Explained with ayahs 104–109
یوم آخرت منافق اور مومن کی پہچان
حضرت ضحاک فرماتے ہیں اس جماعت سے مراد خاص صحابہ اور خاص راویان حدیث ہیں یعنی مجاہد اور علماء امام ابو جعفر باقر ؒ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اس آیت کی تلاوت کی پھر فرمایا صبر سے مراد قرآن و حدیث کی اتباع ہے، یاد رہے کہ ہر ہر متنفس پر تبلیغ حق فرض ہے لیکن تاہم ایک جماعت تو خاص اسی کام میں مشغول رہنی چاہئے، رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں تم میں سے جو کوئی کسی برائی کو دیکھے اسے ہاتھ سے دفع کر دے اگر اس کی طاقت نہ ہو تو زبان سے روکے اگر یہ بھی نہ کرسکتا ہو تو اپنے دل سے نفرت کرے یہ ضعیف ایمان ہے، ایک اور روایت میں اس کے بعد یہ بھی ہے کہ اس کے بعد رائی کے دانے کے برابر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 106–108
سورة اٰلِ عِمْرٰن 87
یعنی چونکہ اللہ دنیا والوں پر ظلم نہیں کرنا چاہتا اس لیے وہ ان کو سیدھا راستہ بھی بتارہا ہے اور اس بات سے بھی انہیں قبل از وقت آگاہ کیے دیتا ہے کہ آخر کار وہ کن امور پر ان سے باز پرس کرنے والا ہے۔ اس کے بعد بھی جو لوگ کج روی اختیار کریں اور اپنے غلط طرز عمل سے باز نہ آئیں وہ اپنے اوپر آپ ظلم کریں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 107–109
تیسرا فائدہ یہ کہ اللہ تعالیٰ نے " ففی رحمۃ اللہ کے بعد ھم فیھا خلدون " فرماکر بتادیا کہ مومنین اللہ کی جس رحمت میں ہوں گے وہ ان کے لئے عارضی نہیں ہوگی بلکہ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ہوگی ان سے یہ نعمت کبھی سلب یا کم نہ کی جائے گی، اس کے بالمقابل اہل سواد کے لئے یہ تصریح نہیں فرمائی کہ وہ اس حال میں ہمیشہ رہیں گے۔ آدمی سزاد اپنے ہی گناہوں کی پاتا ہے
" فذوقوا العذاب بما کنتم تکفرون " میں اشارہ فرمادیا کہ آج کا عذاب ہماری طرف سے نہیں بلکہ تمہاری اپنی کمائی سے ہے جو دنیا میں کرتے رہے ہو، کیونکہ در حقیقت جنت و دوزخ کی نعمتیں اور مصائب درحقیقت ہمارے اعمال ہی کی بدلی ہوئی صورتیں ہیں، اسی بات پر متنبہ کرنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 106–109
تفسیر آیت 160 تا 109: مسلمانوں کو چند تنبیہات : نظمِ کلام کی روشنی میں ان آیات پر غور کیجیے تو مندرجہ ذیل حقائق سامنے آئیں گے۔ اول یہ کہ اعتصام بحبل اللہ سے محروم ہوجانے کے بعد اہل کتاب اختلاف و انتشار میں مبتلا ہوئے اور یہ انتشار و اختلاف در حقیقت ایمان کے بعد کفر کی طرف پلٹ جانے کے ہم معنی ہے۔ دوم یہ کہ جن لوگوں کو اللہ تعالیٰ یہ سرفرازی و سرخروئی بخشتا ہے کہ ان کے ہاتھ میں خود اپنی رسی پکڑاتا ہے اگر وہ اپنی شامت اعمال سے اس رسی کو چھوڑ کر دوسرے پھدنے اپنی گردنوں میں ڈال لیتے ہیں تو قیامت کے دن ان کو اسی درجے کی روسیاہی بھی حاصل ہوگی جس درجے کی ان کو سرخ روئی بخشی گئی تھی۔ چہرے روشن ان کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 107–110
110۔ 1 اس آیت میں امت مسلمہ کو ' خیر امت ' قرار دیا گیا ہے اور اس کی علت بھی بیان کردی گئی ہے جو امر بالمعروف نہی عن المنکر اور ایمان باللہ ہے۔ گویا یہ امت اگر ان امتیازی خصوصیات سے متصف رہے گی تو خیر امت ہے بصورت دیگر اس امتیاز سے محروم قرار پاسکتی ہے۔ اس کے بعد اہل کتاب کی مذمت سے بھی اسی نکتے کی وضاحت مقصود و معلوم ہوتی ہے کہ جو امر بالمعروف و نہی المنکر نہیں کرے گا، وہ بھی اہل کتاب کے مشابہ قرار پائے گا۔ ان کی صفت بیان کی گئی ہے۔ وہ ایک دوسرے کو برائی سے نہیں روکتے اور یہاں اسی آیت میں ان کی اکثریت کو فاسق کہا گیا ہے۔ امر بالمعروف یہ فرض عین ہے یا فرض کفایہ ؟ اکثر علماء کے خیال میں یہ فرض…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 107–113
37: اس سے مراد وہ اہل کتاب ہیں جو آنحضرت ﷺ پر ایمان لے آئے تھے، مثلاً یہودیوں میں سے حضرت عبداللہ بن سلام ؓ
Read the full tafseer →Explained with ayahs 108–109
یہ صورتیں ‘ یہ حقائق اور یہ نتائج اللہ کی یہ آیات اور اس کے یہ دلائل وبراہین ‘ یہ سب آپ پر سچائی اور صداقت کے ساتھ پڑھی جارہی ہیں ‘ یہ آیات جو اصول اور جو اقدار طے کررہی ہیں وہ حق ہیں اور اعمال کے جو نتائج اور جو جزاء وسزا یہ طے کررہی ہیں وہ بھی حق ہیں اور پیش آنے والے ہیں ۔ یہ آیات سچائی کے ساتھ اس ذات کی طرف سے نازل ہورہی ہیں ۔ وہ ذات اس نزول کی سزاوار ہے ۔ اور ہی اس بات کی مالک ہے کہ قدار کا تعین کرے ‘ وہی مستحق ہے کہ نتائج تک پہنچائے اور وہی اس بات کا حق رکھتا ہے کہ اعمال پر جزاء دے ۔ اللہ تعالیٰ کبھی اپنے بندوں پر ظلم کا ارادہ نہیں کرتا ‘ اس لئے کہ وہ حاکم عادل وہ امور سماوات اور امور…
Read the full tafseer →6 حقیقی معنیٰ میں ظلم تو وہاں ممکن ہی نہیں لیکن ظاہری طور پر جسے تم ظلم کہہ سکتے ہو۔ اس کا صدور بھی خدا تعالیٰ سے نہیں ہوتا۔ مثلاَ ، ایسے سخت احکام بندوں کو بھیجے جن سے غرض محض ستانا اور دق کرنا ہو، یا مستحق رحمت پر عذاب کرنے لگے یا تھوڑی سزا کی جگہ زائد سزا جاری کر دے، یا کسی کی ادنیٰ ترین نیکی کا صلہ نہ دے وغیر ذلک۔ خوب سمجھ لو، اس کا جو حکم ہے خالص بندوں کی تربیت کے لئے اور جو معاملہ کسی کے ساتھ ہے عین حکمت و مصلحت کے موافق ہے۔
Read the full tafseer →آیت 108 تِلْکَ اٰیٰتُ اللّٰہِ نَتْلُوْہَا عَلَیْکَ بالْحَقِّ ط وَمَا اللّٰہُ یُرِیْدُ ظُلْمًا لِّلْعٰلَمِیْنَ
لوگ اپنے اوپر خود ظلم کرتے ہیں ‘ خود غلط راستے پر پڑتے ہیں اور پھر اس کی سزا انہیں دنیا اور آخرت میں بھگتنی پڑتی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 108–109
98 اسی لیے تو اس نے اپنے رسول بھیج کر اور کتابیں نازل کرکے لوگوں کو سیدھا راستہ بتلا دیا ہے اور اس بات سے آگاہ کردیا ہے کہ آخرت میں وہ کن امور کی باز پرس کرنے والا ہے۔ اس کے باوجود جو لوگ ہدایت کی راہ اختیار نہ کریں یا اپنے غلط طرز عمل یا معاندانہ روش سے بازنہ آئیں تو وہ اپنے آپ پر خود ظلم کرنے والے ہیں۔
لفظ ظلم بڑا وسیع مفہوم رکھتا ہے اور اس کی ضد عدل ہے اور اللہ تعالیٰ عادل ہے۔ ظالم نہیں۔ اس لئے اس سے ایسے افعال کا صدور ممکن ہی نہیں جس میں ظلم کا شائبہ تک پایا جاتا ہو۔ مثلاً وہ کسی مستحق رحمت کو سزا دے دے، یا زیادہ اجر کے مستحق کو تھوڑا اجر دے یا کم سزا کے مستحق کو زیادہ سزا دے دے وغیرہ…
Read the full tafseer →224 ۔ (اس لیے اس کے فیصلے ہمیشہ عادلانہ اور حکیمانہ ہوتے ہیں) اسلام کا خدا تمامتر رحیم ہے۔ عادل ہے۔ شفیق ہے۔ مشرک قوموں کے دیوی دیوتاؤں کی طرح ظالم وخونخوار نہیں ہے۔ قرآن مجید کو بار بار خداوند تعالیٰ کی تنزیہ کا اثبات ان صفات ذمیمہ سے کرنا ضروری ہوگیا تھا۔ اور تو اور توریت تک کے خدا میں صفات قہری کہیں زیادہ زور وقوت کے ساتھ جلوہ گر نظر آرہے ہیں۔ (آیت) ” بالحق “۔ یعنی بالکل صحیح۔ جس میں شک وشبہ کی گنجائش نہیں۔ ای بالصدق (قرطبی)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 106–110
آیت نمبر 110 تا 120
ترجمہ : اے امت محمد ﷺ تم اللہ کے علم میں بہترین جماعت ہو جن کو لوگوں کے لیے نکالا گیا تم بھلائی کا حکم دیتے ہو اور برائی سے روکتے ہو اور اللہ پر ایمان رکھتے ہو اور اگر اہل کتاب بھی اللہ پر ایمان لے آتے تو ایمان لانا ان کے حق میں خوب ہوتا ان میں سے کچھ تو مومن ہیں جیسا کہ عبد اللہ بن سلام اور ان کے ساتھی۔ مگر اکثر ان میں سے نافرمان (یعنی کافر) ہیں۔ اے مسلمانو ! یہ یہود زبانی گالی گلوچ اور دھمکی کی خفیف سی اذیت کے سوا تم کو کچھ نقصان نہ پہنچا سکیں گے اور اگر وہ تم سے مقابلہ کریں گے تو تمہیں پیٹھ دکھا کر شکست خوردہ ہو کر بھاگ جائیں گے پھر ان کو تمہارے خلاف مدد بھی نہ پہنچ سکے…
Read the full tafseer →تلک آیٰت اللہ۔ یہ اللہ کی آیات ہیں جن کے اندر (جنت و رحمت کا) وعدہ اور (دوزخ و عذاب سے) وعید ہے۔
نتلوھا علیک بالحق ہم آپ کو پڑھ کر سنا رہے ہیں اور یہ آیات برحق ہیں کسی شبہ کی گنجائش نہیں۔
و ما اللہ یرید ظلما للعلمین اور اللہ اہل جہان پر ظلم کرنا نہیں چاہتا کیونکہ اس کی طرف سے ظلم ہونے کا تصور ہی نہیں ہوسکتا۔ وہ مالک مطلق ہے اپنی ملکیت میں جیسا چاہتا ہے کرتا ہے اس پر نہ کچھ کرنا لازم ہے نہ کچھ کرنا واجب اور جب کوئی چیز اس پر واجب ہی نہیں ہے تو ظلم کیسا ؟ (ظلم تو ترک واجب کو کہتے ہیں) ۔
میں کہتا ہوں آیت کی مراد بظاہر یہ ہے کہ اللہ بندوں کے معاملات میں ظلم کرنا نہیں چاہتا کہ نیکی کرنے والے کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 108–109
(108۔ 109) یہ اللہ تعالیٰ کی قرآنی آیات ہیں جن کو جبریل امین ؑ کے ذریعے حق اور باطل کے واضح کردینے کے لیے ہم آپ ﷺ پر نازل کرتے ہیں، اللہ تعالیٰ کی جانب سے جن وانس میں سے کسی سے بھی زیادتی نہیں ہوگی تمام مخلوقات اور یہ عجائبات اسی کی ملک ہیں اور آخرت میں تم سب کو اسی کی طرف لوٹنا ہے،
Read the full tafseer →ۭوَمَا اللّٰهُ يُرِيْدُ ظُلْمًا لِّلْعٰلَمِيْنَ : یعنی جہاد اور امر بالمعروف کا جو حکم فرمایا یہ مخلوق پر ظلم نہیں، اس میں ان کی تربیت ہے۔ (موضح) جب اللہ تعالیٰ کو ہر چیز کا علم اور ہر چیز پر قدرت حاصل ہے تو اسے کسی پر ظلم کرنے کی کیا ضرورت ہے۔ (ابن کثیر)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 108–109
آیت نمبر : 108 تا 109۔
قولہ تعالیٰ (آیت) ” تلک ایت اللہ “۔ یہ مبتدا اور خبر ہے اور مراد قرآن کریم ہے۔ (آیت) ” نتلوھا علیک “۔ یعنی آپ پر جبریل امین کو نازل کرتے ہیں سو وہ آپ پر آیات پڑھتا ہے، (آیت) ” بالحق “۔ یعنی صدق وسچائی کے ساتھ، اور زجاج نے کہا ہے : (آیت) ” تلک ایت اللہ “ یہ آیت جو ذکر کی گئی ہیں اللہ تعالیٰ کی حجتیں اور اس کے دلائل ہیں۔
اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ (آیت) ” تلک “۔ بمعنی ھذہ ہے۔ لیکن جب یہ گزر گئیں تو اس طرح ہوگئیں گویا یہ دور اور بعید ہیں۔ لہذا (آیت) ” تلک “ ذکر کیا گیا ہے، اور یہ بھی جائز ہے کہ (آیت) ” ایت اللہ، تلک سے بدل ہو، اور وہ نعت اور صفت نہ ہو، کیونکہ مبہم مضاف کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 107–110
(1) عبد الرزاق وابن ابی شیبہ وعبد بن حمید والفریابی احمد نسائی ابن جریر ابن ابی حاتم ابن المنذر طبرانی نے اس کو صحیح کہا حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” کنتم خیر امۃ اخرجت للناس “ سے وہ صحابہ مراد ہیں جنہوں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کی۔
امت محمدیہ ﷺ خیر امت ہیں
(2) ابن جریر وابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا ہے کہ عمر بن خطاب ؓ نے فرمایا کہ اگر اللہ تعالیٰ چاہتے تو لفظ آیت ” انتم “ فرماتے تو ہم سب (اس میں شامل) ہوجاتے لیکن اللہ تعالیٰ نے فرمایا ” کنتم “ یہ صرف محمد ﷺ کے اصحاب کے لیے خاص ہیں اور جس نے ان جیسے اعمال کیے وہ بھی لفظ آیت ”…
Read the full tafseer →[تِلْکَ : یہ ] [اٰیٰتُ اللّٰہِ : اللہ کی آیتیں ہیں ] [نَتْلُوْہَا : ہم پڑھ کر سناتے ہیں انہیں ] [عَلَیْکَ : آپ ﷺ ‘ کو ] [بِالْحَقِّ : حق سے ] [وَمَا اللّٰہُ : اور نہیں اللہ ] [یُرِیْدُ : ارادہ کرتا ] [ظُلْمًا : کسی ظلم کا ] [لِّلْعٰلَمِیْنَ : تمام جہانوں کے لیے
Read the full tafseer →مضمون کے ختم پر فرمایا : (تِلْکَ اٰیٰتُ اللّٰہِ نَتْلُوْھَا عَلَیْکَ بالْحَقِّ وَ مَا اللّٰہُ یُرِیْدُ ظُلْمًا لِّلْعٰلَمِیْنَ ) (کہ یہ اللہ کی آیات ہیں ہم تمہارے اوپر حق کے ساتھ پڑھتے ہیں اور اللہ جہانوں کے ساتھ ظلم کا ارادہ نہیں فرماتا)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 102–117
قال تعالی۔ یا ایھا الذین۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تا۔۔۔۔ ترجع الامور۔ آیت۔
ربط) گزشتہ آیات میں اللہ نے باہمی قتال وشقاق کو تکفرون یعنی کفر سے تعبیر فرمایا اب آئندہ آیت میں تقوی اور اعتصام بحبل اللہ یعنی اتفاق اور اتحاد اور اسلامی مواخات کا حکم دیتے ہیں اور اتفاق اور اتحاد کا ایک دستور العمل بتلاتے ہیں وہ یہ کہ اول تقوی اور اسلام پر مداومت اور استقامت کا حکم دیا اور پھر اعتصام بحبل اللہ کا حکم فرمایا کہ سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوط پکڑو پھر یہ ارشاد فرمایا، واذکر نعمتہ اللہ علیکم۔ الخ۔ آیت۔ جس میں حکم دیا کہ اتفاق اور اتحاد کی نعمت کو یاد کرو، اور اس نعمت کو اور اس کی برکات کو یاد کرکے موازنہ کرو کہ پہلے…
Read the full tafseer →158 تِلْکَ سے گذشتہ آیات کی طرف اشارہ ہے یعنی یہ آیتیں ہم آپ پر اصل حقیقت واضح کرنے کے لیے نازل کرتے ہیں ای نکشف ما الامر علیہ فی الدنیا والٓخرۃ (ابن کثیر ص 390 ج 1) ۔
159 پہلے کفار کے لیے سخت سزا کا اعلان تھا۔ اس لیے ساتھ ہی اعلان فرما دیا کہ اللہ تعالیٰ ظالم نہیں ہے وہ بلا وجہ کسی کو سزا نہیں دیتا وہ حاکم عادل ہے۔ اور کیوں نہ ہو جب کہ وہ مالک ومختار اور ہر چیز پر قادر ہے۔ اور سب کچھ جانتا ہے۔ اس لیے اسے اپنی مخلوق پر ظلم کرنے کی کیا ضرورت ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 105–109
ربط آیات :
گذشتہ دروس میں اہل کتاب کی اطاعت کرنے سے منع فرمایا گیا تھا۔ پھر تقوی اختیار کرنے کا حکم ہوا ، اور اللہ کی رسی یعنی قرآن کریم کو مضبوطی سے پکڑنے کی تلقین کی گئی۔ اس کے بعد فرمایا کہ امت مسلمہ میں سے ایک گروہ ضرور ایسا ہونا چاہیئے جو نیک کاموں کی طرف دعوت دے ، اچھے کاموں کا حکم کرتے رہیں اور برائی سے روکتے رہیں۔ اس طرحجماعت کا نظم بھی قائم رہے گا اور لوگ گمراہی سے بھی بچ جائیں گے۔ اب اہل ایمان سے مزید خطاب ہو رہا ہے۔ کہ یہود و نصاری کی طرح تم بھی آپس میں تفرقہ کا شکار نہ ہوجانا۔ اہل کتاب نے واضح احکام آجانے کے باوجود اپنی نفسانی خواہشات کی تکمیل کے لیے تفرقہ ڈالا۔ ان کے الگ الگ گروہ…
Read the full tafseer →تِلْكَ اٰيٰتُ اللہِ نَتْلُوْھَا عَلَيْكَ بِالْحَـقِّ 0 ۭ وَمَا اللہُ يُرِيْدُ ظُلْمًا لِّلْعٰلَمِيْنَ 108
تلاوة
تختص باتباع کتب اللہ المنزلة، تارة بالقراءة، وتارة بالارتسام لما فيها من أمر ونهي، وترغیب وترهيب . أو ما يتوهم فيه ذلك، وهو أخصّ من القراءة، فکل تلاوة قراءة، ولیس کل قراءة تلاوة، لا يقال : تلوت رقعتک، وإنما يقال في القرآن في شيء إذا قرأته وجب عليك اتباعه . هنالک تتلوا کلّ نفس ما أسلفت[يونس/ 30] ، وَإِذا تُتْلى عَلَيْهِمْ آياتُنا [ الأنفال/ 31]
التلاوۃ ۔ بالخصوص خدا تعالیٰ کی طرف سے نازل شدہ کتابوں کے اتباع تلاوۃ کہا جاتا ہے کبھی یہ اتباع ان کی قراءت پڑھنے ) کی صورت میں ہوتی ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 106–108
ترکیب : یوم ظرف ہے عظیم کا یالہم کا یا اذکر محذوف کا۔ فاما الذین جواب اما کا محذوف ای فیقال لہم اکفرتم اور أ توبیخ کے لئے ہے یعنی تم کو ایسا نہ کرنا چاہیے تھا۔
تفسیر : اختلاف باہمی اور تفریق حرام ہے : جبکہ اگلی آیت میں باہمی اتفاق کا حکم دیا اور اس اتفاق کو قائم رکھنے کے لئے ایک جماعت ناصحین کا قائم ہونا فرض کیا تو اس جگہ اختلاف سے تاکیداً منع فرمایا جس طرح اس حکم کو اولا اتقوا اللہ کہہ کر محکم کیا تھا اسی طرح بعد میں لہم عذاب الیم اور آخرت میں سیاہ روئی سے ڈرایا اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ادنیٰ ادنیٰ چیزوں کے اجتماع میں خدا نے برکت رکھی ہے۔ دیکھئے جب چند بالوں کو باہم ملا لیتے ہیں تو وہ کمزور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 108–109
تِلْکَ اٰیٰتُ اللّٰہِ نَتْلُوْہَا عَلَیْـکَ بِالْحَقِّ ط وَمَا اللّٰہُ یُرِیْدُ ظُلْمًا لِّـلْعٰـلَمِیْنَ ۔ وَلِلّٰہِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الْاَرْضِ ط وَ اِلَی اللّٰہِ تُرْجَعُ الْاُمُوْرُ ۔ ع
(یہ اللہ کی آیات ہیں جو ہم تمہیں حق کے ساتھ سنا رہے ہیں اور اللہ جہان والوں پر کوئی ظلم نہیں کرنا چاہتا۔ اور اللہ ہی کے لیے ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے اور سارے معاملات اللہ کے حضور میں پیش کیے جاتے ہیں) (108 تا 109)
ایک اہم ترین سوال کا جواب
یہ اللہ کی آیات ہیں جنھیں ٹھیک ٹھیک ہم آپ پر پڑھ کر سنا رہے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان کے لیے سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ اس کی زندگی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 106–108
فہم القرآن
ربط کلام : اس سے پہلے مجرموں کو سزا سنائی گئی تھی یہاں وضاحت فرمائی ہے کہ مجرموں کے چہرے کالے ہونا اور ان کا جہنم میں داخل ہونا اللہ تعالیٰ کی طرف سے زیادتی نہیں بلکہ یہ تو ان کے اعمال کا نتیجہ اور بدلہ ہوگا۔
یہ اللہ تعالیٰ کے ضابطے اور فیصلے ہیں جو ذات کبریا خود آپ ﷺ کے سامنے پڑھ رہی ہے۔ اس کے منزل من اللہ ہونے میں ذرّہ برابر بھی شک نہیں کیا جاسکتا۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے حق اور سچ ہیں۔ جو فرد اور قوم ان پر عمل پیرا ہوگی وہ صراط مستقیم پر گامزن ہوتے ہوئے نہ صرف دنیا میں ساحل مراد تک پہنچیں گی بلکہ آخرت میں ایک لامتناہی روشن مستقبل ان کا منتظر ہوگا اور جو لوگ ان کا انکار کریں گے…
Read the full tafseer →108: تِلْکَ ٰایٰتُ اللّٰہِ نَتْلُوْھَا عَلَیْکَ بِالْحَقِّ وَمَا اللّٰہُ یُرِیْدُ ظُلْمًالِّلْعٰلَمِیْنَ ۔ (یہ اللہ تعالیٰ کی آیات ہیں) جو وعد ووعید وغیرہ کے سلسلہ میں وارد ہوئی ہیں۔ نَتْلُوْھَا عَلَیْکَ بِالْحَقِّ (ہم ان کو تم پر پڑھ رہے ہیں اس حال میں کہ وہ حق سے ملی ہوئی ہیں) اور عدل کے ساتھ یعنی محسن کا بدلہ اور مجرم کو سزا۔
اللہ جل شانہ بلا جرم گرفتار نہیں کرتے :
وَمَا اللّٰہُ یُرِیْدُ ظُلْمًالِّلْعٰلَمِیْنَ (اور اللہ تعالیٰ جہان والوں کے ساتھ ظلم کرنے کا ارادہ بھی نہیں فرماتے) یعنی وہ اپنے بندوں پر ظلم نہیں چاہتے کہ کسی کو بغیر جرم کے گرفتار کرلیں یا مجرم کو جرم سے زیادہ سزا دیں یا نیکی…
Read the full tafseer →108۔ (آیت)” تلک ایات اللہ ۔۔۔۔۔۔ وما اللہ یرید ظلما للعلمین “۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 104–112
(104 ۔ 109) ۔ اوپر ذکر تھا کہ یہود نے انصار کے دو گروہ کو بہکا کر ان دو گروہ کو آپس میں لڑانے کی شرارت کی تھی مگر اللہ کے رسول کی فہمایش سے یہود کا وہ بہانہ چل نہ سکا۔ ان آیتوں میں ارشاد ہے کہ سب بہکانے والوں کے سر گروہ ابلیس علیہ اللعنہ اور شیاطین الجن والانس کے اغوا سے انجان مسلمانوں کو بچانے کے لئے مسلمانوں میں ہمیشہ کے تھے ایک جماعت ایسی ہونی چاہیے کہ دین کی باتوں کی لوگوں کو نصیحت اور فہمایش کیا کرے۔ اس سے زیادہ تفسیر اس باب میں آئندہ کی آیت کی تفسیر میں آتی ہے۔ 110۔ 112۔ خازن وغیرہ میں جو حدیثیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ مالک بن صیف اور وہب بن یہود یہودیوں نے ایک روز عبد اللہ بن مسعود ؓ…
Read the full tafseer →آیت 108
ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے قیامت کے دن کے حالات بیان فرمائے ہیں۔ اس دن عدل اور فضل کی بنیاد پر ملنے والی جزا و سزا کے اثرات بیان فرمائے ہیں۔ اس بیان کا مقصد ترغیب و ترہیب ہے۔ جس کا فائدہ خوف اور امید کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (یوم تبیض وجوہ) ” جس دن بعض چہرے سفید ہوں گے “ وہ خوش نصیبوں اور نیکی کرنے والوں کے چہرے ہوں گے، جنہوں نے آپس میں الفت و محبت رکھی اور اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامے رکھا۔ ( وتسود وجوہ) ” اور بعض چہرے سیاہ ہوں گے “ وہ بدنصیبوں اور بدکاروں کے چہرے ہیں گے، جو اختلاف و اتفراق پیدا کرنے والے تھے۔ ذلت و رسوائی کی وجہ سے ان کے دلوں کی جو کیفیت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 105–110
قول باری ہے (کنتم خیرامۃ اخرجت للناس تامرون بالمعروف وتنھون عن المنکر) قول باری (کنتم) کے معنی میں کئی وجوہ بیان کیے گئے ہیں۔ حسن سے مروی ہے کہ اس سے مراد کتب سابقہ جن میں مختلف امتوں کے متعلق بشارتیں آئی ہیں اور ان کے بارے میں خبریں دی گئی ہیں۔ ان میں ہم سب سے اخری امت ہیں لیکن اللہ کے نزدیک سب سے بڑھ کرمرتبے اور عزت والے ہیں۔ ہمیں عبداللہ بن محمد بن اسحق نے روایت بیان کی انہیں حسن بن ابی ربیع نے انہیں عبدالرزاق نے انہیں معمرنے بہزبن حکیم سے انہوں نے اپنے والد حکیم سے انہوں نے اپنے والد سے کہ انہوں نے حضور ﷺ کو آیت (کنتم خیرامۃ اخرجت للناس ، کے سلسلے میں فرماتے ہوئے سنا تھا کہ (انتم تتمون…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 108–109
225 اللہ کی آیتیں سراسر حق و صواب : کہ ان کا معنی و مضمون بھی سراسر حق و صواب ہے، اور ان کے سنانے کا مقصد بھی حق و صدق۔ اور ان کے سنانے کا طریق بھی سراسر حق اور سچ ہے۔ سو جو لوگ ان سے سبق نہیں لیتے تو یہ ان کے اپنے فہم و ادراک کا قصور ہے۔ اور جو لوگ ان آیات حق و صدق سے منہ موڑتے اور اعراض برتتے ہیں وہ سراسر اپنا ہی نقصان کرتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ بہر کیف کوئی مانے یا نہ مانے حق اور حقیقت بہرحال یہی ہے کہ یہ تنبیہات جو ان آیات کے ذریعے فرمائی گئی ہیں قطعی طور پر حق اور صدق ہیں اور جو لوگ ان کو نظر انداز کریں گے وہ اپنی ہولناک ناکامی اور روسیاہی کا معاملہ خود کریں گے اور اس کی ذمہ داری…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 104–109
نیکی اور بدی کا انجام
تشریح : ان آیات میں اللہ تعالیٰ پھر لوگوں کو نیکی کا حکم دیتے ہیں اور برائی سے منع کرتے ہوئے یاد دلاتے ہیں کہ حساب کا دن ضرور یاد رکھو اور جان لو کہ وہ دن ضرور آئے گا اور یہ بھی جان لو کہ بدلہ ملنے میں کسی شخص پر ظلم نہ کیا جائے گا۔ کیونکہ اللہ تو اپنے بندوں پر ہر وقت رحم و کرم کرنا چاہتا ہے اسی لیے ہر وقت خبردار کرتا ہے کہ دیکھو بھول کر کہیں غلط راستے پر نہ چل پڑنا۔ کیونکہ غلط راہ ہر صورت میں انسان کے لیے نقصان دہ ہے دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی، پھر نیکی میں یہ بھی شامل ہے کہ تم چاہے ایک فرد ہو یا ایک جماعت کی شکل میں ہو، ہر وقت اس مہم کو سامنے رکھو کہ جہاں بھی برائی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 102–109
آیات 102- 109
اسرارو معارف
یایھا الذین امنوا اتقو اللہ……………لعلکم تھتدون۔
جب تمہیں اس قدر اسباب ہدایت حاصل ہیں تو اے ایمان والو ! اللہ سے ڈرتے رہو جیسا اس سے ڈرنے کا حق ہے تقویٰ دراصل خوف محض کا نام نہیں بلکہ وہ تعلق جو بطفیل نبی کریم ﷺ بندے کو اللہ سے حاصل ہو اس کے ٹوٹ جانے کے ڈر کا نام ہے تعلیمات نبوی ﷺ کے ساتھ وہ کیفیات بھی جو وجود نبوی ﷺ کی برکات میں سے ہیں اور جن کے ورود سے دل بدل گئے ، مزاج بدلے ، خواہشات اور طلب بدل گئی۔ حتیٰ کہ دین پر عمل کرنا مزاج بن گیا اور گناہ طبعی طور پر سخت ناپسندیدہ ہوگیا۔ اب ان نعمتوں کو کبھی ضائع نہ ہونے دو ۔
بیشتر مفسرین کرام نے حضور اکرم ﷺ کا یہ ارشاد نقل…
Read the full tafseer →ف 5 یا یہ کہ دنیا اور آخرت کے معالات کی اصل حقیقت تم پر واضح کرنے کے لیے نازل فرماتے ہیں ،۔ (ابن کثیر)6 اور کفار کو جو سزا ملنے والی ہے اس سے ان کو آگاہ کردیا ہے تاکہ کسی پر ظلم نہ ہو (شواکانی) یعنی جہاد اور امر بالمعروف کا جو حکم فرمایا یہ ظلم نہیں خلق پر اس میں ان کی تربیت ہے۔ (موضح) جب اللہ تعالیٰ کو ہر چیز کا علم ہے اور ہر چیز پر قدرت حاصل ہے تو اسے کسی پر ظلم کرنے کی کیا ضرورت ہے۔ (ابن کثیر ٌ)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 104–110
(3:104) ولتکن منکم۔ لتکن میں لام امر ہے صیغہ واحد مؤنث غائب۔ امر غائب و متکلم معروف بناوٹ کے لحاظ سے کوئی مستقل فعل نہیں بلکہ ایک دوسرا نام مضارع بلام امر کا ہے لام امر و مضارع غائب و متکلم معروف کے آٹھوں صیغوں سے خاص ہے جو صیغہ ہائے واحد کو جزم دیتا ہے۔ جیسے لیکن (واحد مذکر غائب) لتکن (واحد مؤنث غائب) اور لاکن واحد متکلم۔ نون اعرابی کے سقوط اور نون ضمیری کی قائمی میں مثل لم کے عمل کرتا ہے۔ ولتکن۔ چاہیے کہ ہو ایک (جماعت) تم میں سے جو ۔۔
منکم۔ میں من تبیین کے لئے ہے تبعیض کے لئے نہیں۔ یعنی امر بالمعروف و نہی عن المنکر کا کام تمام امت پر واجب ہے کسی مخصوص جماعت کی ذمہ داری نہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 102–109
لغات القرآن آیت نمبر 102 تا 109
حق تقٰته (اس سے ڈرنے کا حق ادا کرکے) اعتصموا (تم مضبوط تھام لو) بحبل اللہ (اللہ کی رسی ، یعنی اللہ کے دین کو (مضبوط تھام لو) جمیع (سب کے سب اکٹھے ہوکر) لاتفرقوا (تم جداجدا نہ ہو) اعداء (آپس میں دشمن ) الف (اس نے محبت ڈال دی) اصبحتم (تم گئے) اخوان (بھائی بھائی) شفاء (کنارہ) حفرۃ (گڑھا) انقذ (اس نے بچالیا) ولتکن (ہونی چاہیے) امة (ایک جماعت) یدعون (بلاتے ہیں، دعوت دیتے ہیں) بالمعروف (نیکی کے ساتھ) ینھون (وہ روکتے ہیں) المنکر (برائی غلط راستہ) تبیض (سفید، چمک دار) وجوہ (چہرے (وجه کی جمع ہے) تسود (سیاہ) اکفرتم (کیا تم نے کفر کیا ؟ ) دوقوا (تم چکھو) ابیضت (سفید، چمک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 104–109
اشاعت اسلام کا ذکر
ان آیتوں میں ارشاد ہے کہ سب بہکانے والوں کا سرگروہ ابلیس ہے، انجان مسلمانوں کو بچانے کے لئے مسلمانوں میں ہمیشہ ایک ایسی جماعت ہونی چاہئے کہ دین کی باتوں کی لوگوں کو نصیحت اور فہمائش کیا کرے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 103–111
[39] اللہ کی رسی سے مراد قرآن مجید ہے۔ رسول اکرم ﷺ نے قرآن مجید کے بارے میں ارشاد فرمایا ہے '' ھو حبل اللہ المتین '' (یہ اللہ کی مضبوط رسی ہے) ۔ قرآن کو اللہ کی رسی اس لئے فرمایا کہ یہی چیز ہے جو بندوں کو خدا سے جوڑتی ہے۔ جس نے اس کو تھام لیا گویا اس نے خدا کا سہارا تھام لیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 105–110
حدود تبلیغ :
(ف 1) اس آیت میں تمام مسلمانوں کو فریضہ تبلیغ کی ادائیگی کے لئے آمادہ کیا ہے مگر خود تبلیغ کی حدود کیا ہیں ؟ یہ ایک سوال ہے ۔
قرآن حکیم نے تبلیغ و اشاعت کو دو لفظوں سے تعبیر کیا ہے ، امر بالمعروف اور نہی عن المنکر ۔ یعنی نیکی ‘ بھلائی اور سچائی کی تلقین اور برائی سے اظہار نفرت وتحقیر ۔
ظاہر ہے یہ دو لفظ انتہا درجہ کی وسعت اپنے اندر پنہاں رکھتے ہی ، معروف کا اطلاق نیک اقدام پر ہو سکتا ہے اور منکر کا ہر برے اقدام پر ، چونکہ ان دو لفظوں میں فرد وجماعت کی تمام نیکیاں اور برائیاں آجاتی ہیں ، اس لئے جواب بالکل آسان اور واضح ہے کہ تبلیغ کی حدود فرد وجماعت کی تمام وسعتوں پر حاوی و محیط…
Read the full tafseer →ف 2 یہ اللہ تعالیٰ کے ارشادات ہیں جو ہم آپ کو ٹھیک ٹھیک پڑھ کر سناتے ہیں اور ان کی آپ کے روبرو صحیح صحیح تلاوت کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ بندوں پر کسی قسم کا ظلم نہیں کرنا چاہتا لہٰذا جو سزا بندوں کو دی جاتی ہے اور جو سزا ان کے لئے تجویز کی جاتی ہے وہ بالکل مناسب اور عین انصاف کے موافق ہوتی ہے۔ (تیسیر)
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی جہاد اور امر بالمعروف کا جو حکم فرمایا یہ ظلم نہیں خلق پر ان کی تربیت ہے۔ (موضح القرآن)
حضرت شاہ صاحب (رح) نے اس آیت کو ولکن منکم کی آیت سے رابط دیا ہے۔ بہرحال حق تعالیٰ پر ظلم کا اطلاق تو کسی طرح ہو ہی نہیں سکتا کیونکہ وہ مطلق مالک ہے اس پر کوئی شئے واجب نہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 106–110
ف 1۔ یہ خطاب تمام امت محمدیہ کو عام ہے پھر ان میں سے صحابہ اول اور اشرف مخاطبین ہیں۔
Read the full tafseer →اللہ تعالیٰ رحیم و کریم ہے وہ کسی پر کبھی ظلم نہیں کرتا :
208: اللہ تعالیٰ کے فیصلے ہمیشہ عادلانہ اور حکیمانہ ہی ہوتے ہیں۔ اس نے انسانوں پر حق کھول کھول کر بیان فرمادیا اب جو کچھ کرے گا اس کا نتیجہ پائے گا یہ اس لیے کہ اسلام کا اللہ تمام تر رحیم ہے ، عادل ہے ، شفیق ہے۔ مشرک قوموں کے دیوی دیوتاؤں کی طرح ظالم خونحوار نہیں ہے قرآن کریم بار بار اللہ تعالیٰ کی تنزیہ کا اثبات ان صفات ذمیمہ سے ضرور سمجھتا ہے کیوں ؟ اس لیے کہ دوسرے مذاہب میں اللہ تعالیٰ کی صفات قہری بہت ہی زیادہ زور و قوت کے ساتھ جلوہ گر نظر آتی ہیں۔ ” بالحق “ اے بالصدق یعنی بالکل صحیح جس میں شک و شبہ کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔
مطلب یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 107–109
2. The sentence ففی رحمۃ اللہ (they rest in Allah's mercy) is immediately qualified by هُمْ فِيهَا خَالِدُونَ (they are there forever). This means that the mercy in which the believers shall rest will not be temporary; it would be forever and eternal. This blessing will never be taken away or reduced in their case. In contrast to this are those whose faces shall turn dark; for them, it has not be expressly mentioned if they shall be in that state forever.
Sinning man earns his own punishment:
The verse فَذُوقُوا الْعَذَابَ بِمَا كُنتُمْ تَكْفُرُونَ (106) (now taste the punishment because…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 106–108
87. Since God does not want to subject people to any wrong He illuminates the straight path of their salvation, and forewarns them of the matters for which they will be asked to render an account in the Hereafter. It is clear that if people abandon the path of rectitude they wrong no one but themselves.
Read the full tafseer →