Aal-i-Imraan 3:104

Aal-i-Imraan · from ayah 104

3:104

وَلْتَكُنْ مِّنْكُمْ اُمَّةٌ یَّدْعُوْنَ اِلَی الْخَیْرِ وَیَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَیَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ ؕ— وَاُولٰٓىِٕكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ ۟وَلۡتَكُنۡ مِّنۡكُمۡ اُمَّةٌ يَّدۡعُوۡنَ اِلَى الۡخَيۡرِ وَيَاۡمُرُوۡنَ بِالۡمَعۡرُوۡفِ وَيَنۡهَوۡنَ عَنِ الۡمُنۡكَرِ‌ؕ وَاُولٰٓئِكَ هُمُ الۡمُفۡلِحُوۡنَ‏

اور تم میں ایک جماعت ایسی ہونی چاہیئے جو لوگوں کو نیکی کی طرف بلائے اور اچھے کام کرنے کا حکم دے اور برے کاموں سے منع کرے یہی لوگ ہیں جو نجات پانے والے ہیں

— Fateh Muhammad Jalandhari

And let there be [arising] from you a nation inviting to [all that is] good, enjoining what is right and forbidding what is wrong, and those will be the successful.

— Saheeh International

Juz 4 · Ruku 11 of surah · Ruku 2 of juz

Read the whole surah · Surah Aal-i-Imraan

All translations of 3:104

تم میں کچھ لوگ تو ایسے ضرور ہی رہنے چاہییں جو نیکی کی طرف بلائیں، بھلائی کا حکم دیں، اور برائیوں سے روکتے رہیں جو لوگ یہ کام کریں گے وہی فلاح پائیں گے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور تم میں ایک جماعت ایسی ہونی چاہیئے جو لوگوں کو نیکی کی طرف بلائے اور اچھے کام کرنے کا حکم دے اور برے کاموں سے منع کرے یہی لوگ ہیں جو نجات پانے والے ہیں

— مولانا فتح محمد جالندہری

تم میں سے ایک جماعت ایسی ہونی چاہئے جو بھلائی کی طرف بلائے اور نیک کاموں کا حکم کرے اور برے کاموں سے روکے، اور یہی لوگ فلاح ونجات پانے والے ہیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور تمہارے درمیان ایک جماعت ایسی ہونی چاہیے جس کے افراد (لوگوں کو) بھلائی کی طرف بلائیں، نیکی کی تلقین کریں، اور برائی سے روکیں۔ ایسے ہی لوگ ہیں جو فلاح پانے والے ہیں۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور تم میں ایک گروہ ایسا ہونا چاہئے کہ بھلائی کی طرف بلائیں اور اچھی بات کا حکم دیں اور بری سے منع کریں اور یہی لوگ مراد کو پہنچے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور تم میں سے ایسے لوگوں کی ایک جماعت ضرور ہونی چاہئے جو لوگوں کو نیکی کی طرف بلائیں اور بھلائی کا حکم دیں اور برائی سے روکیں، اور وہی لوگ بامراد ہیں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور لازم ہے کہ تم میں ایک ایسی جماعت ہو جو نیکی کی طرف دعوت دیں اور اچھے کام کا حکم دیں اور برائی سے منع کریں اور یہی لوگ فلاح پانے والے ہیں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور تم میں سے کچھ لوگ ایسے ہونا چاہئیں جو نیکی کی طرف بلاتے رہیں۔ وہ اچھے کاموں کا حکم دیں اور برے کاموں سے روکتے رہیں اور ایسے ہی لوگ مراد پانے والے ہیں

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور چاہیے کہ تم میں ایک گروہ ایسا ہو جو نیکی کی دعوت دے، معروف کا حکم کرے اور منکر سے روکے اور یہی لوگ فلاح پانے والے ہیں۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور تمہارے اندر ضرور ایسے لوگوں کی ایک جماعت رہنی چاہیے، جو (دنیا کو) نیکی کی طرف بلائے، بھلائی کا حکم کرے، اور برائی سے روکے، اور یہی لوگ ہیں فلاح (اور حقیقی کامیابی) سے سرفراز ہونے والے

— مولانا اسحاق مدنی

اور ضرور ہے کہ تم میں ایک ایسی جماعت رہے جو نیکی کی طرف بلایا کرے اور بھلائی کا حکم دیا کرے اور بدی سے روکا کرو اور پورے کامیاب یہی تو ہیں۔۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور تم میں سے ایک جماعت ایسی ضرور ہونی چاہیے جو خیر کی طرف دعوت دے نیکی کا حکم دیتی رہے اور بدی سے روکتی رہے اور یہی لوگ فلاح پانے والے ہیں

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

تم میں کچھ لوگ تو ایسے ضرور ہونے چاہئیں جو نیکی کی طرف بلائیں، بھلائی کا حکم دیں اور برائی سے روکتے رہیں (جو لوگ یہ کام کریں گے) وہی فلاح پائیں گے

— محترمہ رفعت اعجاز

And from among you there must be a party who invite people to all that is good and enjoin the doing of all that is right and forbid the doing of all that is wrong. It is they who will attain true success.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

There has to be a group of people from among you who call towards the good, and bid the Fair and forbid the Unfair. And it is these who are successful.

— Muhammad Taqi Usmani

There has to be a group of people from among you who call towards the good, and bid the Fair and forbid the Unfair. And it is these who are successful.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Let there arise out of you a group of people inviting to all that is good (Islam), enjoining Al-Ma`ruf (all that Islam orders) and forbidding Al-Munkar (all that Islam has forbidden). And it is they who are the successful.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And there may spring from you a nation who invite to goodness, and enjoin right conduct and forbid indecency. Such are they who are successful.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And let there be [arising] from you a nation inviting to [all that is] good, enjoining what is right and forbidding what is wrong, and those will be the successful.

— Saheeh International

Let there be a group among you who will invite others to do good deeds, command them to obey the Law, and prohibit them from committing sins. These people will have eternal happiness.

— Muhammad Sarwar

And from among you there should be a party who invite to good and enjoin what is right and forbid the wrong, and these it is that shall be successful.

— Muhammad Habib Shakir

And let there be of you a community calling others to good and commanding that which is reputable and prohibiting that which is disreputable. And these they are the blissful.

— Abdul Majid Daryabadi

Let there arise out of you a band of people inviting to all that is good, enjoining what is right, and forbidding what is wrong: They are the ones to attain felicity.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 3:104

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 104–109

یوم آخرت منافق اور مومن کی پہچان حضرت ضحاک فرماتے ہیں اس جماعت سے مراد خاص صحابہ اور خاص راویان حدیث ہیں یعنی مجاہد اور علماء امام ابو جعفر باقر ؒ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اس آیت کی تلاوت کی پھر فرمایا صبر سے مراد قرآن و حدیث کی اتباع ہے، یاد رہے کہ ہر ہر متنفس پر تبلیغ حق فرض ہے لیکن تاہم ایک جماعت تو خاص اسی کام میں مشغول رہنی چاہئے، رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں تم میں سے جو کوئی کسی برائی کو دیکھے اسے ہاتھ سے دفع کر دے اگر اس کی طاقت نہ ہو تو زبان سے روکے اگر یہ بھی نہ کرسکتا ہو تو اپنے دل سے نفرت کرے یہ ضعیف ایمان ہے، ایک اور روایت میں اس کے بعد یہ بھی ہے کہ اس کے بعد رائی کے دانے کے برابر…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 104–105

سورة اٰلِ عِمْرٰن 86 یہ اشارہ ان امتوں کی طرف ہے جنہوں نے خدا کے پیغمبروں سے دین حق کی صاف اور سیدھی تعلیمات پائیں مگر کچھ مدت گزر جانے کے بعد اساس دین کو چھوڑ دیا اور غیر متعلق ضمنی و فروعی مسائل کی بنیاد پر الگ الگ فرقے بنانے شروع کردیے، پھر فضول و لایعنی باتوں پر جھگڑنے میں ایسے مشغول ہوئے کہ نہ انہیں اس کام کا ہوش رہا جو اللہ نے ان کے سپرد کیا تھا اور نہ عقیدہ و اخلاق کے ان بنیادی اصولوں سے کوئی دلچسپی رہی جن پر درحقیقت انسان کی فلاح وسعادت کا مدار ہے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

ربط آیات پچھلی دو آیتوں میں مسلمانوں کے اجتماعی فلاح و صلاح کے دو اصول بتلائے گئے تھے جن میں ہر فرد کو ایک خاص انداز سے اپنی اصلاح کرنے کی ہدایت تھی کہ ہر شخص تقوی اختیار کرے، اور اللہ تعالیٰ کے سلسلہ (اسلام) سے مربوط ہوجائے اس طرح انفرادی اصلاح کے ساتھ ساتھ خودبخود ایک اجتماعی قوت بھی مسلمانوں کو حاصل ہوجائے گی، مذکورہ دو آیتوں میں اسی نظام صلاح و فلاح کا تکملہ اس طرح کیا گیا ہے کہ مسلمان صرف اپنے اعمال و افعال کی اصلاح پر بس نہ کریں، بلکہ اپنے دوسرے بھائیوں کی اصلاح کی فکر بھی ساتھ ساتھ کریں، اسی صورت سے پوری قوم کی اصلاح بھی ہوگی، اور ربط و اتحاد کو بقاء و قیام بھی ہوگا۔ خلاصہ تفسیر اور…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

خلافت کے قیام کا بنیادی مقصد : یہ امت کو اس اہتمام و انتظام کی ہدایت فرمائی گئی ہے جو اعتصام بحبل اللہ پر قائم رہنے اور لوگوں کو قائم رکھنے کے لیے ضروری ہے۔ اس مقصد کے لیے یہ ہدایت ہوئی کہ مسلمان اپنے اندر سے ایک گروہ کو اس کام پر مقرر کریں کہ وہ لوگوں کو نیکی اور بھلائی کی دعوت دے، معروف کا حکم کرے اور منکر سے روکیے۔ معروف و منکر سے مراد شریعت اور سوسائٹی دونوں کے معروفات و منکرات ہیں اور ان کے لیے امر و نہی کے جو الفاظ و استعمال ہوئے ان کا غالب قرینہ یہی ہے کہ یہ کام مجرد وعظ و تلقین ہی سے نہیں انجام دینا ہے۔ بلکہ اختیار اور قوت سے اس کو نافذ کرنا ہے جو بغیر اس کے ممکن نہیں کہ یہ گروہ امت…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 104–105

15۔ 1 روشن دلیلیں آجانے کے بعد تفرقہ ڈالا۔ اس سے معلوم ہوا کہ یہود و نصاریٰ کے باہم اختلاف و تفرقہ کی وجہ یہ نہ تھی کہ انہیں حق کا پتہ نہ تھا اور وہ اس کے دلائل سے بیخبر تھے۔ بلکہ حقیقت یہ ہے کہ انہوں سب کچھ جانتے ہوئے محض دنیاوی مفاد اور نفسانی اغراض کے لئے اختلاف و تفرقہ کی راہ پکڑی تھی اور اس پر جمے ہوئے تھے۔ قرآن مجید نے مختلف اسلوب اور پیرائے سے بار بار اس حقیقت کی نشان دہی کی ہے اور اس سے دور رہنے کی تاکید فرمائی۔ مگر افسوس کہ اس امت کے تفرقہ بازوں نے بھی ٹھیک یہی روش اختیار کی کہ حق اور اس کی روشن دلیلیں خوب اچھی طرح معلوم ہیں۔ لیکن وہ اپنی فرقہ بندیوں پر جمے ہوئے ہیں اور اپنی عقل و…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 100–106

36: اگر یہ یہودیوں کا ذکر ہے تو ایمان سے مراد ان کا تورات پر ایمان لانا ہے اور اگر منافقین مراد ہیں تو ایمان کا مقصد ان کا زبانی اعلان ہے جس کے ذریعے وہ اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کرتے تھے۔ تیسرا احتمال یہ بھی ہے کہ خبر دار اسلام کو چھوڑ نہ بیٹھنا، اس لیے یہ بیان کیا گیا ہے کہ جو لوگ واقعۃ مرتد ہوجائیں گے، ان کا آخرت میں کیا حال ہوگا

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

سوال یہ ہے کہ ان یہودی سازشوں کا مقابلہ کرتے ہوئے ان دوآسامیوں (Bases) پر استوار ہوکر پھر امت مسلمہ کا منشور اور ہدف کیا ہے ؟ اس کا فریضہ ‘ فریضہ اقامت دین ہے ۔ اس کرہ ارض پر اسلامی نظام زندگی کا قیام ہے ۔ حق کو باطل پر غالب کرنا ہے ‘ معروف کو منکر پر غالب کرنا ہے ‘ خیر کو پھیلانا ہے اور شر کو روکنا ہے ۔ یہ ہے وہ نصب العین جس کے لئے اللہ تعالیٰ نے خود اپنے ہاتھوں سے ‘ اپنی نظروں کے سامنے ‘ اپنے خاص منہاج کے مطابق اس امت کو برپا کیا ہے ۔ اس نصب العین کا تعین ان الفاظ میں کیا جاتا ہے۔ وَلْتَكُنْ مِنْكُمْ أُمَّةٌ يَدْعُونَ إِلَى الْخَيْرِ وَيَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

1 یعنی تقویٰ ، اعتصام بحبل اللّٰہ، اتحاد و اتفاق قومی زندگی، اسلامی مواخات، یہ سب چیزیں اس وقت باقی رہ سکتی ہیں جبکہ مسلمانوں میں ایک جماعت خاص دعوت و ارشاد کے لئے قائم رہے۔ اس کا وظیفہ یہ ہی ہو کہ اپنے قول و عمل سے دنیا کو قرآن و سنت کی طرف بلائے اور جب لوگوں کو اچھے کاموں میں سست یا برائیوں میں مبتلا دیکھے، اس وقت بھلائی کی طرف متوجہ کرنے اور برائی سے روکنے میں اپنے مقدور کے موافق کوتاہی نہ کرے۔ ظاہر ہے کہ یہ کام وہ ہی حضرات کرسکتے ہیں جو معروف و منکر کا علم رکھنے اور قرآن و سنت سے باخبر ہونے کے ساتھ ذی ہوش اور موقع شناس ہوں، ورنہ بہت ممکن ہے کہ ایک جاہل آدمی معروف کو منکر یا منکر کو معروف…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 104–105

آیت 104 وَلْتَکُنْ مِّنکُمْ اُمَّۃٌ یَّدْعُوْنَ اِلَی الْخَیْرِ وَیَاْمُرُوْنَ بالْمَعْرُوْفِ وَیَنْہَوْنَ عَنِ الْمُنْکَرِ ط اس جماعت کے کرنے کے تین کام بتائے گئے ہیں ‘ جن میں اوّلین دعوت الی الخیر ہے ‘ اور واضح رہے کہ سب سے بڑا خیر یہ قرآن ہے۔ وَاُولٰٓءِکَ ہُمُ الْمُفْلِحُوْنَ یہاں لفظ منکُمْ بڑا معنی خیز ہے کہ تم میں سے ایک ایسی امت وجود میں آنی چاہیے۔ گویا ایک تو بڑی امت ہے امت مسلمہ ‘ وہ تو ایک سو پچاس کروڑ نفوس پر مشتمل ہے ‘ جو خواب غفلت میں مدہوش ہیں ‘ اپنے منصب کو بھولے ہوئے ہیں ‘ دین سے دور ہیں۔ لہٰذا اس امت کے اندر ایک چھوٹی امت یعنی ایک جماعت وجود میں آئے جو جاگو اور جگاؤکا فریضہ…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

95 امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ امت مسلمہ کی اجتماعی زندگی کا ایک نہایت اہم ستون ہے اسی لیے کتاب و سنت میں بہت سے مقامات پر اس کی سخت تاکید کی گئی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے روئے زمین پر خلافت کے مستحقین کا ذکر فرمایا تو ان کی صفات میں اقامت صلٰوۃ اور ایتائے زکوٰۃ کے بعد تیسرے نمبر پر اسی صفت امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا ذکر فرمایا (22 : 41) اس لیے بعض علماء نے اس فریضہ کو فرض عین قرار دیا ہے۔ ان کا خیال یہ ہے کہ ہر مسلمان اپنی اپنی علمی سطح اور صلاحیت کے مطابق یہ فریضہ بجا لاسکتا ہے اور یہ بات بھی بالکل درست اور بہت سی احادیث صحیحہ سے اس کی تائید ہوتی ہے۔ تاہم اس آیت میں جس فرقہ کا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

220 ۔ کسی درجہ میں اور ایک چھوٹے پیمانہ پر تو یہ فرض ہر فرد امت کا ہے۔ لیکن یہاں مقصود یہ ہے کہ ایک مستقل جماعت خاص اسی کام کے لیے ہو۔ اس کا کام ہی یہی ہو کہ خلق کو دعوت خیر دے۔ معروف (بھلے کاموں) کی طرف بلائے منگر (برے کاموں) سے روکے۔ (آیت) ” امۃ “۔ یہ بھی کمال رحمت اور ضعف بشری کی انتہائی رعایت ہے کہ ساری امت کے بجائے اس فریضہ پر ایک مخصوص جماعت ہی کو مامور کیا گیا، ورنہ اس فریضہ کی ادائی کے لیے جن اوصاف اور شرائط کی ضرورت ہے کیا عجب کہ بہتوں کو وہ سخت دشوار معلوم ہوتے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

وَلْتَکُنْ مِّنْکُمْ اُمَّۃٌ یِّدْعُوْنَ اِلَی الْخِیْرِ (الآیۃ) سابقہ آیت میں ہر فرد کو ایک خاص انداز سے اپنی اصلاح کرنے کی ہدایت دی گئی کہ ہر شخص تقویٰ اختیار کرے اور اللہ تعالیٰ کے سلسلہ میں (اسلام) سے مربوط ہوجائے۔ مذکورہ دو آیتوں میں ہدایت دی جا رہی ہے کہ صرف اپنے اعمال و افعال کی اصلاح پر بس نہ کریں بلکہ اپنے دوسرے بھائیوں کی اصلاح کی فکر بھی ساتھ ساتھ رکھیں اسی صورت سے پوری قوم کی اصلاح بھی ہوگی اور ربط و اتحاد کو بقاء و قیام بھی ہوگا۔ مسلمانوں کی قومی اور اجتماعی فلاح دو چیزوں پر موقوف ہے : پہلے تقویٰ اور اعتصام بحبل اللہ کے ذریعہ اپنی اصلاح اور دوسرے دعوت و تبلیغ کے ذریعہ دوسروں کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

و لتکن منکم امۃ اور تم میں سے بعض لوگوں کی ایک جماعت ہونی چاہئے من تبعیضیہ ہے کیونکہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر فرض کفایہ ہے ہر شخص پر فرض نہیں ہے وجہ یہ ہے کہ امر ونہی کیلئے علم شریعت اور احتساب کی قدرت ضروری ہے (اور یہ بات سب لوگوں میں نہیں ہوسکتی بعض میں ہوتی ہے) آیت میں خطاب اہل اسلام کی پوری جماعت کو ہے مگر مکلف بعض کو کیا مطلب یہ ہوا کہ اگر کوئی اس فرض کو انجام نہ دے گا تو فرض جماعت ادا نہ ہوگا اور سب گناہگار ہونگے (کیونکہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر جماعت کا فرض ہے) اور اگر بعض نے کرلیا تو سب کے سر سے قرض ادا ہوجائے گا من بیانیہ بھی ہوسکتا ہے اس وقت ہر شخص پر ممنوع امر سے باز…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(104) اب اللہ تعالیٰ امر بالمعروف اور آپس میں صلح کرانے کا حکم دیتا ہے کہ تم لوگوں میں ہمیشہ ایک ایسی جماعت رہنی چاہیے، جو نیکی، صلح توحید اور رسول اکرم ﷺ کی اطاعت کا حکم اور کفر وشرک سے روکتی اور منع کرتی رہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَلْتَكُنْ مِّنْكُمْ اُمَّةٌ۔۔ : یعنی اللہ تعالیٰ کی رسی کو مضبوط پکڑنے اور اختلاف و ضلالت سے بچنے کی صورت یہ ہے کہ تم میں سے ایک جماعت نیکی کا حکم دینے اور برائی سے منع کرنے کا فریضہ سر انجام دیتی رہے۔ جب تک اس قسم کی جماعت قائم رہے گی، لوگ ہدایت پر رہیں گے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”تم میں سے جو شخص کوئی برائی دیکھے وہ اسے اپنے ہاتھ سے بدل دے، پھر اگر طاقت نہ رکھے تو اپنی زبان سے، پھر اگر طاقت نہ رکھے تو اپنے دل سے اور یہ سب سے کمزور ایمان ہے۔“ [ مسلم، الإیمان، باب بیان کون النھی عن المنکر۔۔ : 49، عن أبی سعید الخدری ؓ ] شاہ عبد القادر ؓ لکھتے ہیں : ”اس آیت سے معلوم ہوا کہ مسلمانوں پر فرض ہے…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیت نمبر : 104۔ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے بارے میں گفتگو اسی سورة میں گزر چکی ہے۔ اور ” منکم “ میں من تبعیضیہ ہے اور اس کا معنی ہے کہ حکم دینے والوں کے لئے ضروری ہے کہ وہ علماء ہوں اور تمام لوگ علماء نہیں۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ بیان جنس کے لئے ہے اور معنی ہے چاہیے کہ تم تمام کے تمام اسی طرح ہو۔ میں (مفسر) کہتا ہوں : پہلا قول زیادہ صحیح ہے، کیونکہ وہ اس پر دلالت کرتا ہے کہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر فرض کفایہ ہے اور اللہ تعالیٰ نے اپنے اس قول کے ساتھ انہیں معین کیا : (آیت) ” الذین ان منکنھم فی الارض اقاموا الصلوۃ “۔ الایۃ (الحج : 41) ترجمہ : وہ لوگ کہ اگر ہم انہیں اقتدار…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

اچھائی کا حکم کرنے والی (1) سعید بن منصور، عبد بن حمید، ابن جریر وابن الانباری نے مصاحب میں عمر بن دینار (رح) سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے ابن الزبیر ؓ کو یوں پڑھتے ہوئے سنا لفظ آیت ” ولتکن منکم امۃ یدعون الی الخیر ویامرون بالمعروف وینھون عن المنکر “ اور ساتھ ہی وہ یہ بھی پڑھتے تھے (یعنی وہ لوگ اللہ تعالیٰ سے مدد مانگتے ہیں اس تکلیف پر جو ان کو پہنچی) میں نہیں جانتا کہ یہ ان کی قرات تھی یا انہوں نے تفسیر کی ؟ (2) عبد بن حمید وابن جریر اور ابن ابی داؤد نے مصاحف میں اور ابن الانباری نے حضرت عثمان ؓ سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے اس طرح پڑھا لفظ آیت ” ولتکن منکم امۃ یدعون الی الخیر ویامرون بالمعروف…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[وَلْـتَـکُنْ : اور چاہیے کہ ہو ] [مِّنکُمْ : تم لوگوں میں ] [اُمَّـۃٌ : ایک گروہ جو ] [یَّدْعُوْنَ : دعوت دے ] [اِلَی الْخَیْرِ : بھلائی کی طرف ] [وَیَـاْمُرُوْنَ : اور تاکید کرے ] [بِالْمَعْرُوْفِ : نیکی کی ] [وَیَنْہَوْنَ : اور منع کرے عَنِ الْمُنْکَرِ : برائی سے ] [وَاُولٰٓئِکَ : اور وہ لوگ ] [ہُمُ الْمُفْلِحُوْنَ : ہی مراد پانے والے ہیں ] ن ک ر نَــکِرَ (س) نَـکَرًا : (1) کسی چیز کا عرفان نہ ہونا ‘ کسی کو اجنبی سمجھنا۔ (2) ناگوار ہونا ‘ برا ہونا (اجنبیت انسان کو اچھی نہیں لگتی) ۔{ نَـکِرَھُمْ وَاَوْجَسَ مِنْھُمْ خِیْفَۃًط } (ھود :70) ” انہوں نے اجنبی سمجھا ان کو اور محسوس کیا ان سے خوف۔…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

ایک جماعت ایسی ہونا ضروری ہے جو خیر کی دعوت دیتی ہو امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کرتی ہو مسلمان کی اولین ذمہ داری ہے کہ وہ خود اللہ کی کتاب اور اللہ کے رسول ﷺ کی تعلیمات پر عمل کرے۔ نیکیاں کرتا رہے گناہوں سے بچتا رہے اور دوسری ذمہ داری یہ ہے کہ دوسروں کو خیر کی دعوت دیتا رہے اور برائیوں سے روکتا رہے خود نیک بن جانا اسلامی معاشرہ باقی رکھنے کے لیے کافی نہیں ہے دوسروں کو بھی خیر کی دعوت دیتے رہیں اور نیکیوں کا حکم کرتے رہیں اور برائیوں سے روکیں تب اسلامی معاشرہ باقی رہے گا چونکہ انسان کے اندر بہیمیت کے جذبات بھی ہیں اور اس کے پیچھے شیطان بھی لگا ہوا ہے اس لیے بہت سے لوگ فرائض اور واجبات چھوڑ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 102–117

قال تعالی۔ یا ایھا الذین۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تا۔۔۔۔ ترجع الامور۔ آیت۔ ربط) گزشتہ آیات میں اللہ نے باہمی قتال وشقاق کو تکفرون یعنی کفر سے تعبیر فرمایا اب آئندہ آیت میں تقوی اور اعتصام بحبل اللہ یعنی اتفاق اور اتحاد اور اسلامی مواخات کا حکم دیتے ہیں اور اتفاق اور اتحاد کا ایک دستور العمل بتلاتے ہیں وہ یہ کہ اول تقوی اور اسلام پر مداومت اور استقامت کا حکم دیا اور پھر اعتصام بحبل اللہ کا حکم فرمایا کہ سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوط پکڑو پھر یہ ارشاد فرمایا، واذکر نعمتہ اللہ علیکم۔ الخ۔ آیت۔ جس میں حکم دیا کہ اتفاق اور اتحاد کی نعمت کو یاد کرو، اور اس نعمت کو اور اس کی برکات کو یاد کرکے موازنہ کرو کہ پہلے…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

151 لفظ خَیْر عام ہے جو امر بالمعروف اور نھی عن المنکر دونوں کو شامل ہے اس لیے تعمیم کے بعد تخصیص ان دونوں کاموں کی اہمیت اور مزید فضیلت کے اظہار کے لیے ہے۔ معروف ہر وہ کام ہے جو کتاب وسنت کے مطابق ہو اور منکر وہ کام ہے جو ان کے مخالف ہو۔ المعروف ما وافق الکتاب والسنۃ الی مخاطبۃ المؤمنین امرھم اولا بالتقویٰ والایمان ثم امرھم بالسعی فی القاء الغیر فی الایمان والطاعۃ (کبیر ص 26 ج 2) اور مطلب یہ ہے کہ امر بالمعروف اور نھی عن المنکر کا جو سلسلہ تمہارے اندر جاری ہے اسے قائم رکھو یہ سلسلہ ٹوٹنے نہ پائے۔ یہ مطلب نہیں ہے کہ اب یہ سلسلہ شروع کرو کیونکہ یہ سلسہ تو پہلے سے موجود تھا۔ بقرینة کنتم خیر امۃ…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

ربط آیات : گزشتہ دروس میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو اہل کتاب کی بات ماننے سے منع فرمایا اور ساتھ ہی یہ بھی فرمایا کہ جو کوئی اللہ کو مضبوطی سے پکڑے گا ، اس پر ایمان لا کر اس کے حکم کا اتباع کرے گا اور اسی پر بھروسہ کرے گا۔ اسے سیدھے راستے کی طرف ہدایت نصیب ہوگی۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو فرمایا کہ اللہ تعالیٰ سے اس طرح ڈرتے رہو ، جس طرح ڈرنے کا حق ہے۔ اور ساتھ ہی اللہ کی رسی کو مضبوطی سے پکڑنے کی نصیحت فرمائی۔ اور آپس میں تفریق پیدا کرنے کی بجائے بھائی بھائی بن کر رہنے کی تلقین فرمائی۔ نیز یہ بھی فرمایا کہ جو ان ہدایات پر عمل کرے گا ، وہی کامیاب و کامران ہوگا۔ گویا اللہ تعالیٰ نے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَلْتَكُنْ مِّنْكُمْ اُمَّۃٌ يَّدْعُوْنَ اِلَى الْخَيْرِ وَيَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَيَنْہَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِۭ وَاُولٰۗىِٕكَ ھُمُ الْمُفْلِحُوْنَ۝ 104 الأُمّة : كل جماعة يجمعهم أمر ما إمّا دين واحد، أو زمان واحد، أو مکان واحد سواء کان ذلک الأمر الجامع تسخیرا أو اختیارا، وجمعها : أمم، وقوله تعالی: وَما مِنْ دَابَّةٍ فِي الْأَرْضِ وَلا طائِرٍ يَطِيرُ بِجَناحَيْهِ إِلَّا أُمَمٌ أَمْثالُكُمْ [ الأنعام/ 38] الامۃ ہر وہ جماعت جن کے مابین رشتہ دینی ہو یا وہ جغرافیائی اور عصری وحدت میں منسلک ہوں پھر وہ رشتہ اور تعلق اختیاری اس کی جمع امم آتی ہے اور آیت کریمہ :۔ { وَمَا مِنْ دَابَّةٍ فِي…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 104–105

1 ؎ علمائِ امت محمدیہ پر فرض ہے کہ حضرت ﷺ کا نائب بن کر دنیا میں دین پھیلائیں۔

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

وَلْـتَکُنْ مِّنْـکُمْ اُمَّۃٌ یَّدْعُوْنَ اِلَی الْخَیْرِ وَیَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَیَنْہَوْنَ عَنِ الْمُنْکَرِ ط وَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الْمُفْلِحُوْنَ ۔ (اور چاہیے کہ تم میں ایک گروہ ایسا ہو جو خیر کی طرف بلائے جو معروف کا حکم دے اور منکر سے روکے اور یہی لوگ فلاح پانے والے ہیں) (104) مسلمانوں کی یہ ذمہ داری ہے کہ مسلمانوں کی دینی زندگی کو ہر طرح کی خرابی سے بچانے کے لیے ایک ایسی جماعت، ایک ایسے گروہ یا ایک ایسے ادارے کا وجود عمل میں لائیں جس کے دو کام ہوں۔ (1)… دعوت الی الخیر۔ (2)… امر بالمعروف اور نہی عن المنکر۔ اگر تو مسلمانوں کی حکومت اسلامی حکومت ہو تو اس کا شرعی فریضہ ہے کہ اسلامی…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 103–104

فہم القرآن ربط کلام : اللہ تعالیٰ لوگوں کی ہدایت کے لیے اپنے احکامات بیان کرتا ہے لہٰذا مسلمانوں کا فرض ہے کہ وہ اس پر عمل پیرا ہوتے ہوئے لوگوں کو تبلیغ کرتے رہیں۔ خاص کر ایک جماعت کو مسلسل یہ فریضۂ سرانجام دینا چاہیے۔ تھوڑا سا آگے چل کر آیت 110 میں اس امت کے وجود کی غرض وغایت کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ تمہارے وجود کا مقصدہی یہ ہے کہ تم لوگوں کو نیکی کا حکم کرو اور برائی سے روکتے رہو۔ چونکہ امت میں ہر آدمی اتنا وقت نہیں دے سکتا جس سے فریضۂ تبلیغ کا حق ادا ہو سکے اور نہ ہی ہر کسی میں اتنی صلاحیت ہوا کرتی ہے کہ وہ دلائل کی بنیاد پر دوسرے کو مطمئن کرسکے۔ اس لیے یہاں امت میں ایسی جماعت ہونے کا…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی اہمیت : 104: وَلْتَکُنْ مِّنْکُمْ اُمَّۃٌ یَّدْعُوْنَ اِلَی الْخَیْرِ وَیَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَیَنْھَوْنَ عَنِ الْمُنْکَرِ ۔ وَاُولٰٓپکَ ھُمُ الْمُفْلِحُوْنَ ۔ (اور چاہیے کہ تم میں سے ایک جماعت ہو جو بھلائی کی طرف دعوت دینے والی ہو) المعروف سے مراد جس کو شرع اور صحیح عقل درست قرار دے۔ وَیَنْھَوْنَ عَنِ الْمُنْکَرِ (اور برائی سے روکنے والی ہو) الْمُنْکَرِ جس کو شریعت اور صحیح عقل برا سمجھیں یا معروف وہ جو کتاب و سنت کے موافق اور منکر وہ ہے جو کتاب و سنت کے مخالف یا معروف اطاعت کو کہتے ہیں جبکہ منکر معاصی کو کہتے ہیں۔ خیر کی طرف دعوت تمام افعال تکلیفیہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

(تفسیر) 104۔: (آیت)” ولتکن منکم امۃ “ تم میں سے ایک جماعت ہونی چاہیے ، ” من “ یہ صلہ ہے تبعیضیہ نہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے (آیت)” فاجتنبوا الرجس من الاوثان “۔ یہاں بعض اوثان سے بچنا مراد نہیں بلکہ تمام اوثان سے اجتناب مراد ہے ، ” ولتکن “ من لام برائے امر کے لیے ہے (آیت)” یدعون الی الخیر “ خیر سے مراد اسلام ہے ۔ (آیت)” ویامرون بالمعروف وینھون عن المنکر واولئک ھم المفلحون “۔ طارق بن شہاب سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ ابو سعید خدری ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا کہ تم میں سے کوئی بری بات دکھائی دے وہ اپنے ہاتھ سے اس کو بدل دے ، اگر ہاتھ سے نہ کرسکے تو زبان…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 104–112

(104 ۔ 109) ۔ اوپر ذکر تھا کہ یہود نے انصار کے دو گروہ کو بہکا کر ان دو گروہ کو آپس میں لڑانے کی شرارت کی تھی مگر اللہ کے رسول کی فہمایش سے یہود کا وہ بہانہ چل نہ سکا۔ ان آیتوں میں ارشاد ہے کہ سب بہکانے والوں کے سر گروہ ابلیس علیہ اللعنہ اور شیاطین الجن والانس کے اغوا سے انجان مسلمانوں کو بچانے کے لئے مسلمانوں میں ہمیشہ کے تھے ایک جماعت ایسی ہونی چاہیے کہ دین کی باتوں کی لوگوں کو نصیحت اور فہمایش کیا کرے۔ اس سے زیادہ تفسیر اس باب میں آئندہ کی آیت کی تفسیر میں آتی ہے۔ 110۔ 112۔ خازن وغیرہ میں جو حدیثیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ مالک بن صیف اور وہب بن یہود یہودیوں نے ایک روز عبد اللہ بن مسعود ؓ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 102–104

آیت 103 ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے اپنے مومن بندوں کو حکم دیا ہے کہ اس سے ایسے ڈریں جیسے ڈرنے کا حق ہے، پھر اس تقویٰ پر قائم اور ثابت قدم رہیں اور موت تک استقامت ہو۔ کیونکہ انسان جس طرح کی زندگی گزارتا ہے، اسے ویسی ہی موت نصیب ہوتی ہے۔ جو شخص صحت، نشاط اور طاقت کی حالت میں اللہ کے تقویٰ اور اس کی اطاعت پر قائم رہتا ہے اور ہمیشہ اس کی طرف متوجہ رہتا ہے، اللہ تعالیٰ اسے موت کے وقت استقامت عطا فرماتا ہے اور اسے حسن خاتمہ سے نوازتا ہے۔ اللہ سے کما حقہ تقویٰ رکھنے کی وضاحت جناب عبداللہ بن مسعود نے ان الفاظ میں کی ہے : (ھو ان یطاع فلا یعصی ویذکر فلاینسی ویشکر فلایکفر) ” اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کی…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

امربالمعروف اور نہی عن المنکر کی فرضیت قول باری ہے (ولتکن منکم امۃ یدعون الی الخیرویامرون بالمعروف وینھون عن المنکر، تم میں سے ایک گروہ ایسا ہونا چاہیئے جو لوگوں کو بھلائی کی طرف بلاتا رہے اور امربالمعروف اور نہی عن المنکر کرتا رہے) ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ آیت دو باتوں پر مشتمل ہے اول امربالمعروف اور نہی عن المنکرکاوجوب۔ دوم یہ فرض کفایہ ہے۔ ہر شخص پر فرض عین نہیں۔ جب ایک شخص اس فرض کا داداکردے گا تو دوسرے پر اس کی فرضیت باقی نہیں رہے گی اس لیے کہ قول باری (ولتکن منکم امۃ) اس کی حقیقت کا تقاضا کہ بعض پر فرض اور دوسرے بعض پر نہ ہو۔ جس سے یہ بات ثابت ہوئی کہ یہ فرض کفایہ ہے کہ جب کچھ لوگ اسے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

217 دعوت الی الخیر امت مسلمہ کی ایک اہم اور اجتماعی ذمہ داری : سو ارشاد فرمایا گیا تمہارے اندر ایسے لوگوں کی ایک جماعت موجود ہونی چاہیے جو نیکی کی طرف بلائے، بھلائی کی تلقین کرے اور برائی سے روکے۔ تاکہ ان کی طرح دوسری دنیا بھی غفلت و جہالت کی ہلاکتوں سے بچ کر راہ حق و صواب سے سرفراز ہو سکے، اور سب اس دین کی برکتوں سے سرفراز و مالامال ہوسکیں۔ سو دعوت الی الخیر اور امربالمعروف اور نہی عن المنکر امت مسلمہ کی ایک اہم اور عظیم الشان اجتماعی ذمہ داری اور ایک اہم فریضہ ہے۔ اس لیے اس امت کا لقب ہی امت دعوت قرار پایا ہے۔ بہر کیف اس ارشاد سے امت کو اس اہتمام و انتظام کی ہدایت فرمائی گئی ہے جو اعتصام…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 104–109

نیکی اور بدی کا انجام تشریح : ان آیات میں اللہ تعالیٰ پھر لوگوں کو نیکی کا حکم دیتے ہیں اور برائی سے منع کرتے ہوئے یاد دلاتے ہیں کہ حساب کا دن ضرور یاد رکھو اور جان لو کہ وہ دن ضرور آئے گا اور یہ بھی جان لو کہ بدلہ ملنے میں کسی شخص پر ظلم نہ کیا جائے گا۔ کیونکہ اللہ تو اپنے بندوں پر ہر وقت رحم و کرم کرنا چاہتا ہے اسی لیے ہر وقت خبردار کرتا ہے کہ دیکھو بھول کر کہیں غلط راستے پر نہ چل پڑنا۔ کیونکہ غلط راہ ہر صورت میں انسان کے لیے نقصان دہ ہے دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی، پھر نیکی میں یہ بھی شامل ہے کہ تم چاہے ایک فرد ہو یا ایک جماعت کی شکل میں ہو، ہر وقت اس مہم کو سامنے رکھو کہ جہاں بھی برائی…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 102–109

آیات 102- 109 اسرارو معارف یایھا الذین امنوا اتقو اللہ……………لعلکم تھتدون۔ جب تمہیں اس قدر اسباب ہدایت حاصل ہیں تو اے ایمان والو ! اللہ سے ڈرتے رہو جیسا اس سے ڈرنے کا حق ہے تقویٰ دراصل خوف محض کا نام نہیں بلکہ وہ تعلق جو بطفیل نبی کریم ﷺ بندے کو اللہ سے حاصل ہو اس کے ٹوٹ جانے کے ڈر کا نام ہے تعلیمات نبوی ﷺ کے ساتھ وہ کیفیات بھی جو وجود نبوی ﷺ کی برکات میں سے ہیں اور جن کے ورود سے دل بدل گئے ، مزاج بدلے ، خواہشات اور طلب بدل گئی۔ حتیٰ کہ دین پر عمل کرنا مزاج بن گیا اور گناہ طبعی طور پر سخت ناپسندیدہ ہوگیا۔ اب ان نعمتوں کو کبھی ضائع نہ ہونے دو ۔ بیشتر مفسرین کرام نے حضور اکرم ﷺ کا یہ ارشاد نقل…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 1 یعنی اللہ تعالیٰ کہ رسی کو مضبوط پکڑ نے اور اختلاف و خلالت سے بچنے کی صورت یہ ہے کہ تم میں جماعت امر بالمعروف ونھی عن المنکر کا فریضہ انجام دیتی رہے جب تک اس قسم کی جماعت قائم رہے گی لوگ ہدا یت پر رہیں گے ایک حدیث میں ہے کہ تم میں سے جو شخص بھی برائی دیکھے اس چاہیے کہ ہاتھ سے بدلنے کی کوشش کرے اگر ایسا نہ کرسکے تو بذریعہ تبلغ کے ارد اگر ایسا بھی نہ کرسکے تو دل سے اسے برا جانے اور یہ ایمان کا کمزور ترین درجہ ہے۔ّ (مسلم) امر بالمعروف ونہی عن المنکر کو وجوب کتاب و سنت سے ثابت ہے اور شریعت میں اسے ایک اصل اور رکن کی حثیت حاصل ہے اس کے بغیر سریعت کا نظام کا مل طور پر نہیں چل سکتا۔ (شوکانی) ف

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

Explained with ayahs 104–110

(3:104) ولتکن منکم۔ لتکن میں لام امر ہے صیغہ واحد مؤنث غائب۔ امر غائب و متکلم معروف بناوٹ کے لحاظ سے کوئی مستقل فعل نہیں بلکہ ایک دوسرا نام مضارع بلام امر کا ہے لام امر و مضارع غائب و متکلم معروف کے آٹھوں صیغوں سے خاص ہے جو صیغہ ہائے واحد کو جزم دیتا ہے۔ جیسے لیکن (واحد مذکر غائب) لتکن (واحد مؤنث غائب) اور لاکن واحد متکلم۔ نون اعرابی کے سقوط اور نون ضمیری کی قائمی میں مثل لم کے عمل کرتا ہے۔ ولتکن۔ چاہیے کہ ہو ایک (جماعت) تم میں سے جو ۔۔ منکم۔ میں من تبیین کے لئے ہے تبعیض کے لئے نہیں۔ یعنی امر بالمعروف و نہی عن المنکر کا کام تمام امت پر واجب ہے کسی مخصوص جماعت کی ذمہ داری نہیں۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 102–109

لغات القرآن آیت نمبر 102 تا 109 حق تقٰته (اس سے ڈرنے کا حق ادا کرکے) اعتصموا (تم مضبوط تھام لو) بحبل اللہ (اللہ کی رسی ، یعنی اللہ کے دین کو (مضبوط تھام لو) جمیع (سب کے سب اکٹھے ہوکر) لاتفرقوا (تم جداجدا نہ ہو) اعداء (آپس میں دشمن ) الف (اس نے محبت ڈال دی) اصبحتم (تم گئے) اخوان (بھائی بھائی) شفاء (کنارہ) حفرۃ (گڑھا) انقذ (اس نے بچالیا) ولتکن (ہونی چاہیے) امة (ایک جماعت) یدعون (بلاتے ہیں، دعوت دیتے ہیں) بالمعروف (نیکی کے ساتھ) ینھون (وہ روکتے ہیں) المنکر (برائی غلط راستہ) تبیض (سفید، چمک دار) وجوہ (چہرے (وجه کی جمع ہے) تسود (سیاہ) اکفرتم (کیا تم نے کفر کیا ؟ ) دوقوا (تم چکھو) ابیضت (سفید، چمک…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 104–109

اشاعت اسلام کا ذکر ان آیتوں میں ارشاد ہے کہ سب بہکانے والوں کا سرگروہ ابلیس ہے، انجان مسلمانوں کو بچانے کے لئے مسلمانوں میں ہمیشہ ایک ایسی جماعت ہونی چاہئے کہ دین کی باتوں کی لوگوں کو نصیحت اور فہمائش کیا کرے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 103–111

[39] اللہ کی رسی سے مراد قرآن مجید ہے۔ رسول اکرم ﷺ نے قرآن مجید کے بارے میں ارشاد فرمایا ہے '' ھو حبل اللہ المتین '' (یہ اللہ کی مضبوط رسی ہے) ۔ قرآن کو اللہ کی رسی اس لئے فرمایا کہ یہی چیز ہے جو بندوں کو خدا سے جوڑتی ہے۔ جس نے اس کو تھام لیا گویا اس نے خدا کا سہارا تھام لیا۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

فریضہ تبلیغ : (ف 1) (آیت) ” ولتکن منکم “ میں من بیانہ ہے یعنی تم سارے مسلمان تبلیغ و اشاعت کے لئے مکلف ہو اور تم میں ہر مسلمان مبلغ ہے اس مفہوم کو دوسری جگہ ان الفاظ میں ظاہر فرمایا ہے ۔ (آیت) ” کنتم خیر امت اخرجت للناس تامرون بالمعروف وتنھون عن المنکر “۔ کہ تم میں اور دیگر جماعتوں میں فرق یہ ہے کہ تم سب کے سب خدا کے دین کے پھیلانے والے ہو اور وہ نہیں ، یہی وجہ ہے کہ مسلمان کو شھدآء اللہ فی الارض “ کا معزز خطاب دیا گیا ہے یعنی تبلیغ و اشاعت فرض کفایہ نہیں کہ صرف علماء تک محدود ہو ، بلکہ ہر مسلمان کے لئے ضروری ہے کہ بقدر استطاعت اسلام سیکھے اور بقدر امکان اس کو دوسروں تک پہنچانے کی کوشش…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

Explained with ayahs 104–106

ف 3 اور تم میں مبلغین اور داعین الی الحق کی ایک ایسی جماعت ضرور ہونی چاہئے جو دوسرے لوگوں کو خیر اور بھلائی کی طرف دعوت دیا کریں اور اس جماعت کے لوگ دوسروں کو بھلے کام کرنے کا حکم دیا کریں اور برے کاموں سے ان کو منع کیا کریں اور ایسے ہی لوگ جو تبلیغ کا فریضہ ادا کریں گے اپنے مقصد میں کامیاب ہونے والے ہیں۔ (تیسیر) خیر سے ہر قسم کی صلاح مراد ہے خواہ وہ عقائد کی درستی ہو یا اعمال و اخلاق کی ہو۔ یا دین و دنیا دونوں کی اصلاح ہو۔ ابن مردویہ نے ابو جعفر محمد بن باقر سے مرفوعاً روایت کیا ہے کہ خیر سے مراد کتاب اللہ کی اور میری سنت کی پیروی ہے۔ حضرت عثمان غنی ؓ جب اس آیت کی تلاوت کرتے تھے تو فرماتے…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

ف 3۔ جو شخص امر بالمعروف ونہی عن المنکر پر قادر ہو یعنی قرائن سے غالب گمان رکھتا ہے کہ اگر میں امرونہی کروں گا تو مجھ کو کوئی ضرر معتد بہ لاحق نہ ہوگا اس کے لیے امور واجبہ میں امرونہی کرنا واجب ہے اور امور مستحبہ میں مستحب اور جو آدمی بالمعنی مذکور قادر نہ ہو اس پر امر ونہی کرنا امور واجبہ میں بھی واجب نہ ہوگا البتہ اگر ہمت کرے تو ثواب ملے گا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اس ہدایت پر قائم رہنے کے لیے مسلمانوں کو کیا کرنا چاہیے ؟ : 201: اس آیت میں اس بات کی پوری پوری وضاحت فرما دی کہ مسلمانوں کو اجتماعی کامیابی کے لیے کیا کرنا چاہیے۔ فرمایا اجتماعی کامیابی کے لیے یہ گر اچھی طرح یاد کرلو کہ تم میں ایک جماعت بطور نظم و ضبط کے بطور گروہ بندی ہر وقت موجود ہونا چاہیے جس کا نام دعوت الی الخیر ہو یعنی تم من حیث القوم تو ایک ہی قوم کے افاد اور ایک دین وملت سے وابسطہ ہو لیکن بلحاظ ذمہ داری ایک جماعت مخصوص ہونی چاہیے جو لوگوں کو بھلائی کی طرف بلاتی رہے۔ وہ لوگ خود اصلاح نفس کریں ایک دوسرے سے شیرو شکر رہیں اور قوم کے دو سے لوگوں کو اصلاح نفسی اور اصلاح حال کی دعوت دیں اور…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Commentary In the previous verses (102 - 103), Muslims were given two principles which guarantee their collective wellbeing. If everyone practiced Taqwa and made Islam his linkage with Allah,-the result will be that individual life will be corrected and the collective strength of Muslims will come in its wake. In the present verses': وَلْتَكُن مِّنكُمْ (104 - 105), yet another dimension of the proposed system has been added. It has been said here that Muslims are not to rest at the correction of what they think and do individually; but they should, along with that, be affectionately…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 104–105

86. The reference is to those communities which received clear and straightforward teachings of the true religion but who had abandoned the fundamentals, forming separate sects around trivial and subsidiary questions; they became so engrossed in quarrelling over superfluous and insignificant questions that they lost sight of the mission God had entrusted to them, and even lost interest in those fundamentals of belief and righteous conduct which are essential for man's salvation and felicity.

Read the full tafseer →