Aal-i-Imraan 3:107

Aal-i-Imraan · from ayah 107

3:107

وَاَمَّا الَّذِیْنَ ابْیَضَّتْ وُجُوْهُهُمْ فَفِیْ رَحْمَةِ اللّٰهِ ؕ— هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ ۟وَاَمَّا الَّذِيۡنَ ابۡيَـضَّتۡ وُجُوۡهُهُمۡ فَفِىۡ رَحۡمَةِ اللّٰهِ ؕ هُمۡ فِيۡهَا خٰلِدُوۡنَ

اور جن لوگوں کے منہ سفید ہوں گے وہ خدا کی رحمت (کے باغوں) میں ہوں گے اور ان میں ہمیشہ رہیں گے

— Fateh Muhammad Jalandhari

But as for those whose faces will turn white, [they will be] within the mercy of Allah. They will abide therein eternally.

— Saheeh International

Juz 4 · Ruku 11 of surah · Ruku 2 of juz

Read the whole surah · Surah Aal-i-Imraan

All translations of 3:107

رہے وہ لوگ جن کے چہرے روشن ہوں گے تو اُن کو اللہ کے دامن رحمت میں جگہ ملے گی اور ہمیشہ وہ اسی حالت میں رہیں گے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور جن لوگوں کے منہ سفید ہوں گے وہ خدا کی رحمت (کے باغوں) میں ہوں گے اور ان میں ہمیشہ رہیں گے

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور سفید چہرے والے اللہ تعالیٰ کی رحمت میں داخل ہوں گے اور اس میں ہمیشہ رہیں گے

— مولانا محمد جوناگڑہی

دوسری طرف جن لوگوں کے چہرے چمکتے ہوں گے وہ اللہ کی رحمت میں جگہ پائیں گے، وہ اسی میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور وہ جن کے منہ اونجالے ہوئے وہ اللہ کی رحمت میں ہیں وہ ہمیشہ اس میں رہیں گے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور جن لوگوں کے چہرے سفید (روشن) ہوں گے تو وہ اللہ کی رحمت میں ہوں گے اور وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور رہے وہ لوگ جن کے چہرے سفید ہوں گے، سو اللہ کی رحمت میں ہوں گے، وہ اس میں ہمیشہ رہنے والے ہیں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

رہے وہ لوگ جن کے چہرے روشن ہوں گے تو یہ اللہ کے سایہ رحمت میں ہوں گے جہاں وہ ہمیشہ رہیں گے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

رہے وہ جن کے چہرے روشن ہوں گے تو وہ اللہ کی رحمت کے سایہ میں ہوں گے وہ اسی میں ہمیشہ رہیں گے۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور جن (خوش نصیبوں) کے چہرے سفید (اور روشن) ہوں گے، وہ اللہ کی رحمت میں ہوں گے، جس میں ان کو ہمیشہ رہنا نصیب ہوگا

— مولانا اسحاق مدنی

اور جن کے چہرے سفید ہوں گے وہ اللہ کی رحمت میں ہوں گے۔ اور اسی میں ہمیشہ رہیں گے

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور جن کے چہرے روشن اور تابناک ہوں گے تو وہ اللہ کی رحمت میں ہوں گے وہ اسی میں ہمیشہ ہمیش رہیں گے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

رہے وہ لوگ جن کے چہرے روشن ہوں گے تو ان کو اللہ کے دامن رحمت میں جگہ ملے گی اور ہمیشہ وہ اسی حالت میں رہیں گے

— محترمہ رفعت اعجاز

And those whose faces have turned bright, they will be in the mercy of Allah, and therein they shall abide.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

As for those whose faces turn bright, they will rest in Allah‘s mercy. They will live there forever.

— Muhammad Taqi Usmani

As for those whose faces turn bright, they will rest in Allah‘s mercy. They will live there forever.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And for those whose faces will become white, they will be in Allah's mercy (Paradise), therein they shall dwell forever.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And as for those whose faces have been whitened, in the mercy of Allah they dwell for ever.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

But as for those whose faces will turn white, [they will be] within the mercy of Allah. They will abide therein eternally.

— Saheeh International

The people whose faces have become white will enjoy the mercy of God with which they will live forever.

— Muhammad Sarwar

And as to those whose faces turn white, they shall be in Allah's mercy; in it they shall-abide.

— Muhammad Habib Shakir

And as for those whose faces shall have become whitened-- they shall be in Allah's mercy; therein they shall be abiders.

— Abdul Majid Daryabadi

But those whose faces will be (lit with) white,- they will be in (the light of) Allah's mercy: therein to dwell (for ever).

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 3:107

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 104–109

یوم آخرت منافق اور مومن کی پہچان حضرت ضحاک فرماتے ہیں اس جماعت سے مراد خاص صحابہ اور خاص راویان حدیث ہیں یعنی مجاہد اور علماء امام ابو جعفر باقر ؒ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اس آیت کی تلاوت کی پھر فرمایا صبر سے مراد قرآن و حدیث کی اتباع ہے، یاد رہے کہ ہر ہر متنفس پر تبلیغ حق فرض ہے لیکن تاہم ایک جماعت تو خاص اسی کام میں مشغول رہنی چاہئے، رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں تم میں سے جو کوئی کسی برائی کو دیکھے اسے ہاتھ سے دفع کر دے اگر اس کی طاقت نہ ہو تو زبان سے روکے اگر یہ بھی نہ کرسکتا ہو تو اپنے دل سے نفرت کرے یہ ضعیف ایمان ہے، ایک اور روایت میں اس کے بعد یہ بھی ہے کہ اس کے بعد رائی کے دانے کے برابر…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 106–108

سورة اٰلِ عِمْرٰن 87 یعنی چونکہ اللہ دنیا والوں پر ظلم نہیں کرنا چاہتا اس لیے وہ ان کو سیدھا راستہ بھی بتارہا ہے اور اس بات سے بھی انہیں قبل از وقت آگاہ کیے دیتا ہے کہ آخر کار وہ کن امور پر ان سے باز پرس کرنے والا ہے۔ اس کے بعد بھی جو لوگ کج روی اختیار کریں اور اپنے غلط طرز عمل سے باز نہ آئیں وہ اپنے اوپر آپ ظلم کریں گے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 107–109

تیسرا فائدہ یہ کہ اللہ تعالیٰ نے " ففی رحمۃ اللہ کے بعد ھم فیھا خلدون " فرماکر بتادیا کہ مومنین اللہ کی جس رحمت میں ہوں گے وہ ان کے لئے عارضی نہیں ہوگی بلکہ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ہوگی ان سے یہ نعمت کبھی سلب یا کم نہ کی جائے گی، اس کے بالمقابل اہل سواد کے لئے یہ تصریح نہیں فرمائی کہ وہ اس حال میں ہمیشہ رہیں گے۔ آدمی سزاد اپنے ہی گناہوں کی پاتا ہے " فذوقوا العذاب بما کنتم تکفرون " میں اشارہ فرمادیا کہ آج کا عذاب ہماری طرف سے نہیں بلکہ تمہاری اپنی کمائی سے ہے جو دنیا میں کرتے رہے ہو، کیونکہ در حقیقت جنت و دوزخ کی نعمتیں اور مصائب درحقیقت ہمارے اعمال ہی کی بدلی ہوئی صورتیں ہیں، اسی بات پر متنبہ کرنے…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 106–109

تفسیر آیت 160 تا 109: مسلمانوں کو چند تنبیہات : نظمِ کلام کی روشنی میں ان آیات پر غور کیجیے تو مندرجہ ذیل حقائق سامنے آئیں گے۔ اول یہ کہ اعتصام بحبل اللہ سے محروم ہوجانے کے بعد اہل کتاب اختلاف و انتشار میں مبتلا ہوئے اور یہ انتشار و اختلاف در حقیقت ایمان کے بعد کفر کی طرف پلٹ جانے کے ہم معنی ہے۔ دوم یہ کہ جن لوگوں کو اللہ تعالیٰ یہ سرفرازی و سرخروئی بخشتا ہے کہ ان کے ہاتھ میں خود اپنی رسی پکڑاتا ہے اگر وہ اپنی شامت اعمال سے اس رسی کو چھوڑ کر دوسرے پھدنے اپنی گردنوں میں ڈال لیتے ہیں تو قیامت کے دن ان کو اسی درجے کی روسیاہی بھی حاصل ہوگی جس درجے کی ان کو سرخ روئی بخشی گئی تھی۔ چہرے روشن ان کے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 107–110

110۔ 1 اس آیت میں امت مسلمہ کو ' خیر امت ' قرار دیا گیا ہے اور اس کی علت بھی بیان کردی گئی ہے جو امر بالمعروف نہی عن المنکر اور ایمان باللہ ہے۔ گویا یہ امت اگر ان امتیازی خصوصیات سے متصف رہے گی تو خیر امت ہے بصورت دیگر اس امتیاز سے محروم قرار پاسکتی ہے۔ اس کے بعد اہل کتاب کی مذمت سے بھی اسی نکتے کی وضاحت مقصود و معلوم ہوتی ہے کہ جو امر بالمعروف و نہی المنکر نہیں کرے گا، وہ بھی اہل کتاب کے مشابہ قرار پائے گا۔ ان کی صفت بیان کی گئی ہے۔ وہ ایک دوسرے کو برائی سے نہیں روکتے اور یہاں اسی آیت میں ان کی اکثریت کو فاسق کہا گیا ہے۔ امر بالمعروف یہ فرض عین ہے یا فرض کفایہ ؟ اکثر علماء کے خیال میں یہ فرض…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 107–113

37: اس سے مراد وہ اہل کتاب ہیں جو آنحضرت ﷺ پر ایمان لے آئے تھے، مثلاً یہودیوں میں سے حضرت عبداللہ بن سلام ؓ

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 105–107

یہاں سیاق کلام میں ‘ قرآن اپنے مناظر میں سے ایک منظر کو پیش کرتا ہے ‘ جو زندگی متحرک مناظر سے بھرپور ہے ، ہم ایک ہولناک منظر کے سامنے ہیں ‘ یہ اس قدر خوفناک ہے کہ جس کی نقشہ کشی بذریعہ الفاظ ممکن نہیں ہے ۔ نہ اس کے خدوخال الفاظ میں بیان ہوسکتے ہیں ۔ ہمارے سامنے دوقسم کے انسان کھڑے ہیں ‘ یہ زندہ انسان ہیں ‘ ان کے چہرے ہیں اور خدوخال ہیں ۔ کچھ لوگ ہیں جن کے چہرے نورانی ہیں ‘ خوشی ان سے ٹپک رہی ہے ‘ اور ہشاش وبشاش ہیں اور خوشی ومسرت سے چہرے سرخ وسفید ہوگئے ہیں ۔ ان کے مقابلے میں بعض دوسرے چہرے ہیں جو رنج والم کی وجہ سے بجھے بجھے ہیں ‘ ہوائیاں اڑی ہوئی ہیں ‘ تھکان کی وجہ سے سیاہ ہوگئے ہیں ‘ لیکن…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

5 یعنی جنت میں۔ کیونکہ جنت محض عمل سے نہیں ملتی۔ عمل کے بعد خدا کی رحمت سے ملتی ہے۔ اور وہی جگہ ہے جہاں اللہ تعالیٰ نے ہر قسم کی رحمت کے سامان کئے ہیں۔ ع بہشت آنجا کہ آزارے نہ باشد

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 106–107

آیت 106 یَّوْمَ تَبْیَضُّ وُجُوْہٌ وَّتَسْوَدُّ وُجُوْہٌ ج فَاَمَّا الَّذِیْنَ اسْوَدَّتْ وُجُوْہُہُمْقف اَکَفَرْتُمْ بَعْدَ اِیْمَانِکُمْ ہدایت کے آنے کے بعد تم لوگ تفرقے میں پڑگئے تھے اور حبل اللہ کو چھوڑ دیا تھا۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 106–107

97 پچھلی آیت میں فرقہ حقہ، اور گمراہ فرقوں کا ذکر چل رہا تھا۔ اس آیت میں ایمان لانے کے بعد کفر اختیار کرنے کا یہ مطلب نہیں کہ وہ یہودی یا عیسائی یا ہندو یا سکھ وغیرہ ہوگئے تھے۔ بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ اپنے دین میں بہت سی بےاصل اور باطل باتیں شامل کرکے یا بعض ضروریات دین کا انکار کرکے یا ملحدانہ عقائد اختیار کرکے اصل دین سے نکل گئے تھے، اور یہ کفر دون کفر ہے اور ان سب باتوں پر کفر کے لفظ کا اطلاق ہوتا ہے۔ گویا قیامت کے دن روشن چہرے تو صرف ان لوگوں کے ہوں گے جو دین حقہ پر قائم و ثابت قدم رہے۔ اور یہی لوگ اللہ کے سایہ ئرحمت میں ہوں گے اور جن لوگوں نے گمراہ فرقوں میں شامل ہو کر کفر کی روش اختیار…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

223 ۔ اور اسی محل رضا ومحل رحمت کا نام جنت ہے، جنت کی ایک ایک نعمت کو قرآن مجید نے محل ترغیب میں ذکر کیا ہے۔ وہ رضائے الہی سے الگ کوئی چیز نہیں، جیسا کہ جاہل صوفیہ اور گستاح شاعروں کے کلام سے مترشح ہوتا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 106–110

آیت نمبر 110 تا 120 ترجمہ : اے امت محمد ﷺ تم اللہ کے علم میں بہترین جماعت ہو جن کو لوگوں کے لیے نکالا گیا تم بھلائی کا حکم دیتے ہو اور برائی سے روکتے ہو اور اللہ پر ایمان رکھتے ہو اور اگر اہل کتاب بھی اللہ پر ایمان لے آتے تو ایمان لانا ان کے حق میں خوب ہوتا ان میں سے کچھ تو مومن ہیں جیسا کہ عبد اللہ بن سلام اور ان کے ساتھی۔ مگر اکثر ان میں سے نافرمان (یعنی کافر) ہیں۔ اے مسلمانو ! یہ یہود زبانی گالی گلوچ اور دھمکی کی خفیف سی اذیت کے سوا تم کو کچھ نقصان نہ پہنچا سکیں گے اور اگر وہ تم سے مقابلہ کریں گے تو تمہیں پیٹھ دکھا کر شکست خوردہ ہو کر بھاگ جائیں گے پھر ان کو تمہارے خلاف مدد بھی نہ پہنچ سکے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

و اما الزین ابیضت وجوھم اور جن لوگوں کے چہرے گورے ہوں گے یعنی اہل سنت۔ ففی رحمۃ اللہ پس وہ اللہ کی رحمت یعنی جنت اور لازوال ثواب میں ہوں گے۔ جنت کی تعبیر بلفظ رحمت کرنے سے اس امر پر تنبیہ کی گئی ہے کہ مؤمن کی چاہے پوری عمر اللہ کی اطاعت میں صرف ہوئی ہو مگر جنت میں اس کا داخلہ اللہ کی رحمت اور فضل کے بغیر ممکن نہیں۔ حضرت عائشہ کی روایت ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا : راستی اختیار کرو اور درمیانی رفتار سے چلو اور خوش رہو کیونکہ جنت کے اندر کسی کو اس کے اعمال نہیں لے جائیں گے صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ کیا آپ کو بھی (آپ کے اعمال جنت میں نہیں لے جائیں گے ؟ ) فرمایا : نہ مجھ کو ‘ ہاں اللہ اپنی…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 106–107

(106۔ 107) قیامت کا دن ایسا ہوگا کہ جس دن بعض لوگوں کے چہرے سفید ہوں گے اور بعض کے سیاہ تو ان سیاہ چہرے والوں سے فرشتے کہیں گے کہ کیا تم نے ہی ایمان لانے کے بعد کفر کیا تھا اور سفید چہرے والے جنت میں رہیں گے، نہ وہاں موت آئے گی اور نہ وہ اس سے بےدخل کیے جائیں گے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَاَمَّا الَّذِيْنَ ابْيَضَّتْ وُجُوْھُھُم : چہروں کی یہ سیاہی اور سفیدی قیامت کے دن ہوگی۔ جو لوگ ایمان پر قائم رہے، پھر بدعات اور گروہ بندی سے بچ کر اصل کتاب و سنت (مَا أَنَا عَلَیْہِ وَ أَصْحَابِیْ) پر قائم رہے، ان کے چہرے سفید ہوں گے۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 106–107

آیت نمبر : 106، تا 107۔ اس میں تین مسائل ہیں : مسئلہ نمبر : (1) قولہ تعالیٰ : (آیت) ” یوم تبیض وجوہ وتسود وجوہ “۔ یعنی قیامت کے دن جب وہ اپنی قبروں سے اٹھائے جائیں گے تو مومنین کے چہرے روشن اور سفید ہوں گے اور کافروں کے منہ کالے ہوں گے اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ یہ نامہ اعمال پڑھنے کے وقت ہوگا جب مومن اپنا نامہ عمل پڑھے گا اور اس میں اپنی نیکیاں دیکھے گا تو وہ انتہائی خوش ہوگا اور اس کا چہرہ چمک اٹھے گا اور جب کافر اور منافق اپنانامہ عمل پڑھیں گے اور اس اپنی برائیاں اور گناہ دیکھیں گے تو ان کا چہرہ سیاہ کالا ہوجائے گا، اور یہ بھی کہا جاتا ہے، : بیشک ایسا میزان کے پاس ہوگا کہ جب اس کی نیکیاں…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 107–110

(1) عبد الرزاق وابن ابی شیبہ وعبد بن حمید والفریابی احمد نسائی ابن جریر ابن ابی حاتم ابن المنذر طبرانی نے اس کو صحیح کہا حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” کنتم خیر امۃ اخرجت للناس “ سے وہ صحابہ مراد ہیں جنہوں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کی۔ امت محمدیہ ﷺ خیر امت ہیں (2) ابن جریر وابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا ہے کہ عمر بن خطاب ؓ نے فرمایا کہ اگر اللہ تعالیٰ چاہتے تو لفظ آیت ” انتم “ فرماتے تو ہم سب (اس میں شامل) ہوجاتے لیکن اللہ تعالیٰ نے فرمایا ” کنتم “ یہ صرف محمد ﷺ کے اصحاب کے لیے خاص ہیں اور جس نے ان جیسے اعمال کیے وہ بھی لفظ آیت ”…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[وَاَمَّا الَّذِیْنَ : اور وہ لوگ جو ہیں ] [ابْـیَضَّتْ : سفید ہوئے ] [وُجُوہُہُمْ : جن کے چہرے ] [فَفِیْ رَحْمَۃِ اللّٰہِ : تو (وہ لوگ) اللہ کی رحمت میں ہوں گے ] [ہُمْ : وہ لوگ ] [فِیْہَا : اس میں ] [خٰلِدُوْنَ : ہمیشہ رہنے والے ہیں ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 106–107

افتراق کرنے والے جو اپنے اہواء و افکار کی وجہ سے حدود اسلام سے نکل جائیں ان کے لیے آخرت کا عذاب بتاتے ہوئے ارشاد فرمایا (وَ اُولٰٓءِکَ لَھُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌ یَّوْمَ تَبْیَضُّ وُجُوْہٌ وَّ تَسْوَدُّ وُجُوْہٌ) (اور ان کے لیے بڑا عذاب ہے جس دن بہت سے چہرے سفید ہوں گے اور بہت سے چہرے سیاہ ہوں گے) پھر فرمایا (فَاَمَّا الَّذِیْنَ اسْوَدَّتْ وُجُوْھُھُمْ اَکَفَرْتُمْ بَعْدَ اِیْمَانِکُمْ فَذُوْقُوا الْعَذَابَ بِمَا کُنْتُمْ تَکْفُرُوْنَ ) (سو جن لوگوں کے چہرے سیاہ ہوں گے ان سے کہا جائے گا، کیا تم نے کفر کیا اپنے ایمان کے بعد سو چکھ لو عذاب اس وجہ سے کہ تم کفر کرتے تھے) (وَ اَمَّا الَّذِیْنَ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 102–117

قال تعالی۔ یا ایھا الذین۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تا۔۔۔۔ ترجع الامور۔ آیت۔ ربط) گزشتہ آیات میں اللہ نے باہمی قتال وشقاق کو تکفرون یعنی کفر سے تعبیر فرمایا اب آئندہ آیت میں تقوی اور اعتصام بحبل اللہ یعنی اتفاق اور اتحاد اور اسلامی مواخات کا حکم دیتے ہیں اور اتفاق اور اتحاد کا ایک دستور العمل بتلاتے ہیں وہ یہ کہ اول تقوی اور اسلام پر مداومت اور استقامت کا حکم دیا اور پھر اعتصام بحبل اللہ کا حکم فرمایا کہ سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوط پکڑو پھر یہ ارشاد فرمایا، واذکر نعمتہ اللہ علیکم۔ الخ۔ آیت۔ جس میں حکم دیا کہ اتفاق اور اتحاد کی نعمت کو یاد کرو، اور اس نعمت کو اور اس کی برکات کو یاد کرکے موازنہ کرو کہ پہلے…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

157 یہ مومنوں کے لیے خوشخبری ہے اور رَحْمَةُ اللہِ سے مراد جنت ہے۔ جنت کو لفظ رحمت سے تعبیر فرمانے میں اس طرف اشارہ ہے کہ مومن اگرچہ تمام عمر عبادت الٰہی میں بسر کر ڈالے اور ایک لمحہ کے لیے بھی اللہ کی نافرمانی نہ کرے تو آخرت میں جو انعام اسے ملے گا۔ وہ محض اس کی رحمت اور اس کے فضل سے ملے گا۔ وانما عبر عن ذالک بالرحمۃ اشعار ابان المؤمن وان استغرق عمرہ فی طاعۃ اللہ تعالیٰ فانہ لا ینال ما ینال الا برحمتہ تعالیٰ (روح ص 26 ج 4) ھُمْ فِیْھَا خٰلِدُوْنَ ۔ اور وہ جنت میں ہمیشہ رہیں گے نہ انہیں موت آئے گی اور نہ جنت اور اس کی نعمتوں پر فنا آئے گا۔ فی جنتہ وکرامتہ خالدون باقون (قرطبی ص 169 ج 1) ۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 105–109

ربط آیات : گذشتہ دروس میں اہل کتاب کی اطاعت کرنے سے منع فرمایا گیا تھا۔ پھر تقوی اختیار کرنے کا حکم ہوا ، اور اللہ کی رسی یعنی قرآن کریم کو مضبوطی سے پکڑنے کی تلقین کی گئی۔ اس کے بعد فرمایا کہ امت مسلمہ میں سے ایک گروہ ضرور ایسا ہونا چاہیئے جو نیک کاموں کی طرف دعوت دے ، اچھے کاموں کا حکم کرتے رہیں اور برائی سے روکتے رہیں۔ اس طرحجماعت کا نظم بھی قائم رہے گا اور لوگ گمراہی سے بھی بچ جائیں گے۔ اب اہل ایمان سے مزید خطاب ہو رہا ہے۔ کہ یہود و نصاری کی طرح تم بھی آپس میں تفرقہ کا شکار نہ ہوجانا۔ اہل کتاب نے واضح احکام آجانے کے باوجود اپنی نفسانی خواہشات کی تکمیل کے لیے تفرقہ ڈالا۔ ان کے الگ الگ گروہ…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَاَمَّا الَّذِيْنَ ابْيَضَّتْ وُجُوْھُھُمْ فَفِيْ رَحْمَۃِ اللہِ۝ 0 ۭ ھُمْ فِيْھَا خٰلِدُوْنَ۝ 107 «أمَّا» و «أمَّا» حرف يقتضي معنی أحد الشيئين، ويكرّر نحو : أَمَّا أَحَدُكُما فَيَسْقِي رَبَّهُ خَمْراً وَأَمَّا الْآخَرُ فَيُصْلَبُ [يوسف/ 41] ، ويبتدأ بها الکلام نحو : أمّا بعد فإنه كذا . ( ا ما حرف ) اما ۔ یہ کبھی حرف تفصیل ہوتا ہے ) اور احد اشیئین کے معنی دیتا ہے اور کلام میں مکرر استعمال ہوتا ہے ۔ جیسے فرمایا :۔ { أَمَّا أَحَدُكُمَا فَيَسْقِي رَبَّهُ خَمْرًا وَأَمَّا الْآخَرُ فَيُصْلَبُ } ( سورة يوسف 41) تم میں سے ایک ( جو پہلا خواب بیان کرنے ولا ہے وہ ) تو اپنے آقا کو شراب پلایا کریگا اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 106–108

ترکیب : یوم ظرف ہے عظیم کا یالہم کا یا اذکر محذوف کا۔ فاما الذین جواب اما کا محذوف ای فیقال لہم اکفرتم اور أ توبیخ کے لئے ہے یعنی تم کو ایسا نہ کرنا چاہیے تھا۔ تفسیر : اختلاف باہمی اور تفریق حرام ہے : جبکہ اگلی آیت میں باہمی اتفاق کا حکم دیا اور اس اتفاق کو قائم رکھنے کے لئے ایک جماعت ناصحین کا قائم ہونا فرض کیا تو اس جگہ اختلاف سے تاکیداً منع فرمایا جس طرح اس حکم کو اولا اتقوا اللہ کہہ کر محکم کیا تھا اسی طرح بعد میں لہم عذاب الیم اور آخرت میں سیاہ روئی سے ڈرایا اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ادنیٰ ادنیٰ چیزوں کے اجتماع میں خدا نے برکت رکھی ہے۔ دیکھئے جب چند بالوں کو باہم ملا لیتے ہیں تو وہ کمزور…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 105–107

وَلَا تَکُوْنُوْا کَالَّذِیْنَ تَفَرَّقُوْا وَاخْتَلَفُوْا مِنْ م بَعْدِ مَا جَـآئَ ہُمُ الْـبَـیِّـنٰتُ ط وَاُولٰٓئِکَ لَہُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌ۔ لا یَّوْمَ تَبْیَضُّ وُجُوْہٌ وَّتَسْوَدُّ وُجُوْہٌ ج فَاَمَّا الَّذِیْنَ اسْوَدَّتْ وُجُوْہُہُمْ قف اَکَفَرْتُمْ بَعْدَ اِیْمَانِکُمْ فَذُوْقُوا الْعَذَابَ بِمَا کُـنْـتُمْ تَکْفُرُوْنَ ۔ وَاَمَّا الَّذِیْنَ ابْیَضَّتْ وُجُوْہُہُمْ فَفِیْ رَحْمَۃِ اللّٰہِ ط ہُمْ فِیْہَا خٰلِدُوْنَ ۔ اور ان لوگوں کی طرح نہ ہوجاؤ جو پراگندہ ہوگئے اور جنہوں نے اختلاف کیا بعد اس کے کہ ان کے پاس واضح ہدایات آچکی تھیں اور یہی لوگ ہیں جن کے لیے بڑا عذاب ہے۔ جس دن کچھ چہرے…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 106–108

فہم القرآن ربط کلام : اس سے پہلے مجرموں کو سزا سنائی گئی تھی یہاں وضاحت فرمائی ہے کہ مجرموں کے چہرے کالے ہونا اور ان کا جہنم میں داخل ہونا اللہ تعالیٰ کی طرف سے زیادتی نہیں بلکہ یہ تو ان کے اعمال کا نتیجہ اور بدلہ ہوگا۔ یہ اللہ تعالیٰ کے ضابطے اور فیصلے ہیں جو ذات کبریا خود آپ ﷺ کے سامنے پڑھ رہی ہے۔ اس کے منزل من اللہ ہونے میں ذرّہ برابر بھی شک نہیں کیا جاسکتا۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے حق اور سچ ہیں۔ جو فرد اور قوم ان پر عمل پیرا ہوگی وہ صراط مستقیم پر گامزن ہوتے ہوئے نہ صرف دنیا میں ساحل مراد تک پہنچیں گی بلکہ آخرت میں ایک لامتناہی روشن مستقبل ان کا منتظر ہوگا اور جو لوگ ان کا انکار کریں گے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

107: وََاَمَّا الَّذِیْنَ ابْیَضَّتْ وُجُوْھُھُمْ فَفِیْ رَحْمَۃِ اللّٰہِ ھُمْ فِیْھَا خٰلِدُوْنَ ۔ (اور پھر وہ لوگ جن کے چہرے سفید ہوئے وہ اللہ تعالیٰ کی رحمت میں ہونگے) رحمت سے یہاں مراد نعمت اور ہمیشہ کا ثواب ہے۔ ھُمْ فِیْھَا خٰلِدُوْنَ (وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے) یہ جملہ مستانفہ لائے۔ کہ نہ وہ جنت سے کوچ کریں گے اور نہ ہی ان پر موت واقع ہوگی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

(تفسیر) 107۔ : (آیت)” وما الذین ابیضت وجوھم “۔ جن کے چہرے سفید ہوں گے وہ اہل طاعات والے ہیں ، (آیت)” ففی رحمۃ اللہ “ اللہ کی رحمت سے جنت مراد ہے ، (آیت)” ھم فیھا خالدون “۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 104–112

(104 ۔ 109) ۔ اوپر ذکر تھا کہ یہود نے انصار کے دو گروہ کو بہکا کر ان دو گروہ کو آپس میں لڑانے کی شرارت کی تھی مگر اللہ کے رسول کی فہمایش سے یہود کا وہ بہانہ چل نہ سکا۔ ان آیتوں میں ارشاد ہے کہ سب بہکانے والوں کے سر گروہ ابلیس علیہ اللعنہ اور شیاطین الجن والانس کے اغوا سے انجان مسلمانوں کو بچانے کے لئے مسلمانوں میں ہمیشہ کے تھے ایک جماعت ایسی ہونی چاہیے کہ دین کی باتوں کی لوگوں کو نصیحت اور فہمایش کیا کرے۔ اس سے زیادہ تفسیر اس باب میں آئندہ کی آیت کی تفسیر میں آتی ہے۔ 110۔ 112۔ خازن وغیرہ میں جو حدیثیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ مالک بن صیف اور وہب بن یہود یہودیوں نے ایک روز عبد اللہ بن مسعود ؓ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 105–107

آیت 105 مطلب یہ ہے کہ اے مومنو ! جن پر اللہ نے ایمان لانے اور اپنی رسی کو مضبوطی سے پکڑنے کی توفیق دے کر احسان فرمایا ہے، تم میں سے (امہ) ایک جماعت ایسی ہونی چاہیے (یدعون الی الخیر) ” جو بھلائی کی طرف بلائے۔ “ (خیر) ” بھلائی “ میں ہر وہ چیز شامل ہے جو اللہ سے قریب کرنے والی اور اس کی ناراضی سے دور کرنے والی ہو۔ (ویامرون بالمعروف) ” اور وہ نیک کاموں کا حکم کرے “ (معروف) اسے کہتے ہیں جس کا اچھا ہونا عقل اور شریعت کی روشنی میں معلوم ہوچکا ہو۔ (وینھون عن المنکر) ” اور برے کاموں سے روکے “ (منکر) اسے کہتے ہیں جس کا برا ہونا عقل اور شریعت کے ذریعے سے معلوم ہوچکا ہو۔ اس میں مومنوں کو یہ ہدایت کی گئی…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 105–110

قول باری ہے (کنتم خیرامۃ اخرجت للناس تامرون بالمعروف وتنھون عن المنکر) قول باری (کنتم) کے معنی میں کئی وجوہ بیان کیے گئے ہیں۔ حسن سے مروی ہے کہ اس سے مراد کتب سابقہ جن میں مختلف امتوں کے متعلق بشارتیں آئی ہیں اور ان کے بارے میں خبریں دی گئی ہیں۔ ان میں ہم سب سے اخری امت ہیں لیکن اللہ کے نزدیک سب سے بڑھ کرمرتبے اور عزت والے ہیں۔ ہمیں عبداللہ بن محمد بن اسحق نے روایت بیان کی انہیں حسن بن ابی ربیع نے انہیں عبدالرزاق نے انہیں معمرنے بہزبن حکیم سے انہوں نے اپنے والد حکیم سے انہوں نے اپنے والد سے کہ انہوں نے حضور ﷺ کو آیت (کنتم خیرامۃ اخرجت للناس ، کے سلسلے میں فرماتے ہوئے سنا تھا کہ (انتم تتمون…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 106–107

221 قیامت کے روز اہل ایمان کا نور ان کے چہروں پر : سو ان کے ایمان و یقین کی جھلک ان کے چہروں سے واضح وعیاں ہوگی جس سے ان کے چہرے روشن اور منور ہوں گے : کہ ایمان و یقین کا باطنی نور اس روز ان کے چہروں پر عیاں و ہویدا ہوجائے گا۔ اور وہ اپنی اس حقیقی اور ابدی کامیابی سے شاداں وفرحاں ہوں گے، جیسا کہ مختلف مقامات پر اس کو مزید وضاحت کے ساتھ بیان فرمایا گیا ہے { اَللّٰہُمَّ اجَْعَلْنَا مِنْہُمْ بِمَحْض مَنِّکَ وَکَرَمِکَ یَااَرْحَمَ الرَّاحِمِیْنَ ۔ سو کچھ چہرے اس روز روشن اور فروزاں ہوں گے وہ خنداں اور شاداں ہوں گے۔ سو جو لوگ دنیا میں ایمان و یقین کی دولت کو اپناتے اور اعتصام باللہ کے شرف سے مشرف…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 104–109

نیکی اور بدی کا انجام تشریح : ان آیات میں اللہ تعالیٰ پھر لوگوں کو نیکی کا حکم دیتے ہیں اور برائی سے منع کرتے ہوئے یاد دلاتے ہیں کہ حساب کا دن ضرور یاد رکھو اور جان لو کہ وہ دن ضرور آئے گا اور یہ بھی جان لو کہ بدلہ ملنے میں کسی شخص پر ظلم نہ کیا جائے گا۔ کیونکہ اللہ تو اپنے بندوں پر ہر وقت رحم و کرم کرنا چاہتا ہے اسی لیے ہر وقت خبردار کرتا ہے کہ دیکھو بھول کر کہیں غلط راستے پر نہ چل پڑنا۔ کیونکہ غلط راہ ہر صورت میں انسان کے لیے نقصان دہ ہے دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی، پھر نیکی میں یہ بھی شامل ہے کہ تم چاہے ایک فرد ہو یا ایک جماعت کی شکل میں ہو، ہر وقت اس مہم کو سامنے رکھو کہ جہاں بھی برائی…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 102–109

آیات 102- 109 اسرارو معارف یایھا الذین امنوا اتقو اللہ……………لعلکم تھتدون۔ جب تمہیں اس قدر اسباب ہدایت حاصل ہیں تو اے ایمان والو ! اللہ سے ڈرتے رہو جیسا اس سے ڈرنے کا حق ہے تقویٰ دراصل خوف محض کا نام نہیں بلکہ وہ تعلق جو بطفیل نبی کریم ﷺ بندے کو اللہ سے حاصل ہو اس کے ٹوٹ جانے کے ڈر کا نام ہے تعلیمات نبوی ﷺ کے ساتھ وہ کیفیات بھی جو وجود نبوی ﷺ کی برکات میں سے ہیں اور جن کے ورود سے دل بدل گئے ، مزاج بدلے ، خواہشات اور طلب بدل گئی۔ حتیٰ کہ دین پر عمل کرنا مزاج بن گیا اور گناہ طبعی طور پر سخت ناپسندیدہ ہوگیا۔ اب ان نعمتوں کو کبھی ضائع نہ ہونے دو ۔ بیشتر مفسرین کرام نے حضور اکرم ﷺ کا یہ ارشاد نقل…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 4 ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ سفیدی اور سیاہی قیامت کے دن ہوگی۔ اھل السنتہ والجماعتہ کے چہرے سفید ہوں گے اور بدعتی فرقوں کے چہرے سیا ہوں گے ابو مامتہ ؓ نے مسجد دمشق کی سیڑھی پر کچھ لوگوں خارجیوں کے سر رکھے ہوئے دیکھ کر فرمایا۔ یہ جہنم کے یئے ہیں آسمان کے نیچے سب سے برے مقتول ہیں۔ جن لوگوں کو انہوں نے قتل کیا وہ بہترین مقتول ہیں۔ (ابن کثیر )

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

Explained with ayahs 104–110

(3:104) ولتکن منکم۔ لتکن میں لام امر ہے صیغہ واحد مؤنث غائب۔ امر غائب و متکلم معروف بناوٹ کے لحاظ سے کوئی مستقل فعل نہیں بلکہ ایک دوسرا نام مضارع بلام امر کا ہے لام امر و مضارع غائب و متکلم معروف کے آٹھوں صیغوں سے خاص ہے جو صیغہ ہائے واحد کو جزم دیتا ہے۔ جیسے لیکن (واحد مذکر غائب) لتکن (واحد مؤنث غائب) اور لاکن واحد متکلم۔ نون اعرابی کے سقوط اور نون ضمیری کی قائمی میں مثل لم کے عمل کرتا ہے۔ ولتکن۔ چاہیے کہ ہو ایک (جماعت) تم میں سے جو ۔۔ منکم۔ میں من تبیین کے لئے ہے تبعیض کے لئے نہیں۔ یعنی امر بالمعروف و نہی عن المنکر کا کام تمام امت پر واجب ہے کسی مخصوص جماعت کی ذمہ داری نہیں۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 102–109

لغات القرآن آیت نمبر 102 تا 109 حق تقٰته (اس سے ڈرنے کا حق ادا کرکے) اعتصموا (تم مضبوط تھام لو) بحبل اللہ (اللہ کی رسی ، یعنی اللہ کے دین کو (مضبوط تھام لو) جمیع (سب کے سب اکٹھے ہوکر) لاتفرقوا (تم جداجدا نہ ہو) اعداء (آپس میں دشمن ) الف (اس نے محبت ڈال دی) اصبحتم (تم گئے) اخوان (بھائی بھائی) شفاء (کنارہ) حفرۃ (گڑھا) انقذ (اس نے بچالیا) ولتکن (ہونی چاہیے) امة (ایک جماعت) یدعون (بلاتے ہیں، دعوت دیتے ہیں) بالمعروف (نیکی کے ساتھ) ینھون (وہ روکتے ہیں) المنکر (برائی غلط راستہ) تبیض (سفید، چمک دار) وجوہ (چہرے (وجه کی جمع ہے) تسود (سیاہ) اکفرتم (کیا تم نے کفر کیا ؟ ) دوقوا (تم چکھو) ابیضت (سفید، چمک…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 104–109

اشاعت اسلام کا ذکر ان آیتوں میں ارشاد ہے کہ سب بہکانے والوں کا سرگروہ ابلیس ہے، انجان مسلمانوں کو بچانے کے لئے مسلمانوں میں ہمیشہ ایک ایسی جماعت ہونی چاہئے کہ دین کی باتوں کی لوگوں کو نصیحت اور فہمائش کیا کرے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 103–111

[39] اللہ کی رسی سے مراد قرآن مجید ہے۔ رسول اکرم ﷺ نے قرآن مجید کے بارے میں ارشاد فرمایا ہے '' ھو حبل اللہ المتین '' (یہ اللہ کی مضبوط رسی ہے) ۔ قرآن کو اللہ کی رسی اس لئے فرمایا کہ یہی چیز ہے جو بندوں کو خدا سے جوڑتی ہے۔ جس نے اس کو تھام لیا گویا اس نے خدا کا سہارا تھام لیا۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 105–110

حدود تبلیغ : (ف 1) اس آیت میں تمام مسلمانوں کو فریضہ تبلیغ کی ادائیگی کے لئے آمادہ کیا ہے مگر خود تبلیغ کی حدود کیا ہیں ؟ یہ ایک سوال ہے ۔ قرآن حکیم نے تبلیغ و اشاعت کو دو لفظوں سے تعبیر کیا ہے ، امر بالمعروف اور نہی عن المنکر ۔ یعنی نیکی ‘ بھلائی اور سچائی کی تلقین اور برائی سے اظہار نفرت وتحقیر ۔ ظاہر ہے یہ دو لفظ انتہا درجہ کی وسعت اپنے اندر پنہاں رکھتے ہی ، معروف کا اطلاق نیک اقدام پر ہو سکتا ہے اور منکر کا ہر برے اقدام پر ، چونکہ ان دو لفظوں میں فرد وجماعت کی تمام نیکیاں اور برائیاں آجاتی ہیں ، اس لئے جواب بالکل آسان اور واضح ہے کہ تبلیغ کی حدود فرد وجماعت کی تمام وسعتوں پر حاوی و محیط…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

ف 1 اور تم اے مسلمانو ! ان لوگوں کی طرح نہ ہوجانا جنہوں نے باوجود اس کے ان کے پاس واضح دلائل آ چکے تھے اور انہوں نے واضح دلائل اور واضح احکام پہنچ جانے کے بعد پھر دین میں باہم تفریق کرلی اور جدا جدا ٹولیاں بنالیں اور راہ راست سے جدا ہوگئے اور محض اپنی نفسانی خواہشات اور آپس کی ضد سے باہم اختلاف کرنے لگے اور ایسے ہی لوگوں کے لئے اس دن بہت بڑا عذاب ہے اور وہ بڑے ہولناک عذاب میں مبتلا ہوں گے جس دن بہت سے چہرے سفید یعنی روشن اور چمکتے ہوئے ہوں گے اور بہت سے چہرے اس دن سیاہ ہوں گے۔ لہٰذا جن لوگوں کے چہرے کالے اور سیاہ ہوں گے ان سے کہا جائے گا کیا تم ہی لوگوں نے اپنے ایمان لائے پیچھے کافرانہ روش…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 106–110

ف 1۔ یہ خطاب تمام امت محمدیہ کو عام ہے پھر ان میں سے صحابہ اول اور اشرف مخاطبین ہیں۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

جن کے چہرے گورے ہوں گے ان کا مختصر حال : 207: جن لوگوں کے چہرے سفید یعنی گورے ہوں گے نیک اعمال کرنے والے اور لوگوں کے درمیان اختلاف کو مٹانے والے اور مسلمانوں کو اللہ کی رسی کو مضبوط تھامنے کا درس دینے والے ” فَفِىْ رَحْمَةِ اللّٰهِ “ وہ اللہ تعالیٰ کی خاص رحمت یعنی جنت اور لازوال ثواب و اجر میں ہوں گے اس جگہ جنت کی تعبیر لفظ رحمت کے ساتھ کرنے سے اس امر پر تنبیہه کی گئی ہے کہ مؤمن کی چاہے پوری عمر اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں صرف ہوئی ہو مگر جنت میں اس کا داخلہ اللہ کی رحمت اور فضل کے بغیر ممکن نہیں ہے۔ حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا راستی اختیار کرو اور درمیانی رفتار سے چلو…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 107–109

2. The sentence ففی رحمۃ اللہ (they rest in Allah's mercy) is immediately qualified by هُمْ فِيهَا خَالِدُونَ (they are there forever). This means that the mercy in which the believers shall rest will not be temporary; it would be forever and eternal. This blessing will never be taken away or reduced in their case. In contrast to this are those whose faces shall turn dark; for them, it has not be expressly mentioned if they shall be in that state forever. Sinning man earns his own punishment: The verse فَذُوقُوا الْعَذَابَ بِمَا كُنتُمْ تَكْفُرُ‌ونَ (106) (now taste the punishment because…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 106–108

87. Since God does not want to subject people to any wrong He illuminates the straight path of their salvation, and forewarns them of the matters for which they will be asked to render an account in the Hereafter. It is clear that if people abandon the path of rectitude they wrong no one but themselves.

Read the full tafseer →