Explained with ayahs 102–103
اللہ تعالیٰ کی رسی قرآن حکیم ہے
اللہ تعالیٰ سے پورا پورا ڈرنا یہ ہے کہ اس کی اطاعت کی جائے نافرمانی نہ کی جائے اس کا ذکر کیا جائے اور اس کی یاد نہ بھلائی جائے اس کا شکر کیا جائے کفر نہ کیا جائے، بعض روایتوں میں یہ تفسیر مرفوع بھی مروی ہے لیکن ٹھیک بات یہی ہے کہ یہ موقوف ہے یعنی حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ کا قول ہے واللہ اعلم۔ حضرت انس کا فرمان ہے کہ انسان اللہ عزوجل سے ڈرنے کا حق نہیں بجا لاسکتا جب تک اپنی زبان کو محفوظ نہ رکھے، اکثر مفسرین نے کہا ہے کہ یہ آیت (فَاتَّقُوا اللّٰهَ مَا اسْتَطَعْتُمْ وَاسْمَعُوْا وَاَطِيْعُوْا وَاَنْفِقُوْا خَيْرًا لِّاَنْفُسِكُمْ ۭ وَمَنْ يُّوْقَ شُحَّ نَفْسِهٖ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 98–102
سورة اٰلِ عِمْرٰن 82
یعنی مرتے دم تک اللہ کی فرماں برداری اور وفاداری پر قائم رہو۔
Read the full tafseer →ربط آیات
سابقہ آیات میں مسلمانوں کو اس پر تنبیہ کی گئی تھی کہ اہل کتاب اور دوسرے لوگ جو تمہیں گمراہی میں مبتلا کرنا چاہتے ہیں ان کی گمراہی سے باخبر رہ کر بچنے کا اہتمام کریں، مذکورہ دو آیتوں میں مسلمانوں کی اجتماعی قوت کو مضبوط، ناقابل تسخیر بنانے کے دو اہم اصول بتلائے گئے ہیں۔
اول تقوی، دوسرے باہمی اتفاق و اتحاد، اور تفرق و اختلاف سے بچنا۔
خلاصہ تفسیر
اے ایمان والو اللہ تعالیٰ سے (ایسا) ڈرا کرو (جیسا) ڈرنے کا حق ہے (کامل ڈرنے کا مطلب یہ ہے کہ جس طرح شرک و کفر سے بچتے ہو اسی طرح تمام گناہوں سے بھی بچا کرو اور بلا وجہ شرعی لڑنا معصیت ہے تو اس سے بھی بچنا فرض ہے) اور بجز اسلام (کامل) کے (جس کا…
Read the full tafseer →اعتصام باللہ کی حقیقت : یہ اعتصام باللہ کی حقیقت واضح فرما دی کہ اللہ کو مضبوط پکڑنے کے معنی یہ ہیں کہ اس سے اس طرح ڈرتے رہو جس طرح اس سے ڈرتے رہنے کا حق ہے۔ یہ تقوی اگرچہ مطلوب تو اسی حد تک ہے جس حد تک بندے کی استطاعت میں ہے، اس کی وضاحت خود قرآن ہی نے فرما دی ہے کہ ”فاتقوا اللہ ما استطعتم“ (تغابن :16) لیکن خدا سے ڈرتے رہنے کا حق ہے۔ اول تو بندے پر خدا کے جو حقوق ہیں وہ کسی اور کے نہیں۔ دوسری بات یہ ہے کہ خدا نے جو حدود وقیوم قائم کیے ہیں اور ان کے توڑنے کی جو سزا مقر کی ہے وہ تمام تر بندوں کی دنیوی و اخروی بہبود کے لیے کی ہے، ان کی پابندی سے خدا کو کوئی فائدہ نہیں پہنچتا بلکہ بندوں ہی کو…
Read the full tafseer →12۔ 1 اس کا مطلب یہ ہے کہ اسلام کے احکام و فرائض پورے طور پر بجا لائے جائیں اور منہیات کے قریب نہ جایا جائے بعض کہتے ہیں کہ اس آیت سے صحابہ کرام پریشان ہوئے تو اللہ تعالیٰ نے دوسری آیت نازل فرما دی اللہ سے اپنی طاقت کے مطابق ڈرو جس طرح اپنی طاقت سے ڈرنے کا حق ہے (فتح القدیر)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 100–106
36: اگر یہ یہودیوں کا ذکر ہے تو ایمان سے مراد ان کا تورات پر ایمان لانا ہے اور اگر منافقین مراد ہیں تو ایمان کا مقصد ان کا زبانی اعلان ہے جس کے ذریعے وہ اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کرتے تھے۔ تیسرا احتمال یہ بھی ہے کہ خبر دار اسلام کو چھوڑ نہ بیٹھنا، اس لیے یہ بیان کیا گیا ہے کہ جو لوگ واقعۃ مرتد ہوجائیں گے، ان کا آخرت میں کیا حال ہوگا
Read the full tafseer →یہ دومرکزی ستون ہیں جن پر جماعت مسلمہ کا ڈھانچہ قائم ہے ۔ اور ان دونوں کے ساتھ وہ اپنا گراں اور عظیم رول ادا کررہی ہے ۔ اگر ان دونوں میں ایک پلر (Pillar) بھی گرجائے تو جماعت مسلمہ کا ڈھانچہ گرجائے گا اور اس کے بعد اس جہاں میں اس کا کوئی کردار نہ رہے گا۔
پہلا ستون ایمان اور تقویٰ کا ستون ہے ۔ وہ تقویٰ اور خدا خوفی جو اللہ جل شانہ ‘ کے حقوق کی ادائیگی کا موجب بنے ۔ دائمی اور بیدار خدا خوفی ‘ جس میں کوئی غفلت نہ ہو ‘ جس میں کوئی وقفہ نہ ہو اور وہ پوری عمر میں تسلسل کے ساتھ قائم رہے ۔ یہاں تک کہ انسان پر موت آجائے۔ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ حَقَّ تُقَاتِهِ……………” اے ایمان…
Read the full tafseer →5 یعنی ہر مسلمان کے دل میں پورا ڈر خدا کا ہونا چاہیے کہ اپنے مقدور بھر پرہیزگاری وتقویٰ کی راہ سے نہ ہٹے اور ہمیشہ اس سے استقامت کا طالب رہے۔ شیاطین چاہتے ہیں کہ تمہارا قدم اسلام کے راستہ سے ڈگمگا دیں۔ تم کو چاہیے کہ انہیں مایوس کردو۔ اور مرتے دم تک کوئی حرکت مسلمانی کے خلاف نہ کرو۔ تمہارا جینا و مرنا خالص اسلام پر ہونا چاہیئے۔
Read the full tafseer →اب سورة آل عمران کا نصف ثانی شروع ہو رہا ہے ‘ جس کا پہلا حصہ دو رکوعوں پر مشتمل ہے۔ آپ نے یہ مشابہت بھی نوٹ کرلی ہوگی کہ سورة البقرۃ کے نصفِ اوّل میں بھی ایک مرتبہ یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا سے خطاب تھا : یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا لَا تَقُوْلُوْا رَاعِنَا وَقُوْلُوا انْظُرْنَا وَاسْمَعُوْا ط اسی طرح سورة آل عمران کے نصفِ اوّل میں بھی ایک آیت اوپر آچکی ہے : یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْآ اِنْ تُطِیْعُوْا فَرِیْقًا مِّنَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْکِتٰبَ یَرُدُّوْکُمْ بَعْدَ اِیْمَانِکُمْ کٰفِرِیْنَ لیکن مسلمانوں سے اصل خطاب گیارہویں رکوع سے شروع ہو رہا ہے اور یہاں پر اصل میں امت کو…
Read the full tafseer →92 اس کا مطلب یہ ہے کہ کسی مسلمان پر کسی وقت بھی کوئی ایسا لمحہ نہ آنا چاہئے۔ جب کہ وہ اللہ کے خوف سے غافل ہو کیونکہ موت کے وقت کا کسی کو علم نہیں اور اللہ سے ڈرنے کا ایسا ہی حق ہونا چاہئے کہ جن جن اوامر کا اس نے حکم دیا ہے اور جن نواہی سے روکا ہے۔ انہیں ٹھیک ٹھیک اور بروقت بجا لانا چاہئے۔ اب یہ ظاہر ہے کہ دنیوی دھندوں میں مشغول رہ کر اتنی احتیاط ملحوظ رکھنا بسا اوقات مشکل ہوجاتا ہے۔ چناچہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو صحابہ ؓ بہت گھبرائے اور عرض کیا کہ اس قدر احتیاط کس سے ممکن ہے۔ اس وقت سورة تغابن کی یہ آیت نازل ہوئی۔ ( فَاتَّقُوا اللّٰهَ مَا اسْتَطَعْتُمْ 16) 64 ۔ التغابن :16) یعنی ممکنہ حد تک…
Read the full tafseer →215 ۔ (ہماری طاقت اور استطاعت کے لحاظ سے) ورنہ حق تعالیٰ سے اس کے مرتبہ کے لائق خشیت بھلا کون بشر اختیار کرسکتا ہے۔ والمعنی حق تقتہ ما استطعتم (قرطبی)
216 ۔ یعنی جیو تو قانون تقوی الہی کے ماتحت اور مرو تو قانون ہو کر ہی گزرنا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 99–102
آیت نمبر 102 تا 109
ترجمہ : اے ایمان والو اللہ سے ڈرو جیسا کہ اسے سے ڈرنے کا حق ہے بایں طور کہ اس کی اطاعت کی جائے اس کی نافرمانی نہ کی جائے اس کا شکر ادا کیا جائے ناشکری نہ کی جائے اور اس کو یاد رکھا جائے بھلایا نہ جائے تو صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ اس کی کس کو قدرت ہے۔ تو اس حکم کو اللہ تعالیٰ نے اپنے قول فاتقوا اللہ ما استطعتم سے منسوخ کردیا۔ اور تم جان نہ دینا بجز اس حال کے کہ تم مسلم موحد ہو اور اللہ کی رسی یعنی اس کے دین کو سب مل کر مضبوطی سے تھامے رہو اور اسلام کے بعد باہم نااتفافی نہ کرو اور اے اوس اور خزرج کے لوگو ! اپنے اوپر اللہ کے انعام کو یاد کرو جب کہ تم اسلام سے پہلے ایک…
Read the full tafseer →یایھا الذین امنوا اتقوا اللہ حق تقاتہ اے ایمان والو اللہ (کے عذاب سے ڈرو جیسا کہ حق ڈرنے کا ہے تقاۃ اصل میں وُقْیَۃٌ تھا تُوْدَۃٌ اور تخمۃ کی طرح واؤ کو تاء سے بدل دیا پھر یاء کو الف سے بدل دیا کیونکہ یاء سے پہلے حرف صحیح ساکن تھا اور یاء پر فتحہ تھا اس کے علاوہ یا کو الف سے بدلنے کی یہ وجہ بھی ہے کہ اس مصدر سے جتنے افعال آتے ہیں ان میں یا الف سے بدل دی گئی ہے جیسے : وَقٰی وَقوْا وغیرہ) لہٰذا فعل سے موافقت پیدا کرنے کے لیے مصدر میں بھی یاء کی جگہ الف آگیا) ۔
عبد الرزاق، فریانی، ابن جریر، ابن ابی حاتم اور ابن مردویہ نے اپنی اپنی تفسیروں میں اور طبرانی نے معجم میں اور حاکم نے مستدرک میں اور…
Read the full tafseer →(102) اللہ تعالیٰ کی اس طرح اطاعت کرو کہ پھر اس کی نافرمانی نہ ہو اور ایسا شکر کرو کہ پھر کبھی اس کی ناشکری نہ ہو اور اس طرح یاد کرو کہ کبھی اس سے غافل نہ ہو، عبادت اور توحید کے اقرار کے بعد اسی پر خلوص کے ساتھ جمے رہو۔
Read the full tafseer →اتَّقُوا اللّٰهَ حَقَّ تُقٰتِھٖ۔۔ : عبداللہ بن مسعود ؓ سے اس آیت کی تفسیر یوں مروی ہے : ”اس کی اطاعت کی جائے نافرمانی نہ کی جائے، اسے یاد رکھا جائے بھلایا نہ جائے، اس کا شکر ادا کیا جائے ناشکری نہ کی جائے۔“ [ ابن أبی حاتم : 3؍112۔ مستدرک حاکم : 2؍323، ح : 3159 ] ابن کثیر ؓ نے اس قول کی سند کو صحیح قرار دیا ہے۔ مراد حسب استطاعت ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (فَاتَّقُوا اللّٰهَ مَا اسْتَطَعْت) [ التغابن : 16 ] ”سو اللہ سے ڈرو جتنی طاقت رکھو۔“
وَلَا تَمُوْتُنَّ اِلَّا وَاَنْتُمْ مُّسْلِمُوْنَ : چونکہ موت کا علم ہی نہیں کب آجائے، اس لیے موت آنے تک ہر وقت اللہ تعالیٰ سے اسی طرح ڈرتے رہو۔
Read the full tafseer →آیت نمبر : 102۔
اس میں ایک مسئلہ ہے۔
امام بخاری (رح) (نحاس) نے مرہ سے اور انہوں نے حضرت عبداللہ ؓ سے روایت نقل کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : حق تقاتہ ان یطاع فلا یعصی وان یذکر فلا ینسی وان یشکر فلایکفر (1) (ناسخ و منسوخ للنحاس، صفھہ 299، تفسیر طبری، جلد 5، صفحہ 637) (حق تقاتہ کا مفہوم یہ ہے کہ اطاعت کی جائے اور نافرمانی نہ کی جائے اور اس کا ذکر کیا جائے اور اسے بھلایا نہ جائے اور شکر ادا کیا جائے اور ناشکری نہ کی جائے)
اور حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : اس کا مفہوم یہ ہے کہ آنکھ جھپکنے کی دیر بھی نافرمانی نہ کی جائے، اور مفسرین نے ذکر کیا ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو صحابہ نے عرض کی : یا رسول…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 99–102
(1) ابن المبارک نے زھد میں وعبد الرزاق والفریابی وعبد بن حمید وابن ابی شیبہ ابن جریر ابن المنذر ابن ابی حاتم ونحاس نے ناسخ میں طبرانی اور حاکم نے اس کو صحیح کہا اور ابن مردویہ نے حضرت ابن مسعود ؓ سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” اتقوا اللہ حق تقتہ “ سے مراد ہے کہ اس کی اطاعت کی جائے اور اس کی نافرمانی نہ کی جائے اور اللہ تعالیٰ کو یاد کیا جائے اور بھولا یا نہ جائے اور اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرے اور ناشکری نہ کرے۔
(2) حاکم نے اس کو صحیح کہا ابن مردویہ نے ایک اور سند سے حضرت ابن مسعود ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا لفظ آیت ” اتقوا اللہ حق تقتہ “ سے مراد ہے کہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرے…
Read the full tafseer →[يٰٓاَيُّھَا الَّذِينَ : اے لوگو جو ] [اٰمَنُوا : ایمان لائے ] [اتَّقُوا : تم لوگ تقویٰ کرو ] [اللّٰہَ : اللہ کا ] [حَقَّ تُقٰتِہٖ : (جیسا کہ) اس کے تقویٰ کا حق ہے ] [وَلاَ تَمُوْتُنَّ : اور تم لوگ ہرگز مت مرنا ] [اِلاَّ : مگر ] [وَ : اس حال میں کہ
اَنْتُمْ : تم لوگ ] [مُّسْلِمُوْنَ : فرماں برداری کرنے والے ہو ]
ح ب ل
حَبَلَ (ن) حَبْلاً : رسّی سے باندھنا۔
حَبْلٌ ج حِبَالٌ (اسم ذات) : رسّی ‘ معاہدہ۔ { فَاَلْـقَوْا حِبَالَھُمْ وَعِصِیَّھُمْ } (الشعرائ :44) ” تو انہوں نے ڈالیں اپنی رسّیاں اور اپنی لاٹھیاں۔ “
شو
شَفَا (ن) شَفْوًا : چاند نکلنا ‘ کسی چیز کا کنارہ ظاہر ہونا۔
شَفَا : ہر چیز کا…
Read the full tafseer →اتَّقُوا اللّٰہَ حَقَّ تُقٰتِہٖ کا مطلب :
پھر ایمان والوں سے مزید خطاب فرمایا کہ ایمان والو ! تم اللہ سے ڈرو جیسا کہ ڈرنے کا حق ہے۔ حضرت ابن مسعود ؓ سے منقول ہے کہ (حَقَّ تُقٰتِہٖ ) کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کی اطاعت کی جائے اور اس کی نافرمانی نہ کی جائے اور اسے یاد کیا جائے بھولا نہ جائے اور حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ (حَقَّ تُقٰتِہٖ ) کا یہ مطلب یہ ہے کہ اللہ کی راہ میں جہاد کریں جیسا کہ جہاد کا حق ہے اور اللہ کے بارے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہ ڈریں اور انصاف کے ساتھ اللہ کے لیے کھڑے ہوں اگر اپنے خلاف اور اپنے ماں باپ کے خلاف بھی انصاف کرنا پڑے تو ایسے وقت میں بھی انصاف کو ہاتھ سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 102–117
قال تعالی۔ یا ایھا الذین۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تا۔۔۔۔ ترجع الامور۔ آیت۔
ربط) گزشتہ آیات میں اللہ نے باہمی قتال وشقاق کو تکفرون یعنی کفر سے تعبیر فرمایا اب آئندہ آیت میں تقوی اور اعتصام بحبل اللہ یعنی اتفاق اور اتحاد اور اسلامی مواخات کا حکم دیتے ہیں اور اتفاق اور اتحاد کا ایک دستور العمل بتلاتے ہیں وہ یہ کہ اول تقوی اور اسلام پر مداومت اور استقامت کا حکم دیا اور پھر اعتصام بحبل اللہ کا حکم فرمایا کہ سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوط پکڑو پھر یہ ارشاد فرمایا، واذکر نعمتہ اللہ علیکم۔ الخ۔ آیت۔ جس میں حکم دیا کہ اتفاق اور اتحاد کی نعمت کو یاد کرو، اور اس نعمت کو اور اس کی برکات کو یاد کرکے موازنہ کرو کہ پہلے…
Read the full tafseer →147 ۔ حصہ دوم۔ یہ تین امور پر مشتمل ہے۔ (1) جہاد کا َ (2) انفاق (3) جہاد سے متعلق ایک شبہ کا جواب۔ ابتداء میں یَااَیُّھَاالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا اتَّقُوْااللہَ ۔ رکوع 11 سے اِنَّ اللہَ بِمَا یَعْمَلُوْنَ مُحِیْطٌ (رکوع 12) تک ترغیب الی الجھاد کا بیان ہے۔ کافروں کی طرف سے یہ شبہ کیا گیا تھا کہ پیغمبر خدا ﷺ اور آپ کے ساتھیوں کو جنگ احد میں شکست ہوئی اور انہیں شدید نقصان اٹھانا پڑا۔ اگر واقعی وہ سچا پیغمبر ہوتا تو اس کو شکست نہ ہوتی اور نہ ہی اسے نقصان اٹھانا پڑتا۔ آگے چل کر اس کا تفصیلی جواب فرمایا جس کا خلاصہ یہ ہے کہ ہم نے تو حسب وعدہ فتح دے دی تھی۔ لیکن مسلمانوں سے کوتاہی ہوئی کہ انہوں نے مورچہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 102–103
ربط آیات :
گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے اہل کتاب کی بات ماننے سے منع فرمایا تھا۔ اہل کتاب کی گمراہی کا زکر کرنے کے بعد اہل ایمان کو تنبیہ فرمائی کہ اگر انہوں نے اہل کتاب کے کسی گروہ کی بات کو مان لیا ، تو وہ انہیں راہ ہدایت سے کفر کی طرف پھیر دیں گے۔ پھر وضاحت فرمائی کہ اگر عقیدے میں ان کی بات مانی ، تو کافر ہوجاؤ گے اور اگر اعمال میں ان کا اتباع کیا تو اللہ کی ناراضگی مول لوگے اور کفران نعمت کے مرتکب ہوگے۔ اب آج کے درس میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو خاص طور پر رہنمائی فرمائی ہے اور دین کے بنیادی اصولوں پر قائم رہنے بد عقیدگی اور معصیت سے بچنے کی تلقین کی ہے۔
خوف خدا :
ارشاد ہوتا ہے۔ یایھا…
Read the full tafseer →يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللہَ حَقَّ تُقٰتِہٖ وَلَا تَمُوْتُنَّ اِلَّا وَاَنْتُمْ مُّسْلِمُوْنَ 102
أیمان
يستعمل اسما للشریعة التي جاء بها محمّد عليه الصلاة والسلام، وعلی ذلك : الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ هادُوا وَالصَّابِئُونَ [ المائدة/ 69] ، ويوصف به كلّ من دخل في شریعته مقرّا بالله وبنبوته . قيل : وعلی هذا قال تعالی: وَما يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُمْ بِاللَّهِ إِلَّا وَهُمْ مُشْرِكُونَ [يوسف/ 106] . وتارة يستعمل علی سبیل المدح، ويراد به إذعان النفس للحق علی سبیل التصدیق، وذلک باجتماع ثلاثة أشياء : تحقیق بالقلب، وإقرار باللسان، وعمل بحسب ذلک بالجوارح، وعلی هذا قوله تعالی:…
Read the full tafseer →ترکیب : اخوانا خبر ہے اصبحتم کی اور یہ جمع اخ کی ہے کنتم کا اسم ضمیر علی شفا الخ خبر شفا بالفتح اس کے معنی کنارہ کے ہیں۔ اس کا تثنیہ شفوان آتا ہے ولتکن کان تامہ منکم اس کے متعلق امۃ اسم یدعون الخ اس کی صفت۔
تفسیر : باہمی نقیض و عداوت کے اسباب کا قلع و قمع کرکے اتفاق اور باہمی محبت کی تاکید کرتا ہے اور اس نااتفاقی کے زمانہ کی طرف اشارہ کرتا ہے جو جہنم کا گڑھا تھا اور جس کے کنارے پر لوگ پہنچ گئے تھے۔ قریب تھا کہ گر کر ہلاک ہوجائیں لیکن خدا نے اس سے نجات دی۔ نبی (علیہ السلام) کی برکت سے آپس میں ایسی محبت ہوگئی کہ بھائی بھائی ہوگئے۔ پھر اس کے خیرو برکات دنیا اور دین میں بیشمار ظہور میں آئے۔ دنیا…
Read the full tafseer →یٰٓـاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰہَ حَقَّ تُقٰتِہٖ وَلاَ تَمُوْتُنَّ اِلَّا وَاَنْـتُمْ مُّسْلِمُوْنَ ۔
(اے ایمان والو ! اللہ سے ڈرو جیسا کہ اس سے ڈرنے کا حق ہے اور نہ مرو تم مگر اس حال میں کہ تم مسلمان ہو) (102)
گزشتہ آیات کریمہ میں مسلمانوں کو اہل کتاب کی طرف سے ہوشیار رہنے کی تاکید فرمائی گئی اور ان کے خطرناک عزائم سے مسلمانوں کو آگاہ کیا گیا اور اس کے ساتھ ہی دوسری آیت میں یہ فرمایا کہ جہاں تک رہنمائی اور تربیت کا تعلق ہے تمہارے بگڑنے کے امکانات نہ ہونے کے برابر ہیں کیونکہ شب و روز تم میں اللہ کی کتاب پڑھی جاتی ہے اور تربیت کے لیے آنحضرت ﷺ کی ذات گرامی تمہارے اندر موجود ہے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 101–102
فہم القرآن
ربط کلام : اہل کتاب کی اتباع سے بچنے اور ان سے ڈرنے کی بجائے مسلمانوں کو صرف اللہ تعالیٰ سے ڈرنا اور اسی کے حکم پر مر مٹنا چاہیے۔ اب براہ راست مسلمانوں سے مسلسل خطاب ہوتا ہے۔
تقو ٰی کا عمومی معنٰی پرہیزگاری ہے لیکن جب ” اِتَّقِ اللّٰہَ “ کے الفاظ استعمال ہوں تو اس کا معنٰی ہوا کرتا ہے کہ اپنے رب کی نافرمانیوں سے ڈرو ‘ اس کی ذات اور احکام کا احترام کرو۔ نفس مضمون کے اعتبار سے یہاں یہ بات بھی تقو ٰی میں شامل ہے کہ اہل کتاب کے الزامات اور سازشوں سے ڈرنے کے بجائے صرف اللہ سے ڈرو۔ جس طرح اللہ تعالیٰ سے ڈرنے کا حق ہے۔ خلوت ہو یا جلوت ‘ نفع ہو یا نقصان ‘ حاکم ہو یا محکوم ‘ امیر ہو یا غریب…
Read the full tafseer →حق تقویٰ کامل اطاعت ہے :
102: یٰٓــاَ یُّھَا الَّذِیْنَ ٰامَنُوا اتَّقُوا اللّٰہَ حَقَّ تُقٰتِہٖ وَلَا تَمُوْتُنَّ اِلَّا وَاَنْتُمْ مُّسْلِمُوْنَ ۔ (اے ایمان والو اللہ تعالیٰ سے ڈرا کرو جیسا کہ اس سے ڈرنے کا ہے اور سوائے اسلام کے اور کسی حالت پر جان مت دینا) حَقَّ تُقَاتِہٖ کا مطلب جو تقویٰ لازم ہے اور جو کچھ اس سے لازم ہوتا ہے اور وہ واجبات کو اختیار کرنا اور محرمات سے پرہیز کرنا ہے۔ حضرت عبداللہ ؓ فرماتے ہیں کہ تقویٰ اطاعت کرنے اور نافرمانی نہ کرنے اور شکر بجالانے اور ناشکری سے گریز کرنے اور اللہ تعالیٰ کو یاد کرنے اور نہ بھلانے کو کہتے ہیں۔ یا یہ کہ اللہ تعالیٰ کے معاملے میں اس کو کسی…
Read the full tafseer →102۔ (آیت)” یایھا الذین امنوا اتقوا اللہ حق تقاتہ “۔
(شان نزول)
مقاتل بن حبان ؓ کی روایت ہے کہ جاہلیت کے زمانے میں اوس اور خزرج کے درمیان لڑائی تھی ، جب آپ ﷺ مدینہ کی طرف ہجرت کرچکے اور وہاں پہنچے تو ان دونوں فریقوں میں صلح کروا دی ، پھر اس کے بعد دو آدمیوں میں ایک دوسرے نے فخر کیا ، ان میں سے ایک ثعلبہ بن غنم اوس قبیلہ سے تعلق رکھتے تھے ، اور اسعد بن زرارہ خزرج قبیلہ سے تعلق رکھتے اوسی نے کہا یہ ہم ہی میں سے تھا وہ خزیمہ بن ثابت ؓ جس کی تنہا شہادت کو دو گواہوں کے برابر مانا گیا تھا حنظلہ ؓ ” غسیل الملائکۃ “ اور عاصم بن ثابت بن افلح اور سعد بن معاذ ؓ جن کی وجہ سے رحمن کا عرش ہل گیا تھا (یہ سب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 100–103
(100 ۔ 103) ۔ تفسیر ابن ابی حاتم میں حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے اور تفسیر ابو الشیخ اور تاریخ ابن اسحاق میں زید بن اسلم ؓ سے روایت ہے کہ انصار کے دو قبیلوں اوس اور خزرج میں اسلام سے پہلے بڑی عدوت اور صدہا برس کی لڑائی تھی۔ اسلام کے بعد ان دونوں قبیلوں میں بڑا میل جول ہوگیا۔ اور مدتوں کی آپس کی لڑائی بالکل جاتی رہی ایک روز ان دونوں قبیلے کے کچھ مسلمان بیٹھے ہوئے بڑی محبت سے آپس میں باتیں کر رہے تھے اتنے میں ایک شخص یہودی شاش بن قیس کا ادھر سے گذر ہوا اس یہود کو یہ امر شاق ہوا کہ ان دونوں قبیلوں میں باوجود ایسی سخت عداوت کے ایسی دلی کیونکر ہوگئی اور اس یہود نے چاہا کہ ان مسلمانوں میں پھر پھوٹ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 102–104
آیت 103
ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے اپنے مومن بندوں کو حکم دیا ہے کہ اس سے ایسے ڈریں جیسے ڈرنے کا حق ہے، پھر اس تقویٰ پر قائم اور ثابت قدم رہیں اور موت تک استقامت ہو۔ کیونکہ انسان جس طرح کی زندگی گزارتا ہے، اسے ویسی ہی موت نصیب ہوتی ہے۔ جو شخص صحت، نشاط اور طاقت کی حالت میں اللہ کے تقویٰ اور اس کی اطاعت پر قائم رہتا ہے اور ہمیشہ اس کی طرف متوجہ رہتا ہے، اللہ تعالیٰ اسے موت کے وقت استقامت عطا فرماتا ہے اور اسے حسن خاتمہ سے نوازتا ہے۔ اللہ سے کما حقہ تقویٰ رکھنے کی وضاحت جناب عبداللہ بن مسعود نے ان الفاظ میں کی ہے : (ھو ان یطاع فلا یعصی ویذکر فلاینسی ویشکر فلایکفر) ” اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 98–102
تقوی کی حد
قول باری ہے (یایھا الذین آمنوا اتقوا اللہ حق تقاتہ، اے ایمان والو اللہ سے ڈرو جیسا کہ اس سے ڈرنے کا حق ہے) حضرت عبداللہ ؓ ، حسن اور قتادہ سے مروی ہے کہ (حق تقاتہ) کا مطلب یہ ہے کہ اس کی اطاعت کی جائے ادرنافرمانی نہ کی جائے اس کا شکراداکیاجائے اور ناشکری نہ کی جائے اسے یادکیاجائے اور بھلایانہ جائے۔ ایک قول میں اس کے معنی یہ بیان کیئے گئے ہیں کہ تمام گناہوں اور نافرنیوں سے پرہیز کیا جائے، اس آیت کے منسوخ ہونے کے متعلق اختلاف ہے۔
حضرت ابن عباس ؓ اور طاؤس سے مروی ہے کہ یہ محکم ہے منسوخ نہیں ہوئی۔ قتادہ ربیع بن انس اور سدی سے مروی ہے کہ یہ قول باری (فاتقوا اللہ مااستطعتم، جہاں تک تم سے…
Read the full tafseer →209 حق تقوی کو اپنانے کی ہدایت و تلقین : سو اہل ایمان کو خطاب کر کے ارشاد فرمایا گیا کہ تم ڈرتے رہا کرو اللہ سے جیسا کہ اس سے ڈرنے کا حق ہے کہ اس وحدہ لاشریک کا خوف و خشیت تمہارے دلوں میں رچا بسا ہو، اور تمہارا ہر عمل اس کا غماز اور آئینہ دار ہو۔ اس کے اوامرو ارشادات کی تم دل و جان سے تعمیل کرو، اس کے فرائض بجا لاؤ اور اس کے نواہی سے اجتناب کرو، کہ اس خالق ومالک کا یہ اپنے بندوں پر حق بھی ہے اور اس میں خود تم لوگوں کا اپنا بھلا بھی ہے۔ اس دنیا میں بھی اور آخرت کے ابدی جہاں میں بھی۔ سو اس ارشاد سے اعتصام باللہ کی حقیقت واضح فرما دی گئی کہ اس کی اساس و بنیاد ہے اللہ سے ایسا ڈرنا جیسا کہ اس سے…
Read the full tafseer →اسلام ہی زندگی ہے
تشریح : اس آیت میں اللہ رب العزت کی عظمت، حکومت اور شان کو بیان کیا گیا ہے کہ جب انسان ہر ہر قدم پر اسی کا محتاج ہے تو پھر کیوں کسی اور سے کوئی بھی امید یا خوف رکھا جائے صرف اسی سے ڈرنا چاہیے جو سب سے زیادہ عزت والا اور اختیار والا ہے۔ اسی کا خوف انسان کی نجات کا باعث بن سکتا ہے اور دنیا و آخرت کی بھلائیاں بھی اسی میں ہیں کہ انسان پوری طرح سے اللہ رب العزت کا فرمانبردار بن جائے۔ زندہ رہے تو مسلمان ہو۔ مرے تو مسلم ہونے کی حالت میں مرے۔
حضرت سفیان بن عبداللہ ثقفی ؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں عرض کی کہ اللہ کے رسول ﷺ مجھے اسلام کے بارے میں کوئی ایسی بات بتا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 102–109
آیات 102- 109
اسرارو معارف
یایھا الذین امنوا اتقو اللہ……………لعلکم تھتدون۔
جب تمہیں اس قدر اسباب ہدایت حاصل ہیں تو اے ایمان والو ! اللہ سے ڈرتے رہو جیسا اس سے ڈرنے کا حق ہے تقویٰ دراصل خوف محض کا نام نہیں بلکہ وہ تعلق جو بطفیل نبی کریم ﷺ بندے کو اللہ سے حاصل ہو اس کے ٹوٹ جانے کے ڈر کا نام ہے تعلیمات نبوی ﷺ کے ساتھ وہ کیفیات بھی جو وجود نبوی ﷺ کی برکات میں سے ہیں اور جن کے ورود سے دل بدل گئے ، مزاج بدلے ، خواہشات اور طلب بدل گئی۔ حتیٰ کہ دین پر عمل کرنا مزاج بن گیا اور گناہ طبعی طور پر سخت ناپسندیدہ ہوگیا۔ اب ان نعمتوں کو کبھی ضائع نہ ہونے دو ۔
بیشتر مفسرین کرام نے حضور اکرم ﷺ کا یہ ارشاد نقل…
Read the full tafseer →ف 4 یعنی یہاں تک تمہارے بس میں ہے جیسا کہ دوسرے آیت میں فرمایا ؛ فاتقوا اللہ ما استطعتم (تغابن آیت 16) لہذ یہ منسوخ نہیں ہے (کبیر۔ شوکانی 9 حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں اس کی صحیح صورت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی جائے اور اس کی نافرمانی سے بچا جائے (کبیر) مومنوں کو اہل کتاب کی تشکیک سے دور رہنے کی نصیحیت فرماکر اب یہاں سے چند اصولی باتوں کا حکم دیا ہے جن کے التزام سے انسان ہر قسم کے فتنوں سے محفوظ رہ سکتا ہے یعنی اللہ تعالیٰ کو خوف اعتصام بحبل اللہ اور اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کی یاد کرنا (کبیر )
Read the full tafseer →Explained with ayahs 99–102
(3:99) تصدون۔ صد (نصر) تم روکتے ہو۔ تم بند کرتے ہو۔ مضارع جمع مذکر حاضر۔
تبغونھا۔ تم اس کو چاہتے ہو بغی سے۔ مضارع جمع مذکر حاضر۔ ھا ضمیر واحد مؤنث غائب جو سبیل اللہ کی طرف راجع ہے۔ سبیل مذکر مؤنث دونوں طرح استعمال ہوتا ہے۔
عوج یعوج (سمع) سے اس ہے ٹیڑھا ہونا۔ کج ہونا۔ جو کجی آنکھوں سے نظر آجائے۔ مثلاً دیوار کا ٹیڑھا ہونا۔ وہ عوج (بفتح عین) ہے اور جو نظر نہ آئے مثلاً سوچ و سمجھ میں کجی۔ قول میں کجی (عین کے کسرہ کے ساتھ) ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 102–109
لغات القرآن آیت نمبر 102 تا 109
حق تقٰته (اس سے ڈرنے کا حق ادا کرکے) اعتصموا (تم مضبوط تھام لو) بحبل اللہ (اللہ کی رسی ، یعنی اللہ کے دین کو (مضبوط تھام لو) جمیع (سب کے سب اکٹھے ہوکر) لاتفرقوا (تم جداجدا نہ ہو) اعداء (آپس میں دشمن ) الف (اس نے محبت ڈال دی) اصبحتم (تم گئے) اخوان (بھائی بھائی) شفاء (کنارہ) حفرۃ (گڑھا) انقذ (اس نے بچالیا) ولتکن (ہونی چاہیے) امة (ایک جماعت) یدعون (بلاتے ہیں، دعوت دیتے ہیں) بالمعروف (نیکی کے ساتھ) ینھون (وہ روکتے ہیں) المنکر (برائی غلط راستہ) تبیض (سفید، چمک دار) وجوہ (چہرے (وجه کی جمع ہے) تسود (سیاہ) اکفرتم (کیا تم نے کفر کیا ؟ ) دوقوا (تم چکھو) ابیضت (سفید، چمک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 100–103
مسلمانوں کو کفار سے میل جول کی ممانعت
تفسیر ابن ابی حاتم میں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ وغیرہ سے روایت ہے کہ انصار کے دو قبیلوں اوس اور خزرج میں اسلام سے پہلے بڑی عداوت تھی۔ آنحضرت ﷺ کے صدقہ ان قبیلوں کے لوگ اسلام لا کر باہم شیر وشکر ہوگئے۔ ایک روز وہ ایک مجلس میں بیٹھے ہوئے بڑی محبت کی باتیں کر رہے تھے، شاس بن قیس یہودی جو اسلام کا بڑا دشمن تھا اس طرف سے گزرا اور ان کی باہمی محبت دیکھ کر جل گیا اور کہا کہ یہ لوگ آپس میں مل گئے تو ہمارا کیا ٹھکانا ہے۔ ایک جوان کو مقرر کیا کہ ان کی مجلس میں بٹھ کر ان کی پچھلی لڑائیوں کا ذکر کیا کرے۔ چناچہ اس نے ایسا ہی کیا اور اس کی شر انگیزی سے دونوں قبیلوں کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 97–102
[37] یعنی ایسی علامات جو اس گھر کے اللہ کی جناب میں قبول ہونے پر دلالت کرتی ہیں اور وہ یہ ہیں : (1) لق و دق صحرا میں بنایا گیا اور پھر اللہ نے اس جگہ کو آباد کردیا اور وہاں کے رہنے والوں کے لئے رزق رسانی کے لئے بہتر سے بہتر انتظام کردیا۔ (2) ڈھائی ہزار برس تک دور جاہلیت میں تمام عرب فتنہ و فساد میں مبتلا رہا۔ صرف خانہ کعبہ اور اسی کے اطراف کا ایک خطہ ایسا تھا جس میں امن قائم رہا بلکہ اسی کعبہ کی یہ برکت تھی کہ سال بھر میں چار مہینے کے لئے پورے ملک میں اسی کی بدولت امن قائم ہوجاتا تھا۔ (3) یمن کی حبشی حکومت کے عیسائی بادشاہ ابرہہ نے اس آیت کے نزول سے صرف پچاس سال قبل جب کعبہ کو ڈھانے کی غرض سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 101–103
پیغام اخوت :
(ف 1) پہلے یہ بتایا گیا ہے کہ مسلمان بجز اسلام کے اور کسی چیز پر قانع نہیں رہ سکتا اور اس کی فطرت کے موافق اسلام کے سوا اور کوئی پیغام نہیں ، اس لئے اسے حکم دیا گیا کہ (آیت) ” ولا تموتن الا وانتم مسلمون “۔ یعنی اگر موت بھی آئے تو اسلام پر ، اس کے بعد (آیت) ” واعتصموا بحبل اللہ “ کی تائید کی ہے یعنی مسلمان کا خدا کے ساتھ اتنا مضبوط تعلق ہو اور اس درجہ وابستگی ہو کہ دنیا کا کوئی اور رشتہ اسے منقطع نہ کرسکے ، وہ صرف خدا کے لئے زندہ رہے اور خدا کے لئے مرے اس کا اپنا مفاد اپنے اغراض یکسر مٹ جائیں ، اور اس کے تمام تعلقات اسلام وصداقت کے لئے ہوں ، کفر اور جھوٹ سے اسے قطعا محبت نہ ہو اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 101–102
ف 4 اور بھلا تم کفر کی روش کس طرح اختیار کرسکتے ہو۔ حالانکہ تم کو اللہ تعالیٰ کے احکام اور اس کی آیتیں پڑھ کر سنائی جاتی ہیں اور تم میں اللہ تعالیٰ کا رسول موجود ہے اور جو شخص اللہ تعالیٰ کو یعنی اس کے دین کو مضبوط پکڑتا ہے تو یقیناً ایسا شخص راہ راست اور صراط مستقیم کی جانب رہنمائی کیا جاتا ہے۔
اعتصام کسی چیز کو مضبوط پکڑنا۔ اللہ تعالیٰ کو مضبوطی کے ساتھ پکڑنے کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کے دین کو مضبوط پکڑنا یا کتاب کو مضبوط پکڑنا یا ایمان کو مضبوط پکڑنا یا یہ کہ ماسویٰ اللہ سے یکسو ہو کر صرف اللہ پر توکل کرنا اور اللہ سے تعلق قائم رکھنا۔ آیات اللہ سے مراد احکام الٰہی یا قرآن ہے رسول اللہ سے مراد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 98–102
ف 1۔ کامل ڈرنے کا مطلب یہ ہے کہ جس طرح شروکفر سے بچے ہو کل معاسی سے بھی بچا کرو آیت کا مطلب یہ ہے کہ ادنی تقوی پر اکتفامت کرو بلکہ اعلی اور کامل درجہ کا تقوی اختیار کرو جس میں معاصی سے بھی بچنا آگیا۔
Read the full tafseer →مسلمانوں کی اجتماعی قوت کا پہلا اصول :
197: زیر نظر آیت میں مسلمانوں کی اجتماعی قوت کا پہلا اصول بتایا گیا ہے وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ سے ڈرنے یعنی اس کی ناپسندیدہ چیزوں سے بچنے کا مکمل اہتمام جو اللہ تعالیٰ کے حق کے مطابق ہو۔ لفظ تقویٰ اصل عربی زبان میں بچنے اور اجتناب کرنے کے معنوں میں آتا ہے۔ اس کا ترجمہ ڈرنا بھی اسی مناسبت سے کیا جاتا ہے کہ جن چیزوں سے بچنے کا حکم دیا گیا ہے وہ ڈرنے ہی کی چیزیں ہوتی ہیں اور ان سے عذاب الٰہی کا خطرہ ہوتا ہے۔ اس ڈرنے کی چیز یعنی تقویٰ کے بہت سے درجات ہیں جن میں سے ادنی درجہ کفرو شرک سے بچنا ہے۔ ان معنی کے لحاظ سے ہر مسلمان متقی کہا جاسکتا ہے اگرچہ رہ گناہوں…
Read the full tafseer →Commentary
In the previous verses, Muslims were warned that the people of the Book, and others, want them to go astray from the right path so Muslims must remain vigilant of their moves and take steps to counter their anti-Muslim activities.
In the two verses appearing here, two important principles have been given which go to "Pregnable. These are:
1. Taqwa
2. Unity
Read the full tafseer →Explained with ayahs 98–102
82. They should remain steadfast in their obedience and loyalty to God.
Read the full tafseer →