Aal-i-Imraan 3:92

Aal-i-Imraan · from ayah 92

3:92

لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتّٰی تُنْفِقُوْا مِمَّا تُحِبُّوْنَ ؕ۬— وَمَا تُنْفِقُوْا مِنْ شَیْءٍ فَاِنَّ اللّٰهَ بِهٖ عَلِیْمٌ ۟لَنۡ تَنَالُوا الۡبِرَّ حَتّٰى تُنۡفِقُوۡا مِمَّا تُحِبُّوۡنَ ؕ وَمَا تُنۡفِقُوۡا مِنۡ شَىۡءٍ فَاِنَّ اللّٰهَ بِهٖ عَلِيۡمٌ

(مومنو!) جب تک تم ان چیزوں میں سے جو تمھیں عزیز ہیں (راہِ خدا میں) صرف نہ کرو گے کبھی نیکی حاصل نہ کر سکو گے اور جو چیز تم صرف کرو گے خدا اس کو جانتا ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

Never will you attain the good [reward] until you spend [in the way of Allah] from that which you love. And whatever you spend - indeed, Allah is Knowing of it.

— Saheeh International

Juz 4 · Ruku 10 of surah · Ruku 1 of juz

Read the whole surah · Surah Aal-i-Imraan

All translations of 3:92

تم نیکی کو نہیں پہنچ سکتے جب تک کہ اپنی وہ چیزیں (خدا کی راہ میں) خرچ نہ کرو جنہیں تم عزیز رکھتے ہو، اور جو کچھ تم خرچ کرو گے اللہ اس سے بے خبر نہ ہوگا

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

(مومنو!) جب تک تم ان چیزوں میں سے جو تمھیں عزیز ہیں (راہِ خدا میں) صرف نہ کرو گے کبھی نیکی حاصل نہ کر سکو گے اور جو چیز تم صرف کرو گے خدا اس کو جانتا ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

جب تک تم اپنی پسندیده چیز سے اللہ تعالیٰ کی راه میں خرچ نہ کروگے ہرگز بھلائی نہ پاؤ گے، اور تم جو خرچ کرو اسے اللہ تعالیٰ بخوبی جانتا ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

تم نیکی کے مقام تک اس وقت تک ہرگز نہیں پہنچو گے جب تک ان چیزوں میں سے (اللہ کے لیے) خرچ نہ کرو جو تمہیں محبوب ہیں۔ اور جو کچھ بھی تم خرچ کرو، اللہ اسے خوب جانتا ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

تم ہرگز بھلائی کو نہ پہنچو گے جب تک راہِ خدا میں اپنی پیاری چیز نہ خرچ کرو اور تم جو کچھ خرچ کرو اللہ کو معلوم ہے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

تم ہرگز نیکی کو نہیں پہنچ سکو گے جب تک تم (اللہ کی راہ میں) اپنی محبوب چیزوں میں سے خرچ نہ کرو، اور تم جو کچھ بھی خرچ کرتے ہو بیشک اللہ اسے خوب جاننے والا ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

تم پوری نیکی ہرگز حاصل نہیں کرو گے، یہاں تک کہ اس میں سے کچھ خرچ کرو جس سے تم محبت رکھتے ہو اور تم جو چیز بھی خرچ کرو گے تو بیشک اللہ اسے خوب جاننے والا ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

تم اس وقت تک اصل نیکی حاصل نہ کرسکو گے جب تک وہ کچھ اللہ کی راہ میں خرچ نہ کرو جو تمہیں محبوب ہو۔ اور جو کچھ بھی تم خرچ کرو گے اللہ اسے خوب جانتا ہے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

تم خدا کی وفا داری کا درجہ ہرگز نہیں حاصل کرسکتے جب تک ان چیزوں میں سے نہ خرچ کرو جن کو تم محبوب رکھتے ہو اور جو کوئی چیز بھی تم خرچ کرو گے تو اللہ اس سے باخبر ہے۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

(ایمان والو ! یاد رکھو کہ) تم نیکی میں کمال ہرگز حاصل نہ کرسکو گے، یہاں تک کہ تم (اللہ کی راہ میں) اپنی ان چیزوں میں سے خرچ نہ کرو جن کو تم (اپنے لئے پسند کرتے اور) محبوب رکھتے ہو، اور یوں جو بھی خرچ کرو گے تو (حسب حال اس کا اجر پاؤ گے کہ) بیشک اللہ اس کو پوری طرح جانتا ہے،

— مولانا اسحاق مدنی

جب تک اپنی محبوب چیزوں کو خرچ نہ کرو گے (کامل) نیکی (کے مرتبہ) کو نہ پہنچ سکو گے۔ اور جو کچھ بھی کسی چیز سے خرچ کرتے رہتے ہو اللہ اس سے خوب واقف ہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

تم ہرگز نہیں پہنچ سکتے نیکی کے مقام کو جب تک کہ خرچ نہ کرو اس میں سے جو تمہیں پسند ہے اور جو کچھ بھی تم خرچ کرو گے اللہ اس سے باخبر ہے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

تم نیکی کو نہیں پہنچ سکتے جب تک کہ تم وہ چیزیں (اللہ کی راہ میں) خرچ نہ کرو جنہیں تم عزیز رکھتے ہو اور جو کچھ تم خرچ کرو گے اللہ اس سے بیخبر نہ ہوگا۔

— محترمہ رفعت اعجاز

You shall not attain righteousness until you spend out of what you love (in the way of Allah). Allah knows whatever you spend.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

You shall never attain righteousness unless you spend from what you love. Whatsoever you spend, Allah is fully aware of it.

— Muhammad Taqi Usmani

You shall never attain righteousness unless you spend from what you love. Whatsoever you spend, Allah is fully aware of it.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

By no means shall you attain Al-Birr, unless you spend of that which you love; and whatever of good you spend, Allah knows it well.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Ye will not attain unto piety until ye spend of that which ye love. And whatsoever ye spend, Allah is Aware thereof.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Never will you attain the good [reward] until you spend [in the way of Allah] from that which you love. And whatever you spend - indeed, Allah is Knowing of it.

— Saheeh International

You can never have extended virtue and righteousness unless you spend part of what you dearly love for the cause of God. God knows very well whatever you spend for His cause.

— Muhammad Sarwar

By no means shall you attain to righteousness until you spend (benevolently) out of what you love; and whatever thing you spend, Allah surely knows it.

— Muhammad Habib Shakir

O Ye shall not attain unto virtue until ye expend of that which ye love; and whatsoever ye expend, verily Allah Is thereof Knower.

— Abdul Majid Daryabadi

By no means shall ye attain righteousness unless ye give (freely) of that which ye love; and whatever ye give, of a truth Allah knoweth it well.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 3:92

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

سب سے زیادہ پیاری چیز اور صدقہ حضرت عمرو بن میمون فرماتے ہیں بر سے مراد جنت ہے، یعنی اگر تم اپنی پسند کی چیزیں اللہ تعالیٰ کی راہ میں صدقہ کرتے رہو گے تو تمہیں جنت ملے گی، مسند احمد میں ہے کہ حضرت ابو طلحہ مالدار صحابی تھے مسجد کے سامنے ہی بیئرحا نامی آپ کا ایک باغ تھا جس میں کبھی کبھی آنحضرت ﷺ بھی تشریف لے جایا کرتے تھے اور یہاں کا خوش ذائقہ پانی پیا کرتے تھے جب یہ آیت اتری تو حضرت ابو طلحہ ؓ بارگاہ نبوی میں حاضر ہو کر عرض کرنے لگے کہ یا رسول اللہ میرا تو سب سے زیادہ پیارا مال یہی باغ ہے میں آپ کو گواہ کرتا ہوں کہ میں نے اسے اللہ کی راہ میں صدقہ کیا اللہ تعالیٰ مجھے بھلائی عطا فرمائے اور…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 91–92

سورة اٰلِ عِمْرٰن 75 اس سے مقصود ان کی اس غلط فہمی کو دور کرنا ہے جو وہ ”نیکی“ کے بارے میں رکھتے تھے۔ ان کے دماغوں میں نیکی کا بلند سے بلند تصور بس یہ تھا کہ صدیوں کے توارث سے ”تشرُّع“ کی جو ایک خاص ظاہری شکل ان کے ہاں بن گئی تھی اس کا پورا چربہ آدمی اپنی زندگی میں اتار لے اور ان کے علماء کی قانونی موشگافیوں سے جو ایک لمبا چوڑا فقہی نظام بن گیا تھا اس کے مطابق رات دن زندگی کے چھوٹے چھوٹے ضمنی و فروعی معاملات کی ناپ تول کرتا رہے۔ اس تشرُّع کی اوپری سطح سے نیچے بالعموم یہودیوں کے بڑے بڑے ”دیندار“ لوگ تنگ دلی، حرض، بخل، حق پوشی اور حق فروشی کے عیوب چھپائے ہوئے تھے اور رائے عام ان کو نیک سمجھتی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

ربط آیات مع تشریح اس سے پہلی آیت میں کفار و منکرین کے صدقات و خیرات کا اللہ تعالیٰ کے نزدیک غیر مقبول ہونا بیان کیا گیا تھا، اس آیت میں مومنین کو صدقہ مقبولہ اور اس کے آداب بتلائے گئے ہیں، اس آیت کے الفاظ میں سب سے پہلے لفظ بر کے معنی اور اس کی حقیقت کو سمجھئے، تاکہ آیت کا پورا مفہوم صحیح طور پر ذہن نشین ہوسکے۔ لفظ بر کے لفظی اور حقیقی معنی ہیں کسی شخص کے حق کی پوری ادائیگی اور اس سے کامل سبکدوشی اور احسان اور حسن سلوک کے معنی میں بھی آتا ہے، بر بالفتح اور بار اس شخص کے لئے استعمال ہوتا ہے جو اپنے ذمہ عائد ہونے والے حقوق کو پوری طرح ادا کردے۔ قرآن کریم میں برا بوالدتی۔ 19: 32) اور برا…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

خدا کے ساتھ وفاداری کی شرط محبوب مال کا انفاق : لفظ ’ بِرّ ‘ کی تحقیق تفسیر سورة بقرہ میں گزر چکی ہے۔ اس لفظ کی اصل روح ایفائے عہد اور ادائے حقوق وفرائض ہے عام اس سے کہ یہ خدا کے حقوق و فرائض ہوں یا اس کے بندوں کے۔ بنی اسرائیل ایفائے عہد اور ادائے حقوق کے معاملے میں تو بالکل صفر تھے لیکن محض چند رسوم کی ظاہردارانہ پیروی کر کے یہ سمجھتے تھے کہ خدا کی وفاداری میں جو مرتبہ و مقام ان کا ہے وہ کسی کا نہ ہوا ہے نہ ہوسکتا ہے۔ چناچہ اسی زعم میں وہ اپنے آپ کو حضرت ابراہیم اور دوسرے تمام انبیاء کی وراثت کا تنہا اجارہ دار سمجھتے تھے اور یہ سوچنے کے لیے بھی تیار نہ تھے کہ کوئی اس میدان میں ان کا حریف…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

92۔ 1 بر (نیکی بھلائی) سے مراد عمل صالح یا جنت ہے (فتح القدیر) حدیث میں آتا ہے جب یہ آیت نازل ہوئی حضرت ابو طلحہ انصاری ؓ جو مدینہ کے اصحاب حیثیت میں سے تھے نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ یارسول اللہ ﷺ ! بیرحا کا باغ مجھے سب سے زیادہ محبوب ہے، میں اسے اللہ کی رضا کے لئے صدقہ کرتا ہوں، آپ ﷺ نے فرمایا ' وہ تو بہت نفع بخش مال ہے، میری رائے یہ ہے کہ تم اسے اپنے رشتہ داروں میں تقسیم کردو ' چناچہ آپ ﷺ کے مشورے سے انہوں نے اسے اپنے اقارب اور عم زادوں میں تقسیم کردیا، اچھی چیز صدقہ کی جائے، یہ افضل اور اکمل درجہ حاصل کرنے کا طریقہ ہے۔ جس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ کمتر چیز یا اپنی ضرورت…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 91–92

32: پیچھے سورة بقرہ کی آیت نمبر 267 میں یہ حکم گذرا ہے کہ صرف خراب اور ردی قسم کی چیزیں صدقے میں نہ دیا کرو، بلکہ اچھی چیزوں میں اللہ کی راہ میں خرچ کیا کرول۔ اب اس آیت میں مزید آگے بڑھ کر یہ کہا جارہا ہے کہ صرف یہی نہیں کہ اچھی چیزیں اللہ کی خوشنودی کے لیے دو ، بلکہ جن چیزوں سے تمہیں زیادہ محبت ہے، ان کو اس راہ میں نکالو تاکہ صحیح معنی میں اللہ کے لیے قربانی کا مظاہرہ ہو سکے۔ جب یہ آیت نازل ہوئی تو صحابہ کرام نے اپنی سب سے زیادہ پسندیدہ چیزیں صدقہ کرنی شروع کردیں جس کے بہت سے واقعات حدیث اور تفسیر کی کتابوں میں مذکور ہیں۔ ملاحظہ معارف القرآن جلد دوم ص :107 و 108،

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

امام احمد نے اپنی سند کے ساتھ ابواسحاق ابن عبداللہ ابن ابی طلحہ سے روایت کی ہے ۔ وہ فرماتے ہیں انہوں نے انس بن مالک کو یہ کہتے ہوئے سنا انصار مدینہ میں ابوطلحہ بہت ہی مالدار تھے ۔ اور ان کو ان کی دولت سے محبوب ترین ایک کنواں تھا جسے ” حاء “ کہتے تھے ۔ یہ مسجد نبوی کے بالمقابل تھا ۔ رسول ﷺ اس کنویں پر جایا کرتے تھے ۔ اور اس کا پاک وصاف پانی پیا کرتے تھے ۔ حضرت انس ؓ فرماتے ہیں کہ جب یہ آیت نازل ہوئی لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ……………” تم نیکی کو نہیں پہنچ سکتے جب تک تم ان چیزوں کو خرچ نہ کرو جنہیں تم پسند کرتے ہو۔ “ تو ابوطلحہ نے کہا یا رسول اللہ ! اللہ تعالیٰ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

1 یعنی اللہ کو معلوم ہے کہ کیسی چیز خرچ کی، کہاں خرچ کی اور کس کے لئے خرچ کی۔ جتنی محبوب اور پیاری چیز جس طرح کے مصرف میں جس قدر اخلاص و حسن نیت سے خرچ کرو گے اسی کے موافق اللہ تعالیٰ کے یہاں سے بدلہ ملنے کی امید رکھو اعلیٰ درجہ کی نیکی حاصل کرنا چاہو تو اپنی محبوب و عزیز ترین چیزوں میں سے کچھ خدا کے راستہ میں نکالو۔ حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں " یعنی جس چیز سے دل بہت لگا ہو اسکے خرچ کرنے کا بڑا درجہ ہے، یوں ثواب ہر چیز میں ہے . شاید یہود و نصاریٰ کے ذکر میں یہ آیت اس واسطے نازل فرمائی کہ ان کو اپنی ریاست بہت عزیز تھی جسکے تھامنے کو نبی کے تابع نہ ہوتے تھے۔ تو جب تک وہ ہی اللہ کے راستہ میں نہ…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 92 لَنْ تَنَالُوْا الْبِرَّ حَتّٰی تُنْفِقُوْا مِمَّا تُحِبُّوْنَ ط۔ آیۃ البر البقرۃ : 177 کے ضمن میں اس آیت کا حوالہ بھی آیا تھا کہ نیکی کے مظاہر میں سے سب سے بڑی اور سب سے مقدم شے انسانی ہمدردی ہے ‘ اور انسانی ہمدردی میں اپنا وہ مال خرچ کرنا مطلوب ہے جو خود اپنے آپ کو محبوب ہو۔ ایسا مال جو ردّی ہو ‘ دل سے اتر گیا ہو ‘ بوسیدہ ہوگیا ہو وہ کسی کو دے کر سمجھا جائے کہ ہم نے حاتم طائی کی قبر پر لات مار دی ہے تو یہ بجائے خود حماقت ہے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

81 اگرچہ سابقہ مضمون یہود سے سے متعلق چل رہا ہے۔ تاہم اس آیت کا خطاب یہود، نصاریٰ ، مسلمانوں اور سب بنی نوع انسان سے ہے اور مال سے محبت انسان کی فطرت میں داخل ہے۔ اللہ کی راہ میں خرچ کرنے سے اس کے دل میں گھٹن سی پیدا ہونے لگتی ہے اور اگر کسی کے کہنے کہلانے پر مال خرچ کرنا ہی پڑے تو اس کا جی یہ چاہتا ہے کہ تھوڑا سا مال یا کوئی حقیر قسم کا مال دے کر چھوٹ جائے، جب کہ اللہ تعالیٰ یہ فرما رہے ہیں کہ جب تم اللہ کی راہ میں ایسا مال خرچ نہ کرو گے جو تمہیں محبوب اور پسندیدہ ہے۔ اس وقت تک تم نیکی کی وسعتوں کو پا نہیں سکتے۔ اس آیت کا صحابہ کرام ؓ نے بہت اچھا اثر قبول کیا۔ چناچہ حضرت انس بن مالک ؓ فرماتے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

198 ۔ (اے مسلمانو ! ) (آیت) ” البر “۔ مطلق نیکی کو کہتے ہیں، یہاں مراد کمال خیر ہے۔ اور نیکی کا درجہ اعلی یا یہ کہا جائے گا کہ حقیقت خیر ابواب خیر کی جامعیت ہی مراد لی گئی ہے۔ البر الاحسان و کمال الخیر (روح) ای لن تبلغوا حقیقۃ البر (مدارک) قال ابو منصور البر خیر الدنیا والاخیرۃ (تاج) (آیت) ” تنفقوا “۔ یعنی اللہ اور اس کے دین کی راہ میں نہ خرچ کروگے، انفاق یہاں بہت وسیع معنی میں ہے اس میں خیر یا نیکی کے تمام ابواب آگئے۔ قیلھی سبل الخیر کلھا وھی الصحیح لعموم الایۃ (ابن عربی) قال الزجاج کل ماتقرب بہ الی اللہ من عمل خیر (بحر) قال الزجاج قال بعضہم کل ما تقرب بہ الی اللہ عزوجل من عمل خیر فھو انفاق…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 91–92

آیت نمبر 92 تا 101 ترجمہ : جب تک اپنے محبوب مالوں کو خرچ نہ کرو گے (صدقہ نہ کروگے) ہرگز نیکی کا اجر جو کہ جنت ہے حاصل نہ کرسکو گے اور جو چیز بھی تم خرچ کرتے ہو اللہ اس سے بخوبی واقف ہے لہٰذا وہ اس کی جزاء دے گا، اور نازل ہوئی جب یہودیوں نے یہ بات کہی، کہ تم اس بات کا دعویٰ کرتے ہو کہ تم ملت ابراہیمی پر ہو حالانکہ وہ تو اونٹ کا گوشت اور دودھ کھاتے پیتے نہیں تھے۔ (اور تم کھاتے پیتے ہو) ہر کھانا بنی اسرائیل کے لیے حلال تھا بجز اس کے کہ جس کو اسرائیل (یعقوب) نے اپنے اوپر حرام کرلیا تھا اور وہ اونٹ تھا، ایسا اس وقت کیا تھا کہ جب ان کو عرق النساء کا مرض لاحق ہوگیا تھا (نَساء) فتحہ نون کے ساتھ اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

لَنْ تَنَالوا البر بِرّ کا معنی ہے انعام، جنت، بھلائی، احسان کی وسعت، سچائی، اطاعت (قاموس) میں کہتا ہوں کہ اگر ” بر “ کی نسبت بندہ کی طرف کی جاتی ہے تو مراد ہوتی طاعت سچائی اور احسان کی وسعت۔ اس وقت اسکے مقابل فجور اور عقوق کا لفظ آتا ہے لیکن اگر اللہ کی طرف برّ کی نسبت کی جاتی ہے تو مرادہوتی ہے رضاء، رحمت، جنت۔ اس وقت اسکے مقابل غضب اور عذاب کا لفظ آتا ہے۔ آیت مذکورہ میں حضرت ابن مسعود اور حضرت ابن عباس اور مجاہد کے نزدیک جنت مراد ہے مقاتل بن حبان کے نزدیک تقویٰ بعض علماء کے نزدیک طاعت اور بعض کے نزدیک بھلائی حسن بصری نے آیت کی تفسیر کرتے ہوئے فرمایا تم ابرار نہیں ہوسکتے یعنی کثیر الخیر وسیع…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(92) اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو راہ اللہ میں اپنے اموال خرچ کرنے کی ترغیب دلا رہے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے یہاں ثواب و بزرگی اور جنت نہیں حاصل کرسکو گے جب تک کہ اپنی بہت پیاری چیز کو راہ اللہ میں نہ خرچ کرو اور ایک معنی یہ بھی بیان کیے گئے کہ توکل اور تقوی اس کے بغیر ہرگز نہیں حاصل ہوسکتا اور جو بھی اموال خرچ کرتے ہو وہ ذات اس میں تمہاری نیتوں سے بخوبی واقف ہے کہ حق تعالیٰ کی رضاجوئی کے لیے خرچ کیا ہے یا لوگوں کی تعریف کے لیے ،

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ۔۔ : ”الْبِرَّ“ ”کامل نیکی“ ، ”مِمَّا تُحِبُّوْنَ“ (اس میں سے کچھ خرچ کرو جس سے تم محبت رکھتے ہو) عام ہے، یعنی جان و مال، اولاد و اقارب، جاہ و عزت، غرض ہر چیز کو شامل ہے۔ یہ خطاب مسلمانوں کو بھی ہے اور یہود کو بھی۔ مسلمانوں سے خطاب کی مناسبت یہ معلوم ہوتی ہے کہ پچھلی آیت میں بیان فرمایا ہے کہ کافر کو خرچ کرنے سے کچھ بھی نفع نہیں ہوگا۔ اب اس آیت میں مومنوں کو خرچ کرنے کی کیفیت بتلائی، جس سے آخرت میں انھیں نفع ہوگا۔ 2 ڛ وَمَا تُنْفِقُوْا مِنْ شَيْءٍ۔۔ : مقصد یہ کہ انسان جو کچھ بھی فی سبیل اللہ خرچ کرتا ہے، تھوڑا ہو یا زیادہ، وہ اللہ تعالیٰ کے علم میں ہے اور انسان کو…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیت نمبر : 92۔ اس میں دو مسئلے ہیں : مسئلہ نمبر : (1) ائمہ کرام نے روایت بیان کی ہے اور یہ الفاظ نسائی کے ہیں، حضرت انس ؓ سے مروی ہے انہوں نے فرمایا : جب یہ آیت نازل ہوئی۔ (آیت) ” لن تنالوا البر حتی تنفقوا مما تحبون “۔ تو ابو طلحہ ؓ نے کہا : ہمارا رب ہمارے مالوں کے بارے میں ہم سے سوال کر رہا ہے پس یا رسول اللہ ﷺ میں آپ کو گواہ بناتا ہوں اس پر کہ میں نے اپنی زمین اللہ تعالیٰ کے لئے دین دے دی، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ” تو اسے اپنے قرابتداروں حسان ابن ثابت اور ابی بن کعب رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین میں تقسیم کر دے ، “۔ (ا) (صحیح بخاری، باب الزکاۃ علی الاقارب، حدیث نمبر 1368، ضیاء القرآن…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

(1) مالک واحمد وعبدی بن حمید، بخاری، مسلم، ترمذی، نسائی، ابن المنذر اور ابن ابی حاتم نے انس ؓ سے روایت کیا ہے کہ ابو طلحہ انصاری ؓ مدینہ منورہ میں زیادہ کھجوروں والے تھے (یعنی ان کے کھجوروں کے باغ تھے) اور ان کے مالوں میں سے سب سے زیادہ پسندیدہ مال ان کے نزدیک بیر حاء تھا اور یہ مسجد نبوی کے بالکل سامنے تھے نبی اکرم ﷺ اس میں داخل ہو کر پانی پیتے تھے جس میں خوشبو تھی جب یہ آیت ” لن تنالوا البر حتی تنفقوا مما تحبون وما تنفقوا من شیء فان اللہ بہ علیم “ نازل ہوئی ابو طلحہ ؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ ! اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں لفظ آیت ” لن تنالوا البر حتی تنفقوا مما تحبون “ اور میرے مالوں میں سے میرے…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[لَنْ تَنَالُوا : تم لوگ ہرگز نہیں حاصل کرو گے ] [الْبِرَّ : نیکی کو ] [حَتّٰی : یہاں تک کہ ] [تُنْفِقُوْا : تم لوگ خرچ کرو ] [مِمَّا : اس میں سے جو ] [ تُحِبُّوْنَ : تم لوگ پسند کرتے ہو ] [وَمَا : اور جو بھی ] [تُنْفِقُوْا : تم خرچ کرو گے ] [مِنْ شَیْئٍ : کسی چیز میں سے ] [فَاِنَّ اللّٰہَ : تو یقینا اللہ ] [بِہٖ : اس کو ] [عَلِیْمٌ : جاننے والا ہے ] ترکیب :” وَمَا تُنْفِقُوْا “ کا ” مَا “ شرطیہ ہے اس لیے ” تُنْفِقُوْا “ مجزوم ہوا ہے۔ ” کَانَ “ کا اسم ” کُلُّ الطَّعَامِ “ ہے اور ” حِلًّا “ اس کی خبر ہے۔” حَرَّمَ “ کا فاعل ” اِسْرَائِ یْلُ “ ہے جو حضرت یعقوب (علیہ السلام) کا لقب ہے۔ ”…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

فی سبیل اللہ مجبوب مال خرچ کیا جائے اس آیت میں اللہ کی رضا کے لیے مال خرچ کرنے کی ترغیب دی ہے اور فرمایا ہے کہ خیر (کامل) تمہیں نہیں مل سکتی جب تک کہ اپنی محبوب چیز اللہ کی رضا کے لیے خرچ نہ کرو، حضرات صحابہ کرام ایک ایک حکم پر عاشق تھے، جب آیت بالا نازل ہوئی تو انہوں نے اپنی محبوبات پر نظر ڈالی کہ ہماری محبوب چیزیں کیا کیا ہیں اور ان کو اللہ کی راہ میں خرچ کردیا۔ حضرت انس ؓ فرماتے ہیں کہ انصار مدینہ میں باغوں کی ملکیت کے اعتبار سے سب سے زیادہ مالدار حضرت ابو طلحہ ؓ تھے، مسجد نبوی کے مقابل ان کا باغ تھا جس میں ایک کنواں بیر حاء کے نام سے موسوم تھا، رسول کریم ﷺ کبھی کبھی اس باغ میں تشریف لے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

ترغیب انفاق مال درراہ خداوند ذوالجلال قال تعالیٰ لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ الی فَاِنَّ اللّٰهَ بِهٖ عَلِيْمٌ [ ربط ] گزشتہ آیت میں یہ بتلایا کہ اگر قیامت کے دن کفار اپنی رہائی کے لیے روئے زمین کے برابر بھی سوناخرچ کریں تو ذرا برابر مفید نہ ہوگا اب اس آیت میں مسلمانوں کو خدا کی راہ میں خرچ کرنے کی ترغیب دیتے ہیں کہ اے مسلمانوں تم خدا کی راہ میں کتنی ہی معمولی چیز کیوں نہ خرچ کرو وہ تمہارے لیے نافع اور مفید ہوگی مگر اتنا خیال رکھنا کہ جو چیز تمہارے نزدیک زیادہ محبوب اور مرغوب ہو اگر اس کو خدا کی راہ میں خرچ کرو گے تو تم ابرار اور اخیار میں سے ہوجاؤ گے اور اگر کوئی معمولی چیز بھی خدا کی راہ میں دو…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

130 ۔ یہ خطاب بھی حسب سابق اہل کتاب ہی سے ہے اور اس سے انہیں اسلام لانے کی ترغیب دی گئی ہے اور بِرّ سے ایمان وتقویٰ کا وہ درجہ مراد ہے جس کے حاصل ہونے پر آدمی ابرار کے زمرہ میں شامل ہوجاتا ہے۔ جن کا اللہ تعالیٰ نے اِنَّ الْاَبْرَارَ لَفِیْ عِلِّیِّیْنَ میں ذکر فرمایا ہے۔ مَاتُحِبُّوْنَ سے دنیوی ریاست و دولت اور ظاہری شان و شوکت مراد ہے۔ اہل کتاب کو مخاطب کر کے فرمایا کہ جب تک تم اپنی سب سے زیادہ پسندیدہ اور محبوب چیز کی قربانی نہیں دو گے۔ یعنی دنیوی شان و شوکت اور ریاست کو نہیں چھوڑو گے۔ اس وقت تک حقیقتِ خیر اور اصل تقویٰ نہیں پا سکو گے اس لیے ان دنیوی منافع کو چھوڑ کر حضرت خاتم النبیین ﷺ پر…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

ربط آیات : سورۃ آل عمران کے ابتدائی حصے میں زیادہ تر نصاری کی تردید کا بیان ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے غلط عقائد کا رد فرمایا ہے۔ اور انہیں اصلاح کی دعوت دی ہے تاہم اہل کتاب ہونے کی حیثیت سے یہودیوں کا ذکر بھی آ گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی بھی خرابیاں بیان کی ہیں ، اور ان کے غلط عقائد کی تردید کی ہے اللہ تعالیٰ نے ملت ابراہیمی کا خلاصہ بیان فرمایا ہے۔ دین اسلام کے برحق ہونے کا تذکرہ کیا ہے اور اس کی پیروی اختیار کرنے کی تلقین کی ہے۔ نیز واضح فرمایا ہے کہ اسلام کے سوا اللہ تعالیٰ کسی چیز کو قبول نہیں کرے گا۔ اور اسلام کے علاوہ کسی دین میں کامیابی ممکن نہیں۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے ہدایت اختیار…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتّٰى تُنْفِقُوْا مِمَّا تُحِبُّوْنَ۝ 0ۥۭ وَمَا تُنْفِقُوْا مِنْ شَيْءٍ فَاِنَّ اللہَ بِہٖ عَلِيْمٌ۝ 92 نيل النَّيْلُ : ما يناله الإنسان بيده، نِلْتُهُ أَنَالُهُ نَيْلًا . قال تعالی: لَنْ تَنالُوا الْبِرَّ [ آل عمران/ 92] ، وَلا يَنالُونَ مِنْ عَدُوٍّ نَيْلًا [ التوبة/ 120] ، لَمْ يَنالُوا خَيْراً [ الأحزاب/ 25] والنَّوْلُ : التّناول . يقال : نِلْتُ كذا أَنُولُ نَوْلًا، وأَنَلْتُهُ : أولیته، وذلک مثل : عطوت کذا : تناولت، وأعطیته : أنلته . ونِلْتُ : أصله نَوِلْتُ علی فعلت، ثم نقل إلى فلت . ويقال : ما کان نَوْلُكَ أن تفعل کذا . أي : ما فيه نَوَال صلاحک، قال الشاعر :…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

ترکیب : مما بمعنی الذی یانکرہ موصوف ہے اور مصدر یہ نہیں ہوسکتا ‘ بہ کی ضمیر شیء کی طرف رجوع کرتی ہے الا ما حرم موضع نصب میں ہے کس لئے کہ یہ استثناء خبر کان سے ہے۔ من قبل متعلق ہے حرم سے من بعد ذلک متعلق ہے افترٰی سے۔ الطعام بمعنی المطعومات والمراد اکلہا اور حل مصدر ہے اس میں جمع اور واحد مذکر مونث سب یکساں ہیں۔ تفسیر : اگلی آیت میں ذکر تھا کہ قیامت میں کفار اگر زمین بھر کر بھی سونا دیں گے تو ہرگز قبول نہ ہوگا۔ اس مناسبت سے دنیا میں اللہ کی راہ میں صرف کرنے کا ذکر آگیا کہ تم کو بر یعنی نیکی اور جزائے کامل اور ابرار لوگوں کا مرتبہ جب ہی ملے گا کہ جب تم اپنی دل پسند چیز کو صرف کرو گے۔ یہ کہ ایک…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتّٰی تُنْفِقُوْا مِمَّا تُحِبُّوْنَ ط 5 وَمَا تُنْفِقُوْا مِنْ شَیْئٍ فَاِنَّ اللّٰہَ بِہٖ عَلِیْمٌ۔ (تم اللہ کی وفاداری کا درجہ ہرگز حاصل نہیں کرسکتے جب تک تم خرچ نہ کرو ان چیزوں میں سے جنھیں تم محبوب رکھتے ہو اور تم جو چیز بھی خرچ کرو گے تو یقینا اللہ اسے جاننے والا ہے) (92) اس آیت کریمہ میں مختلف باتیں تشریح طلب ہیں جن کے بغیر اس آیت کو سمجھنا آسان نہیں۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ اس آیت میں الْبِرَّ کا لفظ ایک خاص سیاق کلام میں وارد ہوا ہے اور یہی لفظ اس سے ملتے جلتے سیاق کلام میں سورة بقرہ کی آیت 177 میں آچکا ہے۔ مخاطب دونوں جگہ اگرچہ اہل کتاب ہیں لیکن سورة بقرہ میں…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 91–92

فہم القرآن ربط کلام : کفر اللہ تعالیٰ سے دوری اور آخرت میں ذلّت کا باعث ہوگا۔ صدقہ اللہ تعالیٰ کی قربت اور آخرت میں نجات کا ذریعہ ہے۔ ” بِرّ “ ایسی نیکی کو کہتے ہیں جسے اس کے پورے تقاضوں کے ساتھ ادا کیا جائے۔ لہٰذاحکم ہوا ہے کہ اے لوگو ! تم اس وقت تک صدقے کے حق اور نیکی کی روح کو نہیں پہنچ سکتے جب تک اللہ کی راہ میں وہ چیز خرچ نہ کرو جس کے ساتھ تم انتہائی محبت کرتے ہو۔ ” بِرّ “ کا معنی جنت بھی کیا گیا ہے۔ (تفسیر کبیر رازی) دوسرے الفاظ میں تم جنت کو نہیں پاسکتے جب تک اپنی محبوب چیز اللہ کی راہ میں قربان نہ کرو۔ یہاں لطیف پیرائے میں یہودیوں کے کھوکھلے دعو وں اور ان کے بخل کی نشان دہی کرنے کے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

محبوب ترین چیز کا صدقہ : 92: لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتّٰی تُنْفِقُوْا مِمَّا تُحِبُّوْنَ ۔ وَمَا تُنْفِقُوْا مِنْ شَیْئٍ فَاِنَّ اللّٰہَ بِہٖ عَلِیْمٌ۔ (تم ہرگز کمال نیکی نہیں پاسکو گے) یعنی تم حقیقی نیکی ہرگز نہ حاصل کرسکو گے یا تم ہرگز نیک نہ بن سکو گے۔ یا تم ہرگز اللہ تعالیٰ کے ثواب کو نہ پاسکو گے۔ حَتّٰی تُنْفِقُوْا مِمَّا تُحِبُّوْنَ ۔ (یہاں تک کہ تم خرچ کرو اس چیز کو جس کو تم پسند کرتے ہو) یعنی تم اپنے اموال میں سے کچھ اموال جن کو تم پسند کرتے اور ترجیح دیتے ہو خرچ کرو۔ حضرت حسن (رح) سے منقول ہے ہر وہ شخص جس نے اپنی پسندیدہ چیز کو اللہ تعالیٰ کی رضامندی کے لئے صدقہ کیا خواہ وہ ایک…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

(تفسیر) 92۔: (آیت)” لن تنالوا البر “۔ بر کا معنی جنت سے کیا ہے ، حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ ابن مسعود ؓ اور مجاہد (رح) اور مقاتل (رح) نے کہا کہ اس سے مراد تقوی ہے ، بعض نے کہا طاعت بعض کے نزدیک بھلائی ہے ، حسن (رح) فرماتے ہیں کہ تم (ابرار) خیر کثیر نہیں ہوسکتے ۔ حضرت شقیق ؓ عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت کرتے ہیں فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا سچائی کو لازم پکڑو کیونکہ صدق نیکی کی طرف لے جاتا ہے اور بر (نیکی) جنت کی طرف لے جاتی ہے، آدمی لگا تار سچ بولتا رہتا ہے اور سچ بولنے کی نیت کرتا ہے تو اللہ کے ہاں اس کو صدیق لکھ دیا جاتا ہے ، جھوٹ سے بچو کیونکہ جھوٹ بدکاری کی طرف لے جاتا ہے اور…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

اوپر ذکر تھا کہ عقبیٰ میں زمین بھر کے سونا بھی عذاب الٰہی سے نہیں چھوڑا سکتا اس لئے دنیا میں صدقہ کی رغبت دلانے کے لئے اللہ تعالیٰ نہ یہ آیت نازل فرمائی اور جب یہ آیت اتری۔ تو اس سے صحابہ کرام ؓ کو نفلی صدقہ کی حرص اور رغبت بھی بہت کچھ پیدا ہوئی چناچہ مسند امام احمد بن حنبل میں حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو حضرت ابو طلحہ ؓ کا ایک باغ جو مسجد نبوی کے پاس تھا اس میں ایک کنواں میٹھے پانی کا تھا جس کا پانی بہت اچھا تھا اور آنحضرت ﷺ اکثر اس باغ میں جا کر بیٹھا کرتے تھے اور اس کنوئیں کا پانی پیا کرتے تھے انہوں نے وہ باغ اپنے سب مال سے عمدہ اور نفیس جانا اور اللہ کی راہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

آیت 92 اس میں اللہ کی طرف سے بندوں کو ترغیب ہے کہ وہ نیکی کے کاموں میں خرچ کریں، چناچہ فرمایا : (لن تنالوا البر) ” تم ہرگز بھلائی نہ پاؤ گے “ یعنی تم کبھی ’ بر “ حاصل نہیں کرسکو گے۔” بر “ میں ہر قسم کے نیکی اور ثواب کے کام شامل ہیں جو کرنے والے کو جنت میں پہنچاتے ہیں۔ (حتی تنفقوا مما تحبون) ” جب تک تم ان چیزوں میں سے جو تمہیں عزیز ہیں (اللہ کی راہ میں) صرف نہ کرو گے۔ “ یعنی جب تم مال کی محبت پر اللہ کی محبت کو ترجیح دیتے ہوئے اللہ کی رضامندی کے کاموں میں مال خرچ کرو گے تو اس سے ثابت ہوگا کہ تمہارا ایمان سچا ہے اور تمہارے دلوں میں نیکی اور تقویٰ موجود ہے۔ اس میں عمدہ اشیاء خرچ کرنا بھی شامل ہے…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 79–92

راہ خدا میں محبوب چیز قربان کرنا قول باری ہے (لن تنالوالبرحتی تنفقوامما تحبون، تم نیکی کو نہیں پہنچ سکتے جب تک کہ اپنی وہ چیزیں (اللہ کی راہ میں) خرچ نہ کرو جنہیں تم عزیزرکھتے ہو) البر کے معنی دواقوال ہیں اول جنت عمروبن میمون اور سدی سے یہی منقول ہے۔ دوم نیکی کا کام جس کی بناپربندے اجر کے مستحق قرارپاتے ہیں نفقہ سے مراد اللہ کی راہ میں صدقہ وغیرہ کی صورت میں پسند یدہ چیزیں دے دینا ہے۔ یزیدبن ہارون نے حمید سے، انہوں نے حضرت انس ؓ سے روایت کی ہے کہ جب درج بالاآیت نازل ہوئی نیزیہ آیت (من ذا الذی یقرض اللہ قرضا حسنا، کون ہے جو اللہ تعالیٰ کو قرض حسنہ دے) تو حضرت ابوطلحہ ؓ نے حضور ﷺ سے عرض کیا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 90–93

184 پکے اور پورے گمراہوں کی نشاندہی ۔ والعیاذ باللہ : سو اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ اپنے کفر پر اڑنے والے پکے اور پورے گمراہ ہیں کہ کفر ایسے لوگوں کے دلوں میں گھر کرچکا ہے۔ اور اس کی نحوست ان کے رگ و ریشے میں سرایت کرگئی ہے، جس کے باعث ان کو ایسی سچی توبہ کی توفیق نصیب ہی نہیں ہوتی، جو شرف قبولیت پاس کے۔ اور مرتے وقت اگر تو بہ کرینگے بھی تو وہ قبول نہیں ہوگی۔ کیونکہ وہ کشف حقائق کے بعد کی توبہ ہوگی، جو کہ معتبر نہیں۔ اس لئے کہ مطلوب ایمان بالغیب ہے اور موت کے وقت کا وہ ایمان، ایمان بالغیب نہیں ہوگا بلکہ ایمان بالشہود و بالمشاہدہ ہوگا۔ اس لئے وہ توبہ قبول نہیں ہوگی، جیسا کہ سورة نساء میں…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

قربانی کا معیار تشریح : اس آیت میں اللہ رب العزت نیکی کی تعریف بیان فرماتے ہیں۔ نیکی کیا ہے ؟ نیکی کا مطلب ہے اللہ کی رضا حاصل کرنا، اس کی محبت حاصل کرنے کے لیے پوری کوشش کرنا کیونکہ جس سے محبت کی جاتی ہے وہ انسان کی زندگی کا بہترین اور اول ترین مقصد بن جاتا ہے، لہٰذا جو کچھ بھی اللہ نے انسان کو اپنی رحمت سے دے رکھا ہے۔ انسان کو چاہیے کہ اس میں سے بہترین اور محبوب ترین چیز اللہ کی راہ میں اس کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے قربان کر دے۔ اگر اس کی راہ میں مال خرچ کرنے کی ضرورت ہے تو مال خرچ کرو۔ اگر جان کی ضرورت ہے تو وہ بھی پیش کر دو اور اگر شہرت و اقتدار اس کی رضا کے لیے قربان کرنا پڑے تو بےدریغ…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 92–101

آیات 92- 101 اسرارومعارف لن تنالو البر……………فان اللہ بہ علیم۔ بر سے مراد نیکی ہے اور نیکی کی اصل قرب رسول ہے کہ نبوت ایک ایسی نعمت ہے جس کی وجہ سے نبی معصوم ہوتا ہے یعنی مکالمہ باری کی برکات میں سے عصمت بھی ہے جو تمام انبیاء (علیہم السلام) کو نصیب ہوتی ہے۔ حصول بر قرب رسالت کا نام ہے : اسی طرح نبی کے قرب سے ایک خاص وصف ، جو مومن میں پیدا ہوتا ہے وہ گناہ سے نفرت اور نیکی کی محبت ہے جس کے باعث مومن گناہ سے محفوظ ہوجاتا ہے۔ اسی درجے کو حصول بر کہہ سکتے ہیں۔ اب اگر کسی شخص کو کسی طرح کا مال یا منافع اتنا عزیز ہو کہ وہ اسے حاصل کرنے کے لئے اپنے مسلمان ہونے کا اعلان کرے تو وہ اسلام کو کیسے پاسکتا…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 1 پہلی آیت میں بیان فرمایا ہے کہ کافر کا انفاق سے کچھ بھی نفع نہیں ہوگا اب اس آیت میں مومنین کو انفاق کی کیفیت بتلائی جس سے وہ آخرت میں منتفع ہوں گے۔ (کبیر) یہاں ما تحبون عام ہے یعنی مال و دولت اور جاہ و عزت سب کو شامل ہے خطاب یہود سے ہو تو ان کو تنبیہ ہوگی کہ جب تک کہ اپنی جاہ و ریاست کو خیر باد کہہ کر آنحضرت ﷺ کی اتباع اختیار نہیں کرو گے تم ابرار اور مومنین کے زمرہ میں شامل نہیں ہوسکتے (موضح) اور اگر خطاب مومنین سے ہو جیسا کہ عموما تفاسیر میں مذکور ہے تو مقصد یہ ہوگا جو کچھ بھی فی سبیل اللہ صرف کرتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کے علم میں ہے اور انسان کو بشرطیکہ مسلمان ہو اخلاص سے خرچ کرے) اس کے…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(3:92) لن تنالوا۔ مضارع نفی تاکید بلن۔ صیضہ جمع مذکر حاضر۔ اصل میں لن تنالون تھا۔ لن کے آنے سے نون اعرابی ساقط ہوگیا۔ صیغہ جمع کو ظاہر کرنے کے لئے اخیر میں الف زائد کردیا گیا۔ تم ہرگز نہیں پاؤ گے۔ تم ہرگز نہیں پہنچو گے۔ بیل سے (باب سمع) البر۔ مصدر۔ مفعول بہٖ ہے فعل لن تنالوا کا۔ نیکو کاری۔ نیکی کرنا۔ بھلائی کرنا۔ اطاعت ، صلاحیت۔ سچائی۔ نیک برتاؤ۔ بر۔ میں اعتقادی وعملی دونوں قسم کی نیکیاں شامل ہیں۔ مثال ۔ لیس البر ان تولوا وجوھکم قبل المشرق والمغرب ۔۔ (2:177) تنفقوا۔ انفاق (افعال) سے جمع مذکر حاضر فعل مضارع معروف۔ نون اعرابی عامل کی وجہ سے حذف ہوگیا ہے۔ تم خرچ کرو۔ تم خرچ کرو گے۔ تم خرچ کرتے…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

لغات القرآن آیت نمبر 92 لن تنالوا (تم ہرگز نہ پہنچو گے) حتی تنفقوا (جب تک تم خرچ نہ کروگے) البر (سچی نیکی) تحبون (تم محبت کرتے ہو) ۔ تشریح : آیت نمبر 92 اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو اور اہل کتاب کی طرف آمادہ کیا ہے کہ سچی اور حقیقی نیکی حاصل کرنے کے لئے جب تک اپنی پسندیدہ اور محبوب کو اللہ کی محبت کی خاطر نہ چھوڑ دیا جائے اس وقت تک وہ حاصل نہیں ہوسکتی۔ اہل کتاب کو خطاب تو اس معنی میں ہے کہ دنیاوی لالچ نے ان کو اس بات سے روک رکھا تھا کہ وہ نبی آخرالزماں ﷺ پر ایمان لائیں ورنہ تمام تر نشانیوں سے وہ اچھی طرح پہچان چکے تھے کہ حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ ہی وہ آخری نبی اور رسول ہیں جن کا اہل کتاب…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

صدقہ کی رغبت دلانے کے لئے اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی اور جب یہ آیت اتری تو اس سے صحابہ کرام کو نفلی صدقہ کی حرص ورغبت بھی بہت کچھ پیدا ہوئی۔ چناچہ مسند امام احمد بن حنبل میں حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو حضرت ابو طلحہ ؓ کا ایک باغ جو مسجد نبوی کے پاس تھا اور اس میں ایک کنواں میٹھے پانی کا تھا اور حضور وہاں جار بیٹھتے تھے اور اس کنویں کا پانی پیتے تھے، انہوں نے اپنے اس باغ کو اپنے سب مال سے عمدہ جانا اور اللہ کی راہ میں اس باغ کو خیرات کردیا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 86–92

[33] یہ آیت یہود کے بارے میں نازل ہوئی نبی ﷺ کے عہد میں عرب کے یہودی علماء جان چکے تھے اور ان کی زبانوں تک سے اس امر کی شہادت ہوچکی تھی کہ آپ ﷺ نبی برحق ہیں اور جو تعلیم آپ ﷺ لائے ہیں وہ وہی تعلیم ہے جو پچھلے انبیاء (علیہ السلام) لاتے رہے ہیں۔ اس کے بعد انہوں نے جو کچھ کیا وہ محض تعصب، ضد اور دشمنی حق کی اس پرانی عادت کا نتیجہ تھا جس کے وہ صدیوں سے مجرم چلے آ رہے تھے۔ اس کا اندازہ اس سلسلے کے ایک دلچسپ واقعہ سے ہوسکتا ہے۔ سیدہ صفیہ (زوجہ رسول اللہ ﷺ یہ روداد بیان کرتی ہیں کہ جب رسول اللہ ﷺ مدینہ آئے اور قبا میں قیام فرمایا تو میرے والد اور چچا منہ اندھیرے ملاقات کے لئے گئے تو غروب آفتاب کا…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 91–92

ایثار : (ف 1) محبت کا اشتقاق حبۃ سے کیا گیا ہے جس کے معنی سودائے قلب کے ہیں ، اس لئے اس آیت کے یہ معنی ہیں کہ کدا کی راہ میں وہ چیزیں دو جنہیں تم دل کی گہرائیوں سے چاہتے اور عزیز رکھتے ہو یہی وجہ ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو صحابہ ؓ اجمعین نے مختلف طریق ایثار کے استعمال کئے ، حضرت ابو طلحہ ؓ نے فرمایا یا رسول اللہ ﷺ مجھے ہر برحا زیادہ پسند ہے ، اسے قبول فرمائیے ، عبداللہ بن عمر ؓ نے ارشاد فرمایا کہ مجھے میری لونڈی مرجانہ بہت مرغوب ہے ، اسے آزاد کئے دیتا ہوں اور زید بن حارثہ ؓ نے کہا ، مجھے اپنے گھوڑے سبل سے عشق ہے ، یہ مجاہدین کے لئے صدقہ ہے ، گویا جو جن کے پاس تھا وہ خدا کی راہ میں دے دیا…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

Explained with ayahs 92–93

ف 1۔ تم لوگ اس وقت تک حقیقی بھلائی اور کامل مکمل نیکی نہیں حاصل کرسکو گے جب تک تم اپنی محبوب اور عزیز ترین چیز میں سے کچھ خرچ نہ کرو اور بہر حال تم جو کچھ بھی خرچ کرو گے خواہ وہ محبوب ہو یا غیر محبوب ، سو اللہ تعالیٰ اس کو خوب جانتا ہے۔ ( تیسیرض بر کے معنی سورة بقرہ میں گزر چکے ہیں بر کی نسبت اگر بندے کی جانب ہو تو اس سے مراد طاعت ، صدق اور وسعت احسان لیا کرتے ہیں اور خدا کی طریہ لفظ مضاف ہو تو اس کے معنی رضا رحمت جنت ہوا کرتے ہیں۔ حضرت ابوبکر وراق فرماتے ہیں مطلب یہ ہے کہ تم لوگ میری بر کو اس وقت تک حاصل نہیں کرسکتے جب تک اپنے بھائیوں کے ساتھ بر نہ کروحاصل یہ ہے کہ جب تک محبوب کو اپنے سے جدا…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 91–92

ف 1۔ آیت سے معلوم ہوا کہ ثواب تو ہر خرچ کرنے سے ہوتا ہے جو اللہ کی راہ میں کیا جاوے مگر زیادہ ثواب محبوب چیز کے خرچ کرنے سے ہوتا ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اللہ کی راہ میں مال خرچ کرتے وقت کس بات کا خیال رکھناضروریات دین میں سے ہے ؟ : 179: اللہ تعالیٰ کے راستے میں مال خرچ کرتے وقت یہ خیال رکھنا ضروری ہے کہ مال حلال و طیب ہو اور اچھی قسم کا ہو ادنی قسم کا مال چھانٹ چھانٹ کر نہ دیا جائے۔ ” بر “ کے معنوں میں بہت وسعت ہے اس کے مطلب و مفہوم میں انعام ، جنت ، بھلائی، احسان کی وسعت ، سچائی اور طاعت سب آتے ہیں۔ اگر ” بر “ کی نسبت بندہ کی طرف کی جائے تو اس سے مراد اطاعت ، سچائی اور احسان کی وسعت ہوگی اور اس وقت اس کے مقابل فجور اور عقوق کا لفظ آئے گا لیکن جب نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف ہو تو اس سے مراد رحمت ، جنت اور رضائے الٰہی ہوگی اور اس کے مقابل غضب اور…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Sequence of Verses In the previous verse (91), it was said that charity from disbelievers and deniers was not acceptable with Allah. In this verse, believers have been told about acceptable charity and the etiquette governing it. Commentary Let us first understand what بِرّ. : birr means and what it really signifies so that the whole sense of the verse becomes clear in our minds. The literal and real meaning of the word birr is the perfect fulfillment of someone's rights. It is also used in the sense of charity, performance of good deeds and nice conduct. The word: barr and barr بار is used…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 91–92

75. The purpose of this verse is to remove the misconception of the Jews concerning 'righteousness'. The Jews had inherited an elaborate legal code which had accumulated as a result of the casuistry and hair-splitting legalism of their jurists. Their notion of 'righteousness' consisted of outward, formal conformity to that code and they evaluated all day-to-day actions, especially the trivial ones, in terms of conformity to that code. Narrow-mindedness, greed, covetousness, meanness, concealment of the Truth and readiness to barter with it lay beneath this veneer of formal piety. They were,…

Read the full tafseer →