Explained with ayahs 104–109
یوم آخرت منافق اور مومن کی پہچان
حضرت ضحاک فرماتے ہیں اس جماعت سے مراد خاص صحابہ اور خاص راویان حدیث ہیں یعنی مجاہد اور علماء امام ابو جعفر باقر ؒ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اس آیت کی تلاوت کی پھر فرمایا صبر سے مراد قرآن و حدیث کی اتباع ہے، یاد رہے کہ ہر ہر متنفس پر تبلیغ حق فرض ہے لیکن تاہم ایک جماعت تو خاص اسی کام میں مشغول رہنی چاہئے، رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں تم میں سے جو کوئی کسی برائی کو دیکھے اسے ہاتھ سے دفع کر دے اگر اس کی طاقت نہ ہو تو زبان سے روکے اگر یہ بھی نہ کرسکتا ہو تو اپنے دل سے نفرت کرے یہ ضعیف ایمان ہے، ایک اور روایت میں اس کے بعد یہ بھی ہے کہ اس کے بعد رائی کے دانے کے برابر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 109–110
سورة اٰلِ عِمْرٰن 88
یہ وہی مضمون جو سورة بقرہ کے سترھویں رکوع میں بیان ہوچکا ہے۔ نبی عربی ﷺ کے متبعین کو بتایا جا رہا ہے کہ دنیا کی امامت و رہنمائی کے جس منصب سے بنی اسرائیل اپنی نااہلی کے باعث معزول کیے جا چکے ہیں اس پر اب تم مامور کیے گئے ہو۔ اس لیے کے اخلاق و اعمال کے لحاظ سے اب تم دنیا میں سب سے بہتر انسانی گروہ بن گئے ہو اور تم میں وہ صفات پیدا ہوگئی ہیں جو امامت عادلہ کے لیے ضروری ہیں، یعنی نیکی کو قائم کرنے اور بدی کو مٹانے کا جذبہ و عمل اور اللہ وحدہ لاشریک کو اعتقاداً و عملاً اپنا الٰہ اور رب تسلیم کرنا۔ لہٰذا اب یہ کام تمہارے سپرد کیا گیا ہے اور تمہیں لازم ہے کہ اپنی ذمہ داریوں کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 107–109
تیسرا فائدہ یہ کہ اللہ تعالیٰ نے " ففی رحمۃ اللہ کے بعد ھم فیھا خلدون " فرماکر بتادیا کہ مومنین اللہ کی جس رحمت میں ہوں گے وہ ان کے لئے عارضی نہیں ہوگی بلکہ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ہوگی ان سے یہ نعمت کبھی سلب یا کم نہ کی جائے گی، اس کے بالمقابل اہل سواد کے لئے یہ تصریح نہیں فرمائی کہ وہ اس حال میں ہمیشہ رہیں گے۔ آدمی سزاد اپنے ہی گناہوں کی پاتا ہے
" فذوقوا العذاب بما کنتم تکفرون " میں اشارہ فرمادیا کہ آج کا عذاب ہماری طرف سے نہیں بلکہ تمہاری اپنی کمائی سے ہے جو دنیا میں کرتے رہے ہو، کیونکہ در حقیقت جنت و دوزخ کی نعمتیں اور مصائب درحقیقت ہمارے اعمال ہی کی بدلی ہوئی صورتیں ہیں، اسی بات پر متنبہ کرنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 106–109
تفسیر آیت 160 تا 109: مسلمانوں کو چند تنبیہات : نظمِ کلام کی روشنی میں ان آیات پر غور کیجیے تو مندرجہ ذیل حقائق سامنے آئیں گے۔ اول یہ کہ اعتصام بحبل اللہ سے محروم ہوجانے کے بعد اہل کتاب اختلاف و انتشار میں مبتلا ہوئے اور یہ انتشار و اختلاف در حقیقت ایمان کے بعد کفر کی طرف پلٹ جانے کے ہم معنی ہے۔ دوم یہ کہ جن لوگوں کو اللہ تعالیٰ یہ سرفرازی و سرخروئی بخشتا ہے کہ ان کے ہاتھ میں خود اپنی رسی پکڑاتا ہے اگر وہ اپنی شامت اعمال سے اس رسی کو چھوڑ کر دوسرے پھدنے اپنی گردنوں میں ڈال لیتے ہیں تو قیامت کے دن ان کو اسی درجے کی روسیاہی بھی حاصل ہوگی جس درجے کی ان کو سرخ روئی بخشی گئی تھی۔ چہرے روشن ان کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 107–110
110۔ 1 اس آیت میں امت مسلمہ کو ' خیر امت ' قرار دیا گیا ہے اور اس کی علت بھی بیان کردی گئی ہے جو امر بالمعروف نہی عن المنکر اور ایمان باللہ ہے۔ گویا یہ امت اگر ان امتیازی خصوصیات سے متصف رہے گی تو خیر امت ہے بصورت دیگر اس امتیاز سے محروم قرار پاسکتی ہے۔ اس کے بعد اہل کتاب کی مذمت سے بھی اسی نکتے کی وضاحت مقصود و معلوم ہوتی ہے کہ جو امر بالمعروف و نہی المنکر نہیں کرے گا، وہ بھی اہل کتاب کے مشابہ قرار پائے گا۔ ان کی صفت بیان کی گئی ہے۔ وہ ایک دوسرے کو برائی سے نہیں روکتے اور یہاں اسی آیت میں ان کی اکثریت کو فاسق کہا گیا ہے۔ امر بالمعروف یہ فرض عین ہے یا فرض کفایہ ؟ اکثر علماء کے خیال میں یہ فرض…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 107–113
37: اس سے مراد وہ اہل کتاب ہیں جو آنحضرت ﷺ پر ایمان لے آئے تھے، مثلاً یہودیوں میں سے حضرت عبداللہ بن سلام ؓ
Read the full tafseer →Explained with ayahs 108–109
یہ صورتیں ‘ یہ حقائق اور یہ نتائج اللہ کی یہ آیات اور اس کے یہ دلائل وبراہین ‘ یہ سب آپ پر سچائی اور صداقت کے ساتھ پڑھی جارہی ہیں ‘ یہ آیات جو اصول اور جو اقدار طے کررہی ہیں وہ حق ہیں اور اعمال کے جو نتائج اور جو جزاء وسزا یہ طے کررہی ہیں وہ بھی حق ہیں اور پیش آنے والے ہیں ۔ یہ آیات سچائی کے ساتھ اس ذات کی طرف سے نازل ہورہی ہیں ۔ وہ ذات اس نزول کی سزاوار ہے ۔ اور ہی اس بات کی مالک ہے کہ قدار کا تعین کرے ‘ وہی مستحق ہے کہ نتائج تک پہنچائے اور وہی اس بات کا حق رکھتا ہے کہ اعمال پر جزاء دے ۔ اللہ تعالیٰ کبھی اپنے بندوں پر ظلم کا ارادہ نہیں کرتا ‘ اس لئے کہ وہ حاکم عادل وہ امور سماوات اور امور…
Read the full tafseer →7 جب ہر چیز اللہ کی مخلوق و مملوک اور ہر کام کا انجام اسی کے ہاتھ میں ہے تو ظلم کیونکر اور کس لئے کیا جائے گا۔
Read the full tafseer →آیت 109 وَلِلّٰہِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الْاَرْضِ ط وَاِلَی اللّٰہِ تُرْجَعُ الْاُمُوْرُ
قرآن حکیم میں اہم مباحث کے بعد اکثر اس طرح کی آیات آتی ہیں۔ یہ گویا concluding remarks ہوتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 108–109
98 اسی لیے تو اس نے اپنے رسول بھیج کر اور کتابیں نازل کرکے لوگوں کو سیدھا راستہ بتلا دیا ہے اور اس بات سے آگاہ کردیا ہے کہ آخرت میں وہ کن امور کی باز پرس کرنے والا ہے۔ اس کے باوجود جو لوگ ہدایت کی راہ اختیار نہ کریں یا اپنے غلط طرز عمل یا معاندانہ روش سے بازنہ آئیں تو وہ اپنے آپ پر خود ظلم کرنے والے ہیں۔
لفظ ظلم بڑا وسیع مفہوم رکھتا ہے اور اس کی ضد عدل ہے اور اللہ تعالیٰ عادل ہے۔ ظالم نہیں۔ اس لئے اس سے ایسے افعال کا صدور ممکن ہی نہیں جس میں ظلم کا شائبہ تک پایا جاتا ہو۔ مثلاً وہ کسی مستحق رحمت کو سزا دے دے، یا زیادہ اجر کے مستحق کو تھوڑا اجر دے یا کم سزا کے مستحق کو زیادہ سزا دے دے وغیرہ…
Read the full tafseer →225 ۔ (اور کوئی دیوی دیوتا نہ اس مرجعیت امور میں اس کا شریک وسہیم ہے نہ آسمان و زمین کے کسی جزء کی ملک و تصرف میں) جاہلی قوموں کی ان گمراہیوں کا ذکر پچھلے حاشیوں میں بار بار آچکا ہے۔ (آیت) ” ترجع الامور “۔ میں تاکید اس امر کی ہے کہ آخری فیصلہ صرف اللہ تعالیٰ ہی کا ناطق ہوگا، کسی کو بھی اس میں دخل دینے کی مجال نہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 106–110
آیت نمبر 110 تا 120
ترجمہ : اے امت محمد ﷺ تم اللہ کے علم میں بہترین جماعت ہو جن کو لوگوں کے لیے نکالا گیا تم بھلائی کا حکم دیتے ہو اور برائی سے روکتے ہو اور اللہ پر ایمان رکھتے ہو اور اگر اہل کتاب بھی اللہ پر ایمان لے آتے تو ایمان لانا ان کے حق میں خوب ہوتا ان میں سے کچھ تو مومن ہیں جیسا کہ عبد اللہ بن سلام اور ان کے ساتھی۔ مگر اکثر ان میں سے نافرمان (یعنی کافر) ہیں۔ اے مسلمانو ! یہ یہود زبانی گالی گلوچ اور دھمکی کی خفیف سی اذیت کے سوا تم کو کچھ نقصان نہ پہنچا سکیں گے اور اگر وہ تم سے مقابلہ کریں گے تو تمہیں پیٹھ دکھا کر شکست خوردہ ہو کر بھاگ جائیں گے پھر ان کو تمہارے خلاف مدد بھی نہ پہنچ سکے…
Read the full tafseer →واللہ ما فی السموات و ما فی الارض اور آسمان و زمین میں جو کچھ ہے اللہ ہی کا ہے اسی کی مخلوق ہے اور اسی کی ملک۔
و الی اللہ ترجع الامور اور اللہ ہی کی طرف تمام امور کی آخری واپسی ہوگی پس وہی وعدہ اور وعید کے موافق جزا و سزا دے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 108–109
(108۔ 109) یہ اللہ تعالیٰ کی قرآنی آیات ہیں جن کو جبریل امین ؑ کے ذریعے حق اور باطل کے واضح کردینے کے لیے ہم آپ ﷺ پر نازل کرتے ہیں، اللہ تعالیٰ کی جانب سے جن وانس میں سے کسی سے بھی زیادتی نہیں ہوگی تمام مخلوقات اور یہ عجائبات اسی کی ملک ہیں اور آخرت میں تم سب کو اسی کی طرف لوٹنا ہے،
Read the full tafseer →وَلِلّٰهِ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَمَا فِي الْاَرْضِ ۭ۔۔ : یعنی جہاد میں خلق کی جان و مال تلف ہو تو مالک کے حکم سے ہے، ہر چیز اللہ کا مال ہے۔ (موضح)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 108–109
آیت نمبر : 108 تا 109۔
قولہ تعالیٰ (آیت) ” تلک ایت اللہ “۔ یہ مبتدا اور خبر ہے اور مراد قرآن کریم ہے۔ (آیت) ” نتلوھا علیک “۔ یعنی آپ پر جبریل امین کو نازل کرتے ہیں سو وہ آپ پر آیات پڑھتا ہے، (آیت) ” بالحق “۔ یعنی صدق وسچائی کے ساتھ، اور زجاج نے کہا ہے : (آیت) ” تلک ایت اللہ “ یہ آیت جو ذکر کی گئی ہیں اللہ تعالیٰ کی حجتیں اور اس کے دلائل ہیں۔
اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ (آیت) ” تلک “۔ بمعنی ھذہ ہے۔ لیکن جب یہ گزر گئیں تو اس طرح ہوگئیں گویا یہ دور اور بعید ہیں۔ لہذا (آیت) ” تلک “ ذکر کیا گیا ہے، اور یہ بھی جائز ہے کہ (آیت) ” ایت اللہ، تلک سے بدل ہو، اور وہ نعت اور صفت نہ ہو، کیونکہ مبہم مضاف کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 107–110
(1) عبد الرزاق وابن ابی شیبہ وعبد بن حمید والفریابی احمد نسائی ابن جریر ابن ابی حاتم ابن المنذر طبرانی نے اس کو صحیح کہا حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” کنتم خیر امۃ اخرجت للناس “ سے وہ صحابہ مراد ہیں جنہوں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کی۔
امت محمدیہ ﷺ خیر امت ہیں
(2) ابن جریر وابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا ہے کہ عمر بن خطاب ؓ نے فرمایا کہ اگر اللہ تعالیٰ چاہتے تو لفظ آیت ” انتم “ فرماتے تو ہم سب (اس میں شامل) ہوجاتے لیکن اللہ تعالیٰ نے فرمایا ” کنتم “ یہ صرف محمد ﷺ کے اصحاب کے لیے خاص ہیں اور جس نے ان جیسے اعمال کیے وہ بھی لفظ آیت ”…
Read the full tafseer →[وَلِلّٰہِ : اور اللہ کا ہی ہے ] [مَا : وہ (سب) جو ] [فِی السَّمٰوٰتِ : آسمانوں میں ہے ] [وَمَا : اور وہ (سب) جو
فِی الْاَرْضِ : زمین میں ہے ] [وَاِلَی اللّٰہِ : اور اللہ کی طرف ہی ] [تُرْجَعُ : لوٹائے جائیں گے ] [الْاُمُوْرُ : تمام کام ]
Read the full tafseer →پھر فرمایا : (وَ لِلّٰہِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ وَ اِلَی اللّٰہِ تُرْجَعُ الْاُمُوْرُ ) (کہ اللہ ہی کے لیے ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور زمین میں ہے اور اسی کی طرف تمام امور لوٹتے ہیں) وہ مالک اور متصرف ہے اسے سب اختیار ہے اپنی مخلوق میں جیسا تصرف کرے کوئی اسے روکنے والا نہیں) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 102–117
قال تعالی۔ یا ایھا الذین۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تا۔۔۔۔ ترجع الامور۔ آیت۔
ربط) گزشتہ آیات میں اللہ نے باہمی قتال وشقاق کو تکفرون یعنی کفر سے تعبیر فرمایا اب آئندہ آیت میں تقوی اور اعتصام بحبل اللہ یعنی اتفاق اور اتحاد اور اسلامی مواخات کا حکم دیتے ہیں اور اتفاق اور اتحاد کا ایک دستور العمل بتلاتے ہیں وہ یہ کہ اول تقوی اور اسلام پر مداومت اور استقامت کا حکم دیا اور پھر اعتصام بحبل اللہ کا حکم فرمایا کہ سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوط پکڑو پھر یہ ارشاد فرمایا، واذکر نعمتہ اللہ علیکم۔ الخ۔ آیت۔ جس میں حکم دیا کہ اتفاق اور اتحاد کی نعمت کو یاد کرو، اور اس نعمت کو اور اس کی برکات کو یاد کرکے موازنہ کرو کہ پہلے…
Read the full tafseer →160 یہ توحید پر پانچویں عقلی دلیل ہے۔ اور اس میں جار مجرور کی تقدیم افاہ حصر کے لیے ہے یعنی زمین و آسمان کی ساری کائنات صرف اللہ ہی کی ہے۔ ساری کائنات کو اللہ ہی نے پیدا فرمایا اور وہی ہر چیز کا مالک ہے اور ہر چیز میں متصرف اور مختار ہے ای لہ سبحانہ وحدہ ما فیھا من المخلوقات ملکا وخلقا وتصرفا (روح ص 27 ج 4) ۔
161 ۔ تمام معاملات کا فیصلہ اور تمام امور کا انجام خدا کے ہاتھ میں ہے۔ جب زمین و آسمان اور ساری کائنات کا خالق ومالک اور متصرف ومختار اللہ ہی ہے تو پھر وہی عبادت اور پکار کے لائق ہے اس لیے عبادت صرف اسی کی کرو اور ضرورتوں اور مصیبتوں میں صرف اسے ہی پکارو قال الشیخ۔ اس میں تشجیع علی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 105–109
ربط آیات :
گذشتہ دروس میں اہل کتاب کی اطاعت کرنے سے منع فرمایا گیا تھا۔ پھر تقوی اختیار کرنے کا حکم ہوا ، اور اللہ کی رسی یعنی قرآن کریم کو مضبوطی سے پکڑنے کی تلقین کی گئی۔ اس کے بعد فرمایا کہ امت مسلمہ میں سے ایک گروہ ضرور ایسا ہونا چاہیئے جو نیک کاموں کی طرف دعوت دے ، اچھے کاموں کا حکم کرتے رہیں اور برائی سے روکتے رہیں۔ اس طرحجماعت کا نظم بھی قائم رہے گا اور لوگ گمراہی سے بھی بچ جائیں گے۔ اب اہل ایمان سے مزید خطاب ہو رہا ہے۔ کہ یہود و نصاری کی طرح تم بھی آپس میں تفرقہ کا شکار نہ ہوجانا۔ اہل کتاب نے واضح احکام آجانے کے باوجود اپنی نفسانی خواہشات کی تکمیل کے لیے تفرقہ ڈالا۔ ان کے الگ الگ گروہ…
Read the full tafseer →وَلِلہِ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَمَا فِي الْاَرْضِ 0 ۭ وَاِلَى اللہِ تُرْجَعُ الْاُمُوْرُ 109 ۧ
سما
سَمَاءُ كلّ شيء : أعلاه، قال بعضهم : كلّ سماء بالإضافة إلى ما دونها فسماء، وبالإضافة إلى ما فوقها فأرض إلّا السّماء العلیا فإنها سماء بلا أرض، وحمل علی هذا قوله : اللَّهُ الَّذِي خَلَقَ سَبْعَ سَماواتٍ وَمِنَ الْأَرْضِ مِثْلَهُنَّ [ الطلاق/ 12] ،
( س م و ) سماء
ہر شے کے بالائی حصہ کو سماء کہا جاتا ہے ۔ بعض نے کہا ہے ( کہ یہ اسماء نسبیہ سے ہے ) کہ ہر سماء اپنے ماتحت کے لحاظ سے سماء ہے لیکن اپنے مافوق کے لحاظ سے ارض کہلاتا ہے ۔ بجز سماء علیا ( فلک الافلاک ) کے کہ وہ ہر لحاظ سے سماء ہی ہے اور کسی…
Read the full tafseer →1 ؎ ہر کام کا سلسلہ اسباب اسی کی طرف جا کر منتہی ہوتا ہے۔ 12 منہ
Read the full tafseer →Explained with ayahs 108–109
تِلْکَ اٰیٰتُ اللّٰہِ نَتْلُوْہَا عَلَیْـکَ بِالْحَقِّ ط وَمَا اللّٰہُ یُرِیْدُ ظُلْمًا لِّـلْعٰـلَمِیْنَ ۔ وَلِلّٰہِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الْاَرْضِ ط وَ اِلَی اللّٰہِ تُرْجَعُ الْاُمُوْرُ ۔ ع
(یہ اللہ کی آیات ہیں جو ہم تمہیں حق کے ساتھ سنا رہے ہیں اور اللہ جہان والوں پر کوئی ظلم نہیں کرنا چاہتا۔ اور اللہ ہی کے لیے ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے اور سارے معاملات اللہ کے حضور میں پیش کیے جاتے ہیں) (108 تا 109)
ایک اہم ترین سوال کا جواب
یہ اللہ کی آیات ہیں جنھیں ٹھیک ٹھیک ہم آپ پر پڑھ کر سنا رہے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان کے لیے سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ اس کی زندگی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 109–110
فہم القرآن
ربط کلام : گزشتہ سے پیوستہ جس میں امت محمدیہ کا مقام اور کام بتلایا گیا ہے۔
امام رازی ؓ نے ایک نظریہ پر اکٹھا ہونے والے لوگوں کو امت قرار دیا ہے یہاں مسلمانوں کو صرف ایک امت نہیں بلکہ امت خیر کے معزز ترین لقب سے ملقب فرمایا گیا ہے اور یہ اعزاز صرف اس امت کو حاصل ہوا ہے۔ اس اعتبار سے امت محمدیہ پہلی تمام امتوں پر برتر اور فضیلت کی حامل قرار پائی ہے۔ جس کی تین بنیادی وجوہات ہیں۔ (1) اللہ تعالیٰ پر کامل اور بلاشرکت غیرے ایمان لانا۔ (2) نیکی پر عمل پیرا ہو کر دوسروں کو اس کی دعوت دینا (3) برائی سے بچنا اور لوگوں کو اس سے منع کرنا، یہی امت کا اجتماعی فریضہ ہے۔ یہ فرض اتنا مشکل ‘ عالمگیر…
Read the full tafseer →109: وَلِلّٰہِ مَافِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الْاَرْضِ وَاِلَی اللّٰہِ تُرْجَعُ الْاُمُوْرُ ۔ (اور اللہ تعالیٰ ہی کیلئے ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے اور اللہ تعالیٰ کی طرف تمام امور لوٹائے جائینگے) پس وہ محسن کو اسکے احسان اور مجرم کو اسکی برائی پر سزا دیگا۔
قراءت : شامی اور حمزہ اور علی نے تَرْجِعُ ۔ تا کے فتحہ اور جیم کے کسرہ سے پڑھا ہے۔
اہم تنبیہ :
کَانَ سے زمانہ ماضی میں ابہام کے طور پر کسی شے کے وجود کی تعبیر کی جاتی ہے۔ اس میں عدم سابق اور انقطاع مستقبل کی کوئی دلیل نہیں۔ مطلب یہ ہے کَانَ کا زمانہ ماضی کے لیے آنا کسی چیز کے ثبوت پر تو دلالت کرتا ہے مگر اس سے یہ معلوم…
Read the full tafseer →(تفسیر) 109۔:
(آیت)” وللہ ما فی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ترجع الامور “۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 104–112
(104 ۔ 109) ۔ اوپر ذکر تھا کہ یہود نے انصار کے دو گروہ کو بہکا کر ان دو گروہ کو آپس میں لڑانے کی شرارت کی تھی مگر اللہ کے رسول کی فہمایش سے یہود کا وہ بہانہ چل نہ سکا۔ ان آیتوں میں ارشاد ہے کہ سب بہکانے والوں کے سر گروہ ابلیس علیہ اللعنہ اور شیاطین الجن والانس کے اغوا سے انجان مسلمانوں کو بچانے کے لئے مسلمانوں میں ہمیشہ کے تھے ایک جماعت ایسی ہونی چاہیے کہ دین کی باتوں کی لوگوں کو نصیحت اور فہمایش کیا کرے۔ اس سے زیادہ تفسیر اس باب میں آئندہ کی آیت کی تفسیر میں آتی ہے۔ 110۔ 112۔ خازن وغیرہ میں جو حدیثیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ مالک بن صیف اور وہب بن یہود یہودیوں نے ایک روز عبد اللہ بن مسعود ؓ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 109–111
آیت 109
یعنی آسمان اور زمین میں جو کچھ ہے، اس سب کا مالک وہی ہے۔ جس نے انہیں پیدا کیا، انہیں رزق دیا، اور اپنی قضاء و قدر کے مطابق اور اپنی شریعت اور احکام کے مطابق ان میں تصرف کرتا ہے۔ قیامت کے دن وہ اسی کے پاس واپس جائیں گے، پھر وہ انہیں اچھے اور برے اعمال کا بدلہ دے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 105–110
قول باری ہے (کنتم خیرامۃ اخرجت للناس تامرون بالمعروف وتنھون عن المنکر) قول باری (کنتم) کے معنی میں کئی وجوہ بیان کیے گئے ہیں۔ حسن سے مروی ہے کہ اس سے مراد کتب سابقہ جن میں مختلف امتوں کے متعلق بشارتیں آئی ہیں اور ان کے بارے میں خبریں دی گئی ہیں۔ ان میں ہم سب سے اخری امت ہیں لیکن اللہ کے نزدیک سب سے بڑھ کرمرتبے اور عزت والے ہیں۔ ہمیں عبداللہ بن محمد بن اسحق نے روایت بیان کی انہیں حسن بن ابی ربیع نے انہیں عبدالرزاق نے انہیں معمرنے بہزبن حکیم سے انہوں نے اپنے والد حکیم سے انہوں نے اپنے والد سے کہ انہوں نے حضور ﷺ کو آیت (کنتم خیرامۃ اخرجت للناس ، کے سلسلے میں فرماتے ہوئے سنا تھا کہ (انتم تتمون…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 108–109
225 اللہ کی آیتیں سراسر حق و صواب : کہ ان کا معنی و مضمون بھی سراسر حق و صواب ہے، اور ان کے سنانے کا مقصد بھی حق و صدق۔ اور ان کے سنانے کا طریق بھی سراسر حق اور سچ ہے۔ سو جو لوگ ان سے سبق نہیں لیتے تو یہ ان کے اپنے فہم و ادراک کا قصور ہے۔ اور جو لوگ ان آیات حق و صدق سے منہ موڑتے اور اعراض برتتے ہیں وہ سراسر اپنا ہی نقصان کرتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ بہر کیف کوئی مانے یا نہ مانے حق اور حقیقت بہرحال یہی ہے کہ یہ تنبیہات جو ان آیات کے ذریعے فرمائی گئی ہیں قطعی طور پر حق اور صدق ہیں اور جو لوگ ان کو نظر انداز کریں گے وہ اپنی ہولناک ناکامی اور روسیاہی کا معاملہ خود کریں گے اور اس کی ذمہ داری…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 104–109
نیکی اور بدی کا انجام
تشریح : ان آیات میں اللہ تعالیٰ پھر لوگوں کو نیکی کا حکم دیتے ہیں اور برائی سے منع کرتے ہوئے یاد دلاتے ہیں کہ حساب کا دن ضرور یاد رکھو اور جان لو کہ وہ دن ضرور آئے گا اور یہ بھی جان لو کہ بدلہ ملنے میں کسی شخص پر ظلم نہ کیا جائے گا۔ کیونکہ اللہ تو اپنے بندوں پر ہر وقت رحم و کرم کرنا چاہتا ہے اسی لیے ہر وقت خبردار کرتا ہے کہ دیکھو بھول کر کہیں غلط راستے پر نہ چل پڑنا۔ کیونکہ غلط راہ ہر صورت میں انسان کے لیے نقصان دہ ہے دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی، پھر نیکی میں یہ بھی شامل ہے کہ تم چاہے ایک فرد ہو یا ایک جماعت کی شکل میں ہو، ہر وقت اس مہم کو سامنے رکھو کہ جہاں بھی برائی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 102–109
آیات 102- 109
اسرارو معارف
یایھا الذین امنوا اتقو اللہ……………لعلکم تھتدون۔
جب تمہیں اس قدر اسباب ہدایت حاصل ہیں تو اے ایمان والو ! اللہ سے ڈرتے رہو جیسا اس سے ڈرنے کا حق ہے تقویٰ دراصل خوف محض کا نام نہیں بلکہ وہ تعلق جو بطفیل نبی کریم ﷺ بندے کو اللہ سے حاصل ہو اس کے ٹوٹ جانے کے ڈر کا نام ہے تعلیمات نبوی ﷺ کے ساتھ وہ کیفیات بھی جو وجود نبوی ﷺ کی برکات میں سے ہیں اور جن کے ورود سے دل بدل گئے ، مزاج بدلے ، خواہشات اور طلب بدل گئی۔ حتیٰ کہ دین پر عمل کرنا مزاج بن گیا اور گناہ طبعی طور پر سخت ناپسندیدہ ہوگیا۔ اب ان نعمتوں کو کبھی ضائع نہ ہونے دو ۔
بیشتر مفسرین کرام نے حضور اکرم ﷺ کا یہ ارشاد نقل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 109–110
ف 7 یعنی آنحضرت ﷺ چونکہ انبیائ سے افضل ہیں اس لیے امت محمدی علی صاحبھا الف تحیتہ وسلام تمام امتوں سے افضل اور بہتر ہے جیسا کہ حدیث تفضیل علی الا نبیا میں ہے وجعلت امتی خیر الا ھم کہ میری امت تمام امتوں سے بہتر بنائی گئی ہے نیز دیکھئے۔ بقرہ آیت 143) اور امت کی یہ فضیلت آیت میں مذکورہ صفات کی وجہ سے ہے ایک امر بالمعروف ونہی عن المنکر یعنی جہاد فی سبیل اللہ دوسری ایمان باللہ یعنی خالص توحید کا عقیدہ۔ ایمان اللہ میں اللہ تعالیٰ کے تمام رسول ( علیہ السلام) اور کتابوں پر ایمان لانا بھی داخل ہے حضرت عمر ؓ فرماتے ہیں جو شخص افضل امت میں داخل ہونا چاہتا ہے اسے چاہیے کہ اس مذکورہ شرط کو پورا کرے حضرت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 104–110
(3:104) ولتکن منکم۔ لتکن میں لام امر ہے صیغہ واحد مؤنث غائب۔ امر غائب و متکلم معروف بناوٹ کے لحاظ سے کوئی مستقل فعل نہیں بلکہ ایک دوسرا نام مضارع بلام امر کا ہے لام امر و مضارع غائب و متکلم معروف کے آٹھوں صیغوں سے خاص ہے جو صیغہ ہائے واحد کو جزم دیتا ہے۔ جیسے لیکن (واحد مذکر غائب) لتکن (واحد مؤنث غائب) اور لاکن واحد متکلم۔ نون اعرابی کے سقوط اور نون ضمیری کی قائمی میں مثل لم کے عمل کرتا ہے۔ ولتکن۔ چاہیے کہ ہو ایک (جماعت) تم میں سے جو ۔۔
منکم۔ میں من تبیین کے لئے ہے تبعیض کے لئے نہیں۔ یعنی امر بالمعروف و نہی عن المنکر کا کام تمام امت پر واجب ہے کسی مخصوص جماعت کی ذمہ داری نہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 102–109
لغات القرآن آیت نمبر 102 تا 109
حق تقٰته (اس سے ڈرنے کا حق ادا کرکے) اعتصموا (تم مضبوط تھام لو) بحبل اللہ (اللہ کی رسی ، یعنی اللہ کے دین کو (مضبوط تھام لو) جمیع (سب کے سب اکٹھے ہوکر) لاتفرقوا (تم جداجدا نہ ہو) اعداء (آپس میں دشمن ) الف (اس نے محبت ڈال دی) اصبحتم (تم گئے) اخوان (بھائی بھائی) شفاء (کنارہ) حفرۃ (گڑھا) انقذ (اس نے بچالیا) ولتکن (ہونی چاہیے) امة (ایک جماعت) یدعون (بلاتے ہیں، دعوت دیتے ہیں) بالمعروف (نیکی کے ساتھ) ینھون (وہ روکتے ہیں) المنکر (برائی غلط راستہ) تبیض (سفید، چمک دار) وجوہ (چہرے (وجه کی جمع ہے) تسود (سیاہ) اکفرتم (کیا تم نے کفر کیا ؟ ) دوقوا (تم چکھو) ابیضت (سفید، چمک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 104–109
اشاعت اسلام کا ذکر
ان آیتوں میں ارشاد ہے کہ سب بہکانے والوں کا سرگروہ ابلیس ہے، انجان مسلمانوں کو بچانے کے لئے مسلمانوں میں ہمیشہ ایک ایسی جماعت ہونی چاہئے کہ دین کی باتوں کی لوگوں کو نصیحت اور فہمائش کیا کرے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 103–111
[39] اللہ کی رسی سے مراد قرآن مجید ہے۔ رسول اکرم ﷺ نے قرآن مجید کے بارے میں ارشاد فرمایا ہے '' ھو حبل اللہ المتین '' (یہ اللہ کی مضبوط رسی ہے) ۔ قرآن کو اللہ کی رسی اس لئے فرمایا کہ یہی چیز ہے جو بندوں کو خدا سے جوڑتی ہے۔ جس نے اس کو تھام لیا گویا اس نے خدا کا سہارا تھام لیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 105–110
حدود تبلیغ :
(ف 1) اس آیت میں تمام مسلمانوں کو فریضہ تبلیغ کی ادائیگی کے لئے آمادہ کیا ہے مگر خود تبلیغ کی حدود کیا ہیں ؟ یہ ایک سوال ہے ۔
قرآن حکیم نے تبلیغ و اشاعت کو دو لفظوں سے تعبیر کیا ہے ، امر بالمعروف اور نہی عن المنکر ۔ یعنی نیکی ‘ بھلائی اور سچائی کی تلقین اور برائی سے اظہار نفرت وتحقیر ۔
ظاہر ہے یہ دو لفظ انتہا درجہ کی وسعت اپنے اندر پنہاں رکھتے ہی ، معروف کا اطلاق نیک اقدام پر ہو سکتا ہے اور منکر کا ہر برے اقدام پر ، چونکہ ان دو لفظوں میں فرد وجماعت کی تمام نیکیاں اور برائیاں آجاتی ہیں ، اس لئے جواب بالکل آسان اور واضح ہے کہ تبلیغ کی حدود فرد وجماعت کی تمام وسعتوں پر حاوی و محیط…
Read the full tafseer →ف 3 اور تمام مخلوقات جو بھی آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے سب حضرت حق تعالیٰ کی مملوک اور اس کی ملک ہے اور جملہ امور اور تمام مقدمات کی بازگشت اللہ تعالیٰ ہی کی طرف ہے۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں جہاد میں خلق کی جان اور مال تلف ہو تو مالک کے حکم سے ہے سب چیز مال اللہ کا ہے۔ (موضح القرآن)
حضرت شاہ صاحب (رح) نے چونکہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی تفسیر جہاد سے کی ہے اسی لئے اس کی مناسبت سے یہ شرح فرمائی ہے بہرحال جب تمام مخلوق اس کی ملک ہے تو اپنی ملک میں تصرف کرنا ہر اعتبار سے جائز ہے اس لئے وہاں ظلم کا صدور متحقق ہی نہیں ہوسکتا لہٰذا جو سزا تجویز ہوگی وہ عین انصاف ہوگا اور چونکہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 106–110
ف 1۔ یہ خطاب تمام امت محمدیہ کو عام ہے پھر ان میں سے صحابہ اول اور اشرف مخاطبین ہیں۔
Read the full tafseer →هر شے کا مالک حقیقی اللہ تعالیٰ ہی ہے :
209: آسمان ہو یا زمین کا خلا حتیٰ کہ زمین کے نیچے تخت الثریٰ ان میں جو کچھ ہے سب کا مالک حقیقی اللہ تعالیٰ ہی ہے اس لیے کہ وہی ان سب چیزوں کا خالق ہے اور ہرچیز اسی کی ملک ہے۔ اور کوئی دیوی دیوتا ، نبی ، ولی اور پیر فقیر اسکا شریک و سیہم ہیں جس طرح جاہلی قومیں سمجھتی ہیں اور ان سے مرادیں مانگتی ہیں۔ یہ اس لیے ارشاد فرمایا اور قرآن کریم میں اس کی بار بار اید دہانی کرائی جاتی ہے کیونکہ یہی وہ نظریہ ہے جو ہر طرح کے شرک کی جڑیں کاٹ کر رکھ دیتا ہے لیکن افسوس کہ انسان کو یہی بات سب سے زیادہ بھول جاتی ہے۔ پھر فرمایا کہ ” اللہ تعالیٰ ہی کی طرف سارے کام لوٹائے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 107–109
2. The sentence ففی رحمۃ اللہ (they rest in Allah's mercy) is immediately qualified by هُمْ فِيهَا خَالِدُونَ (they are there forever). This means that the mercy in which the believers shall rest will not be temporary; it would be forever and eternal. This blessing will never be taken away or reduced in their case. In contrast to this are those whose faces shall turn dark; for them, it has not be expressly mentioned if they shall be in that state forever.
Sinning man earns his own punishment:
The verse فَذُوقُوا الْعَذَابَ بِمَا كُنتُمْ تَكْفُرُونَ (106) (now taste the punishment because…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 109–110
88. This is the same declaration that was made earlier (see verse 2: 143 above). The Arabian Prophet (peace be on him) and his followers are informed that they are being assigned the guidance and leadership of the world, a position the Israelites had been relieved of because they had shown themselves unsuitable. The Muslims were charged with this responsibility because of their competence. They were the best people in terms of character and morals and had developed in theory and in practice the qualities essential for truly righteous leadership, namely the spirit and practical commitment to…
Read the full tafseer →