Explained with ayahs 110–112
سب سے بہتر شخص کون ؟ اور سب سے بہتر امت کا اعزاز کس کو ملا ؟
اللہ تعالیٰ خبر دے رہا ہے کہ امت محمدیہ تمام امتوں پر بہتر ہے صحیح بخاری شریف میں ہے حضرت ابوہریرہ ؓ اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں تم اوروں کے حق میں سب سے بہتر ہو تو لوگوں کی گردنیں پکڑ پکڑ کر اسلام کی طرف جھکاتے ہو، اور مفسرین بھی یہی فرماتے ہیں مطلب یہ ہے کہ تم تمام امتوں سے بہتر ہو اور سب سے زیادہ لوگوں کو نفع پہنچانے والے ہو، ابو لہب کی بیٹی حضرت درہ ؓ فرماتی ہیں ایک مرتبہ کسی نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا آپ اس وقت منبر پر تھے کہ حضور ﷺ کونسا شخص بہتر ہے ؟ آپ نے فرمایا سب لوگوں سے بہتر وہ شخص ہے جو سب سے زیادہ قاری قرآن ہو سب سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 111–112
سورة اٰلِ عِمْرٰن 90
یعنی دنیا میں اگر کہیں ان کو تھوڑا بہت امن چین نصیب بھی ہوا ہے تو وہ ان کے اپنے بل بوتے پر قائم کیا ہوا امن و چین نہیں ہے بلکہ دوسروں کی حمایت اور مہربانی کا نتیجہ ہے۔ کہیں کسی مسلم حکومت نے ان کو خدا کے نام پر امان دے دی، اور کہیں کسی غیر مسلم حکومت نے اپنے طور پر انہیں اپنی حمایت میں لے لیا۔ اسی طرح بسا اوقات انہیں دنیا میں کہیں زور پکڑنے کا موقع بھی مل گیا ہے، لیکن وہ بھی اپنے زور بازو سے نہیں بلکہ محض ”بپائے مردی ہمسایہ“۔
Read the full tafseer →ربط آیات
پچھلی آیتوں میں اہل کتاب کی مسلمانوں سے دشمنی اور ان کو دینی ضرر پہنچانے کی تدبیریں کرنا مذکور تھا، اس آیت میں مسلمانوں کے لئے دنیوی ضرر کی تدبیریں کرنے کا ذکر ہے۔
خلاصہ تفسیر
وہ (اہل کتاب) تم کو ہرگز کوئی ضرر نہ پہنچا سکیں گے مگر ذرا ہلکی سی اذیت (یعنی زبانی برا بھلا کہہ کر دلا دکھانا) اور اگر وہ (اس سے زیادہ کی ہمت کریں اور) تم سے مقاتلہ کریں تو تم کو پیٹھ دکھا کر بھاگ جائیں گے پھر (اس سے بڑھ کر یہ ہوگا کہ) کسی طرف سے ان کی امداد بھی نہ ہوگی۔
معارف و مسائل
یہ قرآن کی پیشگوئی اس طرح پوری ہوئی کہ اہل کتاب زمانہ نبوت میں کسی موقع پر بھی صحابہ کرام پر جو کہ بقرینہ مقام اس مضمون کے خاص…
Read the full tafseer →’ اذی ‘ کا مفہوم : اذی کے معنی دکھ اور تکلیف کے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ اب ان کی جڑ کٹ چکی ہے۔ ان کے اندر اب اتنا دم خم نہیں ہے کہ تمہیں کوئی بڑا نقصان پہنچا سکیں۔ بس زیادہ سے زیادہ جو یہ کرسکتے ہیں وہ یہ کہ اپنے دل کی بھڑاس نکالنے کے لیے کچھ طعن وتشنیع، کچھ زبان درازی اور کچھ افترا پردازی و تہمت تراشی کرلیں۔ اس سے زیادہ کا حوصلہ ان کے اندر نہیں ہے۔ اور اگر یہ تم سے لڑنے کے لیے نکلے تو پیغھ دکھائیں گے اور پھر ایسے ذلیل و خوار ہوں گے کہ کسی طرف سے بھی ان کی کوئی مدد نہیں ہوگی۔ بعد کے واقعات نے قرآن کی اس پیشین گوئی کی حرف بہ حرف تصدیق کردی۔ یہی مضمون آگے اس طرح بیان ہوا ہے ”وَلَتَسْمَعُنَّ مِنَ…
Read the full tafseer →111۔ 1 اس سے مراد زبانی بہتان تراشی ہے جس سے دل کو وقتی طور پر ضرور تکلیف پہنچتی ہے تاہم میدان حرب و ضرب میں یہ تمہیں شکست نہیں دے سکیں گے چناچہ ایسا ہی ہوا، مدینہ سے بھی یہودیوں کو نکلنا پڑا پھر خیبر فتح ہوگیا اور وہاں سے بھی نکلے، اسی طرح شام کے علاقوں میں عیسائیوں کو مسلمانوں کے ہاتھوں سے شکست سے دو چار ہونا پڑا تاآنکہ حروب صلیبیہ میں عیسائیوں نے اس کا بدلہ لینے کی کوشش کی اور بیت المقدس پر بھی قابض ہوگئے مگر اسے صلاح الدین ایوبی نے 90 سال کے بعد واگزار کرا لیا۔
لیکن اب مسلمانوں کی ایمانی کمزوری کے نتیجہ میں یہود و نصاریٰ کی مشترکہ سازشوں اور کوششوں سے بیت المقدس پھر مسلمانوں کے ہاتھوں سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 107–113
37: اس سے مراد وہ اہل کتاب ہیں جو آنحضرت ﷺ پر ایمان لے آئے تھے، مثلاً یہودیوں میں سے حضرت عبداللہ بن سلام ؓ
Read the full tafseer →ان آیات میں اللہ مومنین کو فتح ونصرت کی ضمانت دیتے ہیں ‘ اور آخرکار ان کی سلامتی کی بھی صریح ضمانت دیتے ہیں ‘ جب بھی وہ اپنے دشمنوں کے ساتھ میدان جنگ میں آمنا سامنا کریں گے یہ ضمانت ان کے لئے موجود ہوگی بشرطیکہ وہ اپنے دین کی رسی کو مضبوطی سے پکڑیں اور اپنے رب پر یقین کریں۔
لَنْ يَضُرُّوكُمْ إِلا أَذًى وَإِنْ يُقَاتِلُوكُمْ يُوَلُّوكُمُ الأدْبَارَ ثُمَّ لا يُنْصَرُونَ……………” یہ تمہارا کچھ نہیں بگاڑ سکتے زیادہ سے زیادہ بس ستاسکتے ہیں ‘ اگر یہ تم سے لڑیں تو مقابلہ میں پیٹھ دکھائیں گے ‘ پھر ایسے بےبس ہوں گے کہ کہیں سے ان کو مدد نہ ملے گی ۔ “
اس لئے وہ دعوت اسلامی کو کوئی حقیقی ضرر نہیں پہنچاسکتے…
Read the full tafseer →2 یعنی اگر نافرمان ہیں تو ہونے دو تم کو ان کی اکثریت یا مادی سازوسامان سے خوف کھانے کی کوئی وجہ نہیں (اے خیر الامم ! ) خدا کا وعدہ ہے کہ یہ شیطانی لشکر تمہارا کچھ نہ بگاڑ سکے گا۔ (بشرطیکہ تم اپنے کو خیرالامم ثابت کرو) بس یہ اتنا ہی کرسکتے ہیں کہ زبان سے گالی دیں اور نامردوں کی طرح تم کو برا بھلا کہتے پھریں یا کوئی چھوٹی موٹی عارضی تکلیف پہنچائیں، باقی تم پر غالب و مسلط ہوجائیں، یا کوئی بڑا قومی نقصان پہنچا سکیں، یہ کبھی نہ ہوگا۔ اگر لڑائی میں تمہارے مقابلہ پر آئے تو پیٹھ دے کر بھاگیں گے اور کسی طرف سے انکو مدد نہ پہنچے گی جو ان کی ہزیمت کو روک سکے۔ یہ پیشین گوئی حرف بحرف پوری ہوئی صحابہ ؓ کے…
Read the full tafseer →آیت 111 لَنْ یَّضُرُّوْکُمْ الاَّ اَذًی ط
یہ تمہارے لیے تھوڑی سی زبان درازی اور کو فت کا سبب تو بنتے رہیں گے ‘ لیکن یہ بالفعل تمہیں کوئی ضرر نہیں پہنچا سکیں گے۔
وَاِنْ یُّقَاتِلُوْکُمْ یُوَلُّوْکُمُ الْاَدْبَارَقف۔
ان میں جرأت نہیں ہے ‘ یہ بزدل ہیں ‘ تمہارا مقابلہ نہیں کرسکیں گے۔
ثُمَّ لاَ یُنْصَرُوْنَ
یہ ایسے بےبس ہوں گے کہ ان کو کہیں سے مدد بھی نہیں مل سکے گی۔
Read the full tafseer →101 یعنی گالی دینا، برا بھلا کہنا، تمہارے خلاف سازشیں اور غلط پراپیگنڈا اور ستانے کے دوسرے کام ہی کرسکتے ہیں، اور ایسے کام عموماً ذہنی طور پر ہزیمت خوردہ فریق ہی کرتا ہے۔ رہا جوان مردوں کی طرح مقابلے میں آنا تو اس بات کی ان میں سکت ہی نہیں اور اگر کریں گے تو بری طرح پٹ کر بھاگ کھڑے ہوں گے۔ اور اس وقت منافق بھی ان کی کچھ مدد نہ کرسکیں گے، جو ان سے ساز باز کرتے اور مدد کو پہنچنے کے وعدے کرتے رہتے ہیں۔ اہل کتاب کے حق میں یہ پیشین گوئی حرف بہ حرف پوری ہوئی۔ سب سے پہلے یہود کے قبیلہ بنو قینقاع کو جلاوطن کیا گیا۔ پھر بنو نضیر کو، پھر بنو قریظہ کی باری آئی تو وہ قتل کیے گئے اور لونڈی غلام بنائے گئے،…
Read the full tafseer →230 ۔ اشارہ ہے یہود کی طرف، جن کا خاص مدینہ اور حوالی مدینہ میں بڑا زور و غلبہ تھا۔ آپ ﷺ نے وقوع سے بہت قبل پیشگوئی کردی کہ یہود اپنے بڑے مضبوط قلعوں کے باوجود، بڑے بڑے خزانوں کے مالک ہونے کے باوجود مسلمان کو ہرگز کوئی قابل ذکر نقصان نہ پہنچا سکیں گے۔ (آیت) ” اذی “۔ ضرر کے مقابلہ میں بہت ہلکی اور چھوٹی چیز ہے۔ ای ضررا یسیرا کطعن وتھدید (بیضاوی) الاذی بمعنی الضرر الیسیر (روح)
231 ۔ یعنی اگر وہ اتنی ہمت کر ہی جائیں کہ تم سے مقابلہ ومقاتلہ کو آئیں تو ہرگز غلبہ نہ پاسکیں گے بلکہ الٹی شکست کھاکر بھاگیں گے۔ یہ ایک پیشگوئی نہیں۔ مجموعہ ہے کئی پیشگوئیوں کا۔ اور سب کی سب ظاہری قرائن وقیاسات کے خلاف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 111–112
ضُرِبَتْ عَلَیْھِمُ الذِّلَّۃُ اَیْنَ مَا ثُقِفُوْآ اِلاَّ بِحَبْلِ مِّنَ اللہِ (الآیۃ) بنی اسرائیل کی مغضوبیت اور پستی و ذلت، ان کی جانوں اور مالوں اور ان کی بےوقعتی اور ناقدری خلق اللہ کے دلوں میں پیدا ہوگئی ہے اور تاریخ کی شہادت ہے کہ یہود کی یہ ذلت اور پست حالی زمانہ نزول قرآن تک رہی بلکہ اس کے بعد بھی صدہاسال اسی طرح قائم رہی، چناچہ بیسویں صدی کے ثلث اول تک یہود کی جو گت جرمنی میں، ہنگری میں، اٹلی میں، زیکوسلواکیہ میں اور دیگر ملکوں میں باوجود ان کی خوشحالی اور زرداری کے بن چکی ہے وہ بجائے خود اس آیت کی تفسیر ہے اس کی مفصل تشریح سورة بقرہ کے رکوع 6 میں گزر چکی ہے قند مکرر کے طور پر یہاں…
Read the full tafseer →لن یضروکم الا اذی وہ تم کو ہرگز ضرر نہ پہنچا سکیں گے سوائے معمولی تکلیف 5 کے۔ یعنی زبان وغیرہ سے تکلیف کے علاوہ (کوئی جانی مالی دکھ نہیں پہنچا سکیں گے) مقاتل کا بیان ہے کہ جب سرداران یہود نے مسلمان اہل کتاب (جیسے عبد اللہ بن سلام وغیرہ) کو ضرر پہنچانے کا ارادہ کیا تو اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی تاکہ مسلمان اہل کتاب کو تسلی ہو۔
و ان یقاتلوکم یولوکم الادبار اور اے مسلمانو ! اگر وہ یہودی تم سے لڑیں گے تو پیٹھ دے کر شکست کھا کر بھاگیں گے اور قتل و غارت یا قیدکادکھ تم کو نہ پہنچا سکیں گے۔
ثم لا ینصرون پھر ان کو فتح نہیں مل سکتی فتح تمہاری ہی ہوگی یہ آیت گذشتہ لا یضروکم کا بیان ہے اور ایک (سچی)…
Read the full tafseer →(111) یہود تمہیں نقصان نہیں پہنچاسکیں گے مگر زبانی گالی گلوچ دیں گے اور اگر وہ دین کے اندر لڑائی کی جرأت کریں گے تو بھی انہیں شکست ہوگی اور وہ، نہ تمہاری تلواروں کے واروں کو روک سکیں گے اور نہ وہ قید سے بچ سکیں گے۔
Read the full tafseer →اِلَّآ اَذًى ۭ : ”أَذًی“ میں تنوین تقلیل و تحقیر کے لیے ہے، اس لیے ترجمہ ”معمولی تکلیف“ کیا ہے، مراد زبانی بہتان تراشی اور سازشیں ہیں، مگر میدان میں تمہارے مقابلے میں ٹھہر نہیں سکیں گے، چناچہ ایسا ہی ہوا۔ یہود کو مسلمانوں کے مقابلے میں ہر جگہ شکست ہوئی اور رسوائی کا منہ دیکھنا پڑا، بالآخر نبی کریم ﷺ اور آپ کے صحابہ نے انھیں جزیرۂ عرب سے جلاوطن کردیا۔ یہ آیت اخبار بالغیب اور پیشین گوئی پر مشتمل ہے اور اللہ تعالیٰ نے اس میں فتح و کامیابی اور نصرت کی بشارت دی ہے۔ اب اگرچہ یہود نصرانیوں کے بل بوتے پر فلسطین کے کچھ حصے اور بیت المقدس پر قابض ہیں، مگر وہ وقت قریب آ رہا ہے کہ جب مسلمانوں کے ساتھ…
Read the full tafseer →آیت نمبر 111۔
قولہ تعالیٰ : (آیت) ” لن یضروکم الا اذی “۔ یعنی ان کا جھٹلانا، تحریف کرنا اور ان کا بہتان لگانا (تمہارا کچھ نہ بگاڑ سکے گا) اور نہ ہی ان کو غلبہ حاصل ہوگا، یہ حسن اور قتادہ سے منقول ہے، اور استثنا متصل ہے اور معنی یہ ہے کہ وہ تمہیں سوائے معمولی ضرر اور تکلیف کے کوئی ضرر اور نقصان نہیں پہنچا سکیں کے پس الا ذی مصدر کے محل میں واقع ہے اور یہ آیت اللہ تعالیٰ کی جانب سے رسول اللہ ﷺ اور مومنین کے لئے ایک وعدہ ہے کہ اہل کتاب ان پر غالب نہ آسکیں گے اور یہ کہ ان کی ان کے خلاف مدد کی جائے گی اور انہیں ان کی طرف سے سوائے بہتان اور تحریف کی اذیت کے اور کوئی بگاڑ اور استیصال نہیں پہنچے گا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 111–113
(1) ابن اسحاق ابن المنذر ابن جریر ابن ابی حاتم نے طبرانی اور بیہقی نے دلائل میں وابن عساکر نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ جب عبد اللہ بن سلام ؓ اور ثعبلہ بن سعید اور اسید بن عبید ؓ اور جو لوگ یہودیوں میں سے ان کے ساتھ مسلمان ہوئے یہ لوگ ایمان لائے اور سچ بولا اور اسلام سے بڑی رغبت کا اظہار کیا تو یہود کے علماء اور کافروں نے کہا کہ ہمارے گھٹیا قسم کے لوگ محمد ﷺ پر ایمان لائے اور ان کی تابعداری کی اور اگر ہمارے بہترین افراد ہوتے تو اپنے آباؤ اجداد کا دین نہ چھوڑتے اور نہ ہی غیر دین کی طرف جاتے تو اللہ تعالیٰ نے اس بارے میں نازل فرمایا لفظ آیت ” لیسوا سواء “ سے لے کر ” اولئک من الصلحین…
Read the full tafseer →[لَنْ یَّضُرُّوْکُمْ : ہرگز نقصان نہیں پہنچائیں گے تم لوگوں کو ] [اِلاَّ : مگر ] [اَذًی : کچھ اذیت ] [وَاِنْ : اور اگر
یُّـقَاتِلُوْکُمْ : وہ لوگ جنگ کریں گے تم سے ] [یُوَلُّــوْکُمُ : تو وہ پھیریں گے تمہاری طرف ] [الْاَدْبَارَ : پیٹھوں کو ] [ثُمَّ : پھر ] [لاَ یُنْصَرُوْنَ : ان کی مدد نہیں کی جائے گی ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 111–115
یہود کی ذلت اور مسکنت
زمانہ نبوت میں یہودیوں کی دشمنی ظاہراً بھی تھی اور پوشیدہ بھی تھی مسلمانوں کو ان سے تکلیف پہنچتی رہتی تھی، خطرہ تھا کہ کوئی ایسی کاروائی نہ کر بیٹھیں جس سے زیادہ تکلیف پہنچ جائے۔ بلکہ رؤسا یہود نے حضرت عبداللہ بن سلام اور ان عوام کو جو یہودیت چھوڑ کر اسلام میں داخل ہوگئے تھے۔ زبانی طور پر ایذا دینے کا سلسلہ شروع بھی کردیا تھا۔ اللہ جل شانہٗ نے مسلمانوں کے اس خطرہ کو دور فرما دیا۔ اور فرمایا کہ یہ لوگ تمہیں بس ذرا سی تکلیف پہنچا سکیں گے اور اگر انہوں نے جنگ چھیڑی تو پشت پھیر کر بھاگ جائیں گے، پھر یہودیوں کی حالت مغضوبیت بیان فرمائی کہ ان پر ذلت کی چھاپ مار دی گئی جہاں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 102–117
قال تعالی۔ یا ایھا الذین۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تا۔۔۔۔ ترجع الامور۔ آیت۔
ربط) گزشتہ آیات میں اللہ نے باہمی قتال وشقاق کو تکفرون یعنی کفر سے تعبیر فرمایا اب آئندہ آیت میں تقوی اور اعتصام بحبل اللہ یعنی اتفاق اور اتحاد اور اسلامی مواخات کا حکم دیتے ہیں اور اتفاق اور اتحاد کا ایک دستور العمل بتلاتے ہیں وہ یہ کہ اول تقوی اور اسلام پر مداومت اور استقامت کا حکم دیا اور پھر اعتصام بحبل اللہ کا حکم فرمایا کہ سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوط پکڑو پھر یہ ارشاد فرمایا، واذکر نعمتہ اللہ علیکم۔ الخ۔ آیت۔ جس میں حکم دیا کہ اتفاق اور اتحاد کی نعمت کو یاد کرو، اور اس نعمت کو اور اس کی برکات کو یاد کرکے موازنہ کرو کہ پہلے…
Read the full tafseer →166 یہ ماقبل کا تتمہ ہے۔ مسلمان مجاہدین کو اللہ تعالیٰ نے اطمینان دلا دیا کہ اہل کتاب تمہارا کچھ نہیں بگاڑ سکیں گے۔ اول تو وہ تمہارے مقابلہ میں آئیں گے ہی نہیں اور اگر کبھی جرات کر کے مقابلہ میں آبھی گئے تو شکست کھا کر پیٹھ پھیرتے ہوئے بھاگ نکلیں گے اور مقابلہ میں نہیں ٹھہر سکیں گے۔ ثُمَّ لَا یُنْصَرُوْنَ مغلوب اور شکست خوردہ ہونے کے بعد پھر انہیں کبھی نصرت و غلبہ اور شوکت وقوت حاصل نہیں ہوگی۔ ای انھم بعد صیرورتھم منھرمین لا یحصل لھم شوکۃ ولا قوۃ البتۃ (کبیر ص 41 ج 3) یا مطلب یہ ہے کہ جن مشرکین عرب کی مدد پر ان کو اعتماد ہے شکست کی صورت میں کوئی ان کی مدد نہیں کرے گا۔ اور نہ ہی منافقین ان کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 110–111
ربط آیات :
اللہ تعالیٰ نے اہل کتاب کی باتوں کو ماننے سے منع فرمایا اور اس کے نقصانات کا تزکرہ بھی کیا۔ پھر اللہ سے کماحقہ ڈرنے کا حکم دیا اور قرآن پاک کو مضبوطی سے پکڑنے کی وصیت کی۔ تفرقہ بازی کی ممانعت فرمائی ، اور حکم دیا کہ تمہارے درمیان ہر وقت ایک ایسا گروہ جرور ہونا چاہیئے جو لوگوں کو خیر کی طرف دعوت دیتے رہیں ، معروف کا حکم کرتے رہیں اور بری باتوں سے منع کرتے رہیں۔ اس کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے اہل کتاب کی حالت یاد دلا کر فرمایا کہ ان کی طرح نہ ہونا جنہوں نے تفرقہ ڈالا ، اور واضح احکامات آجانے کے بعد اختلاف کیا۔ یہ لوگ ناکام ہیں اور خدا کے عذاب کے مستحق بھی۔
گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے…
Read the full tafseer →لَنْ يَّضُرُّوْكُمْ اِلَّآ اَذًى 0 ۭ وَاِنْ يُّقَاتِلُوْكُمْ يُوَلُّوْكُمُ الْاَدْبَارَ 0 ۣ ثُمَّ لَا يُنْصَرُوْنَ 111
ضر
الضُّرُّ : سوءُ الحال، إمّا في نفسه لقلّة العلم والفضل والعفّة، وإمّا في بدنه لعدم جارحة ونقص، وإمّا في حالة ظاهرة من قلّة مال وجاه، وقوله : فَكَشَفْنا ما بِهِ مِنْ ضُرٍّ [ الأنبیاء/ 84] ، فهو محتمل لثلاثتها،
( ض ر ر) الضر
کے معنی بدحالی کے ہیں خواہ اس کا تعلق انسان کے نفس سے ہو جیسے علم وفضل اور عفت کی کمی اور خواہ بدن سے ہو جیسے کسی عضو کا ناقص ہونا یا قلت مال وجاہ کے سبب ظاہری حالت کا برا ہونا ۔ اور آیت کریمہ : فَكَشَفْنا ما بِهِ مِنْ ضُرٍّ [ الأنبیاء/ 84] اور جوان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 110–112
ترکیب : کنتم اسکا اسم انتم خیر امۃ خبر ای فی علمی و قیل حرتم کان زائدہ ہے ای انتم خیر امۃ اخرجت الخ امت کی صفت الاذی کا استثناء اشیائِ محذوف سے ہے۔
تفسیر : پیشین گوئی : اول فرمایا تھا کہ جن کے منہ روشن ہوں گے وہ ہمیشہ جنت میں رہیں گے۔ یہاں اس کی وجہ اور علت فرماتا ہے کہ یہ نورانیت تم کو اس لئے حاصل ہوئی کہ تم دنیا میں کمال اور درجہ سعادت حاصل کرچکے ہو۔ برخلاف اہل کتاب کے کہ ان کو یہ سعادت نصیب نہیں۔ گرچہ کسی قدر ان میں ایماندار ہیں مگر اکثر تو فاسق و فاجر ہیں۔ سو اس اتفاق کی بدولت وہ تم کو کچھ بھی ضرر نہ دے سکیں گے مگر کچھ زبانی طعن وتشنیع سے دل شکنی کریں تو کریں اور جو تم سے لڑیں گے بھی تو…
Read the full tafseer →لَنْ یَّضُرُّوْکُمْ اِلَّآ اَذًی ط وَاِنْ یُّـقَاتِلُوْکُمْ یُوَلُّوْکُمُ الْاَدْبَارَ قف ثُمَّ لاَ یُنْصَرُوْنَ ۔
(وہ تمہیں ہرگز نقصان نہیں پہنچا سکتے سوائے تھوڑی سی تکلیف کے اور اگر وہ تم سے جنگ کریں گے تو پیٹھ دکھائیں گے پھر وہ مدد نہیں کیے جائیں گے) (111)
یہود کی اجتماعی اور عسکری قوت سے متعلق چند پیشگوئیاں
گزشتہ آیت کریمہ میں ہم پڑھ چکے ہیں کہ اہل کتاب کو دنیا کی امامت و قیادت کے منصب سے معزول کر کے مسلمانوں کو اس عظیم منصب پر فائز کیا گیا۔ اہل کتاب بطور خاص یہود چونکہ ایک کینہ ور قوم ہیں۔ وہ اتنے بڑے نقصان کو ٹھنڈے پیٹوں برداشت نہیں کرسکیں گے۔ اس لیے وہ اپنی تاریخی جبلت سے مجبور ہو کر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 111–112
فہم القرآن
ربط کلام : مسلمانوں کی راہ میں رکاوٹ بننے والے اہل کتاب خاص کر یہودیوں کے بارے میں دو ٹوک فیصلہ۔
خندق اور فتح مکہ کے بعد مسلمان اس قابل ہوگئے کہ سرزمین حجاز میں مشرک ان کے سامنے سر نگوں ہوئے ‘ یہودیوں کو ہمیشہ کے لیے جزیرہ نمائے عرب سے نکال دیا گیا۔ نصارٰی کی طاقت تبوک کے میدان میں ہزیمت کا شکار ہوئی۔ کچھ عرصہ بعد یہود و نصارٰی ذمّی بن کر رہنے اور جزیہ دے کر اسلام کی قوت کے مقابلہ میں رسوا ہوئے۔ یہودیوں کے مستقبل کے بارے میں پیش گوئی کردی گئی کہ ان پر ہمیشہ ذّلت اور مسکنت مسلط کردی گئی ہے۔ یہ جہاں کہیں بھی ہوں گے دو صورتوں میں سے ایک کو اختیار کیے بغیر نہیں رہ سکتے۔ یا تو اللہ…
Read the full tafseer →111: لَنْ یَّضُرُّوْکُمْ اِلَّآ ٓاذًی ط وَاِنْ یُّقَاتِلُوْکُمْ یُوَلُّوْکُمُ الْاَدْبَارَ ثُمَّ لَایُنْصَرُوْنَ ۔ (وہ ہرگز تمہیں نقصان نہ پہنچا سکیں گے۔ مگر معمولی) یعنی تھوڑی تکلیف جو زبانی طور پر دین میں طعن کرنے کی حد تک ہو۔ یا اسی طرح کی دوسری تکلیف دھمکی وغیرہ۔ وَاِنْ یُّقَاتِلُوْکُمْ یُوَلُّوْ کُمُ الْاَدْبَارَ (اگر وہ تم سے لڑ پڑیں تو پیٹھ پھیر کر بھاگ نکلیں) یعنی شکست کھا کر۔ وہ تمہیں قتل و قید کا نقصان نہ پہنچا سکیں گے۔ ثُمَّ لَایُنْصَرُوْنَ (پھر انکی مدد نہ کی جائیگی) پھر ان کو کسی طرف سے مدد نہ ملے گی اور نہ تم سے بچا سکیں گے۔ اس میں ان لوگوں کیلئے جو ایمان قبول کرنے والے ہیں تسلی…
Read the full tafseer →(تفسیر) 111۔:
(آیت)” لن یضرورکم الا اذی “۔ مقاتل (رح) فرماتے ہیں کہ جب سرداران یہود نے مسلمان اہل کتاب جیسے عبداللہ بن سلام اور ان کے ساتھیوں کو تکلیف پہنچانے کا ارادہ کیا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی کہ اے ایمان والو ! یہ یہود آپ کو کوئی تکلیف نہیں پہنچا سکتے سوائے زبان سے اور سرکشی سے ، بعض نے کہا کہ ان کے سامنے وہ کلمہ کفر کہہ کر ان کو اذیت دیتے ۔ (آیت)” وان یقاتلوکم یولوکم الادبار “۔ وہ شکست کھا کر بھاگیں گے ”‘’(آیت)” ثم لا ینصرون “ پھر ان کی مدد نہیں کی جائے گی بلکہ تمہاری مدد کی جائے گی ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 104–112
(104 ۔ 109) ۔ اوپر ذکر تھا کہ یہود نے انصار کے دو گروہ کو بہکا کر ان دو گروہ کو آپس میں لڑانے کی شرارت کی تھی مگر اللہ کے رسول کی فہمایش سے یہود کا وہ بہانہ چل نہ سکا۔ ان آیتوں میں ارشاد ہے کہ سب بہکانے والوں کے سر گروہ ابلیس علیہ اللعنہ اور شیاطین الجن والانس کے اغوا سے انجان مسلمانوں کو بچانے کے لئے مسلمانوں میں ہمیشہ کے تھے ایک جماعت ایسی ہونی چاہیے کہ دین کی باتوں کی لوگوں کو نصیحت اور فہمایش کیا کرے۔ اس سے زیادہ تفسیر اس باب میں آئندہ کی آیت کی تفسیر میں آتی ہے۔ 110۔ 112۔ خازن وغیرہ میں جو حدیثیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ مالک بن صیف اور وہب بن یہود یہودیوں نے ایک روز عبد اللہ بن مسعود ؓ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 109–111
آیت 109
یعنی آسمان اور زمین میں جو کچھ ہے، اس سب کا مالک وہی ہے۔ جس نے انہیں پیدا کیا، انہیں رزق دیا، اور اپنی قضاء و قدر کے مطابق اور اپنی شریعت اور احکام کے مطابق ان میں تصرف کرتا ہے۔ قیامت کے دن وہ اسی کے پاس واپس جائیں گے، پھر وہ انہیں اچھے اور برے اعمال کا بدلہ دے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 111–113
سب اہل کتاب یکساں نہیں ہیں
قول باری ہے (کیسواسواء من اھل الکتب امۃ قائمۃ یتلون ایات اللہ آناء للیل وھم یسجدون، مگر سب اہل کتاب یکساں نہیں ہیں۔ ان میں سے کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو راہ راست پر قائم ہیں۔ راتوں کو اللہ کی آیات پڑھتے ہیں اور اس کے آگے سجدہ ریزہوتے ہیں) ابن عباس ؓ قتادہ اور ابن جریج کا قول ہے کہ جب عبداللہ بن سلام اور ان کے ساتھ ایک گروہ مسلمان ہوگیا تو یہود کہنے لگے کہ محمد (ﷺ) پر ہمارے بدترین لوگ ایمان لائے ہیں اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی حسن کا قول ہے کہ (قائمۃ) سے مراد عادلہ ہے۔ ابن عباس ؓ ، قتادہ اور ربیع بن انس کا قول ہے کہ اس سے مراد اللہ کے حکم پر ثابت قدم رہنے والے…
Read the full tafseer →232 حق کے مقابلے میں شکست اہل باطل کا مقدر : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ اہل باطل اہل حق کے مقابلے میں شکست کھائیں گے : یعنی اگر یہ لوگ اہل حق کے مقابلے میں آئیں گے تو شکست کھائیں گے۔ اور پیٹھ دے کر بھاگیں گے۔ اور جن جن کا زعم اور گھمنڈ یہ رکھتے ہیں، ان میں سے کوئی بھی ان کی مدد کو نہیں آئے گا۔ چناچہ ایسے ہی ہوا اور حضرت حق ۔ جل مجدہ ۔ کے اس فرمان واجب الاذعان کے مطابق یہود بےبہود کو مسلمانوں کے مقابلے میں کبھی بھی شوکت و غلبہ نصیب نہیں ہوسکا۔ اور کبھی ایسا نہیں ہوا کہ وہ مسلمانوں کے مقابلے میں میدان میں اترے ہوں اور غالب و کامیاب ہو کر لوٹے ہوں بلکہ ہمیشہ مقہور و مخذول ہی رہے۔ (کبیر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 110–111
بہترین امت
تشریح : جیسا کہ پچھلی آیات میں امت محمدیہ ﷺ کو بہترین امت کا اعزاز دیا گیا ہے۔ کیونکہ یہ اللہ کو ایک مانتے ہیں، نیکی کا حکم دیتے ہیں، برائی سے منع کرتے ہیں، اللہ رب العزت فرماتے ہیں کہ اگر اہل کتاب بھی ایمان لے آتے تو یہ ان کے لیے بہتر اور اچھا ہوتا۔ مگر انہوں نے ایسا نہیں کیا۔ کچھ لوگ ان میں مومن ہوگئے تھے مگر اکثر فاسق ہی تھے۔ اللہ رب العزت مسلمانوں کو تسلی دیتے ہیں کہ تم اہل کتاب کی تعداد اور سازو سامان سے مت گھبراؤ۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کا یہ وعدہ ہے کہ یہ لوگ تمہارا کچھ بھی بگاڑ نہیں سکتے سوائے اس کے کہ یہ تمہیں چھوٹی موٹی ایذا پہنچائیں یا زبانی برا بھلا کہیں۔ اگر انہوں نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 110–120
آیات 110- 120
اسرارو معارف
کنتم خیرامۃ……………واکثرھم الفسقون۔
تم سب سے اچھی امت ہو کہ آقائے نامدار ﷺ خیرالرسل ہیں اور قرآن کریم سب کتابوں سے اعلیٰ و افضل کتاب ہے۔ تم لوگ جنہیں آپ ﷺ سے نسبت حاصل ہے۔ اور اس کی برکت سے کتاب اللہ کو سمجھنے کی سعادت حاصل ہوئی ہے ایک ایسی سعادت ہے کہ ارشاد ہوا۔ اتممت علیکم نعمتی۔ کہ میں نے اپنی نعمت تم پر تمام کردی۔ تم ہی بہترین لوگ ہو۔
اتمام نعمت ایک ایسی عطا ہے جس کی حدود متعین کرنا انسان کے بس کی بات نہیں ہے اور اس پر مزید یہ کہ نعمت کا حصول بھی بیشک بہت بڑی بات ہے مگر اس کو دوسروں پر تقسیم کرنا اور بےحدوحساب بانٹنا بہت ہی بڑی شے ہے اور تمہیں تو بھیجا ہی اس لئے…
Read the full tafseer →ف 10 چناچہ ایسا ہی ہوا یہود کو مسلما نوں کے مقابلہ ہر جگہ شکست ہوئی اور رسوائی منہ توڑ دیکھنا پڑا اور بآ لا خر نبی ﷺ اور آپ کے صحابہ انہیں جزیرہ عرب سے جلا وطن کردیا۔ یہ بہت اخبار بالغیب اور پیشین گوئی پر مشتمل ہے اور اللہ تعالیٰ نے اس میں فتح کامیابی اور نصرت کی بشارت دی ہے کہ کذافی آیات (کبیر۔ ابن کثیر )
Read the full tafseer →(3:111) لن یضروکم۔ مضارع معروف نفی تاکید بلن۔ صیغہ جمع مذکر غائب کم ضمیر جمع مذکر حاضر۔ ہرگز تمہیں کوئی ضرر نہ پہنچا سکیں گے
اذی۔ تکلیف۔ اذیت۔ کوفت۔
یوتوکم الادبار۔ ولی یولی (باب تفعیل) پیٹھ دینا۔ پشت پھیر کر بھاگنا۔ ادبار جمع دبر کی۔ بمعنی پیٹھ۔ وہ تمہاری طرف پیٹھ پھیر کر بھاگ جائیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 110–112
لغات القرآن آیت نمبر 110 تا 112
خیرامة (بہترین جماعت) اخرجت (نکالی گئی ہے) لن یضروا (وہ ہرگز نقصان نہ پہنچائیں گے، وہ ہرگز نقصان نہیں پہنچا سکیں گے) اذی (تکلیف، اذیت (زبانی تکلیفیں پہنچائیں گے) یولوا (وہ پلٹ جائیں) الادبار (دبر کی جمع) پیٹھ) لاینصرون (مدد نہ کیے جائیں گے) ضربت (ماردی گئی، مسلط کردیگئ) الذلة (ذلت ، رسوائی) ثقفوا (وہ پائے گئے) المسکنة (محتاجی) کانویعتدون (وہ حد سے بڑھتے تھے) ۔ تشریح : آیت نمبر 110 تا 112
گذشتہ آیات میں مومنوں کو دین اسلام پر ثابت قدم رہنے ، تقوی اور پرہیز گاری کی زندی اختیار کرنے، اچھائیاں پھیلانے اور برائیوں کو روکنے کا حکم دیا گیا تھ۔ ان آیات میں اللہ تعالیی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 111–112
خواص القرآن : آیۃ، لن یضروکم الآ اذی سے کانو یعتدون تک یہ آیتیں دشمن کی فتح یابی اور اس کو جنگ وکار زار سے روکنے کے لئے ہیں۔ تلوار یا ڈھال یا نیزہ یا کسی ہتھیار پر شنبہ کے روز چھٹی ساعت میں اس کو کندہ کرے، اور کندہ کرنے والا روزے سے ہو۔ وہ ہتھیار لے کر جو دشمن کے مقابلہ میں جاوے گا کامیاب ہوگا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 103–111
[39] اللہ کی رسی سے مراد قرآن مجید ہے۔ رسول اکرم ﷺ نے قرآن مجید کے بارے میں ارشاد فرمایا ہے '' ھو حبل اللہ المتین '' (یہ اللہ کی مضبوط رسی ہے) ۔ قرآن کو اللہ کی رسی اس لئے فرمایا کہ یہی چیز ہے جو بندوں کو خدا سے جوڑتی ہے۔ جس نے اس کو تھام لیا گویا اس نے خدا کا سہارا تھام لیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 111–112
کفر کی شکت :
ان آیات میں بتایا ہے کہ یہ لوگ مسلمانوں کو کوئی مادی فائدہ نہیں پہنچا سکتے ، جب مسلمانوں کے مقابلہ میں آئیں گے تو خائب و خاسر ہی لوٹیں گے ، ان کے کفر والحاد کی وجہ سے کہ انہوں وحدت حق کو ٹھکرایا ہے اور انبیاء کی مخالفت کی ہے ، انہیں ذلت ومسکنت سے دو چار ہونا پڑے گا ، الا یہ کہ خدا کے جبل متین کو مضبوطی سے پکڑ لیں ، دیکھو ! قرآن حکیم کی یہ پیشگوئی کس قدر واضح طور پر ثابت ہوئی ، اہل کتاب باوجود کثرت کے شکست کھا گئے ان کے علم رفیع کے سامنے سرنگوں ہوگئے ،
قرآن حکیم علی الاعلان یہ کہتا ہے کہ کفر ہمیشہ مغلوب رہے گا ان کی ہمیشہ فتح ہوگی ، اس لئے کہ حق و باطل کی آویزش میں حق کا پلہ بھاری…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 110–111
ف 4 اے امت محمدیہ ﷺ ! تم لوگ تمام جماعتوں میں سے اچھی جماعت اور تمام امتوں میں سے بہترین امت ہو ایسی امت کہ عام لوگوں کی نفع رسانی کے لئے اور عام لوگوں کے فائدے کے لئے ظاہر کی گئی ہے اور وہ فائدہ یہ ہے کہ تم لوگوں کو اچھے کام کرنے کو کہتے ہو اور برے کاموں سے روکتے ہو اور تم خود بھی اللہ تعالیٰ پر ایمان لاتے ہو اور اس ایمان باللہ پر قائم رہتے ہو اور اگر یہ اہل کتاب جو تمہارے مخالف ہیں یہ بھی ایمان لے آئے تو ان کے حق میں بہتر ہوتا اور جس حالت میں یہ اب ہیں اس سے اچھے ہوجاتے کیونکہ خیر امت میں داخل ہوجاتے لیکن یہ سب مسلمان نہیں ہوئے بلکہ ان میں سے کچھ تو مسلمان ہیں اور بکثرت ان میں سے کافر اور…
Read the full tafseer →ف 2۔ یعنی زبانی برا بھلا کہہ کر دل دکھانا
3۔ یہ ایک پیشن گوئی ہے جو اسی طرح واقع ہوئی چناچہ اہل کتاب زمانہ نبوت میں کسی موقعہ میں بھی صحابہ پر جو کہ بقرینہ مقام اس مضمون کے مخاطب ہیں غالب نہ آئے خصوص یہود جن کے قبائح خصوصیت سے اس جگہ مذکور ہیں۔
Read the full tafseer →ان کی مخالفت سے تمہارا کچھ نہی بگڑے گا ایک پیش گوئی کا اعلان :
214: اس آیت کی تین پیش گوئیوں میں سے ایک پیش گوئی ہے۔ جو اس وقت کی گئی جب ابھی یہود پوری طاقت اور قوت کے ساتھ مدینہ منورہ اور مضافات مدینہ میں رہ رہے تھے۔ اس وقت ابھی ان کا مدینہ اور حوالی مدینہ میں بڑا زور اور غلبہ تھا۔ قرآن کریم میں نبی اعظم و آخر ﷺ سے اللہ تعالیٰ نے اس بات کا اعلان کوا دیا کہ یہود اپنے بڑاے بڑے اور مضبوط قلعوں کے باوجود اور بڑے بڑے خزانوں کے مالک ہونے کے باوجود مسلمانوں کو ہرگز کوئی قابل ذکر نقصان نہیں پہنچا سکیں گے اور یہ اعلان گویا رسول اللہ ﷺ کا ایک زندہ جاوید معجزہ ہے جو آج بھی زندہ موجود ہے اور قیامت تک…
Read the full tafseer →Commentary
In previous verses (98-101), it was shown how hostile to Muslims the people of the Book were and how they planned to bring religious harm to them. Mentioned in the present verse are their plans to harm Muslims materially. The last sentence carries the prophecy that they shall not succeed.
This prophecy of the Holy Qur'an was proved true when, during the entire period of prophethood, the people of the Book were unable to overcome the noble Companions ؓ who are the primary addressees here. This applies particularly to the Jewish tribes who had tried to sow seeds of discord among the…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 111–112
90. If the Jews have ever enjoyed any measure of peace and security anywhere in the world they owe it to the goodwill and benevolence of others rather than to their own power and strength. At times Muslim governments granted them refuge while at others non-Muslim powers extended protection. Similarly, if the Jews ever emerged as a power it was due not to their intrinsic strength but to the strength of others.
Read the full tafseer →