Aal-i-Imraan 3:91

Aal-i-Imraan · from ayah 91

3:91

اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَمَاتُوْا وَهُمْ كُفَّارٌ فَلَنْ یُّقْبَلَ مِنْ اَحَدِهِمْ مِّلْءُ الْاَرْضِ ذَهَبًا وَّلَوِ افْتَدٰی بِهٖ ؕ— اُولٰٓىِٕكَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ وَّمَا لَهُمْ مِّنْ نّٰصِرِیْنَ ۟۠اِنَّ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا وَمَاتُوۡا وَهُمۡ كُفَّارٌ فَلَنۡ يُّقۡبَلَ مِنۡ اَحَدِهِمۡ مِّلۡءُ الۡاَرۡضِ ذَهَبًا وَّلَوِ افۡتَدٰى بِهٖ ؕ اُولٰٓئِكَ لَـهُمۡ عَذَابٌ اَلِـيۡمٌۙ وَّمَا لَـهُمۡ مِّــنۡ نّٰصِــرِيۡنَ

جو لوگ کافر ہوئے اور کفر ہی کی حالت میں مر گئے وہ اگر (نجات حاصل کرنی چاہیں اور) بدلے میں زمین بھر کر سونا دیں تو ہرگز قبول نہ کیا جائے گا ان لوگوں کو دکھ دینے والا عذاب ہو گا اور ان کی کوئی مدد نہیں کرے گا

— Fateh Muhammad Jalandhari

Indeed, those who disbelieve and die while they are disbelievers - never would the [whole] capacity of the earth in gold be accepted from one of them if he would [seek to] ransom himself with it. For those there will be a painful punishment, and they will have no helpers.

— Saheeh International

Juz 3 · Ruku 9 of surah · Ruku 17 of juzع

Read the whole surah · Surah Aal-i-Imraan

All translations of 3:91

یقین رکھو، جن لوگوں نے کفر اختیار کیا اور کفر ہی کی حالت میں جان دی اُن میں سے کوئی اگر اپنے آپ کو سزا سے بچانے کے لیے روئے زمین بھر کر بھی سونا فدیہ میں دے تو اُسے قبول نہ کیا جائے گا ایسے لوگوں کے لیے دردناک سزا تیار ہے اور و ہ اپنا کوئی مددگار نہ پائیں گے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

جو لوگ کافر ہوئے اور کفر ہی کی حالت میں مر گئے وہ اگر (نجات حاصل کرنی چاہیں اور) بدلے میں زمین بھر کر سونا دیں تو ہرگز قبول نہ کیا جائے گا ان لوگوں کو دکھ دینے والا عذاب ہو گا اور ان کی کوئی مدد نہیں کرے گا

— مولانا فتح محمد جالندہری

ہاں جو لوگ کفر کریں اور مرتے دم تک کافر رہیں ان میں سے کوئی اگر زمین بھر سونا دے، گو فدیئے میں ہی ہو تو بھی ہرگز قبول نہ کیا جائے گا۔ یہی لوگ ہیں جن کے لئے تکلیف دینے واﻻ عذاب ہے اور جن کا کوئی مددگار نہیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

جن لوگوں نے کفر اپنایا اور کافر ہونے کی حالت ہی میں مرے، ان میں سے کسی سے پوری زمین بھر کر سونا قبول نہیں کیا جائے گا، خواہ وہ اپنی جان چھڑانے کے لیے اس کی پیشکش ہی کیوں نہ کرے۔ ان کو تو دردناک عذاب ہو کر رہے گا، اور ان کو کسی قسم کے مددگار میسر نہیں آئیں گے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

وہ جو کافر ہوئے اور کافر ہی مرے ان میں کسی سے زمین بھر سونا ہرگز قبول نہ کیا جائے گا اگرچہ اپنی خلاصی کو دے، ان کے لئے دردناک عذاب ہے اور ان کا کوئی یار نہیں۔

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

بیشک جو لوگ کافر ہوئے اور حالتِ کفر میں ہی مر گئے سو ان میں سے کوئی شخص اگر زمین بھر سونا بھی (اپنی نجات کے لئے) معاوضہ میں دینا چاہے تو اس سے ہرگز قبول نہیں کیا جائے گا، انہی لوگوں کے لئے دردناک عذاب ہے اور ان کا کوئی مددگار نہیں ہو سکے گا،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

بیشک وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا اور اس حال میں مر گئے کہ وہ کافر تھے، سو ان کے کسی ایک سے زمین بھرنے کے برابر سونا ہرگز قبول نہ کیا جائے گا، خواہ وہ اسے فدیے میں دے۔ یہ لوگ ہیں جن کے لیے درد ناک عذاب ہے اور ان کے لیے کوئی مدد کرنے والے نہیں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

جو لوگ کافر ہوئے پھر کفر ہی کی حالت میں مرگئے اگر وہ زمین بھر بھی سونا دے کر خود چھوٹ جانا چاہیں تو ان سے ہرگز قبول نہ کیا جائے گا۔ یہی لوگ ہیں جنہیں دکھ دینے والا عذاب ہوگا اور ان کا کوئی مددگار بھی نہ ہوگا

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

بیشک جن لوگوں نے کفر کیا اور اسی کفر کی حالت میں مر گئے اگر وہ زمین بھر سونا بھی فدیہ میں دیں تو قبول نہیں کیا جائے گا۔ ان کے لیے عذاب دردناک ہے اور ان کا کوئی مددگار نہ ہوگا۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

بیشک جن لوگوں نے کفر کیا، اور کفر ہی کی حالت میں انہوں نے جان دے دی، تو ان میں سے کسی سے روئے زمین بھر کر سونا بھی ہرگز قبول نہیں کیا جائے گا، اگرچہ وہ یہ سب اپنے (عذاب کے) بدلے میں دے دے، ایسے لوگوں کیلئے ایک بڑا ہی دردناک عذاب ہے، اور ان کے لئے کوئی (حامی اور) مددگار نہیں ہوگا،

— مولانا اسحاق مدنی

بیشک جن لوگوں نے کفر (اختیار) کیا اور وہ مرگئے اس حال میں کہ وہ کافر تھے سو ان میں سے کسی سے ہرگز نہ قبول کیا جائے گا زمین بھر (بھی) سونا اگرچہ وہ اسے معاوضہ میں دینا چاہے۔ یہی وہ لوگ ہیں جن کے لئے عذاب درد ناک ہے اور جن کے کوئی بھی مددگار نہ ہوں گے

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

یقیناً وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا اور مرگئے اسی حال میں کہ وہ کافر تھے تو ان میں سے کسی سے زمین کی مقدار کے برابر سونا بھی فدیے میں قبول نہیں کیا جائے گا اگر وہ پیش کرسکے یہ وہ لوگ ہیں کہ جن کے لیے دردناک عذاب ہے اور نہیں ہوں گے ان کے لیے کوئی مدد کرنے والے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

یقین رکھو جن لوگوں نے کفر اختیار کیا اور کفر ہی کی حالت میں جان دی ان میں سے کوئی اگر اپنے آپ کو سزا سے بچانے کیلئے زمین بھر سونا بھی فدیہ میں دے تو قبول نہ ہوگا ایسے لوگوں کے لیے درد ناک سزا تیار ہے او وہ اپنا کوئی مددگار نہ پائیں گے

— محترمہ رفعت اعجاز

Truly those who disbelieved and died as unbelievers, not even an earth full of gold will be accepted from them as ransom. For such people there is painful chastisement; and none shall come to their help.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Those who disbelieve and die as disbelievers, even an Earth-full of gold shall never be accepted from any of them, even if one were to offer it as ransom. They are the ones for whom there is a painful punishment, and for them there are no helpers.

— Muhammad Taqi Usmani

Those who disbelieve and die as disbelievers, even an Earth-full of gold shall never be accepted from any of them, even if one were to offer it as ransom. They are the ones for whom there is a painful punishment, and for them there are no helpers.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Verily, those who disbelieved, and died while they were disbelievers, the (whole) earth full of gold will not be accepted from anyone of them if they offered it as a ransom. For them is a painful torment and they will have no helpers.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Lo! those who disbelieve, and die in disbelief, the (whole) earth full of gold would not be accepted from such an one if it were offered as a ransom (for his soul). Theirs will be a painful doom and they will have no helpers.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Indeed, those who disbelieve and die while they are disbelievers - never would the [whole] capacity of the earth in gold be accepted from one of them if he would [seek to] ransom himself with it. For those there will be a painful punishment, and they will have no helpers.

— Saheeh International

From those who have rejected the truth and died in disbelief, no ransom will be accepted even though they may pay a whole earth of gold. They will suffer a painful torment and no one will help them.

— Muhammad Sarwar

Surely, those who disbelieve and die while they are unbelievers, the earth full of gold shall not be accepted from one of them, though he should offer to ransom himself with it, these it is who shall have a painful chastisement, and they shall have no helpers.

— Muhammad Habib Shakir

Verily those who disbelieve and die while they are infidels, not an earthful of gold shall be accepted from any such, were he to offer it as a ransom. These! theirs shall be a torment afflictive, nor shall they have any helpers.

— Abdul Majid Daryabadi

As to those who reject Faith, and die rejecting,- never would be accepted from any such as much gold as the earth contains, though they should offer it for ransom. For such is (in store) a penalty grievous, and they will find no helpers.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 3:91

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 90–91

جب سانس ختم ہونے کو ہوں تو توبہ قبول نہیں ہوگی ایمان کے بعد پھر اسی کفر پر مرنے والوں کو پروردگار عالم ڈرا رہا ہے کہ موت کے وقت تمہاری توبہ قبول نہیں ہوگی جیسے اور جگہ ہے آیت (وَلَيْسَتِ التَّوْبَةُ لِلَّذِيْنَ يَعْمَلُوْنَ السَّـيِّاٰتِ ۚ حَتّٰى اِذَا حَضَرَ اَحَدَھُمُ الْمَوْتُ قَالَ اِنِّىْ تُبْتُ الْــٰٔنَ وَلَا الَّذِيْنَ يَمُوْتُوْنَ وَھُمْ كُفَّارٌ ۭاُولٰۗىِٕكَ اَعْتَدْنَا لَھُمْ عَذَابًا اَلِـــيْمًا) 4۔ النسآء :18) آخر دم تک یعنی موت کے وقت تک گناہوں میں مبتلا رہنے والے موت کو دیکھ کر جو توبہ کریں وہ اللہ کے ہاں قبول نہیں اور یہی یہاں ہے کہ ان کی توبہ ہرگز مقبول نہ ہوگی اور یہی لوگ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 91–92

سورة اٰلِ عِمْرٰن 75 اس سے مقصود ان کی اس غلط فہمی کو دور کرنا ہے جو وہ ”نیکی“ کے بارے میں رکھتے تھے۔ ان کے دماغوں میں نیکی کا بلند سے بلند تصور بس یہ تھا کہ صدیوں کے توارث سے ”تشرُّع“ کی جو ایک خاص ظاہری شکل ان کے ہاں بن گئی تھی اس کا پورا چربہ آدمی اپنی زندگی میں اتار لے اور ان کے علماء کی قانونی موشگافیوں سے جو ایک لمبا چوڑا فقہی نظام بن گیا تھا اس کے مطابق رات دن زندگی کے چھوٹے چھوٹے ضمنی و فروعی معاملات کی ناپ تول کرتا رہے۔ اس تشرُّع کی اوپری سطح سے نیچے بالعموم یہودیوں کے بڑے بڑے ”دیندار“ لوگ تنگ دلی، حرض، بخل، حق پوشی اور حق فروشی کے عیوب چھپائے ہوئے تھے اور رائے عام ان کو نیک سمجھتی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 86–91

خلاصہ تفسیر (اول ان مرتدین کا بیان ہے جو کفر پر قائم رہ کر اس کو ہدایت سمجھتے رہے، چونکہ ان کا اعتقاد یا دعوی یہ تھا کہ اللہ تعالیٰ نے ہم کو اب ہدایت فرمائی، لہذا ان کی مذمت میں اس کی نفی بھی فرماتے ہیں کہ بھلا) اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کو کیسے ہدایت کریں گے جو کافر ہوگئے بعد ایمان لانے کے (دل سے) اور بعد اپنے اس اقرار کے (زبان سے) کہ رسول ﷺ دعوی رسالت میں) سچے ہیں، اور بعد اس کے کہ ان کو واضح دلیل (حقانیت اسلام کے) پہنچ چکے تھے، اور اللہ تعالیٰ ایسے بےڈھنگے لوگوں کو ہدایت نہیں کیا کرتے (یہ مطلب نہیں کہ ایسوں کو کبھی توفیق اسلام کی نہیں دیتے، بلکہ مقصود ان کے اسی دعوی مذکورہ بالا کی نفی کرنا ہے…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 90–91

تفسیر آیت 90 تا 91: ان لوگوں کا بیان جن کی توبہ قبول نہیں ہوتی : یہ ان لوگوں کا بیان ہے جن کی توبہ قبول نہیں ہوگی۔ یہ وہ لوگ ہیں جو ان تمام جرائم کا ارتکاب کرکے، جن کا ذکر اوپر ہوا، ایمان کے بعد کفر میں مبتلا ہوئے۔ پھر اس کفر پر ردے کے بعد ردے چڑھاتے چلے گئے۔ جب وقت آخر آیا تو زبان سے توبہ توبہ کرلی، نہ اپنے جرائم کی اصلاح کی، نہ اپنی حق پوشیوں کا پیغمبر اور اہل ایمان کے سامنے اظہار واعتراف کیا، نہ اللہ کی راہ میں انفاق اور پیغمبر کی حمایت و نصرت سے اپنے گناہ دھونے کی کوشش کی۔ بلکہ جیسا کہ قرآن میں اشارہ ہے، اس غلط آرزو میں مر گئے کہ سَیُغْفَرُ لَنَا، اللہ ہماری ساری غلطیوں کو معاف فرما دے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

1۔ 19 حدیث میں آتا ہے کہ اللہ تعالیٰ قیامت والے دن ایک جہنمی سے کہے گا کہ اگر تیرے پاس دنیا بھر کا سامان ہو تو کیا تو اس عذاب نار کے بدلے اسے دینا پسند کرے گا ؟ وہ کہے گا " ہاں " اللہ تعالیٰ فرمائے گا میں نے دنیا میں تجھ سے اس سے کہیں زیادہ آسان بات کا مطالبہ کیا تھا کہ میرے ساتھ شرک نہ کرنا مگر تو شرک سے باز نہیں آیا (مسند احمد وھکذا اخرجہ البخاری ومسلم۔ ابن کثیر) اس سے معلوم ہوا کہ کافر کے لیے جہنم کا دائمی عذاب ہے اس نے اگر دنیا میں کچھ اچھے کام بھی کیے ہوں گے تو کفر کی وجہ سے وہ بھی ضائع ہی جائیں گے جیسا کہ حدیث میں ہے کہ عبد اللہ بن جدعان کی بابت پوچھا گیا کہ وہ مہمان نواز، غریب پرور تھا…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 91–92

32: پیچھے سورة بقرہ کی آیت نمبر 267 میں یہ حکم گذرا ہے کہ صرف خراب اور ردی قسم کی چیزیں صدقے میں نہ دیا کرو، بلکہ اچھی چیزوں میں اللہ کی راہ میں خرچ کیا کرول۔ اب اس آیت میں مزید آگے بڑھ کر یہ کہا جارہا ہے کہ صرف یہی نہیں کہ اچھی چیزیں اللہ کی خوشنودی کے لیے دو ، بلکہ جن چیزوں سے تمہیں زیادہ محبت ہے، ان کو اس راہ میں نکالو تاکہ صحیح معنی میں اللہ کے لیے قربانی کا مظاہرہ ہو سکے۔ جب یہ آیت نازل ہوئی تو صحابہ کرام نے اپنی سب سے زیادہ پسندیدہ چیزیں صدقہ کرنی شروع کردیں جس کے بہت سے واقعات حدیث اور تفسیر کی کتابوں میں مذکور ہیں۔ ملاحظہ معارف القرآن جلد دوم ص :107 و 108،

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 90–91

یوں سیاق کلام میں اس مسئلے کا فیصلہ کن تصفیہ کردیا جاتا ہے اور اسے تاکیدی الفاظ میں کردیا جاتا ہے جس میں کوئی شک اور شبہ نہیں رہنے دیا جاتا۔ اللہ کے اصولوں کے خلاف انفاق ‘ اور اللہ کے راستے میں نہ خرچ کئے جانے والے اموال کے غیر موثر قرار دینے کے بعد اور یہ فیصلہ کرنے کے بعد کہ دارالعمل کے ختم ہونے کے بعد اگر روئے زمین کو بھر کر بھی انفاق کرے وہ قبول نہ ہوگا ‘ یہاں اللہ تعالیٰ بیان فرمادیتے ہیں کہ وہ کون سا انفاق ہے جو اللہ کو پسند ہے ۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

10 یعنی دنیا کی حکومتوں کی طرح وہاں سونے چاندی کی رشوت نہ چلے گی، وہاں تو صرف دولت ایمان کام دے سکتی ہے۔ فرض کرو ایک کافر کے پاس اگر اتنا ڈھیر سونے کا ہو جس سے ساری زمین بھر جائے اور وہ سب کا سب پُن خیرات کر دے تو خدا کے یہاں اسکی ذرّہ برابر وقعت نہیں نہ آخرت میں یہ عمل کچھ کام دے گا۔ کیونکہ عمل کی روح ایمان ہے جو عمل روح ایمان سے خالی ہو مردہ عمل ہوگا۔ جو آخرت کی ابدی زندگی میں کام نہیں دے سکتا۔ 11 یعنی اگر فرض کرو کافر کے پاس وہاں اتنا مال ہوا اور خود اپنی طرف سے درخواست کر کے بطور فدیہ پیش کرے کہ یہ لے کر مجھے چھوڑ دو تب بھی قبول نہیں کیا جاسکتا اور بدون پیش کئے تو پوچھتا ہی کون ہے۔ دوسری…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 91 اِنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا وَمَاتُوْا وَہُمْ کُفَّارٌ فَلَنْ یُّقْبَلَ مِنْ اَحَدِہِمْ مِّلْءُ الْاَرْضِ ذَہَبًا وَّلَوِ افْتَدٰی بِہٖ ط ظاہر ہے کہ یہ محال ہے ‘ ناممکن ہے ‘ لیکن یہ بات سمجھانے کے لیے کہ وہاں پر کوئی فدیہ نہیں ہے فرمایا کہ اگر کوئی زمین کے حجم کے برابر سونا دے کر بھی چھوٹنا چاہے گا تو نہیں چھوٹ سکے گا۔ یہ وہی بات ہے جو سورة البقرۃ کی آیت 48 اور آیت 123 میں فرمائی گئی کہ اس دن کسی سے کوئی فدیہ نہیں لیا جائے گا۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

80 آخرت میں تو صرف وہ اعمال کام آئیں گے جو کسی نے اپنے لیے آگے بھیجے ہوں گے۔ اعمال کے سوا وہاں نہ مال و دولت کام آئے گا۔ نہ قرابتداری اور نہ سفارش۔ آیت مذکورہ میں جو صورت پیش کی گئی ہے۔ وہ بفرض تسلیم ہے۔ یعنی اگر کسی کافر کے پاس سونے کے ڈھیروں کے ڈھیر حتیٰ کہ زمین بھر سونا ہو تو اس کی آرزو یہی ہوگی کہ سب کچھ دے کر عذاب جہنم سے اپنی جان چھڑا لے۔ مگر وہاں یہ بات ناممکن ہوگی۔ چناچہ صحیح حدیث میں آیا ہے کہ : آپ نے فرمایا کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ سب سے کم عذاب والے دوزخی سے فرمائیں گے اگر تیرے پاس دنیا ومافیہا ہو تو کیا تو اسے اپنے فدیہ میں دے دے گا ؟ وہ کہے گا ہاں اللہ تعالیٰ فرمائے گا۔ جب تو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

197 ۔ (قیامت کے دن) یعنی بالفرض قیامت کے دن کافر مال کا مالک ہو اور اس کے دے ڈالنے پر بھی قادر ہو (آیت) ” ذھبا “۔ ذھب سے سونے کی مخصوص و متعین دھات ہی مراد نہیں۔ بلکہ مراد کسی عزیز سے عزیز اور زیادہ سے زیادہ قیمتی شے کے فدیہ سے ہے۔ الذھب کنایۃ عن اعز الاشیاء (کبیر) دوسرے معنی یہ بھی ہوسکتے ہیں کہ کوئی شخص آج چاہے کہ حالت کفر میں قائم رہ کر روئے زمین کے برابر روپیہ کار خیر میں خرچ کردے اور اس کے معاوضہ میں قیامت میں نجات حاصل کرے تو ایسا ہرگز نہیں ہونے کا۔ ای من مات علی الکفر فلن یقبل منہ خیر ابدا ولوکان قدملء الارض ذھبا فیمایراہ قربۃ “ (ابن کثیر)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 91–92

آیت نمبر 92 تا 101 ترجمہ : جب تک اپنے محبوب مالوں کو خرچ نہ کرو گے (صدقہ نہ کروگے) ہرگز نیکی کا اجر جو کہ جنت ہے حاصل نہ کرسکو گے اور جو چیز بھی تم خرچ کرتے ہو اللہ اس سے بخوبی واقف ہے لہٰذا وہ اس کی جزاء دے گا، اور نازل ہوئی جب یہودیوں نے یہ بات کہی، کہ تم اس بات کا دعویٰ کرتے ہو کہ تم ملت ابراہیمی پر ہو حالانکہ وہ تو اونٹ کا گوشت اور دودھ کھاتے پیتے نہیں تھے۔ (اور تم کھاتے پیتے ہو) ہر کھانا بنی اسرائیل کے لیے حلال تھا بجز اس کے کہ جس کو اسرائیل (یعقوب) نے اپنے اوپر حرام کرلیا تھا اور وہ اونٹ تھا، ایسا اس وقت کیا تھا کہ جب ان کو عرق النساء کا مرض لاحق ہوگیا تھا (نَساء) فتحہ نون کے ساتھ اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

اِنَّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا وَمَاتُوْا وَھُمْ كُفَّارٌ : جن لوگوں نے کفر کیا اور کفر سے توبہ نہ کی اور کفر کی حالت میں ہی مرگئے۔ فَلَنْ يُّقْبَلَ مِنْ اَحَدِھِمْ مِّلْءُ الْاَرْضِ ذَھَبًا : اگر بالفرض انہوں نے زندگی میں زمین بھر سونا خیرات کیا ہوگا تب بھی قیامت کے دن قبول نہیں کیا جائے گا اس سے کم کا تو ذکر ہی کیا ہے کیونکہ ایمان، تمام صدقات و عبادات کے قبول ہونے کی شرط ہے بلکہ عبادت عبادت ہی نہیں ہوتی جب تک ایمان اور خلوص کے ساتھ نیت نہ ہو۔ چونکہ الذین میں شرط کا مفہوم ہے اس لیے اِنّ کی خبر یعنیفَلَنْ یُّقْبَلَ میں فاء (جزائیہ) لائی گئی اس سے یہ بات بھی معلوم ہوگئی کہ کفر کی حالت میں مرنا…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(91) اور جو اسی حالت کفر میں مرگئے تو اگر وہ اپنی جان بچانے کے لیے جتنے وزن کا سونا بھی لے آئیں تو وہ بھی قبول نہیں کیا جائے گا اور ان کے لیے ایسا درد ناک عذاب ہوگا کہ اس کی شدت ان کے دلوں تک سرایت کرجائے گی اور کوئی بھی ان سے اس عذاب خداوندی کو ٹالنے والا نہ ہوگا (آیت) ”ومن یبتغ غیر الاسلام“۔ سے لے کر یہاں تک یہ آیات منافقین میں سے دن آدمیوں کے بارے میں نازل ہوئی ہیں جو دین اسلام سے مرتد ہو کر مدینہ منورہ سے مکہ مکرمہ چلے آئے تھے، چانچہ ان میں بعض مرتد ہونے کی حالت میں مرگئے تھے اور بعض اسی حالت میں مارے گئے تھے اور بعض نے ان میں سے پھر اسلام کو قبول کرلیا تھا۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

اس سے مراد وہ لوگ ہیں جو کفر کی روش اختیار کرتے ہیں اور کفر ہی کی حالت میں فوت ہوجاتے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”اللہ تعالیٰ قیامت کے دن سب سے ہلکے عذاب والے جہنمی سے پوچھے گا : ”اگر دنیا میں جو بھی چیز ہے تمہاری ہوجائے تو کیا تم اسے (اپنی جان بچانے کے لیے) فدیہ میں دے دو گے ؟“ وہ کہے گا : ”ہاں !“ اللہ تعالیٰ فرمائے گا : ”میں نے تم سے اس وقت جب تم آدم کی پشت میں تھے، اس سے بہت زیادہ آسان بات کا تقاضا کیا تھا کہ شرک نہ کرنا تو میں تمہیں دوزخ میں داخل نہیں کروں گا، لیکن تم نہ مانے اور شرک کرتے رہے۔“ [ مسلم، صفات المنافقین، باب طلب الکافر الفداء۔۔ : 2805، عن أنس ؓ ]

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیت نمبر : 91۔ المل، کسرہ کیساتھ ہو تو مراد وہ مقدار ہے جو کسی شے کو بھر دیتی ہے اور المل فتحہ کے ساتھ مصدر ہے تیرا کسی شے کو بھر دینا اور کہا جاتا ہے : اعطنی ملاہ وملایہ وثلاثۃ املایہ۔ اور (آیت) ” ولو افتدی بہ “ میں واؤ کے بارے میں کہا گیا ہے کہ یہ مقحم اور زائدہ ہے، اور معنی یہ ہے (آیت) ” فلن یقبل من احدھم ملء الارض ذھبا ولو افتدی بہ “۔ اور علماء نحو میں سے اہل نظر نے کہا ہے : یہ جائز نہیں ہے کہ واؤ مقحمہ ہو کیونکہ یہ معنی پر دلالت کر رہی ہے، اور آیت کا معنی یہ ہے : سو ان میں سے کسی سے زمین بھر سونا تبرعا قبول نہیں کیا جائے گا اگر وہ اسے بطور فدیہ دے۔ اور (آیت) ” ذھبا “ ، فراء کے قول کے…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

(1) ابن جریروابن ابی حاتم نے حسن (رح) سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” ان الذین کفروا وماتوا وہم کفار فلن یقبل من احدہم ملء الارض ذھبا “ سے مراد ہے کہ ہر کافر سے یعنی یہ مال بطور فدیہ قبول نہیں کیا جائے گا۔ (2) عبد بن حمید، بخاری، مسلم، نسائی، ابن جریر، ابن المنذر، ابن ابی حاتم وابو شیخ وابن مردویہ اور بیہقی نے الاسماء والصفات انس ؓ سے روایت کیا ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا ایک کافر کو قیامت کے دن لایا جائے گا اور اس سے کہا جائے گا اگر تیرے پاس زمین بھر کر سونا ہوتا کیا تو اس کا فدیہ دیتا ؟ وہ کہے گا ہاں ! پھر اس سے کہا جائے گا کہ دنیاوی زندگی میں تجھ سے ایسی چیز کا سوال کیا گیا تھا جو اس سے زیادہ…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[اِنَّ الَّذِیْنَ : بیشک جنہوں نے ] [کَفَرُوْا : کفر کیا ] [وَمَاتُوْا : اور وہ مرے ] [وَ : اس حال میں کہ ] [ہُمْ : وہ ] [کُفَّارٌ : کافر (ہی) تھے ] [فَلَنْ یُّقْبَلَ : تو ہرگز قبول نہیں کیا جائے گا ] [مِنْ اَحَدِہِمْ : ان کے ایک سے (بھی) ] [مِّلْئُ الْاَرْضِ : زمین کے جتنا ] [ذَہَبًا : سونا ] [وَّ : اور ] [لَوِ : اگر (یعنی خواہ) ] [افْتَدٰی : وہ خود کو ] [چھڑائے دے کر ] [بِہٖ : اسے ] [اُولٰٓئِکَ : یہ لوگ ہیں ] [لَہُمْ : جن کے لیے ] [عَذَابٌ اَلِیْمٌ : ایک دردناک عذاب ہے ] [وَّمَا لَہُمْ : اور جن کے لیے نہیں ہے ] [مِّنْ نّٰصِرِیْنَ : کوئی بھی مدد کرنے والا ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

آخر میں فرمایا : (اِنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا وَ مَاتُوْا وَ ھُمْ کُفَّارٌ) (الآیۃ) جن لوگوں نے کفراختیار کیا پھر حالت کفر ہی میں مرگئے تو قیامت کے دن ان سے ان کی جان کا بدلہ قبول نہ کیا جائے گا تاکہ مال دے کر چھوٹ جائیں۔ وہاں کسی کے پاس کچھ بھی نہ ہوگا، لیکن اگر بالفرض ہو بھی اور وہ دینا چاہے اور اتنا سونا دے جس سے زمین بھر جائے تو بھی قبول نہ ہوگا۔ دائمی عذاب ہی بھگتنا ہوگا اور وہاں کوئی مددگار نہ ہوگا۔ سورة مائدہ میں فرمایا (اِنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا لَوْ اَنَّ لَھُمْ مَّا فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا وَّ مِثْلَہٗ مَعَہٗ لِیَفْتَدُوْا بِہٖ مِنْ عَذَابِ یَوْمِ الْقِیٰمَۃِ مَا تُقُبِّلَ مِنْھُمْ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 83–91

خلاصۂ حقیقت اسلام وعدم قبول غیر دین اسلام قال تعالیٰ افغیر دین اللہ یبغون۔۔ الی۔۔ وما لھم من نصرین توحید اور رسالت کے بعد دین اسلام کی حقیقت کا خلاصہ بیان فرماتے ہیں کہ اسلام اللہ کی اطاعت اور فرمانبرداری کا نام ہے اور یہی تمام انبیاء کا دین ہے اور اسلام ہی تمام کائنات کا دین ہے اور محمد رسول اللہ ﷺ اسی دین کی دعوت دینے کے لیے مبعوث ہوئے ہیں جس کی طرف تمام انبیاء دعوت دیتے چلے آئے آخرت کی نجات کا دارومدار یہی دین اسلام ہے اس کے سوا اللہ کے یہاں کوئی دین قبول نہیں کیا جائے گا۔ چناچہ فرماتے ہیں۔ کیا یہ لوگ آنے والے رسول پر ایمان لانے اور اس کی نصرت کا پختہ عہد اور پیمان کرنے کے بعد بھی اللہ کے…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 90–91

129 پہلے ان لوگوں کا ذکر تھا۔ جنہوں نے ارتداد اور کفر بعد الایمان کے بعد توبہ کرلی اور صلاح وتقویٰ کا راستہ اختیار کرلیا۔ یہاں ان لوگوں کا ذکر فرمایا جنہوں نے ایمان کے بعد کفر کیا اور پھر دیدہ و دانستہ کفر پر ڈٹے رہے۔ یہاں تک کہ کفر ان کے دلوں میں راسخ ہوگیا تو ایسے لوگوں کے دلوں پر چونکہ مہر جباریت لگ جاتی ہے اس لیے ان سے توبہ کی توفیق چھین لی جاتی ہے۔ اور انہیں توبہ کی کبھی ہمت نہیں ہوتی۔ یہاں سلب ہمت ہی کو عدم قبول توبہ سے تعبیر کیا گیا ہے۔ یہ مطلب ہرگز نہیں کہ اگر وہ توبہ کریں تو ان کی توبہ قبول نہیں ہوگی۔ کیونکہ توبہ بڑے سے بڑے مجرم کی بھی عنداللہ مقبول ہے۔ جب تک وہ سکرات الموت میں داخل…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 86–91

ربط آیات : گذشتہ درس میں اللہ تعالیٰ نے حنیفیت کی تشریح بیان فرمائی تھی۔ اور اسلام کی حقانیت کا تذکرہ کیا تھا۔ اور فرمایا تھا کہ اللہ کے ہاں اسلام کے سوا کوئی دین قابل قبول نہیں ہے۔ جو کوئی اسلام کے علاوہ کسی دوسرے دین کا طالب ہوگا ، اس سے وہ چیز قبول نہیں کی جائے گی اور ایسا شخص ہرگز کامیاب نہیں ہوگا۔ خاص طور پر آخرت میں تو وہ جہنم کا مستحق ہو کر سراسر نقصان اٹھائے گا۔ اب آج کے درس میں اسلام کے بعد کفر کرنے والوں کی مذمت بیان کی گئی ہے۔ اور واضح کیا گیا ہے۔ کہ اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کو ہدایت کی توفیق نہیں دے گا۔ اور نہ ہی ان کی توبہ قبول کی جائیگی وہ ہمیشہ جہنم میں رہیں گے۔ آخرت کا مدار…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

اِنَّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا وَمَاتُوْا وَھُمْ كُفَّارٌ فَلَنْ يُّقْبَلَ مِنْ اَحَدِھِمْ مِّلْءُ الْاَرْضِ ذَھَبًا وَّلَوِ افْتَدٰى بِہٖ۝ 0 ۭ اُولٰۗىِٕكَ لَھُمْ عَذَابٌ اَلِيْمٌ وَّمَا لَھُمْ مِّنْ نّٰصِرِيْنَ۝ 91 ۧ موت أنواع الموت بحسب أنواع الحیاة : فالأوّل : ما هو بإزاء القوَّة النامية الموجودة في الإنسان والحیوانات والنّبات . نحو قوله تعالی: يُحْيِ الْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِها[ الروم/ 19] ، وَأَحْيَيْنا بِهِ بَلْدَةً مَيْتاً [ ق/ 11] . الثاني : زوال القوّة الحاسَّة . قال : يا لَيْتَنِي مِتُّ قَبْلَ هذا [ مریم/ 23] ، أَإِذا ما مِتُّ لَسَوْفَ أُخْرَجُ حَيًّا [ مریم/ 66] . الثالث : زوال القوَّة…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 86–91

ترکیب : کیف حال ہے اور عامل اس میں یہدی ہے شہدوا حال ہے ضمیر کفروا سے اولئک مبتداء جزاء ھم مبتدا ان اور اس کا اسم و خبر مجموعہ خبر پھر یہ تمام جملہ مبتداء اول کی خبر ہوا خلدین حال ہے ضمیر علیہم سے اور عامل اس میں جاریا اس کا متعلق ہے ذھبًا تمیز ہے ملْ سے اور بہ کی ضمیر اسی طرف پھرتی ہے۔ تفسیر : جبکہ خدا تعالیٰ منکروں کے لئے ہر قسم کے بیان شافی ذکر فرما چکا اور پھر بھی وہ ہدایت پر نہ آئے تو جس طرح طبیب علاج کرکے جب صحت نہیں دیکھتا تو یہی کہتا ہے کہ تم کو کس طرح تندرستی ہو تم ایسی ایسی بدپرہیزی کرتے اور کرچکے ہو اسی طرح خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ ایسے تیرہ باطن اور سیاہ قلب لوگوں کو کیونکر ہدایت…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 90–91

اِنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا بَعْدَ اِیْمَانِہِمْ ثُمَّ ازْدَادُوْا کُفْرًا لَّنْ تُقْبَلَ تَوْبَتُہُمْ ج وَاُوْلٰٓئِکَ ہُمُ الضَّآلُّوْنَ ۔ اِنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا وَمَاتُوْا وَہُمْ کُفَّارٌ فَلَنْ یُّقْبَلَ مِنْ اَحَدِہِمْ مِّلْ ئُ الْاَرْضِ ذَہَبًا وَّلَوِفْتَدٰی بِہٖ ط اُوْلٰٓئِکَ لَہُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ لا وَّمَا لَہُمْ مِّنْ نّٰصِرِیْنَ ۔ ع (جن لوگوں نے کفر کیا اپنے ایمان کے بعد اور اپنے کفر میں بڑھتے گئے ان کی توبہ ہرگز قبول نہیں کی جائے گی، یہی لوگ حقیقی گمراہ ہیں۔ بیشک جن لوگوں نے کفر کیا اور اسی کفر کی حالت میں مرگئے اگر وہ زمین بھر سونا فدیہ میں دے دیں تو ہرگز ان سے قبول نہیں کیا…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 91–92

فہم القرآن ربط کلام : کفر اللہ تعالیٰ سے دوری اور آخرت میں ذلّت کا باعث ہوگا۔ صدقہ اللہ تعالیٰ کی قربت اور آخرت میں نجات کا ذریعہ ہے۔ ” بِرّ “ ایسی نیکی کو کہتے ہیں جسے اس کے پورے تقاضوں کے ساتھ ادا کیا جائے۔ لہٰذاحکم ہوا ہے کہ اے لوگو ! تم اس وقت تک صدقے کے حق اور نیکی کی روح کو نہیں پہنچ سکتے جب تک اللہ کی راہ میں وہ چیز خرچ نہ کرو جس کے ساتھ تم انتہائی محبت کرتے ہو۔ ” بِرّ “ کا معنی جنت بھی کیا گیا ہے۔ (تفسیر کبیر رازی) دوسرے الفاظ میں تم جنت کو نہیں پاسکتے جب تک اپنی محبوب چیز اللہ کی راہ میں قربان نہ کرو۔ یہاں لطیف پیرائے میں یہودیوں کے کھوکھلے دعو وں اور ان کے بخل کی نشان دہی کرنے کے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

کفر پر موت قبولیت فدیہ سے مانع ہے : 91: اِنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا وَمَا تُوْا وَ ھُمْ کُفَّارٌ فَلَنْ یُّقْبَلَ مِنْ اَحَدِ ھِمْ مِّلْ ئُ الْاَرْضِ ذَھَبًا وَّلَوِ افْتَدٰی بِہٖ اُولٰٓپکَ لَھُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ وَّ مَالَہُمْ مِّنْ نّٰصِرِیْنَ ۔ (بیشک جن لوگوں نے کفر کیا اور کفر کی حالت میں انکی موت واقع ہوئی پس ہرگز ان میں سے کسی سے بھی زمین بھر سونا قبول نہ کیا جائیگا) فَلَنْ یُّقْبَلَکی فَا اس بات کو ظاہر کر رہی ہے کہ یہ کلام شرط و جزاء والا ہے۔ اور قبولیت فدیہ کے ممنوع ہونے کا سبب کفر پر موت کا آنا ہے اور شروع کلام میں فا کو چھوڑدیا۔ یہ ظاہر کرنے کیلئے کہ یہ کلام مبتداء و خبر ہے اور شرط…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

(تفسیر) 91۔ـ: (آیت)” ان الذین کفروا وما توا وھم کفار فلن یقبل من احدھم ملء الارض “۔ جس قدر مشرق تا مغرب زمین بھر جائے اتنی بقدر وہ سونے لے آویں تو قبول نہیں کیا جائے گا ، ” ذھبا “ منصوب تفسیر کی بناء پر ہے ، جیسا کہ ” عشرون درھما “ منصوب ہے ، (آیت)” ولوافتدی بہ “۔ اگر وہ اس کے عوض سونا دے بھی دے واؤ زائدہ ہے ’(آیت)” اولئک لھم عذاب الیم وما لھم من ناصرین “۔ حضرت شعبہ ابی عمران سے روایت کرتے ہیں فرماتے ہیں کہ میں نے انس بن مالک ؓ سے سنا وہ آپ ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ قیامت کے دن سب سے کم تر عذاب والے دوزخی سے اللہ فرمائے گا اگر تیرے پاس روئے زمین کی تمام چیزیں ہوں تو وہ…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 86–91

(86 ۔ 91) ۔ نسائی اور صحیح ابن حبان اور مستدرک حاکم میں حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ جس کو حاکم نے صحیح کہا ہے۔ حاصل اس روایت کا یہ ہے کہ حارث بن سوید انصاری اور طعمہ بن ابریق وغیرہ سب بارہ شخص اسلام لانے کے بعد مرتد ہوگئے اور مدینہ سے مکہ کو چلے گئے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے اس آیت کا ٹکڑا ولا ھم ینظرون تک نازل فرمایا پھر حارث بن سوید کو اپنے مرتد ہونے پر بڑا افسوس ہوا تو انہوں نے انصار سے جو ان کی قوم کے مدینہ میں تھے یہ پیغام کہلا بھیجا کہ وہ آنحضرت ﷺ سے دریافت کریں کہ ہم لوگ کی توبہ قبول ہوسکتی ہے اس پر اللہ تعالیٰ نے دوسرا ٹکڑا آیت کا الا الذین تابوا نازل فرمایا۔ اس پر حارث بن سوید…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 89–91

اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ جو شخص ایمان لانے کے بعد کفر کا ارتکاب کرے۔ پھر گمراہی میں آگے ہی آگے بڑھتا جائے ‘ ہایت کو چھوڑے رکھے ‘ ایسے شخص کی توبہ قبول نہیں ہوتی۔ یعنی اسے توبہ کی توفیق ہی نہیں ملتی جو قبول ہوسکے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ انہیں ڈھیل دیتا ہے تو وہ گمراہی میں ٹامک ٹوئیاں مارتے رہتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ ” اور ہم ان کے دلوں اور نگاہوں کو پھیر دیں گے۔ جیسے یہ لوگ اس پر پہلی دفعہ ایمان نہیں لائے “ اور فرمایا : ” جب وہ ٹیڑھے ہوگئے تو اللہ نے بھی ان کے دل ٹیڑھے کردیے “ گناہوں سے گناہ پیدا ہوتے ہیں۔ خاص طور پر جو شخص سیدھا راستہ چھوڑ دے اور کفر عظیم کا ارتکاب کرے ‘ حالانکہ اس پر…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 79–92

راہ خدا میں محبوب چیز قربان کرنا قول باری ہے (لن تنالوالبرحتی تنفقوامما تحبون، تم نیکی کو نہیں پہنچ سکتے جب تک کہ اپنی وہ چیزیں (اللہ کی راہ میں) خرچ نہ کرو جنہیں تم عزیزرکھتے ہو) البر کے معنی دواقوال ہیں اول جنت عمروبن میمون اور سدی سے یہی منقول ہے۔ دوم نیکی کا کام جس کی بناپربندے اجر کے مستحق قرارپاتے ہیں نفقہ سے مراد اللہ کی راہ میں صدقہ وغیرہ کی صورت میں پسند یدہ چیزیں دے دینا ہے۔ یزیدبن ہارون نے حمید سے، انہوں نے حضرت انس ؓ سے روایت کی ہے کہ جب درج بالاآیت نازل ہوئی نیزیہ آیت (من ذا الذی یقرض اللہ قرضا حسنا، کون ہے جو اللہ تعالیٰ کو قرض حسنہ دے) تو حضرت ابوطلحہ ؓ نے حضور ﷺ سے عرض کیا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 90–93

184 پکے اور پورے گمراہوں کی نشاندہی ۔ والعیاذ باللہ : سو اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ اپنے کفر پر اڑنے والے پکے اور پورے گمراہ ہیں کہ کفر ایسے لوگوں کے دلوں میں گھر کرچکا ہے۔ اور اس کی نحوست ان کے رگ و ریشے میں سرایت کرگئی ہے، جس کے باعث ان کو ایسی سچی توبہ کی توفیق نصیب ہی نہیں ہوتی، جو شرف قبولیت پاس کے۔ اور مرتے وقت اگر تو بہ کرینگے بھی تو وہ قبول نہیں ہوگی۔ کیونکہ وہ کشف حقائق کے بعد کی توبہ ہوگی، جو کہ معتبر نہیں۔ اس لئے کہ مطلوب ایمان بالغیب ہے اور موت کے وقت کا وہ ایمان، ایمان بالغیب نہیں ہوگا بلکہ ایمان بالشہود و بالمشاہدہ ہوگا۔ اس لئے وہ توبہ قبول نہیں ہوگی، جیسا کہ سورة نساء میں…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 90–91

ناقابل قبول توبہ فدیہ اور سزا تشریح : ان آیات میں توبہ کا ایک اور رخ بیان کیا گیا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ یہود و نصار ٰی جانتے تھے کہ یہی آخری نبی ہیں مگر آخر تک ایمان نہ لائے، بلکہ اپنے غلط عقیدوں کی وجہ سے لوگوں کو راہ راست سے بھٹکانے کی پوری کوشش کرتے رہے اور دین اسلام کے بارے میں غلط رویہ اختیار کرتے رہے لیکن جب موت کو قریب دیکھا تو توبہ کرنے لگے۔ اللہ رب العزت فرماتے ہیں کہ اس وقت کی توبہ ہرگز قبول نہ ہوگی۔ پھر ان لوگوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جن لوگوں نے کفر کی راہیں اختیار کیں اور پھر ایمان قبول کئے بغیر کفر کی ہی حالت میں فوت ہوگئے تو ان کو معلوم ہونا چاہئے کہ اس دنیا میں جو…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 81–91

آیات 81- 91 اسرارومعارف واذاخذ اللہ میثاق النبیین…………………وھوفی الاخرۃ من الخسرین۔ اور یہ نبی جس کا انکار کرنے کے لئے یہود طرح طرح کی حیلہ جو ئیاں کر رہے ہیں یہ تو ایسی عظیم ہستی ہے کہ تمام نوع انسانی کا نبی ہے۔ نہ صرف نبی الامت ہے بلکہ نبی الانبیاء اور امام المرسلین ہے اس کی شان تو یہ ہے کہ اللہ نے تمام انبیاء سے عہد لیا تھا کہ جب تمہیں کتاب و حکمت عطا ہو یعنی تم بحیثیت نبی کے مبعوث کئے جائو۔ یاد رہے کہ کتاب کے ساتھ ہر جگہ حکمت اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ کتاب الٰہیہ کے معانی بھی من جانب اللہ حکمت کے نام سے انبیاء کو تعلیم کئے جاتے ہیں اور کوئی ایسا معنی جو پیغمبر کے ارشاد کردہ معانی کے مطابق نہ…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 6 اس سے مراد وہ لوگ ہیں جو کفر کی روش اختیار کرتے اور کفر کی حالت میں جان دیتے ہیں۔ حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا : کے قیامت کے روز جہنمی سے کہا جائے گا کہ اگر دنیا کی ہر چیز تمہاری ہوجائے تو کیا تم نجات حاصل کرنے کے لیے اسے فدیہ میں دے دوگے وہ کہے گا ہاں اس پر اللہ تعالیٰ فرمائے گا میں نے تم سے ایک نہایت آسان چیز کا مطالبہ کیا تھا، میں نے تمہارے باپ آدم ( علیہ السلام) کی پیٹھ میں تم سے یہ عہد لیا تھا کہ میرے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھراو گے تم شرک کرنے سے باز نہ آئے۔ (ابن کثیر بحوالہ صحیحین) اس یہ بھی ثابت ہو تو ہے کہ کفر کی حالت میں کافر کی کوئی نیکی صدقہ و خیرات قبول نہیں ہوتی…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(3:91) مل۔ وہ مقدرا جس سے برتن بھر جائے ۔ جمع املائ۔ مل الارض۔ مضاف مضاف الیہ اتنی مقدار جو زمین بھر میں سما سکے۔ افتدی۔ اس نے اپنے چھڑانے کا بدلہ (فدیہ) دیا۔ ماضی واحد مذکر غائب افتداء (افتعال) کے وزن پر۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 81–91

لغات القرآن آیت نمبر 81 تا 91 لتومنن (البتہ تم ضرور ایمان لاؤگے) لن یقبل (ہرگز قبول نہ کیا جائے گا) لتنصرن (البتہ تم ضرور مدد کروگے) لایخفف (کمی نہ کی جائے گی) اصری (میرا بوجھ) لن تقبل (ہرگز قبول نہ کی جائے گی) یبغون (وہ تلاش کرتے ہیں) الضآلون (گمراہ ہونے والے) طوع (خوشی سے) ملء الارض (زمین بھر) کرہ (زبردستی) لوافتدٰی (اگر وہ بدلہ میں دے) یبتغ (تلاش کرے گا) ۔ تشریح : آیت نمبر 81 تا 91 پچھلی آیات میں آپ نے ملاحظہ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے واضح الفاظ میں اس کی تردید کردی ہے کہ انبیاء کرام اپنا بندہ بنانے نہیں آتے بلکہ سچی بات یہ ہے کہ انبیاء کرام لوگوں کو اللہ والا بنانے آتے ہیں۔ ان آیات میں یہ…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 89–91

توبہ کس وقت قبول ہوتی ہے شان نزول : اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ جس طرح ہر چیز کا اللہ تعالیٰ کے ہاں وقت مقرر ہے اسی طرح توبہ کا بھی وقت مقرر ہے۔ وہ وقت یہ ہے مثلاً آدمی ایسی مجبوری اور اضطراری کی حالت میں شرک، کفر یا گناہ کبیرہ سے توبہ کرے جیسے فرعون نے بلکل ڈوبتے وقت توبہ کی اور قبول نہیں ہوئی۔ یا مغرب سے آفتاب نکلنے کے وقت سب لوگ توبہ کریں گے تو ایسی توبہ قبول نہ ہوگی، بلکہ وہ توبہ قبول ہوگی کہ ایسے وقت توبہ کرے کہ اپنی موت کا ابھی اس کو پورا یقین ہو کر اس کی حالت اضطرار کی نہ ہوئی ہو، اپنی زیست کا اس کو بھروسہ ہو۔ اور اس زیست کے سوچے ہوئے زمانہ میں اس کا گناہ سے باز رہنے اور آئندہ نیک کام کرنے…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 86–92

[33] یہ آیت یہود کے بارے میں نازل ہوئی نبی ﷺ کے عہد میں عرب کے یہودی علماء جان چکے تھے اور ان کی زبانوں تک سے اس امر کی شہادت ہوچکی تھی کہ آپ ﷺ نبی برحق ہیں اور جو تعلیم آپ ﷺ لائے ہیں وہ وہی تعلیم ہے جو پچھلے انبیاء (علیہ السلام) لاتے رہے ہیں۔ اس کے بعد انہوں نے جو کچھ کیا وہ محض تعصب، ضد اور دشمنی حق کی اس پرانی عادت کا نتیجہ تھا جس کے وہ صدیوں سے مجرم چلے آ رہے تھے۔ اس کا اندازہ اس سلسلے کے ایک دلچسپ واقعہ سے ہوسکتا ہے۔ سیدہ صفیہ (زوجہ رسول اللہ ﷺ یہ روداد بیان کرتی ہیں کہ جب رسول اللہ ﷺ مدینہ آئے اور قبا میں قیام فرمایا تو میرے والد اور چچا منہ اندھیرے ملاقات کے لئے گئے تو غروب آفتاب کا…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 91–92

ایثار : (ف 1) محبت کا اشتقاق حبۃ سے کیا گیا ہے جس کے معنی سودائے قلب کے ہیں ، اس لئے اس آیت کے یہ معنی ہیں کہ کدا کی راہ میں وہ چیزیں دو جنہیں تم دل کی گہرائیوں سے چاہتے اور عزیز رکھتے ہو یہی وجہ ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو صحابہ ؓ اجمعین نے مختلف طریق ایثار کے استعمال کئے ، حضرت ابو طلحہ ؓ نے فرمایا یا رسول اللہ ﷺ مجھے ہر برحا زیادہ پسند ہے ، اسے قبول فرمائیے ، عبداللہ بن عمر ؓ نے ارشاد فرمایا کہ مجھے میری لونڈی مرجانہ بہت مرغوب ہے ، اسے آزاد کئے دیتا ہوں اور زید بن حارثہ ؓ نے کہا ، مجھے اپنے گھوڑے سبل سے عشق ہے ، یہ مجاہدین کے لئے صدقہ ہے ، گویا جو جن کے پاس تھا وہ خدا کی راہ میں دے دیا…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

ف 2۔ بلاشبہ جن لوگوں نے حق کو تسلیم کرنے اور ماننے کے بعد کفر کا رویہ اختیار کیا پھر کفر ہی میں بڑھتے رہے اور کفر میں زیادہ ہوتے چلے گئے تو ایسے لوگوں کی توبہ ہرگز قبول نہ ہوگی اور یہ لوگ پرلے درجے کے گمراہ ہیں جن لوگوں نے کفر کی روش اختیار کی اور وہ کفر ہی کی حالت میں مر بھی گئے تو یقین جانو کہ ان لوگوں میں سے کسی کا زمین بھر کر سونا بھی قبول نہ کیا جائے گا اگرچہ وہ اپنے فدیہ میں اس قدر سونا دینا بھی چاہے اور ان لوگوں کو درد ناک عذاب ہوگا اور ان کا کوئی حامی و مدد گار نہ ہوگا۔ ( تیسیر) ان لوگوں سے مراد وہی بارہ مرتدین ہیں جن میں سے شاید حارث نے تو پھر نادم ہو کر اسلام قبول کرلیا تھا اور صحیح…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 91–92

ف 1۔ آیت سے معلوم ہوا کہ ثواب تو ہر خرچ کرنے سے ہوتا ہے جو اللہ کی راہ میں کیا جاوے مگر زیادہ ثواب محبوب چیز کے خرچ کرنے سے ہوتا ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

کفر پر قائم رہنے والے جب دارالعمل سے نکل گئے تو اب ان کے ایمان کی کوئی صورت باقی نہ رہی : 177: ” جن لوگوں نے کفر کی راہ اختیار کی اور مرتے دم تک کفر پر جمے رہے۔ “ ان کی حالت کا بیان ہورہا ہے اور بتایا جارہا ہے کہ یہ دنیا دارالعمل ہے اور آخرت دارالجزاء۔ دارالعمل یعنی دنیا میں جو کچھ انسان کرے گا آخرت میں اسکا بدلہ پائے گا۔ دارالاخرة، دارالعمل نہیں اس لیے اس میں پہنچ کر کوئی ہزار حیلے کرنے کہ اب اس کے لیے کوئی عمل کی صورت نکل آئے اور اب وہ اچھے اعمال کرے تو اس کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا یہ اس احکم الحاکمین کا فیصلہ ہے جو نہ اپنے فیصلہ کو بدلتا ہے اور نہ ہی بدلنے دیتا ہے۔ فرمایا جارہا ہے کہ فرض…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 86–91

Commentary The removal of a doubt: On a superficial view of the verse كَيْفَ يَهْدِي اللَّـهُ : 'How shall Allah give guidance...' (86), there emerges a doubt that whoever turns an apostate receives no guidance afterwards, although, the fact is contrary to this. There are many who, after having become apostates, re-embrace the faith and become recipients of guidance. The answer is that the withholding of guidance mentioned here is in accordance with common usage. For instance, some criminal when punished by a certain ruler may say, 'I have been given a special treatment by the ruler with his…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 91–92

75. The purpose of this verse is to remove the misconception of the Jews concerning 'righteousness'. The Jews had inherited an elaborate legal code which had accumulated as a result of the casuistry and hair-splitting legalism of their jurists. Their notion of 'righteousness' consisted of outward, formal conformity to that code and they evaluated all day-to-day actions, especially the trivial ones, in terms of conformity to that code. Narrow-mindedness, greed, covetousness, meanness, concealment of the Truth and readiness to barter with it lay beneath this veneer of formal piety. They were,…

Read the full tafseer →