Explained with ayahs 100–101
کامیابی کا انحصار کس پر ہے
اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے مومن بندوں کو اہل کتاب کے اس بدباطن فرقہ کی اتباع کرنے سے روک رہا ہے کیونکہ یہ حاسد ایمان کے دشمن ہیں اور عرب کی رسالت انہیں ایک آنکھ نہیں بھاتی، جیسے اور جگہ ہے آیت (ودکثیر) الخ، یہ لوگ جل بھن رہے ہیں۔ اور تمہیں ایمان سے ہٹانا چاہتے ہیں تم ان کے کھوکھلے دباؤ میں نہ آجانا، گو کفر تم سے بہت دور ہے لیکن پھر بھی میں تمہیں آگاہ کئے دیتا ہوں، اللہ تعالیٰ کی آیتیں دن رات تم میں پڑھی جا رہی ہیں اور اللہ تعالیٰ کا سچا رسول ﷺ تم میں موجود ہے جیسے اور جگہ ہے آیت (مالکم لا تو منون باللہ) تم ایمان کیسے نہ لاؤ رسول ﷺ تمہیں تمہارے رب کی طرف بلا رہے ہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 98–102
سورة اٰلِ عِمْرٰن 82
یعنی مرتے دم تک اللہ کی فرماں برداری اور وفاداری پر قائم رہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 98–101
ربط آیات
اوپر سے اہل کتاب کے عقائد فاسدہ اور ان کے شبہات پر کلام چل رہا تھا، درمیان میں بیت اللہ اور حج کا تذکرہ آیا، آگے پھر اہل کتاب ہی سے خطاب ہے جس کا تعلق ایک خاص واقعہ سے ہے، کہ ایک یہودی شماس بن قیس مسلمانوں سے بہت کینہ رکھتا تھا، اس نے ایک مجلس میں انصار کے دو قبیلوں اوس اور خزرج کو ایک جگہ مجتمع و متفق دیکھا تو حسد سے بےچین ہوگیا، اور ان میں تفریق ڈالنے کی فکر میں لگا، آخر یہ تجویز کی کہ ایک شخص سے کہا کہ ان دونوں قبیلوں میں اسلام سے پہلے جو ایک بڑی جنگ عرصہ دراز تک رہ چکی ہے، اور اس کے متعلق فریقین کے فخریہ اشعار ہیں وہ اشعار ان کی مجلس میں پڑھ دیئے جائیں۔ چناچہ اشعار کا پڑھنا تھا…
Read the full tafseer →فتنوں سے محفوظ رہنے کی تدبیریں : اعتصام کے معنی کسی شے کو مضبوطی سے پکڑنے اور تھامنے کے ہیں۔ اعتصام باللہ کے معنی اللہ کے احکام و ہدایات اور اس کی کتاب پر مضبوطی سے نرم و گرم ہر طرح کے حالات میں مخالفت و موافقت سے بےنیاز ہو کر قائم رہنا ہے۔ آیت کا مطلب یہ ہے کہ یوں تو کفر و ارتداد ہر حالت میں انسان کی بدبختی اور اس کی شامت کی دلیل ہے لیکن آج تم نے اگر یہ راہ اختیار کی جب کہ اللہ کی آیات تمہیں سنائی جا رہی ہیں اور خدا رسول تمہارے اندر موجود ہے تو یہ محرومی و بدبختی کی انتہا ہوگی۔ اس کے معنی یہ ہوں گے کہ تم نے پورے دن کی روشنی میں ٹھوکر کھائی اور اپنے لیے عذر کا کوئی شائبہ بھی باقی نہ چھوڑا۔…
Read the full tafseer →11۔ 1 اعتصام باللہ۔ اللہ کے دین کو مضبوطی سے تھام لینا اور اس کی اطاعت میں کوتاہی نہ کرنا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 100–106
36: اگر یہ یہودیوں کا ذکر ہے تو ایمان سے مراد ان کا تورات پر ایمان لانا ہے اور اگر منافقین مراد ہیں تو ایمان کا مقصد ان کا زبانی اعلان ہے جس کے ذریعے وہ اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کرتے تھے۔ تیسرا احتمال یہ بھی ہے کہ خبر دار اسلام کو چھوڑ نہ بیٹھنا، اس لیے یہ بیان کیا گیا ہے کہ جو لوگ واقعۃ مرتد ہوجائیں گے، ان کا آخرت میں کیا حال ہوگا
Read the full tafseer →ہاں ‘ ایسے حالات میں ‘ ایمان لانے کے بعد کسی مومن کا کافر ہوجانا بیشک ایک عظیم امر ہے ‘ اور جب رسول اللہ ﷺ نے اپنا وقت پورا کرلیا اور اپنے رفیق الاعلیٰ کے ساتھ جاملے تو اس صورت میں بھی آیات الٰہی موجود ہیں ۔ اور سنت رسول ﷺ باقی ہے ۔ آج ہم بھی ان آیات کے اسی طرح مخاطب ہیں جس طرح قرون اولیٰ کے لوگ مخاطب تھے ۔ اور آج بھی کامیابی کی راہ واضح ہے اور کامیابی کے جھنڈے بلند ہیں ۔ وَمَنْ يَعْتَصِمْ بِاللَّهِ فَقَدْ هُدِيَ إِلَى صِرَاطٍ مُسْتَقِيمٍ……………” اور جو اللہ کا دامن مضبوطی سے تھامے گا وہ ضرور راہ راست پالے گا۔ “
ہاں ‘ اللہ کا دامن تھام لینے میں ہی نجات ہے۔ اللہ جل شانہٗ موجود ہیں ۔ وہ زندہ اور…
Read the full tafseer →4 یعنی بہت بعید ہے کہ وہ قوم ایمان لائے پیچھے کافر بن جائے یا کافروں جیسے کام کرنے لگے، جس کے درمیان خدا کا عظیم الشان پیغمبر جلوہ افروز ہو، جو شب و روز ان کو اللہ کا روح پرور کلام اور اسکی تازہ بتازہ آیتیں پڑھ کر سناتا رہتا ہے، سچ تو یہ ہے کہ جس نے ہر طرف سے قطع نظر کر کے ایک خدا کو مضبوط پکڑ لیا اور اسی پر دل سے اعتماد و توکل کیا اسے کوئی طاقت کامیابی کے سیدھے راستہ سے ادھر ادھر نہیں ہٹا سکتی۔
(تنبیہ) انصار مدینہ کے دو خاندانوں اوس و خزرَج کے باہم اسلام سے قبل سخت عداوت اور دشمنی تھی، ذرا ذرا بات پر لڑائی اور خونریزی کا بازار گرم ہوجاتا تھا جو برسوں تک سرد نہ ہوتا تھا۔ چناچہ " بعاث " کی…
Read the full tafseer →آیت 101 وَکَیْفَ تَکْفُرُوْنَ وَاَنْتُمْ تُتْلٰی عَلَیْکُمْ اٰیٰتُ اللّٰہِ وَفِیْکُمْ رَسُولُہٗ ط۔
تمہارے درمیان محمد رسول اللہ ﷺ بنفس نفیس تمہاری راہنمائی کے لیے موجود ہیں اور تمہیں اللہ تعالیٰ کی آیات پڑھ پڑھ کر سنا رہے ہیں۔ اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ مدینہ میں علماء یہود کا کتنا اثر تھا۔ اوس اور خزرج کے لوگ ان سے مرعوب تھے کیونکہ یہ اَن پڑھ لوگ تھے ‘ ان کے پاس کوئی کتاب ‘ کوئی شریعت اور کوئی قانون نہیں تھا ‘ جبکہ یہود صاحب کتاب اور صاحب شریعت تھے ‘ ان کے ہاں علماء تھے۔ لہٰذا اوس اور خزرج کے جو لوگ اسلام لے آئے تھے ان کے بارے میں اندیشہ ہوتا تھا کہ کہیں یہود کی ریشہ دوانیوں کا شکار نہ…
Read the full tafseer →91 گویا یہود کے گمراہ کن پروپیگنڈے سے بچنے کی دو صورتیں ہیں۔ ایک یہ کہ اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو ان کی سازشوں سے بروقت متنبہ کردیتا ہے اور دوسرے یہ کہ ایسی صورت حال میں مسلمانوں کو چاہئے کہ فوراً رسول اللہ ﷺ کی طرف رجوع کریں جو خود بھی مسلمانوں کے احوال پر گہری اور مشفقانہ نظر رکھتے ہیں۔ لہذا جو شخص یہود کی شرارتوں سے بچنے اور راہ مستقیم پر ثابت قدم رہنے کی کوشش کرے گا۔ اللہ تعالیٰ یقینا اسے ایسی فتنہ انگیزیوں سے بچا لے گا۔
Read the full tafseer →213 ۔ مطلب یہ ہے کہ تمہارے لئے دین حق سے ارتداد کی گنجائش ہی کب ہے جبکہ تم میں قرآن اور سنت رسول اللہ ﷺ موجود و محفوظ ہے ؟ ذلک لان تلاوتہ ایات اللہ علیھم حالا بعد حال مع کون الرسول فیھم الذی یزیل کل شبھۃ ویقرر کل حجۃ کالما نع من وقوعھم فی الکفر (بحر) (آیت) ” کیف تکفرون “۔ میں کفر سے مراد اعمال کفر کی طرف باز گشت ہے اور کیف اظہار تعجب کے لیے ہے۔ قالہ تعالیٰ علی جھۃ التعجب (قرطبی) قیل المراد بکفر ھم فعلھم افعال الکفرۃ (روح) (آیت) ” ایت اللہ “۔ یعنی قرآن کی آیتیں اور قرآن کے درمیان موجود و محفوظ ہے۔ (آیت) ” وفیکم رسولہ “۔ یعنی سردست تو وہ بہ نفس نفیس تشریف فرما ہیں ہر شبہ مٹا سکتے اور راہ بتا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 99–102
آیت نمبر 102 تا 109
ترجمہ : اے ایمان والو اللہ سے ڈرو جیسا کہ اسے سے ڈرنے کا حق ہے بایں طور کہ اس کی اطاعت کی جائے اس کی نافرمانی نہ کی جائے اس کا شکر ادا کیا جائے ناشکری نہ کی جائے اور اس کو یاد رکھا جائے بھلایا نہ جائے تو صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ اس کی کس کو قدرت ہے۔ تو اس حکم کو اللہ تعالیٰ نے اپنے قول فاتقوا اللہ ما استطعتم سے منسوخ کردیا۔ اور تم جان نہ دینا بجز اس حال کے کہ تم مسلم موحد ہو اور اللہ کی رسی یعنی اس کے دین کو سب مل کر مضبوطی سے تھامے رہو اور اسلام کے بعد باہم نااتفافی نہ کرو اور اے اوس اور خزرج کے لوگو ! اپنے اوپر اللہ کے انعام کو یاد کرو جب کہ تم اسلام سے پہلے ایک…
Read the full tafseer →و کیف تکفرون و انتم تتلی علیکم ایٰت اللہ نازل ہوئی کیف استفہامیہ تعجب و انکار کے لیے ہے یعنی تعجب ہے کہ تم اعمال کفر کی طرف جا رہے ہو حالانکہ ابھی تازہ بتازہ اللہ کا کلام رسول اللہ کی معرفت تم پر اتارا جا رہا ہے اور پڑھ کر تم کو سنا یا جا رہا ہے۔
و فیکم رسولہ اور اللہ کا رسول بھی تمہارے اندر موجود ہے جو تمہاری روک ٹوک کرتا وعظ فرماتا اور تمہارے شبہات مٹاتا ہے مطلب یہ ہے کہ کفر سے روکنے والے اور ایمان کی طرف بلانے والے سارے اسبابِ الٰہی موجود ہیں اور تمہارے سامنے جمع ہیں۔ قتادہ نے کہا اس آیت میں دو واضح علم مذکور ہیں اللہ کی کتاب اور اللہ کا نبی۔ رسول خدا تو چلے گئے کتاب اللہ باقی ہے جو اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 100–101
(100۔ 101) یہ آیت مبارکہ حضرت عمار ؓ اور ان کے ساتھیوں کے بارے میں نازل ہوئی ہے جب کہ یہودیوں نے ان کو اپنے دین کی دعوت دی تھی، اہل کتاب کی ایک جماعت تمہارے ایمان لانیکے بعد یہ چاہتی ہے کہ تم اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے منکر ہوجاؤ اور تم کسیے اللہ تعالیٰ کے منکر ہوسکتے ہو حلان کہ تم پر قرآن کریم کے اوامرو نواہی پڑھے جاتے ہیں اور تمہارے پاس رسول اکرم ﷺ موجود ہیں لہٰذا جو شخص دین الہی اور اس کی کتاب پر مضبوطی کے ساتھ قائم رہا تو ایسا شخص ضرور راہ راست پر آتا ہے اور اس پر استقامت حاصل ہوتی ہے، یہ آیت حضرت معاذ اور ان کے ساتھیوں کے بارے میں نازل ہوئی اور پھر اس کے بعد دوبارہ قبیلہ اوس اور خزرج…
Read the full tafseer →وَكَيْفَ تَكْفُرُوْنَ۔۔ : ابن عباس ؓ فرماتے ہیں : ”جاہلیت میں اوس اور خزرج کے درمیان لڑائی رہی تھی، اب ایک دفعہ وہ بیٹھے ہوئے تھے کہ انھوں نے آپس میں جو کچھ ہوا تھا اس کا ذکر کیا تو دونوں غصے میں آگئے اور ایک دوسرے کے مقابلے کے لیے اسلحہ لینے کے لیے اٹھے، تو اس پر یہ آیت اتری : (وَكَيْفَ تَكْفُرُوْنَ وَاَنْتُمْ تُتْلٰى عَلَيْكُمْ اٰيٰتُ اللّٰهِ وَفِيْكُمْ رَسُوْلُهٗ ۭ) [ ابن أبی حاتم : 3؍110، ح : 3948 طبری ]
2 وَاَنْتُمْ تُتْلٰى عَلَيْكُمْ اٰيٰتُ اللّٰهِ وَفِيْكُمْ رَسُوْلُهٗ ۭ: یعنی تمہاری طرف سے کفر کا ارتکاب بہت بعید ہے، کیونکہ اللہ کی آیات تم پر پڑھی جا رہی ہیں، اس کا رسول بنفس نفیس تم…
Read the full tafseer →آیت نمبر : 101۔
اللہ تعالیٰ نے بطور تعجب یہ ارشاد فرمایا : (آیت) ” وکیف تکفرون وانتم تتلی علیکم ایت اللہ “۔ آیات اللہ سے مراد قرآن کریم ہے (آیت) ” وفیکم رسولہ “ اور تم میں اس کا رسول حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ تشریف فرما ہے، حضرت ابن عباس ؓ نے بیان فرمایا : زمانہ جاہلیت میں قبلیہ اوس اور خزرج کے درمیان جنگ وجدال جاری رہا تو انہوں نے اسی کا ذکر کیا جو ان کے درمیان ہوتا تھا، نتیجتا ان میں سے بعض نے بعض پر تلواریں سونت لیں، پس حضور نبی مکرم ﷺ کو لایا گیا اور اس کا تذکرہ آپ ﷺ کے پاس کیا گیا تو آپ انکی طرف تشریف لے گئے، چناچہ یہ آیت نازل ہوئی۔ (آیت) ” وکیف تکفرون وانتم تتلی علیکم ایت اللہ وفیکم رسولہ ومن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 99–102
(1) ابن المبارک نے زھد میں وعبد الرزاق والفریابی وعبد بن حمید وابن ابی شیبہ ابن جریر ابن المنذر ابن ابی حاتم ونحاس نے ناسخ میں طبرانی اور حاکم نے اس کو صحیح کہا اور ابن مردویہ نے حضرت ابن مسعود ؓ سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” اتقوا اللہ حق تقتہ “ سے مراد ہے کہ اس کی اطاعت کی جائے اور اس کی نافرمانی نہ کی جائے اور اللہ تعالیٰ کو یاد کیا جائے اور بھولا یا نہ جائے اور اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرے اور ناشکری نہ کرے۔
(2) حاکم نے اس کو صحیح کہا ابن مردویہ نے ایک اور سند سے حضرت ابن مسعود ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا لفظ آیت ” اتقوا اللہ حق تقتہ “ سے مراد ہے کہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرے…
Read the full tafseer →[وَکَیْفَ تَـکْفُرُوْنَ : اور تم لوگ کیسے کفر کروگے ] [وَ : حالانکہ (یعنی جبکہ) ] [اَنْتُمْ : تم لوگ ہو (کہ) ] [تُـتْلٰی عَلَیْکُمْ : پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تم کو ] [اٰیٰتُ اللّٰہِ : اللہ کی آیتیں ] [وَ : اور (جبکہ) ] [فِیْکُمْ : تم لوگوں میں ہے ] [رَسُولُــہٗ : اس کا رسول ﷺ ] [وَمَنْ یَّـعْتَصِمْ : اور جو مضبوطی سے پکڑے گا ] [بِاللّٰہِ : اللہ کو ] [فَقَدْ ہُدِیَ : تو لازماً اس کی راہنمائی کی جائے گی ] [اِلٰی صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ : ایک سیدھے راستے کی طرف ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 98–101
یہودیوں کی شرارت سے مسلمانوں میں انتشار، اور مسلمانوں کو اتحاد و اتفاق کا حکم
تفسیر درمنثور صفحہ 57: ج 2 میں ان آیات کا سبب نزول یوں لکھا ہے کہ شاس بن قیس ایک بوڑھا یہودی تھا جو بہت بڑا کافر تھا، یہ مسلمانوں سے بہت زیادہ کینہ رکھتا تھا اور بہت سخت حاسد بھی تھا۔ صحابہ ؓ کی ایک مجلس پر گزرا جس میں اوس اور خزرج کے حضرات جمع تھے۔ آپس میں باتیں کر رہے تھے۔ (اوس اور خزرج کے درمیان زمانہ جاہلیت میں لڑائیاں رہتی تھی) اس حاسد کو ان حضرات کا انس اور محبت کے ساتھ جمع ہونا اور آپس میں ان کی صلح ہونا بہت ناگوار ہوا۔ اس نے ایک یہودی نوجوان کو حکم دیا کہ تو جا کر ان کے پاس بیٹھ جا اور ان کو ان کی پرانی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 100–101
مسلمانوں کو اہل کتاب کے دھوکہ میں نہ آنے کی نصیحت۔
قال تعالیٰ یا ایھا الذین۔۔۔۔ تا۔۔۔۔ مستقیم۔
ربط۔ گزشتہ آیات میں یہ بیان تھا کہ اہل کتاب طرح طرح کے حیلوں اور مکاریوں سے مسلمانوں کو بہکانے اور گمراہ کرنے کی کوشش میں لگے رہتے ہیں اب ان آیات میں مسلمانوں کو اس امر کی تفہیم اور فہمائش کی جاتی ہے کہ اہل کتاب کے دھوکہ میں نہ آئیں اور ان کی بات نہ مانیں ورنہ تمہیں رفتہ رفتہ اسلام سے پھیر کر کافر بنادیں گے۔
شان نزول
ان آیتوں کا شان نزول یہ ہے کہ شماس بن قیس یہودی جس کو مسلمانوں سے غایت درجہ حسد تھا ایک دن اس کا انصار کی ایک مجلس پر گزر ہوا جس میں انصار کے دونوں قبیلوں اوس اور خزرج کے لوگ شیروشکر…
Read the full tafseer →145 یہ مومنین کے لیے زجر ہے کہ دیکھو ایسا ہرگز نہ ہونے پائے کہ تم پر اللہ کی آیتیں بھی نازل ہورہی ہوں۔ جن میں توحید کے تمام پہلوؤں اور اسلام کے دوسرے حکام کو تفصیل سے بیان کیا جاتا ہے اور اللہ کی آیتوں کا صحیح مفہوم اور منشا بیان کرنے کے لیے اور دل میں پیدا ہونے والے شکوک و شبہات کو دور کرنے کے لیے تم میں اللہ کا رسول بھی موجود ہو اور پھر تم اہل کتاب کے جھانسے میں آکر دین اسلام سے پھر جاؤ۔ ایک شبہ بریلوی صاحبان اس آیت سے آنحضرت ﷺ کے حاضر وناظر ہونے پر استدلال کرتے ہیں۔ کیونکہ وَفیْکُمْ رَسُوْلُه (یعنی اللہ کا رسول تم میں موجود ہے) میں خطاب تمام مسلمانوں سے ہے تو اس سے معلوم ہوا کہحضور ﷺ آج…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 98–101
ربط آیات :
گذشتہ اسباق میں اللہ تعالیٰ نے اہل کتاب کے غلط ملط اعتراضات کے جوابات دیے اور ملت ابراہیمی کی وضاحت فرمائی۔ اور یہ بھی واضح کیا کہ حضور خاتم النبیین ﷺ اور آپ کے ساتھی ہی اصل ملت ابراہیمی پر قائم ہیں۔ اس کے علاوہ ملت ابراہیمی کے مرکزی قبلہ بیت اللہ شریف کا تذکرہ ہوا ، اور اس کے فضائل بھی بیان ہوئے۔ اللہ تعالیٰ نے ملت ابراہیمی کے اتباع کا بطور خصوصی حکم دیا۔ اب ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے بطور نصیحت اور تنبیہ اہل کتاب سے خطاب فرمایا ہے۔ کہ جب ھضور (علیہ السلام) کا ملت ابراہیمی پر قائم ہونا ثابت ہوچکا ، تو پھر اہل کتاب کو اس حقیقت کو تسلیم کرلینا چاہیئے۔ اور انہیں جان لینا چاہیئے۔ کہ…
Read the full tafseer →وَكَيْفَ تَكْفُرُوْنَ وَاَنْتُمْ تُتْلٰى عَلَيْكُمْ اٰيٰتُ اللہِ وَفِيْكُمْ رَسُوْلُہٗ 0 ۭ وَمَنْ يَّعْتَصِمْ بِاللہِ فَقَدْ ھُدِيَ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَـقِيْمٍ 101 ۧ
تلاوة
تختص باتباع کتب اللہ المنزلة، تارة بالقراءة، وتارة بالارتسام لما فيها من أمر ونهي، وترغیب وترهيب . أو ما يتوهم فيه ذلك، وهو أخصّ من القراءة، فکل تلاوة قراءة، ولیس کل قراءة تلاوة، لا يقال : تلوت رقعتک، وإنما يقال في القرآن في شيء إذا قرأته وجب عليك اتباعه . هنالک تتلوا کلّ نفس ما أسلفت[يونس/ 30] ، وَإِذا تُتْلى عَلَيْهِمْ آياتُنا [ الأنفال/ 31]
التلاوۃ ۔ بالخصوص خدا تعالیٰ کی طرف سے نازل شدہ کتابوں کے اتباع تلاوۃ کہا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 100–101
ترکیب : لم تکفرون سے متعلق ہے اسی طرح لم تصدون سے عن سبیل اللہ تصدون سے متعلق ہے من آمن تصدون کا مفعول تبغونہا کی ضمیر سبیل کی طرف راجع ہے کیونکہ یہ مذکر اور مونث ہے۔ عوجا حال ہے۔
تفسیر : جبکہ اہل کتاب کے اعتراضوں کا جواب دیا گیا اور دلائل تمام ہوچکے تو اب بطور نتیجہ کے ان کو فرماتا ہے کہ تم خدا کی آیات معجزات اور بشارات کا کہ جو اب تک پہلی کتابوں میں پائی جاتی ہیں کیوں انکار کرتے ہو اور ایسے لغو شبہات سے بشارات میں تاویل کرکے کس لئے ایمانداروں کو خدا کی راہ سے روکتے ہو اور کیوں دین حق میں عیب لگاتے ہو حالانکہ دل میں برحق جان رہے ہو تمہاری اس حیلہ بازی اور مکاری سے خدا غافل نہیں تم کو ضرور…
Read the full tafseer →وَکَیْفَ تَکْفُرُوْنَ وَاَنْـتُمْ تُتْلٰی عَلَیْـکُمْ اٰیٰتُ اللّٰہِ وَ فِیْـکُمْ رَسُوْلُـہٗ ط وَمَنْ یَّعْتَصِمْ بِاللّٰہِ فَقَدْ ہُدِیَ اِلٰی صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ ۔ ع
(اور یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ تم پھر کفر کرنے لگو ؟ حالانکہ تم وہ ہو کہ تم پر اللہ کی آیتیں پڑھی جاتی ہیں اور تم میں اللہ کے رسول ﷺ موجود ہیں اور جو اللہ کو مضبوطی سے پکڑتا ہے تو ضرور پہنچایا جاتا ہے اسے سیدھی راہ پر) (101)
مسلمان خود آگاہی سے کام لیں
میں اس سے پہلے بھی عرض کرچکا ہوں کہ یہود کا حملہ دو طرفہ تھا۔ اسلام کے بارے میں وسوسہ اندازی اور اوس و خزرج میں اختلاف و انتشار پیدا کرنے کی کوشش۔ نئے نئے مسلمان ان دونوں کوششوں کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 101–102
فہم القرآن
ربط کلام : اہل کتاب کی اتباع سے بچنے اور ان سے ڈرنے کی بجائے مسلمانوں کو صرف اللہ تعالیٰ سے ڈرنا اور اسی کے حکم پر مر مٹنا چاہیے۔ اب براہ راست مسلمانوں سے مسلسل خطاب ہوتا ہے۔
تقو ٰی کا عمومی معنٰی پرہیزگاری ہے لیکن جب ” اِتَّقِ اللّٰہَ “ کے الفاظ استعمال ہوں تو اس کا معنٰی ہوا کرتا ہے کہ اپنے رب کی نافرمانیوں سے ڈرو ‘ اس کی ذات اور احکام کا احترام کرو۔ نفس مضمون کے اعتبار سے یہاں یہ بات بھی تقو ٰی میں شامل ہے کہ اہل کتاب کے الزامات اور سازشوں سے ڈرنے کے بجائے صرف اللہ سے ڈرو۔ جس طرح اللہ تعالیٰ سے ڈرنے کا حق ہے۔ خلوت ہو یا جلوت ‘ نفع ہو یا نقصان ‘ حاکم ہو یا محکوم ‘ امیر ہو یا غریب…
Read the full tafseer →استفہام تعجبّی ہے :
101: وَکَیْفَ تَکْفُرُوْنَ وَاَنْتُمْ تُتْلٰی عََلَیْکُمْ ٰایٰتُ اللّٰہِ وَفِیْکُمْ رَسُوْلُہٗ وَمَنْ یَّعْتَصِمْ بِاللّٰہِ فَقَدْ ھُدِیَ اِلٰی صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ ۔ وَکَیْفَ تَکْفُرُوْنَ (اور تم کفر کیسے کرسکتے ہو) کَیْفَمیں استفہام انکار و تعجب کیلئے ہے۔ یعنی تعجب ہے کہ کہاں سے کفر تمہاری طرف چل کر آیا حالانکہ وَاَنْتُمْ تُتْلٰی عََلَیْکُمْ ٰایٰتُ اللّٰہِ (اور تم پر اللہ تعالیٰ کی آیات پڑھی جاتی ہیں) تم پر اللہ تعالیٰ کی آیات یعنی قرآن معجز حضرت محمد ﷺ کی زبان سے تازہ بتازہ پڑھا جاتا ہے۔ وَفِیْکُمْ رَسُوْلُہٗ ( اور تمہارے درمیان اسکا رسول ﷺ موجود ہے) جو تمہیں منع کرتا…
Read the full tafseer →(تفسیر) 101۔ :
(آیت)” وکیف تکفرون “۔ کیوں تم کفر کی طرف جاتے ہو ۔ (آیت)” وانتم تتلی علیکم آیات اللہ “۔ اس سے مراد قرآن ہے، (آیت)” وفیکم رسولہ “۔ اس سے مراد محمد ﷺ ہیں ۔ قتادہ (رح) فرماتے ہیں کہ اس آیت میں دو واضح نشانیاں مذکور ہیں ، اللہ کی کتاب اور اللہ کا نبی ، اللہ کے نبی تو چلے گئے ، البتہ اللہ کی کتاب موجود ہے جو اللہ کی رحمت اور نعمت ہے ۔
حضرت زید بن ارقم ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ آپ ﷺ نے ہمارے درمیان خطبہ دیا ، پہلے اللہ کی حمد بیان کی ، پھر ثناء بیان فرمائی ، پھر فرمایا اما بعد ! اے لوگو ! میں ایک آدمی ہوں ، عنقریب میرے رب کی طرف سے بھیجا ہوا میرے پاس آئے گا اور میں اس کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 100–103
(100 ۔ 103) ۔ تفسیر ابن ابی حاتم میں حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے اور تفسیر ابو الشیخ اور تاریخ ابن اسحاق میں زید بن اسلم ؓ سے روایت ہے کہ انصار کے دو قبیلوں اوس اور خزرج میں اسلام سے پہلے بڑی عدوت اور صدہا برس کی لڑائی تھی۔ اسلام کے بعد ان دونوں قبیلوں میں بڑا میل جول ہوگیا۔ اور مدتوں کی آپس کی لڑائی بالکل جاتی رہی ایک روز ان دونوں قبیلے کے کچھ مسلمان بیٹھے ہوئے بڑی محبت سے آپس میں باتیں کر رہے تھے اتنے میں ایک شخص یہودی شاش بن قیس کا ادھر سے گذر ہوا اس یہود کو یہ امر شاق ہوا کہ ان دونوں قبیلوں میں باوجود ایسی سخت عداوت کے ایسی دلی کیونکر ہوگئی اور اس یہود نے چاہا کہ ان مسلمانوں میں پھر پھوٹ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 98–101
اللہ تعالیٰ یہود و نصاریٰ کو زجر وتوبیخ فرماتا ہے کیونکہ انہوں نے اللہ کی آیات کے ساتھ کفر کیا، جو اس نے اپنے رسولوں پر نازل کیں، جنہیں اللہ نے اپنے بندوں کے لئے رحمت بنایا کہ ان کی رہنمائی میں اللہ تک پہنچ سکیں اور ان کی مدد سے تمام اہم مقاصد اور مفید علوم حاصل کریں۔ ان کافروں نے ان کا انکار بھی کیا، ان پر ایمان لانے والوں کو روکا، ان میں تحریف کی، انہیں اصل مفہوم سے پھیرنے کی کوشش کی۔ وہ خود ان جرائم کو تسلیم کرتے ہیں۔ انہیں خوب معلوم ہے کہ ان کا یہ کام بہت بڑا کفر ہے، جس کی سزا بہت سخت ہے۔ جیسے ارشاد ہے : (الذین کفروا وصدوا عن سبیل اللہ زدنھم عذاباً فوق العذاب بما کانوا یفسدون) (النحل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 98–102
تقوی کی حد
قول باری ہے (یایھا الذین آمنوا اتقوا اللہ حق تقاتہ، اے ایمان والو اللہ سے ڈرو جیسا کہ اس سے ڈرنے کا حق ہے) حضرت عبداللہ ؓ ، حسن اور قتادہ سے مروی ہے کہ (حق تقاتہ) کا مطلب یہ ہے کہ اس کی اطاعت کی جائے ادرنافرمانی نہ کی جائے اس کا شکراداکیاجائے اور ناشکری نہ کی جائے اسے یادکیاجائے اور بھلایانہ جائے۔ ایک قول میں اس کے معنی یہ بیان کیئے گئے ہیں کہ تمام گناہوں اور نافرنیوں سے پرہیز کیا جائے، اس آیت کے منسوخ ہونے کے متعلق اختلاف ہے۔
حضرت ابن عباس ؓ اور طاؤس سے مروی ہے کہ یہ محکم ہے منسوخ نہیں ہوئی۔ قتادہ ربیع بن انس اور سدی سے مروی ہے کہ یہ قول باری (فاتقوا اللہ مااستطعتم، جہاں تک تم سے…
Read the full tafseer →205 کفر وانکار کی گنجائش کی نفی : سو کفر وانکار کی نفی کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ تم لوگ کیسے کفر کرسکتے ہو جبکہ تمہیں اللہ کی آیتیں پڑھ پڑھ کر سنائی چاتی ہیں اور تمہاری اندر اس کا رسول بھی موجود ہے۔ یعنی ایسے میں تمہارے لیے کفر و انکار کی کوئی گنجائش نہیں : استفہام یہاں پر تعجب و انکار کیلئے ہے، کہ جب کفر کے دواعی و اسباب منتفی اور حق پر ثابت قدمی کے اسباب پوری طرح موجود ہیں، تو پھر تمہارے لئے کفر و انکار کی کیا گنجائش باقی رہ جاتی ہے ؟ پس تم لوگوں کو کفر و انکار کے شوائب سے ہمیشہ بچ کر رہنا چاہیئے اور نور ایمان و یقین سے سرفرازی پر دل و جان سے اپنے خالق ومالک کا شکر ادا کرنا چاہیئے تاکہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 100–101
اہل ایمان کو نصیحت
تشریح : ان آیات میں مسلمانوں کو اللہ کی رحمتوں، برکتوں اور فضل و کرم کے بارے میں بتا جارہا ہے کہ اس نے تمہیں ایمان کی دولت عطا کی اور رسول اللہ ﷺ جو کہ آخری نبی ہیں۔ تمہارے سامنے موجود ہیں تو پھر خبردار ! ان یہود و نصارٰی کی کسی بھی چال میں پھنس کر ایمان کی راہ سے نہ ہٹ جانا۔ اگر تم میں سے کوئی بھی ان کی باتوں میں آکر ذرا سا بھی پھسل گیا تو یہ بہت خسارہ ہوگا۔ اس لیے اپنے ایمان پر مضبوطی سے قائم رہو اور شیطانوں سے ہوشیار رہو۔ اللہ رب العزت پھر تمہاری ہر صورت ضرور مدد کرے گا۔ بیشک نیکوں کے لیے نیک راستے کھول دیئے جاتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 92–101
آیات 92- 101
اسرارومعارف
لن تنالو البر……………فان اللہ بہ علیم۔
بر سے مراد نیکی ہے اور نیکی کی اصل قرب رسول ہے کہ نبوت ایک ایسی نعمت ہے جس کی وجہ سے نبی معصوم ہوتا ہے یعنی مکالمہ باری کی برکات میں سے عصمت بھی ہے جو تمام انبیاء (علیہم السلام) کو نصیب ہوتی ہے۔
حصول بر قرب رسالت کا نام ہے :
اسی طرح نبی کے قرب سے ایک خاص وصف ، جو مومن میں پیدا ہوتا ہے وہ گناہ سے نفرت اور نیکی کی محبت ہے جس کے باعث مومن گناہ سے محفوظ ہوجاتا ہے۔ اسی درجے کو حصول بر کہہ سکتے ہیں۔ اب اگر کسی شخص کو کسی طرح کا مال یا منافع اتنا عزیز ہو کہ وہ اسے حاصل کرنے کے لئے اپنے مسلمان ہونے کا اعلان کرے تو وہ اسلام کو کیسے پاسکتا…
Read the full tafseer →ف 3 اوپر وعید کے بعد یہ وعدہ ہے یعنی جس شخص کا اللہ تعالیٰ پر ایمان مظبوت ہوگا وہی سیدگی راہ کی طرف ہدایت پاسکتا ہے اس کے مخاطب ہرچند صحابنہ کرام ہیں لیکن نصیحت کا تعلق تمام مسلمانوں سے ہے آج گو ہمارر درمیان آنحضرت ﷺ بنفس نفیس موجود نہیں ہیں مگر اللہ تعالیٰ کی کتاب یعنی قرآن اور آنحضرت ﷺ کی سنت موجودہ جن پر عمل پیراہو کر موجود دور کے فتنوں ہر قسم کی بد عت و ضلالت سے مسلمان محفوظ وہ سکتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 99–102
(3:99) تصدون۔ صد (نصر) تم روکتے ہو۔ تم بند کرتے ہو۔ مضارع جمع مذکر حاضر۔
تبغونھا۔ تم اس کو چاہتے ہو بغی سے۔ مضارع جمع مذکر حاضر۔ ھا ضمیر واحد مؤنث غائب جو سبیل اللہ کی طرف راجع ہے۔ سبیل مذکر مؤنث دونوں طرح استعمال ہوتا ہے۔
عوج یعوج (سمع) سے اس ہے ٹیڑھا ہونا۔ کج ہونا۔ جو کجی آنکھوں سے نظر آجائے۔ مثلاً دیوار کا ٹیڑھا ہونا۔ وہ عوج (بفتح عین) ہے اور جو نظر نہ آئے مثلاً سوچ و سمجھ میں کجی۔ قول میں کجی (عین کے کسرہ کے ساتھ) ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 93–101
لغات القرآن آیت نمبر 93 تا 101
الطعام (کھانا) غنی (بےنیاز، بےپرواہ) فاتوا (پھر تم لے آؤ) تصدون (تم روکتے ہو) من افترٰی (جس نے گھڑا، جو کوئی تہمت لگائے) عوج (ٹیڑھ پن) صدق اللہ (اللہ نے سچ فرمایا) تتلیٰ (تلاوت کی گئی) اول بیتٍ (پہلاگھر) یعتصم مضبوط پکڑلیتا ہے) وضع (جس کو طاقت ہے، جو استطاعت رکھتا ہے) ۔
تشریح : آیت نمبر 93 تا 101
عیسائیوں اور یہودیوں کو اس بات پر بڑا فخر تھا کہ وہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی نسل سے ہیں۔ وہ اس بات کے بھی مدعی تھے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا اصل مذہب سینہ بہ سینہ ان تک ہی پہنچا ہے۔ جب نبی کریم ﷺ نے اپنا ملت ابراہیمی پر ہونا ہر اعتبار سے ثابت کردیا تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 100–103
مسلمانوں کو کفار سے میل جول کی ممانعت
تفسیر ابن ابی حاتم میں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ وغیرہ سے روایت ہے کہ انصار کے دو قبیلوں اوس اور خزرج میں اسلام سے پہلے بڑی عداوت تھی۔ آنحضرت ﷺ کے صدقہ ان قبیلوں کے لوگ اسلام لا کر باہم شیر وشکر ہوگئے۔ ایک روز وہ ایک مجلس میں بیٹھے ہوئے بڑی محبت کی باتیں کر رہے تھے، شاس بن قیس یہودی جو اسلام کا بڑا دشمن تھا اس طرف سے گزرا اور ان کی باہمی محبت دیکھ کر جل گیا اور کہا کہ یہ لوگ آپس میں مل گئے تو ہمارا کیا ٹھکانا ہے۔ ایک جوان کو مقرر کیا کہ ان کی مجلس میں بٹھ کر ان کی پچھلی لڑائیوں کا ذکر کیا کرے۔ چناچہ اس نے ایسا ہی کیا اور اس کی شر انگیزی سے دونوں قبیلوں کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 97–102
[37] یعنی ایسی علامات جو اس گھر کے اللہ کی جناب میں قبول ہونے پر دلالت کرتی ہیں اور وہ یہ ہیں : (1) لق و دق صحرا میں بنایا گیا اور پھر اللہ نے اس جگہ کو آباد کردیا اور وہاں کے رہنے والوں کے لئے رزق رسانی کے لئے بہتر سے بہتر انتظام کردیا۔ (2) ڈھائی ہزار برس تک دور جاہلیت میں تمام عرب فتنہ و فساد میں مبتلا رہا۔ صرف خانہ کعبہ اور اسی کے اطراف کا ایک خطہ ایسا تھا جس میں امن قائم رہا بلکہ اسی کعبہ کی یہ برکت تھی کہ سال بھر میں چار مہینے کے لئے پورے ملک میں اسی کی بدولت امن قائم ہوجاتا تھا۔ (3) یمن کی حبشی حکومت کے عیسائی بادشاہ ابرہہ نے اس آیت کے نزول سے صرف پچاس سال قبل جب کعبہ کو ڈھانے کی غرض سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 101–103
پیغام اخوت :
(ف 1) پہلے یہ بتایا گیا ہے کہ مسلمان بجز اسلام کے اور کسی چیز پر قانع نہیں رہ سکتا اور اس کی فطرت کے موافق اسلام کے سوا اور کوئی پیغام نہیں ، اس لئے اسے حکم دیا گیا کہ (آیت) ” ولا تموتن الا وانتم مسلمون “۔ یعنی اگر موت بھی آئے تو اسلام پر ، اس کے بعد (آیت) ” واعتصموا بحبل اللہ “ کی تائید کی ہے یعنی مسلمان کا خدا کے ساتھ اتنا مضبوط تعلق ہو اور اس درجہ وابستگی ہو کہ دنیا کا کوئی اور رشتہ اسے منقطع نہ کرسکے ، وہ صرف خدا کے لئے زندہ رہے اور خدا کے لئے مرے اس کا اپنا مفاد اپنے اغراض یکسر مٹ جائیں ، اور اس کے تمام تعلقات اسلام وصداقت کے لئے ہوں ، کفر اور جھوٹ سے اسے قطعا محبت نہ ہو اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 101–102
ف 4 اور بھلا تم کفر کی روش کس طرح اختیار کرسکتے ہو۔ حالانکہ تم کو اللہ تعالیٰ کے احکام اور اس کی آیتیں پڑھ کر سنائی جاتی ہیں اور تم میں اللہ تعالیٰ کا رسول موجود ہے اور جو شخص اللہ تعالیٰ کو یعنی اس کے دین کو مضبوط پکڑتا ہے تو یقیناً ایسا شخص راہ راست اور صراط مستقیم کی جانب رہنمائی کیا جاتا ہے۔
اعتصام کسی چیز کو مضبوط پکڑنا۔ اللہ تعالیٰ کو مضبوطی کے ساتھ پکڑنے کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کے دین کو مضبوط پکڑنا یا کتاب کو مضبوط پکڑنا یا ایمان کو مضبوط پکڑنا یا یہ کہ ماسویٰ اللہ سے یکسو ہو کر صرف اللہ پر توکل کرنا اور اللہ سے تعلق قائم رکھنا۔ آیات اللہ سے مراد احکام الٰہی یا قرآن ہے رسول اللہ سے مراد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 98–102
ف 1۔ کامل ڈرنے کا مطلب یہ ہے کہ جس طرح شروکفر سے بچے ہو کل معاسی سے بھی بچا کرو آیت کا مطلب یہ ہے کہ ادنی تقوی پر اکتفامت کرو بلکہ اعلی اور کامل درجہ کا تقوی اختیار کرو جس میں معاصی سے بھی بچنا آگیا۔
Read the full tafseer →تم کفر کی راہ کیسے اختیار کرتے ہو جبکہ اللہ کی آیتیں تمہیں سنائی جارہی ہیں ؟ :
194: ” كیف “ استفہامیہ تعجب کے لیے ہے یعنی تعجب ہے کہ تم کفر کی طرف جائو حالانکہ اللہ کی آیات تم کو پڑھ کر سنائی جارہی ہیں اور کسی چیز کا سننا اس وقت مفید ہوسکتا ہے جب اس کو سن کر اس کو سمجھ کر اس کے مطابق علم کرنے کی کوشش کی جائے ورنہ بھینس کے سامنے بین بجانے کے مترادف ہے۔ تم انسان ہو پھر اس سے آگے بڑھ کر تم مسلمان بھی ہو اس پر طرہ یہ کہ تم کو اللہ کی آیات سنائی جارہی ہیں کیوں ؟ اس لیے کہ تم ان کو سمجھو اور اس کے مطابق عمل کرو۔
مقام غور ہے کہ آج ہم میں کتنے ہیں جو قرآن کریم کو پڑھتے یا سنتے ہیں ؟ پھر پڑھنے اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 98–101
Commentary
Several verses earlier, the text was dealing with the people of the Book, their false beliefs and their doubts. Then, appeared the mention of بیت اللہ Baytullah and Hajj. Now once again, the people of the Book are the addressees. These verses relate to a particular event. There was a Jew, Shammas ibn Qays, who harboured a chronic malice against Muslims. Once, when he saw two Ansar tribes, Aws and Khazraj, gathered together amiably at one place, his malevolence got the better of him and he went about looking for ways to sow seeds of discord between them. Finally, he set up a man…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 98–102
82. They should remain steadfast in their obedience and loyalty to God.
Read the full tafseer →