Explained with ayahs 110–112
سب سے بہتر شخص کون ؟ اور سب سے بہتر امت کا اعزاز کس کو ملا ؟
اللہ تعالیٰ خبر دے رہا ہے کہ امت محمدیہ تمام امتوں پر بہتر ہے صحیح بخاری شریف میں ہے حضرت ابوہریرہ ؓ اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں تم اوروں کے حق میں سب سے بہتر ہو تو لوگوں کی گردنیں پکڑ پکڑ کر اسلام کی طرف جھکاتے ہو، اور مفسرین بھی یہی فرماتے ہیں مطلب یہ ہے کہ تم تمام امتوں سے بہتر ہو اور سب سے زیادہ لوگوں کو نفع پہنچانے والے ہو، ابو لہب کی بیٹی حضرت درہ ؓ فرماتی ہیں ایک مرتبہ کسی نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا آپ اس وقت منبر پر تھے کہ حضور ﷺ کونسا شخص بہتر ہے ؟ آپ نے فرمایا سب لوگوں سے بہتر وہ شخص ہے جو سب سے زیادہ قاری قرآن ہو سب سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 109–110
سورة اٰلِ عِمْرٰن 88
یہ وہی مضمون جو سورة بقرہ کے سترھویں رکوع میں بیان ہوچکا ہے۔ نبی عربی ﷺ کے متبعین کو بتایا جا رہا ہے کہ دنیا کی امامت و رہنمائی کے جس منصب سے بنی اسرائیل اپنی نااہلی کے باعث معزول کیے جا چکے ہیں اس پر اب تم مامور کیے گئے ہو۔ اس لیے کے اخلاق و اعمال کے لحاظ سے اب تم دنیا میں سب سے بہتر انسانی گروہ بن گئے ہو اور تم میں وہ صفات پیدا ہوگئی ہیں جو امامت عادلہ کے لیے ضروری ہیں، یعنی نیکی کو قائم کرنے اور بدی کو مٹانے کا جذبہ و عمل اور اللہ وحدہ لاشریک کو اعتقاداً و عملاً اپنا الٰہ اور رب تسلیم کرنا۔ لہٰذا اب یہ کام تمہارے سپرد کیا گیا ہے اور تمہیں لازم ہے کہ اپنی ذمہ داریوں کو…
Read the full tafseer →ربط آیات
سابقہ آیات میں مسلمانوں کو ایمان پر ثابت قدم رہنے اور امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا خاص اہتمام کرنے کی ہدایت تھی، اس آیت میں اس کی مزید تاکید اس طرح کی گئی ہے کہ امت محمدیہ علی صاحبہا الصلوۃ والسلام کو جو حق تعالیٰ نے تمام امتوں سے افضل و اعلی اور خیر الامم قرار دیا ہے اس کی بڑی وجہ ان کی یہی صفات ہیں۔
خلاصہ تفسیر
(اے امت محمدیہ) تم لوگ (سب اہل مذاہب سے) اچھی جماعت ہو کہ وہ جماعت (عام) لوگوں کے (نفع ہدایت پہنچانے کے لئے) ظاہر کی گئی ہے (اور نفع پہنچانا جو اس امت کے خیر اور افضل ہونے کی وجہ سے اس کی صورت یہ ہے کہ) تم لوگ (بمقتضائے شریعت زیادہ اہتمام کے ساتھ) نیک کاموں کو بتلاتے…
Read the full tafseer →’ کان ‘ یہاں تامہ ہے جس طرح کَانَ اللّٰہُ عَلِیْمًا حَکِیْماً میں ہے۔ خَیْرَ اُمَّۃٍ میں اشارہ اس حقیقت کی طرف ہے کہ اب دین کی صحیح شاہراہ پر تمہی ہو۔ اللہ نے جو دین نازل فرمایا تھا، اہل کتاب نے اس میں کج پیچ کی راہیں نکال کر اصلی دین کو گم کردیا۔ اب خلق کی رہنمائی کے لیے خدا نے تم کو کھڑا کیا ہے۔ اسی حقیقت کو سورة بقرہ میں کذلک جعلناکم امۃ وسطا لتکونوا شہداء علی الناس الایہ کے الفاظ سے واضح فرمایا ہے۔ وہاں ہم لکھ چکے ہیں کہ یہ امت چونکہ ٹھیک نقطہ اعتدال اور وسط شاہراہ پر ہے اس وجہ سے یہ خیر امت ہے۔ لِلنَّاسِ میں ایک مضاف محذوف ہے یعنی لوگوں کی اصلاح، رہنمائی اور ان پر اللہ کے دین کی گواہی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 107–110
110۔ 1 اس آیت میں امت مسلمہ کو ' خیر امت ' قرار دیا گیا ہے اور اس کی علت بھی بیان کردی گئی ہے جو امر بالمعروف نہی عن المنکر اور ایمان باللہ ہے۔ گویا یہ امت اگر ان امتیازی خصوصیات سے متصف رہے گی تو خیر امت ہے بصورت دیگر اس امتیاز سے محروم قرار پاسکتی ہے۔ اس کے بعد اہل کتاب کی مذمت سے بھی اسی نکتے کی وضاحت مقصود و معلوم ہوتی ہے کہ جو امر بالمعروف و نہی المنکر نہیں کرے گا، وہ بھی اہل کتاب کے مشابہ قرار پائے گا۔ ان کی صفت بیان کی گئی ہے۔ وہ ایک دوسرے کو برائی سے نہیں روکتے اور یہاں اسی آیت میں ان کی اکثریت کو فاسق کہا گیا ہے۔ امر بالمعروف یہ فرض عین ہے یا فرض کفایہ ؟ اکثر علماء کے خیال میں یہ فرض…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 107–113
37: اس سے مراد وہ اہل کتاب ہیں جو آنحضرت ﷺ پر ایمان لے آئے تھے، مثلاً یہودیوں میں سے حضرت عبداللہ بن سلام ؓ
Read the full tafseer →ان آیات کے ابتدائی حصہ میں ‘ جماعت مسلمہ کے کاندھوں پر ایک بھاری بوجھ ڈالا گیا ہے اور یہ بوجھ اس لئے ڈالا گیا ہے کہ اللہ نے اس جماعت کو مکرم اور معزز بنایا ہے اور اسے ایسا مقام و مرتبہ دیا گیا ہے ‘ جس پر آج تک کوئی دوسری جماعت فائز نہیں ہوسکی۔
كُنْتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَتَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَتُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ
” اب دنیا میں وہ بہتر گروہ تم ہو ‘ انسانوں کی ہدایت اور اصلاح کے لئے میدان میں لایا گیا ہے ۔ تم نیکی کا حکم دیتے ہو ‘ بدی سے روکتے ہو ‘ اور اللہ پر ایمان رکھتے ہو۔ “
یہاں اخرجت صیغہ ماضی مجہول لایا گیا ہے ۔ اور یہ ایک خاص تعبیر…
Read the full tafseer →8 گزشتہ رکوع کے شروع میں فرمایا تھا (يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ حَقَّ تُقٰتِھٖ وَلَا تَمُوْتُنَّ اِلَّا وَاَنْتُمْ مُّسْلِمُوْنَ ) 3 ۔ آل عمران :102) ۔ درمیان میں اسی کے مناسب کچھ اوامرو نواہی اور وعد و عید آگئی، یہاں سے پھر اسی اول مضمون کی تکمیل کی جاتی ہے۔ یعنی اے مسلمانو ! خدا تعالیٰ نے تم کو تمام امتوں میں بہترین امت قرار دیا ہے اس کے علم ازلی میں پہلے سے ہی یہ مقدر ہوچکا تھا جسکی خبر بعض انبیائے سابقین کو بھی دے دی گئی تھی کہ جس طرح نبی آخرالزماں محمد رسول اللہ ﷺ تمام نبیوں سے افضل ہوں گے۔ آپ کی امت بھی جملہ امم و اقوام پر سبقت لے جائے گی کیونکہ اس کو سب سے اشرف…
Read the full tafseer →آیت 110 کُنْتُمْ خَیْرَ اُمَّۃٍ اُخْرِجَتْ للنَّاسِ
یہاں امت مسلمہ کی غرض تأسیس بیان کی جا رہی ہے۔ یعنی یہ پوری امت مسلمہ اس مقصد کے لیے بنائی گئی تھی۔ یہ دوسری بات ہے کہ امت مسلمہ اپنا مقصد حیات بھول جائے۔ ایسی صورت میں امت میں سے جو بھی جاگ جائیں وہ دوسروں کو جگا کرامت کے اندر ایک امت Ummah within Ummah بنائیں اور مذکورہ بالا تین کام کریں۔ لیکن حقیقت میں تو مجموعی طور پر اس امت مسلمہ کا فرض منصبی ہی یہی ہے۔
قبل ازیں ہم سورة البقرۃ کی آیت 143 میں امت مسلمہ کا فرض منصبی بایں الفاظ پڑھ چکے ہیں : وَکَذٰلِکَ جَعَلْنٰکُمْ اُمَّۃً وَّسَطًا لِّتَکُوْنُوْا شُہَدَآءَ عَلَی النَّاسِ وَیَکُوْنَ…
Read the full tafseer →99 غور فرمائیے اللہ پر ایمان لانا سب باقی اعمال و افعال سے مقدم ہے۔ لیکن امربالمعروف اور نہی عن المنکر کا ذکر محض اس لیے پہلے کیا گیا کہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی اہمیت کو واضح کرنا مقصود تھا۔ ساتھ ہی یہ وضاحت بھی فرما دی کہ اے مسلمانو ! تم بہترین امت صرف اس لیے ہو کہ تم برے کاموں سے منع کرتے ہو اور اچھے کاموں کا حکم دیتے ہو۔ بالفاظ دیگر اس کا مطلب یہ ہوا کہ جب تک مسلمان اچھے کاموں کا حکم دیتے اور برے کاموں سے روکتے رہیں گے وہ بہترین امت رہیں گے اور جب انہوں نے اس فریضہ سے کوتاہی کی تو پھر بہترین امت نہیں رہیں گے۔ برے کاموں سے مراد کفر، شرک، بدعات، رسوم قبیحہ، فسق و فجور ہر قسم کی…
Read the full tafseer →226 ۔ یعنی تم اس لیے بنائے گئے ہو کہ لوگ تمہارے نقش قدم پر چلیں۔ تم ساری دنیا کے لیے ایک نمونہ بنا کر بھیجے گئے ہو، خطاب امت محمدی ﷺ اور ملت اسلامی سے ہے۔ (آیت) ” کنتم “۔ کان یہاں یا تو زائد ہے یا تامہ استعمال ہوا ہے اور اگر ناقصہ ہے جب بھی مراد دوام نسبت ہے۔ قیل ھو کان التامۃ المعنی خلقتم ووجدتم خیر امۃ وقیل کان زائدۃ المعنی انتم خیر امۃ (قرطبی) لایراد ھھنا الدلالۃ علی معنی الزائد و انقطاع النسبۃ بل المراد دوام النسبۃ (بحر)
227 ۔ (پورا پورا جیسا کہ حق ہے ایمان باللہ کا) آیت کے اس جزء میں امت اسلامی کی اعتقادی، اخلاقی اور عملی زندگی کے کامل ومکمل ہونے کا پورا فوٹو آگیا۔ مطلب یہ ہوا کہ اے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 106–110
آیت نمبر 110 تا 120
ترجمہ : اے امت محمد ﷺ تم اللہ کے علم میں بہترین جماعت ہو جن کو لوگوں کے لیے نکالا گیا تم بھلائی کا حکم دیتے ہو اور برائی سے روکتے ہو اور اللہ پر ایمان رکھتے ہو اور اگر اہل کتاب بھی اللہ پر ایمان لے آتے تو ایمان لانا ان کے حق میں خوب ہوتا ان میں سے کچھ تو مومن ہیں جیسا کہ عبد اللہ بن سلام اور ان کے ساتھی۔ مگر اکثر ان میں سے نافرمان (یعنی کافر) ہیں۔ اے مسلمانو ! یہ یہود زبانی گالی گلوچ اور دھمکی کی خفیف سی اذیت کے سوا تم کو کچھ نقصان نہ پہنچا سکیں گے اور اگر وہ تم سے مقابلہ کریں گے تو تمہیں پیٹھ دکھا کر شکست خوردہ ہو کر بھاگ جائیں گے پھر ان کو تمہارے خلاف مدد بھی نہ پہنچ سکے…
Read the full tafseer →کنتم خیر امۃ بغوی نے عکرمہ کا بیان نقل کیا ہے کہ مالک بن الضیف اور وہب بن یہود یہودی تھے ان دونوں نے حضرت ابن مسعود اور حضرت معاذ بن جبل اور حضرت سالم مولی ابی حذیفہ سے کہا ہم تم سے افضل ہیں اور ہمارا مذہب اس دین سے بہتر ہے جس کی دعوت تم ہم کو دیتے ہو۔ اس پر مندرجہ آیت نازل ہوئی خیر کی اضافت امت کی جانب اضافت صفت الی الموصوف ہے (یعنی واقع میں معنی کے لحاظ سے خیر صفت اور امت موصوف ہے) ۔
ایک شبہ کنتم ماضی کا صیغہ ہے یعنی ماضی میں تم بہترین امت تھے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اب بہترین نہیں رہے نہ آئندہ بہترین رہنے کی کوئی صراحت ہے۔
جواب بیشک کان ماضی ہے جو زمانہ ماضی میں کسی چیز کے ثبوت پر دلالت…
Read the full tafseer →(110) تم لوگوں کے لیے بہترین جماعت ہو، اب اسی بہتر ہی کو بیان فرماتے ہیں کہ تم توحید اور رسول اکرم ﷺ کی پیروی کا حکم کفر و شرک اور رسول اللہ ﷺ مخالفت سے روکتے ہو اور اللہ تعالیٰ اور تمام رسولوں اور تمام رسولوں اور تمام کتابوں پر ایمان رکھتے ہو۔
اور اگر یہود ونصاری ایمان لے آئیں تو ان لیے اچھا ہے، ان میں سے بعض مثلا عبداللہ بن سلام اور ان کے ساتھ مومن اور اکثر کافر ہیں۔
Read the full tafseer →كُنْتُمْ خَيْرَ اُمَّةٍ۔۔ : یعنی یہ امت ہر امت سے بہتر ہے۔ انہی دو صفات میں، امر بالمعروف (یعنی جہاد) اور ایمان (یعنی توحید کا تقید پابندی) اس قدر کسی اور دین میں نہیں۔ (موضح) ان دو صفتوں سے پہلے ایک اور صفت بھی ذکر فرمائی ہے اور وہ ہے ”اُخْرِجَتْ للنَّاسِ“ یعنی یہ امت پیدا ہی لوگوں کی خیر خواہی اور اصلاح کے لیے کی گئی ہے۔ یاد رہے ! امر بالمعروف اور نہی عن المنکر سے مراد جہاد ہے، وہ ہاتھ سے ہو یا زبان سے یا دل سے۔ ابوہریرہ ؓ نے اس آیت کی یہی تفسیر بیان کرتے ہوئے فرمایا : (خَیْرَ النَّاس للنَّاسِ تَأْتُوْنَ بِہِمْ فِی السَّلاَسِلِ فِیْ أَعْنَاقِہِمْ حَتّٰی یَدْخُلُوْا فِی الْاِسْلاَمِ) […
Read the full tafseer →آیت نمبر : 110۔
قولہ تعالیٰ : کنتم خیر امۃ اخرجت للناس :
اس میں تین مسائل ہیں۔
مسئلہ نمبر : (1) ترمذی نے بھزبن حکیم عن ابیہ عن جدہ کی سند سے یہ روایت بیان کی ہے کہ انہوں نے قول باری تعالیٰ قولہ تعالیٰ : کنتم خیر امۃ اخرجت للناس : کے بارے میں رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ آپ نے فرمایا : ” تم ستر امتوں کو مکمل کرنے والے ہو تم ان میں بہت ہو اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک ان سے زیادہ مکرم ومحترم ہو “ اور امام ترمذی نے کہا : یہ حدیث حسن ہے۔ (1) (جامع ترمذی، کتاب تفسیر القرآن من سورة ال عمران، جلد 2، صفحہ 125، اسلام آباد، ایضا، ابن ماجہ حدیث 4277، ضیاء القرآن پبلی کیشنز)
اور حضرت ابوہریرہ ؓ نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 107–110
(1) عبد الرزاق وابن ابی شیبہ وعبد بن حمید والفریابی احمد نسائی ابن جریر ابن ابی حاتم ابن المنذر طبرانی نے اس کو صحیح کہا حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” کنتم خیر امۃ اخرجت للناس “ سے وہ صحابہ مراد ہیں جنہوں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کی۔
امت محمدیہ ﷺ خیر امت ہیں
(2) ابن جریر وابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا ہے کہ عمر بن خطاب ؓ نے فرمایا کہ اگر اللہ تعالیٰ چاہتے تو لفظ آیت ” انتم “ فرماتے تو ہم سب (اس میں شامل) ہوجاتے لیکن اللہ تعالیٰ نے فرمایا ” کنتم “ یہ صرف محمد ﷺ کے اصحاب کے لیے خاص ہیں اور جس نے ان جیسے اعمال کیے وہ بھی لفظ آیت ”…
Read the full tafseer →[کُنْتُمْ : تم لوگ ] [خَیْرَ اُمَّۃٍ : ایک ایسی بہترین امت ہو جو ] [اُخْرِجَتْ : نکالی گئی ] [لِلنَّاسِ : لوگوں کے لیے ] [تَاْمُرُوْنَ : تم لوگ تلقین کرتے ہو ] [بِالْمَعْرُوْفِ : نیکی کی ] [وَتَنْہَوْنَ : اور منع کرتے ہو ] [عَنِ الْمُنْکَرِ : برائی سے ] [وَتُؤْمِنُوْنَ : اور تم لوگ ایمان لاتے ہو ] [بِاللّٰہِِ : اللہ پر ] [وَلَـوْ : اور اگر ] [اٰمَنَ : ایمان لاتے ] [اَہْلُ الْکِتٰبِ : اہل کتاب ] [لَـکَانَ خَیْرًا : تو یقینا بہتر ہوتا ] [لَّــہُمْ ط : ان کے لیے ] [مِنْہُمُ : ان میں سے
الْمُؤْمِنُوْنَ : ایمان لانے والے (بھی) ہیں ] [وَ : اور (یعنی جبکہ) ] [ؐاکْثَرُہُمُ : ان کی اکثریت ]…
Read the full tafseer →امت محمدیہ کی امتیازی صفات
اس آیت شریفہ میں امت محمدیہ کو (خَیْرَ اُمَّۃٍ ) فرمایا ہے اور اس امت کا نبی بھی خیر الانبیاء اور سید الانبیاء ہے۔ جس کا آیت (لَتُؤْمِنُنَّ بِہٖ وَ لَتَنْصُرُنَّہٗ ) میں ذکر فرمایا ہے، نیز آنحضرت سرور عالم ﷺ نے فرمایا اَنَا سید ولد اٰدم یوم القیامہ کہ میں قیامت کے دن آدم کی تمام اولاد کا سردار ہوں گا (رواہ مسلم 245: ج 2) نیز آپ نے ارشاد فرمایا کہ قیامت کے دن میں آدم کی تمام اولاد کا سردار ہوں گا اور بطور فخر کے نہیں کہہ رہا ہوں اور میرے ہاتھ میں حمد کا جھنڈا ہوگا اور بطور فخر کے نہیں کہہ رہا ہوں اور اس دن آدم ہوں یا ان کے علاوہ کوئی اور نبی ہو سب میرے جھنڈے کے نیچے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 102–117
قال تعالی۔ یا ایھا الذین۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تا۔۔۔۔ ترجع الامور۔ آیت۔
ربط) گزشتہ آیات میں اللہ نے باہمی قتال وشقاق کو تکفرون یعنی کفر سے تعبیر فرمایا اب آئندہ آیت میں تقوی اور اعتصام بحبل اللہ یعنی اتفاق اور اتحاد اور اسلامی مواخات کا حکم دیتے ہیں اور اتفاق اور اتحاد کا ایک دستور العمل بتلاتے ہیں وہ یہ کہ اول تقوی اور اسلام پر مداومت اور استقامت کا حکم دیا اور پھر اعتصام بحبل اللہ کا حکم فرمایا کہ سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوط پکڑو پھر یہ ارشاد فرمایا، واذکر نعمتہ اللہ علیکم۔ الخ۔ آیت۔ جس میں حکم دیا کہ اتفاق اور اتحاد کی نعمت کو یاد کرو، اور اس نعمت کو اور اس کی برکات کو یاد کرکے موازنہ کرو کہ پہلے…
Read the full tafseer →162 لِلنَّاسِ ، خَیْرَ اُمَّةٍ سے متعلق ہے جیسا کہ ابن عباس، ابوہریرہ ، مجاہد، عطاء، عکرمہ اور ربیع ؓ سے منقول ہے۔ یعنی خیر الناس للناس والمعنی انھم خیر الامم وانفع الناس للناس (ابن کثیر ص 391 ج 1) یعنی تم ایک ایسی امت ہو جو سب امتوں سے بہتر ہو اور تمام امتوں سے بڑھ کر لوگوں کے لیے مفید اور نفع رساں ہو۔ حضرت شیخ فرماتے ہیں یہاں فلتکونوا علی ذلک محذوف ہے۔ یعنی تم اسی پر قائم رہو اور تمہارا شیوہ یہی رہے کہ توحید بیان کرتے رہو اور توحید کی خاطر مشرکین سے جہاد میں مصروف رہو۔
163 یہ جملہ مستانفہ ہے اور اس میں امت مسلمہ کے افضل اور خیر الامم ہونے کی علت بیان کی گئی ہے۔ ھذا کلام مستانف والمقصود منہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 110–111
ربط آیات :
اللہ تعالیٰ نے اہل کتاب کی باتوں کو ماننے سے منع فرمایا اور اس کے نقصانات کا تزکرہ بھی کیا۔ پھر اللہ سے کماحقہ ڈرنے کا حکم دیا اور قرآن پاک کو مضبوطی سے پکڑنے کی وصیت کی۔ تفرقہ بازی کی ممانعت فرمائی ، اور حکم دیا کہ تمہارے درمیان ہر وقت ایک ایسا گروہ جرور ہونا چاہیئے جو لوگوں کو خیر کی طرف دعوت دیتے رہیں ، معروف کا حکم کرتے رہیں اور بری باتوں سے منع کرتے رہیں۔ اس کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے اہل کتاب کی حالت یاد دلا کر فرمایا کہ ان کی طرح نہ ہونا جنہوں نے تفرقہ ڈالا ، اور واضح احکامات آجانے کے بعد اختلاف کیا۔ یہ لوگ ناکام ہیں اور خدا کے عذاب کے مستحق بھی۔
گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے…
Read the full tafseer →كُنْتُمْ خَيْرَ اُمَّۃٍ اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَتَنْہَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَتُؤْمِنُوْنَ بِاللہِ 0 ۭ وَلَوْ اٰمَنَ اَھْلُ الْكِتٰبِ لَكَانَ خَيْرًا لَّھُمْ 0 ۭ مِنْھُمُ الْمُؤْمِنُوْنَ وَاَكْثَرُھُمُ الْفٰسِقُوْنَ 110
خير
الخَيْرُ : ما يرغب فيه الكلّ ، کالعقل مثلا، والعدل، والفضل، والشیء النافع، وضدّه :
الشرّ. قيل : والخیر ضربان : خير مطلق، وهو أن يكون مرغوبا فيه بكلّ حال، وعند کلّ أحد کما وصف عليه السلام به الجنة فقال : «لا خير بخیر بعده النار، ولا شرّ بشرّ بعده الجنة» . وخیر وشرّ مقيّدان، وهو أن يكون خيرا لواحد شرّا لآخر، کالمال الذي ربما يكون خيرا لزید…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 110–112
ترکیب : کنتم اسکا اسم انتم خیر امۃ خبر ای فی علمی و قیل حرتم کان زائدہ ہے ای انتم خیر امۃ اخرجت الخ امت کی صفت الاذی کا استثناء اشیائِ محذوف سے ہے۔
تفسیر : پیشین گوئی : اول فرمایا تھا کہ جن کے منہ روشن ہوں گے وہ ہمیشہ جنت میں رہیں گے۔ یہاں اس کی وجہ اور علت فرماتا ہے کہ یہ نورانیت تم کو اس لئے حاصل ہوئی کہ تم دنیا میں کمال اور درجہ سعادت حاصل کرچکے ہو۔ برخلاف اہل کتاب کے کہ ان کو یہ سعادت نصیب نہیں۔ گرچہ کسی قدر ان میں ایماندار ہیں مگر اکثر تو فاسق و فاجر ہیں۔ سو اس اتفاق کی بدولت وہ تم کو کچھ بھی ضرر نہ دے سکیں گے مگر کچھ زبانی طعن وتشنیع سے دل شکنی کریں تو کریں اور جو تم سے لڑیں گے بھی تو…
Read the full tafseer →کُنْتُمْ خَیْرَ اُمَّۃٍ اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَتَنْہَوْنَ عَنِ الْمُنْـکَرِ وَتُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰہِ ط وَلَوْ اٰمَنَ اَہْلُ الْـکِتٰبِ لَـکَانَ خَیْرًا لَّہُمْ ط مِنْہُمُ الْمُؤْمِنُوْنَ وَاَکْثَرُہُمُ الْفٰسِقُوْنَ ۔
(تم بہترین امت ہو جسے لوگوں کی راہنمائی کے لیے نکالا گیا ہے۔ معروف کا حکم دیتے ہو منکر سے روکتے ہو اور اللہ پر ایمان رکھتے ہو اور اگر اہل کتاب بھی ایمان لاتے تو ان کے لیے بہتر ہوتا، ان میں سے کچھ تو مومن ہیں اور اکثر نافرمان ہیں) (110)
بنی اسرائیل کی منصب ِ امامت سے معزولی اور امت ِ مسلمہ کا تقرر
سیاقِ کلام دیکھتے ہوئے یہ بات پورے اطمینان سے کہی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 109–110
فہم القرآن
ربط کلام : گزشتہ سے پیوستہ جس میں امت محمدیہ کا مقام اور کام بتلایا گیا ہے۔
امام رازی ؓ نے ایک نظریہ پر اکٹھا ہونے والے لوگوں کو امت قرار دیا ہے یہاں مسلمانوں کو صرف ایک امت نہیں بلکہ امت خیر کے معزز ترین لقب سے ملقب فرمایا گیا ہے اور یہ اعزاز صرف اس امت کو حاصل ہوا ہے۔ اس اعتبار سے امت محمدیہ پہلی تمام امتوں پر برتر اور فضیلت کی حامل قرار پائی ہے۔ جس کی تین بنیادی وجوہات ہیں۔ (1) اللہ تعالیٰ پر کامل اور بلاشرکت غیرے ایمان لانا۔ (2) نیکی پر عمل پیرا ہو کر دوسروں کو اس کی دعوت دینا (3) برائی سے بچنا اور لوگوں کو اس سے منع کرنا، یہی امت کا اجتماعی فریضہ ہے۔ یہ فرض اتنا مشکل ‘ عالمگیر…
Read the full tafseer →بہترین امت کا لقب :
110: کُنْتُمْ خَیْرَ اُمَّۃٍ اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَاْ مُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَ تَنْھَوْنَ عَنِ الْمُنْکَرِ وَتُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰہِ وَلَوْٰامَنَ اَھْلُ الْکِتٰبِ لَکَانَ خَیْرًا لَّھُمْ مِنْھُمُ الْمُؤْمِنُوْنَ وَاَکْثَرُ ھُمُ الْفٰسِقُوْنَ ۔ (کہ تم بہترین امت ہو) (اور تھے اور ہوگے) گویا اس آیت میں کُنْتُمْ کہہ کر یہ کہا گیا تم بہترین امت پائے گئے یا تم اللہ تعالیٰ کے علم میں بہترین امت تھے۔ یا لوح محفوظ میں بہترین امت تھے۔ یا تم بہترین امت ہو ان امتوں میں جو تم سے قبل ہو گزریں اس لئے کہ تم خیر امت کی صفت سے موصوف ہو۔ اُخْرِجَتْ تم ظاہر کی گئی ہو۔ لِلنَّاسِ (لوگوں…
Read the full tafseer →(شان نزول)
110۔ (آیت)” کنتم خیر امۃ اخرجت للناس “۔
عکرمہ اور مقاتل (رح) کا قول ہے کہ اس آیت کا نزول حضرت ابن مسعود ؓ ، حضرت ابی بن کعب ؓ حضرت معاذ بن جبل ؓ ، اور سالم مولی ابی حذیفہ ؓ ، کے متعلق نازل ہوئی ، واقعہ یہ ہوا کہ مالک بن صیف اور وہب بن یہود یہ دو یہودی تھے ، ان دونوں نے ان صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین سے کہا کہ ہم تم سے افضل ہیں اور ہمارا دین افضل ہے جس کی تم تبلیغ کرتے ہو ، اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔
(کنتم خیر امۃ سے کون لوگ مراد ہیں ؟ )
سعید بن جبیر ؓ حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت کرتے ہیں کہ (آیت)” کنتم خیر امۃ اخرجت للناس “۔ سے مراد وہ لوگ ہیں جنہوں نے آپ ﷺ کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 104–112
(104 ۔ 109) ۔ اوپر ذکر تھا کہ یہود نے انصار کے دو گروہ کو بہکا کر ان دو گروہ کو آپس میں لڑانے کی شرارت کی تھی مگر اللہ کے رسول کی فہمایش سے یہود کا وہ بہانہ چل نہ سکا۔ ان آیتوں میں ارشاد ہے کہ سب بہکانے والوں کے سر گروہ ابلیس علیہ اللعنہ اور شیاطین الجن والانس کے اغوا سے انجان مسلمانوں کو بچانے کے لئے مسلمانوں میں ہمیشہ کے تھے ایک جماعت ایسی ہونی چاہیے کہ دین کی باتوں کی لوگوں کو نصیحت اور فہمایش کیا کرے۔ اس سے زیادہ تفسیر اس باب میں آئندہ کی آیت کی تفسیر میں آتی ہے۔ 110۔ 112۔ خازن وغیرہ میں جو حدیثیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ مالک بن صیف اور وہب بن یہود یہودیوں نے ایک روز عبد اللہ بن مسعود ؓ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 109–111
آیت 109
یعنی آسمان اور زمین میں جو کچھ ہے، اس سب کا مالک وہی ہے۔ جس نے انہیں پیدا کیا، انہیں رزق دیا، اور اپنی قضاء و قدر کے مطابق اور اپنی شریعت اور احکام کے مطابق ان میں تصرف کرتا ہے۔ قیامت کے دن وہ اسی کے پاس واپس جائیں گے، پھر وہ انہیں اچھے اور برے اعمال کا بدلہ دے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 105–110
قول باری ہے (کنتم خیرامۃ اخرجت للناس تامرون بالمعروف وتنھون عن المنکر) قول باری (کنتم) کے معنی میں کئی وجوہ بیان کیے گئے ہیں۔ حسن سے مروی ہے کہ اس سے مراد کتب سابقہ جن میں مختلف امتوں کے متعلق بشارتیں آئی ہیں اور ان کے بارے میں خبریں دی گئی ہیں۔ ان میں ہم سب سے اخری امت ہیں لیکن اللہ کے نزدیک سب سے بڑھ کرمرتبے اور عزت والے ہیں۔ ہمیں عبداللہ بن محمد بن اسحق نے روایت بیان کی انہیں حسن بن ابی ربیع نے انہیں عبدالرزاق نے انہیں معمرنے بہزبن حکیم سے انہوں نے اپنے والد حکیم سے انہوں نے اپنے والد سے کہ انہوں نے حضور ﷺ کو آیت (کنتم خیرامۃ اخرجت للناس ، کے سلسلے میں فرماتے ہوئے سنا تھا کہ (انتم تتمون…
Read the full tafseer →229 امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی عظمت شان : سو ایمان باللہ کے بعد امر بالمعروف اور نہی عن المنکر اس امت کی سب سے اہم اور امتیازی خصوصیات ہیں۔ پس " امر بالمعروف " اور " نہی عن المنکر " اور اللہ تعالیٰ پر سچا پکا ایمان امت مسلمہ کی وہ خصوصی اور امتیازی صفات ہیں، جن پر اس کی عزت و عظمت کا مدارو انحصار ہے۔ اور تاریخ شاہد ہے کہ جب یہ امت اس معیار پر پوری اتری، تو اس کو ایسی سچی اور حقیقی عزت و عظمت سے نوازا گیا کہ چشم فلک نے اس کی کوئی نظیر و مثال کبھی نہیں دیکھی۔ اور جب اس نے اس سے تغافل برتا تو اس کو جگہ جگہ اور طرح طرح سے نکبت و ادبار کی ذلت سے دوچار ہونا پڑا، جیسا کہ آج بھی ہمارے سامنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 110–111
بہترین امت
تشریح : جیسا کہ پچھلی آیات میں امت محمدیہ ﷺ کو بہترین امت کا اعزاز دیا گیا ہے۔ کیونکہ یہ اللہ کو ایک مانتے ہیں، نیکی کا حکم دیتے ہیں، برائی سے منع کرتے ہیں، اللہ رب العزت فرماتے ہیں کہ اگر اہل کتاب بھی ایمان لے آتے تو یہ ان کے لیے بہتر اور اچھا ہوتا۔ مگر انہوں نے ایسا نہیں کیا۔ کچھ لوگ ان میں مومن ہوگئے تھے مگر اکثر فاسق ہی تھے۔ اللہ رب العزت مسلمانوں کو تسلی دیتے ہیں کہ تم اہل کتاب کی تعداد اور سازو سامان سے مت گھبراؤ۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کا یہ وعدہ ہے کہ یہ لوگ تمہارا کچھ بھی بگاڑ نہیں سکتے سوائے اس کے کہ یہ تمہیں چھوٹی موٹی ایذا پہنچائیں یا زبانی برا بھلا کہیں۔ اگر انہوں نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 110–120
آیات 110- 120
اسرارو معارف
کنتم خیرامۃ……………واکثرھم الفسقون۔
تم سب سے اچھی امت ہو کہ آقائے نامدار ﷺ خیرالرسل ہیں اور قرآن کریم سب کتابوں سے اعلیٰ و افضل کتاب ہے۔ تم لوگ جنہیں آپ ﷺ سے نسبت حاصل ہے۔ اور اس کی برکت سے کتاب اللہ کو سمجھنے کی سعادت حاصل ہوئی ہے ایک ایسی سعادت ہے کہ ارشاد ہوا۔ اتممت علیکم نعمتی۔ کہ میں نے اپنی نعمت تم پر تمام کردی۔ تم ہی بہترین لوگ ہو۔
اتمام نعمت ایک ایسی عطا ہے جس کی حدود متعین کرنا انسان کے بس کی بات نہیں ہے اور اس پر مزید یہ کہ نعمت کا حصول بھی بیشک بہت بڑی بات ہے مگر اس کو دوسروں پر تقسیم کرنا اور بےحدوحساب بانٹنا بہت ہی بڑی شے ہے اور تمہیں تو بھیجا ہی اس لئے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 109–110
ف 7 یعنی آنحضرت ﷺ چونکہ انبیائ سے افضل ہیں اس لیے امت محمدی علی صاحبھا الف تحیتہ وسلام تمام امتوں سے افضل اور بہتر ہے جیسا کہ حدیث تفضیل علی الا نبیا میں ہے وجعلت امتی خیر الا ھم کہ میری امت تمام امتوں سے بہتر بنائی گئی ہے نیز دیکھئے۔ بقرہ آیت 143) اور امت کی یہ فضیلت آیت میں مذکورہ صفات کی وجہ سے ہے ایک امر بالمعروف ونہی عن المنکر یعنی جہاد فی سبیل اللہ دوسری ایمان باللہ یعنی خالص توحید کا عقیدہ۔ ایمان اللہ میں اللہ تعالیٰ کے تمام رسول ( علیہ السلام) اور کتابوں پر ایمان لانا بھی داخل ہے حضرت عمر ؓ فرماتے ہیں جو شخص افضل امت میں داخل ہونا چاہتا ہے اسے چاہیے کہ اس مذکورہ شرط کو پورا کرے حضرت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 104–110
(3:104) ولتکن منکم۔ لتکن میں لام امر ہے صیغہ واحد مؤنث غائب۔ امر غائب و متکلم معروف بناوٹ کے لحاظ سے کوئی مستقل فعل نہیں بلکہ ایک دوسرا نام مضارع بلام امر کا ہے لام امر و مضارع غائب و متکلم معروف کے آٹھوں صیغوں سے خاص ہے جو صیغہ ہائے واحد کو جزم دیتا ہے۔ جیسے لیکن (واحد مذکر غائب) لتکن (واحد مؤنث غائب) اور لاکن واحد متکلم۔ نون اعرابی کے سقوط اور نون ضمیری کی قائمی میں مثل لم کے عمل کرتا ہے۔ ولتکن۔ چاہیے کہ ہو ایک (جماعت) تم میں سے جو ۔۔
منکم۔ میں من تبیین کے لئے ہے تبعیض کے لئے نہیں۔ یعنی امر بالمعروف و نہی عن المنکر کا کام تمام امت پر واجب ہے کسی مخصوص جماعت کی ذمہ داری نہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 110–112
لغات القرآن آیت نمبر 110 تا 112
خیرامة (بہترین جماعت) اخرجت (نکالی گئی ہے) لن یضروا (وہ ہرگز نقصان نہ پہنچائیں گے، وہ ہرگز نقصان نہیں پہنچا سکیں گے) اذی (تکلیف، اذیت (زبانی تکلیفیں پہنچائیں گے) یولوا (وہ پلٹ جائیں) الادبار (دبر کی جمع) پیٹھ) لاینصرون (مدد نہ کیے جائیں گے) ضربت (ماردی گئی، مسلط کردیگئ) الذلة (ذلت ، رسوائی) ثقفوا (وہ پائے گئے) المسکنة (محتاجی) کانویعتدون (وہ حد سے بڑھتے تھے) ۔ تشریح : آیت نمبر 110 تا 112
گذشتہ آیات میں مومنوں کو دین اسلام پر ثابت قدم رہنے ، تقوی اور پرہیز گاری کی زندی اختیار کرنے، اچھائیاں پھیلانے اور برائیوں کو روکنے کا حکم دیا گیا تھ۔ ان آیات میں اللہ تعالیی…
Read the full tafseer →محبوب دو عالم ﷺ کی امت کی فضلیت اور تبلیغ دین کی اہمیت
شان نزول : خازن وغیرہ میں جو روایتیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ مالک بن حنیف اور وہب بن یہودا یہودیوں نے ایک روز عبداللہ بن مسعود اور ابی بن کعب اور معاذ بن جبل رضوان اللہ علیہم اجمعین سے جھگڑا کیا اور یہ کہا کہ جس دین کی طرف تم لوگ ہم کو بلاتے ہو بلاشک ہم لوگ تم سے اور ہمارا دین تمہارے دین سے اچھے ہیں۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ تم لوگ ستر امتوں کو پورا کرتے ہو اور ان سب میں اللہ کے نزدیک تم بہتر ہو۔ بخاری میں حضرت ابوہریرہ ؓ عنہ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ سب سے پہلے میری امت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 103–111
[39] اللہ کی رسی سے مراد قرآن مجید ہے۔ رسول اکرم ﷺ نے قرآن مجید کے بارے میں ارشاد فرمایا ہے '' ھو حبل اللہ المتین '' (یہ اللہ کی مضبوط رسی ہے) ۔ قرآن کو اللہ کی رسی اس لئے فرمایا کہ یہی چیز ہے جو بندوں کو خدا سے جوڑتی ہے۔ جس نے اس کو تھام لیا گویا اس نے خدا کا سہارا تھام لیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 105–110
حدود تبلیغ :
(ف 1) اس آیت میں تمام مسلمانوں کو فریضہ تبلیغ کی ادائیگی کے لئے آمادہ کیا ہے مگر خود تبلیغ کی حدود کیا ہیں ؟ یہ ایک سوال ہے ۔
قرآن حکیم نے تبلیغ و اشاعت کو دو لفظوں سے تعبیر کیا ہے ، امر بالمعروف اور نہی عن المنکر ۔ یعنی نیکی ‘ بھلائی اور سچائی کی تلقین اور برائی سے اظہار نفرت وتحقیر ۔
ظاہر ہے یہ دو لفظ انتہا درجہ کی وسعت اپنے اندر پنہاں رکھتے ہی ، معروف کا اطلاق نیک اقدام پر ہو سکتا ہے اور منکر کا ہر برے اقدام پر ، چونکہ ان دو لفظوں میں فرد وجماعت کی تمام نیکیاں اور برائیاں آجاتی ہیں ، اس لئے جواب بالکل آسان اور واضح ہے کہ تبلیغ کی حدود فرد وجماعت کی تمام وسعتوں پر حاوی و محیط…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 110–111
ف 4 اے امت محمدیہ ﷺ ! تم لوگ تمام جماعتوں میں سے اچھی جماعت اور تمام امتوں میں سے بہترین امت ہو ایسی امت کہ عام لوگوں کی نفع رسانی کے لئے اور عام لوگوں کے فائدے کے لئے ظاہر کی گئی ہے اور وہ فائدہ یہ ہے کہ تم لوگوں کو اچھے کام کرنے کو کہتے ہو اور برے کاموں سے روکتے ہو اور تم خود بھی اللہ تعالیٰ پر ایمان لاتے ہو اور اس ایمان باللہ پر قائم رہتے ہو اور اگر یہ اہل کتاب جو تمہارے مخالف ہیں یہ بھی ایمان لے آئے تو ان کے حق میں بہتر ہوتا اور جس حالت میں یہ اب ہیں اس سے اچھے ہوجاتے کیونکہ خیر امت میں داخل ہوجاتے لیکن یہ سب مسلمان نہیں ہوئے بلکہ ان میں سے کچھ تو مسلمان ہیں اور بکثرت ان میں سے کافر اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 106–110
ف 1۔ یہ خطاب تمام امت محمدیہ کو عام ہے پھر ان میں سے صحابہ اول اور اشرف مخاطبین ہیں۔
Read the full tafseer →تم صحیح معنوں میں ایمان لانے والے اور اچھے عمل کرنے والے ہو تو تم ہی بہتر امت ہو :
210: یہ محمد رسول اللہ ﷺ کی امت سے خطاب ہے اور ملت اسلامی ہی مخاطب کی جارہی ہے کہ تم تمام امتوں میں سے بہتر امت ہو۔ روایات میں آتا ہے کہ مالک بن انصیف اور وہب بن یہود نے جو یہودی تھے انہوں نے حضرت ابن مسعود ؓ معاذ بن جبل ؓ اور سالم مولیٰ ابی حذیقہ سے کہا کہ ہم تم سے افضل ہیں اور ہمارا مذہب اس دین سے بدرجہا بہتر ہے جس کی دعوت تم ہی کو دیتے ہو اس پر یہ آیت نازل ہوئی” خیر “ صفت ہے اور ” امت “ موصوف۔
” کنتم “ ماضی ہے ” یعنی تم بہترین امت تھے۔ “ کیا اب بہترین امت نہیں ؟ جواباً عرض کہ ” کان “ کا استعمال عربی زبان میں…
Read the full tafseer →Sequence
In previous verses, Muslims were asked to take special care in order to remain steadfast in their faith, bid the Fair and forbid the Unfair. In the present verse, it has been further emphasised that these are the very reasons why Allah Almighty has conferred upon the Ummah of Muhammad ﷺ ، may the peace and blessings of Allah be upon him, the status of خیر الامم 'Khayr al-Umam', the best of communities, dignified and elevated, when it does what it has been charged to do.
Why the best of communities?
The Holy Qur'an has, in different verses, given several reason for declaring the…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 109–110
88. This is the same declaration that was made earlier (see verse 2: 143 above). The Arabian Prophet (peace be on him) and his followers are informed that they are being assigned the guidance and leadership of the world, a position the Israelites had been relieved of because they had shown themselves unsuitable. The Muslims were charged with this responsibility because of their competence. They were the best people in terms of character and morals and had developed in theory and in practice the qualities essential for truly righteous leadership, namely the spirit and practical commitment to…
Read the full tafseer →