Explained with ayahs 113–117
ظلم نہیں سزا
حضرت ابن مسعود ؓ فرماتے ہیں اہل کتاب اور اصحاب محمد ﷺ برابر نہیں، مسند احمد میں ہے رسول اللہ ﷺ نے عشاء کی نماز میں ایک مرتبہ دیر لگا دی پھر جب آئے تو جو اصحاب منتظر تھے ان سے فرمایا کسی دین والا اس وقت تک اللہ کا ذکر نہیں کر رہا مگر صرف تم ہی اللہ کے ذکر میں ہو اس پر یہ آیت نازل ہوئی لیکن اکثر مفسرین کا قول ہے کہ اہل کتاب کے علماء مثلاً حضرت عبداللہ بن سلام حضرت اسد بن عبید، حضرت ثعلبہ بن شعبہ وغیرہ کے بارے میں یہ آیت آئی کہ یہ لوگ ان اہل کتاب میں شامل نہیں جن کی مذمت پہلے گزاری، بلکہ یہ باایمان جماعت امر اللہ پر قائم شریعت محمدیہ کی تابع ہے استقامت و یقین اس میں ہے یہ پاکباز لوگ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 113–117
سورة اٰلِ عِمْرٰن 91
اس مثال میں کھیتی سے مراد یہ کشت حیات ہے جس کی فصل آدمی کو آخرت میں کاٹنی ہے۔ ہوا سے مراد وہ اوپری جزبہ خیر ہے جس کی بنا پر کفار رفاہ عام کے کاموں اور خیرات وغیرہ میں دولت صرف کرتے ہیں۔ اور پالے سے مراد صحیح ایمان اور ضابطہ خداوندی کی پیروی کا فقدان ہے جس کی وجہ سے ان کو پوری زندگی غلط ہو کر رہ گئی ہے۔ اللہ تعالیٰ اس تمثیل سے یہ بتانا چاہتا ہے کہ جس طرح ہوا کھیتیوں کی پرورش کے لیے مفید ہے لیکن اگر اسی ہوا میں پالا ہو تو کھیتی کو پرورش کرنے کے بجائے اسے تباہ کر ڈالتی ہے، اسی طرح خیرات بھی اگرچہ انسان کے مزرعہ آخرت کو پرورش کرنے والی چیز ہے، مگر جب اس کے اندر کفر کا زہر ملا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 113–117
ربط آیات
اوپر اہل کتاب کے متعلق بیان ہوا تھا کہ ان میں کچھ لوگ مسلمان بھی ہیں اور زیادہ کافر ہیں، اسی مضمون کی مزید تفصیل ان آیات میں ہے۔
خلاصہ تفسیر
یہ (اہل کتاب) سب برابر نہیں (بلکہ) ان (ہی) اہل کتاب میں ایک جماعت وہ بھی ہے جو (دین حق پر) قائم ہیں (اور) اللہ کی آیتیں (یعنی قرآن) اوقات شب میں پڑھتے تھے اور وہ نماز بھی پڑھتے ہیں (اور) اللہ پر اور قیامت والے دن پر (پورا پورا) ایمان رکھتے ہیں اور (دوسروں کو) نیک کام بتلاتے ہیں اور بری باتوں سے روکتے ہیں اور نیک کاموں میں دوڑاتے ہیں اور یہ لوگ (اللہ کے نزدیک) شائستہ لوگوں میں (شمار کئے جاتے ہیں) اور یہ لوگ جو نیک کام کریں گے اس (کے ثواب) سے…
Read the full tafseer →اُمَّةٌ قَاۗىِٕمَةٌ، یعنی وہ گروہ جو اللہ کے عہد و میثاق اور اس کی شریعت پر قائم ہے۔ يَّتْلُوْنَ اٰيٰتِ اللّٰهِ اٰنَاۗءَ الَّيْلِ وَھُمْ يَسْجُدُوْنَ ، یعنی وہ شب کے اوقات میں کتاب الٰہی کی تلاوت کرتے ہیں اور نمازیں پڑھتے ہیں۔ شب کی نماز و تلاوت ان کے عہد الٰہی پر قائم رہنے کا ثبوت ہے اس لیے کہ اس بےریا نماز و تلاوت کی بےقراری انہی لوگوں کے اندر پیدا ہوسکتی ہے جو اپنی عظیم ذمہ داری کا نہایت گہرا احساس رکھتے ہوں۔ نماز کی تعبیر سجدہ سے ایک تو اس پہلو سے ہے کہ سجدہ نماز کے اہم ترین ارکان میں سے ہے، دوسرے یہ خشیت اور تذلل کا سب سے بڑا مظہر ہے، تیسرے اس پہلو سے بھی ہے کہ یہود نے، جیسا کہ ہم اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 113–115
115۔ 1 یعنی سارے اہل کتاب ایسے نہیں جن کی مذمت پچھلی آیات میں بیان کی گئی ہے، بلکہ ان میں کچھ اچھے لوگ بھی ہیں، جنہیں اللہ تعالیٰ نے شرف اسلام سے نوازا اور ان میں اہل ایمان وتقویٰ والی خوبیاں پائی جاتی ہیں، رضی اللہ عنھم ورضو عنہ۔ قائمۃ کے معنی ہیں، شریعت کی اطاعت اور نبی کریم ﷺ کا اتباع کرنے والی، یسجدون کا مطلب رات کو قیام کرتے یعنی تہجد پڑھتے اور نمازوں میں تلاوت کرتے ہیں۔ اس مقام پر امر بالمعروف کے معنی بعض نے یہ کئے ہیں کہ وہ نبی ﷺ پر ایمان لانے کا حکم دیتے اور آپ ﷺ کی مخالفت کرنے سے روکتے ہیں۔ اسی گروہ کا ذکر آگے بھی کیا گیا ہے (وَاِنَّ مِنْ اَھْلِ الْكِتٰبِ لَمَنْ يُّؤْمِنُ باللّٰهِ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 107–113
37: اس سے مراد وہ اہل کتاب ہیں جو آنحضرت ﷺ پر ایمان لے آئے تھے، مثلاً یہودیوں میں سے حضرت عبداللہ بن سلام ؓ
Read the full tafseer →Explained with ayahs 113–115
یہ اہل کتاب مومنین کی ایک روشن تصویر ہے ۔ ان میں سے بعض لوگوں نے سچائی کے ساتھ ایمان قبول کیا اور یہ ایمان ان کے دلوں میں گہرائی تک اتر گیا ۔ پھر یہ ایمان پوری طرح کامل اور شامل تھا ۔ یہ لوگ اسلامی صفوں میں شامل ہوگئے اور دین اسلام کے محافظ بن گئے ۔ اللہ اور روز قیامت پر ایمان لے آئے ۔ انہوں نے ایمان کے تقاضے پورے کئے ‘ اور جس امت کا وہ جزء بن گئے تھے ‘ اس کی اساسی خصوصیت کے مطابق کام شروع کردیا ‘ یعنی یہ خصوصیت کہ وہ خیر امت ہے ۔ وہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے فریضے پر کاربند ہوگئے ‘ اس سے پہلے بھھی ان کے نفوس خیر طلب تھے ‘ انہوں نے بھلائی کے میدان میں ایک دوسرے کی مسابقت کی ۔ ایک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 113–114
5 یعنی سب اہل کتاب کا حال یکساں نہیں۔ اتنے بروں میں کچھ اچھے بھی ہیں۔ ان ہی ممسوخ اشقیاء کے درمیان چند سعید روحیں ہیں جن کو حق تعالیٰ نے قبول حق کی توفیق دی اور وہ اسلام کی آغوش میں آگئے اور جادہ حق پر ایسے مستقیم ہوگئے کہ کوئی طاقت ہلا نہیں سکتی۔ وہ رات کی تاریکی میں میٹھی نیند اور نرم بسترے چھوڑ کر خدا کے سامنے کھڑے ہوتے ہیں۔ اپنے مالک کے سامنے خضوع و تذلل اختیار کرتے ہیں۔ جبین نیاز زمین پر رکھتے ہیں، نماز میں اس کا کلام پڑھتے ہیں۔ اللہ پر اور یوم آخرت پر ٹھیک ٹھیک ایمان لاتے ہیں، خالص توحید کے قائل ہیں، قیامت کے دن سے ڈرتے ہیں اور جب کسی نیک کام کی طرف پکارا جائے دوڑ کر دوسروں سے آگے نکلنا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 113–116
آیت 113 لَیْسُوْا سَوَآءً ط۔
ان میں اچھے بھی ہیں ‘ برے بھی ہیں۔
مِنْ اَہْلِ الْکِتٰبِ اُمَّۃٌ قَآءِمَۃٌ یَّتْلُوْنَ اٰیٰتِ اللّٰہِ اٰنَاءَ الَّیْلِ وَہُمْ یَسْجُدُوْنَ ۔
رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں خاص طور پر عیسائی راہبوں کی ایک کثیر تعداد اس کردار کی حامل تھی۔ ان ہی میں سے ایک بحیرہ راہب تھا جس نے بچپن میں آنحضور ﷺ کو پہچان لیا تھا۔ یہود میں بھی اکا دکا لوگ اس طرح کے باقی ہوں گے ‘ لیکن اکثر و بیشتر یہود میں سے یہ کردار ختم ہوچکا تھا ‘ البتہ عیسائیوں میں ایسے لوگ بکثرت موجود تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 112–113
102 اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے یہود کی ذلت و رسوائی کے اسباب بیان فرمائے ہیں۔ سب سے پہلے انہوں نے اللہ کی نافرمانی کی راہ اختیار کی اور حدود اللہ سے تجاوز کرنے لگے، ان گناہوں نے ان کی طبائع پر یہ اثر کیا کہ بڑے بڑے جرائم پر دلیر ہوگئے، جیسے اللہ کی آیات ہی سے انکار کردینا انہیں چھپا جانا ان میں تحریف کرلینا حتیٰ کہ وہ انبیاء کے قتل کے بھی مرتکب ہوئے۔ پھر جب بدبختی کی اس انتہا کو پہنچ گئے تو ان پر اللہ کا غضب نازل ہوا جس کے نتیجہ میں ذلت و رسوائی اور محتاجی ہمیشہ کے لیے ان کے مقدر کردی گئی اور اس سے بچاؤ کی دو صورتیں بتلائی گئی ایک یہ کہ اللہ کی ذمہ داری کی پناہ میں آجائیں۔ اس کا ایک مطلب تو یہ…
Read the full tafseer →235 ۔ (اپنی حق ناشناسی اور اسلام سے متعلق اپنے طرز عمل کے لحاظ سے) لیس اھل الکتاب مسویا (بحر) والضمیر الاھل الکتاب (بیضاوی) اوپر جو کچھ ذکر ہوا۔ اہل کتاب کی یہ اکثریت کا تھا، باقی ان میں سے بعض بعض حق شناس، انصاف دوست بھی تھے اور وہ بالآخر مشرف بہ اسلام ہو کر رہے۔
236 ۔ یعنی نماز پڑھتے رہتے ہیں۔ والمراد ھم یصلون (روح) یصلون عن الفراء والزجاج (قرطبی) نماز شب کے فضائل آیت سے ظاہر ہیں۔ (آیت) ” امۃ قآئمۃ “۔ یہ وہ جماعت تھی جو دین حق پر قائم وثابت رہی۔ ای المستقیمۃ العادلۃ (بیضاوی) انھا ثابتۃ علی التمسک بالدین الحق ملازمۃ لہ (کبیر) (آیت) ” ایت اللہ “۔ یعنی قرآن کی آیات۔ والمراد یقرء ون القران…
Read the full tafseer →لَیسُوْا سَوَآءً مِّنْ اَھْلِ الْکِتَابِ (الآیۃ) یعنی سارے اہل کتاب ایسے نہیں کہ جن کی مذمت پچھلی آیات میں بیان کی گئی ہے بلکہ ان میں سے کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جیسے عبد اللہ بن سلام اسد بن عبید اللہ، ثعلبہ بن سعید، اُسَید بن سعید وغیرہ۔ جنہیں اللہ تعالیٰ نے شرف اسلام سے نوازا۔
Read the full tafseer →لیسوا سواء یعنی تمام یہودی مذکورہ برائیوں میں برابر نہیں ان میں سے ہی بعض لوگ ان کے برعکس ہیں جس کی وضاحت یہ ہے کہ
من اھل الکتاب امۃ قائمۃ اہل کتاب میں سے ہی ایک گروہ ہے جو نماز میں کھڑا رہتا ہے۔ قائمۃ سے مراد ہے نماز میں کھڑا رہنے والا لیکن حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : کہ اس سے مراد ہے ہدایت یافتہ اللہ کے امر پر قائم رہنے والا۔ مجاہد نے کہا امت عادلہ مراد ہے یہ لفظ اس جگہاَقَمْتُ الْعُوْدَ سے ماخوذ ہے۔ میں نے لکڑی کو سیدھا کردیا۔ سدی نے کہا فرماں بردار اللہ کی کتاب اور ضوابط کا پابند گروہ مراد ہے۔ امۃ قائمۃ سے مراد ہیں حضرت عبد اللہ بن سلام اور آپ کے یہودی مسلمان۔
یتلون ایات اللہ جو اللہ کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 113–114
(113۔ 114) ہاں اہل کتاب میں سے جو حضرات اسلام قبول کرچکے، وہ ان کی طرح نہیں ہیں جو ایمان نہیں لائے ان میں انصاف والی ایک جماعت وہ بھی ہے جو ہدایت اور توحید خداوندی پر قائم ہے جیسا کہ یہ عبداللہ بن سلام ؓ اور ان کے ساتھی یہ حضرات راتوں کو نماز میں قرآن کریم پڑھتے ہیں اور پابندی سے نمازوں کا اہتمام رکھتے ہیں اور تمام کتب سماویہ اور تمام رسولوں اور مرنے کے بعد زندہ ہونے اور جنت کی نعمتوں رکھتے ہیں۔
اور اس کے ساتھ ساتھ توحید اور رسول اکرم ﷺ کی پیروی کا حکم اور کفر وشرک اور شیطان کی پیروی سے روکتے اور نیکیوں میں سبقت کرتے ہیں یہی لوگ رسول اکرم ﷺ کی امت میں نیکو کار ہیں یا یہ کہ رسول اکرم ﷺ کی امت…
Read the full tafseer →لَيْسُوْا سَوَاۗءً ۭ۔۔ : یعنی گو اہل کتاب کی اکثریت فاسق ہے مگر سب ایک جیسے نہیں، ان میں سے کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو ایمان لے آتے ہیں۔ طبری اور ابن ابی حاتم نے حسن سندوں کے ساتھ ابن عباس ؓ سے نقل کیا ہے کہ جب عبداللہ بن سلام، ثعلبہ بن سعید، اسید بن سعید، اسد بن عبید ؓ اور ان کے دوسرے ساتھی مسلمان ہوئے اور اسلام میں رغبت رکھ کر پکے ہوگئے تو یہودی مولوی اور ان کے بےایمان لوگ کہنے لگے کہ محمد ﷺ کے پیچھے صرف ہمارے برے لوگ ہی لگے ہیں، اگر وہ ہمارے اچھے لوگ ہوتے تو اپنے آباء کا دین چھوڑ کر غیر کی طرف نہ جاتے، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیات (113، 114) نازل فرمائیں۔ یہ الفاظ طبری کے ہیں۔ اہل کتاب کے ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 112–115
آیت نمبر : 112 تا 115۔
قولہ تعالیٰ (آیت) ” ضربت علیہم الذلۃ “۔ یعنی جہاں کہیں یہ پائے گئے اور یہ ملے، کلام مکمل ہوا اور ان پر ذلت مسلط کرنے کا معنی سورة البقرہ میں گزر چکا ہے۔
(آیت) ” الابحبل من اللہ “۔ یہ استثنا منقطع ہے یہ اول کا جز نہیں ہے، یعنی بجز ان کے جو اللہ تعالیٰ سے عہد کو مضبوط کرتے ہیں، (آیت) ” وحبل من الناس “۔ مراد وہ ذمہ داری (معاہدہ) ہے جو لوگوں کی جانب سے ان پر ہے، اور (آیت) ” الناس “ سے مراد حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ اور وہ مومنین ہیں جنہیں وہ خراج ادا کرتے ہیں اور وہ انہیں امن اور پناہ دیتے ہیں، کلام میں اختصار ہے اور معنی یہ ہے : ” الاان یعتصموا بحبل امن اللہ “۔ پھر اس سے فعل کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 111–113
(1) ابن اسحاق ابن المنذر ابن جریر ابن ابی حاتم نے طبرانی اور بیہقی نے دلائل میں وابن عساکر نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ جب عبد اللہ بن سلام ؓ اور ثعبلہ بن سعید اور اسید بن عبید ؓ اور جو لوگ یہودیوں میں سے ان کے ساتھ مسلمان ہوئے یہ لوگ ایمان لائے اور سچ بولا اور اسلام سے بڑی رغبت کا اظہار کیا تو یہود کے علماء اور کافروں نے کہا کہ ہمارے گھٹیا قسم کے لوگ محمد ﷺ پر ایمان لائے اور ان کی تابعداری کی اور اگر ہمارے بہترین افراد ہوتے تو اپنے آباؤ اجداد کا دین نہ چھوڑتے اور نہ ہی غیر دین کی طرف جاتے تو اللہ تعالیٰ نے اس بارے میں نازل فرمایا لفظ آیت ” لیسوا سواء “ سے لے کر ” اولئک من الصلحین…
Read the full tafseer →[لَـیْسُوْا : وہ لوگ نہیں ہیں ] [سَوَآئً : برابر ] [مِنْ اَہْلِ الْکِتٰبِ : اہل کتاب میں سے ] [اُمَّـۃٌ : ایک گروہ ہے جو ] [قَـآئِمَۃٌ : قائم ہے (دین پر) ] [یَّـتْـلُوْنَ : وہ لوگ پڑھتے ہیں ] [اٰیٰتِ اللّٰہِ : اللہ کی آیتوں کو ] [اٰنَــآئَ الَّــیْلِ : رات کے وقتوں میں ] [وَہُمْ : اور وہ لوگ ] [یَسْجُدُوْنَ : سجدہ کرتے ہیں ]
نوٹ : یہ مضمون البقرۃ :61 میں بھی گزر چکا ہے ‘ لیکن وہاں ذلت اور مسکنت تھوپنے میں ہمیشگی کا مفہوم نہیں تھا۔ آیت زیر مطالعہ میں { اَیْنَ مَا ثُقِفُوْا } کے الفاظ سے ہمیشگی کا مفہوم پیدا ہوا ہے ‘ اس لیے استثناء کا بھی یہیں ذکر کیا گیا ہے۔
معاہدہ بھی عربی لفظ ہے اور اس کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 111–115
یہود کی ذلت اور مسکنت
زمانہ نبوت میں یہودیوں کی دشمنی ظاہراً بھی تھی اور پوشیدہ بھی تھی مسلمانوں کو ان سے تکلیف پہنچتی رہتی تھی، خطرہ تھا کہ کوئی ایسی کاروائی نہ کر بیٹھیں جس سے زیادہ تکلیف پہنچ جائے۔ بلکہ رؤسا یہود نے حضرت عبداللہ بن سلام اور ان عوام کو جو یہودیت چھوڑ کر اسلام میں داخل ہوگئے تھے۔ زبانی طور پر ایذا دینے کا سلسلہ شروع بھی کردیا تھا۔ اللہ جل شانہٗ نے مسلمانوں کے اس خطرہ کو دور فرما دیا۔ اور فرمایا کہ یہ لوگ تمہیں بس ذرا سی تکلیف پہنچا سکیں گے اور اگر انہوں نے جنگ چھیڑی تو پشت پھیر کر بھاگ جائیں گے، پھر یہودیوں کی حالت مغضوبیت بیان فرمائی کہ ان پر ذلت کی چھاپ مار دی گئی جہاں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 102–117
قال تعالی۔ یا ایھا الذین۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تا۔۔۔۔ ترجع الامور۔ آیت۔
ربط) گزشتہ آیات میں اللہ نے باہمی قتال وشقاق کو تکفرون یعنی کفر سے تعبیر فرمایا اب آئندہ آیت میں تقوی اور اعتصام بحبل اللہ یعنی اتفاق اور اتحاد اور اسلامی مواخات کا حکم دیتے ہیں اور اتفاق اور اتحاد کا ایک دستور العمل بتلاتے ہیں وہ یہ کہ اول تقوی اور اسلام پر مداومت اور استقامت کا حکم دیا اور پھر اعتصام بحبل اللہ کا حکم فرمایا کہ سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوط پکڑو پھر یہ ارشاد فرمایا، واذکر نعمتہ اللہ علیکم۔ الخ۔ آیت۔ جس میں حکم دیا کہ اتفاق اور اتحاد کی نعمت کو یاد کرو، اور اس نعمت کو اور اس کی برکات کو یاد کرکے موازنہ کرو کہ پہلے…
Read the full tafseer →171 یہ استیناف لَیْسُوْا سَوَاءً کا بیان ہے۔ اُمَّةٌ قَائِمَةٌ سے مراد یہ ہے کہ وہ توحید اور دین اسلام پر ثابت قدم ہیں۔ ان کا ایمان نہایت مضبوط ہے۔ ان کے دل شک و اضطراب سے خالی ہیں اور وہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور بندگی پر قائم ہیں۔ انھا ثابتۃ علی التمسک بالدین الحق ملازمۃ لہ غیر مضطربۃ فی التمسک بہ (کبیر ص 45 ج 3) ای امۃ مستقیمۃ علی طاعۃ اللہ تعالیٰ ثابتۃ علی امرہ الخ (روح ص 33 ج 4) اور یَتْلُوْنَ آیَاتِ اللہِ الخ قال الشیخ ای یبینون التوحید ویسجدون للہ خاصۃ یعنی وہ توحید بیان کرتے اور صرف اللہ ہی کو سجدہ کرتے ہیں یا اس سے کثرت نماز کی طرف اشارہ ہے۔ یعنی وہ راتوں کو اٹھ اٹھ کر نماز پڑھتے ہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 112–115
ربط آیات :
گزشتہ درس میں بیان ہوچکا ہے۔ کہ جس طرح حضور نبی کریم ﷺ تمام انبیاء سے افضل ہیں ، اسی طرح آپ کی امت بھی تمام امتوں سے افضل ہے۔ اللہ تعالیٰ کے علم ازلی میں بھی یہ چیز موجود ہے۔ اور لوح محفوظ میں بھی درج ہے۔ اس کے بعد اہل کتاب سے شکوہ کیا گیا اگر وہ نبی آخر الزمان پر ایمان لے آتے ، تو بہترین امت میں شامل ہوجاتے ، اور یہ ان کے لیے بہتر ہوتا ، مگر وہ اپنے باطل عقیدے پر اڑے رہے۔ پھر فرمایا کہ ان میں سے کچھ ایمان والے بھی ہیں مگر اکثر نافرمان ہیں۔ پھر اہل ایمان کو تسلی دی گئی کہ ان سے کوئی خطرہ محسوس نہ کرو۔ یہ لوگ تمہیں زبانی حد تک تو ستائیں گے مگر تمہارا کوئی نقصان نہ کرسکیں گے۔ اگر…
Read the full tafseer →لَيْسُوْا سَوَاۗءً 0 ۭ مِنْ اَھْلِ الْكِتٰبِ اُمَّۃٌ قَاۗىِٕمَۃٌ يَّتْلُوْنَ اٰيٰتِ اللہِ اٰنَاۗءَ الَّيْلِ وَھُمْ يَسْجُدُوْنَ 113
سواء
ومکان سُوىً ، وسَوَاءٌ: وسط . ويقال : سَوَاءٌ ، وسِوىً ، وسُوىً أي : يستوي طرفاه، ويستعمل ذلک وصفا وظرفا، وأصل ذلک مصدر، وقال :
فِي سَواءِ الْجَحِيمِ [ الصافات/ 55] ، وسَواءَ السَّبِيلِ [ القصص/ 22] ، فَانْبِذْ إِلَيْهِمْ عَلى سَواءٍ [ الأنفال/ 58] ، أي : عدل من الحکم، وکذا قوله : إِلى كَلِمَةٍ سَواءٍ بَيْنَنا وَبَيْنَكُمْ [ آل عمران/ 64] ، وقوله : سَواءٌ عَلَيْهِمْ أَأَنْذَرْتَهُمْ أَمْ لَمْ تُنْذِرْهُمْ [ البقرة/ 6] ،
سَواءٌ عَلَيْهِمْ أَسْتَغْفَرْتَ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 113–116
ترکیب : لیسوا کا اسم ضمیر سوا خبر امۃ موصوف قائمۃ صفت مجموعہ مبتدا من اھل الکتاب خبر یتلون اور یومنون وغیرہ حال بھی ہوسکتے ہیں اور جملہ مستانفہ بھی یکفروہ اس کا تعدیہ دو مفعولوں کی طرف ہے یعنی حرمان کی وجہ سے۔
تفسیر : پہلی آیت میں اہل کتاب کی نسبت یہ تھا منہم المؤمنون و اکثرھم الفاسقون یہاں اس جملہ کے زیادہ تر تشریح فرماتا ہے تاکہ اہل کتاب کو بھی خدا کی فرمانبرداری کی طرف رغبت ہو کہ سب اہل کتاب بھی برابر نہیں ٗ ان میں بھی ایک گروہ ایسا ہے کہ جو سیدھے رستہ پر ہے۔ وہ رات بھر آیات الٰہی پڑھتے اور سجدہ کرتے ہیں اور ان کا اللہ اور قیامت کے دن پر ایمان ہے اور وہ اچھی باتوں کا حکم دیتے اور بری…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 113–115
لَیْسُوْا سَوَآئً ط مِنْ اَہْلِ الْـکِتٰبِ اُمَّۃٌ قَآئِمَۃٌ یَّتْلُوْنَ اٰیٰتِ اللّٰہِ اٰنَآئَ الَّیْلِ وَہُمْ یُسْجُدُوْنَ ۔ یُؤْمِنُوْنَ بِااللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَیَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَیَنْہَوْنَ عَنِ الْمُنْـکَرِ وَیُسَارِعُوْنَ فِی الْخَیْرٰتِ ط وَاُوْلٰٓئِکَ مِنَ الصّٰلِحِیْنَ ۔ وَمَا یَفْعَلُوْا مِنْ خَیْرٍ فَلَنْ یُّـکْفَرُوْہُ ط وَاللّٰہُ عَلِیْمٌ م بِالْمُتَّقِیْنَ ۔
(سب یکساں نہیں، اہل کتاب میں سے ایک گروہ اپنے عہد پر قائم ہے۔ یہ تلاوت کرتے ہیں اللہ کی آیتوں کی رات کے اوقات میں اور وہ سجدے کرتے ہیں۔ وہ اللہ پر اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتے ہیں اور معروف کا حکم…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : اہل کتاب سارے ایک جیسے نہیں اور نہ ہی تمام پر ذلت اور پھٹکار ہوگی۔ ان میں وہ مستثنیٰ ہیں جو ایمان لائے اور نیکی کا حکم دینے والے ہیں وہ اللہ تعالیٰ کے محبوب ہیں۔ ان سے مراد وہ بھی اہل کتاب ہوسکتے ہیں جو نبی اکرم سے پہلے تورات، انجیل پر عمل کرتے تھے اور آپ کی بعثت سے پہلے فوت ہوگئے۔
یہاں ان لوگوں کو اللہ کی پھٹکار اور ذلت و رسوائی سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے جو اہل کتاب میں سے رسول معظم ﷺ پر ایمان لائے اور امّتِ خیر کے وصف سے متّصف ہوئے۔ انہیں مسلمانوں میں شامل کرتے ہوئے امت کے لفظ سے یاد فرمایا ہے کہ یہ لوگ رات کی تاریکیوں میں اٹھ کر اللہ تعالیٰ کے حضور اس کی آیات کی…
Read the full tafseer →اہل کتاب کی عدل والی جماعت :
113: لَیْسُوْا سَوَآئً ط مِنْ اَھْلِ الْکِتٰبِ اُمَّۃٌ قَآپمَۃٌ یَّتْلُوْنَ ٰایٰتِ اللّٰہِ ٰانَآ ئَ الَّیْلِ وَھُمْ یَسْجُدُوْنَ ۔ (تمام اہل کتاب برابر نہیں) مِنْ اَھْلِ الْکِتٰبِ (اہل کتاب میں )
نحو : یہ جملہ مستانفہ ہے یہ لَیْسُوْا سَوَآئً کا بیان ہے جیسا کہ تامرون بالمعروف۔ کنتم خیرامۃ کا بیان ہے۔ اُمَّۃٌ
قَآپمَۃٌ (ایک جماعت وہ بھی ہے جو قائم ہے) ایک مضبوط عادل جماعت ہے یہ قائمہ کا لفظ اقمت العود فقام سے ہے کہ میں نے لکڑی کو سیدھا کیا پس وہ سیدھی ہوگئی۔ اس سے مراد وہی لوگ ہیں جو ان میں سے اسلام لائے۔ یَّتْلُوْنَ ٰایٰتِ اللّٰہِ ) وہ اللہ تعالیٰ کی آیات کی تلاوت…
Read the full tafseer →(شان نزول)
(تفسیر) 113۔: (آیت)” لیسوا سواء من اھل الکتاب امۃ قائمۃ “۔
حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ اور مقاتل (رح) کا قول ہے کہ جب حضرت عبداللہ بن سلام ؓ اور ان کے ساتھی اسلام لے آئے ، یہود کے سرداروں نے کہا کہ محمد پر ایمان لانے والے وہی لوگ ہیں جو ہم سے برے ہیں ، اگر اچھے ہوتے تو اپنے باپ دادا کا دین چھوڑ کر دوسرے کی طرف نہ جاتے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی ۔
(امۃ قائمۃ کا مصداق)
اس کی وجوہ میں آئمہ مفسرین کا آپس میں اختلاف ہے، بعض حضرات نے کہا کہ یہاں اختصار ہے تقدیری عبارت یوں ہے ” لیسوا سواء من اھل الکتاب امۃ قائمۃ واخری غیر قائمۃ “۔ اہل کتاب میں سے تمام لوگ برابر نہیں ہوسکتے ،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 113–117
(113 ۔ 117) ۔ طبرانی اور ابن ابی حاتم اور ابن مندہ نے حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے روایت کی ہے کہ جب یہود میں سے عبد اللہ بن سلام و ثعلبہ بن شعبہ اور اسد بن عبد اور یہودی لوگ مسلمان ہوئے تو یہودی علماء نے ان مسلمانوں کی طرح طرح کی مذمت اپنی قوم کے لوگوں میں کرنی شروع کردی۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے ان مسلمان اہل کتاب کی تعریف میں ان مسلمانوں کا دل بڑہانے کی غرض سے یہ آیتیں نازل فرمائی 2۔ اور بعض مفسرین نے یہ شان نزول ان آیات کی جو بیان کی ہے کہ امت محمد ﷺ یہ اور اہل کتاب کے برابر نہ ہونے اور امت محمد ﷺ یہ کی تعریف میں یہ آیات نازل ہوئی ہیں اور مسند امام احمد بن حنبل میں حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 112–114
آیت 112
اللہ تعالیٰ اس امت کی تعریف کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ یہ تمام امتوں سے بہتر اور افضل امت ہے جسے اللہ نے لوگوں کے لئے پیدا کیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ اپنے آپ کو کامل کرتے ہیں یعنی ایسا ایمان رکھتے ہیں جو اللہ کے ہر حکم پر عمل کرنے کو مستلزم ہے اور دوسروں کو بھی کامل بناتے ہیں۔ یعنی امر بالمعروف اور نہی عن المنکر پر عمل پیرا ہوتے ہیں، جس میں مخلوق کو اللہ کی طرف بلانا، اس مقصد کے لئے ان سے جہاد کرنا، ان کو گمراہی اور نافرمانی سے روکنے کے لئے ہر ممکن کوشش کرنا شامل ہے۔ اس وجہ سے وہ بہترین امت ہیں۔ چونکہ اللہ تعالیٰ نے گزشتہ آیت میں یعنی اس فرمان الٰہی میں : (ولتکن منکم امۃ یدعون الی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 111–113
سب اہل کتاب یکساں نہیں ہیں
قول باری ہے (کیسواسواء من اھل الکتب امۃ قائمۃ یتلون ایات اللہ آناء للیل وھم یسجدون، مگر سب اہل کتاب یکساں نہیں ہیں۔ ان میں سے کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو راہ راست پر قائم ہیں۔ راتوں کو اللہ کی آیات پڑھتے ہیں اور اس کے آگے سجدہ ریزہوتے ہیں) ابن عباس ؓ قتادہ اور ابن جریج کا قول ہے کہ جب عبداللہ بن سلام اور ان کے ساتھ ایک گروہ مسلمان ہوگیا تو یہود کہنے لگے کہ محمد (ﷺ) پر ہمارے بدترین لوگ ایمان لائے ہیں اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی حسن کا قول ہے کہ (قائمۃ) سے مراد عادلہ ہے۔ ابن عباس ؓ ، قتادہ اور ربیع بن انس کا قول ہے کہ اس سے مراد اللہ کے حکم پر ثابت قدم رہنے والے…
Read the full tafseer →ٔ 236 قرآن حکیم کے عدل و انصاف کا ایک نمونہ ومظہر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ یہ سب لوگ ایک برابر ہیں بلکہ ان میں سے کچھ ایسی اور ایسی اچھی صفتوں والے بھی ہیں۔ سو یہ قرآن حکیم کی حق و صداقت سے بھری اور عدل و انصاف سے لبریز تعلیمات کا ایک عمدہ نمونہ اور روشن مثال ہے کہ یہود بےبہبود کی اس سیاہ تاریخ کے ذکر کے ساتھ ساتھ ان میں سے ایسے حق پرستوں کا ذکر بھی قطعی صراحت و وضاحت کے ساتھ فرمایا جو کہ راہ حق و صداقت پر قائم ہیں۔ اور اس طرح اس سے یہ ایک بنیادی درس بھی دے دیا کہ کوئی بھی قوم ایسی نہیں ہوتی جس کے سب ہی افراد اچھے، یا سب ہی برے ہوں۔ بلکہ ہر قوم میں اچھے بھی ہوتے ہیں اور برے بھی۔ لہٰذا ایسے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 113–115
نیک اور عبادت گزار اہل کتاب
تشریح : ان آیات میں یہود و نصارٰی کی ان چھوٹی جماعتوں کا ذکر ہے جو عام اہل کتاب سے ذرا ہٹ کر ہیں ان کی تعریف اللہ رب العزت ان الفاظ میں بیان کرتے ہیں کہ وہ سیدھی راہ پر قائم ہیں، رات کے وقت خشوع و خضوع سے عبادت کرتے ہیں، سجدے کرتے ہیں، اللہ پر ایمان لاتے ہیں، آخرت پر ایمان لاتے ہیں، نیکی کا حکم دیتے ہیں، برائی سے منع کرتے ہیں اور نیک راستوں کی طرف پوری کوشش اور خلوص و محبت سے جلدی کرتے ہیں، یعنی کوئی بھی نیک کام اگر ان کو نظر آئے وہ اس کی طرف خوشی سے لپکتے ہیں یہ تمام صفات ایک ایسے گروہ یا انسان کی ہیں جو مضبوطی سے ایمان کی راہ اختیار کرتا ہے۔ آل عمران کی آیت 112…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 110–120
آیات 110- 120
اسرارو معارف
کنتم خیرامۃ……………واکثرھم الفسقون۔
تم سب سے اچھی امت ہو کہ آقائے نامدار ﷺ خیرالرسل ہیں اور قرآن کریم سب کتابوں سے اعلیٰ و افضل کتاب ہے۔ تم لوگ جنہیں آپ ﷺ سے نسبت حاصل ہے۔ اور اس کی برکت سے کتاب اللہ کو سمجھنے کی سعادت حاصل ہوئی ہے ایک ایسی سعادت ہے کہ ارشاد ہوا۔ اتممت علیکم نعمتی۔ کہ میں نے اپنی نعمت تم پر تمام کردی۔ تم ہی بہترین لوگ ہو۔
اتمام نعمت ایک ایسی عطا ہے جس کی حدود متعین کرنا انسان کے بس کی بات نہیں ہے اور اس پر مزید یہ کہ نعمت کا حصول بھی بیشک بہت بڑی بات ہے مگر اس کو دوسروں پر تقسیم کرنا اور بےحدوحساب بانٹنا بہت ہی بڑی شے ہے اور تمہیں تو بھیجا ہی اس لئے…
Read the full tafseer →ف 3 بلکہ بعض مومن اور بعض مجرم ہیں۔ (ابن کثیر) حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ جب عبد اللہ بن سلام اسد بن عبید۔ تعلبہ بن شعبہ اور ان کے رفقا مسلمان ہوگئے تو یہودی علما کہنے لگے ہم میں سے وہی لوگ محمد ﷺ پر ایمان لائے جو ہم میں سے بد ترین لوگ شمار ہوتے ہیں اگر یہ بھلے لوگ ہوتے تو اپنے باپ دادا کے دین کو چھوڑ کر دوسرا دین اختیار نہ کرتے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیات ( تابا لمتقین) نازل فرمائیں۔ ، (ابن جریر)4 یہاں قائمہ بمعنی ستقیمہ یعنی آنحضرت ﷺ کے فرماں بردار اور شریعت کے متبع ہیں۔ (ابن کثیر) او یہ بھی ہوسکتا ہے کہ قائمہ بمعنی ظابت ہو یعنی دین حق پر مظبوطی سے قائم رہنے والیے اور اس کے ساتھ تمسک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 113–114
(3:113) اناء ۔ اوقات۔ گھڑیاں ۔ انی۔ واحد ۔ وقت کا کچھ حصہ۔ ان ی۔ حروف مادہ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 113–117
لغات القرآن آیت نمبر 113 تا 117
لیسوا (نہیں ہیں (لیس واحد) امة قائمة (سیدھی راہ پر قائم) اناء اللیل (رات کے اوقات) یسارعون (وہ دوڑتے ہیں) الخیرات (نیک اور بھلے کام) لن یکفروہ (ہرگزوہ محروم نہ کیئے جائیں گے) صر (پالا، سخت ٹھنڈی یا تیز آواز)
تشریح : آیت نمبر 113 تا 117
اہل کتاب میں بیشک وہ لوگ ہیں جنہوں نے اللہ کے احکامات کی نافرمانیوں میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی تھی یہی وجہ ہے کہ ان پر ہمیشہ اللہ کا غضب ہی نازل ہوتا رہا لیکن ان میں کچھ لوگ جیسے عبداللہ ابن سلام، ان کے بھائی ، عیسائیوں میں حبشہ کا بادشاہ بجاشی ، اس کے ارکان دولت ، نجران کے بعض عیسائی اور حبش وروم کے بعض عیسائی اب بھی ہیں جنہوں نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 113–117
شریعت محمدی پر عمل کرنے کا حکم
شان نزول : طبرانی اور ابن ابی حاتم اور ابن مندہ نے حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت کی ہے کہ جب یہود میں سے عبداللہ بن سلام وثعلبہ بن شعبہ اور اسد بن عبد رضوان اللہ علیہم اجمعین اور یہودی لوگ مسلمان ہوئے تو یہود کے علماء نے ان مسلمانوں کی طرح طرح مذمت اپنی قوم کے لوگوں میں کرنی شروع کردی۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے ان مسلمانان اہل کتاب کی تعریف میں ان مسلمانوں کا دل بڑھانے کی غرض سے یہ آیتیں نازل فرمائیں۔ مسند امام احمد بن حنبل میں حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ کی یہ روایت ہے کہ ایک روز آنحضرت ﷺ نے عشاء کی نماز بہت دیر کرکے پڑھی (بعض نے اس سے مراد نماز تہجد لی ہے) اور پھر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 112–116
[40] یعنی یہود پر
[41] یہود کی تاریخ اس پر گواہ ہے۔
[42] یعنی دنیا میں اگر تھوڑا بہت امن و چین نصیب ہوا بھی ہے تو وہ دوسروں کی حمایت و مہربانی کا نتیجہ ہے۔ کہیں کسی مسلم حکومت نے ان کو اللہ کے نام پر امان دے دی اور کہیں کسی غیر مسلم حکومت نے اپنے طور پر انہیں اپنی حمایت میں لے لیا۔ یہی حیثیت اس یہودی ریاست کی ہے جو اسرائیل کے نام سے امریکہ، برطانیہ اور روس کی حمایت سے وجود میں آئی اور ان کے بل بوتے پر اب تک قائم ہے۔ ان کی حمایت ہٹنے کے بعد وہ ایک دن کے لئے بھی قائم نہیں رہ سکتی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 113–114
ایمان باللہ کے معنی :
(ف 2) ان آیات میں بتایا گیا ہے کہ جہاں ایک کتاب میں یہودی ذلت ومسکنت کے عذاب الیم میں گرفتار ہیں ‘ وہاں چند سعید روحیں بھی ہیں جو بدرجہ غایت خدا پرست ہیں ، ان کے دلوں میں ایمان واتقاء کی قندیل روشن ہے ، وہ راتوں کو اٹھ اٹھ کر اللہ کی عبادت میں مصروف رہتے ہیں اور اعلان حق میں ہر آن کوشاں رہتے ہیں ، یہ صالح اور نیک لوگوں کی جماعت ہے ، ان کی نیکیاں محض اس لئے ضائع نہیں ہونگی کہ وہ پہلے یہودی تھے ، خدا علیم بذات الصدور ہے ، وہ خوب جانتا ہے کہ یہ خدا پرست اور متقی ہیں ‘ اس لئے انکی ہر سعی مقبول وماجور ہے ۔
اللہ تعالیٰ کے ہاں تعصب وانتقام کو کوئی دخل نہیں ، کوئی انسان کسی وقت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 113–114
ف 2 یہ سب اہل کتاب یکساں نہیں ہیں بلکہ ان ہی اہل کتاب میں سے ایک جماعت اور کچھ لوگ وہ بھی ہیں جو دین حق اور سیدھی راہ پر قائم ہیں اور اپنی بات پر جمے ہوئے ہیں یہ لوگ رات کی گھڑیوں اور اوقات شب میں اللہ تعالیٰ کی آیتیں یعنی قرآن کی تلاوت کرتے ہیں اور ان کی حالت یہ ہوتی ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی جناب میں سجدہ ریز ہوتے ہیں یعنی تہجد کی نماز پڑھتے ہیں۔ (تیسیر)
مطلب یہ ہے کہ اہل کتاب سب برابر نہیں ہیں بلکہ ان میں سے کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو بالکل سیدھی راہ پر قائم ہیں افراط وتفریط سے پاک ہیں اور اسلام پر جمے ہوئے ہیں جیسے عبد اللہ بن سلام اور ان کے چند ساتھی جو اسلام لے آئے تھے ان ہی کو امۃ قائمۃ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 113–114
ف 6۔ حاصل آیت کا مدح ہے ان لوگوں کی کہ انہوں نے ان صفات کو اختیار کیا ہے جو کہ اس امت کی خیریت کے اسباب میں سے اس لیے یومنون اور یامرون کو تخصیص کے ساتھ لائے جس کی وجہ سے خیریت میں بھی تصریح تھی ورنہ قائمہ کے عموم میں یہ سب امور داخل ہوگئے تھے۔
Read the full tafseer →اہل کتاب یعنی یہود ہی کے اندر اللہ کے نیک بندے بھی تھے جو رحمت الٰہی کے مستحق ٹھہرے :
219 : دین اسلام کا یہ سب سے بڑا کمال ہے کہ وہ ہر سچائی تسلیم کرتا ہے۔ اور برملا اور اعلانہ کرتا ہے دوسرے ادیان کی طرح ضد اور ہٹ دھرمی نام کی کوئی شے اس میں موجود نہیں۔ کاش کہ اس کے ماننے والے بھی آج اس نکتہ کو ذہن نشین رکھتے۔ گروہ یہود کی مختصر تاریخ آپ پڑھ چکے بلا شبہ من حثا القوم ان کی اکثریت شرارتی تھی اس لئے اوپر جو کچھ ذکر ہوا وہ ان کی اکثریت کا ذکر تھا باقی ان میں سے بعض بعض حق شناس اور انصاف دوست بھی تھے۔ اور وہ بالآخر مشرف بہ اسلام ہوئے۔ اس لئے قرآن کریم نے بھی ان کی تعریف فرمائی اور ان کے اچھ اعمال…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 113–117
In verse 110, it was said that among the people of the Book there are those who believe, yet most of them are disbelievers. Details appear in the present verse which gives a complementary profile of those who believed from among the people of the Book, and by becoming Muslims, they adopted the distinguishing hallmarks of the Faith that go to make believers the best of communities.
Soon after praising those who had embraced Islam from among the people of the Book, the text censures those of them who did not embrace Islam and insisted on retaining their stance of disbelief, not realizing that…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 113–117
91. The term 'harvest' in this parable refers to this life which resembles a field of cultivation the harvest of which one will reap in the World to Come. The 'wind' refers to the superficial appearance of righteousness, for the sake of which unbelievers spend their wealth on philanthropic and charitable causes. The expression 'frost' indicates their lack of true faith and their failure to follow the Divine Laws, as a result of which their entire life has gone astray.
By means of this parable God seeks to bring home to them that while wind is useful for the growth of cultivation if that wind…
Read the full tafseer →