Explained with ayahs 104–109
یوم آخرت منافق اور مومن کی پہچان
حضرت ضحاک فرماتے ہیں اس جماعت سے مراد خاص صحابہ اور خاص راویان حدیث ہیں یعنی مجاہد اور علماء امام ابو جعفر باقر ؒ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اس آیت کی تلاوت کی پھر فرمایا صبر سے مراد قرآن و حدیث کی اتباع ہے، یاد رہے کہ ہر ہر متنفس پر تبلیغ حق فرض ہے لیکن تاہم ایک جماعت تو خاص اسی کام میں مشغول رہنی چاہئے، رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں تم میں سے جو کوئی کسی برائی کو دیکھے اسے ہاتھ سے دفع کر دے اگر اس کی طاقت نہ ہو تو زبان سے روکے اگر یہ بھی نہ کرسکتا ہو تو اپنے دل سے نفرت کرے یہ ضعیف ایمان ہے، ایک اور روایت میں اس کے بعد یہ بھی ہے کہ اس کے بعد رائی کے دانے کے برابر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 104–105
سورة اٰلِ عِمْرٰن 86
یہ اشارہ ان امتوں کی طرف ہے جنہوں نے خدا کے پیغمبروں سے دین حق کی صاف اور سیدھی تعلیمات پائیں مگر کچھ مدت گزر جانے کے بعد اساس دین کو چھوڑ دیا اور غیر متعلق ضمنی و فروعی مسائل کی بنیاد پر الگ الگ فرقے بنانے شروع کردیے، پھر فضول و لایعنی باتوں پر جھگڑنے میں ایسے مشغول ہوئے کہ نہ انہیں اس کام کا ہوش رہا جو اللہ نے ان کے سپرد کیا تھا اور نہ عقیدہ و اخلاق کے ان بنیادی اصولوں سے کوئی دلچسپی رہی جن پر درحقیقت انسان کی فلاح وسعادت کا مدار ہے۔
Read the full tafseer →حق تعالیٰ نے امت داعیہ الی الخیر کی ضرورت اور اس کے اوصاف کو بیان کرنے کے بعد مذکورہ صدر دوسری آیت میں مسلمانوں کو باہمی اختلاف اور تفرق و انتشار سے بچانے کی ہدایت فرمائی ہے، ارشاد ہے
ولا تکونوا کالذین تفرقوا واختلفوا من بعد ماجاءھم البینت، " یعنی ان لوگوں کی طرح نہ بنو جنہوں نے واضح اور روشن دلائل آنے کے بعد اختلاف کیا "۔ مطلب یہ ہے کہ یہود و نصاری کی طرح مت بنو، جنہوں نے حق تعالیٰ کے صاف احکام پہنچنے کے بعد محض اوہام و اہوا کی پیروی کر کے اصول شرع میں متفرق ہوگئے، اور باہمی جنگ وجدال سے عذاب الہی میں مبتلا ہوگئے، یہ آیت درحقیقت آیت واعتصموا بحبل اللہ جمیعا کا تتمہ ہے، اسی آیت میں مرکز وحدت…
Read the full tafseer →اس آیت میں یہود و نصاری کے انجام سے مسلمانوں کو عبرت دلائی ہے کہ وہ خدا کی واضح تنبیہات کے باوجود خدا کی رسی چھوڑ بیٹھے اور پھر جس کے ہاتھ میں جو رسی آگئی وہ اسی کو حبل اللہ سمجھ بیٹھا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ان کے درمیان ایسے اختلافات پھوٹ پڑے جن کی اصلاح ناممکن ہوگئی۔ فرمایا کہ تم بھی انہیں یہود و نصاری کی طرح اپنی دنیا و عاقبت نہ برباد کرلینا۔ یہ فلاح کی راہ نہیں بلکہ عذاب الیم کی مستوجب ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 104–105
15۔ 1 روشن دلیلیں آجانے کے بعد تفرقہ ڈالا۔ اس سے معلوم ہوا کہ یہود و نصاریٰ کے باہم اختلاف و تفرقہ کی وجہ یہ نہ تھی کہ انہیں حق کا پتہ نہ تھا اور وہ اس کے دلائل سے بیخبر تھے۔ بلکہ حقیقت یہ ہے کہ انہوں سب کچھ جانتے ہوئے محض دنیاوی مفاد اور نفسانی اغراض کے لئے اختلاف و تفرقہ کی راہ پکڑی تھی اور اس پر جمے ہوئے تھے۔ قرآن مجید نے مختلف اسلوب اور پیرائے سے بار بار اس حقیقت کی نشان دہی کی ہے اور اس سے دور رہنے کی تاکید فرمائی۔ مگر افسوس کہ اس امت کے تفرقہ بازوں نے بھی ٹھیک یہی روش اختیار کی کہ حق اور اس کی روشن دلیلیں خوب اچھی طرح معلوم ہیں۔ لیکن وہ اپنی فرقہ بندیوں پر جمے ہوئے ہیں اور اپنی عقل و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 100–106
36: اگر یہ یہودیوں کا ذکر ہے تو ایمان سے مراد ان کا تورات پر ایمان لانا ہے اور اگر منافقین مراد ہیں تو ایمان کا مقصد ان کا زبانی اعلان ہے جس کے ذریعے وہ اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کرتے تھے۔ تیسرا احتمال یہ بھی ہے کہ خبر دار اسلام کو چھوڑ نہ بیٹھنا، اس لیے یہ بیان کیا گیا ہے کہ جو لوگ واقعۃ مرتد ہوجائیں گے، ان کا آخرت میں کیا حال ہوگا
Read the full tafseer →Explained with ayahs 105–107
یہاں سیاق کلام میں ‘ قرآن اپنے مناظر میں سے ایک منظر کو پیش کرتا ہے ‘ جو زندگی متحرک مناظر سے بھرپور ہے ، ہم ایک ہولناک منظر کے سامنے ہیں ‘ یہ اس قدر خوفناک ہے کہ جس کی نقشہ کشی بذریعہ الفاظ ممکن نہیں ہے ۔ نہ اس کے خدوخال الفاظ میں بیان ہوسکتے ہیں ۔
ہمارے سامنے دوقسم کے انسان کھڑے ہیں ‘ یہ زندہ انسان ہیں ‘ ان کے چہرے ہیں اور خدوخال ہیں ۔ کچھ لوگ ہیں جن کے چہرے نورانی ہیں ‘ خوشی ان سے ٹپک رہی ہے ‘ اور ہشاش وبشاش ہیں اور خوشی ومسرت سے چہرے سرخ وسفید ہوگئے ہیں ۔ ان کے مقابلے میں بعض دوسرے چہرے ہیں جو رنج والم کی وجہ سے بجھے بجھے ہیں ‘ ہوائیاں اڑی ہوئی ہیں ‘ تھکان کی وجہ سے سیاہ ہوگئے ہیں ‘ لیکن…
Read the full tafseer →2 یعنی یہود و نصاریٰ کی طرح مت بنو جو خدا تعالیٰ کے صاف احکام پہنچنے کے بعد محض اوہام و اہواء کی پیروی کر کے اصول شرع میں متفرق اور فروع میں مختلف ہوگئے۔ آخر فرقہ بندیوں نے انکے مذہب و قومیت کو تباہ کر ڈالا، اور سب کے سب عذاب الہٰی کے نیچے آگئے۔
(تنبیہ) اس آیت سے ان اختلافات اور فرقہ بندیوں کا مذموم و مہلک ہونا معلوم ہوا جو شریعت کے صاف احکام پر مطلع ہونے کے بعد پیدا کئے جائیں۔ افسوس ہے کہ آج مسلمان کہلانے والوں میں بھی سینکڑوں فرقے شریعت اسلامیہ کے صاف وصریح اور مسلَّم و محکم اصول سے الگ ہو کر اور ان میں اختلاف ڈال کر اس عذاب کے نیچے آئے ہوئے ہیں۔ تاہم اسی طوفان بےتمیزی میں اللہ و رسول کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 104–105
آیت 104 وَلْتَکُنْ مِّنکُمْ اُمَّۃٌ یَّدْعُوْنَ اِلَی الْخَیْرِ وَیَاْمُرُوْنَ بالْمَعْرُوْفِ وَیَنْہَوْنَ عَنِ الْمُنْکَرِ ط
اس جماعت کے کرنے کے تین کام بتائے گئے ہیں ‘ جن میں اوّلین دعوت الی الخیر ہے ‘ اور واضح رہے کہ سب سے بڑا خیر یہ قرآن ہے۔
وَاُولٰٓءِکَ ہُمُ الْمُفْلِحُوْنَ
یہاں لفظ منکُمْ بڑا معنی خیز ہے کہ تم میں سے ایک ایسی امت وجود میں آنی چاہیے۔ گویا ایک تو بڑی امت ہے امت مسلمہ ‘ وہ تو ایک سو پچاس کروڑ نفوس پر مشتمل ہے ‘ جو خواب غفلت میں مدہوش ہیں ‘ اپنے منصب کو بھولے ہوئے ہیں ‘ دین سے دور ہیں۔ لہٰذا اس امت کے اندر ایک چھوٹی امت یعنی ایک جماعت وجود میں آئے جو جاگو اور جگاؤکا فریضہ…
Read the full tafseer →96 اس آیت میں ان لوگوں سے مراد اہل کتاب ہیں یعنی یہود و نصاریٰ بیشمار فرقوں میں بٹ گئے۔ اور ہر فرقہ دوسرے کو کافر کہتا ہے۔ حدیث میں ہے کہ یہود اکہتر (71) فرقوں میں بٹ گئے اور نصاریٰ بہتر (72) فرقوں میں اور میری امت تہتر (73) فرقوں میں بٹ جائے گی۔ جن میں سے ایک فرقہ کے سوا سب دوزخی ہوں گے۔ صحابہ رضوان اللہ اجمعین نے عرض کیا : وہ نجات پانے والا فرقہ کون سا ہوگا تو آپ نے فرمایا : ما انا علیہ واصحابی یعنی وہ فرقہ اسی راہ پر چلے گا۔ جس پر میں اور میرے اصحاب ہیں۔ (ترمذی۔ کتاب الایمان۔ باب افتراق ھذہ الامۃ)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ ہر گمراہ فرقہ کی بنیاد کوئی بدعی عقیدہ یا عمل ہوتا ہے۔ لہذا ہر فرقہ…
Read the full tafseer →221 ۔ (توحید، رسالت، وحی، جزاوسزا وغیرہ اصولی وبنیادی عقائد کے باب میں) (آیت) ” کالذین “۔ مراد سابق اہل کتاب، یہود ونصاری ہیں۔ یعنی الیھود والنصاری فی قول جمھور المفسرین (قرطبی) (آیت) ” تفرقوا واختلفوا “۔ یعنی از راہ نفسانیت وشرارت وحدت دینی کو پارہ پارہ کردیا اور اپنے الگ الگ مذہب گڑھ لیے۔ مسائل وجزئیات احکام میں اختلاف جو اخلاص نیت کے ساتھ اجتہاد کی بنا پر ہو، وہ اسلام میں ہرگز ممنوع نہیں، بلکہ وہ تو امت کے حق میں عین رحمت ہے، اختلاف مذاق وطبیعت کی بنا پر کسی مسلک میں آسانی معلوم ہوتی ہے اور کسی کو کسی میں (آیت) ” البینت “۔ اس کے تحت میں احکام، دلائل، معجزات سب آگئے۔
Read the full tafseer →وَلَا تَکُوْنُوْا کَالَّذِیْنَ تَفَرَّقُوْا (الآیۃ) اس سے معلوم ہوا کہ یہود و نصاریٰ کے باہمی اختلاف اور تفرقہ کی وجہ یہ نہ تھی کہ انہیں حق کا پتہ نہ تھا اور اس کے دلائل سے بیخبر تھے بلکہ حقیقت یہ ہے کہ انہوں نے سب کچھ جانتے ہوئے محض اپنے دنیاوی مفاد اور نفسانی اغراض کے لیے اختلاف و تفرقہ کی راہ اختیار کی تھی، قرآن مجید نے مختلف اسلوب اور پیرائے میں اس حقیقت کی نشاندہی کی ہے اور اس سے دور رہنے کی تاکید فرمائی ہے۔
سیاہ چہرے والے اور سفید چہرے والے کون ہوں گے ؟: ان کی تعیین میں مفسرین کے مختلف اقوال مذکور ہیں، حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ اہل سنت کے چہرے سفید ہوں گے اور اہل بدعت کے چہرے سیاہ…
Read the full tafseer →و لا تکونوا کالذین تفرقوا اور ان لوگوں کی طرح نہ ہوجانا جو پھٹ کر بٹ گئے یعنی یہودیوں کی طرح نہ ہوجانا جو پھٹ کر بہتر فرقوں میں بٹ گئے۔
واختلفوا من بعد ما جاء ھم البینات اور کھلے ہوئے قطعی دلائل آنے کے بعد اہم اختلاف کرنے لگے۔
البینات سے مراد ہیں اللہ کی آیات محکمہ اور انبیاء کی احادیث متواترہ اور انہی جیسی دوسری دلیلیں جیسے اجماع امت اسلامیہ۔
اختلاف عام ہے خواہ اصول دین میں ہو جیسے اہل سنت سے اہل بدعت (معتزلہ، خوارج وغیرہ) کا اختلاف یا ان فروعی مسائل میں ہو جن کا ثبوت اجماعی ہے جیسے وضوء میں پاؤں دھونا اور خفین پر مسح کرنا اور خلفاء اربعہ کی خلافت۔ قطعیت کی شرط لگانے سے اس امتناعی حکم سے وہ…
Read the full tafseer →(105) ایسے ہی یہ حضرات مومنین اللہ کے غصہ اور عذاب سے نجات پانے والے ہیں اور یہود و نصاری نے جس طرح دین میں اختلاف کیا تم اس طرح اپنی کتاب میں اسلام کے واضح اور روشن دلائل آجانے کے بعد اختلاف مت کرنا ان یہود ونصاری کے لیے بہت بڑی سزا ہے۔
Read the full tafseer →وَلَا تَكُوْنُوْا كَالَّذِيْنَ تَفَرَّقُوْا۔۔ : اس سے مراد بنی اسرائیل ہیں۔ معلوم ہوا کہ یہود و نصاریٰ کے باہمی اختلاف اور فرقہ بندی کی وجہ یہ نہ تھی کہ انھیں حق کا پتا نہ تھا اور وہ اس کے دلائل سے بیخبر تھے، بلکہ حقیقت یہ ہے کہ انھوں نے سب کچھ جانتے ہوئے محض اپنے دنیاوی مفاد اور نفسانی اغراض کے لیے اختلاف اور فرقہ بندی کا راستہ اختیار کیا تھا اور اس پر جمے ہوئے تھے۔ قرآن مجید نے مختلف طریقوں سے بار بار یہ حقیقت واضح فرمائی اور اس سے دور رہنے کی تاکید فرمائی۔ ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”یہود اکہتر (71) یا بہتر (72) فرقوں میں جدا جدا ہوگئے، اسی طرح نصاریٰ بھی، اور میری…
Read the full tafseer →آیت نمبر : 105۔
جمہور مفسرین کے قول کے مطابق مراد یہود ونصاری ہیں، اور بعض نے کہا ہے : مراد اس امت کے مبتدع (بدعت کا ارتکاب کرنے والے) لوگ ہیں اور ابو امامہ نے کہا ہے : وہ لوگ حروریہ ہیں، اور پھر یہ آیت تلاوت کی اور جابر بن عبداللہ نے کہا : (آیت) ” کالذین تفرقوا وا اختلفوا من بعد ما جآئھم البینت “۔ اور وہ لوگ یہود ونصاری ہیں۔ (آیت) ” جآء ھم “ جمع کی بنا پر مذکر ذکر کیا گیا ہے۔ اور جآء تھم “ جماعت کی بنا پر ذکر کیا گیا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 105–106
(1) احمد و ترمذی وابن ماجہ و طبرانی وابن المنذر نے ابو غالب (رح) سے روایت کیا ہے کہ ابو امامہ ؓ نے ازارقہ فرقے (جو خارجیوں کا ایک سخت معتصب فرقہ تھا) کے (لوگوں) کے سروں کو دیکھا جو دمشق کی مسجد کی سیڑھیوں پر لٹکائے گئے تھے ابو امامہ ؓ نے فرمایا دوزخ کے کتے (جو) برے ہیں قتل ہونے والے آسمان کے نیچے (اور) بہترین قتل ہونے والا وہ شخص ہے جس کو ان لوگوں نے قتل کیا پھر (یہ آیت ) ” یوم تبیض وجوہ وتسود وجوہ “ پڑھی میں نے عرض کیا اے ابو امامہ ! کیا آپ نے اس کو رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے ؟ تو انہوں نے فرمایا اگر میں نے اس کو نہ سنا ہوتا مگر ایک مرتبہ یا دو مرتبہ یا تین مرتبہ یا چار مرتبہ یہاں تک کہ سات تک…
Read the full tafseer →[ وَلاَ تَـکُوْنُوْا : اور تم لوگ مت ہونا ] [کَالَّذِیْنَ : ان کی مانند جو ] [تَفَرَّقُوْا : پھٹ کر الگ الگ ہوئے ] [وَاخْتَلَفُوْا : اور اختلاف کیا ] [مِنْم بَعْدِ مَا : اس کے بعد کہ جو ] [جَآئَ ہُمُ : آئیں ان کے پاس ] [الْبَـیِّنٰتُ : واضح (نشانیاں)] [ وَاُولٰٓئِکَ : اور یہ وہ لوگ ہیں ] [لَہُمْ : جن کے لیے ] [عَذَابٌ عَظِیْمٌ : ایک عظیم عذاب ہے ]
Read the full tafseer →دلائل سے حق واضح ہونے کے بعد انحراف کرنے والوں کی سزا :
پھر فرمایا (وَ لَا تَکُوْنُوْا کَالَّذِیْنَ تَفَرَّقُوْا وَ اخْتَلَفُوْا مِنْ بَعْدِ مَا جَآءَ ھُمُ الْبَیِّنٰتُ ) (اور مت ہوجاؤ ان لوگوں کی طرح جو آپس میں متفرق ہوگئے اس کے بعد کہ ان کے پاس واضح احکام پہنچے)
صاحب روح المعانی صفحہ 22: ج 2 میں فرماتے ہیں کہ ان لوگوں سے یہود و نصاریٰ مراد ہیں جنہوں نے اختلاف کیا اور افتراق کی راہ اختیار کی، امت مسلمہ کو حکم ہوا کہ ان جیسے نہ ہوجاؤ جن کے پاس آیات بینات اور حجت بالغہ آئیں جو متحد رہنے کا حکم دے رہی تھیں انہوں نے اس کی خلاف ورزی کی اور اتحاد کے بجائے افتراق کو اپنایا یہ افتراق دنیاوی اغراض…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 102–117
قال تعالی۔ یا ایھا الذین۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تا۔۔۔۔ ترجع الامور۔ آیت۔
ربط) گزشتہ آیات میں اللہ نے باہمی قتال وشقاق کو تکفرون یعنی کفر سے تعبیر فرمایا اب آئندہ آیت میں تقوی اور اعتصام بحبل اللہ یعنی اتفاق اور اتحاد اور اسلامی مواخات کا حکم دیتے ہیں اور اتفاق اور اتحاد کا ایک دستور العمل بتلاتے ہیں وہ یہ کہ اول تقوی اور اسلام پر مداومت اور استقامت کا حکم دیا اور پھر اعتصام بحبل اللہ کا حکم فرمایا کہ سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوط پکڑو پھر یہ ارشاد فرمایا، واذکر نعمتہ اللہ علیکم۔ الخ۔ آیت۔ جس میں حکم دیا کہ اتفاق اور اتحاد کی نعمت کو یاد کرو، اور اس نعمت کو اور اس کی برکات کو یاد کرکے موازنہ کرو کہ پہلے…
Read the full tafseer →153 یہ مسلمانوں کے لیے زجر ہے اور ساتھ ہی اخروی تخویف ہے۔ اصلاح احوال کا حکم دینے کے بعد دوبارہ تفرق واختلاف سے منع فرمایا اور اختلاف کی صورت میں عذاب اخروی کی دھمکی دی تاکہ مسلمانوں کے دلوں میں اتفاق اور محبت کی جڑیں مضبوط ہوجائیں اور میدان جنگ میں ڈٹ کر کفار کا مقابلہ کرسکیں۔ تَفَرَّقُوْا اور اِخْتَلَفُوْا کو بعض مفسرین نے ایک ہی معنی میں لیا ہے۔ اور تکرار لفظ کو تاکید پر محمول کیا ہے۔ اور اختلاف سے توحید باری تعالیٰ اور دیگر اصول دین میں اختلاف مراد ہے اور بعض مفسرین نے تَفَرَّقُوْا سے باہمی عداوت اور اختلاف سے مذہبی اختلافات مراد لیے ہیں۔ واختلفوا فی التوحید والتنزیہ واحوال المعاد قیل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 105–109
ربط آیات :
گذشتہ دروس میں اہل کتاب کی اطاعت کرنے سے منع فرمایا گیا تھا۔ پھر تقوی اختیار کرنے کا حکم ہوا ، اور اللہ کی رسی یعنی قرآن کریم کو مضبوطی سے پکڑنے کی تلقین کی گئی۔ اس کے بعد فرمایا کہ امت مسلمہ میں سے ایک گروہ ضرور ایسا ہونا چاہیئے جو نیک کاموں کی طرف دعوت دے ، اچھے کاموں کا حکم کرتے رہیں اور برائی سے روکتے رہیں۔ اس طرحجماعت کا نظم بھی قائم رہے گا اور لوگ گمراہی سے بھی بچ جائیں گے۔ اب اہل ایمان سے مزید خطاب ہو رہا ہے۔ کہ یہود و نصاری کی طرح تم بھی آپس میں تفرقہ کا شکار نہ ہوجانا۔ اہل کتاب نے واضح احکام آجانے کے باوجود اپنی نفسانی خواہشات کی تکمیل کے لیے تفرقہ ڈالا۔ ان کے الگ الگ گروہ…
Read the full tafseer →وَلَا تَكُوْنُوْا كَالَّذِيْنَ تَفَرَّقُوْا وَاخْتَلَفُوْا مِنْۢ بَعْدِ مَا جَاۗءَھُمُ الْبَيِّنٰتُ 0 ۭ وَاُولٰۗىِٕكَ لَھُمْ عَذَابٌ عَظِيْمٌ 105 ۙ
تفریق
والتَّفْرِيقُ أصله للتّكثير، ويقال ذلک في تشتیت الشّمل والکلمة . نحو :
يُفَرِّقُونَ بِهِ بَيْنَ الْمَرْءِ وَزَوْجِهِ [ البقرة/ 102] ،
(ر ق ) الفرق
التفریق اصل میں تکثیر کے لئے ہے اور کسی چیز کے شیر ازہ اور اتحاد کو زائل کردینے پر بولا جاتا ہے جیسے فرمایا : ۔ يُفَرِّقُونَ بِهِ بَيْنَ الْمَرْءِ وَزَوْجِهِ [ البقرة/ 102] جس سے میاں بیوی میں جدائی ڈال دیں ،
الاختلافُ والمخالفة
والاختلافُ والمخالفة : أن يأخذ کلّ واحد طریقا غير طریق الآخر في…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 104–105
1 ؎ علمائِ امت محمدیہ پر فرض ہے کہ حضرت ﷺ کا نائب بن کر دنیا میں دین پھیلائیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 105–107
وَلَا تَکُوْنُوْا کَالَّذِیْنَ تَفَرَّقُوْا وَاخْتَلَفُوْا مِنْ م بَعْدِ مَا جَـآئَ ہُمُ الْـبَـیِّـنٰتُ ط وَاُولٰٓئِکَ لَہُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌ۔ لا یَّوْمَ تَبْیَضُّ وُجُوْہٌ وَّتَسْوَدُّ وُجُوْہٌ ج فَاَمَّا الَّذِیْنَ اسْوَدَّتْ وُجُوْہُہُمْ قف اَکَفَرْتُمْ بَعْدَ اِیْمَانِکُمْ فَذُوْقُوا الْعَذَابَ بِمَا کُـنْـتُمْ تَکْفُرُوْنَ ۔ وَاَمَّا الَّذِیْنَ ابْیَضَّتْ وُجُوْہُہُمْ فَفِیْ رَحْمَۃِ اللّٰہِ ط ہُمْ فِیْہَا خٰلِدُوْنَ ۔
اور ان لوگوں کی طرح نہ ہوجاؤ جو پراگندہ ہوگئے اور جنہوں نے اختلاف کیا بعد اس کے کہ ان کے پاس واضح ہدایات آچکی تھیں اور یہی لوگ ہیں جن کے لیے بڑا عذاب ہے۔ جس دن کچھ چہرے…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : اللہ تعالیٰ کے احکام کو مضبوطی سے تھامنا اور متحد ہو کر لوگوں تک پہنچانا۔ اختلاف کی صورت میں تبلیغ غیر مؤثر ہوجاتی ہے اس لیے باہمی اختلاف سے منع فرمایا ہے۔
اتحاد و اتفاق اور فریضۂ تبلیغ کی ادائیگی کے ساتھ ایک دفعہ پھر امت کو تاکید کی جارہی ہے کہ ان لوگوں کی طرح نہ ہوجانا جو آپس میں گروہ بندی کا شکار ہوئے۔ ٹھوس اور واضح دلائل آجانے کے باوجود انہوں نے اپنے دین میں تفرقہ بازی اور اختلافات پیدا کیے۔
اس فرمان میں عام لوگوں اور خاص کر علماء اور مبلّغین کو مخاطب کیا گیا ہے کیونکہ عام مسلمان امت میں محدود انتشار کا باعث ہوتے ہیں لیکن راہنما اور علماء انتشا رکا زیادہ سبب ہوا کرتے…
Read the full tafseer →تفرقہ تو یہود و نصاریٰ کی خصلت ہے :
105: وَلَاتَکُوْنُوْا کَالَّذِیْنَ تَفَرَّقُوْا وَاخْتَلَفُوْا مِنْم بَعْدِ مَاجَآ ئَ ھُمُ الْبَیِّنٰتُ وَاُولٰٓپکَ لَھُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌ۔ (تم ان لوگوں کی طرح نہ بنو جنہوں نے (عداوت سے) تفرقہ ڈالا) وَاخْتَلَفُوْا (اور اختلاف پیدا کیا) دین میں وہ یہود و نصاریٰ ہیں۔ انہوں نے اختلاف کیا اور ایک دوسرے کو کافر قرار دیا۔ مِنْم بَعْدِ مَاجَآ ئَ ھُمُ الْبَیِّنٰتُ (اسکے بعد کہ ان کے پاس واضح دلائل آچکے) جو کہ کلمہ حق پر سب کے اتفاق لازم کرنے والے تھے۔ وَاُولٰٓپکَ لَھُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌ (ان لوگوں کیلئے بڑا عذاب ہے)
Read the full tafseer →(ولا تکونوا کالذین تفرقوا کی مراد میں مفسرین کے مختلف اقوال)
(تفسیر) 105۔ـ: اکثر مفسرین کا قول ہے کہ اس سے مراد یہود و نصاری ہیں کہ تم یہودیوں ونصرانیوں کی طرح نہ ہوجانا ، (کہ جس طرح وہ مختلف فرقوں میں تقسیم ہوگئے تھے اسی طرح تم ہوجاؤ) بعض نے کہا کہ اس سے مراد مبتدعین کی جماعت ہے ۔
ابوامامہ ؓ سے روایت ہے کہ اس سے شام کے حروری مراد ہیں ، عبداللہ بن شداد کہتے ہیں کہ حضرت ابوامامہ ؓ کھڑے ہوئے اور ان کے ساتھ میں بھی تھا جب ابوامامہ ؓ انکے سامنے کھڑے تھے اور ارشاد فرما رہے تھے کہ یہ جہنم کے کتے ہیں یہ پہلے مؤمن تھے اور اب یہ مرتد ہوگئے ہیں ، پھر یہ آیت تلاوت فرمائی (آیت)” ولا تکونوا کالذین…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 104–112
(104 ۔ 109) ۔ اوپر ذکر تھا کہ یہود نے انصار کے دو گروہ کو بہکا کر ان دو گروہ کو آپس میں لڑانے کی شرارت کی تھی مگر اللہ کے رسول کی فہمایش سے یہود کا وہ بہانہ چل نہ سکا۔ ان آیتوں میں ارشاد ہے کہ سب بہکانے والوں کے سر گروہ ابلیس علیہ اللعنہ اور شیاطین الجن والانس کے اغوا سے انجان مسلمانوں کو بچانے کے لئے مسلمانوں میں ہمیشہ کے تھے ایک جماعت ایسی ہونی چاہیے کہ دین کی باتوں کی لوگوں کو نصیحت اور فہمایش کیا کرے۔ اس سے زیادہ تفسیر اس باب میں آئندہ کی آیت کی تفسیر میں آتی ہے۔ 110۔ 112۔ خازن وغیرہ میں جو حدیثیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ مالک بن صیف اور وہب بن یہود یہودیوں نے ایک روز عبد اللہ بن مسعود ؓ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 105–107
آیت 105
مطلب یہ ہے کہ اے مومنو ! جن پر اللہ نے ایمان لانے اور اپنی رسی کو مضبوطی سے پکڑنے کی توفیق دے کر احسان فرمایا ہے، تم میں سے (امہ) ایک جماعت ایسی ہونی چاہیے (یدعون الی الخیر) ” جو بھلائی کی طرف بلائے۔ “ (خیر) ” بھلائی “ میں ہر وہ چیز شامل ہے جو اللہ سے قریب کرنے والی اور اس کی ناراضی سے دور کرنے والی ہو۔ (ویامرون بالمعروف) ” اور وہ نیک کاموں کا حکم کرے “ (معروف) اسے کہتے ہیں جس کا اچھا ہونا عقل اور شریعت کی روشنی میں معلوم ہوچکا ہو۔ (وینھون عن المنکر) ” اور برے کاموں سے روکے “ (منکر) اسے کہتے ہیں جس کا برا ہونا عقل اور شریعت کے ذریعے سے معلوم ہوچکا ہو۔ اس میں مومنوں کو یہ ہدایت کی گئی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 105–110
قول باری ہے (کنتم خیرامۃ اخرجت للناس تامرون بالمعروف وتنھون عن المنکر) قول باری (کنتم) کے معنی میں کئی وجوہ بیان کیے گئے ہیں۔ حسن سے مروی ہے کہ اس سے مراد کتب سابقہ جن میں مختلف امتوں کے متعلق بشارتیں آئی ہیں اور ان کے بارے میں خبریں دی گئی ہیں۔ ان میں ہم سب سے اخری امت ہیں لیکن اللہ کے نزدیک سب سے بڑھ کرمرتبے اور عزت والے ہیں۔ ہمیں عبداللہ بن محمد بن اسحق نے روایت بیان کی انہیں حسن بن ابی ربیع نے انہیں عبدالرزاق نے انہیں معمرنے بہزبن حکیم سے انہوں نے اپنے والد حکیم سے انہوں نے اپنے والد سے کہ انہوں نے حضور ﷺ کو آیت (کنتم خیرامۃ اخرجت للناس ، کے سلسلے میں فرماتے ہوئے سنا تھا کہ (انتم تتمون…
Read the full tafseer →219 تفرق و انتشار والے لوگوں سے بچ کر رہنے کی ہدایت : سو ارشاد فرمایا گیا اور کہیں تم ان لوگوں میں سے نہیں ہوجانا جو مختلف فرقوں میں بٹ گئے اور وہ باہم اختلاف میں پڑگئے اس کے بعد کہ ان کے پاس آچکی تھیں ان کے رب کی طرف سے کھلی ہدایات۔ پس تم ان لوگوں کی طرح نہیں ہوجانا جو باہم بٹ کر ٹکڑے ٹکڑے ہوگئے۔ محض اپنی نفسانی خواہشات کی بنا پر۔ اور دنیائے فانی کے حطام زائل کے پیچھے لگ کر۔ اور اس طرح ان لوگوں نے اپنے آپ کو شرف انسانیت سے محروم کرکے حیوانیت محضہ کے درجے میں لاکھڑا کیا، جو کہ خسارہ اور انتہائی ہولناک نقصان ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ پس تم لوگ ہمیشہ ایسے لوگوں کے طور طریقوں سے بچ کر رہنا ۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 104–109
نیکی اور بدی کا انجام
تشریح : ان آیات میں اللہ تعالیٰ پھر لوگوں کو نیکی کا حکم دیتے ہیں اور برائی سے منع کرتے ہوئے یاد دلاتے ہیں کہ حساب کا دن ضرور یاد رکھو اور جان لو کہ وہ دن ضرور آئے گا اور یہ بھی جان لو کہ بدلہ ملنے میں کسی شخص پر ظلم نہ کیا جائے گا۔ کیونکہ اللہ تو اپنے بندوں پر ہر وقت رحم و کرم کرنا چاہتا ہے اسی لیے ہر وقت خبردار کرتا ہے کہ دیکھو بھول کر کہیں غلط راستے پر نہ چل پڑنا۔ کیونکہ غلط راہ ہر صورت میں انسان کے لیے نقصان دہ ہے دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی، پھر نیکی میں یہ بھی شامل ہے کہ تم چاہے ایک فرد ہو یا ایک جماعت کی شکل میں ہو، ہر وقت اس مہم کو سامنے رکھو کہ جہاں بھی برائی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 102–109
آیات 102- 109
اسرارو معارف
یایھا الذین امنوا اتقو اللہ……………لعلکم تھتدون۔
جب تمہیں اس قدر اسباب ہدایت حاصل ہیں تو اے ایمان والو ! اللہ سے ڈرتے رہو جیسا اس سے ڈرنے کا حق ہے تقویٰ دراصل خوف محض کا نام نہیں بلکہ وہ تعلق جو بطفیل نبی کریم ﷺ بندے کو اللہ سے حاصل ہو اس کے ٹوٹ جانے کے ڈر کا نام ہے تعلیمات نبوی ﷺ کے ساتھ وہ کیفیات بھی جو وجود نبوی ﷺ کی برکات میں سے ہیں اور جن کے ورود سے دل بدل گئے ، مزاج بدلے ، خواہشات اور طلب بدل گئی۔ حتیٰ کہ دین پر عمل کرنا مزاج بن گیا اور گناہ طبعی طور پر سخت ناپسندیدہ ہوگیا۔ اب ان نعمتوں کو کبھی ضائع نہ ہونے دو ۔
بیشتر مفسرین کرام نے حضور اکرم ﷺ کا یہ ارشاد نقل…
Read the full tafseer →2 اس آیت میں جس اختلاف کی مذمت ہے اس سے وہ اختلاف مراد ہے جو کتاب وسنت کے نصوص کو چھوڑ کر اختیار کیا جائے عام اس سے کہ اصولی ہو یا فروعی ورنہ اجتہادی مسائل میں اختلاف کی گنجائش چلی آئی ہے بشر طی کہ تعصب سے ہٹ کر اجتہاد کیا جائے اور اجتہادی مسائل پر عمل کرنے میں جمود نہ ہو بلکہ جس امام کو فتویٰ ادب الی الکتاب والسنتہ ہو اسی پر عمل کرلیا جائے الغرض اجتہادی مسائل میں بھی تقلید شخص کی گنجا نہیں۔ الذین تفر قوا وال ضتلوفوا سے مراد یہود و نصاری ہیں پھر اس امت کے اہل بدعت کے تمام فرقے بھی اس میں داخل ہیں جو اختلاف و تفریق میں یہود کی روش پر چل رہے ہیں ایک حدیث میں ہے پہلی امتوں کے بہتر فرقے ہو گے اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 104–110
(3:104) ولتکن منکم۔ لتکن میں لام امر ہے صیغہ واحد مؤنث غائب۔ امر غائب و متکلم معروف بناوٹ کے لحاظ سے کوئی مستقل فعل نہیں بلکہ ایک دوسرا نام مضارع بلام امر کا ہے لام امر و مضارع غائب و متکلم معروف کے آٹھوں صیغوں سے خاص ہے جو صیغہ ہائے واحد کو جزم دیتا ہے۔ جیسے لیکن (واحد مذکر غائب) لتکن (واحد مؤنث غائب) اور لاکن واحد متکلم۔ نون اعرابی کے سقوط اور نون ضمیری کی قائمی میں مثل لم کے عمل کرتا ہے۔ ولتکن۔ چاہیے کہ ہو ایک (جماعت) تم میں سے جو ۔۔
منکم۔ میں من تبیین کے لئے ہے تبعیض کے لئے نہیں۔ یعنی امر بالمعروف و نہی عن المنکر کا کام تمام امت پر واجب ہے کسی مخصوص جماعت کی ذمہ داری نہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 102–109
لغات القرآن آیت نمبر 102 تا 109
حق تقٰته (اس سے ڈرنے کا حق ادا کرکے) اعتصموا (تم مضبوط تھام لو) بحبل اللہ (اللہ کی رسی ، یعنی اللہ کے دین کو (مضبوط تھام لو) جمیع (سب کے سب اکٹھے ہوکر) لاتفرقوا (تم جداجدا نہ ہو) اعداء (آپس میں دشمن ) الف (اس نے محبت ڈال دی) اصبحتم (تم گئے) اخوان (بھائی بھائی) شفاء (کنارہ) حفرۃ (گڑھا) انقذ (اس نے بچالیا) ولتکن (ہونی چاہیے) امة (ایک جماعت) یدعون (بلاتے ہیں، دعوت دیتے ہیں) بالمعروف (نیکی کے ساتھ) ینھون (وہ روکتے ہیں) المنکر (برائی غلط راستہ) تبیض (سفید، چمک دار) وجوہ (چہرے (وجه کی جمع ہے) تسود (سیاہ) اکفرتم (کیا تم نے کفر کیا ؟ ) دوقوا (تم چکھو) ابیضت (سفید، چمک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 104–109
اشاعت اسلام کا ذکر
ان آیتوں میں ارشاد ہے کہ سب بہکانے والوں کا سرگروہ ابلیس ہے، انجان مسلمانوں کو بچانے کے لئے مسلمانوں میں ہمیشہ ایک ایسی جماعت ہونی چاہئے کہ دین کی باتوں کی لوگوں کو نصیحت اور فہمائش کیا کرے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 103–111
[39] اللہ کی رسی سے مراد قرآن مجید ہے۔ رسول اکرم ﷺ نے قرآن مجید کے بارے میں ارشاد فرمایا ہے '' ھو حبل اللہ المتین '' (یہ اللہ کی مضبوط رسی ہے) ۔ قرآن کو اللہ کی رسی اس لئے فرمایا کہ یہی چیز ہے جو بندوں کو خدا سے جوڑتی ہے۔ جس نے اس کو تھام لیا گویا اس نے خدا کا سہارا تھام لیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 105–110
حدود تبلیغ :
(ف 1) اس آیت میں تمام مسلمانوں کو فریضہ تبلیغ کی ادائیگی کے لئے آمادہ کیا ہے مگر خود تبلیغ کی حدود کیا ہیں ؟ یہ ایک سوال ہے ۔
قرآن حکیم نے تبلیغ و اشاعت کو دو لفظوں سے تعبیر کیا ہے ، امر بالمعروف اور نہی عن المنکر ۔ یعنی نیکی ‘ بھلائی اور سچائی کی تلقین اور برائی سے اظہار نفرت وتحقیر ۔
ظاہر ہے یہ دو لفظ انتہا درجہ کی وسعت اپنے اندر پنہاں رکھتے ہی ، معروف کا اطلاق نیک اقدام پر ہو سکتا ہے اور منکر کا ہر برے اقدام پر ، چونکہ ان دو لفظوں میں فرد وجماعت کی تمام نیکیاں اور برائیاں آجاتی ہیں ، اس لئے جواب بالکل آسان اور واضح ہے کہ تبلیغ کی حدود فرد وجماعت کی تمام وسعتوں پر حاوی و محیط…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 104–106
ف 3 اور تم میں مبلغین اور داعین الی الحق کی ایک ایسی جماعت ضرور ہونی چاہئے جو دوسرے لوگوں کو خیر اور بھلائی کی طرف دعوت دیا کریں اور اس جماعت کے لوگ دوسروں کو بھلے کام کرنے کا حکم دیا کریں اور برے کاموں سے ان کو منع کیا کریں اور ایسے ہی لوگ جو تبلیغ کا فریضہ ادا کریں گے اپنے مقصد میں کامیاب ہونے والے ہیں۔ (تیسیر)
خیر سے ہر قسم کی صلاح مراد ہے خواہ وہ عقائد کی درستی ہو یا اعمال و اخلاق کی ہو۔ یا دین و دنیا دونوں کی اصلاح ہو۔ ابن مردویہ نے ابو جعفر محمد بن باقر سے مرفوعاً روایت کیا ہے کہ خیر سے مراد کتاب اللہ کی اور میری سنت کی پیروی ہے۔
حضرت عثمان غنی ؓ جب اس آیت کی تلاوت کرتے تھے تو فرماتے…
Read the full tafseer →ف 4۔ آیت میں جو تفریق ہے جو اصول دین میں ہو یافروع میں براہ نفانیت ہو جو فروع غیر واضح میں یابوجہ عدم نص صریح کے یا بوجہ ظاہری تعارض نصوص کے جن میں وجہ تطبیق صریح نہ ہو تو ایسے فروع میں اختلاف ہوجانا اس آیت میں داخل نہیں بلکہ امت مرحومہ میں واقع ہے۔
Read the full tafseer →اسلام کے اندر الگ الگ گروہ بندیاں اختیار کرنے کی واضح الفاظ میں ممانعت :
203: یہودو نصاریٰ کی طرح اصولوں اور بنیادی عقائد میں اختلاف کر کے مختلف گروہ بندیاں اختیار کرنے کی سختی کے ساتھ ممانعت فرمادی۔ یعنی ازراہ نفسانیت و شرارت وحدت دینی کو پارہ پارہ کرکے اپنے اپنے الگ مذہب نہ گھڑو۔ اس لیے کہ تمہارے پاس قطعی دلائل اور آیات محکمات آچکی ہیں اب اختلافات کی کوئی گنجائش حقیقت میں باقی نہیں رہی۔ الفاظ قرآنی خود بخود مفہوم آیت متعین کرنے میں بالکل واضح اور صاف ہیں۔ اس لیے کہ ارشاد یہ ہو رہا ہے کہ دیکھو ان لوگوں کی طرح نہ ہونا جو متفرق ہو کر بٹ گئے اور الگ الگ فرقوں میں تقسیم ہوگئے۔ مطلب یہ ہے کہ…
Read the full tafseer →Having established that Muslims have a distinct mission to convey and preach the God-oriented message of good, the text moves on to warn Muslims with the words:
وَلَا تَكُونُوا كَالَّذِينَ تَفَرَّقُوا وَاخْتَلَفُوا مِن بَعْدِ مَا جَاءَهُمُ الْبَيِّنَاتُ
And do not be like those who became divided and fell into disputes after clear signs had come to them. (105)
It means that Muslims should not be like Jews and Christians who, even after clear injunctions of Allah Almighty had reached them, became divided in the implementation of the basic code of faith simply because they preferred to…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 104–105
86. The reference is to those communities which received clear and straightforward teachings of the true religion but who had abandoned the fundamentals, forming separate sects around trivial and subsidiary questions; they became so engrossed in quarrelling over superfluous and insignificant questions that they lost sight of the mission God had entrusted to them, and even lost interest in those fundamentals of belief and righteous conduct which are essential for man's salvation and felicity.
Read the full tafseer →