Aal-i-Imraan 3:114

Aal-i-Imraan · from ayah 114

3:114

یُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَیَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَیَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَیُسَارِعُوْنَ فِی الْخَیْرٰتِ ؕ— وَاُولٰٓىِٕكَ مِنَ الصّٰلِحِیْنَ ۟يُؤۡمِنُوۡنَ بِاللّٰهِ وَالۡيَوۡمِ الۡاٰخِرِ وَ يَاۡمُرُوۡنَ بِالۡمَعۡرُوۡفِ وَيَنۡهَوۡنَ عَنِ الۡمُنۡكَرِ وَيُسَارِعُوۡنَ فِىۡ الۡخَيۡرٰتِ ؕ وَاُولٰٓئِكَ مِنَ الصّٰلِحِيۡنَ

(اور) خدا پر اور روز آخرت پر ایمان رکھتے اور اچھے کام کرنےکو کہتے اور بری باتوں سے منع کرتےاور نیکیوں پر لپکتے ہیں اور یہی لوگ نیکوکار ہیں

— Fateh Muhammad Jalandhari

They believe in Allah and the Last Day, and they enjoin what is right and forbid what is wrong and hasten to good deeds. And those are among the righteous.

— Saheeh International

Juz 4 · Ruku 12 of surah · Ruku 3 of juz

Read the whole surah · Surah Aal-i-Imraan

All translations of 3:114

اللہ اور روز آخرت پر ایمان رکھتے ہیں، نیکی کا حکم دیتے ہیں، برائیوں سے روکتے ہیں اور بھلائی کے کاموں میں سرگرم رہتے ہیں یہ صالح لوگ ہیں

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

(اور) خدا پر اور روز آخرت پر ایمان رکھتے اور اچھے کام کرنےکو کہتے اور بری باتوں سے منع کرتےاور نیکیوں پر لپکتے ہیں اور یہی لوگ نیکوکار ہیں

— مولانا فتح محمد جالندہری

یہ اللہ تعالیٰ پر اورقیامت کے دن پر ایمان بھی رکھتے ہیں، بھلائیوں کا حکم کرتے ہیں اور برائیوں سے روکتے ہیں اور بھلائی کے کاموں میں جلدی کرتے ہیں۔ یہ نیک بخت لوگوں میں سے ہیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

یہ لوگ اللہ پر اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتے ہیں، اچھائی کی تلقین کرتے اور برائی سے روکتے ہیں، اور نیک کاموں کی طرف لپکتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کا شمار صالحین میں ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اللہ اور پچھلے دن پر ایمان لاتے ہیں اور بھلائی کا حکم دیتے اور برائی سے منع کرتے ہیں اور نیک کاموں پر دوڑتے ہیں، اور یہ لوگ لائق ہیں،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

وہ اللہ پر اور آخرت کے دن پر ایمان لاتے ہیں اور بھلائی کا حکم دیتے ہیں اور برائی سے منع کرتے ہیں اور نیک کاموں میں تیزی سے بڑھتے ہیں، اور یہی لوگ نیکوکاروں میں سے ہیں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتے ہیں اور نیکی کا حکم دیتے اور برائی سے منع کرتے اور اچھے کاموں میں ایک دوسرے سے جلدی کرتے ہیں اور یہ لوگ صالحین سے ہیں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

وہ اللہ پر اور آخرت کے دن پر ایمان لاتے ہیں، اچھے کاموں کا حکم دیتے ہیں اور برے کاموں سے روکتے ہیں اور بھلائی کے کاموں میں سبقت کرتے ہیں۔ یہ صالح لوگوں میں سے ہیں

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اللہ اور روز آخرت پر ایمان رکھتے ہیں، معروف کا حکم دیتے ہیں، منکر سے روکتے ہیں اور بھلائی کے کاموں میں سبقت کرتے ہیں اور یہ لوگ نیکو کاروں میں سے ہیں۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

جو (ٹھیک ٹھیک) ایمان رکھتے ہیں اللہ پر، اور قیامت کے دن پر، اور وہ تعلیم دیتے ہیں (لوگوں کو) اچھائی کی، اور (ان کو) روکتے ہیں برائی سے، اور دوڑتے ہیں نیک کاموں میں سبقت کرتے ہوئے، اور ایسے ہی لوگ (نیک بخت) اور شائستہ لوگوں میں سے ہوتے ہیں

— مولانا اسحاق مدنی

یہ اللہ اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتے ہیں اور بھلائی کا حکم دیتے ہیں اور بدی سے روکتے ہیں اور اچھی باتوں کی طرف دوڑتے ہیں یہی لوگ نیکو کاروں میں سے ہیں۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

وہ ایمان رکھتے ہیں اللہ پر اور یوم آخر پر اور نیکی کا حکم دیتے ہیں اور برائی سے روکتے ہیں اور نیکیوں میں ایک دوسرے سے آگے نکلنے کی کوشش کرتے ہیں اور یقیناً یہ لوگ صالحین میں سے ہیں

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اللہ اور روز آخرت پر ایمان رکھتے ہیں، نیکی کا حکم دیتے ہیں، برائیوں سے روکتے ہیں اور بھلائی کے کاموں میں سرگرم رہتے ہیں۔ یہ صالح لوگ ہیں

— محترمہ رفعت اعجاز

They believe in Allah and in the Last Day and enjoin what is right and forbid what is wrong, and hasten to excel each other in doing good. These are among the righteous.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

they believe in Allah and the Hereafter, and bid the Fair and forbid the Unfair, and hasten towards good deeds. They are among the righteous.

— Muhammad Taqi Usmani

they believe in Allah and the Hereafter, and bid the Fair and forbid the Unfair, and hasten towards good deeds. They are among the righteous.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

They believe in Allah and the Last Day; they enjoin Al-Ma`ruf and forbid Al-Munkar; and they hasten in (all) good works; and they are among the righteous.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

They believe in Allah and the Last Day, and enjoin right conduct and forbid indecency, and vie one with another in good works. These are of the righteous.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

They believe in Allah and the Last Day, and they enjoin what is right and forbid what is wrong and hasten to good deeds. And those are among the righteous.

— Saheeh International

They believe in God and the Day of Judgment. They command people to follow good, prohibit others from committing evil and compete with each other in doing good deeds. These are the righteous ones.

— Muhammad Sarwar

They believe in Allah and the last day, and they enjoin what is right and forbid the wrong and they strive with one another in hastening to good deeds, and those are among the good.

— Muhammad Habib Shakir

And they believe in Allah and the Last Day and command that which is reputable and prohibit that which is disreputable, and vie with each other to virtues. And these are of the righteous.

— Abdul Majid Daryabadi

They believe in Allah and the Last Day; they enjoin what is right, and forbid what is wrong; and they hasten (in emulation) in (all) good works: They are in the ranks of the righteous.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 3:114

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 113–117

ظلم نہیں سزا حضرت ابن مسعود ؓ فرماتے ہیں اہل کتاب اور اصحاب محمد ﷺ برابر نہیں، مسند احمد میں ہے رسول اللہ ﷺ نے عشاء کی نماز میں ایک مرتبہ دیر لگا دی پھر جب آئے تو جو اصحاب منتظر تھے ان سے فرمایا کسی دین والا اس وقت تک اللہ کا ذکر نہیں کر رہا مگر صرف تم ہی اللہ کے ذکر میں ہو اس پر یہ آیت نازل ہوئی لیکن اکثر مفسرین کا قول ہے کہ اہل کتاب کے علماء مثلاً حضرت عبداللہ بن سلام حضرت اسد بن عبید، حضرت ثعلبہ بن شعبہ وغیرہ کے بارے میں یہ آیت آئی کہ یہ لوگ ان اہل کتاب میں شامل نہیں جن کی مذمت پہلے گزاری، بلکہ یہ باایمان جماعت امر اللہ پر قائم شریعت محمدیہ کی تابع ہے استقامت و یقین اس میں ہے یہ پاکباز لوگ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 113–117

سورة اٰلِ عِمْرٰن 91 اس مثال میں کھیتی سے مراد یہ کشت حیات ہے جس کی فصل آدمی کو آخرت میں کاٹنی ہے۔ ہوا سے مراد وہ اوپری جزبہ خیر ہے جس کی بنا پر کفار رفاہ عام کے کاموں اور خیرات وغیرہ میں دولت صرف کرتے ہیں۔ اور پالے سے مراد صحیح ایمان اور ضابطہ خداوندی کی پیروی کا فقدان ہے جس کی وجہ سے ان کو پوری زندگی غلط ہو کر رہ گئی ہے۔ اللہ تعالیٰ اس تمثیل سے یہ بتانا چاہتا ہے کہ جس طرح ہوا کھیتیوں کی پرورش کے لیے مفید ہے لیکن اگر اسی ہوا میں پالا ہو تو کھیتی کو پرورش کرنے کے بجائے اسے تباہ کر ڈالتی ہے، اسی طرح خیرات بھی اگرچہ انسان کے مزرعہ آخرت کو پرورش کرنے والی چیز ہے، مگر جب اس کے اندر کفر کا زہر ملا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 113–117

ربط آیات اوپر اہل کتاب کے متعلق بیان ہوا تھا کہ ان میں کچھ لوگ مسلمان بھی ہیں اور زیادہ کافر ہیں، اسی مضمون کی مزید تفصیل ان آیات میں ہے۔ خلاصہ تفسیر یہ (اہل کتاب) سب برابر نہیں (بلکہ) ان (ہی) اہل کتاب میں ایک جماعت وہ بھی ہے جو (دین حق پر) قائم ہیں (اور) اللہ کی آیتیں (یعنی قرآن) اوقات شب میں پڑھتے تھے اور وہ نماز بھی پڑھتے ہیں (اور) اللہ پر اور قیامت والے دن پر (پورا پورا) ایمان رکھتے ہیں اور (دوسروں کو) نیک کام بتلاتے ہیں اور بری باتوں سے روکتے ہیں اور نیک کاموں میں دوڑاتے ہیں اور یہ لوگ (اللہ کے نزدیک) شائستہ لوگوں میں (شمار کئے جاتے ہیں) اور یہ لوگ جو نیک کام کریں گے اس (کے ثواب) سے…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 114–115

تفسیر آیت 114-115: اہل کتاب کا باایمان گروہ : یہ اہل کتاب کے اس گروہ قلیل کا ذکر ہے جو اس اکثریت سے مستثنی ہے جس کا حال اوپر والی آیت میں بیان ہوا ہے۔ فرمایا کہ سب اہل کتاب اسی طرح کے نہیں ہیں جن کا ذکر اوپر ہوا ہے بلکہ ان میں ایک گروہ ایسے لوگوں کا بھی ہے جو اپنے عہد پر قائم، شب بیدار و تہجد گزار، اللہ اور آخرت پر ایمان رکھنے والے، امر بالمعروف و نہی عند المنکر کا فریضہ انجام دینے والے اور نیکی اور بھلائی کے کاموں سبقت کرنے والے ہیں۔ اس گروہ میں وہ لوگ بھی تھے جو علی الاعلان آنحضرت ﷺ پر ایمان لا چکے تھے اور ایسے لوگ بھی تھے جو اگرچہ ان آیات کے نزول کے وقت تک اپنے اسلام کا اعلان نہیں کرسکے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 113–115

115۔ 1 یعنی سارے اہل کتاب ایسے نہیں جن کی مذمت پچھلی آیات میں بیان کی گئی ہے، بلکہ ان میں کچھ اچھے لوگ بھی ہیں، جنہیں اللہ تعالیٰ نے شرف اسلام سے نوازا اور ان میں اہل ایمان وتقویٰ والی خوبیاں پائی جاتی ہیں، رضی اللہ عنھم ورضو عنہ۔ قائمۃ کے معنی ہیں، شریعت کی اطاعت اور نبی کریم ﷺ کا اتباع کرنے والی، یسجدون کا مطلب رات کو قیام کرتے یعنی تہجد پڑھتے اور نمازوں میں تلاوت کرتے ہیں۔ اس مقام پر امر بالمعروف کے معنی بعض نے یہ کئے ہیں کہ وہ نبی ﷺ پر ایمان لانے کا حکم دیتے اور آپ ﷺ کی مخالفت کرنے سے روکتے ہیں۔ اسی گروہ کا ذکر آگے بھی کیا گیا ہے (وَاِنَّ مِنْ اَھْلِ الْكِتٰبِ لَمَنْ يُّؤْمِنُ باللّٰهِ…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 114–117

تشریح : کافر لوگ جو کچھ خیرات کرتے ہیں اللہ تعالیٰ اس کا صلہ انہیں دنیا ہی میں دے دیتے ہیں ان کے کفر کی وجہ سے، اس کا ثواب آخرت میں نہیں ملتا، لہذا ان کے خیراتی اعمال کی مثال ایک کھیتی کی ہے اور ان کے کفر کی مثال اس تیز آندھی کی ہے جس میں پالا بھی ہو اور وہ اچھی خاصی کھیتی کو برباد کرڈالے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 113–115

یہ اہل کتاب مومنین کی ایک روشن تصویر ہے ۔ ان میں سے بعض لوگوں نے سچائی کے ساتھ ایمان قبول کیا اور یہ ایمان ان کے دلوں میں گہرائی تک اتر گیا ۔ پھر یہ ایمان پوری طرح کامل اور شامل تھا ۔ یہ لوگ اسلامی صفوں میں شامل ہوگئے اور دین اسلام کے محافظ بن گئے ۔ اللہ اور روز قیامت پر ایمان لے آئے ۔ انہوں نے ایمان کے تقاضے پورے کئے ‘ اور جس امت کا وہ جزء بن گئے تھے ‘ اس کی اساسی خصوصیت کے مطابق کام شروع کردیا ‘ یعنی یہ خصوصیت کہ وہ خیر امت ہے ۔ وہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے فریضے پر کاربند ہوگئے ‘ اس سے پہلے بھھی ان کے نفوس خیر طلب تھے ‘ انہوں نے بھلائی کے میدان میں ایک دوسرے کی مسابقت کی ۔ ایک…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 113–114

5 یعنی سب اہل کتاب کا حال یکساں نہیں۔ اتنے بروں میں کچھ اچھے بھی ہیں۔ ان ہی ممسوخ اشقیاء کے درمیان چند سعید روحیں ہیں جن کو حق تعالیٰ نے قبول حق کی توفیق دی اور وہ اسلام کی آغوش میں آگئے اور جادہ حق پر ایسے مستقیم ہوگئے کہ کوئی طاقت ہلا نہیں سکتی۔ وہ رات کی تاریکی میں میٹھی نیند اور نرم بسترے چھوڑ کر خدا کے سامنے کھڑے ہوتے ہیں۔ اپنے مالک کے سامنے خضوع و تذلل اختیار کرتے ہیں۔ جبین نیاز زمین پر رکھتے ہیں، نماز میں اس کا کلام پڑھتے ہیں۔ اللہ پر اور یوم آخرت پر ٹھیک ٹھیک ایمان لاتے ہیں، خالص توحید کے قائل ہیں، قیامت کے دن سے ڈرتے ہیں اور جب کسی نیک کام کی طرف پکارا جائے دوڑ کر دوسروں سے آگے نکلنا…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 113–116

آیت 113 لَیْسُوْا سَوَآءً ط۔ ان میں اچھے بھی ہیں ‘ برے بھی ہیں۔ مِنْ اَہْلِ الْکِتٰبِ اُمَّۃٌ قَآءِمَۃٌ یَّتْلُوْنَ اٰیٰتِ اللّٰہِ اٰنَاءَ الَّیْلِ وَہُمْ یَسْجُدُوْنَ ۔ رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں خاص طور پر عیسائی راہبوں کی ایک کثیر تعداد اس کردار کی حامل تھی۔ ان ہی میں سے ایک بحیرہ راہب تھا جس نے بچپن میں آنحضور ﷺ کو پہچان لیا تھا۔ یہود میں بھی اکا دکا لوگ اس طرح کے باقی ہوں گے ‘ لیکن اکثر و بیشتر یہود میں سے یہ کردار ختم ہوچکا تھا ‘ البتہ عیسائیوں میں ایسے لوگ بکثرت موجود تھے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

103 پہلے اللہ تعالیٰ نے یہ بتلایا تھا کہ اہل کتاب کی اکثریت فسق و فجور پر ہی مصر رہی۔ اس آیت میں یہ بتلایا جارہا ہے کہ وہ سب کے سب ہی برے نہیں۔ ان میں بھی کچھ اچھے لوگ موجود ہیں جو ایمان لے آئے ہیں۔ مثلاً عبداللہ بن سلام ؓ اور ان کے ساتھی یا نجاشی شاہ حبشہ وغیرہ اور ان میں وہ سب خوبیاں موجود ہیں جو نیکو کار مسلمانوں میں ہوتی ہیں۔ عبداللہ بن سلام ؓ یہود کے ممتاز علماء میں سے تھے۔ لیکن مفاد پرست اور جاہ طلب ہونے کی بجائے حق پرست تھے۔ جب آپ ہجرت کرکے مدینہ تشریف لائے اور عبداللہ بن سلام ( رض) نے آپ ﷺ میں وہ نشانیاں دیکھیں جو تورات میں نبی آخرالزمان کی بتلائی گئی تھیں تو آپ فوراً خدمت اقدس میں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

237 ۔ قرآن مجید جنہیں صالح قرار دیتا ہے۔ ان کے اوصاف و خصوصیات یہاں کس جامعیت و ایجاز کے ساتھ ارشاد کردیئے گئے ہیں۔ پہلی بات یہ بتائی کہ وہ ایمان میں کامل ہوں گے، جو کچھ بھی خرچ کریں گے، مقصد صحیح کے ساتھ اور راہ حق میں کریں گے، دوسری بات یہ ارشاد ہوئی کہ وہ لوگ نہ صرف خود ہی ایجابی وسلبی ہر حیثیت سے اخلاق اور پاکیزہ کرداری کے پتلے ہوں گے بلکہ دوسروں کو بھی اسی راہ پر لائیں گے اور لگائیں گے اور نیکیوں کی طرف دلی شوق ورغبت کے ساتھ بڑھیں گے۔ (آیت) ” یسارعون فی الخیرت “۔ یعنی نیکیوں کی طرف بےدلی اور بدشوقی کے ساتھ گویا ہار اور تھک کر نہیں، بلکہ بڑے شوق واشتیاق، چاؤ اور رغبت کے ساتھ لپکیں گے۔…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 114–117

مَثَلُ مَایُنْفِقُوْنَ فِیْ ھٰذِہِ الْحَیَاۃِ الدُّنْیَا (الآیۃ) ایک عام فہم اور ظاہر مثال سے یہ سمجھایا گیا ہے کہ قیامت کے دن کافروں کے نہ کچھ مال کام آئے گا اور نہ اولاد حتیٰ کہ رفاہی اور ظاہری بھلائی کے کاموں پر جو خرچ کرتے ہیں وہ بھی بےکار ہوجائیں گے اور ان کی مثال اس سخت پالے کی سی ہے جوہری بھری کھیتی کو جلا کر خاکستر کردیتا ہے ظالم اس کھیتی کو دیکھ کر خوش ہو رہے ہوتے ہیں اور اس سے نفع کی امید رکھتے ہیں کہ اچانک ان کی امیدیں خاک میں مل جاتی ہیں۔ اس مثال میں کھیتی سے مراد کشت حیات ہے جس کی فصل آدمی کو آخرت میں کاٹنی ہے۔ (الدنیا مزرعۃ الآخرۃ) ۔ ” ہوا “ سے مراد اوپرہ جذبہ خیر ہے جس کی بنا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

یومنون باللہ والیوم الاخر وہ اللہ اور روز آخرت پر ایمان رکھتے ہیں۔ و یامرون بالمعروف و ینھون عن المنکر اور نیکی کا حکم دیتے اور بری باتوں سے روکتے ہیں۔ و یسارعون فی الخیرات اور نیک کاموں میں تیزی سے بڑھتے ہیں کیونکہ ان کو اللہ سے کامل خوف ہے اور ان کے ہوا و ہوس کا سلسلہ کوتاہ ہے رسول اللہ نے ارشاد فرمایا : اس سے پہلے کہ ایسا بڑھاپا آجائے جس میں سر ہلنے لگے یا غفلت کی حالت میں موت آجائے یا (حرکت سے) روک دینے والے بیماری پیدا ہوجائے یا ناامید کردینے والی تاخیر آجائے نیک اعمال کرو 2 ؂۔ چونکہ یہودیوں کے اوصاف واطوار قبیحہ متعدد تھے حق سے منحرف تھے دن رات خواب غفلت میں سرشار تھے مشرک تھے اللہ کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 113–114

(113۔ 114) ہاں اہل کتاب میں سے جو حضرات اسلام قبول کرچکے، وہ ان کی طرح نہیں ہیں جو ایمان نہیں لائے ان میں انصاف والی ایک جماعت وہ بھی ہے جو ہدایت اور توحید خداوندی پر قائم ہے جیسا کہ یہ عبداللہ بن سلام ؓ اور ان کے ساتھی یہ حضرات راتوں کو نماز میں قرآن کریم پڑھتے ہیں اور پابندی سے نمازوں کا اہتمام رکھتے ہیں اور تمام کتب سماویہ اور تمام رسولوں اور مرنے کے بعد زندہ ہونے اور جنت کی نعمتوں رکھتے ہیں۔ اور اس کے ساتھ ساتھ توحید اور رسول اکرم ﷺ کی پیروی کا حکم اور کفر وشرک اور شیطان کی پیروی سے روکتے اور نیکیوں میں سبقت کرتے ہیں یہی لوگ رسول اکرم ﷺ کی امت میں نیکو کار ہیں یا یہ کہ رسول اکرم ﷺ کی امت…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

يُؤْمِنُوْنَ باللّٰہ۔۔ : یہ یہود پر طنز ہے کہ جن لوگوں کو تم برا کہتے ہو ان میں تو یہ نیک اوصاف ہیں، وہ برے کیسے ہوگئے، وہ تو صالحین میں سے ہیں۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 112–115

آیت نمبر : 112 تا 115۔ قولہ تعالیٰ (آیت) ” ضربت علیہم الذلۃ “۔ یعنی جہاں کہیں یہ پائے گئے اور یہ ملے، کلام مکمل ہوا اور ان پر ذلت مسلط کرنے کا معنی سورة البقرہ میں گزر چکا ہے۔ (آیت) ” الابحبل من اللہ “۔ یہ استثنا منقطع ہے یہ اول کا جز نہیں ہے، یعنی بجز ان کے جو اللہ تعالیٰ سے عہد کو مضبوط کرتے ہیں، (آیت) ” وحبل من الناس “۔ مراد وہ ذمہ داری (معاہدہ) ہے جو لوگوں کی جانب سے ان پر ہے، اور (آیت) ” الناس “ سے مراد حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ اور وہ مومنین ہیں جنہیں وہ خراج ادا کرتے ہیں اور وہ انہیں امن اور پناہ دیتے ہیں، کلام میں اختصار ہے اور معنی یہ ہے : ” الاان یعتصموا بحبل امن اللہ “۔ پھر اس سے فعل کو…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 114–117

(1) عبد بن حمید، ابن جریر، ابن ابی حاتم اور ابن المنذر نے مجاہد (رح) سے لفظ آیت ” مثل ما ینفقون فی ھذہ الحیوۃ الدنیا “ کے بارے میں روایت کیا ہے کہ یہ دنیا میں کافر کے خرچ کرنے کی مثال ہے۔ (2) ابن جریر وابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا ہے کہ مثال اس چیز کی جو مشرک خرچ کرتے ہیں اور ان سے قبول نہیں کیا جاتا جیسے مثال اس کھیتی کی جب ایک ظالم قوم نے اس کو بویا پھر اس کو ایسی ہوا پہنچ گئی جس میں سخت سردی تھی جس نے اس کو ملیا میٹ کردیا پس اسی طرھ ان مشرکوں نے جو مال خرچ کیا شرک نے اس کو ہلاک کردیا۔ (3) سعید بن منصور، فریابی، عبد بن حمید، ابن جریر، ابن المنذر اور ابن ابی حاتم…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[یُؤْمِنُوْنَ : وہ لوگ ایمان لاتے ہیں ] [بِاللّٰہِ : اللہ پر ] [وَالْـیَوْمِ الْاٰخِرِ : اور آخری دن پر ] [وَیَاْمُرُوْنَ : اور تلقین کرتے ہیں ] [بِالْمَعْرُوْفِ : نیکی کی ] [وَیَنْہَوْنَ : اور منع کرتے ہیں ] [عَنِ الْمُنْکَرِ : برائی سے ] [وَیُسَارِعُوْنَ : اور وہ لوگ باہم سبقت کرتے ہیں ] [فِی الْْخَیْرٰتِ : بھلائیوں میں ] [ وَاُولٰٓئِکَ : اور وہ لوگ ] [مِنَ الصّٰلِحِیْنَ : نیکوں میں سے ہیں ] ترکیب :” یُؤْمِنُوْنَ “ کا فاعل اس میں ” ھُمْ “ کی ضمیر ہے جو گزشتہ آیت میں ” اُمَّـۃٌ“ کے لیے ہے ‘ کیونکہ یہ اسم جمع ہے۔ ” مَا “ شرطیہ ہے اس لیے ” یَفْعَلُوْا “ مجزوم ہوا ہے۔ ” یُکْفَرُوْا “ ثلاثی…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 111–115

یہود کی ذلت اور مسکنت زمانہ نبوت میں یہودیوں کی دشمنی ظاہراً بھی تھی اور پوشیدہ بھی تھی مسلمانوں کو ان سے تکلیف پہنچتی رہتی تھی، خطرہ تھا کہ کوئی ایسی کاروائی نہ کر بیٹھیں جس سے زیادہ تکلیف پہنچ جائے۔ بلکہ رؤسا یہود نے حضرت عبداللہ بن سلام اور ان عوام کو جو یہودیت چھوڑ کر اسلام میں داخل ہوگئے تھے۔ زبانی طور پر ایذا دینے کا سلسلہ شروع بھی کردیا تھا۔ اللہ جل شانہٗ نے مسلمانوں کے اس خطرہ کو دور فرما دیا۔ اور فرمایا کہ یہ لوگ تمہیں بس ذرا سی تکلیف پہنچا سکیں گے اور اگر انہوں نے جنگ چھیڑی تو پشت پھیر کر بھاگ جائیں گے، پھر یہودیوں کی حالت مغضوبیت بیان فرمائی کہ ان پر ذلت کی چھاپ مار دی گئی جہاں…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 102–117

قال تعالی۔ یا ایھا الذین۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تا۔۔۔۔ ترجع الامور۔ آیت۔ ربط) گزشتہ آیات میں اللہ نے باہمی قتال وشقاق کو تکفرون یعنی کفر سے تعبیر فرمایا اب آئندہ آیت میں تقوی اور اعتصام بحبل اللہ یعنی اتفاق اور اتحاد اور اسلامی مواخات کا حکم دیتے ہیں اور اتفاق اور اتحاد کا ایک دستور العمل بتلاتے ہیں وہ یہ کہ اول تقوی اور اسلام پر مداومت اور استقامت کا حکم دیا اور پھر اعتصام بحبل اللہ کا حکم فرمایا کہ سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوط پکڑو پھر یہ ارشاد فرمایا، واذکر نعمتہ اللہ علیکم۔ الخ۔ آیت۔ جس میں حکم دیا کہ اتفاق اور اتحاد کی نعمت کو یاد کرو، اور اس نعمت کو اور اس کی برکات کو یاد کرکے موازنہ کرو کہ پہلے…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

172 مؤمنین اہل کتاب کی مزید مدح اور تعریف فرمائی کہ وہ اللہ پر اور آخرت پر ٹھیک ٹھیک شریعت مصطفویہ کے مطابق ایمان لاتے ہیں اور اپنے گذشتہ شرکیہ عقائد مثلاً ابنیت مسیح اور عزیز سے تائب ہوچکے ہیں نیز اپنے سابقہ تصور آخرت سے بھی دستبردار ہوچکے ہیں۔ کیونکہ پہلے وہ آخرت میں شفاعت قہری کے قائل تھے وذالک لان ایمان اھل الکتاب فیہ شرک ویصفون الیوم الاخر لغیر ما یصفہ المؤمنون (خازن ص 341 ج 1) اور پھر صرف یہی نہیں کہ خود ہی ایمان لا کر نیک اعمال میں مصروف ہوگئے ہیں بلکہ دوسروں کو بھی ایمان اور اعمال صالحہ کی دعوت دیتے اور کفر اور منکرات سے ان کو منع کرتے ہیں اور رضائے الٰہی کی خاطر اس کی طاعت اور بندگی…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 112–115

ربط آیات : گزشتہ درس میں بیان ہوچکا ہے۔ کہ جس طرح حضور نبی کریم ﷺ تمام انبیاء سے افضل ہیں ، اسی طرح آپ کی امت بھی تمام امتوں سے افضل ہے۔ اللہ تعالیٰ کے علم ازلی میں بھی یہ چیز موجود ہے۔ اور لوح محفوظ میں بھی درج ہے۔ اس کے بعد اہل کتاب سے شکوہ کیا گیا اگر وہ نبی آخر الزمان پر ایمان لے آتے ، تو بہترین امت میں شامل ہوجاتے ، اور یہ ان کے لیے بہتر ہوتا ، مگر وہ اپنے باطل عقیدے پر اڑے رہے۔ پھر فرمایا کہ ان میں سے کچھ ایمان والے بھی ہیں مگر اکثر نافرمان ہیں۔ پھر اہل ایمان کو تسلی دی گئی کہ ان سے کوئی خطرہ محسوس نہ کرو۔ یہ لوگ تمہیں زبانی حد تک تو ستائیں گے مگر تمہارا کوئی نقصان نہ کرسکیں گے۔ اگر…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

يُؤْمِنُوْنَ بِاللہِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ وَيَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَيَنْہَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَيُسَارِعُوْنَ فِي الْخَيْرٰتِ۝ 0 ۭ وَاُولٰۗىِٕكَ مِنَ الصّٰلِحِيْنَ۝ 114 أیمان يستعمل اسما للشریعة التي جاء بها محمّد عليه الصلاة والسلام، وعلی ذلك : الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ هادُوا وَالصَّابِئُونَ [ المائدة/ 69] ، ويوصف به كلّ من دخل في شریعته مقرّا بالله وبنبوته . قيل : وعلی هذا قال تعالی: وَما يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُمْ بِاللَّهِ إِلَّا وَهُمْ مُشْرِكُونَ [يوسف/ 106] . وتارة يستعمل علی سبیل المدح، ويراد به إذعان النفس للحق علی سبیل التصدیق، وذلک باجتماع ثلاثة أشياء : تحقیق بالقلب،…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 113–116

ترکیب : لیسوا کا اسم ضمیر سوا خبر امۃ موصوف قائمۃ صفت مجموعہ مبتدا من اھل الکتاب خبر یتلون اور یومنون وغیرہ حال بھی ہوسکتے ہیں اور جملہ مستانفہ بھی یکفروہ اس کا تعدیہ دو مفعولوں کی طرف ہے یعنی حرمان کی وجہ سے۔ تفسیر : پہلی آیت میں اہل کتاب کی نسبت یہ تھا منہم المؤمنون و اکثرھم الفاسقون یہاں اس جملہ کے زیادہ تر تشریح فرماتا ہے تاکہ اہل کتاب کو بھی خدا کی فرمانبرداری کی طرف رغبت ہو کہ سب اہل کتاب بھی برابر نہیں ٗ ان میں بھی ایک گروہ ایسا ہے کہ جو سیدھے رستہ پر ہے۔ وہ رات بھر آیات الٰہی پڑھتے اور سجدہ کرتے ہیں اور ان کا اللہ اور قیامت کے دن پر ایمان ہے اور وہ اچھی باتوں کا حکم دیتے اور بری…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 113–115

لَیْسُوْا سَوَآئً ط مِنْ اَہْلِ الْـکِتٰبِ اُمَّۃٌ قَآئِمَۃٌ یَّتْلُوْنَ اٰیٰتِ اللّٰہِ اٰنَآئَ الَّیْلِ وَہُمْ یُسْجُدُوْنَ ۔ یُؤْمِنُوْنَ بِااللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَیَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَیَنْہَوْنَ عَنِ الْمُنْـکَرِ وَیُسَارِعُوْنَ فِی الْخَیْرٰتِ ط وَاُوْلٰٓئِکَ مِنَ الصّٰلِحِیْنَ ۔ وَمَا یَفْعَلُوْا مِنْ خَیْرٍ فَلَنْ یُّـکْفَرُوْہُ ط وَاللّٰہُ عَلِیْمٌ م بِالْمُتَّقِیْنَ ۔ (سب یکساں نہیں، اہل کتاب میں سے ایک گروہ اپنے عہد پر قائم ہے۔ یہ تلاوت کرتے ہیں اللہ کی آیتوں کی رات کے اوقات میں اور وہ سجدے کرتے ہیں۔ وہ اللہ پر اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتے ہیں اور معروف کا حکم…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 114–116

فہم القرآن ربط کلام : اہل ایمان کے بعد اہل کفر کا انجام ذکر ہوتا ہے۔ اسلام کے مخالف اپنی انا کی خاطر مسلمانوں کے خلاف مال بھی خرچ کرتے ہیں۔ انہیں اس خرچ کرنے کی حقیقت سے آگاہ کیا گیا ہے کہ بالآخر اس کا انجام کیا ہوگا۔ صاحب ایمان اور صالح کردار لوگوں کی ہرگز ناقدری نہیں ہوگی۔ اس کے برعکس جن لوگوں نے کفر کا رویّہ اختیار کیا ان کے مال اور اولادربِّ ذوالجلال کے ہاں انہیں کچھ فائدہ نہیں دے سکیں گے۔ کفار اور اہل کتاب رسول معظم ﷺ اور صحابہ کرام ؓ کو غریبی کے طعنے دیتے ہوئے کہا کرتے تھے کہ اگر آپ لوگ سچے ہوتے تو اللہ تعالیٰ ضرور تمہیں دنیا کے اسباب سے مالا مال کرتا۔ اگر ہم اس کی بارگاہ میں غلط ہوتے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

مزید اعلیٰ خصائل کا تذکرہ : 114: یُؤْمِنُوْنَ بِا للّٰہِ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَیَاْ مُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَیَنْھَوْنَ عَنِ الْمُنْکَرِ وَ یُسَارِعُوْنَ فِی الْخَیْرٰتِ وَاُولٰٓپکَ مِنَ الصّٰلِحِیْنَ ۔ (وہ اللہ تعالیٰ پر ایمان لاتے ہیں اور آخرت کے دن پر اور امر بالمعروف کرنے والے ہیں) یعنی ایمان اور ابواب برّ کے ساتھ معروف کا حکم دینے والے ہیں۔ وَیَنْھَوْنَ عَنِ الْمُنْکَرِ (اور وہ برائیوں سے روکنے والے ہیں) منکر سے یہاں کفر اور شریعت کی دیگر ممنوعات مراد ہیں۔ وَ یُسَارِعُوْنَ فِی الْخَیْرٰتِ (وہ بھلائیوں میں جلدی کرنیوالے ہیں) یعنی ان کے فوت ہونے کے خطرہ سے ان کو جلد ادا کرنے والے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 113–117

(113 ۔ 117) ۔ طبرانی اور ابن ابی حاتم اور ابن مندہ نے حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے روایت کی ہے کہ جب یہود میں سے عبد اللہ بن سلام و ثعلبہ بن شعبہ اور اسد بن عبد اور یہودی لوگ مسلمان ہوئے تو یہودی علماء نے ان مسلمانوں کی طرح طرح کی مذمت اپنی قوم کے لوگوں میں کرنی شروع کردی۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے ان مسلمان اہل کتاب کی تعریف میں ان مسلمانوں کا دل بڑہانے کی غرض سے یہ آیتیں نازل فرمائی 2۔ اور بعض مفسرین نے یہ شان نزول ان آیات کی جو بیان کی ہے کہ امت محمد ﷺ یہ اور اہل کتاب کے برابر نہ ہونے اور امت محمد ﷺ یہ کی تعریف میں یہ آیات نازل ہوئی ہیں اور مسند امام احمد بن حنبل میں حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 112–114

آیت 112 اللہ تعالیٰ اس امت کی تعریف کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ یہ تمام امتوں سے بہتر اور افضل امت ہے جسے اللہ نے لوگوں کے لئے پیدا کیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ اپنے آپ کو کامل کرتے ہیں یعنی ایسا ایمان رکھتے ہیں جو اللہ کے ہر حکم پر عمل کرنے کو مستلزم ہے اور دوسروں کو بھی کامل بناتے ہیں۔ یعنی امر بالمعروف اور نہی عن المنکر پر عمل پیرا ہوتے ہیں، جس میں مخلوق کو اللہ کی طرف بلانا، اس مقصد کے لئے ان سے جہاد کرنا، ان کو گمراہی اور نافرمانی سے روکنے کے لئے ہر ممکن کوشش کرنا شامل ہے۔ اس وجہ سے وہ بہترین امت ہیں۔ چونکہ اللہ تعالیٰ نے گزشتہ آیت میں یعنی اس فرمان الٰہی میں : (ولتکن منکم امۃ یدعون الی…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

مومن اہل کتاب کی صفت قول باری ہے (یؤمنوں باللہ والیوم الاخرویامرون بالمعروف وینھون عن المنکر، وہ اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتے نیکی کا حکم دیتے اور برائی سے روکتے ہیں) اہل کتاب میں سے جو لوگ ایمان لے آئے تھے ان کی یہ صفت بیان ہورہی ہے۔ اس لیے کہ وہ اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لے آئے ۔ پھر انہوں نے لوگوں کو حضور ﷺ کی تصدیق کی طرف بلایا اور جو لوگ آپ کی مخالفت کرتے تھے انہیں اس مخالفت سے روکا اس لیے ان کا شماران لوگوں میں ہوگیا جن کے متعلق اللہ تعالیٰ کا پچھلی آیت میں ارشاد ہے (کنتم خیرامۃ اخرجت للناس) ہم نے امربالمعروف اور نہی عن المنکر کے وجوب پر قرآنی دلائل کا پہلے ذکرکر دیا ہے۔ مذاہب…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

237 نیک بخت لوگوں کی صفات اور ان کے انجام کا بیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ان میں ایک جماعت ایسے لوگوں کی بھی ہے جو ایسی اور ایسی عمدہ صفات و خصال سے بہرہ مند و مالامال ہیں۔ سو انہی کو حق و صداقت کے قبول کرنے کی توفیق ملتی ہے اور ایسے ہی لوگ ذلت و خواری اور انکار ِحق کے برے انجام سے محفوظ رہتے ہیں جیسے حضرت عبداللہ بن سلام وغیرہ حضرات جن میں سے کچھ تو ایمان لاچکے تھے اور کچھ نے اگرچہ ابھی تک ایمان کا اعلان نہیں کیا تھا لیکن وہ اندر سے ایمان لاچکے تھے۔ روایات کے مطابق ان آیات کریمہ کا نزول حضرت عبداللہ بن سلام اور آپ کے ساتھیوں کے بارے میں ہوا۔ (معارف وغیرہ) ۔ بہرکیف اس میں اہل کتاب کے نیک بخت…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 113–115

نیک اور عبادت گزار اہل کتاب تشریح : ان آیات میں یہود و نصارٰی کی ان چھوٹی جماعتوں کا ذکر ہے جو عام اہل کتاب سے ذرا ہٹ کر ہیں ان کی تعریف اللہ رب العزت ان الفاظ میں بیان کرتے ہیں کہ وہ سیدھی راہ پر قائم ہیں، رات کے وقت خشوع و خضوع سے عبادت کرتے ہیں، سجدے کرتے ہیں، اللہ پر ایمان لاتے ہیں، آخرت پر ایمان لاتے ہیں، نیکی کا حکم دیتے ہیں، برائی سے منع کرتے ہیں اور نیک راستوں کی طرف پوری کوشش اور خلوص و محبت سے جلدی کرتے ہیں، یعنی کوئی بھی نیک کام اگر ان کو نظر آئے وہ اس کی طرف خوشی سے لپکتے ہیں یہ تمام صفات ایک ایسے گروہ یا انسان کی ہیں جو مضبوطی سے ایمان کی راہ اختیار کرتا ہے۔ آل عمران کی آیت 112…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 110–120

آیات 110- 120 اسرارو معارف کنتم خیرامۃ……………واکثرھم الفسقون۔ تم سب سے اچھی امت ہو کہ آقائے نامدار ﷺ خیرالرسل ہیں اور قرآن کریم سب کتابوں سے اعلیٰ و افضل کتاب ہے۔ تم لوگ جنہیں آپ ﷺ سے نسبت حاصل ہے۔ اور اس کی برکت سے کتاب اللہ کو سمجھنے کی سعادت حاصل ہوئی ہے ایک ایسی سعادت ہے کہ ارشاد ہوا۔ اتممت علیکم نعمتی۔ کہ میں نے اپنی نعمت تم پر تمام کردی۔ تم ہی بہترین لوگ ہو۔ اتمام نعمت ایک ایسی عطا ہے جس کی حدود متعین کرنا انسان کے بس کی بات نہیں ہے اور اس پر مزید یہ کہ نعمت کا حصول بھی بیشک بہت بڑی بات ہے مگر اس کو دوسروں پر تقسیم کرنا اور بےحدوحساب بانٹنا بہت ہی بڑی شے ہے اور تمہیں تو بھیجا ہی اس لئے…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 6 یعنی خالص توحید کے قائل ہیں اور یوم آخرت کے ڈر سے معاصی کو ترک کرتے ہیں اور نیک کاموں میں ایک دوسرے سے بڑھ چڑھکر حصہ لیتے ہیں مختصر یہ کہ مذکورہ تمام صفات سے متصف ہیں یہ اصل میں یہود پر طنز ہے کہ ایسے لوگوں کا شمار تو نیکو کار۔ لوگوں میں ہوتا ہے۔ نہ کہ ذلیل اور بد ترین لوگوں میں ( خازن۔ رازی) یعنی اہل کتاب میں سے جو لوگ بھی صفات مذکورہ سے متصف ہوجائیں گے انہیں صرف ان کے نیک اعمال کا ثواب ہی نہیں ملے گا بلکہ اسلام میں داخل ہونے سے قبل کی نیکیوں کا اگر ملے گا ان میں سے ایک وہ شخص ہے جو اپنے نبی پر ایمان لایا اور پھر مجھ (ﷺ) پر (ابن کثیر) نیز دیکھئے سورت قصص آیت 54)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

Explained with ayahs 113–114

(3:113) اناء ۔ اوقات۔ گھڑیاں ۔ انی۔ واحد ۔ وقت کا کچھ حصہ۔ ان ی۔ حروف مادہ۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 113–117

لغات القرآن آیت نمبر 113 تا 117 لیسوا (نہیں ہیں (لیس واحد) امة قائمة (سیدھی راہ پر قائم) اناء اللیل (رات کے اوقات) یسارعون (وہ دوڑتے ہیں) الخیرات (نیک اور بھلے کام) لن یکفروہ (ہرگزوہ محروم نہ کیئے جائیں گے) صر (پالا، سخت ٹھنڈی یا تیز آواز) تشریح : آیت نمبر 113 تا 117 اہل کتاب میں بیشک وہ لوگ ہیں جنہوں نے اللہ کے احکامات کی نافرمانیوں میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی تھی یہی وجہ ہے کہ ان پر ہمیشہ اللہ کا غضب ہی نازل ہوتا رہا لیکن ان میں کچھ لوگ جیسے عبداللہ ابن سلام، ان کے بھائی ، عیسائیوں میں حبشہ کا بادشاہ بجاشی ، اس کے ارکان دولت ، نجران کے بعض عیسائی اور حبش وروم کے بعض عیسائی اب بھی ہیں جنہوں نے…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 113–117

شریعت محمدی پر عمل کرنے کا حکم شان نزول : طبرانی اور ابن ابی حاتم اور ابن مندہ نے حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت کی ہے کہ جب یہود میں سے عبداللہ بن سلام وثعلبہ بن شعبہ اور اسد بن عبد رضوان اللہ علیہم اجمعین اور یہودی لوگ مسلمان ہوئے تو یہود کے علماء نے ان مسلمانوں کی طرح طرح مذمت اپنی قوم کے لوگوں میں کرنی شروع کردی۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے ان مسلمانان اہل کتاب کی تعریف میں ان مسلمانوں کا دل بڑھانے کی غرض سے یہ آیتیں نازل فرمائیں۔ مسند امام احمد بن حنبل میں حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ کی یہ روایت ہے کہ ایک روز آنحضرت ﷺ نے عشاء کی نماز بہت دیر کرکے پڑھی (بعض نے اس سے مراد نماز تہجد لی ہے) اور پھر…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 112–116

[40] یعنی یہود پر [41] یہود کی تاریخ اس پر گواہ ہے۔ [42] یعنی دنیا میں اگر تھوڑا بہت امن و چین نصیب ہوا بھی ہے تو وہ دوسروں کی حمایت و مہربانی کا نتیجہ ہے۔ کہیں کسی مسلم حکومت نے ان کو اللہ کے نام پر امان دے دی اور کہیں کسی غیر مسلم حکومت نے اپنے طور پر انہیں اپنی حمایت میں لے لیا۔ یہی حیثیت اس یہودی ریاست کی ہے جو اسرائیل کے نام سے امریکہ، برطانیہ اور روس کی حمایت سے وجود میں آئی اور ان کے بل بوتے پر اب تک قائم ہے۔ ان کی حمایت ہٹنے کے بعد وہ ایک دن کے لئے بھی قائم نہیں رہ سکتی۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 113–114

ایمان باللہ کے معنی : (ف 2) ان آیات میں بتایا گیا ہے کہ جہاں ایک کتاب میں یہودی ذلت ومسکنت کے عذاب الیم میں گرفتار ہیں ‘ وہاں چند سعید روحیں بھی ہیں جو بدرجہ غایت خدا پرست ہیں ، ان کے دلوں میں ایمان واتقاء کی قندیل روشن ہے ، وہ راتوں کو اٹھ اٹھ کر اللہ کی عبادت میں مصروف رہتے ہیں اور اعلان حق میں ہر آن کوشاں رہتے ہیں ، یہ صالح اور نیک لوگوں کی جماعت ہے ، ان کی نیکیاں محض اس لئے ضائع نہیں ہونگی کہ وہ پہلے یہودی تھے ، خدا علیم بذات الصدور ہے ، وہ خوب جانتا ہے کہ یہ خدا پرست اور متقی ہیں ‘ اس لئے انکی ہر سعی مقبول وماجور ہے ۔ اللہ تعالیٰ کے ہاں تعصب وانتقام کو کوئی دخل نہیں ، کوئی انسان کسی وقت…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

Explained with ayahs 113–114

ف 2 یہ سب اہل کتاب یکساں نہیں ہیں بلکہ ان ہی اہل کتاب میں سے ایک جماعت اور کچھ لوگ وہ بھی ہیں جو دین حق اور سیدھی راہ پر قائم ہیں اور اپنی بات پر جمے ہوئے ہیں یہ لوگ رات کی گھڑیوں اور اوقات شب میں اللہ تعالیٰ کی آیتیں یعنی قرآن کی تلاوت کرتے ہیں اور ان کی حالت یہ ہوتی ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی جناب میں سجدہ ریز ہوتے ہیں یعنی تہجد کی نماز پڑھتے ہیں۔ (تیسیر) مطلب یہ ہے کہ اہل کتاب سب برابر نہیں ہیں بلکہ ان میں سے کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو بالکل سیدھی راہ پر قائم ہیں افراط وتفریط سے پاک ہیں اور اسلام پر جمے ہوئے ہیں جیسے عبد اللہ بن سلام اور ان کے چند ساتھی جو اسلام لے آئے تھے ان ہی کو امۃ قائمۃ…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 113–114

ف 6۔ حاصل آیت کا مدح ہے ان لوگوں کی کہ انہوں نے ان صفات کو اختیار کیا ہے جو کہ اس امت کی خیریت کے اسباب میں سے اس لیے یومنون اور یامرون کو تخصیص کے ساتھ لائے جس کی وجہ سے خیریت میں بھی تصریح تھی ورنہ قائمہ کے عموم میں یہ سب امور داخل ہوگئے تھے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

ان اہل کتاب کے نیک لوگوں کے مزید اوصاف بیان کئے جا رہے ہیں : 220 : اہل کتاب یعنی یہود کی جماعت سے جن لوگوں نے دعوت اسلام قبول کرلی ان کے دوسرے اوصاف سے قرآن کریم کی شہادت اس طرح قائم ہوئی فرمایا ” وہ اللہ پر اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتے ہیں یہ لوگ نیکی کا حکم دیتے ہیں اور برائی سے روکتے ہیں اور بھلائی کے تمام کاموں میں تیز گام ہیں۔ اور بلاشبہ یہ ان لوگوں میں سے ہیں۔ جو نیک کردار ہیں۔ “ ان کے اوصاف و خصوصیات اس جگہ کسی جامعیت و اعجاز کے ساتھ ارشاد فرما دیئے گئے ہیں۔ اس آیت میں ان کے متعلق پہلی بات یہ بتائی کہ وہ ایمان میں کامل ہوں گے۔ اور جو کچھ بھی خرچ کریں گے مقصد صحیح کے ساتھ اور راہ حق…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 113–117

In verse 110, it was said that among the people of the Book there are those who believe, yet most of them are disbelievers. Details appear in the present verse which gives a complementary profile of those who believed from among the people of the Book, and by becoming Muslims, they adopted the distinguishing hallmarks of the Faith that go to make believers the best of communities. Soon after praising those who had embraced Islam from among the people of the Book, the text censures those of them who did not embrace Islam and insisted on retaining their stance of disbelief, not realizing that…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 113–117

91. The term 'harvest' in this parable refers to this life which resembles a field of cultivation the harvest of which one will reap in the World to Come. The 'wind' refers to the superficial appearance of righteousness, for the sake of which unbelievers spend their wealth on philanthropic and charitable causes. The expression 'frost' indicates their lack of true faith and their failure to follow the Divine Laws, as a result of which their entire life has gone astray. By means of this parable God seeks to bring home to them that while wind is useful for the growth of cultivation if that wind…

Read the full tafseer →