السلام) نے اسکے کھانے سے قسم کھائی تھی، ان کی پیروی میں ان کی اولاد نے بھی چھوڑ دیا تھا۔ اور اس قسم کا سبب یہ تھا کہ یعقوب (علیہ السلام) کو " عرق النساء " کا درد تھا اس وقت نذر کی کہ اگر صحت…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 93–94

آیت 93 کُلُّ الطَّعَامِ کَان حلاًّ لِّبَنِیْ اِسْرَآءِ یْلَ اِلاَّ مَا حَرَّمَ اِسْرَآءِ یْلُ عَلٰی نَفْسِہٖ مِنْ قَبْلِ اَنْ تُنَزَّلَ التَّوْرٰٹۃُ ط یہودی شریعت محمدی ﷺ پر اعتراض کرتے تھے کہ اس میں بعض ایسی چیزیں حلال قرار دی گئی ہیں جو شریعت موسوی علیہ السلام میں حرام تھیں۔ مثلاً ان کے ہاں اونٹ کا گوشت حرام تھا ‘ لیکن شریعت محمدی ﷺ میں یہ حرام نہیں ہے۔ اگر یہ بھی آسمانی شریعت ہے تو یہ تغیر کیسے ہوگیا ؟ یہاں اس کی حقیقت بتائی جا رہی ہے کہ تورات کے نزول سے قبل حضرت یعقوب علیہ السلام نے طبعی کراہت یا کسی مرض کے باعث بعض چیزیں اپنے لیے ممنوع قرار دے لی تھیں جن میں اونٹ کا گوشت بھی شامل تھا۔…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 93–94

82 یہ دراصل یہود کے مسلمانوں پر ایک اعتراض کا جواب ہے۔ وہ مسلمانوں سے یہ کہتے تھے کہ تم نے تو شریعت کی حرام کردہ چیزوں کو حلال بنا رکھا ہے۔ تم لوگ اونٹ کا گوشت شوق سے کھاتے ہو اور اس کا دودھ بھی پیتے ہو ؟ اللہ تعالیٰ نے اس کا جواب یہ دیا کہ یہ چیزیں میں نے حرام نہیں کی تھیں بلکہ تورات کے نازل ہونے سے مدتوں پہلے یعقوب نے خود اپنے آپ پر حرام قرار دے لی تھیں۔ یعقوب نے ان چیزوں کو کیوں حرام قرار دے لیا تھا ؟ اس بارے میں کئی روایات ہیں جن میں سے ایک یہ ہے کہ انہیں ان چیزوں سے طبعاً کراہت تھی اور دوسری یہ کہ آپ کو عرق النساء کی بیماری تھی اور پرہیز کے طور پر آپ نے ایسا کیا تھا۔ پھر ان کی اتباع میں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

200 ۔ (اپنے اس دعوی میں کہ فلاں فلاں غذائیں تو ابراہیم (علیہ السلام) کے زمانہ سے حرام چلی آتی ہیں) یہود کو تو روز ایک نیا فتنہ مسلمانوں کے خلاف اٹھانا تھا، آپ پر ایک الزام یہ ہوگیا، فلاں فلاں غذائیں تم جائز سمجھتے ہو اور اپنے کو دین ابراہیم (علیہ السلام) کا متبع بھی کہے جاتے ہو، حالانکہ یہ چیزیں تو ابراہیم (علیہ السلام) کے وقت سے حرام ہیں۔ (آیت) ” کل الطعام “۔ یعنی وہ غذائیں جن کے باب میں یہود سے بحث وگفتگو ہو رہی ہے، ساری دنیا کے کھانے مراد نہیں، ای مطعومات التی فیھا التزاع (مدارک) (آیت) ” حرم اسرآء یل علی نفسہ “۔ اسرائیل حضرت یعقوب (علیہ السلام) کا دوسرا نام ہے آپ نے بعض طبی ضرورتوں سے بعض…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

کُلُّ الطَّعَامِ کَانَ حِلاٌّ لِّبَنِیْ اِسْرَآئِیْلَ ۔ اہل کتاب سے بحث و مباحثہ کا سلسلہ چل رہا ہے، اسی سلسلہ کی ایک بحث اس آیت میں بھی ہے۔ یہود نے نبی ﷺ سے سوال کیا کہ بتاؤ اسرائیل (یعقوب) نے اپنے اوپر کیا چیز حرام کی تھی ؟ (قَدْ اَخْرج الترمذی وحَسَّنْہ عَنْ ابن عباس ؓ ما) آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا حضرت یعقوب دیہات میں رہتے تھے ان کو عرق النساء کا مرض لاحق ہوگیا تھا تو احتیاط کے طور پر اونٹ کے گوشت اور دودھ کا استعمال موقوف کردیا تھا، یہود نے کہا، صدقتَ آپ نے سچ فرمایا۔ روح المعانی میں بروایت واقدی کلبی سے منقول ہے کہ جب حضور ﷺ نے اپنا ملت ابراہیمی پر ہونا بیان فرمایا تو یہود نے اعتراض کیا کہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

و ما تنفقوا من شی فان اللہ بہ علیم تم جو کچھ راہ خدا میں خرچ کرو گے خواہ وہ محبوب و مرغوب ہو یا غیر محبوب اللہ اس سے یقینی طور پر بخوبی واقف ہے یعنی عمل اور نیت کے مطابق جزا دے گا علم سبب ہے اور جزا وثواب اس کا نتیجہ سبب کو بجائے نتیجہ کے ذکر کیا تاکہ معلوم ہوجائے کہ کریم کا اپنے بندہ کی نیکی کو جاننا ہی ثواب و جزاء کے لیے کافی ہے پھر ماضی (انفقتم) کی جگہ مستقبل کا صیغہ (تنفقوا) ذکر کرنے سے یہ معلوم ہوگیا کہ انفاق (راہ خدا میں صرف) سے اللہ واقف ہے خواہ تھوڑا انفاق ہو یا زیادہ اور خواہ (ماضی میں ہوگیا ہو یا حال میں ہو رہا ہو یا) آئندہ ہونے والا ہو۔ اس سے اشارۃً یہ بات بھی معلوم ہوئی کہ اللہ کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 93–94

(93۔ 94) سب کھانے کی چیزیں نزول توریت سے پہلے سوائے اس کے جس کو حضرت یعقوب ؑ نے اپنے اوپر حرام کرلیا تھا، بنی اسرائیل پر حلال تھیں وہ سب کھانے کی چیزیں آج رسول اکرم ﷺ اور آپ کی امت پر حلال ہیں۔ توریت کے نازل ہونے سے پہلے حضرت یعقوب ؑ نے نذر مانی تھی جس کی بنا پر انہوں نے اپنے اوپر اونٹ کا گوشت اور اس کا دودھ حرام کرلیا تھا۔ جب یہ آیت مبارکہ نازل ہوئی تو رسول اکرم ﷺ نے یہود سے دریافت کیا کہ حضرت یعقوب ؑ نے اپنے کون سے کھانوں کو حرام کیا تھا وہ بولے حضرت یعقوب ؑ نے اپنے اوپر کھانے کی کسی بھی چیز کو حرام نہیں کیا تھا اور جو چیزیں ہم پر حرام ہیں، جیسا کہ اونٹ کا گوشت اور اس کا دودھ اور گائے، بکری…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 93–94

كُلُّ الطَّعَامِ۔۔ : اوپر کی آیات میں رسول اللہ ﷺ کی نبوت کے اثبات میں دلائل پیش کیے اور اہل کتاب پر الزامات قائم کیے ہیں۔ اب یہاں سے ان کے شبہات کا جواب ہے، جو وہ آپ ﷺ کی نبوت پر پیش کرتے تھے۔ (رازی) جب قرآن نے بیان کیا کہ یہود کے ظلم اور سرکشی کی وجہ سے بہت سی چیزیں ان پر حرام کردی گئیں۔ (النساء : 160۔ الأنعام : 146) ورنہ یہ چیزیں ابراہیم ؑ کے عہد نبوت میں حلال تھیں، تو یہود نے ان آیات کو جھٹلایا اور کہنے لگے کہ یہ چیزیں تو ابراہیم ؑ کے وقت سے حرام چلی آئی ہیں، اس پر یہ آیات نازل ہوئیں۔ (شوکانی) بعض مفسرین نے ان آیات (93، 94) کی شان نزول میں لکھا ہے کہ یہود تورات میں نسخ کے قائل نہیں تھے…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 93–94

آیت نمبر : 93۔ اس میں چار مسائل ہیں : مسئلہ نمبر : (1) قولہ تعالیٰ : (آیت) ” حلا “ یعنی حلال، (کھانے کی ہر چیز حلال تھی) پھر استثنا کی اور فرمایا (آیت) ” الا ما حرم اسرآء یل علی نفسہ “۔ اور یہ حضرت یعقوب (علیہ السلام) ہیں۔ ترمذی میں حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ یہودیوں نے حضور نبی مکرم ﷺ کو کہا : آپ ہمیں بتائیے کون سی شے اسرائیل (حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے اپنے آپ پر حرام کی تھی ؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا : ” وہ جنگل میں رہتے تھے اور وہ عرق النسائ (کی بیماری) میں مبتلا ہوگئے اور وہ اونٹوں کے گوشت اور ان کے دودھ کے سوا کوئی پسندیدہ اور مناسب شے نہ پاتے تھے ، “ انہوں نے کہا آپ نے سچ فرمایا : (1)…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

اسرائیل نے ہڈی والا اپنے اوپر حرام کیا تھا (1) عبد بن حمید والفریابی اور بیہقی نے اپنی سنن میں، ابن جریر، ابن المنذر، ابن ابی حاتم اور حاکم نے (اس کو صحیح کہا) سعید بن جبیر کے طریق سے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” کل العطام کان حلا لبنی اسرائیل الا ما حرم اسرائیل علی نفسہ “ حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے جو اپنے اوپر کھانا حرام کیا تھا وہ ہڈی والا گوشت تھا آپ کو عرق النساء کی بیماری لگ گئی تھی آپ اس حال میں رات گذارتے تھے کہ ان کی چیخ و پکار ہوتی تھی تو انہوں نے اللہ کے لیے یہ نذر مانی کہ اگر ان کو شفا ہوگئی تو ایسا گوشت نہیں کھائیں گے جس میں ہڈی ہوگی تو اس وجہ سے یہودیوں نے بھی…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[کُلُّ الطَّعَامِ : کھانے کا کُل ] [کَانَ حِـلاًّ : حلال تھا ] [لِّبَنِیْ اِسْرَآئِ یْلَ : بنو اسرائیل کے لیے ] [اِلاَّ : سوائے اس کے ] [مَا : جو ] [حَرَّمَ : حرام کیا ] [اِسْرَآئِ یْلُ : اسرائیل (یعقوب (علیہ السلام) ) نے ] [عَلٰی نَفْسِہٖ : اپنے آپ پر ] [مِنْ قَبْلِ : اس سے پہلے ] [اَنْ : کہ ] [تُـنَزَّلَ : اُتاری جاتی ] [التَّوْرٰٹۃُ : تورات ] [قُلْ : آپ ﷺ کہیے ] [فَاْتُوْا : تو لائو تم لوگ ] [بِالتَّوْرٰٹۃِ : تورات کو ] [فَاتْلُوْہَآ : پھر پڑھو اس کو ] [اِنْ : اگر ] [کُنْتُمْ : تم لوگ ہو ] [صٰدِقِیْنَ : سچ کہنے والے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 93–94

ملت ابراہیمیہ میں کیا چیزیں حلال تھیں معالم التنزیل صفحہ 326: ج 2 میں ہے کہ یہودیوں نے رسول اللہ ﷺ پر یہ اعتراض کیا کہ آپ کا دعویٰ ہے کہ آپ ملت ابراہیم پر ہیں اور ابراہیم اونٹوں کا گوشت نہیں کھاتے تھے اور اونٹنیوں کا دودھ نہیں پیتے تھے معلوم ہوا کہ آپ ان کی ملت پر نہیں ہیں، اس کے جواب میں رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ یہ چیزیں ابراہیم (علیہ السلام) کے لیے حلال تھیں وہ کہنے لگے ہر وہ چیز جو ہمارے نزدیک حرام ہے وہ نوح پر اور ابراہیم ( علیہ السلام) پر حرام تھیں اور اس کی حرمت اسی طرح ہم تک پہنچی ہے اللہ جل شانہٗ نے ان کی تردید کرتے ہوئے آیت بالا نازل فرمائی اور فرمایا کہ سب کھانے بنی اسرائیل کے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 93–95

قال تعالی۔ کل الطعام الی مشرکین دور سے سلسلہ کلام اہل کتاب کے متعلق چلا آ رہا ہے افتراء کا ذکر درمیان میں استطرادا اور تبعا ہوگیا تھا اب پھر اہل کتاب کے متعلق ارشاد فرماتے ہیں یا یوں کہو کہ شروع سورت سے لے کر یہاں تک کہ توحید الہی اور آنحضرت کی نبوت و رسالت کے بارے میں زیادہ تر نصاری سے محاجہ اور مباحثہ اور مباہلہ کا ذکر ہوا اب یہاں سے حق تعالیٰ یہود کے دو شبہوں کا جواب دیتے ہیں جو وہ دین اسلام پر کرتے تھے۔ پہلا شبہ۔ یہ تھا کہ اے محمد آپ اپنے آپ کو دین ابراہیمی اور انبیاء سابقین کے طریقہ پر بتلاتے ہیں تو پھر آپ ان چیزوں کو کیسے حلال بتلالتے ہیں جو حضرت ابراہیم اور تمام انبیاء پر حرام تھیں۔…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

132 ۔ شبہات متعلقہ رسالت :۔ اسرائیل حضرت یعقوب (علیہ السلام) کا لقب ہے جس کے معنی ہیں عبداللہ یعنی اللہ کا بندہ حضرت شیخ فرماتے ہیں کہ یہودیوں کے احبارو رہبان یعنی ان کے مولوی اور پیر اور سجادہ نشین حضرت نبی اکرم ﷺ کے خلاف نت نئے اعتراضات سوچتے رہتے اور مختلف طریقوں سے مسلمانوں کے دلوں میں شبہات پیدا کرنے کی کوشش کرتے رہتے تھے۔ چناچہ وہ کہتے تھے کہ یہ پیغمبر اوپر سے تو ملت ابراہیمی کا متبع ہونے کا دعویٰ کرتا ہے لیکن اندر سے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا مخالف ہے۔ کیونکہ یہ اونٹ کا گوشت کھاتا ہے۔ حالانکہ ابراہیمی (علیہ السلام) کا مخالف ہے۔ کیونکہ یہ اونٹ کا گوشت کھاتا ہے۔ حالانکہ ابراہیمی مذہب…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 93–95

شان نزول : گذشتہ رکوع میں اللہ تعالیٰ نے ملت ابراہیمی کے اصول بیان کرکے واضح کیا تھا۔ کہ ملت ابراہیم ، حنیفیت یا اسلام کا مطلب ایک ہی ہے۔ لہذا حضور ﷺ نے اہل کتاب کو اسی ملت ابراہیمی کی طرف دعوت دی۔ اور فرمایا کہ ملت ابراہیمی کے اصل پیروکار اہل اسلام ہیں۔ لہذا اہل اسلام کو چاہئے کہ وہ بھی مسلمانوں کے طریقے کے مطابق ملت ابراہیمی کی پیروی کریں۔ اس کے برخلاف یہودیوں کا دعوی یہ تھا۔ کہ اصل ابراہیمی وہ ہیں۔ انہوں نے جوابا کہا کہ اگر مسلمانوں کو ملت ابراہیمی کے پیروکار ہونے کا دعوی ہے۔ تو پھر ملت ابراہیمی میں حرام کردہ چیزوں کو وہ کیوں حلال سمجھتے ہیں۔ ان کی مراد اونٹ کے گوشت اور اونٹنی کے دودھ سے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

كُلُّ الطَّعَامِ كَانَ حِلًّا لِّبَنِىْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ اِلَّا مَا حَرَّمَ اِسْرَاۗءِيْلُ عَلٰي نَفْسِہٖ مِنْ قَبْلِ اَنْ تُنَزَّلَ التَّوْرٰىۃُ۝ 0 ۭ قُلْ فَاْتُوْا بِالتَّوْرٰىۃِ فَاتْلُوْھَآ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِيْنَ۝ 93 طعم الطَّعْمُ : تناول الغذاء، ويسمّى ما يتناول منه طَعْمٌ وطَعَامٌ. قال تعالی: وَطَعامُهُ مَتاعاً لَكُمْ [ المائدة/ 96] ، قال : وقد اختصّ بالبرّ فيما روی أبو سعید «أنّ النّبيّ صلّى اللہ عليه وسلم أمر بصدقة الفطر صاعا من طَعَامٍ أو صاعا من شعیر» «2» . قال تعالی: وَلا طَعامٌ إِلَّا مِنْ غِسْلِينٍ [ الحاقة/ 36] ، ( ط ع م ) الطعم ( س) کے معنی غذا کھانے کے ہیں ۔ اور ہر وہ چیز جو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 93–94

؎ کل الطعام سے وہ کل طعام مراد ہیں کہ جن میں بحث تھی جیسا کہ اونٹ کا گوشت۔ اس سے ہر قسم کا کھانا مراد لے کر قرآن پر یہ اعتراض کرنا (کہ ہر قسم کا کھانا کب بنی اسرائیل کو حرام تھا) لغو بات ہے۔ 2 ؎ فاتو بالتورات ان کے ادعا کے موافق فرمایا ہے اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ آنحضرت ﷺ کے عہد میں موسیٰ کی اصلی تورات بلاتفسیر موجود تھی۔النیل ادراک الشیء ولخوفۃ یقال نالتی من فلان معروف وای وصل الی والنوال العطاء یقال نواتہ تنویا والتناول یقال نلتہ انوار (13) کس لئے کہ ماسوائے اللہ کے جب ایک حجاب اکبر ہے اس کا صرف کرنا بر یعنی مقصود کا حاصل کرنا ہے۔ 12 منہ

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 93–94

کُلُّ الطَّعَامِ کَانَ حِلًّا لِّـبَنِیْٓ اِسْرَآئِ یْلَ اِلَّا مَا حَرَّمَ اِسْرَآئِ یْلُ عَلٰی نَفْسِہٖ ِمنْ قَبْلِ اَنْ تُنَزَّلَ التَّوْرٰۃُ ط قُلْ فَاْتُوْا بِالتَّوْرٰۃِ فَاتْلُوْہَـآ اِنْ کُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ ۔ فَمَنِ افْتَرٰی عَلَی اللّٰہِ الْکَذِبَ مِنْ م بَعْدِ ذٰلِکَ فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الظّٰلِمُوْنَ ۔ (سب کھانے کی چیزیں بنی اسرائیل کے لیے حلال تھیں مگر وہ جو اسرائیل نے اپنے اوپر حرام ٹھہرا لی تھیں توراۃ کے نازل ہونے سے پہلے، کہہ دیجیے ! لائو تورات پھر اسے پڑھ کے سنائو اگر تم سچے ہو۔ جو لوگ اس کے بعد بھی اللہ پر جھوٹ باندھیں تو وہی ظالم ہیں) (93 تا 94) آنحضرت ﷺ اور امت مسلمہ نے جب…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

فہم القرآن ربط کلام : تیسرے پارے کی آخری آیات میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور ان کے خاندان کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا کہ ان کا دین یہی اسلام ہے۔ جو کوئی اسلام سے انحراف کرے گا اس سے کوئی دوسرا دین قبول نہ ہوگا۔ جس پر یہودیوں نے یہ اعتراض کیا کہ یہ نبی اور اس کے پیروکار اونٹ کا گوشت کھاتے ہیں۔ حالانکہ یعقوب (علیہ السلام) پر اونٹ کا گوشت حرام تھا لہٰذا ملت ابراہیم پر ہم ہیں تم نہیں۔ یہاں اس اعتراض کا جواب دیا گیا ہے کہ تم جھوٹ بولتے ہو جبکہ اللہ کا فرمان سچا ہے۔ یہودیوں کا دعو ٰی ہے کہ حضرت یعقوب (علیہ السلام) پر اونٹ کا گوشت حرام تھا جس کی وجہ سے یہودی اونٹ کا گوشت نہیں کھاتے۔ حالانکہ حضرت…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

93: کُلُّ الطَّعَامِ کَانَ حِلاًّ لِّبَنِیْٓ اِسْرَآئِ یْلَ اِلَّا مَاحَرَّمَ اِسْرَآئِ یْلُ عَلٰی نَفْسِہٖ مِنْ قَبْلِ اَنْ تُنَزَّلَ التَّوْرٰٹۃُ قُلْ فَاْتُوْا بِالتَّوْرٰٹۃِ فَاتْلُوْھَآ اِنْ کُنتُمْ صٰدِقِیْنَ ۔ یہود کے اعتراض کا جواب : کُلُّ الطَّعَامِ (تمام کھانے) یہاں طعام بمعنی مطعوم یعنی غذا کے معنی میں ہے۔ جن میں نزاع چل رہا تھا۔ بعض تو ان میں سے وہ تھیں جو پہلے سے حرام چلی آرہی ہیں مثلاً مردار، خون۔ کَانَ حِلًّا لِّبَنِیْٓ اِسْرَآئِ یْلَ (بنی اسرائیل کیلئے حلال تھے) حِلًا مصدر ہے اور صفت کے معنی میں استعمال ہو رہا ہے۔ یعنی حلال جیسے عرب کہتے ہیں حل الشیٔ حِلاًّ مصدر ہونے کی وجہ سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

(کل الطعام کان حلا لبنی اسرائیل کا شان نزول) (تفسیر) 93۔: اس آیت کا شان نزول یہ ہے کہ یہود آپ ﷺ کو کہنے لگے آپ کا گمان ہے کہ آپ ﷺ ابراہیم (علیہ السلام) کی ملت پر ہیں حالانکہ ابراہیم (علیہ السلام) نہ تو اونٹوں کا گوشت کھاتے تھے نہ دودھ پیتے تھے حالانکہ آپ تو گوشت بھی کھاتے ہو اور ان کا دودھ بھی پیتے ہو ، آپ انکی ملت پر نہیں ہو، آپ ﷺ نے ان کو جواب دیا یہ دونوں اشیاء حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے لیے حلال تھیں ، یہودی کہنے لگے آج کے دن جس کو ہم حرام قرار دیتے ہیں وہ حضرت نوح (علیہ السلام) اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے زمانے میں بھی حرام تھیں ۔ حتی کہ یہاں تک کہ اس کی حرمت پہنچی ہے، اس پر…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 93–95

(93 ۔ 94) ۔ یہود نے ایک روز آنحضرت ﷺ سے بحث کی کہ آپ ملت ابراہیمی پر اپنے آپ کو بتلاتے ہیں اور اونٹ کا گوشت کھاتے ہیں اور اونٹنی کا دودھ پیتے ہیں۔ حالانکہ ملت ابراہیمی میں یہ دونوں چیزیں حرام ہیں تورات میں اس کا ذکر موجود ہے آپ نے فرمایا تورات میں یہ ہرگز نہیں ہے کہ ملت ابراہیم میں یہ دونوں چیزیں حرام ہیں بلکہ حضرت یعقوب ایک دفعہ بیمار ہوگئے تھے انہوں نے نذر مانی تھی کہ اس بیماری سے اللہ تعالیٰ ان کو صحت دے۔ تو جو چیز ان کو بہت بھاتی تھی وہ اس کو چھوڑ دیں گے۔ چناچہ اللہ تعالیٰ نے ان کو صحت دی۔ اور یہ دونوں چیزیں ان کو بہت بھاتی تھیں ان کو انہوں نے چھوڑ دیا۔ یہود نے اس بات کو نہ مانا اللہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 93–96

آیت 93-95 یہ یہودیوں کے اس زعم باطل کی تردید ہے کہ احکام کی منسوخ ہونا جائز نہیں۔ اس لئے انہوں نے حضرت عیسیٰ اور حضرت محمد کی نبوت کا انکار کیا، کیونکہ ان دونوں حضرات نے حلال و حرام کے بعض ایسے مسائل بیان فرمائے جو تورات کے احکام کے خلاف تھے۔ بحث میں انصاف کو مدنظر رکھتے ہوئے ان کے خلاف خود ان کی مسلمہ کتاب تورات سے دلیل پیش کی گئی ہے کہ کھانے کی تمام چیزیں بنی اسرائیل کے لئے حلال تھیں۔ (الا ما حرم اسرآئیل علی نفسہ) ” سوائے اس کے جس چیز کو اسرائیل یعنی یعقوب نے اپنے اوپر حرام کرلیا تھا “ یہ چیزیں اللہ نے حرام نہیں کی تھیں، آپ کو عرق النساء کی بیماری ہوگئی تو آپ نے نذر مان لی کہ اگر اللہ نے…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

تمام ماکولات حلال ہیں مگر جس پر شریعت پابندی لگادے قول باری ہے۔ (کل الطعام کان حلال لبنی اسرائیل الاماحرم اسرلم یل علی نفسہ، کھانے کی یہ ساری چیزیں (جوشریعت محمدی میں حلال ہیں) بنی اسرائیل کے لیے بھی حلال تھیں سوائے ان چیزوں کے جو بنی اسرائیل نے اپنے اوپر خود حرام کرلی تھیں) ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ یہ آیت اس بات کو واجب کرتی ہے کہ تمام ماکولات بنی اسرائیل کے لیے مباح تھیں۔ یہاں تک کہ اسرائیل یعنی حضرت یعقوب نے وہ چیزیں حرام کردیں جو انہوں نے اپنی ذات پر حرام کردی تھیں۔ حضرت ابن عباس ؓ اور حسن مروی ہے کہ اسرائیل کو عرق النساء کے درد کی بیماری لاحق ہوگئی تھی (یہ جوڑوں کے درد کی ایک قسم ہے جو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 90–93

184 پکے اور پورے گمراہوں کی نشاندہی ۔ والعیاذ باللہ : سو اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ اپنے کفر پر اڑنے والے پکے اور پورے گمراہ ہیں کہ کفر ایسے لوگوں کے دلوں میں گھر کرچکا ہے۔ اور اس کی نحوست ان کے رگ و ریشے میں سرایت کرگئی ہے، جس کے باعث ان کو ایسی سچی توبہ کی توفیق نصیب ہی نہیں ہوتی، جو شرف قبولیت پاس کے۔ اور مرتے وقت اگر تو بہ کرینگے بھی تو وہ قبول نہیں ہوگی۔ کیونکہ وہ کشف حقائق کے بعد کی توبہ ہوگی، جو کہ معتبر نہیں۔ اس لئے کہ مطلوب ایمان بالغیب ہے اور موت کے وقت کا وہ ایمان، ایمان بالغیب نہیں ہوگا بلکہ ایمان بالشہود و بالمشاہدہ ہوگا۔ اس لئے وہ توبہ قبول نہیں ہوگی، جیسا کہ سورة نساء میں…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 93–95

بنی اسرائیل کی حلال و حرام پر بحث تشریح : ان آیات کا شان نزول یہ ہے کہ یہودیوں نے رسول اللہ ﷺ پر اعتراض کیا کہ آپ تو اپنے آپ کو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے پیرو کہتے ہیں جب کہ آپ وہ چیزیں کھاتے ہیں جو ان پر حرام تھیں، مثلاً : اونٹ کا گوشت اور دودھ۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ان کو کہو اپنی کتاب تورات میں سے یہ حکم دکھائیں۔ یہ کہیں بھی حکم نہیں دیا گیا۔ بلکہ یہ خود انہوں نے اپنے اوپر حرام کر رکھی تھیں۔ ہاں تورات میں کچھ دوسری چیزوں کا ذکر ہے جو ان پر حرام کی گئی تھیں۔ اونٹ کا گوشت اور دودھ کے حرام کرنے کا حکم اللہ کی طرف سے نہ تھا بلکہ اس کی وجہ یہ تھی کہ حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے اپنی…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 92–101

آیات 92- 101 اسرارومعارف لن تنالو البر……………فان اللہ بہ علیم۔ بر سے مراد نیکی ہے اور نیکی کی اصل قرب رسول ہے کہ نبوت ایک ایسی نعمت ہے جس کی وجہ سے نبی معصوم ہوتا ہے یعنی مکالمہ باری کی برکات میں سے عصمت بھی ہے جو تمام انبیاء (علیہم السلام) کو نصیب ہوتی ہے۔ حصول بر قرب رسالت کا نام ہے : اسی طرح نبی کے قرب سے ایک خاص وصف ، جو مومن میں پیدا ہوتا ہے وہ گناہ سے نفرت اور نیکی کی محبت ہے جس کے باعث مومن گناہ سے محفوظ ہوجاتا ہے۔ اسی درجے کو حصول بر کہہ سکتے ہیں۔ اب اگر کسی شخص کو کسی طرح کا مال یا منافع اتنا عزیز ہو کہ وہ اسے حاصل کرنے کے لئے اپنے مسلمان ہونے کا اعلان کرے تو وہ اسلام کو کیسے پاسکتا…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 93–94

ف 6 اوپر کی آیات میں آنحضرت ﷺ کی نبوت کے اثبات کے اثبات میں دلائل پیش کیے اور اہل کتاب پر الزامات قائم کیے ہیں۔ اب یہاں سے انکے شہبات کا جواب ہے ج و آنحضرت ﷺ کی نبوت پر پیش کرتے تھے۔ (کبیر) جب قرآن نے بیان کیا کہ یہود کے ظلم وبغی کو جہ سے بہت سی چیزیں ان پر حرام کردی گئیں۔ (النسائ آیت 160 الا نعام آیت 146) اور نہ یہ چیزیں حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) کے عہد نبوت میں حلال تھیں تو یہود نے ان آیات کی تکذیب کی اور کہنے لگے کہ یہ چیزیں تو حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) کے وقت سے حرام چلی آتی ہیں اس پر یہ آیات نازل ہوئیں (شوکانی) بعض مفسرین نے ان آیات کل الطعام تا الظالمون کی شان نزول میں لکھا ہے کہ…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(3:93) اسرائیل۔ سے اگر بنی اسرائیل مراد لیا جائے تو مطلب یہ ہوگا کہ نزول توراۃ سے قبل بنی اسرائیل نے رسماً بعض چیزیں حرام قرار دے لی تھیں۔ جن کی حرمت توراۃ میں مذکور نہیں ہے۔ اور اگر اسرائیل سے مراد حضرت یعقوب (علیہ السلام) لئے جاویں تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ انہوں نے طبعی کراہت کی وجہ سے یا کسی مرض کی بناء پر احتراز فرمایا تھا۔ پھر ان کے بعد ان کی اولاد نے ان چیزوں کو ممنوع سمجھ لیا تھا۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 93–101

لغات القرآن آیت نمبر 93 تا 101 الطعام (کھانا) غنی (بےنیاز، بےپرواہ) فاتوا (پھر تم لے آؤ) تصدون (تم روکتے ہو) من افترٰی (جس نے گھڑا، جو کوئی تہمت لگائے) عوج (ٹیڑھ پن) صدق اللہ (اللہ نے سچ فرمایا) تتلیٰ (تلاوت کی گئی) اول بیتٍ (پہلاگھر) یعتصم مضبوط پکڑلیتا ہے) وضع (جس کو طاقت ہے، جو استطاعت رکھتا ہے) ۔ تشریح : آیت نمبر 93 تا 101 عیسائیوں اور یہودیوں کو اس بات پر بڑا فخر تھا کہ وہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی نسل سے ہیں۔ وہ اس بات کے بھی مدعی تھے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا اصل مذہب سینہ بہ سینہ ان تک ہی پہنچا ہے۔ جب نبی کریم ﷺ نے اپنا ملت ابراہیمی پر ہونا ہر اعتبار سے ثابت کردیا تو…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 93–95

یہود کی بےعقلی شان نزول : یہود نے ایک روز آنحضرت ﷺ سے بحث کی کہ آپ ملت ابراہیمی پر اپنے آپ کو بتلاتے ہیں اور اونٹ کا گوشت کھاتے ہیں اور اونٹنی کا دودھ پیتے ہیں، حالانکہ ملت ابراہیمی میں یہ دونوں چیزیں حرام ہیں۔ توریت میں اس کا ذکر موجود ہے۔ آپ نے فرمایا :” توریت میں یہ ہرگز نہیں ہے کہ ملت ابراہیمی میں یہ دونوں چیزیں حرام ہیں۔ بلکہ حضرت یعقوب (علیہ السلام) ایک دفعہ بیمار ہوگئے تھے۔ اس وقت انہوں نے نذر مانی تھی کہ اس بیماری سے اگر اللہ تعالیٰ ان کو صحت دے گا تو جو چیز ان کو بہت بھاتی ہوگی وہ اس کو چھوڑ دیں گے چناچہ اللہ تعالیٰ نے اسن کو صحت دی۔ اس وجہ سے انہوں نے یہ دونوں چیزیں چھوڑ دیں۔ مگر…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 93–96

[34] یہود کا رسول اکرم ﷺ پر ایک اعتراض یہ تھا کہ فلاں فلاں چیزیں تم حلال سمجھتے ہو اور اپنے دین کو ابراہیم کا پیرو بھی کہے جاتے ہو حالانکہ وہ چیزیں ابراہیم کے وقت سے حرام چلی آرہی ہیں۔ اسی اعتراض کا جواب دیا جا رہا ہے۔ [35] تشریح کے لئے ملاحظہ ہو سورة بقرہ حاشیہ 34 صفحہ 99 [36] یعقوب (علیہ السلام) نے بعض چیزوں سے طبعی کراہت یا کسی مرض کی بنا پر احتراز فرمایا تھا اور ان کی اولاد نے بعد میں انہیں ممنوع سمجھ لیا۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

(ف 2) خدا کا دین چونکہ فطرت انسانی کی کمزوریوں کو سامنے رکھ کر تجویز کیا گیا ہے اس لئے اس میں کوئی بات بھی مضر یا غیر مرغوب نہیں ، البتہ بعض وقت علماء فکر ونظر اپنی طرف سے اس میں بعض تفاصیل ایسی پیدا کردیتے ہیں جو آیندہ چل کر دین کی سہولت وشگفتگی کے لئے مضر پڑتی ہیں ، اس لئے اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں توضیح فرما دی کہ اصل دین میں یہودیوں کے لئے تمام پاکیزہ چیزیں حلال تھیں اور کھانے پینے کے معاملہ میں کوئی ناجائز پابندی نہ تھی ، مگر انہوں نے از راہ احتیاط بعض چیزیں تقشف اور زہد کو بڑھانے کے لئے اپنے اوپر حرام قرار دے لیں ، مثلا اونٹ کا گوشت حضرت یعقوب (علیہ السلام) عرق النساء کی وجہ سے استعمال…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

Explained with ayahs 92–93

ف 1۔ تم لوگ اس وقت تک حقیقی بھلائی اور کامل مکمل نیکی نہیں حاصل کرسکو گے جب تک تم اپنی محبوب اور عزیز ترین چیز میں سے کچھ خرچ نہ کرو اور بہر حال تم جو کچھ بھی خرچ کرو گے خواہ وہ محبوب ہو یا غیر محبوب ، سو اللہ تعالیٰ اس کو خوب جانتا ہے۔ ( تیسیرض بر کے معنی سورة بقرہ میں گزر چکے ہیں بر کی نسبت اگر بندے کی جانب ہو تو اس سے مراد طاعت ، صدق اور وسعت احسان لیا کرتے ہیں اور خدا کی طریہ لفظ مضاف ہو تو اس کے معنی رضا رحمت جنت ہوا کرتے ہیں۔ حضرت ابوبکر وراق فرماتے ہیں مطلب یہ ہے کہ تم لوگ میری بر کو اس وقت تک حاصل نہیں کرسکتے جب تک اپنے بھائیوں کے ساتھ بر نہ کروحاصل یہ ہے کہ جب تک محبوب کو اپنے سے جدا…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

ف 2۔ یعنی گوشت شتر کا۔ حضرت یعقوب (علیہ السلام) کو عرق النساء کا مرض تھا آپ نے نذر مانی تھی کہ اگر اللہ اس سے شفادیں تو سب میں زیادہ جو محبوب کھانا ہوگا میں اس کو چھوڑ دوں گا ان کو شفا ہوگئی اور سب سے زیادہ محبوب آپ کو اونٹ کا گوشت تھا اس کو ترک کیا کردیا پھر یہی تحریم جو نذر سے ہوئی تھی بنی اسرائیل میں بحکم وحی رہی اور معلوم ہوتا ہے کہ ان کی شریعت میں نذر سے تحریم بھی ہوجاتی ہوگی جس طرح ہماری شریعت میں مباح کا وجوب ہوجاتا ہے مگر تحریم کی نذر جائز نہیں بلکہ اس میں حنث واجب ہے جس کا کفارہ واجب ہے۔ 3۔ نزول تورات کے قبل اس واسطے فرمایا کہ نزول تورات کے بعد ان مذکورہ حلال چیزوں میں سے بہت سی…

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

وہ طعام جو مسلمان کھاتے ہیں وہ سب کے سب بنی اسرائیل کے لیے بھی حلال تھے : 181: طعام ہر وہ چیز ہے جو بطور غذا کھائی جاتی ہے نہ کہ بطور ذوا۔ رسول اللہ ﷺ کی طرف قرآن کریم میں یہ دعویٰ شائع و ذائع ہے کہ متبع ملت ابراہیم (علیہ السلام) ہیں۔ اس سے یہود نے علت نکالی کہ تم ملت ابراہیمی کا دعویٰ کیسے کرسکتے ہو جب کہ تم اونٹ کا گوشت کھاتے ہو اس لیے اونٹ کا گوشت تو نوح (علیہ السلام) اور ابراہیم (علیہ السلام) پر بھی حرام تھا۔ تو یہ آیت گویا ان کی تکذیب کر رہی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ یہ الفاظ اس اعتراض کے جواب میں ہیں کہ کھانے کی چیزوں میں مسلمانوں کا ملت ابراہیمی سے کوئی اختلاف نہیں۔ ان یعنی یہود کو جواب دینے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 93–95

Commentary In the verses appearing above, there is a continuity of arguments against positions taken by the people of the Book. At some places, it concerns Jews and at others, the Christians. One such argument, which has been reported in Ruh al-Ma'ani on the authority of Wahidi and al-Kalbi, recounts the incident when the Holy Prophet ﷺ stated his adherence to the community of Abraham ﷺ with reference to all fundamentals of the religious code, and most of the subsidiaries, the Jews objected by saying: 'You eat camel meat and partake of its milk although these were unlawful for Abraham (علیہ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

76. When the Jewish rabbis found no grounds for criticizing the fundamental teachings of the Prophet (there was no difference between the teachings of the previous Prophets and that of the Arabian Prophet on matters which constitute the core of religion), they raised objections about the details of religious law. The first objection was that the Prophet (peace be on him) had declared lawful a number of things which had been reckoned as unlawful since the time of the ancient Prophets. What is said here is a refutation of that objection. 77. If 'Israel' is taken to mean the 'Children of Israel'…

Read the full tafseer →