Explained with ayahs 113–117
ظلم نہیں سزا
حضرت ابن مسعود ؓ فرماتے ہیں اہل کتاب اور اصحاب محمد ﷺ برابر نہیں، مسند احمد میں ہے رسول اللہ ﷺ نے عشاء کی نماز میں ایک مرتبہ دیر لگا دی پھر جب آئے تو جو اصحاب منتظر تھے ان سے فرمایا کسی دین والا اس وقت تک اللہ کا ذکر نہیں کر رہا مگر صرف تم ہی اللہ کے ذکر میں ہو اس پر یہ آیت نازل ہوئی لیکن اکثر مفسرین کا قول ہے کہ اہل کتاب کے علماء مثلاً حضرت عبداللہ بن سلام حضرت اسد بن عبید، حضرت ثعلبہ بن شعبہ وغیرہ کے بارے میں یہ آیت آئی کہ یہ لوگ ان اہل کتاب میں شامل نہیں جن کی مذمت پہلے گزاری، بلکہ یہ باایمان جماعت امر اللہ پر قائم شریعت محمدیہ کی تابع ہے استقامت و یقین اس میں ہے یہ پاکباز لوگ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 113–117
سورة اٰلِ عِمْرٰن 91
اس مثال میں کھیتی سے مراد یہ کشت حیات ہے جس کی فصل آدمی کو آخرت میں کاٹنی ہے۔ ہوا سے مراد وہ اوپری جزبہ خیر ہے جس کی بنا پر کفار رفاہ عام کے کاموں اور خیرات وغیرہ میں دولت صرف کرتے ہیں۔ اور پالے سے مراد صحیح ایمان اور ضابطہ خداوندی کی پیروی کا فقدان ہے جس کی وجہ سے ان کو پوری زندگی غلط ہو کر رہ گئی ہے۔ اللہ تعالیٰ اس تمثیل سے یہ بتانا چاہتا ہے کہ جس طرح ہوا کھیتیوں کی پرورش کے لیے مفید ہے لیکن اگر اسی ہوا میں پالا ہو تو کھیتی کو پرورش کرنے کے بجائے اسے تباہ کر ڈالتی ہے، اسی طرح خیرات بھی اگرچہ انسان کے مزرعہ آخرت کو پرورش کرنے والی چیز ہے، مگر جب اس کے اندر کفر کا زہر ملا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 113–117
ربط آیات
اوپر اہل کتاب کے متعلق بیان ہوا تھا کہ ان میں کچھ لوگ مسلمان بھی ہیں اور زیادہ کافر ہیں، اسی مضمون کی مزید تفصیل ان آیات میں ہے۔
خلاصہ تفسیر
یہ (اہل کتاب) سب برابر نہیں (بلکہ) ان (ہی) اہل کتاب میں ایک جماعت وہ بھی ہے جو (دین حق پر) قائم ہیں (اور) اللہ کی آیتیں (یعنی قرآن) اوقات شب میں پڑھتے تھے اور وہ نماز بھی پڑھتے ہیں (اور) اللہ پر اور قیامت والے دن پر (پورا پورا) ایمان رکھتے ہیں اور (دوسروں کو) نیک کام بتلاتے ہیں اور بری باتوں سے روکتے ہیں اور نیک کاموں میں دوڑاتے ہیں اور یہ لوگ (اللہ کے نزدیک) شائستہ لوگوں میں (شمار کئے جاتے ہیں) اور یہ لوگ جو نیک کام کریں گے اس (کے ثواب) سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 114–115
تفسیر آیت 114-115: اہل کتاب کا باایمان گروہ : یہ اہل کتاب کے اس گروہ قلیل کا ذکر ہے جو اس اکثریت سے مستثنی ہے جس کا حال اوپر والی آیت میں بیان ہوا ہے۔ فرمایا کہ سب اہل کتاب اسی طرح کے نہیں ہیں جن کا ذکر اوپر ہوا ہے بلکہ ان میں ایک گروہ ایسے لوگوں کا بھی ہے جو اپنے عہد پر قائم، شب بیدار و تہجد گزار، اللہ اور آخرت پر ایمان رکھنے والے، امر بالمعروف و نہی عند المنکر کا فریضہ انجام دینے والے اور نیکی اور بھلائی کے کاموں سبقت کرنے والے ہیں۔ اس گروہ میں وہ لوگ بھی تھے جو علی الاعلان آنحضرت ﷺ پر ایمان لا چکے تھے اور ایسے لوگ بھی تھے جو اگرچہ ان آیات کے نزول کے وقت تک اپنے اسلام کا اعلان نہیں کرسکے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 113–115
115۔ 1 یعنی سارے اہل کتاب ایسے نہیں جن کی مذمت پچھلی آیات میں بیان کی گئی ہے، بلکہ ان میں کچھ اچھے لوگ بھی ہیں، جنہیں اللہ تعالیٰ نے شرف اسلام سے نوازا اور ان میں اہل ایمان وتقویٰ والی خوبیاں پائی جاتی ہیں، رضی اللہ عنھم ورضو عنہ۔ قائمۃ کے معنی ہیں، شریعت کی اطاعت اور نبی کریم ﷺ کا اتباع کرنے والی، یسجدون کا مطلب رات کو قیام کرتے یعنی تہجد پڑھتے اور نمازوں میں تلاوت کرتے ہیں۔ اس مقام پر امر بالمعروف کے معنی بعض نے یہ کئے ہیں کہ وہ نبی ﷺ پر ایمان لانے کا حکم دیتے اور آپ ﷺ کی مخالفت کرنے سے روکتے ہیں۔ اسی گروہ کا ذکر آگے بھی کیا گیا ہے (وَاِنَّ مِنْ اَھْلِ الْكِتٰبِ لَمَنْ يُّؤْمِنُ باللّٰهِ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 114–117
تشریح : کافر لوگ جو کچھ خیرات کرتے ہیں اللہ تعالیٰ اس کا صلہ انہیں دنیا ہی میں دے دیتے ہیں ان کے کفر کی وجہ سے، اس کا ثواب آخرت میں نہیں ملتا، لہذا ان کے خیراتی اعمال کی مثال ایک کھیتی کی ہے اور ان کے کفر کی مثال اس تیز آندھی کی ہے جس میں پالا بھی ہو اور وہ اچھی خاصی کھیتی کو برباد کرڈالے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 113–115
یہ اہل کتاب مومنین کی ایک روشن تصویر ہے ۔ ان میں سے بعض لوگوں نے سچائی کے ساتھ ایمان قبول کیا اور یہ ایمان ان کے دلوں میں گہرائی تک اتر گیا ۔ پھر یہ ایمان پوری طرح کامل اور شامل تھا ۔ یہ لوگ اسلامی صفوں میں شامل ہوگئے اور دین اسلام کے محافظ بن گئے ۔ اللہ اور روز قیامت پر ایمان لے آئے ۔ انہوں نے ایمان کے تقاضے پورے کئے ‘ اور جس امت کا وہ جزء بن گئے تھے ‘ اس کی اساسی خصوصیت کے مطابق کام شروع کردیا ‘ یعنی یہ خصوصیت کہ وہ خیر امت ہے ۔ وہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے فریضے پر کاربند ہوگئے ‘ اس سے پہلے بھھی ان کے نفوس خیر طلب تھے ‘ انہوں نے بھلائی کے میدان میں ایک دوسرے کی مسابقت کی ۔ ایک…
Read the full tafseer →3 بلکہ دگنا اجر ملے گا۔ جیسا کہ دوسری جگہ ارشاد ہوا۔ (اُولٰۗىِٕكَ يُؤْتَوْنَ اَجْرَهُمْ مَّرَّتَيْنِ بِمَا صَبَرُوْا) 28 ۔ القصص :54) اور حدیث صحیح میں نبی کریم ﷺ نے اس کی تشریح فرما دی۔
4 اسی لئے جب یہود کی برائیوں کا ذکر آتا ہے حق تعالیٰ ان پرہیزگاروں کو مستثنیٰ کردیتا ہے اور پرہیزگاری کے موافق دنیا و آخرت میں ان کے ساتھ معاملہ بھی بالکل ممتاز کیا جائے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 113–116
آیت 113 لَیْسُوْا سَوَآءً ط۔
ان میں اچھے بھی ہیں ‘ برے بھی ہیں۔
مِنْ اَہْلِ الْکِتٰبِ اُمَّۃٌ قَآءِمَۃٌ یَّتْلُوْنَ اٰیٰتِ اللّٰہِ اٰنَاءَ الَّیْلِ وَہُمْ یَسْجُدُوْنَ ۔
رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں خاص طور پر عیسائی راہبوں کی ایک کثیر تعداد اس کردار کی حامل تھی۔ ان ہی میں سے ایک بحیرہ راہب تھا جس نے بچپن میں آنحضور ﷺ کو پہچان لیا تھا۔ یہود میں بھی اکا دکا لوگ اس طرح کے باقی ہوں گے ‘ لیکن اکثر و بیشتر یہود میں سے یہ کردار ختم ہوچکا تھا ‘ البتہ عیسائیوں میں ایسے لوگ بکثرت موجود تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 115–116
104 یعنی اہل کتاب کے منصف مزاج لوگ جو اسلام لے آئے ہیں۔ ان کے اسلام لانے سے پہلے کے اچھے کاموں کا انہیں بدلہ دیا جائے گا۔ کیونکہ اسلام لانے کے دو فائدے ہیں اور وہ احادیث صحیحہ سے ثابت ہیں۔ ایک یہ کہ اسلام لانے سے پہلے کے گناہ معاف کردیئے جاتے ہیں اور دوسرا یہ کہ اسلام لانے سے پہلے نیک اعمال برقرار رکھے جاتے ہیں، یعنی دور کفر کے اچھے کاموں کا بھی انہیں ثواب عطا کیا جائے گا۔ اور کافروں کا معاملہ اس کے برعکس ہوتا ہے۔ یعنی ان کی نیکیاں برباد اور گناہ لازم ہوتے ہیں۔
Read the full tafseer →238 ۔ (اور چونکہ یہ پرہیزگار ہیں، اس لیے انہیں بھی خوب جانتا ہے) یہ خیال نہ گزرے کہ کوئی متقی اللہ تعالیٰ کے علم میں آجانے سے رہ جائے گا۔ غیر قوموں کے عقائد کی تردید کے لیے اس جزء کا اضافہ ضروری تھا۔ (آیت) ” فلن یکفروہ “۔ یعنی کہیں نہ سمجھ لینا کہ جب ماضی خراب رہ چکا ہے تو اب نجات ومغفرت کی امید ہی کیا اور اب ایمان وحسن عمل سے حاصل کیا ؟ غیر مذہب والوں نے ایسے ہی عقائد گڑھ رکھے تھے۔ اس لیے تنبیہ ضروری تھی ، (آیت) ” یکفروہ “ میں ضمیر عمل خیر کے اجر وثواب کی جانب ہے۔ ای لن تجحدوا ثوابہ (قرطبی) ای لن تمنعوا ثوابہ وجزاۂ (کبیر)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 114–117
مَثَلُ مَایُنْفِقُوْنَ فِیْ ھٰذِہِ الْحَیَاۃِ الدُّنْیَا (الآیۃ) ایک عام فہم اور ظاہر مثال سے یہ سمجھایا گیا ہے کہ قیامت کے دن کافروں کے نہ کچھ مال کام آئے گا اور نہ اولاد حتیٰ کہ رفاہی اور ظاہری بھلائی کے کاموں پر جو خرچ کرتے ہیں وہ بھی بےکار ہوجائیں گے اور ان کی مثال اس سخت پالے کی سی ہے جوہری بھری کھیتی کو جلا کر خاکستر کردیتا ہے ظالم اس کھیتی کو دیکھ کر خوش ہو رہے ہوتے ہیں اور اس سے نفع کی امید رکھتے ہیں کہ اچانک ان کی امیدیں خاک میں مل جاتی ہیں۔ اس مثال میں کھیتی سے مراد کشت حیات ہے جس کی فصل آدمی کو آخرت میں کاٹنی ہے۔ (الدنیا مزرعۃ الآخرۃ) ۔ ” ہوا “ سے مراد اوپرہ جذبہ خیر ہے جس کی بنا…
Read the full tafseer →و ما یفعلوا من خیر فلن یکفروہ وہ جو نیکی کریں گے اس کی ناقدری نہیں کی جائے گی یعنی ہم نہ اس نیکی کو گھٹائیں گے، نہ ثواب میں کمی کریں گے۔ جس طرح تکمیل ثواب کو شکر کہا گیا ہے اسی طرح ثواب سے محرومی یا ثواب کے نقصان کو ناشکری فرمایا۔
وا اللہ علیم بالمتقین اور اللہ تقویٰ والوں سے خوب واقف ہے یہ جملہ متقیوں کے لیے بشارت بھی ہے اور ناقدری نہ ہونے کی علت بھی کیونکہ کریم کا اپنے بندہ کی نیکیوں کو جان لینا ہی اچھا بدلہ عطا فرمانے کی علت ہے اس آیت میں تنبیہ ہے اس امر پر کہ اوصاف مذکورہ سے جو لوگ متصف ہیں وہ صالح بھی ہیں اور متقی بھی۔
Read the full tafseer →(115) عبداللہ بن سلام ؓ اور ان کے ساتھی مذکورہ باتوں میں سے جو بھی نیکیاں یارسول اکرم ﷺ اور آپ کے صحابہ کرام ؓ کے ساتھ جو بھی احسان کریں گے اس کے ثواب سے محروم نہیں کیے جائیں گئے، بلکہ ان حضرات کو اس کا ثواب ضرور ملے گا اور جو حضرات کفر وشرک اور تمام فواحش سے بچتے ہیں جیسے حضرت عبدد اللہ بن سلام ؓ اور ان کے ساتھی تو اللہ تعالیٰ ان کو خوب جانتا ہے۔
Read the full tafseer →وَمَا يَفْعَلُوْا مِنْ خَيْرٍ۔۔ : یعنی اہل کتاب میں سے جو لوگ بھی صفات مذکورہ سے متصف ہوجائیں گے انھیں صرف ان کے نیک اعمال کا ثواب ہی نہیں ملے گا بلکہ اسلام میں داخل ہونے سے قبل کی نیکیوں کا اجر بھی حاصل ہوگا۔ جیسا کہ ایک حدیث میں ہے : ”تین آدمیوں کو دوہرا اجر ملے گا، ان میں سے ایک اہل کتاب میں سے وہ شخص ہے جو اپنے نبی پر ایمان لایا اور پھر مجھ پر بھی، تو اسے دو اجر ملیں گے، دوسرا وہ غلام جو کسی کی ملکیت میں ہے، اللہ کا حق ادا کرتا ہے اور اپنے مالکوں کا بھی، اس کے لیے بھی دو اجر ہیں اور تیسرا وہ آدمی جس نے اپنی لونڈی کو ادب سکھایا اور اچھا ادب سکھایا، پھر اسے آزاد کر کے اس سے نکاح کرلیا تو اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 112–115
آیت نمبر : 112 تا 115۔
قولہ تعالیٰ (آیت) ” ضربت علیہم الذلۃ “۔ یعنی جہاں کہیں یہ پائے گئے اور یہ ملے، کلام مکمل ہوا اور ان پر ذلت مسلط کرنے کا معنی سورة البقرہ میں گزر چکا ہے۔
(آیت) ” الابحبل من اللہ “۔ یہ استثنا منقطع ہے یہ اول کا جز نہیں ہے، یعنی بجز ان کے جو اللہ تعالیٰ سے عہد کو مضبوط کرتے ہیں، (آیت) ” وحبل من الناس “۔ مراد وہ ذمہ داری (معاہدہ) ہے جو لوگوں کی جانب سے ان پر ہے، اور (آیت) ” الناس “ سے مراد حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ اور وہ مومنین ہیں جنہیں وہ خراج ادا کرتے ہیں اور وہ انہیں امن اور پناہ دیتے ہیں، کلام میں اختصار ہے اور معنی یہ ہے : ” الاان یعتصموا بحبل امن اللہ “۔ پھر اس سے فعل کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 114–117
(1) عبد بن حمید، ابن جریر، ابن ابی حاتم اور ابن المنذر نے مجاہد (رح) سے لفظ آیت ” مثل ما ینفقون فی ھذہ الحیوۃ الدنیا “ کے بارے میں روایت کیا ہے کہ یہ دنیا میں کافر کے خرچ کرنے کی مثال ہے۔
(2) ابن جریر وابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا ہے کہ مثال اس چیز کی جو مشرک خرچ کرتے ہیں اور ان سے قبول نہیں کیا جاتا جیسے مثال اس کھیتی کی جب ایک ظالم قوم نے اس کو بویا پھر اس کو ایسی ہوا پہنچ گئی جس میں سخت سردی تھی جس نے اس کو ملیا میٹ کردیا پس اسی طرھ ان مشرکوں نے جو مال خرچ کیا شرک نے اس کو ہلاک کردیا۔
(3) سعید بن منصور، فریابی، عبد بن حمید، ابن جریر، ابن المنذر اور ابن ابی حاتم…
Read the full tafseer →[وَمَا : اور جو (بھی)] [یَـفْعَلُوْا : وہ لوگ کریں گے ] [مِنْ خَیْرٍ : کسی قسم کی کوئی بھلائی ] [فَلَنْ یُّــکْفَرُوْہُ : تو ان سے ہرگز ناقدری نہیں کی جائے گی اس کی ] [ وَاللّٰہُ : اور اللہ ] [عَلِیْمٌ : جاننے والا ہے ] [بِالْمُتَّقِیْنَ : تقویٰ اختیار کرنے والوں کو ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 111–115
یہود کی ذلت اور مسکنت
زمانہ نبوت میں یہودیوں کی دشمنی ظاہراً بھی تھی اور پوشیدہ بھی تھی مسلمانوں کو ان سے تکلیف پہنچتی رہتی تھی، خطرہ تھا کہ کوئی ایسی کاروائی نہ کر بیٹھیں جس سے زیادہ تکلیف پہنچ جائے۔ بلکہ رؤسا یہود نے حضرت عبداللہ بن سلام اور ان عوام کو جو یہودیت چھوڑ کر اسلام میں داخل ہوگئے تھے۔ زبانی طور پر ایذا دینے کا سلسلہ شروع بھی کردیا تھا۔ اللہ جل شانہٗ نے مسلمانوں کے اس خطرہ کو دور فرما دیا۔ اور فرمایا کہ یہ لوگ تمہیں بس ذرا سی تکلیف پہنچا سکیں گے اور اگر انہوں نے جنگ چھیڑی تو پشت پھیر کر بھاگ جائیں گے، پھر یہودیوں کی حالت مغضوبیت بیان فرمائی کہ ان پر ذلت کی چھاپ مار دی گئی جہاں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 102–117
قال تعالی۔ یا ایھا الذین۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تا۔۔۔۔ ترجع الامور۔ آیت۔
ربط) گزشتہ آیات میں اللہ نے باہمی قتال وشقاق کو تکفرون یعنی کفر سے تعبیر فرمایا اب آئندہ آیت میں تقوی اور اعتصام بحبل اللہ یعنی اتفاق اور اتحاد اور اسلامی مواخات کا حکم دیتے ہیں اور اتفاق اور اتحاد کا ایک دستور العمل بتلاتے ہیں وہ یہ کہ اول تقوی اور اسلام پر مداومت اور استقامت کا حکم دیا اور پھر اعتصام بحبل اللہ کا حکم فرمایا کہ سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوط پکڑو پھر یہ ارشاد فرمایا، واذکر نعمتہ اللہ علیکم۔ الخ۔ آیت۔ جس میں حکم دیا کہ اتفاق اور اتحاد کی نعمت کو یاد کرو، اور اس نعمت کو اور اس کی برکات کو یاد کرکے موازنہ کرو کہ پہلے…
Read the full tafseer →173 ایمان لانے کے بعد وہ جو بھی نیک عمل بجا لائیں گے اس کے اجر وثواب سے وہ محروم نہیں رہیں گے بلکہ ان کے اعمال کا پورا پورا بدلہ ملے گا۔ اور ان کا سابقہ کفر اور ان کے گذشتہ برے اعمال اس پر اثر انداز نہیں ہوں گے۔ ای لن یحرموا ثوابہ البتۃ (روح ص 35 ج 4) وَمَا تَفْعَلُوْا مِنْ خَیْرٍ ٍ فَلَنْ تحجدو ثوابہ بل یشکر لکم وتجازون علیہ (قرطبی ص 177 ج 4) وَاللہُ عَلِیْمٌ بِالْمُتَّقِیْنَ ۔ پرہیز گار لوگ اللہ سے چھپے ہوئے نہیوں وہ ان کی نیکی اور پرہیز گاری کی ضرور جزاء ملے گا۔ اس میں متقین کے لیے اخروی جزا کا وعدہ ہے۔ ومعنی علیھم بھم انہ مجازیھم علی تقواھم وفی ذالک وعد للمقتین ووعید للمفرطین (بحر ص 36 ج…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 112–115
ربط آیات :
گزشتہ درس میں بیان ہوچکا ہے۔ کہ جس طرح حضور نبی کریم ﷺ تمام انبیاء سے افضل ہیں ، اسی طرح آپ کی امت بھی تمام امتوں سے افضل ہے۔ اللہ تعالیٰ کے علم ازلی میں بھی یہ چیز موجود ہے۔ اور لوح محفوظ میں بھی درج ہے۔ اس کے بعد اہل کتاب سے شکوہ کیا گیا اگر وہ نبی آخر الزمان پر ایمان لے آتے ، تو بہترین امت میں شامل ہوجاتے ، اور یہ ان کے لیے بہتر ہوتا ، مگر وہ اپنے باطل عقیدے پر اڑے رہے۔ پھر فرمایا کہ ان میں سے کچھ ایمان والے بھی ہیں مگر اکثر نافرمان ہیں۔ پھر اہل ایمان کو تسلی دی گئی کہ ان سے کوئی خطرہ محسوس نہ کرو۔ یہ لوگ تمہیں زبانی حد تک تو ستائیں گے مگر تمہارا کوئی نقصان نہ کرسکیں گے۔ اگر…
Read the full tafseer →وَمَا يَفْعَلُوْا مِنْ خَيْرٍ فَلَنْ يُّكْفَرُوْہُ 0 ۭ وَاللہُ عَلِيْمٌۢ بِالْمُتَّقِيْنَ 115
فعل
الفِعْلُ : التأثير من جهة مؤثّر، وهو عامّ لما کان بإجادة أو غير إجادة، ولما کان بعلم أو غير علم، وقصد أو غير قصد، ولما کان من الإنسان والحیوان والجمادات، والعمل مثله،
(ع ل ) الفعل
کے معنی کسی اثر انداز کی طرف سے اثر اندازی کے ہیں ۔ عام اس سے کہ وہ تاثیر عمدگی کے ساتھ ہو یا بغیر عمدگی کے ہو اور علم سے ہو یا بغیر علم کے قصدا کی جائے یا بغیر قصد کے پھر وہ تاثیر انسان کی طرف سے ہو یا دو سے حیوانات اور جمادات کی طرف سے ہو یہی معنی لفظ عمل کے ہیں ۔
كفر
الكُفْرُ في اللّغة : ستر الشیء، ووصف اللیل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 113–116
ترکیب : لیسوا کا اسم ضمیر سوا خبر امۃ موصوف قائمۃ صفت مجموعہ مبتدا من اھل الکتاب خبر یتلون اور یومنون وغیرہ حال بھی ہوسکتے ہیں اور جملہ مستانفہ بھی یکفروہ اس کا تعدیہ دو مفعولوں کی طرف ہے یعنی حرمان کی وجہ سے۔
تفسیر : پہلی آیت میں اہل کتاب کی نسبت یہ تھا منہم المؤمنون و اکثرھم الفاسقون یہاں اس جملہ کے زیادہ تر تشریح فرماتا ہے تاکہ اہل کتاب کو بھی خدا کی فرمانبرداری کی طرف رغبت ہو کہ سب اہل کتاب بھی برابر نہیں ٗ ان میں بھی ایک گروہ ایسا ہے کہ جو سیدھے رستہ پر ہے۔ وہ رات بھر آیات الٰہی پڑھتے اور سجدہ کرتے ہیں اور ان کا اللہ اور قیامت کے دن پر ایمان ہے اور وہ اچھی باتوں کا حکم دیتے اور بری…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 113–115
لَیْسُوْا سَوَآئً ط مِنْ اَہْلِ الْـکِتٰبِ اُمَّۃٌ قَآئِمَۃٌ یَّتْلُوْنَ اٰیٰتِ اللّٰہِ اٰنَآئَ الَّیْلِ وَہُمْ یُسْجُدُوْنَ ۔ یُؤْمِنُوْنَ بِااللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَیَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَیَنْہَوْنَ عَنِ الْمُنْـکَرِ وَیُسَارِعُوْنَ فِی الْخَیْرٰتِ ط وَاُوْلٰٓئِکَ مِنَ الصّٰلِحِیْنَ ۔ وَمَا یَفْعَلُوْا مِنْ خَیْرٍ فَلَنْ یُّـکْفَرُوْہُ ط وَاللّٰہُ عَلِیْمٌ م بِالْمُتَّقِیْنَ ۔
(سب یکساں نہیں، اہل کتاب میں سے ایک گروہ اپنے عہد پر قائم ہے۔ یہ تلاوت کرتے ہیں اللہ کی آیتوں کی رات کے اوقات میں اور وہ سجدے کرتے ہیں۔ وہ اللہ پر اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتے ہیں اور معروف کا حکم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 114–116
فہم القرآن
ربط کلام : اہل ایمان کے بعد اہل کفر کا انجام ذکر ہوتا ہے۔ اسلام کے مخالف اپنی انا کی خاطر مسلمانوں کے خلاف مال بھی خرچ کرتے ہیں۔ انہیں اس خرچ کرنے کی حقیقت سے آگاہ کیا گیا ہے کہ بالآخر اس کا انجام کیا ہوگا۔
صاحب ایمان اور صالح کردار لوگوں کی ہرگز ناقدری نہیں ہوگی۔ اس کے برعکس جن لوگوں نے کفر کا رویّہ اختیار کیا ان کے مال اور اولادربِّ ذوالجلال کے ہاں انہیں کچھ فائدہ نہیں دے سکیں گے۔ کفار اور اہل کتاب رسول معظم ﷺ اور صحابہ کرام ؓ کو غریبی کے طعنے دیتے ہوئے کہا کرتے تھے کہ اگر آپ لوگ سچے ہوتے تو اللہ تعالیٰ ضرور تمہیں دنیا کے اسباب سے مالا مال کرتا۔ اگر ہم اس کی بارگاہ میں غلط ہوتے…
Read the full tafseer →خیر کے بدلے سے کبھی محرومی نہیں :
115: وَمَا یَفْعَلُوْا مِنْ خَیْرٍ فَلَنْ یُّکْفَرُوْہُ وَاللّٰہُ عَلِیْمٌم بِالْمُتَّقِیْنَ ۔ (جو بھی وہ بھلائی کریں اس کی ناقدری نہ کی جائے گی)
نحو، قراءت : یَفْعَلُوْا اور یُّکْفَرُوْا دونوں میں یا پڑھی کوفی نے سوائے ابوبکر کے ابو عمرو نے یا اور تا میں اختیار دیا۔ باقی تمام قراء نے تا سے پڑھا ہے۔ یُّکْفَرُوْہُ یہ دو مفعولوں کی طرف متعدی ہوتا ہے۔ اور اگر شکر اور کفر ایک دوسرے کے مقابل آجائیں تو پھر ایک مفعول کی طرف متعدی ہوتے ہیں۔ مثلاً کہیں گے شکر النعمۃ وکفر ھا کیونکہ اس صورت میں یہ محرومی کے معنی کو متضمن ہوتا ہے۔ گویا یوں کہا گیا لن تحرموہ یعنی تم اسکے…
Read the full tafseer →(تفسیر) 115۔:
(آیت)” وما یفعلوا من خیر فلن یکفروہ “۔ حمزہ ، کسائی اور امام حفص (رح) ، کے نزدیک ” یفعلوا “ ہے، اس صورت میں یہ امۃ قائمۃ کی خبر دینا مقصود ہے اور دوسرے قراء نے ” تفعلوا “ تاء کے ساتھ پڑھا ہے ، اس صورت میں ” کنتم خیر امۃ “ پر عطف ہوگا ، ابو عمرو نے دونوں قراتیں تلاوت فرمائیں ، اسی آیت کا معنی یہ ہے کہ جو نیکی تم کرو گے ہم اس کے ثواب کو گھٹائیں گے نہیں بلکہ تم اس پر شکر اختیار کرو اور اس پر تمہیں بدلہ دیا جائے گا (آیت)” واللہ علیم بالمتقین “۔ متقین سے مراد مؤمنین ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 113–117
(113 ۔ 117) ۔ طبرانی اور ابن ابی حاتم اور ابن مندہ نے حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے روایت کی ہے کہ جب یہود میں سے عبد اللہ بن سلام و ثعلبہ بن شعبہ اور اسد بن عبد اور یہودی لوگ مسلمان ہوئے تو یہودی علماء نے ان مسلمانوں کی طرح طرح کی مذمت اپنی قوم کے لوگوں میں کرنی شروع کردی۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے ان مسلمان اہل کتاب کی تعریف میں ان مسلمانوں کا دل بڑہانے کی غرض سے یہ آیتیں نازل فرمائی 2۔ اور بعض مفسرین نے یہ شان نزول ان آیات کی جو بیان کی ہے کہ امت محمد ﷺ یہ اور اہل کتاب کے برابر نہ ہونے اور امت محمد ﷺ یہ کی تعریف میں یہ آیات نازل ہوئی ہیں اور مسند امام احمد بن حنبل میں حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 115–116
آیت 115
جب اللہ تعالیٰ نے اہل کتاب کے فاسق گروہ کا ذکر کیا، ان کی بداعمالیاں اور ان کیسزائیں بیان کیں، تو ان آیات میں حق پر قائم رہنے والی جماعت کا ذکر فرمایا، ان کے نیک اعمال اور ان کا ثواب ذکر فرمایا اور یہ بتایا کہ اللہ کے نزدیک یہ دونوں گروہ برابر نہیں بلکہ ان کے درمیان اتنا زیادہ فرق ہے کہ بیان نہیں کیا جاسکتا۔ اس فاسق گروہ کا ذکر تو پہلے ہوچکا۔ باقی رہے یہ مومن، تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ان میں (امۃ قآئمۃ) ایک جماعت اللہ کی تلاوت بھی کرتے ہیں اور سجدے بھی کرتے ہیں “ یہ رات کے اوقات میں ادا کی جانے والی ان کی نمازوں کا بیان ہے کہ وہ طویل تہجد پڑھتے ہیں اور اپنے رب کے کلام کی تلاوت کرتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 115–118
ذمیوں سے استعانت کا بیان
قول باری ہے (یایھا الذین امنوالاتتخذوابطانۃ من دونکم لایألونکم خبالاؤدواماعنتم قدبدت البخضاء من افواھھم وماتخفی صدورھم اکبر، اے ایمان والو ! اپنی جماعت کے لوگوں کے سوادوسروں کو اپنا رازدانہ بناؤ۔ وہ تمہاری خرابی کے کسی موقعہ سے فائد ہ اٹھانے سے نہیں چوکتے۔ تمہیں جس چیز سے نقصان پہنچے وہی ان کو محبوب ہے۔ ان کے دل کا بعض ان کے منہ سے نکلاپڑتا ہے اور جو کچھ وہ اپنے سینوں میں چھپائے پھرتے ہیں وہ اس سے شدید تر ہے ) ابوبکرجصاص کہتے ہیں کہ انسان کا بطانہ، ان لوگوں کو کہاجاتا ہے جو اس کے خاص ہوتے ہیں اور اس پر اپنا حکم چلاسکتے ہیں نیز جن پر وہ اپنے معاملات میں بھروسہ کرسکتا…
Read the full tafseer →238 خوش خصال لوگوں کے لیے خاص خوشخبری : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ایسے لوگ جو بھی کوئی نیکی کریں گے اس کی ناقدری نہیں کی جائے گی بلکہ ایسے خوش نصیب حضرات کو تو دوہرے اجر سے نوازا جائے گا۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ان کے بارے میں ارشاد فرمایا گیا ہے { اُولٓئِکَ یُؤْتُوْنَ اَجْرَہُمْ مَّرَّتِیْن بِمَا صَبَرُوْا } الآیۃ (القصص 54) اور نبیٔ امُّیّ ۔ عَلَیْہ الصّٰلوۃُ والتسلیم ۔ نے بھی احادیث صحیحہ میں اس کی خبر دی ہے کہ اہل کتاب میں سے جو لوگ صدق دل سے نبی آخر الزماں پر ایمان لائیں گے ان کو دوہرے اجر وثواب سے نوازا جائے گا۔ بہرکیف ایسے صادق الایمان اور نیک بخت لوگوں کے لئے ارشاد فرمایا گیا کہ یہ صالح…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 113–115
نیک اور عبادت گزار اہل کتاب
تشریح : ان آیات میں یہود و نصارٰی کی ان چھوٹی جماعتوں کا ذکر ہے جو عام اہل کتاب سے ذرا ہٹ کر ہیں ان کی تعریف اللہ رب العزت ان الفاظ میں بیان کرتے ہیں کہ وہ سیدھی راہ پر قائم ہیں، رات کے وقت خشوع و خضوع سے عبادت کرتے ہیں، سجدے کرتے ہیں، اللہ پر ایمان لاتے ہیں، آخرت پر ایمان لاتے ہیں، نیکی کا حکم دیتے ہیں، برائی سے منع کرتے ہیں اور نیک راستوں کی طرف پوری کوشش اور خلوص و محبت سے جلدی کرتے ہیں، یعنی کوئی بھی نیک کام اگر ان کو نظر آئے وہ اس کی طرف خوشی سے لپکتے ہیں یہ تمام صفات ایک ایسے گروہ یا انسان کی ہیں جو مضبوطی سے ایمان کی راہ اختیار کرتا ہے۔ آل عمران کی آیت 112…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 110–120
آیات 110- 120
اسرارو معارف
کنتم خیرامۃ……………واکثرھم الفسقون۔
تم سب سے اچھی امت ہو کہ آقائے نامدار ﷺ خیرالرسل ہیں اور قرآن کریم سب کتابوں سے اعلیٰ و افضل کتاب ہے۔ تم لوگ جنہیں آپ ﷺ سے نسبت حاصل ہے۔ اور اس کی برکت سے کتاب اللہ کو سمجھنے کی سعادت حاصل ہوئی ہے ایک ایسی سعادت ہے کہ ارشاد ہوا۔ اتممت علیکم نعمتی۔ کہ میں نے اپنی نعمت تم پر تمام کردی۔ تم ہی بہترین لوگ ہو۔
اتمام نعمت ایک ایسی عطا ہے جس کی حدود متعین کرنا انسان کے بس کی بات نہیں ہے اور اس پر مزید یہ کہ نعمت کا حصول بھی بیشک بہت بڑی بات ہے مگر اس کو دوسروں پر تقسیم کرنا اور بےحدوحساب بانٹنا بہت ہی بڑی شے ہے اور تمہیں تو بھیجا ہی اس لئے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 115–117
ف 8 یعنی جو مال خرچ کیا اور اللہ تعالیٰ کی رضا پر نہ دیا آخرتے میں دیا نہ دیا برابر ہے ْ ۔ ( موضح) اوپر کی آیات میں مومن اور متقی کے نیک اعمال کا انجام ذکر فرمایا ہے کہ ان کی ادنی نیکی بھی ضائع نہیں ہوگی بلکہ اس کا پورا پورا بدلہ ملے گا اب اس آیت میں کافر کے صدقہ و خیرات اور رفاہی کاموں کو آخرت میں بےفائدہ اور ضائع ہونے کے اعتبار سے ظالم کی اس کھتی سے تشبیہ دی ہے جو دیکھنے میں سرسبز و شاداب نظر آئے لیکن یکایک سرد ہوا چلے اور اسے تباہ و برباد کر کے رکھ دے یہی حال کفار کے صدقہ و خیرات کا ہے۔ وہ چونکہ ایمان واخلاص کی دولت سے محروم ہیں اسے لیے آخرت میں ان کے اعمال تباہ و برباد ہوجائیں گے اور…
Read the full tafseer →(3:115) فلن یکفروہ۔ تو اس کار خیر سے انکار نہیں کیا جائے گا۔ یعنی اس کار خیر کا ان کو اجردیا جائے گا۔ مضارع مجہول۔ نفی تاکید بلن۔ صیغہ جمع مذکر غائب۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 113–117
لغات القرآن آیت نمبر 113 تا 117
لیسوا (نہیں ہیں (لیس واحد) امة قائمة (سیدھی راہ پر قائم) اناء اللیل (رات کے اوقات) یسارعون (وہ دوڑتے ہیں) الخیرات (نیک اور بھلے کام) لن یکفروہ (ہرگزوہ محروم نہ کیئے جائیں گے) صر (پالا، سخت ٹھنڈی یا تیز آواز)
تشریح : آیت نمبر 113 تا 117
اہل کتاب میں بیشک وہ لوگ ہیں جنہوں نے اللہ کے احکامات کی نافرمانیوں میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی تھی یہی وجہ ہے کہ ان پر ہمیشہ اللہ کا غضب ہی نازل ہوتا رہا لیکن ان میں کچھ لوگ جیسے عبداللہ ابن سلام، ان کے بھائی ، عیسائیوں میں حبشہ کا بادشاہ بجاشی ، اس کے ارکان دولت ، نجران کے بعض عیسائی اور حبش وروم کے بعض عیسائی اب بھی ہیں جنہوں نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 113–117
شریعت محمدی پر عمل کرنے کا حکم
شان نزول : طبرانی اور ابن ابی حاتم اور ابن مندہ نے حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت کی ہے کہ جب یہود میں سے عبداللہ بن سلام وثعلبہ بن شعبہ اور اسد بن عبد رضوان اللہ علیہم اجمعین اور یہودی لوگ مسلمان ہوئے تو یہود کے علماء نے ان مسلمانوں کی طرح طرح مذمت اپنی قوم کے لوگوں میں کرنی شروع کردی۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے ان مسلمانان اہل کتاب کی تعریف میں ان مسلمانوں کا دل بڑھانے کی غرض سے یہ آیتیں نازل فرمائیں۔ مسند امام احمد بن حنبل میں حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ کی یہ روایت ہے کہ ایک روز آنحضرت ﷺ نے عشاء کی نماز بہت دیر کرکے پڑھی (بعض نے اس سے مراد نماز تہجد لی ہے) اور پھر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 112–116
[40] یعنی یہود پر
[41] یہود کی تاریخ اس پر گواہ ہے۔
[42] یعنی دنیا میں اگر تھوڑا بہت امن و چین نصیب ہوا بھی ہے تو وہ دوسروں کی حمایت و مہربانی کا نتیجہ ہے۔ کہیں کسی مسلم حکومت نے ان کو اللہ کے نام پر امان دے دی اور کہیں کسی غیر مسلم حکومت نے اپنے طور پر انہیں اپنی حمایت میں لے لیا۔ یہی حیثیت اس یہودی ریاست کی ہے جو اسرائیل کے نام سے امریکہ، برطانیہ اور روس کی حمایت سے وجود میں آئی اور ان کے بل بوتے پر اب تک قائم ہے۔ ان کی حمایت ہٹنے کے بعد وہ ایک دن کے لئے بھی قائم نہیں رہ سکتی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 115–116
(ف 1) قریش مکہ کے بڑے بڑے رئیسوں کو اور بنو نضیر کے بڑے بڑے مہاجنوں کو مال و دولت کی کثرت اور اہل و عیال کی فراخ بالی پر بڑا ناز تھا اور انہیں مسلمان نہایت ذلیل نظر آتے تھے ، وہ کہتے تھے جو یہاں اللہ کی نعمتوں سے محروم ہیں ، انہیں قیامت کے دن کیا ملے گا ؟ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں بتایا ہے کہ مال و دولت کی فراوانی وہاں کام نہیں آئے گی اور نہ اولاد و عیال خدا کے عتاب سے چھڑا سکیں گے ، وہاں اعمال حسنہ ہی پونجی سمجھی جائے گی اور وہ ان کے پاس ہے نہیں ۔
حل لغات :
ریح : ہوا ۔ صر : تیز سردی ، ٹھنڈک ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 115–116
ف 3 یہ لوگ اللہ تعالیٰ پر اور قیامت کے دن پر پوری طرح ایمان رکھتے ہیں اور دوسرے لوگوں کو اچھے کاموں کی ترغیب دیتے ہیں اور نیک کام کرنے کو کہتے ہیں اور برے کاموں سے منع کرتے اور روکتے ہیں اور بھلائی کے کاموں میں دوڑتے اور جلدی کرتے ہیں اور ہمیشہ سرگرم رہتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک یہ مذکورہ حضرات نیک اور شائستہ لوگوں میں سے ہیں اور یہ لوگ جو نیک کام بھی کریں گے اس کی ناقدری نہیں کی جائے گی اور اس کے ثواب سے یہ لوگ محروم نہیں کئے جائیں گے اور اس ناقدری اور محرومی کا بھلا احتمال ہی کب ہوسکتا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ پرہیز گاروں اور متقیوں کو خوب جانتا ہے۔ (تیسیر)
مطلب یہ ہے کہ امت قائمہ جس کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 115–118
ف 1۔ یہاں جو غیر مذہب والوں سے خصوصیت کی ممانعت فرمائی ہے اس میں یہ بھی داخل ہے کہ ان کو اپنا ہمراز بنایا جائے اور اس میں یہ بھی داخل ہے کہ اپنے خاص امور انتظامی میں ان کو داخل دیا جائے۔
Read the full tafseer →ان لوگوں نے جو نیک اعمال کئے ہیں ان کی ناقدری نہیں کی جائے گی :
221: فرمایا یہ خیال نہ کرو کہ کوئی متقی اللہ تعالیٰ کے علم میں آجانے سے رہ جائے گا۔ یہ ممکن نہیں ہو سکتا پھر یہاں غیر قوموں کے عقائد کی تردید کے لئے اس جملہ کا اضافہ فرما دیا کہ ” فَاِن یَکفُر وہ “ یعنی کہیں یہ نہ سمجھ لینا کہ جن لوگوں کا ماضی خراب رہ چکا ہے تو اب ان کے نجات و مغفرت کی امید کیسے ہو سکتی ہے ؟ اور اب ان کے ایمان و حسن عمل سے حاصل کیا ؟ یہ اس لئے فرما دیا کہ دوسرے مذاہ بےای سے ہی عقائد گھڑ رکھے تھے اس لئے یہ تنبیہ ضروری تھی۔ یا کفر بمقابلہ شکر بھی ہو سکتا ہے۔ چونکہ پہلی دو آیات میں کامل صالحین کا نقشہ کھینچا گیا تھا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 113–117
In verse 110, it was said that among the people of the Book there are those who believe, yet most of them are disbelievers. Details appear in the present verse which gives a complementary profile of those who believed from among the people of the Book, and by becoming Muslims, they adopted the distinguishing hallmarks of the Faith that go to make believers the best of communities.
Soon after praising those who had embraced Islam from among the people of the Book, the text censures those of them who did not embrace Islam and insisted on retaining their stance of disbelief, not realizing that…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 113–117
91. The term 'harvest' in this parable refers to this life which resembles a field of cultivation the harvest of which one will reap in the World to Come. The 'wind' refers to the superficial appearance of righteousness, for the sake of which unbelievers spend their wealth on philanthropic and charitable causes. The expression 'frost' indicates their lack of true faith and their failure to follow the Divine Laws, as a result of which their entire life has gone astray.
By means of this parable God seeks to bring home to them that while wind is useful for the growth of cultivation if that wind…
Read the full tafseer →