Aal-i-Imraan 3:90

Aal-i-Imraan · from ayah 90

3:90

اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بَعْدَ اِیْمَانِهِمْ ثُمَّ ازْدَادُوْا كُفْرًا لَّنْ تُقْبَلَ تَوْبَتُهُمْ ۚ— وَاُولٰٓىِٕكَ هُمُ الضَّآلُّوْنَ ۟اِنَّ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا بَعۡدَ اِيۡمَانِهِمۡ ثُمَّ ازۡدَادُوۡا كُفۡرًا لَّنۡ تُقۡبَلَ تَوۡبَتُهُمۡ‌ۚ وَاُولٰٓئِكَ هُمُ الضَّآ لُّوۡنَ

جو لوگ ایمان لانے کے بعد کافر ہو گئے پھر کفر میں بڑھتے گئے ایسوں کی توبہ ہرگز قبول نہ ہوگی اور یہ لوگ گمراہ ہیں

— Fateh Muhammad Jalandhari

Indeed, those who reject the message after their belief and then increase in disbelief - never will their [claimed] repentance be accepted, and they are the ones astray.

— Saheeh International

Juz 3 · Ruku 9 of surah · Ruku 17 of juz

Read the whole surah · Surah Aal-i-Imraan

All translations of 3:90

مگر جن لوگوں نے ایمان لانے کے بعد کفر اختیار کیا، پھر اپنے کفر میں بڑھتے چلے گئے ان کی توبہ بھی قبول نہ ہوگی، ایسے لوگ تو پکے گمراہ ہیں

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

جو لوگ ایمان لانے کے بعد کافر ہو گئے پھر کفر میں بڑھتے گئے ایسوں کی توبہ ہرگز قبول نہ ہوگی اور یہ لوگ گمراہ ہیں

— مولانا فتح محمد جالندہری

بےشک جو لوگ اپنے ایمان ﻻنے کے بعد کفر کریں پھر کفر میں بڑھ جائیں، ان کی توبہ ہرگز ہرگز قبول نہ کی جائے گی، یہی گمراه لوگ ہیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

(اس کے برخلاف) جن لوگوں نے ایمان لانے کے بعد کفر اختیار کیا، پھر کفر میں بڑھتے ہی چلے گئے، ان کی توبہ ہرگز قبول نہ ہوگی۔ ایسے لوگ راستے سے بالکل ہی بھٹک چکے ہیں۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

بیشک وہ جو ایمان لاکر کافر ہوئے پھر اور کفر میں بڑھے ان کی توبہ ہرگز قبول نہ ہوگی اور وہی ہیں بہکے ہوئے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

بیشک جن لوگوں نے اپنے ایمان کے بعد کفر کیا پھر وہ کفر میں بڑھتے گئے ان کی توبہ ہرگز قبول نہیں کی جائے گے، اور وہی لوگ گمراہ ہیں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

بیشک وہ لوگ جنھوں نے اپنے ایمان کے بعد کفر کیا، پھر کفر میں بڑھ گئے، ان کی توبہ ہرگز قبول نہ کی جائے گی اور وہی لوگ گمراہ ہیں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

مگر جن لوگوں نے ایمان لانے کے بعد کفر اختیار کیا پھر اس کفر میں بڑھتے ہی گئے، ان کی توبہ ہرگز قبول نہ کی جائے گی اور حقیقتاً ایسے ہی لوگ گمراہ ہیں

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

جن لوگوں نے کفر کیا اپنے ایمان کے بعد اور اپنے کفر میں بڑھتے گئے ان کی توبہ ہرگز قبول نہیں ہوگی اور یہی لوگ اصلی گمراہ ہیں۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

بیشک جن لوگوں نے کفر کیا اپنے ایمان کے بعد، پھر وہ اپنے کفر ہی میں بڑھتے چلے گیے، تو ان کی توبہ ہرگز قبول نہیں کی جائے گی، اور ایسے ہی لوگ ہیں پکے (اور پورے) گمراہ

— مولانا اسحاق مدنی

بیشک جن لوگوں نے بعد اپنے ایمان (لانے) کے کفر اختیار کیا پھر کفر میں پڑے رہے ان کی توبہ ہرگز قبول نہ کی جائے گی۔ یہی لوگ تو گمراہ ہیں۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

بیشک جن لوگوں نے کفر کیا اپنے ایمان کے بعد پھر وہ اپنے کفر میں بڑھتے چلے گئے ان کی توبہ کبھی قبول نہیں ہوگی اور وہ تو یقیناً گمراہوں میں سے ہیں۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

مگر جن لوگوں نے ایمان لانے کے بعد کفر اختیار کیا، پھر اپنے کفر میں بڑھتے چلے گئے ان کی توبہ بھی قبول نہ ہوگی، ایسے لوگ تو پکے گمراہ ہیں۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Those who relieved and have har-dened in their disbelief after once believing, their (pretence to) repentance shall not be accepted. Indeed such men have altogether strayed.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Those who disbelieve after having accepted Faith and then increase in disbelief, their repentance shall never be accepted. They are the ones who have lost the right path.

— Muhammad Taqi Usmani

Those who disbelieve after having accepted Faith and then increase in disbelief, their repentance shall never be accepted. They are the ones who have lost the right path.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Verily, those who disbelieved after their belief and then went on increasing in their disbelief never will their repentance be accepted. And they are those who are astray.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Lo! those who disbelieve after their (profession of) belief, and afterward grow violent in disbelief: their repentance will not be accepted. And such are those who are astray.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Indeed, those who reject the message after their belief and then increase in disbelief - never will their [claimed] repentance be accepted, and they are the ones astray.

— Saheeh International

Those who disbelieve, after having been believers and increase their disbelief, are lost and their repentance will not be accepted.

— Muhammad Sarwar

Surely, those who disbelieve after their believing, then increase in unbelief, their repentance shall not be accepted, and these are they that go astray.

— Muhammad Habib Shakir

Verily those who disbelieve after they have believed and thereafter wax in infidelity, their- repentance shall by no means be accepted. These! they are the straying ones.

— Abdul Majid Daryabadi

But those who reject Faith after they accepted it, and then go on adding to their defiance of Faith,- never will their repentance be accepted; for they are those who have (of set purpose) gone astray.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 3:90

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 90–91

جب سانس ختم ہونے کو ہوں تو توبہ قبول نہیں ہوگی ایمان کے بعد پھر اسی کفر پر مرنے والوں کو پروردگار عالم ڈرا رہا ہے کہ موت کے وقت تمہاری توبہ قبول نہیں ہوگی جیسے اور جگہ ہے آیت (وَلَيْسَتِ التَّوْبَةُ لِلَّذِيْنَ يَعْمَلُوْنَ السَّـيِّاٰتِ ۚ حَتّٰى اِذَا حَضَرَ اَحَدَھُمُ الْمَوْتُ قَالَ اِنِّىْ تُبْتُ الْــٰٔنَ وَلَا الَّذِيْنَ يَمُوْتُوْنَ وَھُمْ كُفَّارٌ ۭاُولٰۗىِٕكَ اَعْتَدْنَا لَھُمْ عَذَابًا اَلِـــيْمًا) 4۔ النسآء :18) آخر دم تک یعنی موت کے وقت تک گناہوں میں مبتلا رہنے والے موت کو دیکھ کر جو توبہ کریں وہ اللہ کے ہاں قبول نہیں اور یہی یہاں ہے کہ ان کی توبہ ہرگز مقبول نہ ہوگی اور یہی لوگ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 87–90

سورة اٰلِ عِمْرٰن 74 یعنی صرف انکار ہی پر بس نہ کی بلکہ عملاً مخالفت و مزاحمت بھی کی، لوگوں کو خدا کے راستہ سے روکنے کی کوشش میں ایڑی چوٹی تک کا زور لگایا، شبہات پیدا کیے، بدگمانیاں پھیلائیں، دلوں میں وسوسے ڈالے، اور بدترین سازشیں اور ریشہ دوانیاں کیں تاکہ نبی کا مشن کسی طرح کامیاب نہ ہونے پائے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 86–91

خلاصہ تفسیر (اول ان مرتدین کا بیان ہے جو کفر پر قائم رہ کر اس کو ہدایت سمجھتے رہے، چونکہ ان کا اعتقاد یا دعوی یہ تھا کہ اللہ تعالیٰ نے ہم کو اب ہدایت فرمائی، لہذا ان کی مذمت میں اس کی نفی بھی فرماتے ہیں کہ بھلا) اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کو کیسے ہدایت کریں گے جو کافر ہوگئے بعد ایمان لانے کے (دل سے) اور بعد اپنے اس اقرار کے (زبان سے) کہ رسول ﷺ دعوی رسالت میں) سچے ہیں، اور بعد اس کے کہ ان کو واضح دلیل (حقانیت اسلام کے) پہنچ چکے تھے، اور اللہ تعالیٰ ایسے بےڈھنگے لوگوں کو ہدایت نہیں کیا کرتے (یہ مطلب نہیں کہ ایسوں کو کبھی توفیق اسلام کی نہیں دیتے، بلکہ مقصود ان کے اسی دعوی مذکورہ بالا کی نفی کرنا ہے…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 90–91

تفسیر آیت 90 تا 91: ان لوگوں کا بیان جن کی توبہ قبول نہیں ہوتی : یہ ان لوگوں کا بیان ہے جن کی توبہ قبول نہیں ہوگی۔ یہ وہ لوگ ہیں جو ان تمام جرائم کا ارتکاب کرکے، جن کا ذکر اوپر ہوا، ایمان کے بعد کفر میں مبتلا ہوئے۔ پھر اس کفر پر ردے کے بعد ردے چڑھاتے چلے گئے۔ جب وقت آخر آیا تو زبان سے توبہ توبہ کرلی، نہ اپنے جرائم کی اصلاح کی، نہ اپنی حق پوشیوں کا پیغمبر اور اہل ایمان کے سامنے اظہار واعتراف کیا، نہ اللہ کی راہ میں انفاق اور پیغمبر کی حمایت و نصرت سے اپنے گناہ دھونے کی کوشش کی۔ بلکہ جیسا کہ قرآن میں اشارہ ہے، اس غلط آرزو میں مر گئے کہ سَیُغْفَرُ لَنَا، اللہ ہماری ساری غلطیوں کو معاف فرما دے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

90۔ 1 اس آیت میں ان کی سزا بیان کی جا رہی ہے جو مرتد ہونے کے بعد توبہ کی توفیق سے محروم رہیں اور کفر پر انتقال ہو۔ 90۔ 2 اس سے وہ توبہ مراد ہے جو موت کے وقت ہو۔ ورنہ توبہ کا دروازہ تو ہر ایک کے لئے ہر وقت کھلا ہے۔ اس سے پہلی آیت میں بھی قبولیت توبہ کا اثبات ہے۔ علاوہ ازیں قرآن میں اللہ تعالیٰ نے بار بار توبہ کی اہمیت اور قبولیت کو بیان فرمایا ہے۔ (وہو الذی یقبل التوبۃ عن عبادہ۔) " الشوری۔ 25 " کیا انہوں نے نہیں جانا کہ اللہ تعالیٰ بندوں کی توبہ قبول فرماتا ہے اور احادیث میں بھی یہ مضمون بڑی وضاحت سے بیان ہوا ہے اس لیے اس آیت سے مراد آخری سانس کی توبہ ہے جو نامقبول ہے جیسا کہ قرآن کریم کے ایک…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 84–90

31: یعنی جب تک وہ کفر سے توبہ کر کے ایمان نہیں لائیں گے، دوسرے گناہوں سے ان کی توبہ قبول نہیں ہوگی۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 90–91

یوں سیاق کلام میں اس مسئلے کا فیصلہ کن تصفیہ کردیا جاتا ہے اور اسے تاکیدی الفاظ میں کردیا جاتا ہے جس میں کوئی شک اور شبہ نہیں رہنے دیا جاتا۔ اللہ کے اصولوں کے خلاف انفاق ‘ اور اللہ کے راستے میں نہ خرچ کئے جانے والے اموال کے غیر موثر قرار دینے کے بعد اور یہ فیصلہ کرنے کے بعد کہ دارالعمل کے ختم ہونے کے بعد اگر روئے زمین کو بھر کر بھی انفاق کرے وہ قبول نہ ہوگا ‘ یہاں اللہ تعالیٰ بیان فرمادیتے ہیں کہ وہ کون سا انفاق ہے جو اللہ کو پسند ہے ۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

9 یعنی جو لوگ حق کو مان کر اور سمجھ بوجھ کر منکر ہوئے پھر اخیر تک انکار میں ترقی کرتے رہے، نہ کبھی کفر سے ہٹنے کا نام لیا، نہ حق اور اہل حق کی عداوت ترک کی، بلکہ حق پرستوں کے ساتھ بحث و مناظرہ اور جنگ و جدل کرتے رہے۔ جب مرنے کا وقت آیا اور فرشتے جان نکالنے لگے تو توبہ کی سوجھی۔ یا کبھی کسی مصلحت سے ظاہر طور پر رسمی الفاظ توبہ کہہ لئے یا کفر پر برابر قائم رہتے ہوئے دوسرے اعمال سے توبہ کرلی جنہیں اپنے زعم میں گناہ سمجھ رہے تھے۔ یہ توبہ کسی کام کی نہیں۔ بارگاہ رب العزت میں اس کے قبول کی کوئی امید نہ رکھیں۔ ایسے لوگوں کو سچی توبہ نصیب ہی نہ ہوگی جو قبول ہو۔ ان کا کام ہمیشہ گمراہی کی وادیوں میں…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 90 اِنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا بَعْدَ اِیْمَانِہِمْ ثُمَّ ازْدَادُوْا کُفْرًا یعنی حق کو پہچان لینے کے بعد ‘ چاہے زبان سے مانا ہو یا نہ مانا ہو ‘ پھر اگر وہ کفر کرتے ہیں یا زبان سے ماننے کے بعد مرتد ہوجاتے ہیں ‘ اور پھر وہ اپنے کفر میں بڑھتے چلے جاتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

79 اس کی ایک صورت تو یہ ہے کہ مثلاً یہود حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لائے تھے۔ پھر حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا انکار کرکے کفر کا رویہ اختیار کیا۔ پھر رسول اللہ ﷺ کا بھی انکار کردیا جو ان کے کفر میں مزید اضافہ کا سبب بن گیا۔ ایسے معاندین کے حق میں توبہ کبھی قبول نہ ہوگی۔ دوسری صورت یہ کہ ایک شخص ایمان لایا۔ پھر اس کے بعد مرتد ہوگیا۔ پھر اسی پر اکتفا نہیں کیا بلکہ اسلام دشمنی میں اپنی سرگرمیاں تیز تر کردیں، تو ایسے شخص کی بھی توبہ قبول نہ ہوگی۔ تیسری صورت یہ ہے کہ مرتد ہوجانے کے بعد کفر پر ڈٹا رہا اور جب موت کا وقت آپہنچا تو توبہ کی سوجھی۔ اس وقت بھی توبہ قبول نہ ہوگی۔ البتہ جو لوگ اپنی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

195 ۔ (دوسرے معاصی وسیئات سے) یعنی پڑے تو رہیں کفر و ارتداد میں اور چاہیں کہ انہیں ان کے دوسرے اعمال حسنہ کا صلہ مل جائے، سو بغیر ایمان و اعتقاد صحیح کے ان اعمال پر سرے سے ” حسنہ “ و ” صالحہ “ کا اطلاق ہی نہ ہوسکے گا جو ان پر اجر وصلہ کی توقع رکھی جائے۔ 196 ۔ یعنی گمراہ کا مل، انتہاء درجہ کے گمراہ۔ ورنہ گمراہ تو سب ہی کافر ہوتے ہیں، ھذا محمول علی انھم ھم الضالون علی سبیل الکمال (کبیر)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

اِنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا بَعْدَ اِیْمَانِھِمْ ثُّمَّ ازْدَادُوْا کُفْرًا (الآیۃ) مطلب یہ ہے کہ مرتد ہونے کے بعد اس ارتداد پر اڑے رہے اور توبہ نہ کی اور اسی حالت میں غرغرہ کی حالت آگئی تو ان کی توبہ قبول نہ ہوگی۔ حدیث شریف میں آیا ہے کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن ایک جہنمی سے کہے گا کہ اگر تیرا پاس دنیا بھر کا سامان ہو تو کیا اس عذاب نار کے بدلے اسے دینا پسند کرے گا ؟ وہ کہے گا ” ہاں “ اللہ تعالیٰ فرمائے گا میں نے دنیا میں تجھ سے اس سے کہیں زیادہ آسان بات کا مطالبہ کیا تھا کہ میرے ساتھ شرک نہ کرنا، مگر تو شرک سے باز نہیں آیا۔ (مسند احمد، ھکذا اخرجہ البخاری ومسلم، ابن کثیر) اس سے معلوم ہوا کہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

اِنَّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا بَعْدَ اِيْمَانِهِمْ ثُمَّ ازْدَادُوْا كُفْرًا : قتادہ اور حسن بصری کا بیان ہے کہ آیت کا نزول یہودیوں کے حق میں ہوا جنہوں نے حضرت موسیٰ اور توریت پر ایمان لانے کے بعد حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) اور انجیل کو ماننے سے انکار کردیا پھر کفر میں اور ترقی کی کہ رسول اللہ اور قرآن کو نہیں مانا۔ ابو العالیہ کے قول پر آیت کا نزول یہود و نصاریٰ دونوں کے حق میں ہوا دونوں نے رسول اللہ کے اوصاف و حالات اپنی کتابوں میں پڑھے اور ان کو مانا لیکن بعثت نبوی کے بعد رسول اللہ پر ایمان نہیں لائے اور اس کفر کی حالت میں گناہوں کی وجہ سے مزید ترقی کی۔ مجاہد کے نزدیک آیت کا نزول تمام کفار کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 89–90

(89۔ 90) البتہ جو لوگ مرتد ہونے کے بعد اس کفر و شرک میں سے توبہ کرلیں اور خلوص کے ساتھ توحید خداوندی کے قائل ہوجائیں گے تو اللہ تعالیٰ توبہ کرنے والوں کی مغفرت فرمانے والے اور جو توبہ کرے اس پر رحمت فرمانے والے ہیں اور جو لوگ ایمان باللہ کے بعد مرتد ہو کر اسی پر جمے رہے تو جب تک اس پر قائم رہیں گے ہرگز ان کی توبہ قبول نہیں کی جائے گی اور یقیناً ایسے لوگ ہدایت اور دین اسلام سے بےراہ ہیں۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

یعنی یہود پہلے اقرار کرتے تھے کہ یہ یقیناً نبی ہے لیکن جب ان سے معاملہ ہوا تو وہ منکر ہوگئے۔ (موضح) اور ایسے لوگ بھی اس کا مصداق ہیں جو اسلام سے مرتد ہونے کے بعد موت کے وقت تک کفر پر قائم رہتے ہیں، ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ فرما رہے ہیں کہ حالت نزع میں اگر یہ لوگ توبہ کریں گے بھی تو ان کی توبہ قبول نہیں کی جائے گی۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (إِنَّ اللّٰہَ یَقْبَلُ تَوْبَۃَ الْعَبْدِ مَا لَمْ یُغَرْ غِرْ) [ ترمذی، الدعوات، باب إن اللہ یقبل التوبۃ۔۔ : 3537۔ حسنہ الألبانی ]”یقیناً اللہ تبارک و تعالیٰ بندے کی توبہ اس وقت تک قبول کرتا ہے جب تک روح حلق تک نہ پہنچے۔“ نیز دیکھیے سورة نساء (18) اور…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیت نمبر : 90۔ حضرت قتادہ ؓ عطا خراسانی ؓ اور حسن ؓ نے بیان کیا ہے کہ یہ آیت یہود کے بارے میں نازل ہوئی جنہوں نے حضرت عسی (علیہ السلام) اور انجیل کے ساتھ کفر کیا اور پھر حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ اور قرآن کریم کا انکار کر کے اپنے کفر میں اور اضافہ کرلیا، اور ابو العالیہ نے کہا ہے، یہ آیت یہود ونصاری کے بارے میں نازل ہوئی ہے جنہوں نے حضور نبی رحمت محمد مصطفیٰ ﷺ کی نعت وصفت کے ساتھ ایمان لانے کے بعد کفر کیا (آیت) ” ثم ازدادوا کفرا “۔ پھر اپنے کفر پر قائم رہ کر انہوں نے اس میں اور اضافہ کرلیا اور یہ بھی کہا گیا ہے : (آیت) ” ازدادو اکفرا “۔ وہ کفر میں بڑھتے ہی گئے ان گناہوں کے سبب جو انہوں نے کئے، اور…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 87–90

(1) البزار نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے فرمایا کہ یہ قوم اسلام لائی پھر مرتد ہوئی پھر اسلام لائی پھر مرتد ہوئی انہوں نے اپنی قوم کی طرف پیغام بھیجا تاکہ ان کے لیے (رسول اللہ ﷺ سے سوال کریں۔ رسول اللہ ﷺ سے اس بات کا ذکر کیا گیا تو یہ آیت نازل ہوئی لفظ آیت ” ان الذین کفروا بعد ایمانہم ثم ازدادو کفرا “۔ (2) ابن جریر نے حسن (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا ہے کہ اس سے مراد یہود و نصاری ہیں موت کے وقت ہرگز ان کی توبہ قبول نہیں کی جائے گی۔ (3) عبد بن حمید وابن جریر اور ابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا ہے کہ اس سے یہودی مراد ہے جنہوں نے انکار کیا انجیل…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[اِنَّ الَّذِیْنَ : بیشک جن لوگوں نے ] [کَفَرُوْا : کفر کیا ] [بَعْدَ اِیْمَانِہِمْ : اپنے ایمان کے بعد ] [ثُمَّ : پھر ازْدَادُوْا : وہ لوگ زیادہ ہوئے ] [کُفْرًا : بلحاظ کفر کے ] [لَّنْ تُقْبَلَ : ہرگز قبول نہیں کی جائے گی ] [تَوْبَتُہُمْ : ان کی توبہ ] [وَاُولٰٓئِکَ : اور وہ لوگ ] [ہُمُ الضَّالُّـــوْنَ : ہی گمراہ ہونے والے ہیں ] ترکیب : ” اِزْدَادُوْا “ دراصل باب افتعال میں ” اِزْتَادُوْا “ تھا۔ پھر قاعدے کے مطابق ” تا “ کو ” دال “ میں تبدیل کیا گیا تو ” اِزْدَادُوْا “ استعمال ہوا۔” کُفْرًا “ اس کی تمیز ہے۔ ” یُقْبَلَ “ کا نائب فاعل ” مِلْ ئُ الْاَرْضِ “ ہے اور ” ذَھَبًا “ تمیز ہے۔ ”…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 86–90

مرتدوں اور کافروں کی سزا تفسیر درمنثور صفحہ 19: ج 2 میں نقل کیا ہے کہ حارث بن سوید نے اسلام قبول کیا پھر کافر ہو کر اپنی قوم کی طرف چلا گیا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے آیت (کَیْفَ یَھْدِی اللّٰہُ قَوْمًا کَفَرُوْا۔۔ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ) تک نازل فرمائی۔ اس کی قوم میں سے ایک شخص اس کے پاس گیا اور اسے پوری آیت سنائی۔ آیت سن کر حارث بن سوید نے کہا میں جہاں تک جانتا ہوں تو سچا ہے اور رسول اللہ ﷺ تجھ سے بڑھ کر سچے ہیں اور بلاشبہ اللہ تعالیٰ تم دونوں سے بڑھ کر سچا ہے۔ اس کے بعد اس نے (دو بارہ) اسلام قبول کرلیا اور اچھی طرح اسلام کے کاموں میں لگا رہا۔ چونکہ آیت میں (اِلَّا الَّذِیْنَ تَابُوْا) بھی ہے اس لیے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 83–91

خلاصۂ حقیقت اسلام وعدم قبول غیر دین اسلام قال تعالیٰ افغیر دین اللہ یبغون۔۔ الی۔۔ وما لھم من نصرین توحید اور رسالت کے بعد دین اسلام کی حقیقت کا خلاصہ بیان فرماتے ہیں کہ اسلام اللہ کی اطاعت اور فرمانبرداری کا نام ہے اور یہی تمام انبیاء کا دین ہے اور اسلام ہی تمام کائنات کا دین ہے اور محمد رسول اللہ ﷺ اسی دین کی دعوت دینے کے لیے مبعوث ہوئے ہیں جس کی طرف تمام انبیاء دعوت دیتے چلے آئے آخرت کی نجات کا دارومدار یہی دین اسلام ہے اس کے سوا اللہ کے یہاں کوئی دین قبول نہیں کیا جائے گا۔ چناچہ فرماتے ہیں۔ کیا یہ لوگ آنے والے رسول پر ایمان لانے اور اس کی نصرت کا پختہ عہد اور پیمان کرنے کے بعد بھی اللہ کے…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 90–91

129 پہلے ان لوگوں کا ذکر تھا۔ جنہوں نے ارتداد اور کفر بعد الایمان کے بعد توبہ کرلی اور صلاح وتقویٰ کا راستہ اختیار کرلیا۔ یہاں ان لوگوں کا ذکر فرمایا جنہوں نے ایمان کے بعد کفر کیا اور پھر دیدہ و دانستہ کفر پر ڈٹے رہے۔ یہاں تک کہ کفر ان کے دلوں میں راسخ ہوگیا تو ایسے لوگوں کے دلوں پر چونکہ مہر جباریت لگ جاتی ہے اس لیے ان سے توبہ کی توفیق چھین لی جاتی ہے۔ اور انہیں توبہ کی کبھی ہمت نہیں ہوتی۔ یہاں سلب ہمت ہی کو عدم قبول توبہ سے تعبیر کیا گیا ہے۔ یہ مطلب ہرگز نہیں کہ اگر وہ توبہ کریں تو ان کی توبہ قبول نہیں ہوگی۔ کیونکہ توبہ بڑے سے بڑے مجرم کی بھی عنداللہ مقبول ہے۔ جب تک وہ سکرات الموت میں داخل…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 86–91

ربط آیات : گذشتہ درس میں اللہ تعالیٰ نے حنیفیت کی تشریح بیان فرمائی تھی۔ اور اسلام کی حقانیت کا تذکرہ کیا تھا۔ اور فرمایا تھا کہ اللہ کے ہاں اسلام کے سوا کوئی دین قابل قبول نہیں ہے۔ جو کوئی اسلام کے علاوہ کسی دوسرے دین کا طالب ہوگا ، اس سے وہ چیز قبول نہیں کی جائے گی اور ایسا شخص ہرگز کامیاب نہیں ہوگا۔ خاص طور پر آخرت میں تو وہ جہنم کا مستحق ہو کر سراسر نقصان اٹھائے گا۔ اب آج کے درس میں اسلام کے بعد کفر کرنے والوں کی مذمت بیان کی گئی ہے۔ اور واضح کیا گیا ہے۔ کہ اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کو ہدایت کی توفیق نہیں دے گا۔ اور نہ ہی ان کی توبہ قبول کی جائیگی وہ ہمیشہ جہنم میں رہیں گے۔ آخرت کا مدار…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

اِنَّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا بَعْدَ اِيْمَانِہِمْ ثُمَّ ازْدَادُوْا كُفْرًا لَّنْ تُقْبَلَ تَوْبَتُھُمْ۝ 0 ۚ وَاُولٰۗىِٕكَ ھُمُ الضَّاۗلُّوْنَ۝ 90 كفر الكُفْرُ في اللّغة : ستر الشیء، ووصف اللیل بِالْكَافِرِ لستره الأشخاص، والزّرّاع لستره البذر في الأرض، وأعظم الكُفْرِ : جحود الوحدانيّة أو الشریعة أو النّبوّة، والکُفْرَانُ في جحود النّعمة أكثر استعمالا، والکُفْرُ في الدّين أكثر، والکُفُورُ فيهما جمیعا قال : فَأَبَى الظَّالِمُونَ إِلَّا كُفُوراً [ الإسراء/ 99] ( کر ) الکفر اصل میں کفر کے معنی کیس چیز کو چھپانے کے ہیں ۔ اور رات کو کافر کہا جاتا ہے کیونکہ وہ تمام چیزوں کو چھپا لیتی ہے ۔ اسی طرح کا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 86–91

ترکیب : کیف حال ہے اور عامل اس میں یہدی ہے شہدوا حال ہے ضمیر کفروا سے اولئک مبتداء جزاء ھم مبتدا ان اور اس کا اسم و خبر مجموعہ خبر پھر یہ تمام جملہ مبتداء اول کی خبر ہوا خلدین حال ہے ضمیر علیہم سے اور عامل اس میں جاریا اس کا متعلق ہے ذھبًا تمیز ہے ملْ سے اور بہ کی ضمیر اسی طرف پھرتی ہے۔ تفسیر : جبکہ خدا تعالیٰ منکروں کے لئے ہر قسم کے بیان شافی ذکر فرما چکا اور پھر بھی وہ ہدایت پر نہ آئے تو جس طرح طبیب علاج کرکے جب صحت نہیں دیکھتا تو یہی کہتا ہے کہ تم کو کس طرح تندرستی ہو تم ایسی ایسی بدپرہیزی کرتے اور کرچکے ہو اسی طرح خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ ایسے تیرہ باطن اور سیاہ قلب لوگوں کو کیونکر ہدایت…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 90–91

اِنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا بَعْدَ اِیْمَانِہِمْ ثُمَّ ازْدَادُوْا کُفْرًا لَّنْ تُقْبَلَ تَوْبَتُہُمْ ج وَاُوْلٰٓئِکَ ہُمُ الضَّآلُّوْنَ ۔ اِنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا وَمَاتُوْا وَہُمْ کُفَّارٌ فَلَنْ یُّقْبَلَ مِنْ اَحَدِہِمْ مِّلْ ئُ الْاَرْضِ ذَہَبًا وَّلَوِفْتَدٰی بِہٖ ط اُوْلٰٓئِکَ لَہُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ لا وَّمَا لَہُمْ مِّنْ نّٰصِرِیْنَ ۔ ع (جن لوگوں نے کفر کیا اپنے ایمان کے بعد اور اپنے کفر میں بڑھتے گئے ان کی توبہ ہرگز قبول نہیں کی جائے گی، یہی لوگ حقیقی گمراہ ہیں۔ بیشک جن لوگوں نے کفر کیا اور اسی کفر کی حالت میں مرگئے اگر وہ زمین بھر سونا فدیہ میں دے دیں تو ہرگز ان سے قبول نہیں کیا…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

فہم القرآن ربط کلام : توبہ اور اصلاح کا موقعہ ملنے کے باوجود جو لوگ کفر و شرک پر ہیں۔ ان کے بارے میں حتمی سزا کا اعلان۔ بلا شبہ جن لوگوں نے ایمان کے بعد کفر اختیار کیا اور پھر اپنی اصلاح اور ایمان کی طرف پلٹنے کی بجائے کفر میں آگے ہی بڑھتے چلے گئے۔ اللہ تعالیٰ ان کی توبہ قبول نہیں کرے گا اور یہی لوگ گمراہی میں ڈوبے ہوئے ہیں۔ اگر انہیں اسی حالت میں موت آگئی تو ایسے لوگ قیامت کے دن اپنے آپ کو چھڑانے کے لیے زمین بھر سونا بھی پیش کریں تو وہ قبول نہیں ہوگا۔ یاد رہے کہ مرنے کے بعد انسان کے پاس اچھے یابرے اعمال کے علاوہ کوئی چیز نہیں ہوگی۔ اس کے باوجود یہاں فدیہ کی بات ہورہی ہے۔ اس کا معنٰی ہے کہ…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

90: اِنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا بَعْدَ اِیْمَانِھِمْ ثُمَّ ازْدَادُ وْا کُفْرًا لَّنْ تُقْبَلَ تَوْبَتُہُمْ وَاُولٰٓپکَ ھُمُ الضَّآ لُّوْنَ ۔ (بلاشبہ جنہوں نے انکار کیا) عیسیٰ ( علیہ السلام) اور انجیل کا۔ بَعْدَ اِیْمَانِھِمْ اسکے بعد کہ ان کو موسیٰ ( علیہ السلام) اور تورات پر ایمان تھا) ۔ کفر پر اصرار کرنے والے کی بوقت موت توبہ قابل قبول نہیں : ثُمَّ ازْدَادُ وْا کُفْرًا (پھر کفر میں مزید ترقی کر گئے) حضرت محمد ﷺ اور قرآن کا انکار کر کے۔ یا رسول اللہ ﷺ کا انکار کردیا۔ اسکے بعد کہ آپکی بعثت سے قبل آپ پر ایمان رکھتے تھے۔ پھر کفر پر اصرار کر کے اس میں ترقی کی اور ہر وقت ان پر طعن وتشنیع کرکے کفر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

90۔ (آیت)” ان الذین کفروا بعد ایمانھم ثم ازدادوا کفرا “۔ حضرت قتادہ (رح) ، حسن بصری (رح) کا قول ہے کہ اس آیت کا نزول یہودیوں کے حق میں ہوا جنہوں نے تورات اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر اسلام لانے کے بعد حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور انجیل پر ایمان لانے سے انکار کردیا ، پھر آپ ﷺ اور قرآن کریم کا انکار کر کے کفر میں مزید ترقی کرلی ، ابوالعالیہ ؓ کہتے ہیں کہ اس آیت کا نزول یہود و نصاری دونوں کے متعلق ہوا کہ ان دونوں فریقوں نے آپ ﷺ کے اوصاف اور ان کے انعامات اپنی کتابوں میں پڑھے اور ان کو مانا لیکن بعث نبوی ﷺ کے بعد رسول اللہ ﷺ پر ایمان نہیں لائے اور اس انکار کی وجہ سے ان کے کفر میں مزید ترقی…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 86–91

(86 ۔ 91) ۔ نسائی اور صحیح ابن حبان اور مستدرک حاکم میں حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ جس کو حاکم نے صحیح کہا ہے۔ حاصل اس روایت کا یہ ہے کہ حارث بن سوید انصاری اور طعمہ بن ابریق وغیرہ سب بارہ شخص اسلام لانے کے بعد مرتد ہوگئے اور مدینہ سے مکہ کو چلے گئے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے اس آیت کا ٹکڑا ولا ھم ینظرون تک نازل فرمایا پھر حارث بن سوید کو اپنے مرتد ہونے پر بڑا افسوس ہوا تو انہوں نے انصار سے جو ان کی قوم کے مدینہ میں تھے یہ پیغام کہلا بھیجا کہ وہ آنحضرت ﷺ سے دریافت کریں کہ ہم لوگ کی توبہ قبول ہوسکتی ہے اس پر اللہ تعالیٰ نے دوسرا ٹکڑا آیت کا الا الذین تابوا نازل فرمایا۔ اس پر حارث بن سوید…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 89–91

اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ جو شخص ایمان لانے کے بعد کفر کا ارتکاب کرے۔ پھر گمراہی میں آگے ہی آگے بڑھتا جائے ‘ ہایت کو چھوڑے رکھے ‘ ایسے شخص کی توبہ قبول نہیں ہوتی۔ یعنی اسے توبہ کی توفیق ہی نہیں ملتی جو قبول ہوسکے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ انہیں ڈھیل دیتا ہے تو وہ گمراہی میں ٹامک ٹوئیاں مارتے رہتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ ” اور ہم ان کے دلوں اور نگاہوں کو پھیر دیں گے۔ جیسے یہ لوگ اس پر پہلی دفعہ ایمان نہیں لائے “ اور فرمایا : ” جب وہ ٹیڑھے ہوگئے تو اللہ نے بھی ان کے دل ٹیڑھے کردیے “ گناہوں سے گناہ پیدا ہوتے ہیں۔ خاص طور پر جو شخص سیدھا راستہ چھوڑ دے اور کفر عظیم کا ارتکاب کرے ‘ حالانکہ اس پر…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 79–92

راہ خدا میں محبوب چیز قربان کرنا قول باری ہے (لن تنالوالبرحتی تنفقوامما تحبون، تم نیکی کو نہیں پہنچ سکتے جب تک کہ اپنی وہ چیزیں (اللہ کی راہ میں) خرچ نہ کرو جنہیں تم عزیزرکھتے ہو) البر کے معنی دواقوال ہیں اول جنت عمروبن میمون اور سدی سے یہی منقول ہے۔ دوم نیکی کا کام جس کی بناپربندے اجر کے مستحق قرارپاتے ہیں نفقہ سے مراد اللہ کی راہ میں صدقہ وغیرہ کی صورت میں پسند یدہ چیزیں دے دینا ہے۔ یزیدبن ہارون نے حمید سے، انہوں نے حضرت انس ؓ سے روایت کی ہے کہ جب درج بالاآیت نازل ہوئی نیزیہ آیت (من ذا الذی یقرض اللہ قرضا حسنا، کون ہے جو اللہ تعالیٰ کو قرض حسنہ دے) تو حضرت ابوطلحہ ؓ نے حضور ﷺ سے عرض کیا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 90–93

184 پکے اور پورے گمراہوں کی نشاندہی ۔ والعیاذ باللہ : سو اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ اپنے کفر پر اڑنے والے پکے اور پورے گمراہ ہیں کہ کفر ایسے لوگوں کے دلوں میں گھر کرچکا ہے۔ اور اس کی نحوست ان کے رگ و ریشے میں سرایت کرگئی ہے، جس کے باعث ان کو ایسی سچی توبہ کی توفیق نصیب ہی نہیں ہوتی، جو شرف قبولیت پاس کے۔ اور مرتے وقت اگر تو بہ کرینگے بھی تو وہ قبول نہیں ہوگی۔ کیونکہ وہ کشف حقائق کے بعد کی توبہ ہوگی، جو کہ معتبر نہیں۔ اس لئے کہ مطلوب ایمان بالغیب ہے اور موت کے وقت کا وہ ایمان، ایمان بالغیب نہیں ہوگا بلکہ ایمان بالشہود و بالمشاہدہ ہوگا۔ اس لئے وہ توبہ قبول نہیں ہوگی، جیسا کہ سورة نساء میں…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 90–91

ناقابل قبول توبہ فدیہ اور سزا تشریح : ان آیات میں توبہ کا ایک اور رخ بیان کیا گیا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ یہود و نصار ٰی جانتے تھے کہ یہی آخری نبی ہیں مگر آخر تک ایمان نہ لائے، بلکہ اپنے غلط عقیدوں کی وجہ سے لوگوں کو راہ راست سے بھٹکانے کی پوری کوشش کرتے رہے اور دین اسلام کے بارے میں غلط رویہ اختیار کرتے رہے لیکن جب موت کو قریب دیکھا تو توبہ کرنے لگے۔ اللہ رب العزت فرماتے ہیں کہ اس وقت کی توبہ ہرگز قبول نہ ہوگی۔ پھر ان لوگوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جن لوگوں نے کفر کی راہیں اختیار کیں اور پھر ایمان قبول کئے بغیر کفر کی ہی حالت میں فوت ہوگئے تو ان کو معلوم ہونا چاہئے کہ اس دنیا میں جو…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 81–91

آیات 81- 91 اسرارومعارف واذاخذ اللہ میثاق النبیین…………………وھوفی الاخرۃ من الخسرین۔ اور یہ نبی جس کا انکار کرنے کے لئے یہود طرح طرح کی حیلہ جو ئیاں کر رہے ہیں یہ تو ایسی عظیم ہستی ہے کہ تمام نوع انسانی کا نبی ہے۔ نہ صرف نبی الامت ہے بلکہ نبی الانبیاء اور امام المرسلین ہے اس کی شان تو یہ ہے کہ اللہ نے تمام انبیاء سے عہد لیا تھا کہ جب تمہیں کتاب و حکمت عطا ہو یعنی تم بحیثیت نبی کے مبعوث کئے جائو۔ یاد رہے کہ کتاب کے ساتھ ہر جگہ حکمت اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ کتاب الٰہیہ کے معانی بھی من جانب اللہ حکمت کے نام سے انبیاء کو تعلیم کئے جاتے ہیں اور کوئی ایسا معنی جو پیغمبر کے ارشاد کردہ معانی کے مطابق نہ…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 5 یعنی یہود پہلے اقرار کرتے تھے یہ نبی تحقیقی ہے جب ان سے معاملہ ہو اتو وہ منکر ہوگئے۔ (موضح) اور ایسے لوگ بھی اس کا مصداق ہوسکتے ہیں جو اسلام سے مردتد ہونے کے بعد موت کے وقت تک کفر پر قائم رہتے ہیں انے بارے میں فرما رہے ہیں کہ حالت نزع میں اگر یہ لوگ توبہ کریں گے بھی تو ان کی توبہ قبول نہ کی جائے گی۔ آنحضرت ﷺ کا ارشاد : یقبل توبتہ العبد مالم یغر غر۔ کہ بندے کی توبہ اس وقت تک قبول ہوتی ہے جب تک ہو جان کنی کی حالت تک نہ پہنچ جائے۔ (ترمذی۔ نسائی) نیز دیکھئے (النسا آیت : 18) اور الضالون سے مراد کامل درجہ کے گمراہ ہیں (کبیر)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

Explained with ayahs 85–90

(3:85) یبتغ۔ اصل میں ینتغی تھا۔ من عامل کی وجہ سے غ جو آخری متحرک حرف تھا ساکن ہوگیا۔ ی بوجہ ساکنین کے گرگئی۔ ی کی موجودگی کو ظاہر کرنے کے لئے غ مکسور کردی گئی مضارع مجزوم واحد مذکر غائب۔ ابتغاء مصدر۔ چاہے۔ ڈھونڈھے۔ طلب کرے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 81–91

لغات القرآن آیت نمبر 81 تا 91 لتومنن (البتہ تم ضرور ایمان لاؤگے) لن یقبل (ہرگز قبول نہ کیا جائے گا) لتنصرن (البتہ تم ضرور مدد کروگے) لایخفف (کمی نہ کی جائے گی) اصری (میرا بوجھ) لن تقبل (ہرگز قبول نہ کی جائے گی) یبغون (وہ تلاش کرتے ہیں) الضآلون (گمراہ ہونے والے) طوع (خوشی سے) ملء الارض (زمین بھر) کرہ (زبردستی) لوافتدٰی (اگر وہ بدلہ میں دے) یبتغ (تلاش کرے گا) ۔ تشریح : آیت نمبر 81 تا 91 پچھلی آیات میں آپ نے ملاحظہ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے واضح الفاظ میں اس کی تردید کردی ہے کہ انبیاء کرام اپنا بندہ بنانے نہیں آتے بلکہ سچی بات یہ ہے کہ انبیاء کرام لوگوں کو اللہ والا بنانے آتے ہیں۔ ان آیات میں یہ…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 89–91

توبہ کس وقت قبول ہوتی ہے شان نزول : اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ جس طرح ہر چیز کا اللہ تعالیٰ کے ہاں وقت مقرر ہے اسی طرح توبہ کا بھی وقت مقرر ہے۔ وہ وقت یہ ہے مثلاً آدمی ایسی مجبوری اور اضطراری کی حالت میں شرک، کفر یا گناہ کبیرہ سے توبہ کرے جیسے فرعون نے بلکل ڈوبتے وقت توبہ کی اور قبول نہیں ہوئی۔ یا مغرب سے آفتاب نکلنے کے وقت سب لوگ توبہ کریں گے تو ایسی توبہ قبول نہ ہوگی، بلکہ وہ توبہ قبول ہوگی کہ ایسے وقت توبہ کرے کہ اپنی موت کا ابھی اس کو پورا یقین ہو کر اس کی حالت اضطرار کی نہ ہوئی ہو، اپنی زیست کا اس کو بھروسہ ہو۔ اور اس زیست کے سوچے ہوئے زمانہ میں اس کا گناہ سے باز رہنے اور آئندہ نیک کام کرنے…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 86–92

[33] یہ آیت یہود کے بارے میں نازل ہوئی نبی ﷺ کے عہد میں عرب کے یہودی علماء جان چکے تھے اور ان کی زبانوں تک سے اس امر کی شہادت ہوچکی تھی کہ آپ ﷺ نبی برحق ہیں اور جو تعلیم آپ ﷺ لائے ہیں وہ وہی تعلیم ہے جو پچھلے انبیاء (علیہ السلام) لاتے رہے ہیں۔ اس کے بعد انہوں نے جو کچھ کیا وہ محض تعصب، ضد اور دشمنی حق کی اس پرانی عادت کا نتیجہ تھا جس کے وہ صدیوں سے مجرم چلے آ رہے تھے۔ اس کا اندازہ اس سلسلے کے ایک دلچسپ واقعہ سے ہوسکتا ہے۔ سیدہ صفیہ (زوجہ رسول اللہ ﷺ یہ روداد بیان کرتی ہیں کہ جب رسول اللہ ﷺ مدینہ آئے اور قبا میں قیام فرمایا تو میرے والد اور چچا منہ اندھیرے ملاقات کے لئے گئے تو غروب آفتاب کا…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 86–90

مرتد : (ف 1) وہ لوگ جو اسلام کو قبول کرکے چھوڑ دیتے ہیں ، قرآن کی اصطلاح میں مرتد ہیں ، قرآن حکیم کہتا ہے ، یہ نوع کی ہدایت سے محروم رہتے ہیں ، ان پر اللہ کا غضب ہوتا ہے ، یہ فرشتوں اور تمام نیک لوگوں کی ناراضگی خریدتے ہیں ، یہ لوگ جہنم کا کندہ ہیں ، ان کے عذاب میں کوئی تخفیف نہ ہوگی اور نہ یہ اس قابل ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کی طرف نظر التفات کرے ، البتہ وہ لوگ جو توبہ کرلیں اور پھر سے اسلام میں داخل ہو کر اصلاح اعمال میں مصروف ہوجائیں ‘ ان کے لئے اللہ کی بخشیش عام ووسیع ہیں اور وہ جو معاند ہوں اور کفر کے بعد ان کا بغض وعناد زیادہ ترقی کرجائے ، ان کی توبہ ہرگز قبول نہیں ۔ آخرت میں مرتدین کے لئے…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

Explained with ayahs 89–90

ف 1۔ ایسے ظالم اور بد کردار لوگوں کی سزا یہ ہے کہ ان پر اللہ کی اور ملائکہ کی اور انسانوں کی سب کی لعنت پڑی ہے اور یہ لعنت بھی اس طور پر کہ یہ لوگ اس لعنت میں ہمیشہ مبتلا رہیں گے۔ نہ ان پر سے کسی وقت جہنم کا عذاب ہلکا کیا جائے گا اور نہ ان کو کسی قسم کی کوئی مہلت دی جائے گی مگر ہاں وہ لوگ جو اس کافرانہ روش اور بغاوت و سرکشی کے بعد توبہ کرلیں اور اپنے ظاہر و باطن کی اصلاح اور درستی کرلیں تو یقین جانو ! اللہ تعالیٰ بڑا بخشنے والا نہایت رحم کرنے والا ہے پھر ای سے باغیوں اور سرکشوں کی توبہ قبولکر کے انہیں معاف کر دے گا اور بخش دے گا۔ (تیسیر) لعنت کی مفصل تفسیر دوسرے پارے میں گزر چکی ہے۔ اللہ…

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

وہ لوگ کون ہیں جن کی توبہ قبول نہیں ہوگی اور وہ توبہ کیسی توبہ ہے ؟ 176: گزشتہ آیت 89 میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ : ” جن لوگوں نے کفر کے بعد توبہ کرلی اور اپنے آپ کو سنوار لیا تو بلاشبہ اللہ رحمت کرنے والا بخش دینے والا ہے۔ “ اور اس آیت 90 میں ہے کہ ” ایسے لوگوں کی توبہ قبول نہیں کی جائے گی “ ہاں ہاں ! ایسے لوگوں کی توبہ قبول نہیں ہوگی ؟ کیسے لوگوں کی ؟ جنہوں نے کفر اختیار کیا اور برابر کفر میں بڑھتے ہی گئے اور منہ سے توبہ توبہ بھی کرتے رہے تو آخر نا کی توبہ توبہ کرنے کو کیوں کر قبول کرلیا جائے گا جب کہ ان کا عمل بتا رہا ہے کہ انہوں نے توبہ نہیں کی۔ پہلے لوگوں کے متعلق ارشاد فرمایا کہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 86–91

Commentary The removal of a doubt: On a superficial view of the verse كَيْفَ يَهْدِي اللَّـهُ : 'How shall Allah give guidance...' (86), there emerges a doubt that whoever turns an apostate receives no guidance afterwards, although, the fact is contrary to this. There are many who, after having become apostates, re-embrace the faith and become recipients of guidance. The answer is that the withholding of guidance mentioned here is in accordance with common usage. For instance, some criminal when punished by a certain ruler may say, 'I have been given a special treatment by the ruler with his…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 87–90

74. They were not content with just rejecting the call to the Truth but stood in vehement opposition and hostility to it and spared no efforts in obstructing people from following the way of God. They created doubts, spread misgivings, sowed the seeds of distrust and engaged in the worst conspiracies and machinations in order to frustrate the mission of the Prophet (peace be on him).

Read the full tafseer →