Aal-i-Imraan 3:106

Aal-i-Imraan · from ayah 106

3:106

یَّوْمَ تَبْیَضُّ وُجُوْهٌ وَّتَسْوَدُّ وُجُوْهٌ ۚ— فَاَمَّا الَّذِیْنَ اسْوَدَّتْ وُجُوْهُهُمْ ۫— اَكَفَرْتُمْ بَعْدَ اِیْمَانِكُمْ فَذُوْقُوا الْعَذَابَ بِمَا كُنْتُمْ تَكْفُرُوْنَ ۟يَّوۡمَ تَبۡيَضُّ وُجُوۡهٌ وَّتَسۡوَدُّ وُجُوۡهٌ  ؕ فَاَمَّا الَّذِيۡنَ اسۡوَدَّتۡ وُجُوۡهُهُمۡ اَكَفَرۡتُمۡ بَعۡدَ اِيۡمَانِكُمۡ فَذُوۡقُوا الۡعَذَابَ بِمَا كُنۡتُمۡ تَكۡفُرُوۡنَ

جس دن بہت سے منہ سفید ہوں گے اور بہت سے منہ سیاہ تو جن لوگوں کے منہ سیاہ ہوں گے (ان سے خدا فرمائے گا) کیا تم ایمان لا کر کافر ہوگئے تھے؟ سو (اب) اس کفر کے بدلے عذاب (کے مزے) چکھو

— Fateh Muhammad Jalandhari

On the Day [some] faces will turn white and [some] faces will turn black. As for those whose faces turn black, [to them it will be said], "Did you disbelieve after your belief? Then taste the punishment for what you used to reject."

— Saheeh International

Juz 4 · Ruku 11 of surah · Ruku 2 of juz

Read the whole surah · Surah Aal-i-Imraan

All translations of 3:106

جبکہ کچھ لوگ سرخ رو ہوں گے اور کچھ لوگوں کا منہ کالا ہوگا، جن کا منہ کالا ہوگا (ان سے کہا جائے گا کہ) نعمت ایمان پانے کے بعد بھی تم نے کافرانہ رویہ اختیار کیا؟ اچھا تو اب اِس کفران نعمت کے صلہ میں عذاب کا مزہ چکھو

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

جس دن بہت سے منہ سفید ہوں گے اور بہت سے منہ سیاہ تو جن لوگوں کے منہ سیاہ ہوں گے (ان سے خدا فرمائے گا) کیا تم ایمان لا کر کافر ہوگئے تھے؟ سو (اب) اس کفر کے بدلے عذاب (کے مزے) چکھو

— مولانا فتح محمد جالندہری

جس دن بعض چہرے سفید ہوں گے اور بعض سیاه، سیاه چہرے والوں (سے کہا جائے گا) کہ کیا تم نے ایمان ﻻنے کے بعد کفر کیا؟ اب اپنے کفر کا عذاب چکھو

— مولانا محمد جوناگڑہی

اس دن جب کچھ چہرے چمکتے ہوں گے اور کچھ چہرے سیاہ پڑجائیں گے۔ چنانچہ جن لوگوں کے چہرے سیاہ پڑجائیں گے ان سے کہا جائے گا کہ : کیا تم نے اپنے ایمان کے بعد کفر اختیار کرلیا ؟ لو پھر اب مزہ چکھو اس عذاب کا، کیونکہ تم کفر کیا کرتے تھے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

جس دن کچھ منہ اونجالے ہوں گے اور کچھ منہ کالے تو وہ جن کے منہ کالے ہوئے کیا تم ایمان لاکر کافر ہوئے تو اب عذاب چکھو اپنے کفر کا بدلہ،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

جس دن کئی چہرے سفید ہوں گے اور کئی چہرے سیاہ ہوں گے، تو جن کے چہرے سیاہ ہو جائیں گے (ان سے کہا جائے گا:) کیا تم نے ایمان لانے کے بعد کفر کیا؟ تو جو کفر تم کرتے رہے تھے سواس کے عذاب (کا مزہ) چکھ لو،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

جس دن کچھ چہرے سفید ہوں گے اور کچھ چہرے سیاہ ہوں گے، تو جن لوگوں کے چہرے سیاہ ہوں گے، کیا تم نے اپنے ایمان کے بعد کفر کیا ؟ تو عذاب چکھو، اس وجہ سے کہ تم کفر کیا کرتے تھے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اس دن جب کہ کچھ چہرے روشن ہوں گے اور کچھ سیاہ ہو رہے ہوں گے تو جن لوگوں کے چہرے سیاہ ہوں گے (انہیں کہا جائے گا) کیا تم ہی وہ لوگ ہو جنہوں نے ایمان لانے کے بعد کفر اختیار کیا تھا ؟ سو جو تم کفر کرتے رہے اس کے بدلے عذاب کا مزا چکھو

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اس دن جس کچھ چہرے روشن ہوں گے اور کچھ چہرے سیاہ ہوں گے تو جن کے چہرے سیاہ ہوں گے ان سے پوچھا جائے گا کہ کیا تم نے اپنے ایمان کے بعد کفر کیا ہے تو اب چکھو عذاب اپنے کفر کی پاداش میں۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

جس دن کچھ چہرے تو (اپنے ایمان و یقین کے نور کی بناء پر سفید) اور روشن ہوں گے، اور کچھ چہرے (اپنے کفر و معصیت کے نتیجے میں) سیاہ ہوں گے سو جن لوگوں کے چہرے سیاہ ہوں گے (تو ان سے ان کی توبیخ و تذلیل کے لئے کہا جائے گا کہ) کیا تم لوگوں نے کفر کا ارتکاب کیا تھا اپنے ایمان کے بعد ؟ سو اب چکھو (اور چکھتے رہو) تم لوگ مزہ اس عذاب کا اپنے اس کفر کی بنا پر جس کا ارتکاب تم لوگ (اپنی زندگیوں میں) کرتے رہے تھے

— مولانا اسحاق مدنی

اس روز (جس رو ز) بعض چہرے سفید ہوں گے اور بعض چہرے سیاہ ہوں گے پھر جن کے چہرے سیاہ ہوں گے ان سے کہا جائے گا کہ کیا تم ہی کافر ہوگئے تھے اپنے ایمان کے بعد ؟ ۔ سو عذاب چکھو اپنے کفر کی پاداش میں

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

جس دن بعض چہرے بڑے روشن اور تابناک ہوں گے اور بعض چہرے سیاہ ہوں گے تو جن لوگوں کے چہرے سیاہ ہوں گے (ان سے پوچھا جائے گا) کیا تم اپنے ایمان کے بعد کفر میں لوٹ گئے تھے ؟ تو اب عذاب کا مزہ چکھو اس کفر کے باعث جو تم کرتے رہے تھے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

جس دن کچھ چہرے سفید ہوں گے اور کچھ لوگوں کا منہ کالا ہوگا، جن کا منہ کالا ہوگا۔ (ان سے کہا جائے گا) نعمت ایمان پانے کے بعد بھی تم نے کافرانہ رویہ اختیار کیا ؟ اچھا تو اب اس کفران نعمت کے بدلہ میں عذاب کا مزہ چکھو

— محترمہ رفعت اعجاز

On the Day when some faces will turn bright and ther faces will turn dark. Those whose faces have turned dark will be told: 'Did you fall into unbelief after you had been blessed with belief? Taste, then, chastisement for your unbelief.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

on a day when some faces shall turn bright, and some faces shall turn dark. As for those whose faces turn dark, (they shall be questioned): :Did you disbelieve after you had accepted the Faith? Now taste the punishment, because you used to disbelieve.

— Muhammad Taqi Usmani

on a day when some faces shall turn bright, and some faces shall turn dark. As for those whose faces turn dark, (they shall be questioned): :Did you disbelieve after you had accepted the Faith? Now taste the punishment, because you used to disbelieve.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

On the Day (i.e. the Day of Resurrection) when some faces will become white and some faces will become black; as for those whose faces will become black (to them will be said): "Did you reject faith after accepting it Then taste the torment (in Hell) for rejecting faith."

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

On the Day when (some) faces will be whitened and (some) faces will be blackened; and as for those whose faces have been blackened, it will be said unto them: Disbelieved ye after your (profession of) belief? Then taste the punishment for that ye disbelieved.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

On the Day [some] faces will turn white and [some] faces will turn black. As for those whose faces turn black, [to them it will be said], "Did you disbelieve after your belief? Then taste the punishment for what you used to reject."

— Saheeh International

On the day when some faces will become white and others black, God will ask the people with the faces which have become black, "Why did you give up your faith? Now suffer the torment for your disbelief".

— Muhammad Sarwar

On the day when (some) faces shall turn white and (some) faces shall turn black; then as to those whose faces turn black: Did you disbelieve after your believing? Taste therefore the chastisement because you disbelieved.

— Muhammad Habib Shakir

On a day whereon faces become whitened and faces become blackened. Then as for those whose faces shall have become blackened: disbelieved ye after your profession of belief! taste the torment for that ye have been disbelieving.

— Abdul Majid Daryabadi

On the Day when some faces will be (lit up with) white, and some faces will be (in the gloom of) black: To those whose faces will be black, (will be said): "Did ye reject Faith after accepting it? Taste then the penalty for rejecting Faith."

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 3:106

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 104–109

یوم آخرت منافق اور مومن کی پہچان حضرت ضحاک فرماتے ہیں اس جماعت سے مراد خاص صحابہ اور خاص راویان حدیث ہیں یعنی مجاہد اور علماء امام ابو جعفر باقر ؒ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اس آیت کی تلاوت کی پھر فرمایا صبر سے مراد قرآن و حدیث کی اتباع ہے، یاد رہے کہ ہر ہر متنفس پر تبلیغ حق فرض ہے لیکن تاہم ایک جماعت تو خاص اسی کام میں مشغول رہنی چاہئے، رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں تم میں سے جو کوئی کسی برائی کو دیکھے اسے ہاتھ سے دفع کر دے اگر اس کی طاقت نہ ہو تو زبان سے روکے اگر یہ بھی نہ کرسکتا ہو تو اپنے دل سے نفرت کرے یہ ضعیف ایمان ہے، ایک اور روایت میں اس کے بعد یہ بھی ہے کہ اس کے بعد رائی کے دانے کے برابر…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 106–108

سورة اٰلِ عِمْرٰن 87 یعنی چونکہ اللہ دنیا والوں پر ظلم نہیں کرنا چاہتا اس لیے وہ ان کو سیدھا راستہ بھی بتارہا ہے اور اس بات سے بھی انہیں قبل از وقت آگاہ کیے دیتا ہے کہ آخر کار وہ کن امور پر ان سے باز پرس کرنے والا ہے۔ اس کے بعد بھی جو لوگ کج روی اختیار کریں اور اپنے غلط طرز عمل سے باز نہ آئیں وہ اپنے اوپر آپ ظلم کریں گے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

خلاصہ تفسیر اس روز (یعنی قیامت کے روز) کہ بعضے چہرے سفید (روشن) ہوجاویں گے اور بعضے چہرے سیاہ (اور تاریک) ہوں گے، سو جن کے چہرے سیاہ ہوگئے ہوں گے ان سے کہا جائے گا کیا تم (ہی) لوگ کافر ہوئے تھے، اپنے ایمان لانے کے بعد تو (اب) سزا چکھو بسبب اپنے کفر کے اور جن کے چہرے سفید ہوں گے وہ اللہ کی رحمت (یعنی جنت) میں (داخل) ہوں گے، (اور) وہ اس میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے یہ (جو اوپر مذکور ہوئیں) اللہ تعالیٰ کی آیتیں ہیں جو صحیح صحیح طور پر ہم تم کو پڑھ کر سناتے ہیں (اس سے تو مضمون بالا کا صحیح ہونا معلوم ہوا) اور اللہ تعالیٰ مخلوقات پر ظلم کرنا نہیں چاہتے (پس جو کچھ کسی کے لئے جزا و سزا تجویز کی ہے، وہ…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 106–109

تفسیر آیت 160 تا 109: مسلمانوں کو چند تنبیہات : نظمِ کلام کی روشنی میں ان آیات پر غور کیجیے تو مندرجہ ذیل حقائق سامنے آئیں گے۔ اول یہ کہ اعتصام بحبل اللہ سے محروم ہوجانے کے بعد اہل کتاب اختلاف و انتشار میں مبتلا ہوئے اور یہ انتشار و اختلاف در حقیقت ایمان کے بعد کفر کی طرف پلٹ جانے کے ہم معنی ہے۔ دوم یہ کہ جن لوگوں کو اللہ تعالیٰ یہ سرفرازی و سرخروئی بخشتا ہے کہ ان کے ہاتھ میں خود اپنی رسی پکڑاتا ہے اگر وہ اپنی شامت اعمال سے اس رسی کو چھوڑ کر دوسرے پھدنے اپنی گردنوں میں ڈال لیتے ہیں تو قیامت کے دن ان کو اسی درجے کی روسیاہی بھی حاصل ہوگی جس درجے کی ان کو سرخ روئی بخشی گئی تھی۔ چہرے روشن ان کے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

16۔ 1 حضرت ابن عباس ؓ نے اس سے اہل سنت والجماعت اور اہل بدعت وافتراق مراد لئے ہیں (ابن کثیر و فتح القدیر) جس سے معلوم ہوا اسلام وہی ہے جس پر اہل سنت والجماعت عمل پیرا ہیں اور اہل بدعت و اہل افتراق اس نعمت اسلام سے محروم ہیں جو ذریعہ نجات ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 100–106

36: اگر یہ یہودیوں کا ذکر ہے تو ایمان سے مراد ان کا تورات پر ایمان لانا ہے اور اگر منافقین مراد ہیں تو ایمان کا مقصد ان کا زبانی اعلان ہے جس کے ذریعے وہ اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کرتے تھے۔ تیسرا احتمال یہ بھی ہے کہ خبر دار اسلام کو چھوڑ نہ بیٹھنا، اس لیے یہ بیان کیا گیا ہے کہ جو لوگ واقعۃ مرتد ہوجائیں گے، ان کا آخرت میں کیا حال ہوگا

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 105–107

یہاں سیاق کلام میں ‘ قرآن اپنے مناظر میں سے ایک منظر کو پیش کرتا ہے ‘ جو زندگی متحرک مناظر سے بھرپور ہے ، ہم ایک ہولناک منظر کے سامنے ہیں ‘ یہ اس قدر خوفناک ہے کہ جس کی نقشہ کشی بذریعہ الفاظ ممکن نہیں ہے ۔ نہ اس کے خدوخال الفاظ میں بیان ہوسکتے ہیں ۔ ہمارے سامنے دوقسم کے انسان کھڑے ہیں ‘ یہ زندہ انسان ہیں ‘ ان کے چہرے ہیں اور خدوخال ہیں ۔ کچھ لوگ ہیں جن کے چہرے نورانی ہیں ‘ خوشی ان سے ٹپک رہی ہے ‘ اور ہشاش وبشاش ہیں اور خوشی ومسرت سے چہرے سرخ وسفید ہوگئے ہیں ۔ ان کے مقابلے میں بعض دوسرے چہرے ہیں جو رنج والم کی وجہ سے بجھے بجھے ہیں ‘ ہوائیاں اڑی ہوئی ہیں ‘ تھکان کی وجہ سے سیاہ ہوگئے ہیں ‘ لیکن…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

3 یعنی بعضوں کے چہرہ پر ایمان وتقویٰ کا نور چمکتا ہوگا اور عزت و وقار کے ساتھ شاداں وفرحاں نظر آئیں گے۔ انکے برخلاف بعضوں کے منہ کفر و نفاق یا فسق و فجور سے کالے ہوں گے، صورت سے ذلت و رسوائی ٹپک رہی ہوگی۔ گویا ہر ایک کا ظاہر باطن کا آئینہ بن جائے گا۔ 4 یہ الفاظ مرتدین، منافقین، اہل کتاب، عام کفار یا مبتدعین و فساق و فجار سب کو کہے جاسکتے ہیں۔ " مرتد " تو اسی کو کہتے ہیں جو ایمان لانے کے بعد کافر ہوجائے۔ " منافق " زبان سے اقرار کرنے کے بعد دل سے کافر رہتا ہے۔ " اہل کتاب " اپنے نبیوں اور کتابوں پر ایمان لانے کے مدعی ہیں جس کا مطلب یہ ہے کہ ان کی سب بشارتوں کو جو نبی کریم ﷺ کے متعلق دی گئی تھیں…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 106–107

آیت 106 یَّوْمَ تَبْیَضُّ وُجُوْہٌ وَّتَسْوَدُّ وُجُوْہٌ ج فَاَمَّا الَّذِیْنَ اسْوَدَّتْ وُجُوْہُہُمْقف اَکَفَرْتُمْ بَعْدَ اِیْمَانِکُمْ ہدایت کے آنے کے بعد تم لوگ تفرقے میں پڑگئے تھے اور حبل اللہ کو چھوڑ دیا تھا۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 106–107

97 پچھلی آیت میں فرقہ حقہ، اور گمراہ فرقوں کا ذکر چل رہا تھا۔ اس آیت میں ایمان لانے کے بعد کفر اختیار کرنے کا یہ مطلب نہیں کہ وہ یہودی یا عیسائی یا ہندو یا سکھ وغیرہ ہوگئے تھے۔ بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ اپنے دین میں بہت سی بےاصل اور باطل باتیں شامل کرکے یا بعض ضروریات دین کا انکار کرکے یا ملحدانہ عقائد اختیار کرکے اصل دین سے نکل گئے تھے، اور یہ کفر دون کفر ہے اور ان سب باتوں پر کفر کے لفظ کا اطلاق ہوتا ہے۔ گویا قیامت کے دن روشن چہرے تو صرف ان لوگوں کے ہوں گے جو دین حقہ پر قائم و ثابت قدم رہے۔ اور یہی لوگ اللہ کے سایہ ئرحمت میں ہوں گے اور جن لوگوں نے گمراہ فرقوں میں شامل ہو کر کفر کی روش اختیار…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

222 ۔ یہ خطاب اہل دوزخ سے تو بہر حال ہوگا، گفتگو اس میں ہوئی ہے کہ ان سب سے ہوگا یا ان کے صرف بعض گروہوں سے ؟ ایک قول یہ ہے کہ ان سب سے ہوگا اور ایمان سے یہاں مراد اظہار ایمان ہے۔ ھم المنافقون (ابن جریر، عن الحسن) ایک قول ہے کہ مخاطب اہل کتاب ہیں اور حجت ان پر قائم کی جائے گی کہ تمہاری کتابوں میں نبی آخر الزمان ﷺ کا ذکر پوری طرح موجود اور پھر تم مکر گئے۔ المراد اھل الکتب (کبیر عن عکرمہ والاصم والزجاج) بعض اہل نظر نے ترجیح اسی قول کو دی ہے۔ والظاھر من السیاق والسباق ان ھولآء اھل الکتاب (روح) ابن جریر نے بعض تابعین سے استناد کرکے یہ شق اختیار کی ہے کہ خطاب سارے کافروں کے لیے عام ہے اور جس ایمان…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 106–110

آیت نمبر 110 تا 120 ترجمہ : اے امت محمد ﷺ تم اللہ کے علم میں بہترین جماعت ہو جن کو لوگوں کے لیے نکالا گیا تم بھلائی کا حکم دیتے ہو اور برائی سے روکتے ہو اور اللہ پر ایمان رکھتے ہو اور اگر اہل کتاب بھی اللہ پر ایمان لے آتے تو ایمان لانا ان کے حق میں خوب ہوتا ان میں سے کچھ تو مومن ہیں جیسا کہ عبد اللہ بن سلام اور ان کے ساتھی۔ مگر اکثر ان میں سے نافرمان (یعنی کافر) ہیں۔ اے مسلمانو ! یہ یہود زبانی گالی گلوچ اور دھمکی کی خفیف سی اذیت کے سوا تم کو کچھ نقصان نہ پہنچا سکیں گے اور اگر وہ تم سے مقابلہ کریں گے تو تمہیں پیٹھ دکھا کر شکست خوردہ ہو کر بھاگ جائیں گے پھر ان کو تمہارے خلاف مدد بھی نہ پہنچ سکے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

یوم تبیض وجوہ و تسود وجوہ وجوہ میں دونوں جگہ تنوین مضاف الیہ کے عوض میں آئی ہے یعنی جس روز مؤمنوں کے چہرے روشن اور کافروں کے چہرے سیاہ ہوں گے۔ تنوین تکثیر کے لیے بھی ہوسکتی ہے یعنی بہت سے چہرے روشن اور بہت چہرے سیاہ ہوں گے۔ سعید بن جبیر نے حضرت ابن عباس کا قول نقل کیا ہے کہ اہل سنت کے چہرے روشن اور اہل بدعت کے چہرے کالے ہوں گے۔ دیلمی نے مسند الفردوس میں ضعیف سند کے ساتھ حضرت ابن عمر کی روایت سے لکھا ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا : کہ اہل سنت کے چہرے روشن اور اہل بدعت کے چہرے سیاہ ہوں گے۔ فاما الذین اسودت وجوھھم اکفرتم بعد ایمانکم پس جن کے چہرے سیاہ پڑگئے ہوں گے ان سے کہا جائے گا کہ نبی اور کتاب…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 106–107

(106۔ 107) قیامت کا دن ایسا ہوگا کہ جس دن بعض لوگوں کے چہرے سفید ہوں گے اور بعض کے سیاہ تو ان سیاہ چہرے والوں سے فرشتے کہیں گے کہ کیا تم نے ہی ایمان لانے کے بعد کفر کیا تھا اور سفید چہرے والے جنت میں رہیں گے، نہ وہاں موت آئے گی اور نہ وہ اس سے بےدخل کیے جائیں گے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

اَكَفَرْتُمْ بَعْدَ اِيْمَانِكُمْ : اس سے بظاہر تو مرتدین مراد ہیں، مگر درحقیقت یہ تمام کفار کو شامل ہے، کیونکہ جب ثابت ہے کہ روز اول کے وقت سب نے اللہ تعالیٰ کے رب ہونے کا اقرار کیا تھا اور حدیث میں یہ بھی ہے کہ ہر شخص دین فطرت پر پیدا ہوتا ہے، لہٰذا جو بھی کفر اختیار کرے گا وہ ایمان لانے کے بعد ہی کافر ہوگا۔ اس لیے علماء نے لکھا ہے کہ اس آیت میں اصلی کافر، مرتدین، منافقین اور پھر اہل بدعت سبھی آجاتے ہیں، کیونکہ یہ سب ایمان لانے کے بعد کفر کر رہے ہیں۔ (رازی۔ شوکانی) شاہ عبد القادر ؓ لکھتے ہیں : ”معلوم ہوا کہ سیاہ منہ ان کے ہیں جو مسلمانی میں کفر کرتے ہیں، منہ سے کلمۂ اسلام کہتے ہیں اور عقیدہ…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 106–107

آیت نمبر : 106، تا 107۔ اس میں تین مسائل ہیں : مسئلہ نمبر : (1) قولہ تعالیٰ : (آیت) ” یوم تبیض وجوہ وتسود وجوہ “۔ یعنی قیامت کے دن جب وہ اپنی قبروں سے اٹھائے جائیں گے تو مومنین کے چہرے روشن اور سفید ہوں گے اور کافروں کے منہ کالے ہوں گے اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ یہ نامہ اعمال پڑھنے کے وقت ہوگا جب مومن اپنا نامہ عمل پڑھے گا اور اس میں اپنی نیکیاں دیکھے گا تو وہ انتہائی خوش ہوگا اور اس کا چہرہ چمک اٹھے گا اور جب کافر اور منافق اپنانامہ عمل پڑھیں گے اور اس اپنی برائیاں اور گناہ دیکھیں گے تو ان کا چہرہ سیاہ کالا ہوجائے گا، اور یہ بھی کہا جاتا ہے، : بیشک ایسا میزان کے پاس ہوگا کہ جب اس کی نیکیاں…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 105–106

(1) احمد و ترمذی وابن ماجہ و طبرانی وابن المنذر نے ابو غالب (رح) سے روایت کیا ہے کہ ابو امامہ ؓ نے ازارقہ فرقے (جو خارجیوں کا ایک سخت معتصب فرقہ تھا) کے (لوگوں) کے سروں کو دیکھا جو دمشق کی مسجد کی سیڑھیوں پر لٹکائے گئے تھے ابو امامہ ؓ نے فرمایا دوزخ کے کتے (جو) برے ہیں قتل ہونے والے آسمان کے نیچے (اور) بہترین قتل ہونے والا وہ شخص ہے جس کو ان لوگوں نے قتل کیا پھر (یہ آیت ) ” یوم تبیض وجوہ وتسود وجوہ “ پڑھی میں نے عرض کیا اے ابو امامہ ! کیا آپ نے اس کو رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے ؟ تو انہوں نے فرمایا اگر میں نے اس کو نہ سنا ہوتا مگر ایک مرتبہ یا دو مرتبہ یا تین مرتبہ یا چار مرتبہ یہاں تک کہ سات تک…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[يَّوْمَ : جس دن ] [تَبْيَضُّ : سفید ہوں گے ] [ وُجوه : سفید ہوں گے ] [ٌ وَّتَسود : اور سیاہ ہوں گے ] [ وُجوهٌ ۚ: کچھ چہرے ] [ فَاَمَا الَّذِينَ : پس وہ لوگ جو ہیں ] [ اسْوَدَّتْ : سیاہ ہوئے ] [ وُجوھُھُمْ : جن کے چہرے ] [ ۣاَكَفَرْتم : کہاجائے گا ان سے کیا تم نے کفر کیا ] [ بَعْدَ اِيْمَانكُمْ : اپنے ایمان کے بعد ] [ فَذُوْقُوا : اچھا تو پھر تم مزہ چکھو ] [ الْعَذَابَ : عذاب کا ] [ بِمَا : بسبب اس کے جو ] [ كُنْتم تَكْفُرُوْنَ : تم لوگ کفر کیا کرتے تھے ] ذ و ق ذَاقَ (ن) ذَوْقًا : کسی چیز کا مزہ چکھنا۔ { فَذَاقُوْا وَبَالَ اَمْرِھِمْ } (التغابن :5) ” تو ان لوگوں نے چکھا اپنے کام کا وبال۔…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 106–107

افتراق کرنے والے جو اپنے اہواء و افکار کی وجہ سے حدود اسلام سے نکل جائیں ان کے لیے آخرت کا عذاب بتاتے ہوئے ارشاد فرمایا (وَ اُولٰٓءِکَ لَھُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌ یَّوْمَ تَبْیَضُّ وُجُوْہٌ وَّ تَسْوَدُّ وُجُوْہٌ) (اور ان کے لیے بڑا عذاب ہے جس دن بہت سے چہرے سفید ہوں گے اور بہت سے چہرے سیاہ ہوں گے) پھر فرمایا (فَاَمَّا الَّذِیْنَ اسْوَدَّتْ وُجُوْھُھُمْ اَکَفَرْتُمْ بَعْدَ اِیْمَانِکُمْ فَذُوْقُوا الْعَذَابَ بِمَا کُنْتُمْ تَکْفُرُوْنَ ) (سو جن لوگوں کے چہرے سیاہ ہوں گے ان سے کہا جائے گا، کیا تم نے کفر کیا اپنے ایمان کے بعد سو چکھ لو عذاب اس وجہ سے کہ تم کفر کرتے تھے) (وَ اَمَّا الَّذِیْنَ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 102–117

قال تعالی۔ یا ایھا الذین۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تا۔۔۔۔ ترجع الامور۔ آیت۔ ربط) گزشتہ آیات میں اللہ نے باہمی قتال وشقاق کو تکفرون یعنی کفر سے تعبیر فرمایا اب آئندہ آیت میں تقوی اور اعتصام بحبل اللہ یعنی اتفاق اور اتحاد اور اسلامی مواخات کا حکم دیتے ہیں اور اتفاق اور اتحاد کا ایک دستور العمل بتلاتے ہیں وہ یہ کہ اول تقوی اور اسلام پر مداومت اور استقامت کا حکم دیا اور پھر اعتصام بحبل اللہ کا حکم فرمایا کہ سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوط پکڑو پھر یہ ارشاد فرمایا، واذکر نعمتہ اللہ علیکم۔ الخ۔ آیت۔ جس میں حکم دیا کہ اتفاق اور اتحاد کی نعمت کو یاد کرو، اور اس نعمت کو اور اس کی برکات کو یاد کرکے موازنہ کرو کہ پہلے…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

154 یَوْمَ منصوب علی الظرفیۃ ہے اور عَذَابٌ عَظِیْمٌ سے متعلق ہے۔ انہ نصب علی الظرف والتقدیر ولھم عذاب عظیم فی ھذا الیوم الخ (کبیر ص 30 ج 2) یعنی یہ عذاب اس دن میں ہوگا جس میں کچھ چہرے سفید اور نورانی ہوں گے اور کچھ چہرے سیاہ ہوں گے اور وہ قیامت کا دن ہے۔ جس میں مومنین کے چہرے جگمگا رہے ہوں گے اور کافروں کے چہرے سیاہ ہوجائیں گے۔ اور یہ اس لیے ہوگا تاکہ میدان حشر میں ہر شخص مومن اور کافر، سعید اور شقی اور نیک بخت اور بدبخت کو ان علامتوں سے پہچان لے۔ والحکمۃ فی بیاض الوجوہ وسوادھا ان اھل الموقف اذا راوا بیاض وجہ المؤمن عرفوا انہ من اھل السعادۃ واذا راوا سواد وجہ الکافر عرفوا انہ من اھل الشقاوۃ…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 105–109

ربط آیات : گذشتہ دروس میں اہل کتاب کی اطاعت کرنے سے منع فرمایا گیا تھا۔ پھر تقوی اختیار کرنے کا حکم ہوا ، اور اللہ کی رسی یعنی قرآن کریم کو مضبوطی سے پکڑنے کی تلقین کی گئی۔ اس کے بعد فرمایا کہ امت مسلمہ میں سے ایک گروہ ضرور ایسا ہونا چاہیئے جو نیک کاموں کی طرف دعوت دے ، اچھے کاموں کا حکم کرتے رہیں اور برائی سے روکتے رہیں۔ اس طرحجماعت کا نظم بھی قائم رہے گا اور لوگ گمراہی سے بھی بچ جائیں گے۔ اب اہل ایمان سے مزید خطاب ہو رہا ہے۔ کہ یہود و نصاری کی طرح تم بھی آپس میں تفرقہ کا شکار نہ ہوجانا۔ اہل کتاب نے واضح احکام آجانے کے باوجود اپنی نفسانی خواہشات کی تکمیل کے لیے تفرقہ ڈالا۔ ان کے الگ الگ گروہ…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

يَّوْمَ تَبْيَضُّ وُجُوْہٌ وَّتَسْوَدُّ وُجُوْہٌ۝ 0 ۚ فَاَمَّا الَّذِيْنَ اسْوَدَّتْ وُجُوْھُھُمْ۝ 0 ۣ اَكَفَرْتُمْ بَعْدَ اِيْمَانِكُمْ فَذُوْقُوا الْعَذَابَ بِمَا كُنْتُمْ تَكْفُرُوْنَ۝ 106 بيض البَيَاضُ في الألوان : ضدّ السواد، يقال : ابْيَضَّ يَبْيَضُّ ابْيِضَاضاً وبَيَاضاً ، فهو مُبْيَضٌّ وأَبْيَضُ. قال عزّ وجل : يَوْمَ تَبْيَضُّ وُجُوهٌ وَتَسْوَدُّ وُجُوهٌ فَأَمَّا الَّذِينَ اسْوَدَّتْ وُجُوهُهُمْ أَكَفَرْتُمْ بَعْدَ إِيمانِكُمْ فَذُوقُوا الْعَذابَ بِما كُنْتُمْ تَكْفُرُونَ وَأَمَّا الَّذِينَ ابْيَضَّتْ وُجُوهُهُمْ فَفِي رَحْمَتِ اللَّهِ [ آل عمران/ 106- 107] . ( ب ی ض ) البیاض سفیدی ۔…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 106–108

ترکیب : یوم ظرف ہے عظیم کا یالہم کا یا اذکر محذوف کا۔ فاما الذین جواب اما کا محذوف ای فیقال لہم اکفرتم اور أ توبیخ کے لئے ہے یعنی تم کو ایسا نہ کرنا چاہیے تھا۔ تفسیر : اختلاف باہمی اور تفریق حرام ہے : جبکہ اگلی آیت میں باہمی اتفاق کا حکم دیا اور اس اتفاق کو قائم رکھنے کے لئے ایک جماعت ناصحین کا قائم ہونا فرض کیا تو اس جگہ اختلاف سے تاکیداً منع فرمایا جس طرح اس حکم کو اولا اتقوا اللہ کہہ کر محکم کیا تھا اسی طرح بعد میں لہم عذاب الیم اور آخرت میں سیاہ روئی سے ڈرایا اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ادنیٰ ادنیٰ چیزوں کے اجتماع میں خدا نے برکت رکھی ہے۔ دیکھئے جب چند بالوں کو باہم ملا لیتے ہیں تو وہ کمزور…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 105–107

وَلَا تَکُوْنُوْا کَالَّذِیْنَ تَفَرَّقُوْا وَاخْتَلَفُوْا مِنْ م بَعْدِ مَا جَـآئَ ہُمُ الْـبَـیِّـنٰتُ ط وَاُولٰٓئِکَ لَہُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌ۔ لا یَّوْمَ تَبْیَضُّ وُجُوْہٌ وَّتَسْوَدُّ وُجُوْہٌ ج فَاَمَّا الَّذِیْنَ اسْوَدَّتْ وُجُوْہُہُمْ قف اَکَفَرْتُمْ بَعْدَ اِیْمَانِکُمْ فَذُوْقُوا الْعَذَابَ بِمَا کُـنْـتُمْ تَکْفُرُوْنَ ۔ وَاَمَّا الَّذِیْنَ ابْیَضَّتْ وُجُوْہُہُمْ فَفِیْ رَحْمَۃِ اللّٰہِ ط ہُمْ فِیْہَا خٰلِدُوْنَ ۔ اور ان لوگوں کی طرح نہ ہوجاؤ جو پراگندہ ہوگئے اور جنہوں نے اختلاف کیا بعد اس کے کہ ان کے پاس واضح ہدایات آچکی تھیں اور یہی لوگ ہیں جن کے لیے بڑا عذاب ہے۔ جس دن کچھ چہرے…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 106–108

فہم القرآن ربط کلام : اس سے پہلے مجرموں کو سزا سنائی گئی تھی یہاں وضاحت فرمائی ہے کہ مجرموں کے چہرے کالے ہونا اور ان کا جہنم میں داخل ہونا اللہ تعالیٰ کی طرف سے زیادتی نہیں بلکہ یہ تو ان کے اعمال کا نتیجہ اور بدلہ ہوگا۔ یہ اللہ تعالیٰ کے ضابطے اور فیصلے ہیں جو ذات کبریا خود آپ ﷺ کے سامنے پڑھ رہی ہے۔ اس کے منزل من اللہ ہونے میں ذرّہ برابر بھی شک نہیں کیا جاسکتا۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے حق اور سچ ہیں۔ جو فرد اور قوم ان پر عمل پیرا ہوگی وہ صراط مستقیم پر گامزن ہوتے ہوئے نہ صرف دنیا میں ساحل مراد تک پہنچیں گی بلکہ آخرت میں ایک لامتناہی روشن مستقبل ان کا منتظر ہوگا اور جو لوگ ان کا انکار کریں گے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

106: یَّوْمَ تَبْیَضُّ وُجُوْہٌ وَّتَسْوَدُّ وُجُوْہٌ فَاَمَّا الَّذِیْنَ اسْوَدَّتْ وُجُوْھُھُمْ اَکَفَرْتُمْ بَعْدَ اِیْمَانِکُمْ فَذُوْقُوا الْعَذَابَ بِمَا کُنْتُمْ تَکْفُرُوْنَ ۔ یَّوْمَ تَبْیَضُّ وُجُوْہٌ جس روز بعض چہرے سفید ہوجائیں گے۔ یَّوْمَکو اذکروا محذوف کا ظرف ہونے کی وجہ سے منصوب پڑھا جائے گا۔ یا عظیم یا لھم کی وجہ سے اور وجوہٌسے مراد وجوہ المؤمنین ایمان والوں کے چہرے مراد ہیں۔ وَّتَسْوَدُّ وُجُوْہٌ (اور کافروں کے چہرے سیاہ ہونگے) بیاض نور کے باعث ہوگا جبکہ سیاہی ظلمت کی وجہ سے۔ فَاَمَّا الَّذِیْنَ اسْوَدَّتْ وُجُوْھُھُمْ (پھر وہ لوگ جن کے چہرے سیاہ ہوئے) پس ان کو کہا جائے گا۔…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

(تبیض وجوہ وتسود وجوہ کی مختلف تفاسیر) 106۔ (آیت)” تبیض وجوہ وتسود وجوہ “۔ یوم منصوب ظرف ہونے کیوجہ سے، عبارت یوں ہوگی ، فی یوم “ مفعول بہ محذوف ہے۔ ” تبیض وجوہ المؤمنین وتسود وجوہ الکافرین “۔ مؤمنین کے چہرے سفید اور کافروں کے چہرے سیاہ ہوں گے ، بعض نے کہا کہ مؤمن مخلصین کے چہرے سفید اور منافقین کے چہرے سیاہ ہوں گے ، سعید بن جبیر ؓ حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے اس آیت کو یوں پڑھا ہے ” تبیض وجوہ اھل السنۃ وتسود وجوہ اھل البدعۃ “۔ اہل سنت کے چہرے سفید اور اہل بدعت کے چہرے سیاہ ہوں گے ۔ کلبی (رح) ابی صالح سے حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ کے حوالے سے روایت کرتے ہیں…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 104–112

(104 ۔ 109) ۔ اوپر ذکر تھا کہ یہود نے انصار کے دو گروہ کو بہکا کر ان دو گروہ کو آپس میں لڑانے کی شرارت کی تھی مگر اللہ کے رسول کی فہمایش سے یہود کا وہ بہانہ چل نہ سکا۔ ان آیتوں میں ارشاد ہے کہ سب بہکانے والوں کے سر گروہ ابلیس علیہ اللعنہ اور شیاطین الجن والانس کے اغوا سے انجان مسلمانوں کو بچانے کے لئے مسلمانوں میں ہمیشہ کے تھے ایک جماعت ایسی ہونی چاہیے کہ دین کی باتوں کی لوگوں کو نصیحت اور فہمایش کیا کرے۔ اس سے زیادہ تفسیر اس باب میں آئندہ کی آیت کی تفسیر میں آتی ہے۔ 110۔ 112۔ خازن وغیرہ میں جو حدیثیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ مالک بن صیف اور وہب بن یہود یہودیوں نے ایک روز عبد اللہ بن مسعود ؓ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 105–107

آیت 105 مطلب یہ ہے کہ اے مومنو ! جن پر اللہ نے ایمان لانے اور اپنی رسی کو مضبوطی سے پکڑنے کی توفیق دے کر احسان فرمایا ہے، تم میں سے (امہ) ایک جماعت ایسی ہونی چاہیے (یدعون الی الخیر) ” جو بھلائی کی طرف بلائے۔ “ (خیر) ” بھلائی “ میں ہر وہ چیز شامل ہے جو اللہ سے قریب کرنے والی اور اس کی ناراضی سے دور کرنے والی ہو۔ (ویامرون بالمعروف) ” اور وہ نیک کاموں کا حکم کرے “ (معروف) اسے کہتے ہیں جس کا اچھا ہونا عقل اور شریعت کی روشنی میں معلوم ہوچکا ہو۔ (وینھون عن المنکر) ” اور برے کاموں سے روکے “ (منکر) اسے کہتے ہیں جس کا برا ہونا عقل اور شریعت کے ذریعے سے معلوم ہوچکا ہو۔ اس میں مومنوں کو یہ ہدایت کی گئی…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 105–110

قول باری ہے (کنتم خیرامۃ اخرجت للناس تامرون بالمعروف وتنھون عن المنکر) قول باری (کنتم) کے معنی میں کئی وجوہ بیان کیے گئے ہیں۔ حسن سے مروی ہے کہ اس سے مراد کتب سابقہ جن میں مختلف امتوں کے متعلق بشارتیں آئی ہیں اور ان کے بارے میں خبریں دی گئی ہیں۔ ان میں ہم سب سے اخری امت ہیں لیکن اللہ کے نزدیک سب سے بڑھ کرمرتبے اور عزت والے ہیں۔ ہمیں عبداللہ بن محمد بن اسحق نے روایت بیان کی انہیں حسن بن ابی ربیع نے انہیں عبدالرزاق نے انہیں معمرنے بہزبن حکیم سے انہوں نے اپنے والد حکیم سے انہوں نے اپنے والد سے کہ انہوں نے حضور ﷺ کو آیت (کنتم خیرامۃ اخرجت للناس ، کے سلسلے میں فرماتے ہوئے سنا تھا کہ (انتم تتمون…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 106–107

221 قیامت کے روز اہل ایمان کا نور ان کے چہروں پر : سو ان کے ایمان و یقین کی جھلک ان کے چہروں سے واضح وعیاں ہوگی جس سے ان کے چہرے روشن اور منور ہوں گے : کہ ایمان و یقین کا باطنی نور اس روز ان کے چہروں پر عیاں و ہویدا ہوجائے گا۔ اور وہ اپنی اس حقیقی اور ابدی کامیابی سے شاداں وفرحاں ہوں گے، جیسا کہ مختلف مقامات پر اس کو مزید وضاحت کے ساتھ بیان فرمایا گیا ہے { اَللّٰہُمَّ اجَْعَلْنَا مِنْہُمْ بِمَحْض مَنِّکَ وَکَرَمِکَ یَااَرْحَمَ الرَّاحِمِیْنَ ۔ سو کچھ چہرے اس روز روشن اور فروزاں ہوں گے وہ خنداں اور شاداں ہوں گے۔ سو جو لوگ دنیا میں ایمان و یقین کی دولت کو اپناتے اور اعتصام باللہ کے شرف سے مشرف…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 104–109

نیکی اور بدی کا انجام تشریح : ان آیات میں اللہ تعالیٰ پھر لوگوں کو نیکی کا حکم دیتے ہیں اور برائی سے منع کرتے ہوئے یاد دلاتے ہیں کہ حساب کا دن ضرور یاد رکھو اور جان لو کہ وہ دن ضرور آئے گا اور یہ بھی جان لو کہ بدلہ ملنے میں کسی شخص پر ظلم نہ کیا جائے گا۔ کیونکہ اللہ تو اپنے بندوں پر ہر وقت رحم و کرم کرنا چاہتا ہے اسی لیے ہر وقت خبردار کرتا ہے کہ دیکھو بھول کر کہیں غلط راستے پر نہ چل پڑنا۔ کیونکہ غلط راہ ہر صورت میں انسان کے لیے نقصان دہ ہے دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی، پھر نیکی میں یہ بھی شامل ہے کہ تم چاہے ایک فرد ہو یا ایک جماعت کی شکل میں ہو، ہر وقت اس مہم کو سامنے رکھو کہ جہاں بھی برائی…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 102–109

آیات 102- 109 اسرارو معارف یایھا الذین امنوا اتقو اللہ……………لعلکم تھتدون۔ جب تمہیں اس قدر اسباب ہدایت حاصل ہیں تو اے ایمان والو ! اللہ سے ڈرتے رہو جیسا اس سے ڈرنے کا حق ہے تقویٰ دراصل خوف محض کا نام نہیں بلکہ وہ تعلق جو بطفیل نبی کریم ﷺ بندے کو اللہ سے حاصل ہو اس کے ٹوٹ جانے کے ڈر کا نام ہے تعلیمات نبوی ﷺ کے ساتھ وہ کیفیات بھی جو وجود نبوی ﷺ کی برکات میں سے ہیں اور جن کے ورود سے دل بدل گئے ، مزاج بدلے ، خواہشات اور طلب بدل گئی۔ حتیٰ کہ دین پر عمل کرنا مزاج بن گیا اور گناہ طبعی طور پر سخت ناپسندیدہ ہوگیا۔ اب ان نعمتوں کو کبھی ضائع نہ ہونے دو ۔ بیشتر مفسرین کرام نے حضور اکرم ﷺ کا یہ ارشاد نقل…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 3 ایمان لائے بعد کافرہو گئے تھے۔ اس بظا ہر تو مریت دین مراد ہیں مگر دورحقیقت یہ تمام کفار کو شامل ہے کیونکہ جب ثابت ہے کہ ذر اول اول کے وقت سب نے اللہ تعالیٰ کی ربوبیت کا اقرار کیا تھا اور حدیث میں یہ بی ہے کہ ہر شخص دین فطرف پر پیدا ہوتا ہے لہذا جو بھی کفر اختیار کریگا وہ ایمان لا نے کے بعد ہی کافر ہوا اس لیے علما نے لکھا ہے کہ اس آیت میں کافر اصلی مرتدین منا فیقین اور پھر اہل بدعت سبھی آجاتے ہیں کیونکہ یہ سب ایما لانے کے بعد کفر کر رہے ہیں۔ (الکبیر) ۔ شوکانی) حضرت شاہ صاحب (رح) لکھتے ہیں : معلوم ہوا کہ سیاہ منہ ان کے ہیں جو مسلمانی میں کفر کرتے ہیں منہ سے کلمہ اسلام کہتے ہیں اور عقیدہ…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

Explained with ayahs 104–110

(3:104) ولتکن منکم۔ لتکن میں لام امر ہے صیغہ واحد مؤنث غائب۔ امر غائب و متکلم معروف بناوٹ کے لحاظ سے کوئی مستقل فعل نہیں بلکہ ایک دوسرا نام مضارع بلام امر کا ہے لام امر و مضارع غائب و متکلم معروف کے آٹھوں صیغوں سے خاص ہے جو صیغہ ہائے واحد کو جزم دیتا ہے۔ جیسے لیکن (واحد مذکر غائب) لتکن (واحد مؤنث غائب) اور لاکن واحد متکلم۔ نون اعرابی کے سقوط اور نون ضمیری کی قائمی میں مثل لم کے عمل کرتا ہے۔ ولتکن۔ چاہیے کہ ہو ایک (جماعت) تم میں سے جو ۔۔ منکم۔ میں من تبیین کے لئے ہے تبعیض کے لئے نہیں۔ یعنی امر بالمعروف و نہی عن المنکر کا کام تمام امت پر واجب ہے کسی مخصوص جماعت کی ذمہ داری نہیں۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 102–109

لغات القرآن آیت نمبر 102 تا 109 حق تقٰته (اس سے ڈرنے کا حق ادا کرکے) اعتصموا (تم مضبوط تھام لو) بحبل اللہ (اللہ کی رسی ، یعنی اللہ کے دین کو (مضبوط تھام لو) جمیع (سب کے سب اکٹھے ہوکر) لاتفرقوا (تم جداجدا نہ ہو) اعداء (آپس میں دشمن ) الف (اس نے محبت ڈال دی) اصبحتم (تم گئے) اخوان (بھائی بھائی) شفاء (کنارہ) حفرۃ (گڑھا) انقذ (اس نے بچالیا) ولتکن (ہونی چاہیے) امة (ایک جماعت) یدعون (بلاتے ہیں، دعوت دیتے ہیں) بالمعروف (نیکی کے ساتھ) ینھون (وہ روکتے ہیں) المنکر (برائی غلط راستہ) تبیض (سفید، چمک دار) وجوہ (چہرے (وجه کی جمع ہے) تسود (سیاہ) اکفرتم (کیا تم نے کفر کیا ؟ ) دوقوا (تم چکھو) ابیضت (سفید، چمک…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 104–109

اشاعت اسلام کا ذکر ان آیتوں میں ارشاد ہے کہ سب بہکانے والوں کا سرگروہ ابلیس ہے، انجان مسلمانوں کو بچانے کے لئے مسلمانوں میں ہمیشہ ایک ایسی جماعت ہونی چاہئے کہ دین کی باتوں کی لوگوں کو نصیحت اور فہمائش کیا کرے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 103–111

[39] اللہ کی رسی سے مراد قرآن مجید ہے۔ رسول اکرم ﷺ نے قرآن مجید کے بارے میں ارشاد فرمایا ہے '' ھو حبل اللہ المتین '' (یہ اللہ کی مضبوط رسی ہے) ۔ قرآن کو اللہ کی رسی اس لئے فرمایا کہ یہی چیز ہے جو بندوں کو خدا سے جوڑتی ہے۔ جس نے اس کو تھام لیا گویا اس نے خدا کا سہارا تھام لیا۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 105–110

حدود تبلیغ : (ف 1) اس آیت میں تمام مسلمانوں کو فریضہ تبلیغ کی ادائیگی کے لئے آمادہ کیا ہے مگر خود تبلیغ کی حدود کیا ہیں ؟ یہ ایک سوال ہے ۔ قرآن حکیم نے تبلیغ و اشاعت کو دو لفظوں سے تعبیر کیا ہے ، امر بالمعروف اور نہی عن المنکر ۔ یعنی نیکی ‘ بھلائی اور سچائی کی تلقین اور برائی سے اظہار نفرت وتحقیر ۔ ظاہر ہے یہ دو لفظ انتہا درجہ کی وسعت اپنے اندر پنہاں رکھتے ہی ، معروف کا اطلاق نیک اقدام پر ہو سکتا ہے اور منکر کا ہر برے اقدام پر ، چونکہ ان دو لفظوں میں فرد وجماعت کی تمام نیکیاں اور برائیاں آجاتی ہیں ، اس لئے جواب بالکل آسان اور واضح ہے کہ تبلیغ کی حدود فرد وجماعت کی تمام وسعتوں پر حاوی و محیط…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

Explained with ayahs 104–106

ف 3 اور تم میں مبلغین اور داعین الی الحق کی ایک ایسی جماعت ضرور ہونی چاہئے جو دوسرے لوگوں کو خیر اور بھلائی کی طرف دعوت دیا کریں اور اس جماعت کے لوگ دوسروں کو بھلے کام کرنے کا حکم دیا کریں اور برے کاموں سے ان کو منع کیا کریں اور ایسے ہی لوگ جو تبلیغ کا فریضہ ادا کریں گے اپنے مقصد میں کامیاب ہونے والے ہیں۔ (تیسیر) خیر سے ہر قسم کی صلاح مراد ہے خواہ وہ عقائد کی درستی ہو یا اعمال و اخلاق کی ہو۔ یا دین و دنیا دونوں کی اصلاح ہو۔ ابن مردویہ نے ابو جعفر محمد بن باقر سے مرفوعاً روایت کیا ہے کہ خیر سے مراد کتاب اللہ کی اور میری سنت کی پیروی ہے۔ حضرت عثمان غنی ؓ جب اس آیت کی تلاوت کرتے تھے تو فرماتے…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 106–110

ف 1۔ یہ خطاب تمام امت محمدیہ کو عام ہے پھر ان میں سے صحابہ اول اور اشرف مخاطبین ہیں۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

وہ دن کیسا ہوگا جس دن کچھ چہرے سفید ہوں گے اور کچھ سیاہ نظر آئیں گے ؟ : 205: اس آیت میں دنوں جگہ ” وجوہ “ کی تنوین ہے اور تنوین مضاف الیہ کے عوض میں بھی آتی ہے اور تنوین تکثیر کے لیے بھی۔ کوئی ایک مرادلی جائے یا دونوں مطلب ہر لحاظ سے واضح اور صاف ہے۔ اگر مضاف الیہ کی تنوین ہو تو ترجمہ ہوگا ” نیکو کاروں کے چرے سفید ہوں گے اور بدکاروں کے چہرے سیاہ ہوں گے “ اور اگر تکثیر کے لیے ہوتوترجمہ ہوگا ” اس روز بہت سے چہرے سفید ہوں گے اور بہت سے سیاہ ہوں گے یا کتنے ہی چہرے سفید ہوں گے اور کتنے ہی چہرے سیاہ ہوں گے۔ “ ابن عباس ؓ کی روایت میں آتا ہے کہ اہل سنت کے چہرے گوے ہوں گے اواہل بدعت کے چہرے کالے ہوں…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Commentary The meaning of 'bright' and 'dark' faces: This expression appears in the Holy Qur'an at several places, for instance: وَيَوْمَ الْقِيَامَةِ تَرَ‌ى الَّذِينَ كَذَبُوا عَلَى اللَّـهِ وُجُوهُهُم مُّسْوَدَّةٌ On the day of Doom, you shall see those who lied against Allah (with) their faces blackened. (39:60) وُجُوهٌ يَوْمَئِذٍ مُّسْفِرَ‌ةٌ ﴿38﴾ ضَاحِكَةٌ مُّسْتَبْشِرَ‌ةٌ ﴿39﴾ وَوُجُوهٌ يَوْمَئِذٍ عَلَيْهَا غَبَرَ‌ةٌ ﴿40﴾ تَرْ‌هَقُهَا قَتَرَ‌ةٌ ﴿41﴾ Some faces on that day shall shine, laughing, joyous. Some faces on that day shall be dusty, overspread with darkness. (80:38-41) وُجُوهٌ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 106–108

87. Since God does not want to subject people to any wrong He illuminates the straight path of their salvation, and forewarns them of the matters for which they will be asked to render an account in the Hereafter. It is clear that if people abandon the path of rectitude they wrong no one but themselves.

Read the full tafseer →