Explained with ayahs 113–117
ظلم نہیں سزا
حضرت ابن مسعود ؓ فرماتے ہیں اہل کتاب اور اصحاب محمد ﷺ برابر نہیں، مسند احمد میں ہے رسول اللہ ﷺ نے عشاء کی نماز میں ایک مرتبہ دیر لگا دی پھر جب آئے تو جو اصحاب منتظر تھے ان سے فرمایا کسی دین والا اس وقت تک اللہ کا ذکر نہیں کر رہا مگر صرف تم ہی اللہ کے ذکر میں ہو اس پر یہ آیت نازل ہوئی لیکن اکثر مفسرین کا قول ہے کہ اہل کتاب کے علماء مثلاً حضرت عبداللہ بن سلام حضرت اسد بن عبید، حضرت ثعلبہ بن شعبہ وغیرہ کے بارے میں یہ آیت آئی کہ یہ لوگ ان اہل کتاب میں شامل نہیں جن کی مذمت پہلے گزاری، بلکہ یہ باایمان جماعت امر اللہ پر قائم شریعت محمدیہ کی تابع ہے استقامت و یقین اس میں ہے یہ پاکباز لوگ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 113–117
سورة اٰلِ عِمْرٰن 91
اس مثال میں کھیتی سے مراد یہ کشت حیات ہے جس کی فصل آدمی کو آخرت میں کاٹنی ہے۔ ہوا سے مراد وہ اوپری جزبہ خیر ہے جس کی بنا پر کفار رفاہ عام کے کاموں اور خیرات وغیرہ میں دولت صرف کرتے ہیں۔ اور پالے سے مراد صحیح ایمان اور ضابطہ خداوندی کی پیروی کا فقدان ہے جس کی وجہ سے ان کو پوری زندگی غلط ہو کر رہ گئی ہے۔ اللہ تعالیٰ اس تمثیل سے یہ بتانا چاہتا ہے کہ جس طرح ہوا کھیتیوں کی پرورش کے لیے مفید ہے لیکن اگر اسی ہوا میں پالا ہو تو کھیتی کو پرورش کرنے کے بجائے اسے تباہ کر ڈالتی ہے، اسی طرح خیرات بھی اگرچہ انسان کے مزرعہ آخرت کو پرورش کرنے والی چیز ہے، مگر جب اس کے اندر کفر کا زہر ملا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 113–117
ربط آیات
اوپر اہل کتاب کے متعلق بیان ہوا تھا کہ ان میں کچھ لوگ مسلمان بھی ہیں اور زیادہ کافر ہیں، اسی مضمون کی مزید تفصیل ان آیات میں ہے۔
خلاصہ تفسیر
یہ (اہل کتاب) سب برابر نہیں (بلکہ) ان (ہی) اہل کتاب میں ایک جماعت وہ بھی ہے جو (دین حق پر) قائم ہیں (اور) اللہ کی آیتیں (یعنی قرآن) اوقات شب میں پڑھتے تھے اور وہ نماز بھی پڑھتے ہیں (اور) اللہ پر اور قیامت والے دن پر (پورا پورا) ایمان رکھتے ہیں اور (دوسروں کو) نیک کام بتلاتے ہیں اور بری باتوں سے روکتے ہیں اور نیک کاموں میں دوڑاتے ہیں اور یہ لوگ (اللہ کے نزدیک) شائستہ لوگوں میں (شمار کئے جاتے ہیں) اور یہ لوگ جو نیک کام کریں گے اس (کے ثواب) سے…
Read the full tafseer →کفر و شرک سے تمام نیکیاں برباد ہوجاتی ہیں : یہ ان اہل کتاب کا ذکر ہے جو اوپر والے گروہ کے برعکس اپنے کفر پر اڑے رہ گئے۔ ان کے بابت فرمایا کہ جس مال واولاد کی محبت نہیں انہیں خدا سے بےپروا کیا وہ ان کو خدا کی پکڑ اور دوزخ سے نہ بچا سکیں گے۔ یہ لوگ دوزخ میں پڑیں گے اور اس سے کبھی نکل نہ سکیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 116–117
117۔ 1 قیامت والے دن کافروں کے نہ مال کچھ کام آئیں گے نہ اولاد، حتیٰ کے رفاہی اور بظاہر بھلائی کے کاموں پر جو بھی خرچ کرتے ہیں وہ بیکار جائیں گے اور ان کی مثال اس سخت پالے کی سی ہے جو ہری بھری کھیتی کو جلا کر خاکستر کردیتا ہے ظالم اسی کھیتی کو دیکھ کر خوش ہو رہے ہوتے اور اس سے نفع کی امید رکھے ہوتے ہیں کہ اچانک ان کی امیدیں خاک میں مل جاتی ہیں۔ اس سے معلوم ہوا جب تک ایمان نہیں ہوگا، رفاہی کاموں پر رقم خرچ کرنے والوں کی چاہے دنیا میں کتنی ہی شہرت ہوجائے آخرت میں انہیں ان کا کوئی صلہ نہیں ملے گا، وہاں تو ان کے لئے جہنم کا دائمی عذاب ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 114–117
تشریح : کافر لوگ جو کچھ خیرات کرتے ہیں اللہ تعالیٰ اس کا صلہ انہیں دنیا ہی میں دے دیتے ہیں ان کے کفر کی وجہ سے، اس کا ثواب آخرت میں نہیں ملتا، لہذا ان کے خیراتی اعمال کی مثال ایک کھیتی کی ہے اور ان کے کفر کی مثال اس تیز آندھی کی ہے جس میں پالا بھی ہو اور وہ اچھی خاصی کھیتی کو برباد کرڈالے۔
Read the full tafseer →یوں اس حقیقت کو ایک ایسے منظر کی صورت میں پیش کیا جاتا ہے ‘ جس میں حرکت ہی حرکت ہے ۔ اور یہ حرکت زندگی سے بھرپور ہے اور یہ قرآن کا حسین و جمیل طرز تعبیر ہے ‘ جس میں ایک نظری حقیقت بھی متحرک نظر آتی ہے ۔ “
ان کفار کے اموال اور ان کی اولاد اللہ کے مقابلے میں ان کے کچھ کام نہ آئے گی ‘ وہ اپنے جرائم کا جرم ادا نہ کرسکیں گے ‘ اس لئے کہ وہاں نہ زور چلے گا اور نہ زر۔ یہ لوگ جہنمی ہیں اور وہ دنیا میں جو مال بھی خرچ کرتے ہیں وہ اکارت ہوجائے گا اور بےاثر ہوگا۔ اگرچہ انہوں نے جن کاموں میں مال خرچ کیا وہ اسے کار خیر سمجھتے ہیں ۔ اس لئے کہ خیر وہی ہوتی ہے جس کی کونپلیں شاخ ایمان سے پھوٹیں اور جن کا تعلق…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 116–117
1 صالحین و متقین کے بالمقابل یہاں کافروں کے حال و انجام کا ذکر فرماتے ہیں پہلے فرمایا تھا (وَمَا يَفْعَلُوْا مِنْ خَيْرٍ فَلَنْ يُّكْفَرُوْهُ ) 3 ۔ آل عمران :115) کی ادنیٰ ترین نیکی بھی کام آئے گی۔ انکے کسی بھلے کام کی بےقدری نہیں کی جائے گی۔ اسکے برخلاف کافر جو کچھ مال و قوت دنیا میں خرچ کرے، خواہ اپنے نزدیک بڑا ثواب اور خیرات کا کام سمجھ کر کرتا ہو، آخرت میں اسکی کوئی قدر و قیمت اور پرسش نہیں۔ کیونکہ ایمان و معرفت صحیحہ کی روح نہ ہونے سے اس کا ہر ایک عمل بےجان اور مردہ ہے۔ اسکی جزاء بھی ایسی ہی فانی و زائل اس دارفانی میں مل ملا رہے گی۔ عمل کی ابدی حفاظت کرنے والی چیز ایمان و ایقان ہے اس کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 113–116
آیت 113 لَیْسُوْا سَوَآءً ط۔
ان میں اچھے بھی ہیں ‘ برے بھی ہیں۔
مِنْ اَہْلِ الْکِتٰبِ اُمَّۃٌ قَآءِمَۃٌ یَّتْلُوْنَ اٰیٰتِ اللّٰہِ اٰنَاءَ الَّیْلِ وَہُمْ یَسْجُدُوْنَ ۔
رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں خاص طور پر عیسائی راہبوں کی ایک کثیر تعداد اس کردار کی حامل تھی۔ ان ہی میں سے ایک بحیرہ راہب تھا جس نے بچپن میں آنحضور ﷺ کو پہچان لیا تھا۔ یہود میں بھی اکا دکا لوگ اس طرح کے باقی ہوں گے ‘ لیکن اکثر و بیشتر یہود میں سے یہ کردار ختم ہوچکا تھا ‘ البتہ عیسائیوں میں ایسے لوگ بکثرت موجود تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 115–116
104 یعنی اہل کتاب کے منصف مزاج لوگ جو اسلام لے آئے ہیں۔ ان کے اسلام لانے سے پہلے کے اچھے کاموں کا انہیں بدلہ دیا جائے گا۔ کیونکہ اسلام لانے کے دو فائدے ہیں اور وہ احادیث صحیحہ سے ثابت ہیں۔ ایک یہ کہ اسلام لانے سے پہلے کے گناہ معاف کردیئے جاتے ہیں اور دوسرا یہ کہ اسلام لانے سے پہلے نیک اعمال برقرار رکھے جاتے ہیں، یعنی دور کفر کے اچھے کاموں کا بھی انہیں ثواب عطا کیا جائے گا۔ اور کافروں کا معاملہ اس کے برعکس ہوتا ہے۔ یعنی ان کی نیکیاں برباد اور گناہ لازم ہوتے ہیں۔
Read the full tafseer →239 ۔ (آیت) ” اولٓئک “۔ سے مراد ایمان سے محروم کفار ہیں۔ اور چونکہ اس لفظ سے حصر کا مفہوم پیدا ہوتا ہے، اہل سنت نے اس آیت سے معتزلہ کے خلاف استدلال کرکے کہا کہ خلود نار کی سزا صرف کافروں کے لیے ہے، گنہگار مومنین کے لیے نہیں، ولما افادت ھذہ الکلمۃ معنی الحصرثبت ان الخلود فی النار لیس الاللکافر (کبیر) (آیت) ” لن تغنی عنھم اموالھم “۔ یعنی یہ نہ ہوگا کہ مال کو بہ طور کفارہ یا توبہ پیش کرکے نجات حاصل کرلی جائے۔ یہود کے جو غلط سلط عقیدے اس باب میں ہوچکے تھے، ان کا ذکر پارۂ اول کے حاشیوں میں آچکا ہے۔ (آیت) ” ولا اولادھم “۔ ہندوؤں اور جینیوں میں یہ گمراہی خاص طور پر بڑھی ہوئی ہے۔ اولاد نرینہ کی اہمیت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 114–117
مَثَلُ مَایُنْفِقُوْنَ فِیْ ھٰذِہِ الْحَیَاۃِ الدُّنْیَا (الآیۃ) ایک عام فہم اور ظاہر مثال سے یہ سمجھایا گیا ہے کہ قیامت کے دن کافروں کے نہ کچھ مال کام آئے گا اور نہ اولاد حتیٰ کہ رفاہی اور ظاہری بھلائی کے کاموں پر جو خرچ کرتے ہیں وہ بھی بےکار ہوجائیں گے اور ان کی مثال اس سخت پالے کی سی ہے جوہری بھری کھیتی کو جلا کر خاکستر کردیتا ہے ظالم اس کھیتی کو دیکھ کر خوش ہو رہے ہوتے ہیں اور اس سے نفع کی امید رکھتے ہیں کہ اچانک ان کی امیدیں خاک میں مل جاتی ہیں۔ اس مثال میں کھیتی سے مراد کشت حیات ہے جس کی فصل آدمی کو آخرت میں کاٹنی ہے۔ (الدنیا مزرعۃ الآخرۃ) ۔ ” ہوا “ سے مراد اوپرہ جذبہ خیر ہے جس کی بنا…
Read the full tafseer →ان الذین کفروا لن تغنی عنھم اموالھم و لا اولادھم من اللہ شیئا واولئک اصحاب النار ھم فیھا خالدین جن لوگوں نے کفر کیا (اور کفر پر مرے) ان کے مال و اولاد اللہ کے عذاب کو ان سے بالکل دفع نہیں کرسکیں گے وہی دوزخی ہوں گے اور ہمیشہ دوزخ میں رہیں گے اس آیت کی تفسیر پہلے گذر چکی ہے۔ دیکھو آغاز سورت۔
Read the full tafseer →(116) اور جن لوگوں نے رسول اکرم ﷺ اور قرآن کریم کا انکار کیا جیسا کہ کعب اور اس کے ساتھی تو ان کے اموال واولاد کی زیادتی انھیں خداوند کے عذاب سے نہیں بچا سکے گی یہ جہنمی ہیں اس میں ہمیشہ رہیں گے ،
Read the full tafseer →Explained with ayahs 116–117
لَنْ تُغْنِىَ عَنْھُمْ اَمْوَالُھُمْ۔۔ : یعنی جو مال خرچ کیا اور اللہ کی رضا پر نہ دیا، آخرت میں دیا نہ دیا برابر ہے۔ (موضح)
عام طور پر مصیبت کے وقت اولاد انسان کے کام آتی ہے، مگر اس وقت کفار کی اولاد ان کے کسی کام نہیں آئے گی۔ اوپر کی آیات میں مومن اور متقی کے نیک اعمال کا انجام ذکر فرمایا کہ ان کی ادنیٰ سے ادنیٰ نیکی بھی ضائع نہیں ہوگی، بلکہ اس کا پورا پورا بدلہ ملے گا، اب اس آیت میں کافر کے صدقہ و خیرات اور رفاہی کاموں کو آخرت میں بےفائدہ اور ضائع ہونے کے اعتبار سے ان لوگوں کی کھیتی سے تشبیہ دی ہے، جنھوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا، جو کھیتی دیکھنے میں سرسبز و شاداب نظر آئے لیکن درمیانی فاصلہ…
Read the full tafseer →آیت نمبر : 116۔
قولہ تعالیٰ : (آیت) ” ان الذین کفروا “۔ یہ ان کا اسلم ہے اور اس کی خبر یہ ہے۔ (آیت) ” لن تغنی عنھم اموالھم ولا اولادھم من اللہ شیئا “۔ مقاتل نے کہا ہے : جب اللہ تعالیٰ نے اہل کتاب میں سے مومنین کا ذکر کیا تو پھر ان کے کفار کا ذکر کیا اور وہ اس کا یہ قول ہے (آیت) ” ان الذین کفروا “۔ اور کلبی نے کہا ہے : اسے ابتداء بنایا اور فرمایا : بیشک جن لوگوں نے کفر اختیار کیا ان کے مال کی کثرت اور ان کی اولاد کی کثرت انہیں ہر گز اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ذرہ بھر نہیں بچا سکیں گے، اولاد کا ذکرخاص طور پر کیا گیا کیونکہ نسب کے اعتبار سے وہی ان کے سب سے زیادہ قریب ہے۔ (آیت) ” واولئک اصحب النار “۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 114–117
(1) عبد بن حمید، ابن جریر، ابن ابی حاتم اور ابن المنذر نے مجاہد (رح) سے لفظ آیت ” مثل ما ینفقون فی ھذہ الحیوۃ الدنیا “ کے بارے میں روایت کیا ہے کہ یہ دنیا میں کافر کے خرچ کرنے کی مثال ہے۔
(2) ابن جریر وابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا ہے کہ مثال اس چیز کی جو مشرک خرچ کرتے ہیں اور ان سے قبول نہیں کیا جاتا جیسے مثال اس کھیتی کی جب ایک ظالم قوم نے اس کو بویا پھر اس کو ایسی ہوا پہنچ گئی جس میں سخت سردی تھی جس نے اس کو ملیا میٹ کردیا پس اسی طرھ ان مشرکوں نے جو مال خرچ کیا شرک نے اس کو ہلاک کردیا۔
(3) سعید بن منصور، فریابی، عبد بن حمید، ابن جریر، ابن المنذر اور ابن ابی حاتم…
Read the full tafseer →[اِنَّ الَّذِیْنَ : بیشک جنہوں نے ] [کَفَرُوْا : کفر کیا ] [لَنْ تُغْنِیَ : ہرگز کام نہ آئیں گے ] [عَنْہُمْ : ان کے ] [اَمْوَالُہُمْ : ان کے مال ] [وَلاَ اَوْلَآٓدُہُمْ : اور نہ ان کی اولاد ] [مِّنَ اللّٰہِ : اللہ سے (بچنے میں) ] [شَیْئًا : ذرا بھی ] [وَاُولٰٓئِکَ : اور وہ لوگ ] [اَصْحٰبُ النَّارِ : آگ والے ہیں ] [ہُمْ : وہ لوگ ] [فِیْہَا : اس میں ہی ] [خٰلِدُوْنَ : ہمیشہ رہنے والے ہیں ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 116–117
کافروں کے اموال اور اولاد عذاب سے نہ بچا سکیں گے
پہلی آیت میں تو یہ فرمایا کہ اہل کفر پر جب اللہ کا عذاب آئے گا تو ان کے مال اور اولاد کچھ بھی نفع نہ دے سکیں گے یہ لوگ اپنے کفر کی وجہ سے دوزخی ہیں اور دوزخ میں ہمیشہ رہیں گے۔ سورة آل عمران کے رکوع 2 کے شروع میں بھی یہ مضمون گزر چکا ہے۔ پھر ان لوگوں کے اخراجات اور نفقات کے بارے میں فرمایا کہ یہ لوگ خرچ کرتے ہیں اور ان اخراجات میں وہ اموال بھی ہیں جو رسول اللہ ﷺ کی دشمنی میں خرچ کیے جاتے ہیں۔ ان اخراجات کی مثال ایسی ہے جیسے کسی ایسی قوم کی کھیتی ہو جنہوں نے کفر اور معاصی کے ذریعہ اپنی جانوں پر ظلم کیا ہو۔ اس کھیتی پر اللہ تعالیٰ نے ہوا بھیج دی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 102–117
قال تعالی۔ یا ایھا الذین۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تا۔۔۔۔ ترجع الامور۔ آیت۔
ربط) گزشتہ آیات میں اللہ نے باہمی قتال وشقاق کو تکفرون یعنی کفر سے تعبیر فرمایا اب آئندہ آیت میں تقوی اور اعتصام بحبل اللہ یعنی اتفاق اور اتحاد اور اسلامی مواخات کا حکم دیتے ہیں اور اتفاق اور اتحاد کا ایک دستور العمل بتلاتے ہیں وہ یہ کہ اول تقوی اور اسلام پر مداومت اور استقامت کا حکم دیا اور پھر اعتصام بحبل اللہ کا حکم فرمایا کہ سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوط پکڑو پھر یہ ارشاد فرمایا، واذکر نعمتہ اللہ علیکم۔ الخ۔ آیت۔ جس میں حکم دیا کہ اتفاق اور اتحاد کی نعمت کو یاد کرو، اور اس نعمت کو اور اس کی برکات کو یاد کرکے موازنہ کرو کہ پہلے…
Read the full tafseer →174 ۔ حضرت شیخ فرماتے ہیں کہ پہلے اللہ تعالیٰ نے مومنین اہل کتاب کا ذکر فرمایا ان کی خوبیاں گنائیں اور انہیں بشارت اخروی سے نوازا اب یہاں سے کفار اہل کتاب کا ذکر کر کے انہیں اخروی تخویف فرمائی۔ قال مقاتل لما ذکر تعالیٰ مومنی اھل الکتاب ذکر کفارھم وھو قولہ ان الذین کفروا (قرطبی ص 177 ج 4) اور کفار اہل کتاب سے یہاں مراد عام ہے خواہ عوام ہوں یا خواص، مریدین اور متبعین ہوں یا ان کے علماء سجادہ نشین اور متبوعین جس طرح مریدین اپنے پیروں اور سجادہ نشینوں پر خرچ کرتے ہیں۔ ان کی خدمت میں نذرانے اور شیرینیاں پیش کرتے اور ان نذرانوں کے ذریعے اپنے پیروں سے آخرت میں نفع کی امید رکھتے ہیں اور اس توقع میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 116–117
ربط آیات :
اس سے پہلے اللہ تعالیٰ نے اہل کتاب کی عداوت کا ذکر کر کے ان کی مزمت بیان فرمائی۔ پھر فرمایا ان میں سارے کے سارے برابر نہیں ہیں ، بلکہ بعض اہل کتاب منصف مزاج بھی ہیں ، جو اللہ تعالیٰ اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتے ہیں ، نیکی کا حکم کرتے ہیں اور برائی سے روکتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ ان کی نیکیوں کی قدر کرتا ہے ، اور تمام متقیوں کی نیت ، ارادے اور اعمال کو بھی جانتا ہے۔ اب آج کے درس میں اللہ تعالیٰ نے کفر کرنے والوں کی مذمت بیان کی ہے پہلے اہل کتاب کی مذمت بیان ہوئی ہے اور وہ وجوہات بھی بیان ہوئی ہیں جن کی وجہ سے وہ سرکشی کرتے تھے۔ پھر ان میں سے بعض کی مدح کا تذکرہ ہوا ہے اور اب کفر کرنے…
Read the full tafseer →اِنَّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا لَنْ تُغْنِىَ عَنْھُمْ اَمْوَالُھُمْ وَلَآ اَوْلَادُھُمْ مِّنَ اللہِ شَـيْــــًٔـا 0 ۭ وَاُولٰۗىِٕكَ اَصْحٰبُ النَّارِ 0 ۚ ھُمْ فِيْھَا خٰلِدُوْنَ 116
غنی( فایدة)
أَغْنَانِي كذا، وأغْنَى عنه كذا : إذا کفاه . قال تعالی: ما أَغْنى عَنِّي مالِيَهْ [ الحاقة/ 28] ، ما أَغْنى عَنْهُ مالُهُ [ المسد/ 2] ، لَنْ تُغْنِيَ عَنْهُمْ أَمْوالُهُمْ وَلا أَوْلادُهُمْ مِنَ اللَّهِ شَيْئاً [ آل عمران/ 10] ،
( غ ن ی ) الغنیٰ
اور اغنانی کذا اور اغنی کذا عنہ کذا کسی چیز کا کا فی ہونا اور فائدہ بخشنا ۔ قر آں میں ہے : ما أَغْنى عَنِّي مالِيَهْ [ الحاقة/ 28] میرا مال میرے کچھ کام نہ آیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 113–116
ترکیب : لیسوا کا اسم ضمیر سوا خبر امۃ موصوف قائمۃ صفت مجموعہ مبتدا من اھل الکتاب خبر یتلون اور یومنون وغیرہ حال بھی ہوسکتے ہیں اور جملہ مستانفہ بھی یکفروہ اس کا تعدیہ دو مفعولوں کی طرف ہے یعنی حرمان کی وجہ سے۔
تفسیر : پہلی آیت میں اہل کتاب کی نسبت یہ تھا منہم المؤمنون و اکثرھم الفاسقون یہاں اس جملہ کے زیادہ تر تشریح فرماتا ہے تاکہ اہل کتاب کو بھی خدا کی فرمانبرداری کی طرف رغبت ہو کہ سب اہل کتاب بھی برابر نہیں ٗ ان میں بھی ایک گروہ ایسا ہے کہ جو سیدھے رستہ پر ہے۔ وہ رات بھر آیات الٰہی پڑھتے اور سجدہ کرتے ہیں اور ان کا اللہ اور قیامت کے دن پر ایمان ہے اور وہ اچھی باتوں کا حکم دیتے اور بری…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 116–117
اِنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا لَنْ تُغْنِیَ عَنْہُمْ اَمْوَالُہُمْ وَلَآ اَوْلَادُہُمْ مِّنَ اللّٰہِ شَیْئًا ط وَاُوْلٰٓئِکَ اَصْحٰبُ النَّارِ ج ہُمْ فِیْہَا خٰلِدُوْنَ ۔ مَثَلُ مَایُنْفِقُوْنَ فِیْ ھٰذِہِ الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا کَمَثَلِ رِیْحٍ فِیْہَا صِرٌّ اَصَابَتْ حَرْثَ قَوْمٍ ظَلَمُوْٓا اَنْفُسَہُمْ فَاَہْلَـکَتْہُ ط وَمَا ظَلَمَہُمُ اللّٰہُ وَلٰـکِنْ اَنْفُسَہُمْ یَظْلِمُوْنَ ۔
(بےشک جن لوگوں نے کفر اختیار کیا ہرگز نہ بچا سکیں گے انھیں ان کے مال اور نہ ان کی اولاد اللہ (کے عذاب) سے ذرہ بھر اور وہ دوزخی ہیں، وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔ مثال اس کی جو وہ خرچ کرتے ہیں اس دنیوی زندگی میں ایسی ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 114–116
فہم القرآن
ربط کلام : اہل ایمان کے بعد اہل کفر کا انجام ذکر ہوتا ہے۔ اسلام کے مخالف اپنی انا کی خاطر مسلمانوں کے خلاف مال بھی خرچ کرتے ہیں۔ انہیں اس خرچ کرنے کی حقیقت سے آگاہ کیا گیا ہے کہ بالآخر اس کا انجام کیا ہوگا۔
صاحب ایمان اور صالح کردار لوگوں کی ہرگز ناقدری نہیں ہوگی۔ اس کے برعکس جن لوگوں نے کفر کا رویّہ اختیار کیا ان کے مال اور اولادربِّ ذوالجلال کے ہاں انہیں کچھ فائدہ نہیں دے سکیں گے۔ کفار اور اہل کتاب رسول معظم ﷺ اور صحابہ کرام ؓ کو غریبی کے طعنے دیتے ہوئے کہا کرتے تھے کہ اگر آپ لوگ سچے ہوتے تو اللہ تعالیٰ ضرور تمہیں دنیا کے اسباب سے مالا مال کرتا۔ اگر ہم اس کی بارگاہ میں غلط ہوتے…
Read the full tafseer →کفار کو مال و اولاد کچھ کام نہ آئیں گے :
116: اِنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا لَنْ تُغْنِیَ عَنْھُمْ اَمْوَالُھُمْ وَلَآ اَوْلَادُھُمْ مِّنَ اللّٰہِ شَیْئًا اُولٰٓپکَ اَصْحٰبُ النَّارِ ھُمْ فِیْھَا خٰلِدُوْنَ ۔ (بیشک جو لوگ کافر ہوئے ہرگز ان کو ان کے مال اور انکی اولادیں اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچانے کیلئے ذرہ بھر کام نہ دیں گے) وَاُولٰٓپکَ اَصْحٰبُ النَّارِ ھُمْ فِیْھَا خٰلِدُوْنَ (وہ جہنمی ہیں اس میں ہمیشہ رہیں گے)
Read the full tafseer →116۔ (آیت)” ان الذین کفروا لن تغنی عنھم ۔۔۔۔۔ من اللہ شیئا “۔ ان کا مال فدیہ میں ان کو نہیں دیا جائے گا اور نہ ہی اولاد ان کی مدد ونصرت کے لیے دی جائے گی کہ ان کے ذریعے سے اللہ کے عذاب سے بچاؤ کا سامان کرو ، ان دونوں کو خصوصی طور پر اس لیے ذکر کیا کیونکہ انسان اپنے آپ سے مصیبت کبھی مال دے کر دور کرتا ہے اور کبھی اولاد کی مدد سے اس کو دور کرتا ہے ، (آیت)” واولئک اصحاب النار ھم فیھا خالدون “۔ آگ کے ساتھی اس وجہ سے کہا یہ اسی کے اہل ہیں ، نہ یہ آگ سے نکل سکیں گے اور نہ ہی وہ اس سے جدا ہوں گے جیسے کہا جاتا ہے ، ” کصاحب الرجل یفارقہ “۔ فلاں کا ساتھی اس سے جدا ہوگیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 113–117
(113 ۔ 117) ۔ طبرانی اور ابن ابی حاتم اور ابن مندہ نے حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے روایت کی ہے کہ جب یہود میں سے عبد اللہ بن سلام و ثعلبہ بن شعبہ اور اسد بن عبد اور یہودی لوگ مسلمان ہوئے تو یہودی علماء نے ان مسلمانوں کی طرح طرح کی مذمت اپنی قوم کے لوگوں میں کرنی شروع کردی۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے ان مسلمان اہل کتاب کی تعریف میں ان مسلمانوں کا دل بڑہانے کی غرض سے یہ آیتیں نازل فرمائی 2۔ اور بعض مفسرین نے یہ شان نزول ان آیات کی جو بیان کی ہے کہ امت محمد ﷺ یہ اور اہل کتاب کے برابر نہ ہونے اور امت محمد ﷺ یہ کی تعریف میں یہ آیات نازل ہوئی ہیں اور مسند امام احمد بن حنبل میں حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 115–116
آیت 115
جب اللہ تعالیٰ نے اہل کتاب کے فاسق گروہ کا ذکر کیا، ان کی بداعمالیاں اور ان کیسزائیں بیان کیں، تو ان آیات میں حق پر قائم رہنے والی جماعت کا ذکر فرمایا، ان کے نیک اعمال اور ان کا ثواب ذکر فرمایا اور یہ بتایا کہ اللہ کے نزدیک یہ دونوں گروہ برابر نہیں بلکہ ان کے درمیان اتنا زیادہ فرق ہے کہ بیان نہیں کیا جاسکتا۔ اس فاسق گروہ کا ذکر تو پہلے ہوچکا۔ باقی رہے یہ مومن، تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ان میں (امۃ قآئمۃ) ایک جماعت اللہ کی تلاوت بھی کرتے ہیں اور سجدے بھی کرتے ہیں “ یہ رات کے اوقات میں ادا کی جانے والی ان کی نمازوں کا بیان ہے کہ وہ طویل تہجد پڑھتے ہیں اور اپنے رب کے کلام کی تلاوت کرتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 115–118
ذمیوں سے استعانت کا بیان
قول باری ہے (یایھا الذین امنوالاتتخذوابطانۃ من دونکم لایألونکم خبالاؤدواماعنتم قدبدت البخضاء من افواھھم وماتخفی صدورھم اکبر، اے ایمان والو ! اپنی جماعت کے لوگوں کے سوادوسروں کو اپنا رازدانہ بناؤ۔ وہ تمہاری خرابی کے کسی موقعہ سے فائد ہ اٹھانے سے نہیں چوکتے۔ تمہیں جس چیز سے نقصان پہنچے وہی ان کو محبوب ہے۔ ان کے دل کا بعض ان کے منہ سے نکلاپڑتا ہے اور جو کچھ وہ اپنے سینوں میں چھپائے پھرتے ہیں وہ اس سے شدید تر ہے ) ابوبکرجصاص کہتے ہیں کہ انسان کا بطانہ، ان لوگوں کو کہاجاتا ہے جو اس کے خاص ہوتے ہیں اور اس پر اپنا حکم چلاسکتے ہیں نیز جن پر وہ اپنے معاملات میں بھروسہ کرسکتا…
Read the full tafseer →240 کافروں کا انجام خلود فی النار : ان کے اپنے اس کفر کی بناء پر، جس کو انہوں نے خود اپنے ارادہ و اختیار سے اپنایا تھا، اور مرتے دم تک اس کو گلے لگائے رکھا تھا۔ اور ایسے لوگ چونکہ دنیا سے ایمان سے محرومی اور کفر کی ظلمت کے ساتھ ہی رخصت ہوئے اس لیے ان کو ہمیشہ دوزخ کی آگ میں ہی رہنا ہوگا ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو جس کافر کا انجام یہ ہونے والا ہے اس سے بڑھ کر بدبخت اور کون ہوسکتا ہے ؟ اور اس کو اگر دنیا ساری کی دولت بھی اس دنیا میں مل جائے تو بھی اس کو کیا ملا ؟۔ وَالْعِیَاذ باللّٰہ الْعَظِیْم الْعَزِیْز الْغَفَّار -
Read the full tafseer →کفار اور ان کا انجام
تشریح : نیک لوگوں کا ذکر کرنے کے بعد اب ان لوگوں کا ذکر کیا جارہا ہے جو اپنی اولاد، مال و دولت اور عزت و شوکت کے نشے میں اللہ کو بھول جاتے ہیں اور دین و ایمان ان کے دلوں سے بالکل دور ہوجاتا ہے تو ان کو اللہ تعالیٰ خبردار کرتے ہیں کہ یہ مال و دولت، عزت و شوکت اور فخر و غرور عارضی چیزیں ہیں۔ تم مرجاؤ گے اور اپنی بری خصلتوں کا انجام پاؤ گے وہاں نہ تمہارا مال نہ اولاد تمہارے عذاب کو ہلکا کرسکے گا اور عذاب کیا ہوگا ؟ جہنم کی آ گ ہوگی جس میں تم لوگ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے جلتے رہو گے۔ سورة حج آیت :71 میں اس کی وضاحت یوں کی گئی ہے۔ ” یہ (مشرک) لوگ اللہ کو چھوڑ کر ایسی چیزوں کی عبادت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 110–120
آیات 110- 120
اسرارو معارف
کنتم خیرامۃ……………واکثرھم الفسقون۔
تم سب سے اچھی امت ہو کہ آقائے نامدار ﷺ خیرالرسل ہیں اور قرآن کریم سب کتابوں سے اعلیٰ و افضل کتاب ہے۔ تم لوگ جنہیں آپ ﷺ سے نسبت حاصل ہے۔ اور اس کی برکت سے کتاب اللہ کو سمجھنے کی سعادت حاصل ہوئی ہے ایک ایسی سعادت ہے کہ ارشاد ہوا۔ اتممت علیکم نعمتی۔ کہ میں نے اپنی نعمت تم پر تمام کردی۔ تم ہی بہترین لوگ ہو۔
اتمام نعمت ایک ایسی عطا ہے جس کی حدود متعین کرنا انسان کے بس کی بات نہیں ہے اور اس پر مزید یہ کہ نعمت کا حصول بھی بیشک بہت بڑی بات ہے مگر اس کو دوسروں پر تقسیم کرنا اور بےحدوحساب بانٹنا بہت ہی بڑی شے ہے اور تمہیں تو بھیجا ہی اس لئے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 115–117
ف 8 یعنی جو مال خرچ کیا اور اللہ تعالیٰ کی رضا پر نہ دیا آخرتے میں دیا نہ دیا برابر ہے ْ ۔ ( موضح) اوپر کی آیات میں مومن اور متقی کے نیک اعمال کا انجام ذکر فرمایا ہے کہ ان کی ادنی نیکی بھی ضائع نہیں ہوگی بلکہ اس کا پورا پورا بدلہ ملے گا اب اس آیت میں کافر کے صدقہ و خیرات اور رفاہی کاموں کو آخرت میں بےفائدہ اور ضائع ہونے کے اعتبار سے ظالم کی اس کھتی سے تشبیہ دی ہے جو دیکھنے میں سرسبز و شاداب نظر آئے لیکن یکایک سرد ہوا چلے اور اسے تباہ و برباد کر کے رکھ دے یہی حال کفار کے صدقہ و خیرات کا ہے۔ وہ چونکہ ایمان واخلاص کی دولت سے محروم ہیں اسے لیے آخرت میں ان کے اعمال تباہ و برباد ہوجائیں گے اور…
Read the full tafseer →(3:116) لن تغنی۔ مضارع معروف نفی تاکید بلن۔ صیغہ واحد مؤنث غائب (باب افعال) وہ کفایت ہرگز نہیں کرے گی۔ وہ ہرگز کام نہ آئے گی۔ ھذا ما یغنی عنک شیئا۔ یہ تمہارے کسی کام نہ آئے گی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 113–117
لغات القرآن آیت نمبر 113 تا 117
لیسوا (نہیں ہیں (لیس واحد) امة قائمة (سیدھی راہ پر قائم) اناء اللیل (رات کے اوقات) یسارعون (وہ دوڑتے ہیں) الخیرات (نیک اور بھلے کام) لن یکفروہ (ہرگزوہ محروم نہ کیئے جائیں گے) صر (پالا، سخت ٹھنڈی یا تیز آواز)
تشریح : آیت نمبر 113 تا 117
اہل کتاب میں بیشک وہ لوگ ہیں جنہوں نے اللہ کے احکامات کی نافرمانیوں میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی تھی یہی وجہ ہے کہ ان پر ہمیشہ اللہ کا غضب ہی نازل ہوتا رہا لیکن ان میں کچھ لوگ جیسے عبداللہ ابن سلام، ان کے بھائی ، عیسائیوں میں حبشہ کا بادشاہ بجاشی ، اس کے ارکان دولت ، نجران کے بعض عیسائی اور حبش وروم کے بعض عیسائی اب بھی ہیں جنہوں نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 113–117
شریعت محمدی پر عمل کرنے کا حکم
شان نزول : طبرانی اور ابن ابی حاتم اور ابن مندہ نے حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت کی ہے کہ جب یہود میں سے عبداللہ بن سلام وثعلبہ بن شعبہ اور اسد بن عبد رضوان اللہ علیہم اجمعین اور یہودی لوگ مسلمان ہوئے تو یہود کے علماء نے ان مسلمانوں کی طرح طرح مذمت اپنی قوم کے لوگوں میں کرنی شروع کردی۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے ان مسلمانان اہل کتاب کی تعریف میں ان مسلمانوں کا دل بڑھانے کی غرض سے یہ آیتیں نازل فرمائیں۔ مسند امام احمد بن حنبل میں حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ کی یہ روایت ہے کہ ایک روز آنحضرت ﷺ نے عشاء کی نماز بہت دیر کرکے پڑھی (بعض نے اس سے مراد نماز تہجد لی ہے) اور پھر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 112–116
[40] یعنی یہود پر
[41] یہود کی تاریخ اس پر گواہ ہے۔
[42] یعنی دنیا میں اگر تھوڑا بہت امن و چین نصیب ہوا بھی ہے تو وہ دوسروں کی حمایت و مہربانی کا نتیجہ ہے۔ کہیں کسی مسلم حکومت نے ان کو اللہ کے نام پر امان دے دی اور کہیں کسی غیر مسلم حکومت نے اپنے طور پر انہیں اپنی حمایت میں لے لیا۔ یہی حیثیت اس یہودی ریاست کی ہے جو اسرائیل کے نام سے امریکہ، برطانیہ اور روس کی حمایت سے وجود میں آئی اور ان کے بل بوتے پر اب تک قائم ہے۔ ان کی حمایت ہٹنے کے بعد وہ ایک دن کے لئے بھی قائم نہیں رہ سکتی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 115–116
(ف 1) قریش مکہ کے بڑے بڑے رئیسوں کو اور بنو نضیر کے بڑے بڑے مہاجنوں کو مال و دولت کی کثرت اور اہل و عیال کی فراخ بالی پر بڑا ناز تھا اور انہیں مسلمان نہایت ذلیل نظر آتے تھے ، وہ کہتے تھے جو یہاں اللہ کی نعمتوں سے محروم ہیں ، انہیں قیامت کے دن کیا ملے گا ؟ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں بتایا ہے کہ مال و دولت کی فراوانی وہاں کام نہیں آئے گی اور نہ اولاد و عیال خدا کے عتاب سے چھڑا سکیں گے ، وہاں اعمال حسنہ ہی پونجی سمجھی جائے گی اور وہ ان کے پاس ہے نہیں ۔
حل لغات :
ریح : ہوا ۔ صر : تیز سردی ، ٹھنڈک ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 115–116
ف 3 یہ لوگ اللہ تعالیٰ پر اور قیامت کے دن پر پوری طرح ایمان رکھتے ہیں اور دوسرے لوگوں کو اچھے کاموں کی ترغیب دیتے ہیں اور نیک کام کرنے کو کہتے ہیں اور برے کاموں سے منع کرتے اور روکتے ہیں اور بھلائی کے کاموں میں دوڑتے اور جلدی کرتے ہیں اور ہمیشہ سرگرم رہتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک یہ مذکورہ حضرات نیک اور شائستہ لوگوں میں سے ہیں اور یہ لوگ جو نیک کام بھی کریں گے اس کی ناقدری نہیں کی جائے گی اور اس کے ثواب سے یہ لوگ محروم نہیں کئے جائیں گے اور اس ناقدری اور محرومی کا بھلا احتمال ہی کب ہوسکتا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ پرہیز گاروں اور متقیوں کو خوب جانتا ہے۔ (تیسیر)
مطلب یہ ہے کہ امت قائمہ جس کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 115–118
ف 1۔ یہاں جو غیر مذہب والوں سے خصوصیت کی ممانعت فرمائی ہے اس میں یہ بھی داخل ہے کہ ان کو اپنا ہمراز بنایا جائے اور اس میں یہ بھی داخل ہے کہ اپنے خاص امور انتظامی میں ان کو داخل دیا جائے۔
Read the full tafseer →کفر کی راہ اختیار کرنے والوں کے کام نہ دولت آئے گی اور نہ اولاد :
222 : کفار کون ہیں ؟ وہی جنہوں نے نہ صرف اللہ تعالیٰ کی سچائیوں کو جھٹلایا بلکہ ان کا ڈٹ کر مقابلہ کیا اور اس طرح جو روش انہوں نے اختیار کی اسی پر ان کا اختتام ہوگیا۔ یہیں وہ لوگ ہیں جو ابدی دوزخ کے مستحق ہوگئے۔ اس سے یہ بات بھی واضح ہوگئی کہ ” خلودنار “ کی سزا صرف کافروں کے لئے ہے گنہگار مومنوں کے لئے نہیں فرمایا گیا کہ ” نہ تو مال و دولت کی طاقت انہیں اللہ کے عذاب سے بچا سکے گی اور نہ ہی آل و اولاد کی کثرت ہی ان کے کچھ کام آئے گی “ یعنی یہ نہیں ہوگا کہ مال کو بطور کفارہ یا توبہ پیش کر کے نجات حاصل کرلی جائے۔ یہود کے جو غلط…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 113–117
In verse 110, it was said that among the people of the Book there are those who believe, yet most of them are disbelievers. Details appear in the present verse which gives a complementary profile of those who believed from among the people of the Book, and by becoming Muslims, they adopted the distinguishing hallmarks of the Faith that go to make believers the best of communities.
Soon after praising those who had embraced Islam from among the people of the Book, the text censures those of them who did not embrace Islam and insisted on retaining their stance of disbelief, not realizing that…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 113–117
91. The term 'harvest' in this parable refers to this life which resembles a field of cultivation the harvest of which one will reap in the World to Come. The 'wind' refers to the superficial appearance of righteousness, for the sake of which unbelievers spend their wealth on philanthropic and charitable causes. The expression 'frost' indicates their lack of true faith and their failure to follow the Divine Laws, as a result of which their entire life has gone astray.
By means of this parable God seeks to bring home to them that while wind is useful for the growth of cultivation if that wind…
Read the full tafseer →