Explained with ayahs 110–112
سب سے بہتر شخص کون ؟ اور سب سے بہتر امت کا اعزاز کس کو ملا ؟
اللہ تعالیٰ خبر دے رہا ہے کہ امت محمدیہ تمام امتوں پر بہتر ہے صحیح بخاری شریف میں ہے حضرت ابوہریرہ ؓ اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں تم اوروں کے حق میں سب سے بہتر ہو تو لوگوں کی گردنیں پکڑ پکڑ کر اسلام کی طرف جھکاتے ہو، اور مفسرین بھی یہی فرماتے ہیں مطلب یہ ہے کہ تم تمام امتوں سے بہتر ہو اور سب سے زیادہ لوگوں کو نفع پہنچانے والے ہو، ابو لہب کی بیٹی حضرت درہ ؓ فرماتی ہیں ایک مرتبہ کسی نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا آپ اس وقت منبر پر تھے کہ حضور ﷺ کونسا شخص بہتر ہے ؟ آپ نے فرمایا سب لوگوں سے بہتر وہ شخص ہے جو سب سے زیادہ قاری قرآن ہو سب سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 111–112
سورة اٰلِ عِمْرٰن 90
یعنی دنیا میں اگر کہیں ان کو تھوڑا بہت امن چین نصیب بھی ہوا ہے تو وہ ان کے اپنے بل بوتے پر قائم کیا ہوا امن و چین نہیں ہے بلکہ دوسروں کی حمایت اور مہربانی کا نتیجہ ہے۔ کہیں کسی مسلم حکومت نے ان کو خدا کے نام پر امان دے دی، اور کہیں کسی غیر مسلم حکومت نے اپنے طور پر انہیں اپنی حمایت میں لے لیا۔ اسی طرح بسا اوقات انہیں دنیا میں کہیں زور پکڑنے کا موقع بھی مل گیا ہے، لیکن وہ بھی اپنے زور بازو سے نہیں بلکہ محض ”بپائے مردی ہمسایہ“۔
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر
چھا دی گئی ہے ان پر ذلت جہاں کہیں بھی پائے جاویں گے مگر ہاں (دو ذریعوں سے وہ اس ذلت سے نجات پاسکتے ہیں) ایک تو ایسے ذریعہ کے سبب جو اللہ کی طرف سے ہے اور ایک ایسے ذریعہ کے سبب جو آدمیوں کی طرف سے ہے (اللہ کی طرف کا ذریعہ تو یہ ہے کہ کوئی کتابی غیر مسلم اللہ تعالیٰ کی عبادت میں اپنے طریق پر ایسا مشغول و مصروف ہو کہ مسلمانوں سے لڑتا بھڑتا نہ ہو، اس کو جہاد میں قتل نہیں کیا جاتا، اگرچہ اس کی کافرانہ عبادت آخرت میں اس کے کام نہ آئے گی، اسی طرح اللہ کی طرف کے ذریعہ میں یہ بھی آگیا کہ وہ کتابی نابالغ یا عورت ہو کہ شریعت اسلام کی رو سے ان کو بھی جہاد میں قتل کرنے کی اجازت نہیں ہے اور…
Read the full tafseer →ذلت کی مار : ضُرِبَتْ عَلَيْهِمُ الذِّلَّةُ یعنی جس طرح دیوار پر گیلی مٹی تھوپ دی جاتی ہے اسی طرح ان پر ذلت تھوپ دی گئی ہے۔ اس میں اشارہ اس بات کی طرف بھی ہے کہ انہوں نے ع زت کی جگہ ذلت کی راہ اختیار کی تو ان پر پوری طرح ذلت مسلط کردی گئی۔ اَيْنَ مَا ثُـقِفُوْٓا سے اس ذلت کے احاطہ اور اس کی ہمہ گیری کی طرف اشارہ ہے کہ جہاں کہیں بھی یہ ہیں ذلت ان پر مسلط ہے۔ یہاں تک کہ اپنے مرکز میں بھی یہ ذلیل و خوار ہیں۔ دنیا کا کوئی خطہ ایسا نہیں ہے جہاں ان کو عزت حاصل ہو اور یہ اپنی کمر کے بل بوتے پر کھڑے ہوں۔ اِلَّا بِحَبْلٍ مِّنَ اللّٰهِ وَحَبْلٍ مِّنَ النَّاسِ میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اگر یہ کہیں…
Read the full tafseer →112۔ 1 یہودیوں پر جو ذلت و مسکنت، غضب الٰہی کے نتیجے میں مسلط کی گئی ہے، اس سے وقتی طور پر بچاؤ کی دو صورتیں بیان کی گئی ہیں۔ ایک یہ کہ وہ اللہ کی پناہ میں آجائیں۔ یعنی اسلام قبول کرلیں یا اسلامی مملکت میں جزیہ دے کر ذمی کی حیثیت سے رہنا قبول کرلیں، دوسری صورت یہ ہے کہ لوگوں کی پناہ ان کو حاصل ہو
112۔ 2 یہ ان کے کرتوت ہیں جنکی پادش میں ان پر ذلت مسلط کی گئی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 107–113
37: اس سے مراد وہ اہل کتاب ہیں جو آنحضرت ﷺ پر ایمان لے آئے تھے، مثلاً یہودیوں میں سے حضرت عبداللہ بن سلام ؓ
Read the full tafseer →قرآن کریم اس بات کا بھی انکشاف کرتا ہے کہ ان لوگوں کی قسمت میں ذلت اور خواری کیوں لکھ دی گئی ؟ اس کا سبب کیا ہے ؟ تو سبب دراصل ایک عام سبب ہے ‘ جس کے آثارونتائج ہر قوم پر منطبق ہوسکتے ہیں ۔ چاہے وہ دین کے معاملے میں جس قدر اونچے دعوے کرتی ہو۔ ان کی ذلت و خواری کا سبب اللہ کی نافرمانی اور ظلم تھا۔
ذَلِكَ بِأَنَّهُمْ كَانُوا يَكْفُرُونَ بِآيَاتِ اللَّهِ وَيَقْتُلُونَ الأنْبِيَاءَ بِغَيْرِ حَقٍّ ذَلِكَ بِمَا عَصَوْا وَكَانُوا يَعْتَدُونَ
” اور یہ سب کچھ صرف اس وجہ سے ہوا کہ یہ اللہ کی آیات سے کفر کرتے رہے اور انہوں نے پیغمبروں کو ناحق قتل کیا ۔ یہ ان کی نافرمانیوں اور زیادتیوں کا انجام تھا۔…
Read the full tafseer →3 یہ آیتیں اہل کتاب میں سے خاص یہود کے متعلق معلوم ہوتی ہیں جیسا کہ سیاق کلام اور قرآن کی دوسری آیات سے ظاہر ہے یعنی یہود پر ہمیشہ کے لئے ذلت کی مہر کردی گئی۔ یہ بدبخت جہاں کہیں پائے جائیں، ذلت کا نقش ان سے محو نہیں ہوسکتا۔ بڑے بڑے کروڑ پتی یہود بھی آزادی و خودمختاری سے اپنے جان و مال کی حفاظت نہیں کرسکتے۔ کیونکہ ان کی آزاد حکومت کسی جگہ نہیں " سوائے دستاویز اللہ کے " یعنی بعض بچی کھچی رسمیں تورات کی عمل میں لاتے ہیں اسکے طفیل سے پڑے ہیں اور " سوائے دستاویز لوگوں کے " یعنی کسی کی رعیّت میں اسکی پناہ میں پڑے ہیں (کذافی الموضح) بعض مفسرین نے " حَبْلٍ مِّنَ اللّٰہِ " و " حَبْلِ مِّنَ النَّاسِ "…
Read the full tafseer →آیت 112 ضُرِبَتْ عَلَیْہِمُ الذِّلَّۃُ اَیْنَ مَا ثُقِفُوْآ
اِلاَّ بِحَبْلٍ مِّنَ اللّٰہِ وَحَبْلٍ مِّنَ النَّاسِ
جیسے آج پوری عیسائی دنیا ان کا سہارا بنی ہوئی ہے۔ اسرائیل اپنے بل پر نہیں ‘ بلکہ پوری عیسائی دنیا کی پشت پناہی پر قائم ہے۔ خلیج کی جنگ میں اتحادی افواج کے کمانڈر انچیف نے صاف کہہ دیا تھا کہ یہ ساری جنگ ہم نے اسرائیل کے تحفظ کے لیے لڑی ہے۔ گویا اس قدر خونریزی سے صرف اسرائیل کا تحفظ پیش نظر تھا۔
وَبَآءُ وْ بِغَضَبٍ مِّنَ اللّٰہِ وَضُرِبَتْ عَلَیْہِمُ الْمَسْکَنَۃُ ط ذٰلِکَ بِاَنَّہُمْ کَانُوْا یَکْفُرُوْنَ بِاٰیٰتِ اللّٰہِ وَیَقْتُلُوْنَ الْاَنْبِیَآءَ بِغَیْرِ حَقٍّ ط۔
ذٰلِکَ بِمَا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 112–113
102 اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے یہود کی ذلت و رسوائی کے اسباب بیان فرمائے ہیں۔ سب سے پہلے انہوں نے اللہ کی نافرمانی کی راہ اختیار کی اور حدود اللہ سے تجاوز کرنے لگے، ان گناہوں نے ان کی طبائع پر یہ اثر کیا کہ بڑے بڑے جرائم پر دلیر ہوگئے، جیسے اللہ کی آیات ہی سے انکار کردینا انہیں چھپا جانا ان میں تحریف کرلینا حتیٰ کہ وہ انبیاء کے قتل کے بھی مرتکب ہوئے۔ پھر جب بدبختی کی اس انتہا کو پہنچ گئے تو ان پر اللہ کا غضب نازل ہوا جس کے نتیجہ میں ذلت و رسوائی اور محتاجی ہمیشہ کے لیے ان کے مقدر کردی گئی اور اس سے بچاؤ کی دو صورتیں بتلائی گئی ایک یہ کہ اللہ کی ذمہ داری کی پناہ میں آجائیں۔ اس کا ایک مطلب تو یہ…
Read the full tafseer →233 ۔ بنی اسرائیل کی مغضوبیت اور پستی وذلت پر حاشیہ پارۂ اول کے رکوع 6 کے ذیل میں مفصل گزر چکے۔ (آیت) ” ضربت علیھم الذلۃ “۔ یعنی ان کی جانوں، ان کے مالوں، ان کی عزتوں سب کی بےوقعتی اور ناقدری خلق اللہ کے دل میں پیدا ہوگئی ہے۔ (آیت) ” این ماثقفوا “۔ ابھی دو ہی چار سال ادھر یہود کی جو گت جرمنی میں ہنگری میں، اٹلی میں زیکوسلاویکا میں اور دوسرے ملکوں میں باوجود ان کی اس خوش حالی وامارت کے بن چکی ہے وہ آیت کی بہترین تفسیر ہے۔ (آیت) ” حبل من اللہ “۔ سے ان کی ایسی آبادی مراد ہوسکتی ہے جسے خود شریعت الہی نے قتل، ہلاکت اور تعزیری وانتقامی کاررروائیوں سے مستثنی رکھا ہے مثلا ان کے بچہ، ان کی عورتیں، ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 111–112
ضُرِبَتْ عَلَیْھِمُ الذِّلَّۃُ اَیْنَ مَا ثُقِفُوْآ اِلاَّ بِحَبْلِ مِّنَ اللہِ (الآیۃ) بنی اسرائیل کی مغضوبیت اور پستی و ذلت، ان کی جانوں اور مالوں اور ان کی بےوقعتی اور ناقدری خلق اللہ کے دلوں میں پیدا ہوگئی ہے اور تاریخ کی شہادت ہے کہ یہود کی یہ ذلت اور پست حالی زمانہ نزول قرآن تک رہی بلکہ اس کے بعد بھی صدہاسال اسی طرح قائم رہی، چناچہ بیسویں صدی کے ثلث اول تک یہود کی جو گت جرمنی میں، ہنگری میں، اٹلی میں، زیکوسلواکیہ میں اور دیگر ملکوں میں باوجود ان کی خوشحالی اور زرداری کے بن چکی ہے وہ بجائے خود اس آیت کی تفسیر ہے اس کی مفصل تشریح سورة بقرہ کے رکوع 6 میں گزر چکی ہے قند مکرر کے طور پر یہاں…
Read the full tafseer →ضربت علیھم الذلۃ ان یہودیوں پر ذلت کی مہر لگا دی گئی ہے یعنی انکی جان ‘ اہل و عیال اور مال کو مباح کردیا گیا ہے
این ما ثقفوا جہاں بھی پائے جائیں۔
الا بحبل من اللہ مگر قرآن یا دین اسلام کی وجہ سے (ان کی حفاظت ہوسکتی ہے) جس نے امن طلب کافروں اور ذمیوں سے تعرض نہ کرنے کا حکم دیا ہے اللہ نے فرمایا ہے : وَ اِنْ اَحَدٌ مِّنَ الْمشرکین اسْتَجَارَکَ فَاجِرْہُ دوسری جگہ فرمایا : حتّٰی یُعْطُوُا الْجِزْیَۃَ عَنْ یَدٍ وَّ ھُمْ صَاغِرُوْنَ ۔
و حبل من الناس اور مسلمانوں کے عہد سے یعنی امان طلبی کے۔ اگر مسلمان امان ہی کا عہد کرلیں یا قبول جزیہ کے بعد عقد ذمہ ہوجائے (تو یہودیوں کا جان و مال محفوظ ہوجائے گا)…
Read the full tafseer →(112) یہ مغضوب قوم یہود جہاں کہیں بھی موجود ہوگی جزیہ کی ذلت ان پر جما دی گئی ہے مومنین کے مقابلہ میں یہ ایمان باللہ (یعنی قبول حق) یا جزیہ کے عہد و پیمان کے بغیر یہ ہرگز نہیں ٹھہر سکیں گے، یہ لعنت کے مستحق ہوگئے اور ان پر پستی جما دی گئی، یہ ذلت ومفلسی اسی بنا پر ہے کہ یہ رسول اکرم ﷺ اور قرآن کریم کا انکار کرتے تھے اور یہ غصہ اور ذلت ہفتہ کے دن میں نافرمانی کرنے انبیاء کرام کے قتل کرنے اور حرام چیزوں کو حلال سمجھنے کی وجہ سے بھی ہے۔
Read the full tafseer →ضُرِبَتْ عَلَيْهِمُ الذِّلَّةُ۔۔ : یعنی مغلوب ہونے کے ساتھ ہی ان پر ذلت بھی مسلط کردی گئی۔ [ دیکھیے البقرہ : 61 ] یہود کی اس ذلت سے بچاؤ کی دو صورتیں بیان کی گئی ہیں، ایک یہ کہ وہ اللہ کی پناہ میں آجائیں، جس کا مطلب یہ ہے کہ وہ اسلام قبول کرلیں، یا اسلامی مملکت میں جزیہ دے کر ذمی کی حیثیت سے رہنا قبول کرلیں۔ دوسری صورت یہ ہے کہ لوگوں کی پناہ ان کو حاصل ہوجائے۔ اس کے دو مفہوم بیان کیے گئے ہیں، ایک یہ کہ اسلامی مملکت کے بجائے عام مسلمان ان کو پناہ دے دیں، جیسا کہ ہر مسلمان کو یہ حق حاصل ہے اور اسلامی مملکت کے حکمرانوں اور تمام مسلمانوں کو تاکید کی گئی ہے کہ معمولی درجے کے مسلمان حتیٰ کہ کسی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 112–115
آیت نمبر : 112 تا 115۔
قولہ تعالیٰ (آیت) ” ضربت علیہم الذلۃ “۔ یعنی جہاں کہیں یہ پائے گئے اور یہ ملے، کلام مکمل ہوا اور ان پر ذلت مسلط کرنے کا معنی سورة البقرہ میں گزر چکا ہے۔
(آیت) ” الابحبل من اللہ “۔ یہ استثنا منقطع ہے یہ اول کا جز نہیں ہے، یعنی بجز ان کے جو اللہ تعالیٰ سے عہد کو مضبوط کرتے ہیں، (آیت) ” وحبل من الناس “۔ مراد وہ ذمہ داری (معاہدہ) ہے جو لوگوں کی جانب سے ان پر ہے، اور (آیت) ” الناس “ سے مراد حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ اور وہ مومنین ہیں جنہیں وہ خراج ادا کرتے ہیں اور وہ انہیں امن اور پناہ دیتے ہیں، کلام میں اختصار ہے اور معنی یہ ہے : ” الاان یعتصموا بحبل امن اللہ “۔ پھر اس سے فعل کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 111–113
(1) ابن اسحاق ابن المنذر ابن جریر ابن ابی حاتم نے طبرانی اور بیہقی نے دلائل میں وابن عساکر نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ جب عبد اللہ بن سلام ؓ اور ثعبلہ بن سعید اور اسید بن عبید ؓ اور جو لوگ یہودیوں میں سے ان کے ساتھ مسلمان ہوئے یہ لوگ ایمان لائے اور سچ بولا اور اسلام سے بڑی رغبت کا اظہار کیا تو یہود کے علماء اور کافروں نے کہا کہ ہمارے گھٹیا قسم کے لوگ محمد ﷺ پر ایمان لائے اور ان کی تابعداری کی اور اگر ہمارے بہترین افراد ہوتے تو اپنے آباؤ اجداد کا دین نہ چھوڑتے اور نہ ہی غیر دین کی طرف جاتے تو اللہ تعالیٰ نے اس بارے میں نازل فرمایا لفظ آیت ” لیسوا سواء “ سے لے کر ” اولئک من الصلحین…
Read the full tafseer →[ضُرِبَتْ : تھوپی گئی ] [عَلَیْہِمُ : ان پر ] [ الذِّلَّــۃُ : ذلت ] [اَیْنَ مَا : جہاں کہیں ] [ثُقِفُوْآ : وہ لوگ پائے جائیں ] [اِلاَّ : سوائے اس کے کہ ] [بِحَبْلٍ : کسی معاہدے سے ] [مِّنَ اللّٰہِ : اللہ (کی طرف) سے ] [وَحَبْلٍ : اور کسی معاہدے سے ] [مِّنَ النَّاسِ : لوگوں (کی طرف) سے ] [وَبَآئُ وْ : اور وہ لوٹے ] [بِغَضَبٍ : ایک غضب کے ساتھ ] [مِّنَ اللّٰہِ : اللہ کی طرف سے ] [وَضُرِبَتْ : اور تھوپی گئی ] [عَلَیْہِمُ : ان پر ] [الْمَسْکَنَۃُط : محتاجی ] [ذٰلِکَ : یہ ] [بِاَنَّہُمْ : اس وجہ سے کہ وہ لوگ ] [کَانُوْا یَکْفُرُوْنَ : انکار کیا کرتے تھے ] [بِاٰیٰتِ اللّٰہِ : اللہ کی نشانیوں کا ]…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 111–115
یہود کی ذلت اور مسکنت
زمانہ نبوت میں یہودیوں کی دشمنی ظاہراً بھی تھی اور پوشیدہ بھی تھی مسلمانوں کو ان سے تکلیف پہنچتی رہتی تھی، خطرہ تھا کہ کوئی ایسی کاروائی نہ کر بیٹھیں جس سے زیادہ تکلیف پہنچ جائے۔ بلکہ رؤسا یہود نے حضرت عبداللہ بن سلام اور ان عوام کو جو یہودیت چھوڑ کر اسلام میں داخل ہوگئے تھے۔ زبانی طور پر ایذا دینے کا سلسلہ شروع بھی کردیا تھا۔ اللہ جل شانہٗ نے مسلمانوں کے اس خطرہ کو دور فرما دیا۔ اور فرمایا کہ یہ لوگ تمہیں بس ذرا سی تکلیف پہنچا سکیں گے اور اگر انہوں نے جنگ چھیڑی تو پشت پھیر کر بھاگ جائیں گے، پھر یہودیوں کی حالت مغضوبیت بیان فرمائی کہ ان پر ذلت کی چھاپ مار دی گئی جہاں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 102–117
قال تعالی۔ یا ایھا الذین۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تا۔۔۔۔ ترجع الامور۔ آیت۔
ربط) گزشتہ آیات میں اللہ نے باہمی قتال وشقاق کو تکفرون یعنی کفر سے تعبیر فرمایا اب آئندہ آیت میں تقوی اور اعتصام بحبل اللہ یعنی اتفاق اور اتحاد اور اسلامی مواخات کا حکم دیتے ہیں اور اتفاق اور اتحاد کا ایک دستور العمل بتلاتے ہیں وہ یہ کہ اول تقوی اور اسلام پر مداومت اور استقامت کا حکم دیا اور پھر اعتصام بحبل اللہ کا حکم فرمایا کہ سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوط پکڑو پھر یہ ارشاد فرمایا، واذکر نعمتہ اللہ علیکم۔ الخ۔ آیت۔ جس میں حکم دیا کہ اتفاق اور اتحاد کی نعمت کو یاد کرو، اور اس نعمت کو اور اس کی برکات کو یاد کرکے موازنہ کرو کہ پہلے…
Read the full tafseer →167 حَبل کے معنی عہد اور ذمہ کے ہیں۔ والحبل العھد والذمۃ ( مدارک ص 137 ج 1) حَبْلٌ مِّنَ اللہِ سے مراد عقد ذمہ اور اداء جزیہ ہے اور حَبْلٌ مِّنَ النَّاسِ سے لوگوں کی طرف سے امان نفس اور حفاظت مال وغیرہ کا عہد مراد ہے۔ ای بذمۃ من اللہ وھو عقد الذمۃ لھم وضرب الجزیۃ علیھم والزامھم احکام الملۃ وحبل من الناس ای امان منھم لھم کما فی المھادن والمعاھد الخ (ابن کثیر ص 396 ج 1) حاصل یہ کہ یہودیوں پر ذلت ورسوائی مسلط کردی گئی ہے۔ اور ہر جگہ ان کا مال اور ان کی جان بےوقعت ہیں اور سوائے دو صورتوں کے نہ ان کا مال وجان محفوظ ہے۔ اور نہ ہی ان کو عزت اور وقار کی زندگی نصیب ہے۔ اول یہ کہ وہ کسی مسلم حکومت کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 112–115
ربط آیات :
گزشتہ درس میں بیان ہوچکا ہے۔ کہ جس طرح حضور نبی کریم ﷺ تمام انبیاء سے افضل ہیں ، اسی طرح آپ کی امت بھی تمام امتوں سے افضل ہے۔ اللہ تعالیٰ کے علم ازلی میں بھی یہ چیز موجود ہے۔ اور لوح محفوظ میں بھی درج ہے۔ اس کے بعد اہل کتاب سے شکوہ کیا گیا اگر وہ نبی آخر الزمان پر ایمان لے آتے ، تو بہترین امت میں شامل ہوجاتے ، اور یہ ان کے لیے بہتر ہوتا ، مگر وہ اپنے باطل عقیدے پر اڑے رہے۔ پھر فرمایا کہ ان میں سے کچھ ایمان والے بھی ہیں مگر اکثر نافرمان ہیں۔ پھر اہل ایمان کو تسلی دی گئی کہ ان سے کوئی خطرہ محسوس نہ کرو۔ یہ لوگ تمہیں زبانی حد تک تو ستائیں گے مگر تمہارا کوئی نقصان نہ کرسکیں گے۔ اگر…
Read the full tafseer →ضُرِبَتْ عَلَيْہِمُ الذِّلَّـۃُ اَيْنَ مَا ثُـقِفُوْٓا اِلَّا بِحَبْلٍ مِّنَ اللہِ وَحَبْلٍ مِّنَ النَّاسِ وَبَاۗءُوْ بِغَضَبٍ مِّنَ اللہِ وَضُرِبَتْ عَلَيْہِمُ الْمَسْكَنَۃُ 0 ۭ ذٰلِكَ بِاَنَّھُمْ كَانُوْا يَكْفُرُوْنَ بِاٰيٰتِ اللہِ وَيَقْتُلُوْنَ الْاَنْۢبِيَاۗءَ بِغَيْرِ حَقٍّ 0 ۭ ذٰلِكَ بِمَا عَصَوْا وَّكَانُوْا يَعْتَدُوْنَ 112 ۤ
ضَرْبُ المَثلِ
هو من ضَرْبِ الدّراهمِ ، وهو ذکر شيء أثره يظهر في غيره . قال تعالی: ضَرَبَ اللَّهُ مَثَلًا [ الزمر/ 29] ، وَاضْرِبْ لَهُمْ مَثَلًا[ الكهف/ 32] ، ضَرَبَ لَكُمْ مَثَلًا مِنْ أَنْفُسِكُمْ
[ الروم/ 28] ، وَلَقَدْ ضَرَبْنا لِلنَّاسِ [ الروم/…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 110–112
ترکیب : کنتم اسکا اسم انتم خیر امۃ خبر ای فی علمی و قیل حرتم کان زائدہ ہے ای انتم خیر امۃ اخرجت الخ امت کی صفت الاذی کا استثناء اشیائِ محذوف سے ہے۔
تفسیر : پیشین گوئی : اول فرمایا تھا کہ جن کے منہ روشن ہوں گے وہ ہمیشہ جنت میں رہیں گے۔ یہاں اس کی وجہ اور علت فرماتا ہے کہ یہ نورانیت تم کو اس لئے حاصل ہوئی کہ تم دنیا میں کمال اور درجہ سعادت حاصل کرچکے ہو۔ برخلاف اہل کتاب کے کہ ان کو یہ سعادت نصیب نہیں۔ گرچہ کسی قدر ان میں ایماندار ہیں مگر اکثر تو فاسق و فاجر ہیں۔ سو اس اتفاق کی بدولت وہ تم کو کچھ بھی ضرر نہ دے سکیں گے مگر کچھ زبانی طعن وتشنیع سے دل شکنی کریں تو کریں اور جو تم سے لڑیں گے بھی تو…
Read the full tafseer →ضُرِبَتْ عَلَیْہِمُ الذِّلَّـۃُ اَیْنَ مَا ثُقِفُوْٓا اِلَّا بِحَبْلٍ مِّنَ اللّٰہِ وَحَبْلٍ مِّنَ النَّاسِ وَبَـآئُ وْ بِغَضَبٍ مِّنَ اللّٰہِ وَضُرِبَتْ عَلَیْہِمُ الْمَسْکَنَۃُ ط ذٰلِکَ بِاَنَّہُمْ کَانُوْا یَکْفُرُوْنَ بِاٰیٰتِ اللّٰہِ وَیَـقْتُلُوْنَ الْاَنْبِیَـآئَ بِغَیْرِحَقٍّ ط ذٰلِکَ بِمَا عَصَوْا وَّکَانُوْا یَعْتَدُوْنَ ۔
(تھوپ دی گئی ہے ان پر ذلت وہ جہاں کہیں بھی پائے جائیں۔ سوائے اس کے کہ اللہ کی طرف سے کوئی عہد ہو یا لوگوں کی طرف سے کوئی عہدہو اور وہ لوٹے اللہ کا غْضب لے کر۔ اور مار دی گئی ہے ان پر مسکنت، یہ سب کچھ اس سبب سے ہوا کہ وہ اللہ کی آیات سے کفر کرتے تھے اور نبیوں کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 111–112
فہم القرآن
ربط کلام : مسلمانوں کی راہ میں رکاوٹ بننے والے اہل کتاب خاص کر یہودیوں کے بارے میں دو ٹوک فیصلہ۔
خندق اور فتح مکہ کے بعد مسلمان اس قابل ہوگئے کہ سرزمین حجاز میں مشرک ان کے سامنے سر نگوں ہوئے ‘ یہودیوں کو ہمیشہ کے لیے جزیرہ نمائے عرب سے نکال دیا گیا۔ نصارٰی کی طاقت تبوک کے میدان میں ہزیمت کا شکار ہوئی۔ کچھ عرصہ بعد یہود و نصارٰی ذمّی بن کر رہنے اور جزیہ دے کر اسلام کی قوت کے مقابلہ میں رسوا ہوئے۔ یہودیوں کے مستقبل کے بارے میں پیش گوئی کردی گئی کہ ان پر ہمیشہ ذّلت اور مسکنت مسلط کردی گئی ہے۔ یہ جہاں کہیں بھی ہوں گے دو صورتوں میں سے ایک کو اختیار کیے بغیر نہیں رہ سکتے۔ یا تو اللہ…
Read the full tafseer →112: ضُرِبَتْ عَلَیْھِمُ الذِّلَّۃُ اَیْنَ مَاثُقِفُوْٓا اِلَّا بِحَبْلٍ مِّنَ اللّٰہِ وَحَبْلٍ مِّنَ النَّاسِ وَبَآئُ وْ بِغَضَبٍ مِّنَ اللّٰہِ وَضُرِبَتْ عَلَیْھِمُ الْمَسْکَنَۃُ ذٰلِکَ بِاَنَّھُمْ کَانُوْا یَکْفُرُوْنَ بِاٰیٰتِ اللّٰہِ وَیَقْتُلُوْنَ الْاَنْچبِیَآئََ بِغَیْرِ حَقٍّ ذٰلِکَ بِمَا عَصَوْا وَّ کَانُوْا یَعْتَدُوْنَ ۔ ضُرِبَتْ (لازم کردی گئی) عَلَیْھِمُ الذِّلَّۃُ (یہود پر ذلت) اَیْنَ مَاثُقِفُوْٓا (جہاں وہ پائے جائیں) اِلَّا بِحَبْلٍ مِّنَ اللّٰہِ (مگر اللہ تعالیٰ کی ذمہ داری سے) بِحَبْلٍ مِّنَ اللّٰہِ محل نصب میں واقع ہے حال ہونے کی وجہ سے اور با محذوف سے متعلق ہے۔ تقدیر کلام…
Read the full tafseer →(تفسیر) 112۔:
(آیت)” ضربت علیھم الذلۃ اینما ثقفوا “۔ جہاں پر تم ان کو پاؤ ، (آیت)” الا بحبل من اللہ “ جہاں بھی تم ان کو پاؤ ان کو کمزور کرو اور قتل کرو یا ان کو قید کرلو یہ ایمان نہیں لائیں گے مگر اللہ کے عہد سے کہ وہ اسلام لے آئیں ، (آیت)” وحبل من الناس “ مسلمانوں کے عہد سے یا قبول جزیہ سے یا ان سے امان طلب کرنے سے یعنی وہ اس عہد سے ان کی جان ومال ، عزت وآبرو محفوظ وہ جائے گی ، (آیت)” وباء وا بغضب من اللہ “ یعنی مرنے کے بعد پھر لوٹ کر آئیں گے ، (آیت)” وضربت علیھم المسکنۃ ۔۔۔۔۔۔۔۔ ذلک بما عصوا کانوا یعتدون “۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 104–112
(104 ۔ 109) ۔ اوپر ذکر تھا کہ یہود نے انصار کے دو گروہ کو بہکا کر ان دو گروہ کو آپس میں لڑانے کی شرارت کی تھی مگر اللہ کے رسول کی فہمایش سے یہود کا وہ بہانہ چل نہ سکا۔ ان آیتوں میں ارشاد ہے کہ سب بہکانے والوں کے سر گروہ ابلیس علیہ اللعنہ اور شیاطین الجن والانس کے اغوا سے انجان مسلمانوں کو بچانے کے لئے مسلمانوں میں ہمیشہ کے تھے ایک جماعت ایسی ہونی چاہیے کہ دین کی باتوں کی لوگوں کو نصیحت اور فہمایش کیا کرے۔ اس سے زیادہ تفسیر اس باب میں آئندہ کی آیت کی تفسیر میں آتی ہے۔ 110۔ 112۔ خازن وغیرہ میں جو حدیثیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ مالک بن صیف اور وہب بن یہود یہودیوں نے ایک روز عبد اللہ بن مسعود ؓ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 112–114
آیت 112
اللہ تعالیٰ اس امت کی تعریف کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ یہ تمام امتوں سے بہتر اور افضل امت ہے جسے اللہ نے لوگوں کے لئے پیدا کیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ اپنے آپ کو کامل کرتے ہیں یعنی ایسا ایمان رکھتے ہیں جو اللہ کے ہر حکم پر عمل کرنے کو مستلزم ہے اور دوسروں کو بھی کامل بناتے ہیں۔ یعنی امر بالمعروف اور نہی عن المنکر پر عمل پیرا ہوتے ہیں، جس میں مخلوق کو اللہ کی طرف بلانا، اس مقصد کے لئے ان سے جہاد کرنا، ان کو گمراہی اور نافرمانی سے روکنے کے لئے ہر ممکن کوشش کرنا شامل ہے۔ اس وجہ سے وہ بہترین امت ہیں۔ چونکہ اللہ تعالیٰ نے گزشتہ آیت میں یعنی اس فرمان الٰہی میں : (ولتکن منکم امۃ یدعون الی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 111–113
سب اہل کتاب یکساں نہیں ہیں
قول باری ہے (کیسواسواء من اھل الکتب امۃ قائمۃ یتلون ایات اللہ آناء للیل وھم یسجدون، مگر سب اہل کتاب یکساں نہیں ہیں۔ ان میں سے کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو راہ راست پر قائم ہیں۔ راتوں کو اللہ کی آیات پڑھتے ہیں اور اس کے آگے سجدہ ریزہوتے ہیں) ابن عباس ؓ قتادہ اور ابن جریج کا قول ہے کہ جب عبداللہ بن سلام اور ان کے ساتھ ایک گروہ مسلمان ہوگیا تو یہود کہنے لگے کہ محمد (ﷺ) پر ہمارے بدترین لوگ ایمان لائے ہیں اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی حسن کا قول ہے کہ (قائمۃ) سے مراد عادلہ ہے۔ ابن عباس ؓ ، قتادہ اور ربیع بن انس کا قول ہے کہ اس سے مراد اللہ کے حکم پر ثابت قدم رہنے والے…
Read the full tafseer →233 یہود بےبہبود پر ذلت و خواری کا ٹھپہ : یعنی جس طرح کسی سکے وغیرہ پر لگا ہوا ٹھپہ اس سے دور اور جدا نہیں ہوسکتا، اسی طرح ان سے بھی یہ ذلت و رسوائی کبھی زائل نہیں ہوگی۔ رہ گئی اسرائیل کے نام سے معرض وجود میں آنے والی یہودیوں کی موجودہ ریاست، تو اول تو تاریخ اقوام پر نظر کرتے ہوئے یہ اسرائیلی ریاست نہ ہونے کے برابر ہے۔ کیونکہ وحی سماوی کی حامل اور آسمانی کتابوں کی ماننے والی اقوام میں سب سے قدیم قوم یہود ہے۔ تو اس اعتبار سے چاہیئے تو یہ تھا کہ آج دنیا میں سب سے زیادہ حکومتیں یہودیوں کی ہوتیں۔ مگر اس کے برعکس یہاں پر صورت حال یہ ہے کہ عیسائی جو کہ یہودیوں کے بعد آئے اور مسلمان جو ان سب سے آخر…
Read the full tafseer →اہل کتاب پر عتاب الٰہی اور اس کی وجہ
تشریح : بنی اسرائیل کا ذکر جو بار بار قرآن مجید میں کیا جارہا ہے تو اس کی وجہ صرف یہی ہے کہ اللہ رب العزت نے ان کو بہت مقبول قوم بنایا تھا مگر وہ صرف اللہ کی نافرمانی ضد اور ہٹ دھرمی کی وجہ سے اللہ کے غضب کے مستحق ہوئے مسلمان ان سے عبرت حاصل کریں یہ نہ ہو کہ یہ بھی ان کی طرح ذلیل و خوار ہوجائیں۔ ان پر جو کچھ غضب اللہ کی طرف سے نازل ہوا ان کا بیان بہت ہوچکا یعنی مفصل تشریح سبق 431 میں ہوچکی ہے۔ اب اگر دنیا میں ان کو تھوڑا امن ملا ہے تو وہ دوسروں کی مہربانی کی وجہ سے ملا ہوا ہے۔ تھوڑی سی عزت جو ان کو ملی ہوئی ہے تو اپنی وجہ سے نہیں بلکہ دوسروں کی حمایت کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 110–120
آیات 110- 120
اسرارو معارف
کنتم خیرامۃ……………واکثرھم الفسقون۔
تم سب سے اچھی امت ہو کہ آقائے نامدار ﷺ خیرالرسل ہیں اور قرآن کریم سب کتابوں سے اعلیٰ و افضل کتاب ہے۔ تم لوگ جنہیں آپ ﷺ سے نسبت حاصل ہے۔ اور اس کی برکت سے کتاب اللہ کو سمجھنے کی سعادت حاصل ہوئی ہے ایک ایسی سعادت ہے کہ ارشاد ہوا۔ اتممت علیکم نعمتی۔ کہ میں نے اپنی نعمت تم پر تمام کردی۔ تم ہی بہترین لوگ ہو۔
اتمام نعمت ایک ایسی عطا ہے جس کی حدود متعین کرنا انسان کے بس کی بات نہیں ہے اور اس پر مزید یہ کہ نعمت کا حصول بھی بیشک بہت بڑی بات ہے مگر اس کو دوسروں پر تقسیم کرنا اور بےحدوحساب بانٹنا بہت ہی بڑی شے ہے اور تمہیں تو بھیجا ہی اس لئے…
Read the full tafseer →ف 1 یعنی مغلوب ہونے کے ساتھ ان پر ذلت بھی مسلط کردی گئی دیکھئے سورت بقرہ آیت 61 کبیر) بعض کے نزدیک اللہ کی پناہ یہ ہے کہ مسلمان ہوجائیں اور لوگوں کی پناہ یہ کہ معابد اور ذمی بن کر رہیں۔ ( خازن) مگر یہ صحیح نہیں ہے بلکہ دونوں جگہ ہی حبل سے مراد عہد ذمہ اور امان ہے اور منعی یہی ہیں کہ وہ امان میں آجائیں اور معا ہد اور زمنی بن کر رہیں مگر ذمی کو امان حاصل ہوتی ہے وہ دو قسم کی ہے ایک جزیہ کی صورت میں جس پر قرآن نے الا ان یعھو الجزیتہ عن ید وھم صاغر ون (التوبہ 29) فرماکر تنصیص کی ہے اور حبل اللہ سے یہی مراد ہے دوسری وہ جس کی شرائط و اختیارات امام اور حکومت کے ہاتھوں میں ہوتے ہیں یعنی جزیہ میں کمی…
Read the full tafseer →(3:112) ضربت۔ ڈال دی گئی۔ ماردی گئی۔ لازم کردی گئی۔ مسلط کردی گئی۔ لگا دی گئی۔ ضرب سے ماضی مجہول واحد مؤنث غائب ۔ علی کے ساتھ تاریک پہلو کو ظاہر کرنے کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ ضربت علیہم الذلۃ۔ ذلت ( اور رسوائی) ان پر لازم کردی گئی ضربت علیہم المسکنۃ۔ ذلت و رسوائی۔ محتاجی اور بےنوائی ان پر مسلط کردی گئی۔ ان پر لازم کردی گئی۔
ثقفوا۔ ثقف (سمع) کسی چیز کو پانا اور اس پر کامیاب ہونا۔ وہ پائے گئے۔
حبل۔ رسی۔ عہدو پیمان۔ چونکہ رگ بھی رسی سے مشابہت رکھتی ہے اس لئے قرآن حکیم میں شاہ رگ کو حبل الورید (50:16) فرمایا ہے۔
باء وا۔ انہوں نے کمایا۔ وہ پھر آتے۔ وہ لوٹے (باب نصر) بوائ۔ جس کے اصل معنی ٹھکانہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 110–112
لغات القرآن آیت نمبر 110 تا 112
خیرامة (بہترین جماعت) اخرجت (نکالی گئی ہے) لن یضروا (وہ ہرگز نقصان نہ پہنچائیں گے، وہ ہرگز نقصان نہیں پہنچا سکیں گے) اذی (تکلیف، اذیت (زبانی تکلیفیں پہنچائیں گے) یولوا (وہ پلٹ جائیں) الادبار (دبر کی جمع) پیٹھ) لاینصرون (مدد نہ کیے جائیں گے) ضربت (ماردی گئی، مسلط کردیگئ) الذلة (ذلت ، رسوائی) ثقفوا (وہ پائے گئے) المسکنة (محتاجی) کانویعتدون (وہ حد سے بڑھتے تھے) ۔ تشریح : آیت نمبر 110 تا 112
گذشتہ آیات میں مومنوں کو دین اسلام پر ثابت قدم رہنے ، تقوی اور پرہیز گاری کی زندی اختیار کرنے، اچھائیاں پھیلانے اور برائیوں کو روکنے کا حکم دیا گیا تھ۔ ان آیات میں اللہ تعالیی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 111–112
خواص القرآن : آیۃ، لن یضروکم الآ اذی سے کانو یعتدون تک یہ آیتیں دشمن کی فتح یابی اور اس کو جنگ وکار زار سے روکنے کے لئے ہیں۔ تلوار یا ڈھال یا نیزہ یا کسی ہتھیار پر شنبہ کے روز چھٹی ساعت میں اس کو کندہ کرے، اور کندہ کرنے والا روزے سے ہو۔ وہ ہتھیار لے کر جو دشمن کے مقابلہ میں جاوے گا کامیاب ہوگا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 112–116
[40] یعنی یہود پر
[41] یہود کی تاریخ اس پر گواہ ہے۔
[42] یعنی دنیا میں اگر تھوڑا بہت امن و چین نصیب ہوا بھی ہے تو وہ دوسروں کی حمایت و مہربانی کا نتیجہ ہے۔ کہیں کسی مسلم حکومت نے ان کو اللہ کے نام پر امان دے دی اور کہیں کسی غیر مسلم حکومت نے اپنے طور پر انہیں اپنی حمایت میں لے لیا۔ یہی حیثیت اس یہودی ریاست کی ہے جو اسرائیل کے نام سے امریکہ، برطانیہ اور روس کی حمایت سے وجود میں آئی اور ان کے بل بوتے پر اب تک قائم ہے۔ ان کی حمایت ہٹنے کے بعد وہ ایک دن کے لئے بھی قائم نہیں رہ سکتی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 111–112
کفر کی شکت :
ان آیات میں بتایا ہے کہ یہ لوگ مسلمانوں کو کوئی مادی فائدہ نہیں پہنچا سکتے ، جب مسلمانوں کے مقابلہ میں آئیں گے تو خائب و خاسر ہی لوٹیں گے ، ان کے کفر والحاد کی وجہ سے کہ انہوں وحدت حق کو ٹھکرایا ہے اور انبیاء کی مخالفت کی ہے ، انہیں ذلت ومسکنت سے دو چار ہونا پڑے گا ، الا یہ کہ خدا کے جبل متین کو مضبوطی سے پکڑ لیں ، دیکھو ! قرآن حکیم کی یہ پیشگوئی کس قدر واضح طور پر ثابت ہوئی ، اہل کتاب باوجود کثرت کے شکست کھا گئے ان کے علم رفیع کے سامنے سرنگوں ہوگئے ،
قرآن حکیم علی الاعلان یہ کہتا ہے کہ کفر ہمیشہ مغلوب رہے گا ان کی ہمیشہ فتح ہوگی ، اس لئے کہ حق و باطل کی آویزش میں حق کا پلہ بھاری…
Read the full tafseer →ف 1 اے مسلمانو ! وہ اہل کتاب تم کو بجز معمولی اور خفیف اذیت کے کوئی بڑا نقصان ہرگز نہیں پہنچا سکیں گے اور اگر کبھی وہ تم سے مقابلہ پر آمادہ ہوجائیں اور تم سے جنگ کریں تو میدان جنگ سے تم کو پیٹھ دکھا کر بھاگ جائیں گے پھر ان کی کہیں سے کوئی امداد نہیں کی جائیگی اور کسی طرف سے ان کی کوئی حمایت نہیں ہوگی وہ خواہ کہیں بھی ہوں اور کہیں بھی پائے جائیں ان پر ذلت و بےقدری اور بےامنی لازم کردی گئی ہے مگر ہاں دو صورتوں میں وہ محفوظ رہ سکتے ہیں کہ وہ کوئی ایسا ذریعہ حاصل کریں جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہو یا کوئی ایسا ذمہ اور دستاویز حاصل کریں جو لوگوں کی طرف سے ہو اور یہ لوگ غضب الٰہی کے مستحق ہوگئے اور…
Read the full tafseer →ف 4۔ یعنی بےامنی جان کی۔
5۔ اللہ کی طرف کا ذریعہ یہ کہ کوئی کتابی اللہ تعالیٰ کی عبادت میں ایسا مشغول ہو کہ مسلمانوں سے لڑتا بھڑتا نہ ہو وہ جہاد میں قتل نہیں کیا جاتا گوعبادت اس کی آخرت میں نافع نہ ہو اور آدمیوں کی طرف کے ذریعہ سے مراد معاہدہ وصلح ہے۔ جو مسلمانوں کے ساتھ ہوجاوے چناچہ ذمی ومصالح بھی مامون ہے یا کسی قوم کا ان سے لڑنے کا قصد نہ کرنا جیسا بعض زمانوں میں ہوا یا ہوگا یہ امن بھی آدمیوں ہی کی جانب سے ہے باقی اور کسی کو امن نہیں۔
Read the full tafseer →یہود مخضوب الٰہی ہوچکے ہیں ان پر ذلت کی مار ہی پڑے گی :
217 : ذلت کیا ہے ؟ ذلت شخص محکومیت پر بولا جاتا ہے۔ مگر انتہا اس کی یہ ہے کہ ایسی قتل و غارت ان پر واقع ہو غارت ان پر واقع ہو کہ کسی حالت میں آرام نہ ملے۔ چونکہ محض محکومیت مسکنت میں بھی شامل ہے اس لئے اس جگہ انتہائی ذلت ہی مراد ہو سکتی ہے۔ خیال رہے کہ دعوت حق کی مخالفت میں سب سے زیادہ حصہ یہودیوں کا ہے۔ کیونکہ ان کا حال یہ ہے۔ کہ اپنی بد عملیوں اور سرکشیوں سے مغضوب الٰہی ہوچکے ہیں اور دنیا کا کوئی گوشہ نہیں جہاں اپنے بل بوتے پر زندگی بسر کر رہے ہوں خواہ وہ فلسطین ہو یا کوئی دوسرا علاقہ۔ ججہاں کہیں بھی ان کو پناہ ملی ہے۔ وہ آخر دوسروں کے…
Read the full tafseer →Commentary
The meaning of disgrace and wrath cast on the Jews:
A detailed discussion on this subject has already appeared under comments on verse 61 of Surah al-Baqarah where the text has not mentioned any exception. This can be seen in Volume I of this commentary. It also covers the exception given in the present verse - إِلَّا بِحَبْلٍ مِّنَ اللَّـهِ وَحَبْلٍ مِّنَ النَّاسِ
Briefly, the verse means that the Jews shall remain stamped with disgrace and misery except under two situations:
1. Though a Covenant of Allah. For example, a minor child or woman shall not be killed. (This exception…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 111–112
90. If the Jews have ever enjoyed any measure of peace and security anywhere in the world they owe it to the goodwill and benevolence of others rather than to their own power and strength. At times Muslim governments granted them refuge while at others non-Muslim powers extended protection. Similarly, if the Jews ever emerged as a power it was due not to their intrinsic strength but to the strength of others.
Read the full tafseer →