Explained with ayahs 102–103
اللہ تعالیٰ کی رسی قرآن حکیم ہے
اللہ تعالیٰ سے پورا پورا ڈرنا یہ ہے کہ اس کی اطاعت کی جائے نافرمانی نہ کی جائے اس کا ذکر کیا جائے اور اس کی یاد نہ بھلائی جائے اس کا شکر کیا جائے کفر نہ کیا جائے، بعض روایتوں میں یہ تفسیر مرفوع بھی مروی ہے لیکن ٹھیک بات یہی ہے کہ یہ موقوف ہے یعنی حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ کا قول ہے واللہ اعلم۔ حضرت انس کا فرمان ہے کہ انسان اللہ عزوجل سے ڈرنے کا حق نہیں بجا لاسکتا جب تک اپنی زبان کو محفوظ نہ رکھے، اکثر مفسرین نے کہا ہے کہ یہ آیت (فَاتَّقُوا اللّٰهَ مَا اسْتَطَعْتُمْ وَاسْمَعُوْا وَاَطِيْعُوْا وَاَنْفِقُوْا خَيْرًا لِّاَنْفُسِكُمْ ۭ وَمَنْ يُّوْقَ شُحَّ نَفْسِهٖ…
Read the full tafseer →سورة اٰلِ عِمْرٰن 83
اللہ کی رسی سے مراد اس کا دین ہے، اور اس کو رسی سے اس لیے تعبیر کیا گیا ہے کہ یہی وہ رشتہ ہے جو ایک طرف اہل ایمان کا تعلق اللہ سے قائم کرتا ہے اور دوسری طرف تمام ایمان لانے والوں کو باہم ملا کر ایک جماعت بناتا ہے۔ اس رسی کو ”مضبوط پکڑنے“ کا مطلب یہ ہے کہ مسلمانوں کی نگاہ میں اصل اہمیت ”دین“ کی ہو، اسی سے ان کو دلچسپی ہو، اسی کی اقامت میں وہ کوشاں رہیں اور اسی کی خدمت کے لیے آپس میں تعاون کرتے رہیں۔ جہاں دین کی اساسی تعلیمات اور اس کی اقامت کے نصب العین سے مسلمان ہٹے اور ان کی توجہات اور دلچسپیاں جزئیات و فروع کی طرف منعطف ہوئیں، پھر ان میں لازماً وہی تفرقہ و اختلاف رونما…
Read the full tafseer →مسلمانوں کی اجتماعی قوت کا دوسرا اصول باہمی اتفاق
دوسری آیت واعتصموا بحبل اللہ جمیعا۔ میں اس کو نہایت بلیغ اور حکیمانہ انداز سے بیان فرمایا ہے کہ سب سے پہلے وہ اصول اور گر بتلایا جو انسانوں کو باہمی مربوط اور متفق کرنے کا نسخہ اکسیر ہے، اس کے بعد آپس میں متفق ہونے کا حکم دیا، اس کے بعد آپس کے افتراق و انتشار سے منع فرمایا۔
تشریح اس کی یہ ہے کہ اتفاق و اتحاد ایک ایسی چیز ہے جس کے محمود و مطلوب ہونے پر دنیا کے تمام انسان خواہ وہ کسی ملک اور کسی زمانے کے ہوں، کسی مذہب و مشرب سے تعلق رکھتے ہوں سب کا اتفاق ہے اس میں دو رائیں ہونے کا امکان ہی نہیں، دنیا میں شاید کوئی ایک آدمی بھی ایسا نہ نکلے جو…
Read the full tafseer →’ حبل اللہ ‘ سے مراد : ’ حبل ‘ کے معنی رسی کے ہیں۔ اپنے اسی معنی سے ترقی کر کے یہ لفظ تعلق اور ربط کے مفہوم میں استعمال ہوا ہے اس لیے کہ رسی دو چیزوں میں ربط وتعلق کا ذریعہ ہوتی ہے۔ ایک حماسی شاعر کا مشہور شعر ہے۔ ولکنی وصلت الحبل منہ۔ مواصلۃ بحبل ابی بیان : لیکن میں نے اس سے اپنا تعلق جوڑے رکھا، ابوبیان کے تعلق سے وابستگی کی بنا پر۔ پھر مزید ترقی کر کے یہ لفظ معاہدہ کے مفہوم میں بھی استعمال ہونے لگا اس لیے کہ رسی جس طرح دوچیزوں کو ایک ساتھ باندھ دیتی ہے اسی طرح معاہدہ بھی دو قوموں کو ایک دوسرے سے باندھ دیتا ہے۔ معاہدہ کے مفہوم میں یہ لفظ خود قرآن میں استعمال ہوا ہے ”الابحبل من اللہ وحبل من…
Read the full tafseer →13۔ 1 تقوٰی کے بعد سب ملکر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لینے کا درس دے کر واضح کردیا کہ نجات بھی انہی دو اصولوں میں ہے اور اتحاد بھی انہیں پر قائم ہوسکتا اور رہ سکتا ہے۔
13۔ 2 ' ولا تفرقوا اور پھوٹ نہ ڈالو ' کے ذریعے فرقہ بندی سے روک دیا گیا ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر مزکورہ دو اصولوں سے انحراف کرو گے تو تمہارے درمیان پھوٹ پڑجائے گی اور تم الگ الگ فرقوں میں بٹ جاؤ گے۔ اور یہیں سے امت مسلمہ کے افتراق کے المیہ کا آغاز ہوا جو دن بدن بڑھتا ہی چلا گیا اور نہایت مستحکم ہوگیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 100–106
36: اگر یہ یہودیوں کا ذکر ہے تو ایمان سے مراد ان کا تورات پر ایمان لانا ہے اور اگر منافقین مراد ہیں تو ایمان کا مقصد ان کا زبانی اعلان ہے جس کے ذریعے وہ اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کرتے تھے۔ تیسرا احتمال یہ بھی ہے کہ خبر دار اسلام کو چھوڑ نہ بیٹھنا، اس لیے یہ بیان کیا گیا ہے کہ جو لوگ واقعۃ مرتد ہوجائیں گے، ان کا آخرت میں کیا حال ہوگا
Read the full tafseer →دوسری اساس جس پر اسلامی سوسائٹی کی عمارت اٹھتی ہے وہ اخوت اسلامی کی اساس ہے ۔ صرف اللہ کے نام پر برادری ‘ اسلامی نظام زندگی کی رفاقت ‘ اسلامی نظام زندگی کے قیام کے لئے جدوجہد کرنے کی رفاقت ۔
وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِيعًا وَلا تَفَرَّقُوا وَاذْكُرُوا نِعْمَةَ اللَّهِ عَلَيْكُمْ إِذْ كُنْتُمْ أَعْدَاءً فَأَلَّفَ بَيْنَ قُلُوبِكُمْ فَأَصْبَحْتُمْ بِنِعْمَتِهِ إِخْوَانًا وَكُنْتُمْ عَلَى شَفَا حُفْرَةٍ مِنَ النَّارِ فَأَنْقَذَكُمْ مِنْهَا كَذَلِكَ يُبَيِّنُ اللَّهُ لَكُمْ آيَاتِهِ لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُونَ
” سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے پکڑلو ‘ اور تفرقہ میں نہ پڑو ‘ اللہ کے اس احسان…
Read the full tafseer →6 یعنی سب مل کر قرآن کو مضبوط تھامے رہو جو خدا کی مضبوط رسی ہے۔ یہ رسی ٹوٹ تو نہیں سکتی ہاں چھوٹ سکتی ہے۔ اگر سب مل کر اس کو پوری قوت سے پکڑے رہو گے، کوئی شیطان شر انگیزی میں کامیاب نہ ہو سکے گا اور انفرادی زندگی کی طرح مسلم قوم کی اجتماعی قوت بھی غیر متزلزل اور ناقابل اختلال ہوجائے گی۔ قرآن کریم سے تمسک کرنا ہی وہ چیز ہے جس سے بکھری ہوئی قوتیں جمع ہوتی ہیں اور ایک مردہ قوم حیات تازہ حاصل کرتی ہے لیکن تمسک بالقرآن کا یہ مطلب نہیں کہ قرآن کو اپنی آراء و اہواء کا تختہ مشق بنا لیا جائے، بلکہ قرآن کریم کا مطلب وہی معتبر ہوگا جو احادیث صحیحہ اور سلف صالحین کی متفقہ تصریحات کے خلاف نہ ہو۔
7 یعنی…
Read the full tafseer →آیت 103 وَاعْتَصِمُوْا بِحَبْلِ اللّٰہِ جَمِیْعًا وَّلاَ تَفَرَّقُوْاص۔
یاد رہے کہ اس سے پہلے آیت 101 ان الفاظ پر ختم ہوئی ہے : وَمَنْ یَّعْتَصِمْ باللّٰہِ فَقَدْ ہُدِیَ اِلٰی صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ اور جو کوئی اللہ تعالیٰ سے چمٹ جائے اللہ کی حفاظت میں آجائے اس کو تو ہدایت ہوگئی صراط مستقیم کی طرف۔ سورة الحج کی آخری آیت میں بھی یہ لفظ آیا ہے : وَاعْتَصِمُوْا باللّٰہِ اور اللہ سے چمٹ جاؤ ! اب اللہ کی حفاظت میں کیسے آیا جائے ؟ اللہ سے کیسے چمٹیں ؟ اس کے لیے فرمایا : وَاعْتَصِمُوْا بِحَبْلِ اللّٰہِ کہ اللہ کی رسی سے چمٹ جاؤ ‘ اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو۔ اور یہ اللہ کی رسّی کونسی ہے ؟ متعدد…
Read the full tafseer →93 اللہ کی رسی سے مراد اللہ کا دین یا کتاب و سنت کے احکام ہیں اور اللہ کی رسی اس لیے کہا گیا ہے کہ یہی وہ رشتہ ہے جو تمام اہل ایمان کا اللہ سے تعلق قائم رکھتا ہے اور دوسری طرف اہل ایمان کو ایک دوسرے سے مربوط بناتا ہے اور کتاب و سنت کے احکام پر سختی سے عمل پیرا ہونے سے اس بات کا امکان ہی نہیں رہتا کہ مسلمانوں میں اختلاف، انتشار یا عداوت پیدا ہو۔ لہذا مسلمانوں کو چاہئے کہ اپنی تمام تر توجہ دینی تعلیمات پر مرکوز رکھیں اور فروعی مسائل میں الجھ کر امت مسلمہ میں انتشار پیدا کرکے فرقہ بندیوں سے پرہیز کریں۔
94 یعنی جس وقت پورے عرب میں قبائلی نظام رائج تھا اور لوٹ مار اور قتل و غارت کا بازار گرم تھا۔…
Read the full tafseer →217 ۔ اس تعلیم کے ایک عملی پہلو کا اعتراف ایک غیر مسلم کی زبان سے :۔ ” اسلام نے ان قبیلوں کو متحد کردیا جو اس وقت تک برابر ایک دوسرے سے مصروف پیکار رہتے تھے “ (آرنلڈ کی پریچنگ آف اسلام صفحہ 2 1) حبل اللہ محاورۂ عربی میں حبل سے مراد عھد بھی ہوتا ہے اور مطلقا ہر وہ شے جو ذریعہ یا وسیلہ کا کام دے سکے۔ یستعار الحبل للعھد۔ (روح) واستعیر للوصل وبکل ما یتوصل بہ الی شیء (راغب) یہاں مراد شریعت اسلامی یا قرآن ہے۔ متعدد قول نقل ہوئے ہیں اور وہ سب متقارب ہیں۔ قال ابن مسعود حبل اللہ القران ورواہ علی وابو سعید الخدری عن النبی ﷺ و عن مجاھد وقتادۃ مثل ذلک (قرطبی) العھد اوالقران اوالدین او الطاعۃ او اخلاص…
Read the full tafseer →وَاعْتَصِمُوْا بِحَبْلِ اللہِ ، اللہ کی رسی سے مراد اس کا دین ہے اور اس کو رسی سے اس لیے تعبیر کیا گیا ہے کہ یہی وہ رشتہ ہے جو ایک اہل ایمان کا تعلق اللہ سے قائم کرتا ہے اور دوسری طرف ایمان لانے والوں کو باہم ملا کر یاک جماعت بناتا ہے، اسی رسی کو مضبوطی سے پکڑنے کا مطلب یہ ہے کہ مسلمانوں کی نگاہ میں اصل اہمیت دین کی ہو اسی سے ان کو دلچسپی ہو، اسی کی اقامت میں وہ کوشاں رہیں اور اس کی خدمت کے لیے آپس میں تعاون کرتے رہیں، جہاں دین کی اساسی تعلیمات اور اس کی اقامت کے نصب العین سے مسلمان ہٹے اور ان کی دلچسپیاں جزئیات اور فروع کی طرف منعطف ہوئیں پھر ان میں لازماً تفرقہ و اختلاف رونما ہوجائے گا۔…
Read the full tafseer →واعتصموا بحبل اللہ اور اللہ کی رسی کو مضبوطی سے پکڑے رہو اللہ کی رسّی سے مراد ہے دین اسلام کیونکہ اللہ نے فرمایا : ومن یکفر بالطاغوت و یومن باللہ فقد استمسک بالعروۃ الوثقی لاانفصام لھا (اس آیت میں ایمان باللہ کو عروۂ وثقیٰ فرمایا ہے) یا کتاب اللہ مراد ہے کیونکہ رسول اللہ نے فرمایا : اللہ کی کتاب ایک ایسی رسّی ہے جو آسمان سے زمین تک تنی ہوئی ہو (اس کو پکڑ کر آدمی اللہ تک پہنچ سکتا ہے) ۔
جمیعا سب کے سب یعنی جو تفسیر کلام اللہ باجماع امت ہو اس کو مضبوطی سے پکڑ لو اجماع کے خلاف متفرق آراء کی طرف نہ جاؤ۔ حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا : تمہاری تین باتیں اللہ کو پسند ہیں اور تین…
Read the full tafseer →(103) اور دین الہی اور کتاب خداوندی (قرآن) کو مضبوطی کے ساتھ تھامے رکھو اور اسلام کی اس نعمت کو یاد کرو کہ جاہلیت میں تم کس طرح باہم دشمن تھے پھر دین اسلام سے آپس میں بھائی بھائی ہوگئے۔
اور بوجہ کفر کے تم لوگ دوزخ کے کنارے پر کھڑے تھے، اس دوزخ سے تمہیں بذریعہ ایمان نجات عطا کی، اسی طرح اللہ تعالیٰ اپنے اوامرو نواہی اور اپنے احسانات کا تذکرہ کرتا رہتا ہے تاکہ تمہیں ہدایت حاصل ہو۔
Read the full tafseer →وَاعْتَصِمُوْا بِحَبْلِ اللّٰهِ جَمِيْعًا۔۔ : مومنوں کو اہل کتاب کی اطاعت سے دور رہنے کی نصیحت فرما کر اب یہاں سے چند اصولی باتوں کا حکم دیا جا رہا ہے، جن کی پابندی سے انسان ہر قسم کے فتنوں سے محفوظ رہ سکتا ہے، یعنی اللہ تعالیٰ سے ڈرنا جیسے ڈرنے کا حق ہے، سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے پکڑنا اور جدا جدا نہ ہونا اور اللہ کی نعمت، یعنی دلوں میں الفت ڈالنے کو یاد رکھنا۔
اللہ کی رسی سے مراد قرآن ہے، درحقیقت یہ ایک استعارہ ہے کہ اگر کچھ لوگ پہاڑ کی بلندی سے کسی گہری کھائی میں گرپڑیں تو انھیں نکالنے کے لیے اوپر سے رسی پھینکی جاتی ہے۔ اب جو لوگ مل کر اس رسی کو مضبوطی سے پکڑ لیں وہ اس رسی کے ساتھ…
Read the full tafseer →آیت نمبر : 103۔
اس میں دو مسئلے ہیں۔
مسئلہ نمبر : (1) قولہ تعالیٰ : (آیت) ” واعتصموا۔ العصمۃ کا معنی ہے المنعۃ (یعنی عزت اور قوت) اور اسی وجہ سے بدرقہ کو عصمۃ کہا جاتا ہے اور بذرقہ : قافلہ کی حفاظت کرنے والے کو کہتے ہیں، (یعنی محافظ ونگران) اور وہ یہ ہے کہ وہ قافلہ کے ساتھ ایسے افراد کو بھیجے جو اس کی ان سے حفاظت کریں گے جو اسے اذیت اور تکلیف پہنچائیں گے۔ ابن خالویہ نے کہا ہے : البذرقہ عربی زبان کا لفظ نہیں ہے بلکہ یہ فارسی کلمہ ہے اور عربوں نے اسے عربی بنا لیا ہے، کہا جاتا ہے : بعث السلطان بذرقۃ مع القافلۃ (سلطان نے قافلہ کے ساتھ محافظ بھیجے، )
اور لفظ ” الحبل “ مشترک ہے اور لغت میں اس کا…
Read the full tafseer →(1) سعید بن منصور ابن ابی شیبہ ابن جریر ابن المنذر طبرانی نے صحیح سند کے ساتھ حضرت ابن مسعود ؓ سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” اعتصموا بحبل اللہ۔ میں حبل اللہ سے مراد قرآن مجید ہے۔
(2) فریابی، عبد بن حمید، ابن الضریس، ابن جریر، ابن الانباری نے مصاحف میں طبرانی ابن مردویہ اور بیہقی نے شعب الایمان میں حضرت ابن مسعود ؓ سے روایت کیا ہے کہ بلاشبہ یہ راستہ حاضر کیا ہوا ہے شیاطین حاضر ہوئے اور آواز دیتے ہیں کہ اے اللہ کے بندے ! آجاؤ یہ وہی راستہ ہے (یعنی اس کو دھوکہ دیتا ہے) تاکہ ان کو اللہ کے راستے سے روکے سو تم مضبوط پکڑو اللہ کی رسی کو اور بلاشبہ اللہ کی رسی قرآن ہے۔
(3) ابن ابی شیبہ نے ابن جریر نے…
Read the full tafseer →[وَاعْتَصِمُوْا : اور تم لوگ مضبوطی سے پکڑو ] [بِحَبْلِ اللّٰہِ : اللہ کی رسّی کو ] [جَمِیْعًا : سب کے سب ] [وَّلاَ تَفَرَّقُوْا : اور تم لوگ پھٹ کر الگ الگ مت ہو ] [وَاذْکُرُوْا : اور یاد کرو ] [نِعْمَتَ اللّٰہِ : اللہ کی نعمت کو ] [عَلَیْکُمْ : اپنے اوپر ] [اِذْ کُنْتُمْ : جب تم لوگ ] [اَعْدَآئً : دشمن تھے ] [فَاَلَّفَ : پھر اس نے محبت پیدا کی ] [بَیْنَ قُلُوْبِکُمْ : تمہارے دلوں کے درمیان ] [فَاَصْبَحْتُمْ : تو تم لوگ ہوگئے ] [بِنِعْمَتِہٖ : اس کی نعمت سے ] [اِخْوَانًا : بھائی بھائی ] [وَکُنْتُمْ : اور تم لوگ تھے ] [عَلٰی شَفَا حُفْرَۃٍ : ایک گڑھے کے کنارے پر ] [مِّنَ النَّارِ : آگ میں سے…
Read the full tafseer →اللہ تعالیٰ کی نعمت کی یاد دہانی :
پھر فرمایا (وَ اذْکُرُوْا نِعْمَتَ اللّٰہِ عَلَیْکُمْ اِذْ کُنْتُمْ اَعْدَآءً ) (الآیۃ) کہ تم اللہ کے انعام کو یاد کرو جبکہ تم دشمن تھے اللہ نے تمہارے دلوں میں الفت پیدا فرمائی لہٰذا تم اللہ کی نعمت سے بھائی بھائی بن گئے اور دوزخ کے گڑھے کے کنارہ پر تھے اللہ نے تم کو بچا لیا۔ دوزخ کے کنارہ پر ہونا تو ظاہر ہی ہے کیونکہ اوس اور خزرج دونوں قبیلے کافر اور مشرک تھے اور ان کی آپس کی دشمنی کا یہ عالم تھا کہ بقول ابن اسحاق اوس اور خزرج میں ایک سو بیس سال تک جنگ جاری رہی تھی جب دونوں قوموں نے اسلام قبول کیا تو وہ جنگ کی آگ اللہ نے بجھا دی ان کے درمیان اللہ نے الفت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 102–117
قال تعالی۔ یا ایھا الذین۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تا۔۔۔۔ ترجع الامور۔ آیت۔
ربط) گزشتہ آیات میں اللہ نے باہمی قتال وشقاق کو تکفرون یعنی کفر سے تعبیر فرمایا اب آئندہ آیت میں تقوی اور اعتصام بحبل اللہ یعنی اتفاق اور اتحاد اور اسلامی مواخات کا حکم دیتے ہیں اور اتفاق اور اتحاد کا ایک دستور العمل بتلاتے ہیں وہ یہ کہ اول تقوی اور اسلام پر مداومت اور استقامت کا حکم دیا اور پھر اعتصام بحبل اللہ کا حکم فرمایا کہ سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوط پکڑو پھر یہ ارشاد فرمایا، واذکر نعمتہ اللہ علیکم۔ الخ۔ آیت۔ جس میں حکم دیا کہ اتفاق اور اتحاد کی نعمت کو یاد کرو، اور اس نعمت کو اور اس کی برکات کو یاد کرکے موازنہ کرو کہ پہلے…
Read the full tafseer →148 حَبْلِ اللہِ (اللہ کی رسی) سے مراد یہاں قرآن ہے جیسا کہ صحیح سند کے ساتھ آنحضرت ﷺ سے منقول ہے۔ عن ابی سعید الخدری قال قال رسول اللہ ﷺ کتاب اللہ ھو حبل اللہ المدود من السماء الی الارض (ابن جریر ص 20 ج 4) اور اعتصام کے معنی تمسک اور مضبوطی سے پکڑنے کے ہیں مطلب یہ ہے کہ قرآن میں اللہ تعالیٰ نے جو احکام نازل فرمائے ہیں ان پر مضبوطی سے قائم رہو۔ وَلَاتَفَرَّقُوْا جس کتاب اور دین حق پر تمہیں قائم رہنے کا حکم دیا گیا ہے اس سے علیحدگی مت اختیار کرو۔ وَلَاتَتَفَرَّقُوْا عَنِ الْحَقِّ الذی امرتم بالعتصام بہ (روح ص 19 ج 4) یا مطلب یہ ہے کہ آپس میں اتفاق اور محبت سے رہو۔ شقاق وعداوت سے پرہیز کرو۔ نھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 102–103
ربط آیات :
گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے اہل کتاب کی بات ماننے سے منع فرمایا تھا۔ اہل کتاب کی گمراہی کا زکر کرنے کے بعد اہل ایمان کو تنبیہ فرمائی کہ اگر انہوں نے اہل کتاب کے کسی گروہ کی بات کو مان لیا ، تو وہ انہیں راہ ہدایت سے کفر کی طرف پھیر دیں گے۔ پھر وضاحت فرمائی کہ اگر عقیدے میں ان کی بات مانی ، تو کافر ہوجاؤ گے اور اگر اعمال میں ان کا اتباع کیا تو اللہ کی ناراضگی مول لوگے اور کفران نعمت کے مرتکب ہوگے۔ اب آج کے درس میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو خاص طور پر رہنمائی فرمائی ہے اور دین کے بنیادی اصولوں پر قائم رہنے بد عقیدگی اور معصیت سے بچنے کی تلقین کی ہے۔
خوف خدا :
ارشاد ہوتا ہے۔ یایھا…
Read the full tafseer →وَاعْتَصِمُوْا بِحَبْلِ اللہِ جَمِيْعًا وَّلَا تَفَرَّقُوْا 0 ۠ وَاذْكُرُوْا نِعْمَتَ اللہِ عَلَيْكُمْ اِذْ كُنْتُمْ اَعْدَاۗءً فَاَلَّفَ بَيْنَ قُلُوْبِكُمْ فَاَصْبَحْتُمْ بِنِعْمَتِہٖٓ اِخْوَانًا 0 ۚ وَكُنْتُمْ عَلٰي شَفَا حُفْرَۃٍ مِّنَ النَّارِ فَاَنْقَذَكُمْ مِّنْھَا 0 ۭ كَذٰلِكَ يُبَيِّنُ اللہُ لَكُمْ اٰيٰتِہٖ لَعَلَّكُمْ تَھْتَدُوْنَ 103
عصم
العَصْمُ : الإمساکُ ، والاعْتِصَامُ : الاستمساک . قال تعالی: لا عاصِمَ الْيَوْمَ مِنْ أَمْرِ اللَّهِ [هود/ 43] ، أي : لا شيء يَعْصِمُ منه، والاعْتِصَامُ : التّمسّك بالشیء، قال : وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِيعاً [ آل عمران/ 103]
( ع ص م )…
Read the full tafseer →1 ؎ قبل از اسلام قبیلہ بنی اوس و خررج انصار مدینہ کے دو گروہوں میں صدیوں سے لڑائی چلی آتی تھی۔ طرفین کے ہزارہا لوگ باگ مارے گئے تھے۔ اس کو کنایۃً کنتم علی شفا حفرۃ من النار سے تعبیر کرکے بتایا گیا جب آنحضرت ﷺ مکہ سے ہجرت کرکے مدینہ تشریف لائے تو آپ کے برکت قدوم سے ان میں بھی میل ملاپ ہوگیا اور اس میں ایسی سخت خونریز قوم بھائی بھائی بن گئے۔ خدا تعالیٰ اس نعمت کو یاد دلاتا ہے جس کے سبب سے دینی و دنیوی برکات نازل ہوئیں۔ اتفاق باہمی نفسانی خواہشوں سے جاتا رہتا ہے۔ نبوت نے روحانی اثر سے نفسانیت کو بالکل نیست و نابود کردیا تھا۔ یہ آنحضرت ﷺ کا ایک بین و بدیہی معجزہ تھا کہ صدیوں کے نفاق کو رفع کرکے…
Read the full tafseer →وَاعْتَصِمُوْا بِحَبْلِ اللّٰہِ جَمِیْعًا وَّلاَ تَفَرَّقُوْا ص وَاذْکُرُوْا نِعْمَتَ اللّٰہِ عَلَیْـکُمْ اِذْکُنْـتُمْ اَعْدَآئً فَاَلَّفَ بَیْنَ قُلُوْبِکُمْ فَاَصْبَحْتُمْ بِنِعْمَتِہٖٓ اِخْوَانًاج وَکُنْـتُمْ عَلٰی شَفَا حُفْرَۃٍ مِّنَ النَّارِ فَاَنْقَذَکُمْ مِّنْہَا ط کَذٰلِکَ یُبَیِّنُ اللّٰہُ لَـکُمْ اٰیٰـتِہٖ لَعَلَّـکُمْ تَہْتَدُوْنَ ۔
(اور اللہ کی رسی کو سب مل کر مضبوطی سے پکڑو اور پھوٹ نہ ڈالو اور اپنے اوپر اللہ کے اس احسان کو یاد کرو کہ تم ایک دوسرے کے دشمن تھے تو اللہ نے تمہارے دلوں کو ایک دوسرے کے ساتھ جوڑ دیا۔ اور تم اس کے فضل سے بھائی بھائی بن گئے۔ اور تم آگ کے ایک گڑھے کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 103–104
فہم القرآن
ربط کلام : اللہ تعالیٰ لوگوں کی ہدایت کے لیے اپنے احکامات بیان کرتا ہے لہٰذا مسلمانوں کا فرض ہے کہ وہ اس پر عمل پیرا ہوتے ہوئے لوگوں کو تبلیغ کرتے رہیں۔ خاص کر ایک جماعت کو مسلسل یہ فریضۂ سرانجام دینا چاہیے۔
تھوڑا سا آگے چل کر آیت 110 میں اس امت کے وجود کی غرض وغایت کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ تمہارے وجود کا مقصدہی یہ ہے کہ تم لوگوں کو نیکی کا حکم کرو اور برائی سے روکتے رہو۔ چونکہ امت میں ہر آدمی اتنا وقت نہیں دے سکتا جس سے فریضۂ تبلیغ کا حق ادا ہو سکے اور نہ ہی ہر کسی میں اتنی صلاحیت ہوا کرتی ہے کہ وہ دلائل کی بنیاد پر دوسرے کو مطمئن کرسکے۔ اس لیے یہاں امت میں ایسی جماعت ہونے کا…
Read the full tafseer →اعتصام بحبل اللّٰہ کا حکم :
103: وَاعْتَصِمُوْا بِحَبْلِ اللّٰہِ جَمِیْعًا وَّلَا تَفَرَّقُوْا وَاذْکُرُوْا نِعْمَتَ اللّٰہِ عَلَیْکُمْ اِذْ کُنْتُمْ اَعْدَآئً فَاَلَّفَ بَیْنَ قُلُوْبِکُمْ فَاَصْبَحْتُمْ بِنِعْمَتِہٖٓ اِخْوَانًاج وَکُنْتُمْ عَلٰی شَفَا حُفْرَۃٍ مِّنَ النَّارِ فَاَنْقَذَ کُمْ مِّنْہَا کَذٰلِکَ یُبَیِّنُ اللّٰہُ لَکُمْ ٰایٰتِہٖ لَعَلَّکُمْ تَھْتَدُوْنَ ۔ (اور اللہ تعالیٰ کی رسّی کو مضبوطی سے تھام لو) یعنی قرآن کو مضبوطی سے تھام لو۔ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے۔ قرآن اللہ تعالیٰ کی مضبوط رسّی ہے۔ اسکے عجائبات کی انتہاء نہیں۔ اور بار بار لوٹانے سے پرانا نہیں ہوتا۔ جس نے قرآن کی بات…
Read the full tafseer →(تفسیر) 103۔:
(آیت)” واعتصموا بحبل اللہ جمیعا “۔ حبل اس سبب کو کہتے ہیں جو مطلوب و مقصود تک پہنچانے میں ذریعہ بنے اور ایمان کو بھی حبل کہتے کیونکہ یہ سبب جو جہنم کے خوف سے بچاتا ہے۔
(واعتصموا بحبل اللہ کی تفسیر)
اس کے معنی میں مفسرین کا اختلاف ہے ، حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ کا قول ہے فرماتے ہیں کہ اس کا معنی ہے اللہ کے دین کو مضبوطی سے پکڑنا ، ابن مسعود ؓ فرماتے ہیں کہ اس سے مراد جماعت ہے اور فرماتے ہیں کہ تم جماعت کو لازم پکڑو اس لیے کہ یہ ایسی رسی ہے جس کے پکڑنے کا حکم دیا گیا ہے اور جماعت میں جو تمہیں طاعت ناپسند سمجھتے ہو وہ بہتر ہے ، اس فرقت سے جو تم پسند کرتے ہو ،
مجاہد (رح) اور عطاء…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 100–103
(100 ۔ 103) ۔ تفسیر ابن ابی حاتم میں حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے اور تفسیر ابو الشیخ اور تاریخ ابن اسحاق میں زید بن اسلم ؓ سے روایت ہے کہ انصار کے دو قبیلوں اوس اور خزرج میں اسلام سے پہلے بڑی عدوت اور صدہا برس کی لڑائی تھی۔ اسلام کے بعد ان دونوں قبیلوں میں بڑا میل جول ہوگیا۔ اور مدتوں کی آپس کی لڑائی بالکل جاتی رہی ایک روز ان دونوں قبیلے کے کچھ مسلمان بیٹھے ہوئے بڑی محبت سے آپس میں باتیں کر رہے تھے اتنے میں ایک شخص یہودی شاش بن قیس کا ادھر سے گذر ہوا اس یہود کو یہ امر شاق ہوا کہ ان دونوں قبیلوں میں باوجود ایسی سخت عداوت کے ایسی دلی کیونکر ہوگئی اور اس یہود نے چاہا کہ ان مسلمانوں میں پھر پھوٹ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 102–104
آیت 103
ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے اپنے مومن بندوں کو حکم دیا ہے کہ اس سے ایسے ڈریں جیسے ڈرنے کا حق ہے، پھر اس تقویٰ پر قائم اور ثابت قدم رہیں اور موت تک استقامت ہو۔ کیونکہ انسان جس طرح کی زندگی گزارتا ہے، اسے ویسی ہی موت نصیب ہوتی ہے۔ جو شخص صحت، نشاط اور طاقت کی حالت میں اللہ کے تقویٰ اور اس کی اطاعت پر قائم رہتا ہے اور ہمیشہ اس کی طرف متوجہ رہتا ہے، اللہ تعالیٰ اسے موت کے وقت استقامت عطا فرماتا ہے اور اسے حسن خاتمہ سے نوازتا ہے۔ اللہ سے کما حقہ تقویٰ رکھنے کی وضاحت جناب عبداللہ بن مسعود نے ان الفاظ میں کی ہے : (ھو ان یطاع فلا یعصی ویذکر فلاینسی ویشکر فلایکفر) ” اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کی…
Read the full tafseer →قول باری ہے (اعتصموابحبل اللہ جمیعاولا تفر قوا، تم سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے پکڑو اور تفرقہ میں نہ پڑو) حضور ﷺ سے یہاں، حبل اللہ، کے معنی کے متعلق روایت ہے اس سے مراد قرآن ہے۔ اسی طرح حضرت عبداللہ بن مسعو ؓ د، قتادہ اور سدی سے بھی روایت ہے ایک قول ہے کہ اس سے مراد اللہ کا دین ہے، ایک قول ہے کہ اس سے مراد عہدالٰہی ہے، اس لیے کہ یہ اسی طرح نجات کا ذریعہ ہے جس طرح رسی دوبنے وغیرہ سے نجات کا ذریعہ بن جاتی ہے۔
امان کو بھی حبل کا نام دیاجاتا ہے اس لیے کہ وہ نجات کا سبب ہوتا ہے۔ یہ مفہوم اس قول باری کا ہے (الا بحبل من اللہ وحبل من الناس، سوائے اس کے کہ اللہ کی طرف سے یا لوگوں کی طرف سے امان…
Read the full tafseer →211 اللہ کی رسی سے مقصود و مراد ؟ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ تم لوگ مضبوطی سے تھام لو اللہ کی رسی کو۔ یعنی اس کے دین، اور اس کی شریعت کو، جو کہ عبارت ہے اللہ کی کتاب اور اس کے رسول کی سنت سے، جس کے بارے میں آنحضرت ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ میں تمہارے درمیان دو ایسی عظیم الشان چیزیں چھوڑ کر جا رہا ہوں کہ تم نے جب تک ان کو مضبوطی سے تھامے رکھا، تم کبھی گمراہ نہیں ہوؤ گے۔ ایک اللہ کی کتاب اور ایک میری سنت۔ سو ان دونوں کو اپنی ڈاڑھوں سے اور مضبوطی کے ساتھ پکڑ لو۔ اسی طرح جن حضرات نے حبل اللہ سے اللہ کا عہد مراد لیا ہے، جیسا کہ آل عمران کی آیت نمبر 211 میں ارشاد فرمایا گیا { اِلَّا بِحَبْلٍ مِّنَ اللّٰہ…
Read the full tafseer →اللہ کی رسی اور اسلام کی برکات
تشریح : اس آیت میں مسلمانوں کو ایسے اصول بتائے گئے ہیں جن سے وہ متحد اور منظم ہوسکتے ہیں۔ جیسا کہ ” حَبْلُ اللّٰہِ “ اللہ کی رسی کا ذکر کیا گیا ہے۔ اصل میں تو اس رسی سے مراد قرآن مجید ہے۔ جیسا کہ عبداللہ بن مسعود راویت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : قرآن اللہ تعالیٰ کی رسی ہے جو آسمان سے زمین تک لٹکی ہوئی ہے۔ “ (تفسیر ابن کثیر)
مطلب یہ ہے کہ اس رسی کا تعلق ایک طرف اللہ سے ہے اور دوسری طرف اہل ایمان سے جڑا ہوا ہے اور اسی رسی کی مدد سے تمام مسلمان بلندیوں کی طرف رواں دواں ہوسکتے ہیں۔ تمام اختلافات نسلی، قومی اور وطنی صرف اسلام کی بدولت ہی ختم ہوسکتے ہیں۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 102–109
آیات 102- 109
اسرارو معارف
یایھا الذین امنوا اتقو اللہ……………لعلکم تھتدون۔
جب تمہیں اس قدر اسباب ہدایت حاصل ہیں تو اے ایمان والو ! اللہ سے ڈرتے رہو جیسا اس سے ڈرنے کا حق ہے تقویٰ دراصل خوف محض کا نام نہیں بلکہ وہ تعلق جو بطفیل نبی کریم ﷺ بندے کو اللہ سے حاصل ہو اس کے ٹوٹ جانے کے ڈر کا نام ہے تعلیمات نبوی ﷺ کے ساتھ وہ کیفیات بھی جو وجود نبوی ﷺ کی برکات میں سے ہیں اور جن کے ورود سے دل بدل گئے ، مزاج بدلے ، خواہشات اور طلب بدل گئی۔ حتیٰ کہ دین پر عمل کرنا مزاج بن گیا اور گناہ طبعی طور پر سخت ناپسندیدہ ہوگیا۔ اب ان نعمتوں کو کبھی ضائع نہ ہونے دو ۔
بیشتر مفسرین کرام نے حضور اکرم ﷺ کا یہ ارشاد نقل…
Read the full tafseer →ف 5 یہاں حبل اللہ۔ اسے مراد قرآن ہے متعدد احادیث میں بھی قرآن کو حبل اللہ الممدود فرمایا گیا ہے۔ (شوکانی مسلمان ہو جو فرقہ بندویوں بھی اسی صورت میں نجات پاسکتے ہیں کہ قرآن کا لا ئحہ عمل قرار دیں اور ذاتی آراو و خیالات کو ترک کر کے سنت کی روشنی میں قرآن کو سمجھنے کی کوشش کریں اور ائمہ دین کے اقوال و فتاوی ٰ کا قرآن وسنت کا درجہ دے کر تحرتب اختیار کریں۔6 اسلام سے پہلے اوس و خزرج ہی نہیں بلکہ عرب شرک و کفر اور باہمی عداوتوں میں مبتلا تھے اسی کو یہاں آگ کے کنارے کھڑا ہونے سے تعبیر فرمایا ہے مقصد یہ ہے کہ اسلام کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے تمہیں آگ میں گر نے سے بچالیا اور عداوت کی بجائے اخوت پیدا کردی…
Read the full tafseer →(3ـ:101) یعتصم۔ واحد مذکر غائب مضارع مجزوم اعتصام (افتعال) مصدر۔ مضبوط پکڑنا ہے۔ عصمۃ۔ گردن بند۔ حمیل عصمۃ اور عصام کتے وغیرہ کی گردن کا پٹہ۔ عصام۔ مشک کا بندھن معصم کلائی کا پونچا۔ عصم مصدر۔ (ضرب سے) اختیار کرنا۔ بچانا۔ محفوظ رکھنا ۔ عصم الیہ اس نے اس کی طرف پناہ لی۔ اعتصام (افتعال) گناہ سے بچے رہنا۔ انعصام (انفعال) گناہ سے بچنا۔
(3:103) الف۔ اس نے الفت دی۔ اس نے محبت ڈال دی۔ تالیف (تفعیل) سے جس کے معنی جمع کرنے اور الفت پیدا کرنے کے ہیں۔ تالیف القلوب دلوں کو اکٹھا کرنا ۔ باہمی الفت پیدا کرنا۔
شفا۔ کنارہ۔ یہ لفظ ہلاکت کے قریب ہونے کے لئے ضرب المثل ہے (شو حروف مادہ ہیں) چناچہ کہتے ہیں اشفی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 102–109
لغات القرآن آیت نمبر 102 تا 109
حق تقٰته (اس سے ڈرنے کا حق ادا کرکے) اعتصموا (تم مضبوط تھام لو) بحبل اللہ (اللہ کی رسی ، یعنی اللہ کے دین کو (مضبوط تھام لو) جمیع (سب کے سب اکٹھے ہوکر) لاتفرقوا (تم جداجدا نہ ہو) اعداء (آپس میں دشمن ) الف (اس نے محبت ڈال دی) اصبحتم (تم گئے) اخوان (بھائی بھائی) شفاء (کنارہ) حفرۃ (گڑھا) انقذ (اس نے بچالیا) ولتکن (ہونی چاہیے) امة (ایک جماعت) یدعون (بلاتے ہیں، دعوت دیتے ہیں) بالمعروف (نیکی کے ساتھ) ینھون (وہ روکتے ہیں) المنکر (برائی غلط راستہ) تبیض (سفید، چمک دار) وجوہ (چہرے (وجه کی جمع ہے) تسود (سیاہ) اکفرتم (کیا تم نے کفر کیا ؟ ) دوقوا (تم چکھو) ابیضت (سفید، چمک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 100–103
مسلمانوں کو کفار سے میل جول کی ممانعت
تفسیر ابن ابی حاتم میں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ وغیرہ سے روایت ہے کہ انصار کے دو قبیلوں اوس اور خزرج میں اسلام سے پہلے بڑی عداوت تھی۔ آنحضرت ﷺ کے صدقہ ان قبیلوں کے لوگ اسلام لا کر باہم شیر وشکر ہوگئے۔ ایک روز وہ ایک مجلس میں بیٹھے ہوئے بڑی محبت کی باتیں کر رہے تھے، شاس بن قیس یہودی جو اسلام کا بڑا دشمن تھا اس طرف سے گزرا اور ان کی باہمی محبت دیکھ کر جل گیا اور کہا کہ یہ لوگ آپس میں مل گئے تو ہمارا کیا ٹھکانا ہے۔ ایک جوان کو مقرر کیا کہ ان کی مجلس میں بٹھ کر ان کی پچھلی لڑائیوں کا ذکر کیا کرے۔ چناچہ اس نے ایسا ہی کیا اور اس کی شر انگیزی سے دونوں قبیلوں کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 103–111
[39] اللہ کی رسی سے مراد قرآن مجید ہے۔ رسول اکرم ﷺ نے قرآن مجید کے بارے میں ارشاد فرمایا ہے '' ھو حبل اللہ المتین '' (یہ اللہ کی مضبوط رسی ہے) ۔ قرآن کو اللہ کی رسی اس لئے فرمایا کہ یہی چیز ہے جو بندوں کو خدا سے جوڑتی ہے۔ جس نے اس کو تھام لیا گویا اس نے خدا کا سہارا تھام لیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 101–103
پیغام اخوت :
(ف 1) پہلے یہ بتایا گیا ہے کہ مسلمان بجز اسلام کے اور کسی چیز پر قانع نہیں رہ سکتا اور اس کی فطرت کے موافق اسلام کے سوا اور کوئی پیغام نہیں ، اس لئے اسے حکم دیا گیا کہ (آیت) ” ولا تموتن الا وانتم مسلمون “۔ یعنی اگر موت بھی آئے تو اسلام پر ، اس کے بعد (آیت) ” واعتصموا بحبل اللہ “ کی تائید کی ہے یعنی مسلمان کا خدا کے ساتھ اتنا مضبوط تعلق ہو اور اس درجہ وابستگی ہو کہ دنیا کا کوئی اور رشتہ اسے منقطع نہ کرسکے ، وہ صرف خدا کے لئے زندہ رہے اور خدا کے لئے مرے اس کا اپنا مفاد اپنے اغراض یکسر مٹ جائیں ، اور اس کے تمام تعلقات اسلام وصداقت کے لئے ہوں ، کفر اور جھوٹ سے اسے قطعا محبت نہ ہو اور…
Read the full tafseer →ف 1 اے ایمان والو ! اللہ تعالیٰ سے ایسا ڈرو جیسا کہ اس سے ڈرنے کا حق ہے اور دیکھو تم کو موت نہ آئے مگر اس حال میں کہ تم مسلمان ہو یعنی حالت اسلام ہی پر دم نکلے اور تم سب باہم متفق ہو کر اللہ تعالیٰ کی رسی کو مضبوط پکڑے رہو اور آپس میں نااتفاقی اور پھوٹ نہ ڈالو اور حق سے جدا نہ ہو جائو اور اللہ تعالیٰ کے اس احسان کو یاد کرو جو اس نے تم پر کیا ہے جبکہ تم آپس میں ایک دوسرے کے دشمن تھے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے تمہارے دلوں میں الفت و محبت ڈال دی سو تم اس کے فضل کی بدولت بھائی بھائی ہوگئے اور تم لوگ دوزخ کے گڑھے کے کنارے پر کھڑے تھے مگر اللہ تعالیٰ نے تم کو اس گڑھے سے بچا لیا۔
تقویٰ کی تفصیل ہم پہلے…
Read the full tafseer →ف 2۔ یعنی بوجہ کافر ہونے کے دوزخ سے اتنے قریب تھے کہ بس دوزخ میں جانے کے لیے صرف مرنے کی دیر تھی۔
Read the full tafseer →مسلمانوں کی اجتماعی زندگی کا دوسرا اصول :
198: مسلمانوں کی اجتماعی زندگی کا دوسرا اصول یہ قرا دیا کہ ” سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے پکڑ لو اور الگ الگ گروہوں میں تقسیم نہ ہوجاؤ ۔ “ گویا پہلے وہ اصول اور گر بتلائے جو انسانوں کو باہمی مربطو اور متفق کرنے کا نسخہ اکیسر ہے ازیں بعد آپس میں متفق ہونے کا حکم دیا۔ یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ اتفاق و اتحاد ایک ایسی چیز ہے جس کے محمود و مطلوب ہونے پر دنیا کے تمام انسان خواہ وہ کسی ملک اور کسی زمانے کے ہوں ، کی مسلک و مشرب سے تعلق رکھتے ہوں سب کا اتفاق ہے اور اس میں دو رائیں ہونے کا امکان ہی نہیں۔ دنیا میں شاید کوئی ایک انسان بھی ایسا نہ نکلے جو…
Read the full tafseer →The first principle appears in the first of the two verses. The second principle follows in the second verse. The first principle stated in the said verse is that one must 'fear Allah', that is, one should organize and manage his life with a full sense of responsibility before Allah, avoiding all that is forbidden or undesirable, doing so in a manner 'which is His due'.
What تقویٰ Taqwa is?
In Arabic, the word, تقویٰ 'Taqwa' is used to denote avoidance and abstinence. It is translated as 'fear' in the sense that things one is asked to abstain from are nothing but things that cause fear, or…
Read the full tafseer →83. The expression 'cable of Allah', in this verse, refers to the 'religion of God'. The reason for use of the word 'cable' (habl) is that it both establishes a bond between man and God and joins all believers together. To take a firm hold on this cable means that the believers should attach profound importance to their religion: this should always be the centre of their concerns; they should continually strive to establish it; and the common desire to serve it should make them co-operate with each other.
As soon as Muslims turn their attentions away from the fundamental teachings of their…
Read the full tafseer →