Aal-i-Imraan 3:100

Aal-i-Imraan · from ayah 100

3:100

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنْ تُطِیْعُوْا فَرِیْقًا مِّنَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ یَرُدُّوْكُمْ بَعْدَ اِیْمَانِكُمْ كٰفِرِیْنَ ۟يٰۤـاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِنۡ تُطِيۡعُوۡا فَرِيۡقًا مِّنَ الَّذِيۡنَ اُوۡتُوا الۡكِتٰبَ يَرُدُّوۡكُمۡ بَعۡدَ اِيۡمَانِكُمۡ كٰفِرِيۡنَ

مومنو! اگر تم اہلِ کتاب کے کسی فریق کا کہا مان لو گے تو وہ تمھیں ایمان لانے کے بعد کافر بنا دیں گے

— Fateh Muhammad Jalandhari

O you who have believed, if you obey a party of those who were given the Scripture, they would turn you back, after your belief, [to being] unbelievers.

— Saheeh International

Juz 4 · Ruku 10 of surah · Ruku 1 of juz

Read the whole surah · Surah Aal-i-Imraan

All translations of 3:100

اے لوگو جو ایمان لائے ہو، اگر تم نے اِن اہل کتاب میں سے ایک گروہ کی بات مانی تو یہ تمہیں ایمان سے پھر کفر کی طرف پھیر لے جائیں گے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

مومنو! اگر تم اہلِ کتاب کے کسی فریق کا کہا مان لو گے تو وہ تمھیں ایمان لانے کے بعد کافر بنا دیں گے

— مولانا فتح محمد جالندہری

اے ایمان والو! اگر تم اہل کتاب کی کسی جماعت کی باتیں مانو گے تو وه تمہیں تمہارے ایمان ﻻنے کے بعد مرتد کافر بنا دیں گے۔

— مولانا محمد جوناگڑہی

اے ایمان والو ! اگر تم اہل کتاب کے ایک گروہ کی بات مان لو گے تو وہ تمہارے ایمان لانے کے بعد تم کو دوبارہ کافر بان کر چھوڑیں گے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اے ایمان والو! اگر تم کچھ کتابیوں کے کہے پر چلے تو وہ تمہارے ایمان کے بعد کافر کر چھوڑیں گے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اے ایمان والو! اگر تم اہلِ کتاب میں سے کسی گروہ کا بھی کہنا مانو گے تو وہ تمہارے ایمان (لانے) کے بعد پھر تمہیں کفر کی طرف لوٹا دیں گے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اے لوگو جو ایمان لائے ہو ! اگر تم ان میں سے کچھ لوگوں کا کہنا مانو گے، جنھیں کتاب دی گئی ہے، تو وہ تمہیں تمہارے ایمان کے بعد پھر کافر بنادیں گے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اے ایمان والو ! اگر تم اہل کتاب کے ایک گروہ کی بات مان لو گے تو یہ تمہارے ایمان لانے کے بعد تمہیں کافر بنا کے چھوڑیں گے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اے ایمان والو ! اگر تم اہل کتاب کے ایک گروہ کی بات مان لوگے تو یہ تم کو تمہارے ایمان کے بعد پھر کفر کی طرف پلٹا دیں گے۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اے وہ لوگو، جو ایمان لائے ہو، اگر تم نے بات مان لی ان لوگوں میں سے ایک گروہ کی جن کو کتاب دی گئی ہے، تو وہ یقینا تمہیں تمہارے ایمان کے بعد (راہ حق سے) پھیر کر کافر بنادیں گے

— مولانا اسحاق مدنی

اے ایمان والو اگر تم ان لوگوں میں سے کسی گروہ کا کہا مان لو گے جنہیں کتاب دی جاچکی ہے تو وہ تمہارے ایمان لانے کے پیچھے تمہیں کافر بنا چھوڑے گے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو ! اگر تم ان اہل کتاب کے کسی گروہ کی بات مان لو گے تو یہ تم کو تمہارے ایمان کے بعد پھر کفر کی حالت میں لوٹا کرلے جائیں گے۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اے لوگو ! جو ایمان لائے ہو، اگر تم نے اہل کتاب میں سے ایک گروہ کی بات مانی تو یہ تمہیں تمہارے ایمان سے پھر (دوبارہ) کفر کی طرف پھیر لے جائیں گے

— محترمہ رفعت اعجاز

Believers! Were you to obey a party of those who were given the Book, they might cause you to renounce the Truth after you have attained to faith.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

O you who believe, if you obey a group from those who have been given the Book (i.e. the Christians and the Jews), they will turn you into infidels after you have embraced the faith.

— Muhammad Taqi Usmani

O you who believe, if you obey a group from those who have been given the Book (i.e. the Christians and the Jews), they will turn you into infidels after you have embraced the faith.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

O you who believe! If you obey a group of those who were given the Scripture (Jews and Christians), they would (indeed) render you disbelievers after you have believed!

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

O ye who believe! If ye obey a party of those who have received the Scripture they will make you disbelievers after your belief.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

O you who have believed, if you obey a party of those who were given the Scripture, they would turn you back, after your belief, [to being] unbelievers.

— Saheeh International

Believers, if you obey a certain group among the People of the Book, they will turn you back to disbelief.

— Muhammad Sarwar

O you who believe! if you obey a party from among those who have been given the Book, they will turn you back as unbelievers after you have believed.

— Muhammad Habib Shakir

O Ye who believe! were ye to obey any party amongst those that have been vouchsafed the Book, they would, after your having believed, render you Infidels.

— Abdul Majid Daryabadi

O ye who believe! If ye listen to a faction among the People of the Book, they would (indeed) render you apostates after ye have believed!

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 3:100

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 100–101

کامیابی کا انحصار کس پر ہے اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے مومن بندوں کو اہل کتاب کے اس بدباطن فرقہ کی اتباع کرنے سے روک رہا ہے کیونکہ یہ حاسد ایمان کے دشمن ہیں اور عرب کی رسالت انہیں ایک آنکھ نہیں بھاتی، جیسے اور جگہ ہے آیت (ودکثیر) الخ، یہ لوگ جل بھن رہے ہیں۔ اور تمہیں ایمان سے ہٹانا چاہتے ہیں تم ان کے کھوکھلے دباؤ میں نہ آجانا، گو کفر تم سے بہت دور ہے لیکن پھر بھی میں تمہیں آگاہ کئے دیتا ہوں، اللہ تعالیٰ کی آیتیں دن رات تم میں پڑھی جا رہی ہیں اور اللہ تعالیٰ کا سچا رسول ﷺ تم میں موجود ہے جیسے اور جگہ ہے آیت (مالکم لا تو منون باللہ) تم ایمان کیسے نہ لاؤ رسول ﷺ تمہیں تمہارے رب کی طرف بلا رہے ہیں…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 98–102

سورة اٰلِ عِمْرٰن 82 یعنی مرتے دم تک اللہ کی فرماں برداری اور وفاداری پر قائم رہو۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 98–101

ربط آیات اوپر سے اہل کتاب کے عقائد فاسدہ اور ان کے شبہات پر کلام چل رہا تھا، درمیان میں بیت اللہ اور حج کا تذکرہ آیا، آگے پھر اہل کتاب ہی سے خطاب ہے جس کا تعلق ایک خاص واقعہ سے ہے، کہ ایک یہودی شماس بن قیس مسلمانوں سے بہت کینہ رکھتا تھا، اس نے ایک مجلس میں انصار کے دو قبیلوں اوس اور خزرج کو ایک جگہ مجتمع و متفق دیکھا تو حسد سے بےچین ہوگیا، اور ان میں تفریق ڈالنے کی فکر میں لگا، آخر یہ تجویز کی کہ ایک شخص سے کہا کہ ان دونوں قبیلوں میں اسلام سے پہلے جو ایک بڑی جنگ عرصہ دراز تک رہ چکی ہے، اور اس کے متعلق فریقین کے فخریہ اشعار ہیں وہ اشعار ان کی مجلس میں پڑھ دیئے جائیں۔ چناچہ اشعار کا پڑھنا تھا…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

مسلمانوں کو اہل کتاب کے اشرار سے بچتے رہنے کی تاکید : فَرِيْقًا مِّنَ الَّذِيْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ سے اہل کتاب کا وہی گروہ مراد ہے جس کی مخالفتوں اور وسوسہ اندازیوں کا اوپر تفصیل سے ذکر ہوا ہے۔ اہل کتاب میں ایک گروہ، جیسا کہ اوپر بھی ذکر گزر چکا ہے اور آگے بھی آ رہا ہے، اہل انصاف کا بھی تھا، اس وجہ سے قرآن نے جگہ جگہ اس امر کو ملحوظ رکھا ہے کہ ان کے ساتھ کوئی ناانصافی نہ ہونے پائے۔ چناچہ یہاں بھی مسلمانوں کو اہل کتاب کی وسوسہ اندازیوں اور خاکبازیوں سے بچتے رہنے کی جو تاکید فرمائی ہے تو تعین کے ساتھ اس گروہ کی طرف انگلی اٹھا دی ہے جس سے بچانا پیش نظر ہے۔ یہ انصاف کا بھی تقاضا تھا اور دعوت و…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

10۔ 1 یہودیوں کے مکرو فریب اور ان کی طرف سے مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی مذموم کوششوں کا ذکر کرنے کے بعد مسلمانوں کو تنبیہ کی جا رہی ہے کہ تم بھی ان کی سازشوں سے ہوشیار رہو اور قرآن کی تلاوت کرنے اور رسول اللہ ﷺ کے موجود ہونے کے باوجود کہیں یہود کے جال میں نہ پھنس جانا۔ اس کا پس منظر تفسیری روایات میں اسطرح بیان کیا گیا ہے۔ کہ انصار کے دو قبیلے اوس اور خزرج ایک مجلس میں اکھٹے بیٹھے باہم گفتگو کر رہے تھے کہ شاس بن قیس یہودی ان کے پاس سے گزرا اور ان کا باہمی پیار دیکھ کر جل بھن گیا پہلے یہ ایک دوسرے کے سخت دشمن تھے اب اسلام کی برکت سے باہم شیرو شکر ہوگئے ہیں۔ اس نے ایک نوجوان کے ذمے یہ کام لگایا…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 100–106

36: اگر یہ یہودیوں کا ذکر ہے تو ایمان سے مراد ان کا تورات پر ایمان لانا ہے اور اگر منافقین مراد ہیں تو ایمان کا مقصد ان کا زبانی اعلان ہے جس کے ذریعے وہ اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کرتے تھے۔ تیسرا احتمال یہ بھی ہے کہ خبر دار اسلام کو چھوڑ نہ بیٹھنا، اس لیے یہ بیان کیا گیا ہے کہ جو لوگ واقعۃ مرتد ہوجائیں گے، ان کا آخرت میں کیا حال ہوگا

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

اس کرہ ارض پر اس امت کو اس لئے اٹھایا گیا تھا کہ وہ اس زمین پر صرف اسلامی نظام زندگی کے برپا کرنے کے لئے اپنے لئے راہ متعین کرے ۔ یہ ایک منفرد ‘ ممتاز اور نمایاں امت ہے ۔ اس کا وجود اسلامی نظام زندگی سے پھوٹا ہے ‘ تاکہ وہ حیات انسانی کے اندر وہ رول ادا کرے جو اس کے سوا کوئی نہیں ادا کرتا ۔ یہ امت اس لئے برپا کی گئی ہے کہ وہ اسلامی نظام زندگی کا اقرار کرے اور اسے عملی طور پر نافذ کرے ‘ اور اس نظام کا نشان منزل نظر آرہا ہو ۔ اس میں قرآن وسنت کی نصوص اور احکام عملاً زندگیوں میں چلتے پھرتے نظر آئیں ‘ اسلامی نصوص انسانی شعور ‘ انسانی اخلاق اور انسانی طرز عمل اور انسانی روابط عملاً نظر آئیں۔ امت…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

3 پہلے اہل کتاب کو ڈانٹا گیا تھا کہ جان بوجھ کر کیوں لوگوں کو گمراہ کرتے پھرتے ہو۔ یہاں مسلمانوں کو نصیحت کی گئی کہ تم ان مفسدین کے بھرّے میں نہ آنا، اگر ان کے اشاروں پر چلو گے تو اندیشہ ہے کہ آہستہ آہستہ نور ایمان سے نکل کر کفر کے تاریک گڑھے میں دوبارہ نہ جا گرو۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 99–100

آیت 99 قُلْ یٰٓاَہْلَ الْکِتٰبِ لِمَ تَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰہِ مَنْ اٰمَنَ تَبْغُوْنَہَا عِوَجًا تم چاہتے ہو کہ جو اہل ایمان ہیں وہ بھی ٹیڑھے راستے پر چلیں۔ چناچہ تم سازشیں کرتے ہو کہ صبح کو ایمان لاؤ اور شام کو کافر ہوجاؤ تاکہ اہل ایمان کے دلوں میں بھی وسوسے اور دغدغے پیدا ہوجائیں۔ وَّاَنْتُمْ شُہَدَآءُ ط حالانکہ تم خود گواہ ہو ! تم راہ راست کو پہچانتے ہو اور جو کچھ کر رہے ہو جانتے بوجھتے کر رہے ہو۔ وَمَا اللّٰہُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ ۔ لیکن ان تمام سازشوں کے جواب میں اہل ایمان سے فرمایا گیا ہے :

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

89 اس آیت میں ایک گروہ سے مراد یہود مدینہ ہیں۔ جنہیں مدینہ کے انصار (قبیلہ اوس خزرج) کا آپس میں بھائیوں کی طرح مل بیٹھنا اور شیروشکر ہوجانا ایک آنکھ نہ بھاتا تھا اور وہ چاہتے تھے کہ ان کو پھر آپس میں لڑا بھڑا کر ان میں عداوت ڈال دیں۔ جنگ بدر میں جب اللہ نے مسلمانوں کو عظیم فتح عطا فرمائی تو یہود کے عناد میں مزید اضافہ ہوگیا، ایک بڈھے یہودی شماس بن قیس کو بہت صدمہ پہنچا اس نے ایک نوجوان یہودی کو حکم دیا کہ وہ انصار کی مجالس میں جاکر جنگ بعاث کا ذکر چھیڑ دے اور اس سلسلہ میں دونوں جانب سے جو اشعار کہے گئے تھے وہ پڑھ پڑھ کر سنائے، نوجوان نے جاکر یہی کارنامہ سرانجام دیا۔ بس پھر کیا تھا ؟ تو تو میں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

212 ۔ (عقیدہ نہ سہی عملا سہی۔ تو یہی عملی ارتداد بھی کیا کم ہے) (آیت) ” ان تطیعوا “۔ یعنی اگر اپنے عقائد و اعمال میں ان لوگوں سے متاثر ہونے لگو گے۔ (آیت) ” فریقا من الذین اوتوا الکتب “۔ یہ نام کے تو اہل کتاب ہیں لیکن تلے ہوئے ہیں عداوت اسلام پر۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 99–102

آیت نمبر 102 تا 109 ترجمہ : اے ایمان والو اللہ سے ڈرو جیسا کہ اسے سے ڈرنے کا حق ہے بایں طور کہ اس کی اطاعت کی جائے اس کی نافرمانی نہ کی جائے اس کا شکر ادا کیا جائے ناشکری نہ کی جائے اور اس کو یاد رکھا جائے بھلایا نہ جائے تو صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ اس کی کس کو قدرت ہے۔ تو اس حکم کو اللہ تعالیٰ نے اپنے قول فاتقوا اللہ ما استطعتم سے منسوخ کردیا۔ اور تم جان نہ دینا بجز اس حال کے کہ تم مسلم موحد ہو اور اللہ کی رسی یعنی اس کے دین کو سب مل کر مضبوطی سے تھامے رہو اور اسلام کے بعد باہم نااتفافی نہ کرو اور اے اوس اور خزرج کے لوگو ! اپنے اوپر اللہ کے انعام کو یاد کرو جب کہ تم اسلام سے پہلے ایک…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

یا یھا الذین امنوا اے اہل ایمان یعنی اے انصار۔ ان تطیعوا فریقاً من الذین اوتوا الکتاب اگر تم اہل کتاب کے کسی فریق یعنی شماس اور اس کے ساتھیوں کے کہنے میں آجاؤگے تو۔ یردوکم بعد ایمانکم کافرین وہ تمہارے مؤمن ہونے کے بعد دوبارہ تم کو کفر کی طرف لوٹا دیں گے یعنی اعمال کفر کی طرف لے جائیں گے زید کا بیان ہے کہ حضرت جابر نے فرمایا میں نے اس روز سے زیادہ کوئی دن کبھی بد آغاز اور خوش انجام نہیں دیکھا۔ شماس بن قیس ہی کے متعلق آیت : قل یا اھل الکتاب لم تصدون۔۔ نازل ہوئی تھی اس میں رسول اللہ کو حکم دیا گیا کہ اہل کتاب سے دریافت کریں۔ 1 ؂ اس سے اہل ایمان کی عظمت قدر کا اظہار اور مخاطبِ الٰہی بننے کا طرف…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 100–101

(100۔ 101) یہ آیت مبارکہ حضرت عمار ؓ اور ان کے ساتھیوں کے بارے میں نازل ہوئی ہے جب کہ یہودیوں نے ان کو اپنے دین کی دعوت دی تھی، اہل کتاب کی ایک جماعت تمہارے ایمان لانیکے بعد یہ چاہتی ہے کہ تم اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے منکر ہوجاؤ اور تم کسیے اللہ تعالیٰ کے منکر ہوسکتے ہو حلان کہ تم پر قرآن کریم کے اوامرو نواہی پڑھے جاتے ہیں اور تمہارے پاس رسول اکرم ﷺ موجود ہیں لہٰذا جو شخص دین الہی اور اس کی کتاب پر مضبوطی کے ساتھ قائم رہا تو ایسا شخص ضرور راہ راست پر آتا ہے اور اس پر استقامت حاصل ہوتی ہے، یہ آیت حضرت معاذ اور ان کے ساتھیوں کے بارے میں نازل ہوئی اور پھر اس کے بعد دوبارہ قبیلہ اوس اور خزرج…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

اِنْ تُطِيْعُوْا فَرِيْقًا : اوپر کی دو آیتوں میں اہل کتاب کو وعید سنائی گئی، جو لوگوں کو گمراہ کر رہے تھے، اب یہاں سے مسلمانوں کو نصیحت فرمائی جا رہی ہے کہ ان سے ہوشیار رہیں اور گمراہی میں نہ پڑجائیں۔ شاہ عبد القادر ؓ لکھتے ہیں : ”اللہ تعالیٰ نے اہل کتاب کے شبہات کا جواب دے کر مسلمانوں سے فرمایا کہ ان کی بات مت سنو، یہی علاج ہے، ورنہ شبہات سنتے سنتے اپنی راہ سے پھسل جاؤ گے۔ اب بھی ہر مسلمان کا فرض ہے کہ شک پیدا کرنے والوں کی بات نہ سنیں، اس میں دین کی سلامتی ہے اور بحث سے جھگڑے بڑھتے ہیں۔“ (موضح) يَرُدُّوْكُمْ بَعْدَ اِيْمَانِكُمْ كٰفِرِيْنَ۔۔ : ایمان کے بعد پھر کافر بنا دینے میں یہ بھی شامل…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیت نمبر : 100۔ یہ آیت ایک یہودی کے بارے میں نازل ہوئی جس نے اوس اور خزرج کے درمیان اس فتنہ کو از سرنو اٹھانے کا ارادہ کیا جو ایک بار حضور نبی کریم ﷺ کے وسیلہ سے ختم ہوچکا تھا پس وہ ان کے درمیان بیٹھ گیا اور انہیں شعر سنائے دونوں قبیلوں میں سے ایک نے اسے اپنی جنگ کے بارے کہا، تو دوسرے قبیلے نے کہا : تحقیق ہمارے شاعر نے فلاں فلاں دن کہا، تو گویا اس طرح ان میں اختلاف اور شدت داخل ہوگئی، تو انہوں نے کہا : آؤ ہم جنگ کو پھر سے اسی طرح شروع کردیں جس طرح پہلے تھی تو انہوں نے آزاو دی : اے آل اوس، اور دوسروں نے پکارا اے آل خزرج، پس وہ اکٹھے ہوگئے اور انہوں نے ہتھیار اٹھالئے اور لڑنے کے لئے صفیں باندھ…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 99–102

(1) ابن المبارک نے زھد میں وعبد الرزاق والفریابی وعبد بن حمید وابن ابی شیبہ ابن جریر ابن المنذر ابن ابی حاتم ونحاس نے ناسخ میں طبرانی اور حاکم نے اس کو صحیح کہا اور ابن مردویہ نے حضرت ابن مسعود ؓ سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” اتقوا اللہ حق تقتہ “ سے مراد ہے کہ اس کی اطاعت کی جائے اور اس کی نافرمانی نہ کی جائے اور اللہ تعالیٰ کو یاد کیا جائے اور بھولا یا نہ جائے اور اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرے اور ناشکری نہ کرے۔ (2) حاکم نے اس کو صحیح کہا ابن مردویہ نے ایک اور سند سے حضرت ابن مسعود ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا لفظ آیت ” اتقوا اللہ حق تقتہ “ سے مراد ہے کہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرے…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[يٰٓاَيُّھَا الَّذِينَ : اے لوگو جو ] [اٰمَنُوْآ : ایمان لائے ] [اِنْ تُطِیْعُوْا : اگر تم لوگ اطاعت کرو گے ] [فَرِیْقًا : کسی فریق کی ] [مِّنَ الَّذِیْنَ : ان میں سے جو ] [اُوْتُوْا : دیے گئے ] [الْـکِتٰبَ : کتاب ] [یَرُدُّوْکُمْ : تو وہ لوگ پھیر دیں گے تم کو ] [بَعْدَ اِیْمَانِکُمْ : تمہارے ایمان کے بعد ] [کٰفِرِیْنَ : کفر کرنے والا ہوتے ہوئے ] ع ص م عَصَمَ (ض) عَصْمًا : کسی کو کسی سے بچانا ۔{ وَاللّٰہُ یَعْصِمُکَ مِنَ النَّاسِط } (المائدۃ :67) ” اور اللہ بچائے گا آپ ﷺ ‘ کو لوگوں سے۔ “ عَاصِمٌ (اسم الفاعل) : بچانے والا۔ { مَالَھُمْ مِّنَ اللّٰہِ مِنْ عَاصِمٍج } (یونس :32) ” ان کے لیے نہیں…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 98–101

یہودیوں کی شرارت سے مسلمانوں میں انتشار، اور مسلمانوں کو اتحاد و اتفاق کا حکم تفسیر درمنثور صفحہ 57: ج 2 میں ان آیات کا سبب نزول یوں لکھا ہے کہ شاس بن قیس ایک بوڑھا یہودی تھا جو بہت بڑا کافر تھا، یہ مسلمانوں سے بہت زیادہ کینہ رکھتا تھا اور بہت سخت حاسد بھی تھا۔ صحابہ ؓ کی ایک مجلس پر گزرا جس میں اوس اور خزرج کے حضرات جمع تھے۔ آپس میں باتیں کر رہے تھے۔ (اوس اور خزرج کے درمیان زمانہ جاہلیت میں لڑائیاں رہتی تھی) اس حاسد کو ان حضرات کا انس اور محبت کے ساتھ جمع ہونا اور آپس میں ان کی صلح ہونا بہت ناگوار ہوا۔ اس نے ایک یہودی نوجوان کو حکم دیا کہ تو جا کر ان کے پاس بیٹھ جا اور ان کو ان کی پرانی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 100–101

مسلمانوں کو اہل کتاب کے دھوکہ میں نہ آنے کی نصیحت۔ قال تعالیٰ یا ایھا الذین۔۔۔۔ تا۔۔۔۔ مستقیم۔ ربط۔ گزشتہ آیات میں یہ بیان تھا کہ اہل کتاب طرح طرح کے حیلوں اور مکاریوں سے مسلمانوں کو بہکانے اور گمراہ کرنے کی کوشش میں لگے رہتے ہیں اب ان آیات میں مسلمانوں کو اس امر کی تفہیم اور فہمائش کی جاتی ہے کہ اہل کتاب کے دھوکہ میں نہ آئیں اور ان کی بات نہ مانیں ورنہ تمہیں رفتہ رفتہ اسلام سے پھیر کر کافر بنادیں گے۔ شان نزول ان آیتوں کا شان نزول یہ ہے کہ شماس بن قیس یہودی جس کو مسلمانوں سے غایت درجہ حسد تھا ایک دن اس کا انصار کی ایک مجلس پر گزر ہوا جس میں انصار کے دونوں قبیلوں اوس اور خزرج کے لوگ شیروشکر…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

144 یہودیوں یہودیوں کے عالم اور پیر فقیر مسلمانوں کے دلوں میں شبہات پیدا کر کے انہیں توحید اور دین اسلام سے برگشتہ کرنے کی کوششوں میں ہر وقت لگے رہتے تھے اللہ تعالیٰ نے ان کے اعتراضات اور شبہات کا جواب دے کر مسلمانوں کو تنبیہ فرمائی کہ وہ ان کی چالوں ہشیار رہیں۔ اور ان کے کہنے میں نہ آئیں اور اللہ کی کتاب پر عمل کریں اور اس کے رسول کا اتباع کریں اور اس قسم کے مولویوں اور گدی نشینوں سے دور رہیں۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 98–101

ربط آیات : گذشتہ اسباق میں اللہ تعالیٰ نے اہل کتاب کے غلط ملط اعتراضات کے جوابات دیے اور ملت ابراہیمی کی وضاحت فرمائی۔ اور یہ بھی واضح کیا کہ حضور خاتم النبیین ﷺ اور آپ کے ساتھی ہی اصل ملت ابراہیمی پر قائم ہیں۔ اس کے علاوہ ملت ابراہیمی کے مرکزی قبلہ بیت اللہ شریف کا تذکرہ ہوا ، اور اس کے فضائل بھی بیان ہوئے۔ اللہ تعالیٰ نے ملت ابراہیمی کے اتباع کا بطور خصوصی حکم دیا۔ اب ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے بطور نصیحت اور تنبیہ اہل کتاب سے خطاب فرمایا ہے۔ کہ جب ھضور (علیہ السلام) کا ملت ابراہیمی پر قائم ہونا ثابت ہوچکا ، تو پھر اہل کتاب کو اس حقیقت کو تسلیم کرلینا چاہیئے۔ اور انہیں جان لینا چاہیئے۔ کہ…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اِنْ تُطِيْعُوْا فَرِيْقًا مِّنَ الَّذِيْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ يَرُدُّوْكُمْ بَعْدَ اِيْمَانِكُمْ كٰفِرِيْنَ۝ 100 أیمان يستعمل اسما للشریعة التي جاء بها محمّد عليه الصلاة والسلام، وعلی ذلك : الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ هادُوا وَالصَّابِئُونَ [ المائدة/ 69] ، ويوصف به كلّ من دخل في شریعته مقرّا بالله وبنبوته . قيل : وعلی هذا قال تعالی: وَما يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُمْ بِاللَّهِ إِلَّا وَهُمْ مُشْرِكُونَ [يوسف/ 106] . وتارة يستعمل علی سبیل المدح، ويراد به إذعان النفس للحق علی سبیل التصدیق، وذلک باجتماع ثلاثة أشياء : تحقیق بالقلب، وإقرار باللسان، وعمل بحسب ذلک…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 100–101

ترکیب : لم تکفرون سے متعلق ہے اسی طرح لم تصدون سے عن سبیل اللہ تصدون سے متعلق ہے من آمن تصدون کا مفعول تبغونہا کی ضمیر سبیل کی طرف راجع ہے کیونکہ یہ مذکر اور مونث ہے۔ عوجا حال ہے۔ تفسیر : جبکہ اہل کتاب کے اعتراضوں کا جواب دیا گیا اور دلائل تمام ہوچکے تو اب بطور نتیجہ کے ان کو فرماتا ہے کہ تم خدا کی آیات معجزات اور بشارات کا کہ جو اب تک پہلی کتابوں میں پائی جاتی ہیں کیوں انکار کرتے ہو اور ایسے لغو شبہات سے بشارات میں تاویل کرکے کس لئے ایمانداروں کو خدا کی راہ سے روکتے ہو اور کیوں دین حق میں عیب لگاتے ہو حالانکہ دل میں برحق جان رہے ہو تمہاری اس حیلہ بازی اور مکاری سے خدا غافل نہیں تم کو ضرور…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اِنْ تُطِیْعُوْا فَرِیْقًا مِّنَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْـکِتٰبَ یَرُدُّوْکُمْ بَعْدَ اِیْمَانِکُمْ کٰفِرِیْنَ ۔ (اے ایمان والو ! اگر تم کہا مانو گے اہل کتاب کے ایک گروہ کا تو وہ تمہیں تمہارے ایمان کے بعد پھر کفر کی طرف پلٹا دیں گے) (100) مسلمانوں کو اہل کتاب سے بچنے کی تاکید اہلِ کتاب کو ملامت کرنے اور حجت تمام کردینے کے بعد اب خطاب مسلمانوں سے ہو رہا ہے اور ان خطرات سے آگاہ کیا جا رہا ہے جو اہل کتاب کی طرف سے انھیں پیش آسکتے تھے۔ معلوم ہوتا ہے کہ اہل کتاب کا مسلمانوں پر حملہ دو طرفہ تھا۔ ایک طرف تو وہ ان کی سادگی اور امی ہونے سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اسلام کے…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 99–100

فہم القرآن ربط کلام : پہلی آیت میں اہل کتاب کو اسلام کے راستے میں رکاوٹ ڈالنے سے روکا گیا ہے۔ اب مسلمانوں کو متنبہ فرمایا کہ اہل کتاب کی پیروی نہ کرنا یہ تمہیں گمراہ کرنے کے درپے رہتے ہیں۔ قرآن مجید متعدد مقامات پر مسلمانوں کو ہدایت کرتا ہے کہ اگر تم اہل کتاب کو راضی کرنے کی کوشش کرو گے تو وہ ہرگز راضی نہیں ہوں گے۔ ان کی خواہش اور کوشش ہے کہ تمہیں ایمان سے منحرف کر کے کافر بنا دیں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے آخری پیغمبر حضرت محمد ﷺ کو متنبہ کرتے ہوئے فرمایا میرے پیغمبر ! جب تک آپ ان کی خواہشات کی پیروی نہ کریں گے تب تک یہ آپ پر بھی راضی نہ ہوں گے۔ [ البقرۃ : 120] اس لیے ارشاد ہوتا ہے کہ تم کس طرح…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

100: یٰٓـاَ ۔ یُّہَا الَّذِیْنَ ٰامَنُوْٓا اِنْ تُطِیْعُوْا فَرِیْقًا مِّنَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْکِتٰبَ یَرُدُّوْکُمْ بَعْدَاِیْمَانِکُمْ کٰفِرِیْنَ ۔ (اے ایمان والو ! اگر تم اہل کتاب کی ایک جماعت کی پیروی کروگے تو وہ تمہیں تمہارے ایمان کے بعد کفر کی طرف پھیر دیں گے) شاس بن قیسؔ یہودی کی شرارت : کہا جاتا ہے کہ شاس بن قیس یہودی کا گزر اوس و خزرج کی ایک جماعت کے پاس سے ہوا جہاں بیٹھ کر وہ باتوں میں مصروف تھے۔ اس کو مسلمانوں کی باہمی الفت و محبت ایک آنکھ نہ بھائی۔ اس نے ایک یہودی نوجوان کو کہا کہ وہ ان کے مابین جا کر جنگ بعاث کا تذکرہ کرے شاید کہ یہ لڑ پڑیں یہ جنگ بعاث ایسا دن تھا جس میں اوس و…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

100۔ (آیت)” یایھا الذین امنوا ان تطیعوا فریقا من الذین اوتوالکتاب “۔ (انصار میں پھوٹ پیدا کرنے کی یہودی سازش) زید بن اسلم ؓ نے کہا کہ مرشاش بن قیس (بعض نے شماس بن قیس لکھا ہے) یہودی بڑا سخت کافر تھا یہ مسلمانوں پر بہت طعن وتشنیع کرتا تھا ، اوس اور خزرج کے کچھ لوگوں کی مجلس کے پاس سے گزرا یہ دونوں قبیلے والے آپس میں محوگفتگو تھے ، اس یہودی نے ان کو دیکھتے ہی (کہ ان کے درمیان کتنی گہری محبت ہے) جل گیا کیونکہ زمانہ جاہلیت میں ان دونوں قبیلوں کے درمیان عداوت تھی ، اسلام لانے کے بعد ان کے درمیان محبت ہوگئی اور کہنے لگا کہ بنی قیلہ کی جماعتیں تو اس ملک میں کبھی جمع نہیں ہوتیں اگر یہ جمع ہوگئے تو…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 100–103

(100 ۔ 103) ۔ تفسیر ابن ابی حاتم میں حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے اور تفسیر ابو الشیخ اور تاریخ ابن اسحاق میں زید بن اسلم ؓ سے روایت ہے کہ انصار کے دو قبیلوں اوس اور خزرج میں اسلام سے پہلے بڑی عدوت اور صدہا برس کی لڑائی تھی۔ اسلام کے بعد ان دونوں قبیلوں میں بڑا میل جول ہوگیا۔ اور مدتوں کی آپس کی لڑائی بالکل جاتی رہی ایک روز ان دونوں قبیلے کے کچھ مسلمان بیٹھے ہوئے بڑی محبت سے آپس میں باتیں کر رہے تھے اتنے میں ایک شخص یہودی شاش بن قیس کا ادھر سے گذر ہوا اس یہود کو یہ امر شاق ہوا کہ ان دونوں قبیلوں میں باوجود ایسی سخت عداوت کے ایسی دلی کیونکر ہوگئی اور اس یہود نے چاہا کہ ان مسلمانوں میں پھر پھوٹ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 98–101

اللہ تعالیٰ یہود و نصاریٰ کو زجر وتوبیخ فرماتا ہے کیونکہ انہوں نے اللہ کی آیات کے ساتھ کفر کیا، جو اس نے اپنے رسولوں پر نازل کیں، جنہیں اللہ نے اپنے بندوں کے لئے رحمت بنایا کہ ان کی رہنمائی میں اللہ تک پہنچ سکیں اور ان کی مدد سے تمام اہم مقاصد اور مفید علوم حاصل کریں۔ ان کافروں نے ان کا انکار بھی کیا، ان پر ایمان لانے والوں کو روکا، ان میں تحریف کی، انہیں اصل مفہوم سے پھیرنے کی کوشش کی۔ وہ خود ان جرائم کو تسلیم کرتے ہیں۔ انہیں خوب معلوم ہے کہ ان کا یہ کام بہت بڑا کفر ہے، جس کی سزا بہت سخت ہے۔ جیسے ارشاد ہے : (الذین کفروا وصدوا عن سبیل اللہ زدنھم عذاباً فوق العذاب بما کانوا یفسدون) (النحل…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 98–102

تقوی کی حد قول باری ہے (یایھا الذین آمنوا اتقوا اللہ حق تقاتہ، اے ایمان والو اللہ سے ڈرو جیسا کہ اس سے ڈرنے کا حق ہے) حضرت عبداللہ ؓ ، حسن اور قتادہ سے مروی ہے کہ (حق تقاتہ) کا مطلب یہ ہے کہ اس کی اطاعت کی جائے ادرنافرمانی نہ کی جائے اس کا شکراداکیاجائے اور ناشکری نہ کی جائے اسے یادکیاجائے اور بھلایانہ جائے۔ ایک قول میں اس کے معنی یہ بیان کیئے گئے ہیں کہ تمام گناہوں اور نافرنیوں سے پرہیز کیا جائے، اس آیت کے منسوخ ہونے کے متعلق اختلاف ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ اور طاؤس سے مروی ہے کہ یہ محکم ہے منسوخ نہیں ہوئی۔ قتادہ ربیع بن انس اور سدی سے مروی ہے کہ یہ قول باری (فاتقوا اللہ مااستطعتم، جہاں تک تم سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

204 دشمن کی شرانگیزیوں سے ہوشیار و محتاط رہنے کی تعلیم و تلقین : سو اہل ایمان کو خطاب کر کے اس بارے تنبیہ فرمائی گئی کہ اگر تم نے اہل کتاب کے ایک گروہ کی بات مان لی جو کہ تم پر حسد کی آگ میں جل رہا ہے، اور تمہارا راہ حق پر قائم رہنا اس کو گوارا نہیں، تو وہ تمہیں تمہارے ایمان سے پھیر کر کافر بنادیگا ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ پس تمہیں ان سے ہر حال میں ہوشیار رہنا ہوگا۔ روایات کے مطابق شماس بن قیس نامی ایک یہودی نے، جو کہ اسلام اور مسلمانوں سے حد درجہ حسد اور بغض رکھتا تھا، ایک دفعہ انصار کے ایک مجمع میں یہ دیکھ کر جل گیا کہ اوس اور خزرج کے وہ دونوں قبیلے جو کہ اسلام سے قبل آپس میں ایک دوسرے کے…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 100–101

اہل ایمان کو نصیحت تشریح : ان آیات میں مسلمانوں کو اللہ کی رحمتوں، برکتوں اور فضل و کرم کے بارے میں بتا جارہا ہے کہ اس نے تمہیں ایمان کی دولت عطا کی اور رسول اللہ ﷺ جو کہ آخری نبی ہیں۔ تمہارے سامنے موجود ہیں تو پھر خبردار ! ان یہود و نصارٰی کی کسی بھی چال میں پھنس کر ایمان کی راہ سے نہ ہٹ جانا۔ اگر تم میں سے کوئی بھی ان کی باتوں میں آکر ذرا سا بھی پھسل گیا تو یہ بہت خسارہ ہوگا۔ اس لیے اپنے ایمان پر مضبوطی سے قائم رہو اور شیطانوں سے ہوشیار رہو۔ اللہ رب العزت پھر تمہاری ہر صورت ضرور مدد کرے گا۔ بیشک نیکوں کے لیے نیک راستے کھول دیئے جاتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 92–101

آیات 92- 101 اسرارومعارف لن تنالو البر……………فان اللہ بہ علیم۔ بر سے مراد نیکی ہے اور نیکی کی اصل قرب رسول ہے کہ نبوت ایک ایسی نعمت ہے جس کی وجہ سے نبی معصوم ہوتا ہے یعنی مکالمہ باری کی برکات میں سے عصمت بھی ہے جو تمام انبیاء (علیہم السلام) کو نصیب ہوتی ہے۔ حصول بر قرب رسالت کا نام ہے : اسی طرح نبی کے قرب سے ایک خاص وصف ، جو مومن میں پیدا ہوتا ہے وہ گناہ سے نفرت اور نیکی کی محبت ہے جس کے باعث مومن گناہ سے محفوظ ہوجاتا ہے۔ اسی درجے کو حصول بر کہہ سکتے ہیں۔ اب اگر کسی شخص کو کسی طرح کا مال یا منافع اتنا عزیز ہو کہ وہ اسے حاصل کرنے کے لئے اپنے مسلمان ہونے کا اعلان کرے تو وہ اسلام کو کیسے پاسکتا…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 2 اوپر کی دو آیتوں میں اہل کتاب کو دعوت سنائی گئی جو لوگوں کو گمراہ کر رہے تھے اب یہاں سے مسلمانوں ج کو نصحیت فرمائی جارہی ہے کہ ان سے ہو شیار رہیں اور گمراہی میں نہ پڑجائیں (کبیر۔ فتح القدیر) شاہ صاحب (رح) نے فرمایا : اللہ تعالیٰ نے اہل کتاب کے شبہوں کا جواب دے کر مسلمانوں سے فرمایا کہ ان کی بات مت سنویہی علاج ہے نہیں تو شب ہے سنتے سنتے اپنی تازہ اپنی راہ سے پھسل جاو گے اب بھی مسلمان کا فرض ہے کہ اصحاب تشکیک کی بات نہ سنے اس میں دین کی سلامتی ہے اور بحث وجدال سے شب ہے بڑھتے ہیں۔ (وحید ی) ا انصار کے دو قبیلوں اور و خزرج کے درمیان اتحاد واتفاق پر یہود کو بہت حسد تھا ایک روز شاس بن قیس یہودی…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

Explained with ayahs 99–102

(3:99) تصدون۔ صد (نصر) تم روکتے ہو۔ تم بند کرتے ہو۔ مضارع جمع مذکر حاضر۔ تبغونھا۔ تم اس کو چاہتے ہو بغی سے۔ مضارع جمع مذکر حاضر۔ ھا ضمیر واحد مؤنث غائب جو سبیل اللہ کی طرف راجع ہے۔ سبیل مذکر مؤنث دونوں طرح استعمال ہوتا ہے۔ عوج یعوج (سمع) سے اس ہے ٹیڑھا ہونا۔ کج ہونا۔ جو کجی آنکھوں سے نظر آجائے۔ مثلاً دیوار کا ٹیڑھا ہونا۔ وہ عوج (بفتح عین) ہے اور جو نظر نہ آئے مثلاً سوچ و سمجھ میں کجی۔ قول میں کجی (عین کے کسرہ کے ساتھ) ہے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 93–101

لغات القرآن آیت نمبر 93 تا 101 الطعام (کھانا) غنی (بےنیاز، بےپرواہ) فاتوا (پھر تم لے آؤ) تصدون (تم روکتے ہو) من افترٰی (جس نے گھڑا، جو کوئی تہمت لگائے) عوج (ٹیڑھ پن) صدق اللہ (اللہ نے سچ فرمایا) تتلیٰ (تلاوت کی گئی) اول بیتٍ (پہلاگھر) یعتصم مضبوط پکڑلیتا ہے) وضع (جس کو طاقت ہے، جو استطاعت رکھتا ہے) ۔ تشریح : آیت نمبر 93 تا 101 عیسائیوں اور یہودیوں کو اس بات پر بڑا فخر تھا کہ وہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی نسل سے ہیں۔ وہ اس بات کے بھی مدعی تھے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا اصل مذہب سینہ بہ سینہ ان تک ہی پہنچا ہے۔ جب نبی کریم ﷺ نے اپنا ملت ابراہیمی پر ہونا ہر اعتبار سے ثابت کردیا تو…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 100–103

مسلمانوں کو کفار سے میل جول کی ممانعت تفسیر ابن ابی حاتم میں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ وغیرہ سے روایت ہے کہ انصار کے دو قبیلوں اوس اور خزرج میں اسلام سے پہلے بڑی عداوت تھی۔ آنحضرت ﷺ کے صدقہ ان قبیلوں کے لوگ اسلام لا کر باہم شیر وشکر ہوگئے۔ ایک روز وہ ایک مجلس میں بیٹھے ہوئے بڑی محبت کی باتیں کر رہے تھے، شاس بن قیس یہودی جو اسلام کا بڑا دشمن تھا اس طرف سے گزرا اور ان کی باہمی محبت دیکھ کر جل گیا اور کہا کہ یہ لوگ آپس میں مل گئے تو ہمارا کیا ٹھکانا ہے۔ ایک جوان کو مقرر کیا کہ ان کی مجلس میں بٹھ کر ان کی پچھلی لڑائیوں کا ذکر کیا کرے۔ چناچہ اس نے ایسا ہی کیا اور اس کی شر انگیزی سے دونوں قبیلوں کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 97–102

[37] یعنی ایسی علامات جو اس گھر کے اللہ کی جناب میں قبول ہونے پر دلالت کرتی ہیں اور وہ یہ ہیں : (1) لق و دق صحرا میں بنایا گیا اور پھر اللہ نے اس جگہ کو آباد کردیا اور وہاں کے رہنے والوں کے لئے رزق رسانی کے لئے بہتر سے بہتر انتظام کردیا۔ (2) ڈھائی ہزار برس تک دور جاہلیت میں تمام عرب فتنہ و فساد میں مبتلا رہا۔ صرف خانہ کعبہ اور اسی کے اطراف کا ایک خطہ ایسا تھا جس میں امن قائم رہا بلکہ اسی کعبہ کی یہ برکت تھی کہ سال بھر میں چار مہینے کے لئے پورے ملک میں اسی کی بدولت امن قائم ہوجاتا تھا۔ (3) یمن کی حبشی حکومت کے عیسائی بادشاہ ابرہہ نے اس آیت کے نزول سے صرف پچاس سال قبل جب کعبہ کو ڈھانے کی غرض سے…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 98–100

(ف 1) ان آیات میں اہل کتاب کی مخالفانہ اور معاندانہ کوششوں کا ذکر ہے کہ وہ جانتے ہوئے بھی حق وصداقت کا انکار کرتے ہیں اور صرف انکار پر ہی کفایت نہین کرتے بلکہ چاہتے ہیں کہ ان کے ساتھ دوسرے مسلمان بھی شریک ہوجائیں اور اراتداد اختیار کرلیں ، فرمایا مسلمانوں سے اس قسم کی توقعات رکھنا درست نہیں ، اس لئے کہ وہ صبح وشام قرآن حکیم کی آیات سنتے ہیں جن میں تمہارے ہر فریب کی تشریح موجود ہے اور ان کے شبہات دور کرنے کے لئے خود اللہ کا رسول ﷺ ان میں موجود ہے جو بجائے خود ہر کفر ونفاق کا ایک مستقل جواب ہے ، جب تک اس کا وجود مسعود مسلمانوں میں موجود ہے ، انہیں ارتداد کا خوف نہیں ، اور اگر کوئی بخت پہلے سے…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

ف 3 اے ایمان والو اگر تم نے ان لوگوں میں سے کسی فرقہ کی بات مانی جن کو کتاب دی گئی ہے یعنی اہل کتاب میں سے کسی فریق کا کہنا مانا تو وہ لوگ تم کو تمہارے ایمان لانے کے پیچھے پھر کافر بنادیں گے اور کفر پر تم کو لوٹا دیں گے۔ (تیسیر) حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ نے اہل کتاب کے شبہوں کا جواب دے کہ مسلمانوں کو فرمایا کہ ان کی بات مت سنو یہی علاج ہے نہیں تو شبہے سنتے سنتے اپنی راہ سے نکل جائو گے اب بھی ہر مسلمان کو چاہئے کہ شبہے والوں کی بات نہ سنے اس میں دین کی تل امتی ہے اور جھگڑنے سے شبہے بڑھتے ہیں۔ (موضح القرآن) مطلب یہ ہے کہ کوئی پارٹی ہو خواہ شماس ابن قیس کا گروہ ہو یا کوئی اور…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 98–102

ف 1۔ کامل ڈرنے کا مطلب یہ ہے کہ جس طرح شروکفر سے بچے ہو کل معاسی سے بھی بچا کرو آیت کا مطلب یہ ہے کہ ادنی تقوی پر اکتفامت کرو بلکہ اعلی اور کامل درجہ کا تقوی اختیار کرو جس میں معاصی سے بھی بچنا آگیا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

مسلمانوں کو مخاطب کیا جاتا ہے کہ تم اہل کتاب کی باتوں میں کیوں آتے ہو ؟ : 193: ” باتوں میں آنا “ ایک محاورہ ہے جس کا مطلب ہے کہ ناسمجھی کی بناء پر کسی سے دھوکہ کھا کر مسلمان اور ایسی ناسمجھی آخر کیوں ؟ مسلمان کی شان تو یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی اسلامی روشنی سے دیکھتا ہے اور اس کے مقابلہ میں ایک کافر اندھا ، بہرا اور گونگا ہوتا ہ۔ کیا نابینا بینا کو راہ دکھائے گا تم بھی عقل کے ناخن لو اور اپنی حیثیت کو سمجھو تم مسلمان ہو تم کو ان کے دھوکا میں آنا نہایت شرم کی بات ہے۔ قرآن کریم کی ہدایت جب سے وہ نازل ہوا اس وقت سے اس دنیا کے نظام کے قیام تک باقی رہنا تھیں ، اس لیے وہ صرف ان ہی لوگوں کے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 98–101

Commentary Several verses earlier, the text was dealing with the people of the Book, their false beliefs and their doubts. Then, appeared the mention of بیت اللہ Baytullah and Hajj. Now once again, the people of the Book are the addressees. These verses relate to a particular event. There was a Jew, Shammas ibn Qays, who harboured a chronic malice against Muslims. Once, when he saw two Ansar tribes, Aws and Khazraj, gathered together amiably at one place, his malevolence got the better of him and he went about looking for ways to sow seeds of discord between them. Finally, he set up a man…

Read the full tafseer →