Aal-i-Imraan 3:117

Aal-i-Imraan · from ayah 117

3:117

مَثَلُ مَا یُنْفِقُوْنَ فِیْ هٰذِهِ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا كَمَثَلِ رِیْحٍ فِیْهَا صِرٌّ اَصَابَتْ حَرْثَ قَوْمٍ ظَلَمُوْۤا اَنْفُسَهُمْ فَاَهْلَكَتْهُ ؕ— وَمَا ظَلَمَهُمُ اللّٰهُ وَلٰكِنْ اَنْفُسَهُمْ یَظْلِمُوْنَ ۟مَثَلُ مَا يُنۡفِقُوۡنَ فِىۡ هٰذِهِ الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا كَمَثَلِ رِيۡحٍ فِيۡهَا صِرٌّ اَصَابَتۡ حَرۡثَ قَوۡمٍ ظَلَمُوۡۤا اَنۡفُسَهُمۡ فَاَهۡلَكَتۡهُ ‌ؕ وَمَا ظَلَمَهُمُ اللّٰهُ وَلٰـكِنۡ اَنۡفُسَهُمۡ يَظۡلِمُوۡنَ

یہ جو مال دنیا کی زندگی میں خرچ کرتے ہیں اس کی مثال ہوا کی سی ہے جس میں سخت سردی ہو اور وہ ایسے لوگوں کی کھیتی پر جو اپنے آپ پر ظلم کرتے تھے چلے اور اسے تباہ کر دے اور خدا نے ان پر کچھ ظلم نہیں کیا بلکہ یہ خود اپنے اوپر ظلم کر رہے ہیں

— Fateh Muhammad Jalandhari

The example of what they spend in this worldly life is like that of a wind containing frost which strikes the harvest of a people who have wronged themselves and destroys it. And Allah has not wronged them, but they wrong themselves.

— Saheeh International

Juz 4 · Ruku 12 of surah · Ruku 3 of juz

Read the whole surah · Surah Aal-i-Imraan

All translations of 3:117

جو کچھ وہ اپنی اس دنیا کی زندگی میں خرچ کر رہے ہیں اُس کی مثال اُس ہوا کی سی ہے جس میں پالا ہو اور وہ اُن لوگوں کی کھیتی پر چلے جنہوں نے اپنے اوپر ظلم کیا ہے اور اسے برباد کر کے رکھ دے اللہ نے ان پر ظلم نہیں کیا در حقیقت یہ خود اپنے اوپر ظلم کر رہے ہیں

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

یہ جو مال دنیا کی زندگی میں خرچ کرتے ہیں اس کی مثال ہوا کی سی ہے جس میں سخت سردی ہو اور وہ ایسے لوگوں کی کھیتی پر جو اپنے آپ پر ظلم کرتے تھے چلے اور اسے تباہ کر دے اور خدا نے ان پر کچھ ظلم نہیں کیا بلکہ یہ خود اپنے اوپر ظلم کر رہے ہیں

— مولانا فتح محمد جالندہری

یہ کفار جو خرچ اخراجات کریں اس کی مثال یہ ہے کہ ایک تند ہوا چلی جس سے پاﻻ تھا جو ﻇالموں کی کھیتی پر پڑا اور اسے تہس نہس کر دیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان پر ﻇلم نہیں کیا بلکہ وه خود اپنی جانوں پر ﻇلم کرتے تھے

— مولانا محمد جوناگڑہی

جو کچھ یہ لوگ دنیوی زندگی میں خرچ کرتے ہیں، اس کی مثال ایسی ہے جیسے ایک سخت سردی والی تیز ہوا ہو جو ان لوگوں کی کھیتی کو جا لگے جنہوں نے اپنی جانوں پر ظلم کر رکھا ہو اور وہ اس کھیتی کو برباد کردے۔ ان پر اللہ نے ظلم نہیں کیا، بلکہ وہ خود اپنی جانوں پر ظلم کرتے رہے ہیں۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

کہاوت اس کی جو اس دنیا میں زندگی میں خرچ کرتے ہیں اس ہوا کی سی ہے جس میں پالا ہو وہ ایک ایسی قوم کی کھیتی پر پڑی جو اپنا ہی برا کرتے تھے تو اسے بالکل مارگئی اور اللہ نے ان پر ظلم نہ کیا ہاں وہ خود اپنی جانوں پر ظلم کرتے ہیں،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

(یہ لوگ) جو مال (بھی) اس دنیا کی زندگی میں خرچ کرتے ہیں اس کی مثال اس ہوا جیسی ہے جس میں سخت پالا ہو (اور) وہ ایسی قوم کی کھیتی پر جا پڑے جو اپنی جانوں پر ظلم کرتی ہو اور وہ اسے تباہ کر دے، اور اللہ نے ان پر کوئی ظلم نہیں کیا بلکہ وہ خود اپنی جانوں پر ظلم کرتے ہیں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اس کی مثال جو وہ اس دنیا کی زندگی میں خرچ کرتے ہیں، اس ہوا کی مثال جیسی ہے جس میں سخت سردی ہے، جو ایسے لوگوں کی کھیتی کو آپہنچی جنھوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا، تو اس نے اسے برباد کردیا اور اللہ نے ان پر ظلم نہیں کیا اور لیکن وہ (خود) اپنی جانوں پر ظلم کر رہے ہیں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

یہ کافر لوگ جو کچھ اس دنیوی زندگی میں خرچ کرتے ہیں (صدقہ خیرات وغیرہ) اس کی مثال اس ہوا کی سی ہے جس میں پالا ہو اور یہ ہوا ایسے لوگوں کی کھیتی پر جا پہنچے، جنہوں نے اپنے آپ پر ظلم کیا ہو اس کھیتی کو تباہ کر ڈالے۔ ایسے لوگوں پر اللہ ظلم نہیں کرتا بلکہ وہ خود ہی اپنے آپ پر ظلم کرتے ہیں

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

یہ جو کچھ اس دنیا میں خرچ کرتے ہیں اس کی تمثیل ایسی ہے کہ کسی ایسی قوم کی کھیتی پر جس نے اپنے اوپر ظلم کیا ہو، پالے والی ہوا چل جائے اور وہ اس کو تباہ کر کے رکھ دے۔ اللہ نے ان پر ظلم نہیں کیا۔ بلکہ یہ خود اپنی جانوں پر ظلم ڈھاتے رہے ہیں۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

مثال اس کی جو یہ (کافر) لوگ خرچ کرتے ہیں اس دنیا کی زندگی میں، ایسی ہے جیسے کہ ایک ہوا ہو جس میں پالا (سخت سردی) ہو، جو آپڑے ایسے لوگوں کی کسی کھیتی پر، جنہوں نے ظلم ڈھایا ہو اپنی جانوں پر، اور وہ ہلاک و برباد کر کے رکھ دے اس کھیتی کو، اور اللہ (سبحانہ وتعالیٰ) نے ان پر کوئی ظلم نہیں کیا، مگر یہ لوگ اپنی جانوں پر خود ہی ظلم کرتے رہتے تھے

— مولانا اسحاق مدنی

یہ جو کچھ اس دنیوی زندگی میں خرچ کرتے ہیں اس کی مثال تو ایسی ہے کہ جیسے ایک ہوا ہے جس میں سخت سردی ہے (اور) وہ ایسے لوگوں کی کھیتی کو لگ جائے جنہوں نے اپنی جانوں پر ظلم کر رکھا ہے۔ پھر وہ (ہو ا) اس (کھیتی) کو برباد کردے تو اللہ نے ان پر ظلم نہیں کیا بلہ وہ خود اپنی جانوں پر ظلم کرتے ہیں۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

دنیا کی اس زندگی میں یہ لوگ جو بھی خرچ کرتے ہیں اس کی مثال ایسی ہے کہ جیسے ایک زور دار آندھی جس میں پالا ہو وہ کسی ایسی قوم کی کھیتی کو آپڑے جس نے اپنی جانوں پر ظلم کیا ہو پھر وہ اس (کھیتی) کو تباہ و برباد اور تہس نہس کر کے رکھ دے اور ان پر اللہ نے کوئی ظلم نہیں کیا بلکہ وہ اپنی جانوں پر خود ظلم ڈھا رہے ہیں

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

جو کچھ وہ اپنی اس دنیا کی زندگی میں خرچ کر رہے ہیں۔ اس کی مثال اس ہوا کی سی ہے جس میں پالا ہو اور وہ ان لوگوں کی کھیتی پر چلے جنہوں نے اپنے اوپر ظلم کیا ہے اور اسے برباد کرکے رکھ دے۔ اللہ نے ان پر ظلم نہیں کیا بلکہ یہ خود اپنے اوپر ظلم کر رہے ہیں

— محترمہ رفعت اعجاز

The example of what they spend in the life of this world is like that of a wind accompanied with frost which smites the harvest of a people who wronged themselves, and lays it to waste. It is not Allah who wronged them; rather it is they who wrong themselves.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

The example of what they spend in this worldly life is just like a wind that, having chill within, struck the tillage of those who wronged themselves, and destroyed it. Allah has not wronged them; rather, they did wrong to themselves.

— Muhammad Taqi Usmani

The example of what they spend in this worldly life is just like a wind that, having chill within, struck the tillage of those who wronged themselves, and destroyed it. Allah has not wronged them; rather, they did wrong to themselves.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

The parable of what they spend in this world is that of a wind of Sir; it struck the harvest of a people who did wrong against themselves and destroyed it. Allah wronged them not, but they wronged themselves.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

The likeness of that which they spend in this life of the world is as the likeness of a biting, icy wind which smiteth the harvest of a people who have wronged themselves, and devastateth it. Allah wronged them not, but they do wrong themselves.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

The example of what they spend in this worldly life is like that of a wind containing frost which strikes the harvest of a people who have wronged themselves and destroys it. And Allah has not wronged them, but they wrong themselves.

— Saheeh International

What they spend in this life is like the freezing wind that may strike and destroy the farms of the people who have wronged themselves. God has not done injustice to them, but they have wronged themselves.

— Muhammad Sarwar

The likeness of what they spend in the life of this world is as the likeness of wind in which is intense cold (that) smites the seed produce of a people who have done injustice to their souls and destroys it; and Allah is not unjust to them, but they are unjust to themselves.

— Muhammad Habib Shakir

The likeness of that which they expend in this life of the world is as the likeness of a wind wherein is intense cold, it befalleth the tilth of a people who have wronged themselves, and destroyeth it. Allah wronged them not, but themselves they wrong.

— Abdul Majid Daryabadi

What they spend in the life of this (material) world May be likened to a wind which brings a nipping frost: It strikes and destroys the harvest of men who have wronged their own souls: it is not Allah that hath wronged them, but they wrong themselves.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 3:117

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 113–117

ظلم نہیں سزا حضرت ابن مسعود ؓ فرماتے ہیں اہل کتاب اور اصحاب محمد ﷺ برابر نہیں، مسند احمد میں ہے رسول اللہ ﷺ نے عشاء کی نماز میں ایک مرتبہ دیر لگا دی پھر جب آئے تو جو اصحاب منتظر تھے ان سے فرمایا کسی دین والا اس وقت تک اللہ کا ذکر نہیں کر رہا مگر صرف تم ہی اللہ کے ذکر میں ہو اس پر یہ آیت نازل ہوئی لیکن اکثر مفسرین کا قول ہے کہ اہل کتاب کے علماء مثلاً حضرت عبداللہ بن سلام حضرت اسد بن عبید، حضرت ثعلبہ بن شعبہ وغیرہ کے بارے میں یہ آیت آئی کہ یہ لوگ ان اہل کتاب میں شامل نہیں جن کی مذمت پہلے گزاری، بلکہ یہ باایمان جماعت امر اللہ پر قائم شریعت محمدیہ کی تابع ہے استقامت و یقین اس میں ہے یہ پاکباز لوگ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 113–117

سورة اٰلِ عِمْرٰن 91 اس مثال میں کھیتی سے مراد یہ کشت حیات ہے جس کی فصل آدمی کو آخرت میں کاٹنی ہے۔ ہوا سے مراد وہ اوپری جزبہ خیر ہے جس کی بنا پر کفار رفاہ عام کے کاموں اور خیرات وغیرہ میں دولت صرف کرتے ہیں۔ اور پالے سے مراد صحیح ایمان اور ضابطہ خداوندی کی پیروی کا فقدان ہے جس کی وجہ سے ان کو پوری زندگی غلط ہو کر رہ گئی ہے۔ اللہ تعالیٰ اس تمثیل سے یہ بتانا چاہتا ہے کہ جس طرح ہوا کھیتیوں کی پرورش کے لیے مفید ہے لیکن اگر اسی ہوا میں پالا ہو تو کھیتی کو پرورش کرنے کے بجائے اسے تباہ کر ڈالتی ہے، اسی طرح خیرات بھی اگرچہ انسان کے مزرعہ آخرت کو پرورش کرنے والی چیز ہے، مگر جب اس کے اندر کفر کا زہر ملا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 113–117

ربط آیات اوپر اہل کتاب کے متعلق بیان ہوا تھا کہ ان میں کچھ لوگ مسلمان بھی ہیں اور زیادہ کافر ہیں، اسی مضمون کی مزید تفصیل ان آیات میں ہے۔ خلاصہ تفسیر یہ (اہل کتاب) سب برابر نہیں (بلکہ) ان (ہی) اہل کتاب میں ایک جماعت وہ بھی ہے جو (دین حق پر) قائم ہیں (اور) اللہ کی آیتیں (یعنی قرآن) اوقات شب میں پڑھتے تھے اور وہ نماز بھی پڑھتے ہیں (اور) اللہ پر اور قیامت والے دن پر (پورا پورا) ایمان رکھتے ہیں اور (دوسروں کو) نیک کام بتلاتے ہیں اور بری باتوں سے روکتے ہیں اور نیک کاموں میں دوڑاتے ہیں اور یہ لوگ (اللہ کے نزدیک) شائستہ لوگوں میں (شمار کئے جاتے ہیں) اور یہ لوگ جو نیک کام کریں گے اس (کے ثواب) سے…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

اس دنیا کی زندگی میں اپنی رسمی دینداری کی نمائش کے لیے جو کچھ یہ خرچ کرتے ہیں، یہ خرچ کرنا بھی آخرت میں ان کے لیے کچھ سود مند نہیں۔ ان کے اس خرچ کی تمثیل اس کھیتی کی ہے جس پر پالے والی ہوا چل جائے اور وہ اس کو برباد کر کے رکھ دے۔ کفر و شرک کے ساتھ جو کام نیکی اور دینداری کی نوعیت کے کیے جاتے ہیں وہ سب اکارت جاتے ہیں۔ کفر و شرک ٹھنڈی آگ ہے جو ساری محنت کو راکھ کا ڈھیر بنا کے رکھ دیتی ہے۔ اوپر والی آیت میں بیان ہوا تھا کہ جو اہل کتاب اپنے ایمان پر قائم رہے اور قرآن کے نزول کے بعد قرآن پر بھی ایمان لائے ان کی پچھلی نیکیاں بھی سب شرف قبولیت پائیں گی۔ اس آیت میں واضح فرمایا ہے کہ جو لوگ نہ اپنے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 116–117

117۔ 1 قیامت والے دن کافروں کے نہ مال کچھ کام آئیں گے نہ اولاد، حتیٰ کے رفاہی اور بظاہر بھلائی کے کاموں پر جو بھی خرچ کرتے ہیں وہ بیکار جائیں گے اور ان کی مثال اس سخت پالے کی سی ہے جو ہری بھری کھیتی کو جلا کر خاکستر کردیتا ہے ظالم اسی کھیتی کو دیکھ کر خوش ہو رہے ہوتے اور اس سے نفع کی امید رکھے ہوتے ہیں کہ اچانک ان کی امیدیں خاک میں مل جاتی ہیں۔ اس سے معلوم ہوا جب تک ایمان نہیں ہوگا، رفاہی کاموں پر رقم خرچ کرنے والوں کی چاہے دنیا میں کتنی ہی شہرت ہوجائے آخرت میں انہیں ان کا کوئی صلہ نہیں ملے گا، وہاں تو ان کے لئے جہنم کا دائمی عذاب ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 114–117

تشریح : کافر لوگ جو کچھ خیرات کرتے ہیں اللہ تعالیٰ اس کا صلہ انہیں دنیا ہی میں دے دیتے ہیں ان کے کفر کی وجہ سے، اس کا ثواب آخرت میں نہیں ملتا، لہذا ان کے خیراتی اعمال کی مثال ایک کھیتی کی ہے اور ان کے کفر کی مثال اس تیز آندھی کی ہے جس میں پالا بھی ہو اور وہ اچھی خاصی کھیتی کو برباد کرڈالے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

ہم ایک ایسے مقام پر کھڑے ہیں جس کے سامنے ایک ہر ابھرا کھیت ہے ‘ اس کی فصل کٹائی کے لئے تیار ہے ۔ کھیت لہلہارہا ہے ۔ اچانک تیز ہوا چلتی ہے ‘ یہ نہایت سرد برفانی ہوا ہے ‘ شدید سردی کی وجہ سے تیار فصل جل جاتی ہے ‘ یہ دیکھا گیا ہے کہ شدت برودت کی وجہ سے فصل جھلس جاتی ہے ۔ الفاظ اسی طرح استعمال ہوئے ہیں کہ گویا اس کھیت پر بڑی تیزی اور قوت کے ساتھ سنگ باری ہوتی ہے اور پورے پورے کھیت کو برباد اور خراب کردیا جاتا ہے ۔ چشم زدن میں یہ پورا عمل سر انجام پاتا ہے ۔ آناً فاناً کھیت ملیا میٹ اور خراب ہوجاتا ہے ۔ یہی مثال اس دنیا میں ان لوگوں کے انفاق کی ہے جو کافر ہیں ‘ اگرچہ وہ بظاہر کارخیر اور اچھے مقاصد…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 116–117

1 صالحین و متقین کے بالمقابل یہاں کافروں کے حال و انجام کا ذکر فرماتے ہیں پہلے فرمایا تھا (وَمَا يَفْعَلُوْا مِنْ خَيْرٍ فَلَنْ يُّكْفَرُوْهُ ) 3 ۔ آل عمران :115) کی ادنیٰ ترین نیکی بھی کام آئے گی۔ انکے کسی بھلے کام کی بےقدری نہیں کی جائے گی۔ اسکے برخلاف کافر جو کچھ مال و قوت دنیا میں خرچ کرے، خواہ اپنے نزدیک بڑا ثواب اور خیرات کا کام سمجھ کر کرتا ہو، آخرت میں اسکی کوئی قدر و قیمت اور پرسش نہیں۔ کیونکہ ایمان و معرفت صحیحہ کی روح نہ ہونے سے اس کا ہر ایک عمل بےجان اور مردہ ہے۔ اسکی جزاء بھی ایسی ہی فانی و زائل اس دارفانی میں مل ملا رہے گی۔ عمل کی ابدی حفاظت کرنے والی چیز ایمان و ایقان ہے اس کے…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 117 مَثَلُ مَا یُنْفِقُوْنَ فِیْ ہٰذِہِ الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا قریش مکہ اہل ایمان کے خلاف جو جنگی تیاریاں کر رہے تھے تو اس کے لیے مال خرچ کرتے تھے۔ فوج تیار کرنی ہے تو اس کے لیے اونٹ اور دیگر سواریوں کی ضرورت ہے ‘ سامان حرب و ضرب کی ضرورت ہے ‘ تو ظاہر ہے اس کے لیے مال تو خرچ ہوگا۔ یہ اس انفاق مال کی طرف اشارہ ہے کہ یہ لوگ دنیا کی زندگی میں جو کچھ خرچ کرتے ہیں یا تو دین کی مخالفت کے لیے یا اپنے جی کو ذرا جھوٹی تسلی دینے کے لیے کرتے ہیں کہ ہم کچھ صدقہ و خیرات بھی کرتے ہیں ‘ چاہے ہمارا کردار کتنا ہی گرگیا ہو۔ تو ان کے انفاق کی مثال ایسی ہے : کَمَثَلِ رِیْحٍ فِیْہَا صِرٌّ اَصَابَتْ حَرْثَ…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

105 یہ دنیا دارالعمل ہے اور آخرت دارالجزا ہے۔ اس دنیا میں انسان جو کچھ بوئے گا وہ عالم آخرت میں کاٹے گا۔ مگر دنیا میں بوئی ہوئی کھیتی کی بار آوری کے لیے چند شرائط ہیں۔ ان شرائط کو اگر ملحوظ نہ رکھا جائے تو کھیتی کبھی بار آور نہ ہوگی اور وہ شرائط ہیں۔ اللہ اور روز آخرت پر ایمان، خلوص نیت یعنی اس میں ریا کا شائبہ تک نہ ہو اور جو کام کیا جائے خالص اللہ کی رضا مندی کے لیے کیا جائے اور تیسرے اتباع کتاب و سنت یعنی وہ کام یا صدقہ و خیرات جو شریعت کی بتلائی ہوئی ہدایت کے مطابق کیا جائے۔ ان میں سے اگر کوئی چیز بھی مفقود ہوگی تو آخرت میں کچھ بھی حاصل نہ ہوگا۔ اس آیت میں جن کافروں کے متعلق کہا گیا ہے کہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

240 ۔ آسان اور عام فہم مثال میں ان لوگوں کے مال کے ضائع جانے کو بیان کیا ہے جو ایمان سے محرومی کی حالت میں اس دنیا کے حصول کے لیے، ریاوناموری کے لیے اپنی دولت خرچ کرتے رہتے ہیں۔ (آیت) ” کمثل “۔ مثال ضائع جانے اور عبث ہونے میں ہے۔ (آیت) ” صر “۔ سخت ٹھنڈی چیز کو کہتے ہیں جیسے پالا یا برف، قال ابن عباس الصر البرد الشدید (قرطبی) قال اکثر المفسرین واھل اللغۃ الصر البرد الشدید۔ قال ابن زید (کبیر) (آیت) ” ظلموا انفسھم “۔ اپنے ہاتھوں اپنی جان پر ظلم کیا، یعنی کفر اور بےدینی کر کرکے۔ (آیت) ” ما ظلمھم اللہ “۔ اللہ نے ان پر کوئی ظلم نہیں کیا کہ ان کے صرف مال کو خواہ مخواہ لا حاصل اور ضائع کردیا۔ (آیت) ”…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 114–117

مَثَلُ مَایُنْفِقُوْنَ فِیْ ھٰذِہِ الْحَیَاۃِ الدُّنْیَا (الآیۃ) ایک عام فہم اور ظاہر مثال سے یہ سمجھایا گیا ہے کہ قیامت کے دن کافروں کے نہ کچھ مال کام آئے گا اور نہ اولاد حتیٰ کہ رفاہی اور ظاہری بھلائی کے کاموں پر جو خرچ کرتے ہیں وہ بھی بےکار ہوجائیں گے اور ان کی مثال اس سخت پالے کی سی ہے جوہری بھری کھیتی کو جلا کر خاکستر کردیتا ہے ظالم اس کھیتی کو دیکھ کر خوش ہو رہے ہوتے ہیں اور اس سے نفع کی امید رکھتے ہیں کہ اچانک ان کی امیدیں خاک میں مل جاتی ہیں۔ اس مثال میں کھیتی سے مراد کشت حیات ہے جس کی فصل آدمی کو آخرت میں کاٹنی ہے۔ (الدنیا مزرعۃ الآخرۃ) ۔ ” ہوا “ سے مراد اوپرہ جذبہ خیر ہے جس کی بنا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

مثل ما ینفقون فی ھذہ الحیوۃ الدنیا ما مصدری ہے یعنی خرچ کرنا مراد یہ ہے کہ رسول اللہ کی دشمنی میں یا شیخی اور فخر کا مظاہرہ کرنے کے لیے خرچ کرنا جیسے کفار قریش لڑائیوں میں کرتے ہیں یا ثواب کی امید میں خرچ کرنا جیسے یہودی اپنے علماء کے لیے اور کفار قریش بتوں کے لیے کرتے تھے یا دکھاوٹ کے لیے خرچ کرنا جیسے منافق کرتے تھے اس کی حالت ایسی ہے۔ کمثل ریح فیھا صر جیسے وہ ہوا جس میں سخت سردی ہے۔ صِرٌّ سخت سردی۔ (قاموس) ایک روایت میں حضرت ابن عباس کا قول آیا ہے کہصرسخت گرم اور ہلاک کردینے والی لو کو کہتے ہیں۔ اصابت حرث قوم ظلموا انفسھم فاھلکتہ کسی ایسے گروہ کی کھیتی کو لگ جائے جس نے کفر و معصیت و بد…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(117) یہود یہودیت کے زمانہ میں جو خرچ کرتے ہیں اسکی مثال سخت ٹھنڈی یا بہت گرم ہوا کی طرح ہے جو ایسے لوگوں کی کھیتی کو لگے جو اللہ تعالیٰ کے حقوق کی ادائیگی سے غافل ہیں، پھر وہ اس کو چلا کر راکھ کردے جیسے اس طرح کی آندھی کھیتی کو برباد کردیتی ہے، اسی طرح شرک تمام خرچ کیے ہوئے مال کو ہلاک کردیتا ہے۔ (یعنی ایسا مال بارگاہ الہی میں قبول نہیں ہوتا) اپنی کھیتیوں اور ظاہری صدقہ خیرات کے منافع کفر کی وجہ سے اور کھیتی میں سے اللہ کے حق کی ادائیگی نہ کرنے کی بنا پر اور مال برباد ہونے کی وجہ سے یہ لوگ اپنا ہی نقصان کررہے ہیں۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 116–117

لَنْ تُغْنِىَ عَنْھُمْ اَمْوَالُھُمْ۔۔ : یعنی جو مال خرچ کیا اور اللہ کی رضا پر نہ دیا، آخرت میں دیا نہ دیا برابر ہے۔ (موضح) عام طور پر مصیبت کے وقت اولاد انسان کے کام آتی ہے، مگر اس وقت کفار کی اولاد ان کے کسی کام نہیں آئے گی۔ اوپر کی آیات میں مومن اور متقی کے نیک اعمال کا انجام ذکر فرمایا کہ ان کی ادنیٰ سے ادنیٰ نیکی بھی ضائع نہیں ہوگی، بلکہ اس کا پورا پورا بدلہ ملے گا، اب اس آیت میں کافر کے صدقہ و خیرات اور رفاہی کاموں کو آخرت میں بےفائدہ اور ضائع ہونے کے اعتبار سے ان لوگوں کی کھیتی سے تشبیہ دی ہے، جنھوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا، جو کھیتی دیکھنے میں سرسبز و شاداب نظر آئے لیکن درمیانی فاصلہ…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیت نمبر : 117۔ قولہ تعالیٰ : (آیت) ” مثل ما ینفقون فی ھذہ الحیوۃ الدنیا کمثل ریح فیھا صر “۔ اس میں مایہ صلاحیت بھی رکھتا ہے کہ وہ مصدر یہ ہو اور یہ بھی کہ وہ بمعنی الذی ہو، اور ضمیر عائد محذوف ہے، یعنی مثل ما ینفقونہ۔ اور کمثل ریح کا معنی ہے، کمثل مھب ریح (ہوا چلنے کی طرح) حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا ہے : الصر ‘ کا معنی سخت ٹھنڈک ہے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس کی صل الصریر ہے جس کا معنی آواز ہے، پس مراد شدید ہوا کی آواز ہے۔ زجاج نے کہا ہے : یہ اس آگ کے بھڑکنے کی آواز ہے جو اس ہوا میں ہو، یہ معنی سورة البقرہ میں گزر چکا ہے اور حدیث طیبہ میں ہے : بلاشبہ اس مکڑی کو کھانے سے منع کیا گیا ہے جسے سخت…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 114–117

(1) عبد بن حمید، ابن جریر، ابن ابی حاتم اور ابن المنذر نے مجاہد (رح) سے لفظ آیت ” مثل ما ینفقون فی ھذہ الحیوۃ الدنیا “ کے بارے میں روایت کیا ہے کہ یہ دنیا میں کافر کے خرچ کرنے کی مثال ہے۔ (2) ابن جریر وابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا ہے کہ مثال اس چیز کی جو مشرک خرچ کرتے ہیں اور ان سے قبول نہیں کیا جاتا جیسے مثال اس کھیتی کی جب ایک ظالم قوم نے اس کو بویا پھر اس کو ایسی ہوا پہنچ گئی جس میں سخت سردی تھی جس نے اس کو ملیا میٹ کردیا پس اسی طرھ ان مشرکوں نے جو مال خرچ کیا شرک نے اس کو ہلاک کردیا۔ (3) سعید بن منصور، فریابی، عبد بن حمید، ابن جریر، ابن المنذر اور ابن ابی حاتم…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[مَثَلُ مَا : اس کی مثال جو ] [یُنْفِقُوْنَ : وہ لوگ خرچ کرتے ہیں ] [فِیْ ہٰذِہِ الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا : اس دنیوی ] [زندگی میں ] [کَمَثَلِ رِیْحٍ : ایک ایسی ہوا کی مثال کی مانند ہے ] [فِیْہَا : جس میں ] [صِرٌّ : کچھ پالا ہے ] [اَصَابَتْ : وہ آن لگی ] [حَرْثَ قَوْمٍ : ایک ایسی قوم کی کھیتی کو ] [ظَلَمُوْآ : جنہوں نے ظلم کیا ] [اَنْفُسَہُمْ : اپنے آپ پر ] [فَاَہْـلَـکَتْہُ : پھر اس نے ہلاک کیا اس کو ] [وَمَا ظَلَمَہُمُ : اور ظلم نہیں کیا ان پر ] [اللّٰہُ : اللہ نے ] [وَلٰــکِنْ : اور لیکن (یعنی بلکہ) ] [اَنْفُسَہُمْ : اپنے آپ پر ] [یَظْلِمُوْنَ : وہ لوگ (خود ہی) ظلم کرتے ہیں ] ص ر ر صَرَّ (ن)…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 116–117

کافروں کے اموال اور اولاد عذاب سے نہ بچا سکیں گے پہلی آیت میں تو یہ فرمایا کہ اہل کفر پر جب اللہ کا عذاب آئے گا تو ان کے مال اور اولاد کچھ بھی نفع نہ دے سکیں گے یہ لوگ اپنے کفر کی وجہ سے دوزخی ہیں اور دوزخ میں ہمیشہ رہیں گے۔ سورة آل عمران کے رکوع 2 کے شروع میں بھی یہ مضمون گزر چکا ہے۔ پھر ان لوگوں کے اخراجات اور نفقات کے بارے میں فرمایا کہ یہ لوگ خرچ کرتے ہیں اور ان اخراجات میں وہ اموال بھی ہیں جو رسول اللہ ﷺ کی دشمنی میں خرچ کیے جاتے ہیں۔ ان اخراجات کی مثال ایسی ہے جیسے کسی ایسی قوم کی کھیتی ہو جنہوں نے کفر اور معاصی کے ذریعہ اپنی جانوں پر ظلم کیا ہو۔ اس کھیتی پر اللہ تعالیٰ نے ہوا بھیج دی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 102–117

قال تعالی۔ یا ایھا الذین۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تا۔۔۔۔ ترجع الامور۔ آیت۔ ربط) گزشتہ آیات میں اللہ نے باہمی قتال وشقاق کو تکفرون یعنی کفر سے تعبیر فرمایا اب آئندہ آیت میں تقوی اور اعتصام بحبل اللہ یعنی اتفاق اور اتحاد اور اسلامی مواخات کا حکم دیتے ہیں اور اتفاق اور اتحاد کا ایک دستور العمل بتلاتے ہیں وہ یہ کہ اول تقوی اور اسلام پر مداومت اور استقامت کا حکم دیا اور پھر اعتصام بحبل اللہ کا حکم فرمایا کہ سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوط پکڑو پھر یہ ارشاد فرمایا، واذکر نعمتہ اللہ علیکم۔ الخ۔ آیت۔ جس میں حکم دیا کہ اتفاق اور اتحاد کی نعمت کو یاد کرو، اور اس نعمت کو اور اس کی برکات کو یاد کرکے موازنہ کرو کہ پہلے…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

176 صِرٌّ کے معنی شدید سردی کے ہیں جیسا کہ حضرت ابن عباس سے منقول ہے الصر البرد الشدید (قرطبی ص 177 ج 4، روح ص 36 ج 4، کبیر ص 51 ج 3) اور ظَلَمُوْ اَنْفُسَھُمْ میں ظلم سے مراد یہ ہے کہ انہوں نے شرک اور کفر وعصیان کے ذریعے اپنی جانوں پر ظلم کیا۔ اور ہلاکت و خسران کے مستحق ہوئے۔ ظلموا انفسھم بالکفر والمعاصی ومنع حق اللہ تعالیٰ فیہ (معالم و خازن ص 342 ج 1) حضرت شیخ کی تفسیر کے مطابق انفاق سے یہاں یہودیوں کے پیروں کا مریدوں پر اور مریدوں کا پیروں پر خرچ کرنا مراد ہے۔ نفقۃ الیہود علی علمائھم (جامع البیان ص 59) پہلے گذر چکا ہے کہ آخرت میں کفار کو ان کے مال ومنال سے کوئی فائدہ نہیں پہنچے گا تو یہاں…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 116–117

ربط آیات : اس سے پہلے اللہ تعالیٰ نے اہل کتاب کی عداوت کا ذکر کر کے ان کی مزمت بیان فرمائی۔ پھر فرمایا ان میں سارے کے سارے برابر نہیں ہیں ، بلکہ بعض اہل کتاب منصف مزاج بھی ہیں ، جو اللہ تعالیٰ اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتے ہیں ، نیکی کا حکم کرتے ہیں اور برائی سے روکتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ ان کی نیکیوں کی قدر کرتا ہے ، اور تمام متقیوں کی نیت ، ارادے اور اعمال کو بھی جانتا ہے۔ اب آج کے درس میں اللہ تعالیٰ نے کفر کرنے والوں کی مذمت بیان کی ہے پہلے اہل کتاب کی مذمت بیان ہوئی ہے اور وہ وجوہات بھی بیان ہوئی ہیں جن کی وجہ سے وہ سرکشی کرتے تھے۔ پھر ان میں سے بعض کی مدح کا تذکرہ ہوا ہے اور اب کفر کرنے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

مَثَلُ مَا يُنْفِقُوْنَ فِيْ ھٰذِہِ الْحَيٰوۃِ الدُّنْيَا كَمَثَلِ رِيْحٍ فِيْھَا صِرٌّ اَصَابَتْ حَرْثَ قَوْمٍ ظَلَمُوْٓا اَنْفُسَھُمْ فَاَھْلَكَتْہُ۝ 0 ۭ وَمَا ظَلَمَھُمُ اللہُ وَلٰكِنْ اَنْفُسَھُمْ يَظْلِمُوْنَ۝ 117 مثل والمَثَلُ عبارة عن قول في شيء يشبه قولا في شيء آخر بينهما مشابهة، ليبيّن أحدهما الآخر ويصوّره . فقال : وَتِلْكَ الْأَمْثالُ نَضْرِبُها لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ يَتَفَكَّرُونَ [ الحشر/ 21] ، وفي أخری: وَما يَعْقِلُها إِلَّا الْعالِمُونَ [ العنکبوت/ 43] . ( م ث ل ) مثل ( ک ) المثل کے معنی ہیں ایسی بات کے جو کسی دوسری بات سے ملتی جلتی ہو ۔ اور ان میں سے کسی ایک کے ذریعہ دوسری کا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 117–120

ترکیب : مثل مبتدا کمثل ریح خبر اصابت الخ صفت ہے ریح کی بطانۃ مفعول ہے لا تتخذوا کا من دونکم فعل سے متعلق ہو کر صفت ہے بطانۃ کی اسی طرح لا یا لونکم خبالا تمیز ہے علیکم مفعول عضوا لانامل مفعول ثانی۔ تفسیر : بطانۃ کفار حرام ہے : پہلی آیت میں تھا کہ کفار کو ان کا مال کچھ نفع آخرت میں نہ دے گا۔ اس پر شبہ گذرتا تھا کہ کیوں نہ دے گا حالانکہ وہ غریب یتیم فقیر بےکس کو للہ دیتے ہیں۔ اس کا جواب دیا جاتا ہے کہ ان کے صرف کرنے کی ایسی مثال ہے کہ جیسا کوئی کھیتی کرے یا باغ لگائے۔ پھر اس کو ہوا اور پالا مار جاوے اور وہ خراب ہوجائے۔ اسی طرح ان کا لیا دیا بیشک کھیتی اور آخرت کے لئے باغ ہے کہ جس سے انتفاع کی…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 116–117

اِنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا لَنْ تُغْنِیَ عَنْہُمْ اَمْوَالُہُمْ وَلَآ اَوْلَادُہُمْ مِّنَ اللّٰہِ شَیْئًا ط وَاُوْلٰٓئِکَ اَصْحٰبُ النَّارِ ج ہُمْ فِیْہَا خٰلِدُوْنَ ۔ مَثَلُ مَایُنْفِقُوْنَ فِیْ ھٰذِہِ الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا کَمَثَلِ رِیْحٍ فِیْہَا صِرٌّ اَصَابَتْ حَرْثَ قَوْمٍ ظَلَمُوْٓا اَنْفُسَہُمْ فَاَہْلَـکَتْہُ ط وَمَا ظَلَمَہُمُ اللّٰہُ وَلٰـکِنْ اَنْفُسَہُمْ یَظْلِمُوْنَ ۔ (بےشک جن لوگوں نے کفر اختیار کیا ہرگز نہ بچا سکیں گے انھیں ان کے مال اور نہ ان کی اولاد اللہ (کے عذاب) سے ذرہ بھر اور وہ دوزخی ہیں، وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔ مثال اس کی جو وہ خرچ کرتے ہیں اس دنیوی زندگی میں ایسی ہے…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 117–118

فہم القرآن ربط کلام : جو لوگ اسلام اور مسلمانوں کے خلاف مال خرچ کریں اور ہر قسم کی دشمنی روا رکھیں ان کے ساتھ قلبی دوستی سے منع کیا گیا ہے۔ مسلمانوں کو کفار اور اہل کتاب کے بارے میں مسلسل بتلایا جا رہا ہے کہ ان کی خواہش اور کوشش ہے کہ وہ تمہیں دین حق سے پھیر دیں۔ اب دو ٹوک انداز میں حکم دیا گیا ہے کہ انہیں اپنا راز دان بنانے کی کوشش نہ کرنا یہ دین اسلام سے منحرف کرنے کے ساتھ چاہتے ہیں کہ تمہیں ہر قسم کا نقصان پہنچے یہ تمہاری ذات اور دین کے دشمن ہیں، کئی بار اپنی زبان سے حسد و بغض کا اظہار کرچکے ہیں۔ ان کے سینوں میں حسد اور دشمنی کی جو آگ بھڑک رہی ہے اس کا تم تصور بھی نہیں کرسکتے۔ ہم نے تمہارے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

دنیوی زندگی میں کفار کے خرچ کرنے کی مثال : 117: مَثَلُ مَا یُنْفِقُوْنَ فِیْ ھٰذِہِ الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا کَمَثَلِ رِیْحٍ فِیْھَا صِرٌّ اَصَابَتْ حَرْثَ قَوْمٍ ظَلَمُوْٓا اَنْفُسَھُمْ فَاَھْلَکَتْہُ وَمَا ظَلَمَھُمُ اللّٰہُ وَلٰکِنْ اَنْفُسَھُمْ یَظْلِمُوْنَ ۔ (اس دنیا کی زندگی میں انکے خرچ کی مثال) یعنی جو وہ مفاخر، مکارم تعریف کروانے، لوگوں میں اچھا تذکرہ قائم کرنے کیلئے خرچ کرتے ہیں یا وہ مال جو کفر کے باوجود تقرب الی اللہ کیلئے خرچ کرتے ہیں۔ کَمَثَلِ رِیْحٍ (ہوا کی طرح ہے) یعنی ضائع کردہ مال۔ ہوا سے ہلاک شدہ کھیتی کی طرح ہے۔ یا ان کے مال کے ہلاک کرنے کی مثال ہوا کے ہلاک کرنے کی طرح ہے۔…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

(مثل ما ینفقون کی مختلف تعریفیں) 117۔ (آیت)” مثل ما ینفقون فی ھذہ الحیوۃ الدنیا “۔ نفقات سے مراد ابو سفیان اور ان کے ساتھیوں کا جنگ کا بدر اور احد میں نبی کریم ﷺ کی دشمنی میں مال کا خرچ کرنا ، ہے، مقاتل (رح) فرماتے ہیں کہ یہود کا اپنے علماء پر خرچ کرنے والا مال مراد ہے ، مجاہد (رح) فرماتے ہیں کہ کفار کے تمام نفقات و صدقات کا دنیا کی غرض کے لیے خرچ کرنا ہے، بعض نے کہا کہ یہ دکھاوئے کا خرچ مراد ہے جس میں اللہ کی رضا مقصود نہ ہو۔ (آیت)” کمثل ریح فیھا صر “۔ حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ کا قول ہے کہ سخت گرم اور ہلاک کردینے والی لو کو کہتے ہیں بعض نے کہا ” صر “ کے معنی آواز کے ہیں ۔ اکثر مفسرین کا…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 113–117

(113 ۔ 117) ۔ طبرانی اور ابن ابی حاتم اور ابن مندہ نے حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے روایت کی ہے کہ جب یہود میں سے عبد اللہ بن سلام و ثعلبہ بن شعبہ اور اسد بن عبد اور یہودی لوگ مسلمان ہوئے تو یہودی علماء نے ان مسلمانوں کی طرح طرح کی مذمت اپنی قوم کے لوگوں میں کرنی شروع کردی۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے ان مسلمان اہل کتاب کی تعریف میں ان مسلمانوں کا دل بڑہانے کی غرض سے یہ آیتیں نازل فرمائی 2۔ اور بعض مفسرین نے یہ شان نزول ان آیات کی جو بیان کی ہے کہ امت محمد ﷺ یہ اور اہل کتاب کے برابر نہ ہونے اور امت محمد ﷺ یہ کی تعریف میں یہ آیات نازل ہوئی ہیں اور مسند امام احمد بن حنبل میں حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

آیت 117 اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ کافروں کو ان کے مال اور ان کی اولاد اللہ کے ہاں کچھ کام نہ آئیں گی۔ یعنی اللہ کے عذاب سے بچانے میں یا اللہ سے ثواب کے حصول میں معمولی سا بھی فائدہ نہیں دیں گی۔ جیسے فرمان الٰہی ہے : (وما اموالکم ولا اولادکم بالتی تقربکم عندنا زلفی الا من امن وعمل صالحاً ) (سبا :38/37) ” یہ تمہارے مال اور تمہاری اولادیں ایسی نہیں کہ جو تمہیں ہمارا قرب بخش سکیں، لیکن جو ایمان لایا اور اس نے نیک عمل کئے (اسے قرب حاصل ہوگا) “ بلکہ ان کے مال و اولاد جہنم کی طرف سفر میں ان کا زاد راہ ہیں۔ اللہ کی نعمتوں میں اضافے کا تقاضا یہ ہے کہ ان کا شکر ادا کیا جائے، لیکن ان کے لئے یہ چیزیں…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 115–118

ذمیوں سے استعانت کا بیان قول باری ہے (یایھا الذین امنوالاتتخذوابطانۃ من دونکم لایألونکم خبالاؤدواماعنتم قدبدت البخضاء من افواھھم وماتخفی صدورھم اکبر، اے ایمان والو ! اپنی جماعت کے لوگوں کے سوادوسروں کو اپنا رازدانہ بناؤ۔ وہ تمہاری خرابی کے کسی موقعہ سے فائد ہ اٹھانے سے نہیں چوکتے۔ تمہیں جس چیز سے نقصان پہنچے وہی ان کو محبوب ہے۔ ان کے دل کا بعض ان کے منہ سے نکلاپڑتا ہے اور جو کچھ وہ اپنے سینوں میں چھپائے پھرتے ہیں وہ اس سے شدید تر ہے ) ابوبکرجصاص کہتے ہیں کہ انسان کا بطانہ، ان لوگوں کو کہاجاتا ہے جو اس کے خاص ہوتے ہیں اور اس پر اپنا حکم چلاسکتے ہیں نیز جن پر وہ اپنے معاملات میں بھروسہ کرسکتا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

241 اہل کفر و باطل کے خرچ کی آخرت میں کوئی حقیقت اور حیثیت نہیں : سو اس سے کافروں کے اس خرچ و انفاق کی حقیقت واضح فرما دی گئی جس کو وہ اپنے طور پر نیکی اور خیر سمجھ کر کرتے ہیں۔ اپنے طور پر یہ لوگ اس کو نیکی اور کمال سمجھتے ہیں { وَہُمْ یَحْسَبُوْنََ اَنَّہُمْ یُحْسِنُوْنَ صُنْعًا } الآیۃ (الکہف۔ 104) جیسے آج کل اہل کفر و باطل مختلف طریقوں سے اور مختلف کاموں اور پروگراموں پر، اپنے مال خرچ کرتے، اور دولت لٹاتے ہیں۔ ہسپتال بناتے، خیراتی ادارے قائم کرتے اور غریبوں محتاجوں میں روٹی کپڑا وغیرہ محتلف اشیاء تقسیم کرتے، اور اپنے طور پر مست و مگن ہیں کہ ہم ٹھیک ہیں۔ اور ہم نے سب کچھ پا لیا۔ مگر ایمان…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

کفار کا نیکی کے کاموں میں خرچ کرنا بیکار ہے تشریح : اس مثال کا مطلب یہ ہے کہ جس طرح ہوا کھیتوں کے لیے ضروری اور فائدہ مند ہوتی ہے لیکن اگر اسی ہوا میں پالا ہو تو وہ کھیتی کے لیے زہر ثابت ہوتی ہے کیونکہ اس سے فصل تباہ و برباد ہوجاتی ہے۔ اسی طرح خیرات اگرچہ بڑا اچھا عمل ہے لیکن اگر اس میں کفر کی شمولیت ہو، یعنی خیرات کرنے والا کافر ہے یا تو وہ ریا کار ہے تو وہ خیرات نقصان دہ ثابت ہوگی۔ کیونکہ جو شخص مال دینے والے (اللہ) کو ہی نہیں مانتا تو اس کا دیا ہوا مال وہ خیرات کرتا ہے یا لوگوں سے بدلہ چاہتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ اس نے اپنے مالک (اللہ) کا مال بغیر اس کی اجازت چرا لیا اور جہاں چاہا یا…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 110–120

آیات 110- 120 اسرارو معارف کنتم خیرامۃ……………واکثرھم الفسقون۔ تم سب سے اچھی امت ہو کہ آقائے نامدار ﷺ خیرالرسل ہیں اور قرآن کریم سب کتابوں سے اعلیٰ و افضل کتاب ہے۔ تم لوگ جنہیں آپ ﷺ سے نسبت حاصل ہے۔ اور اس کی برکت سے کتاب اللہ کو سمجھنے کی سعادت حاصل ہوئی ہے ایک ایسی سعادت ہے کہ ارشاد ہوا۔ اتممت علیکم نعمتی۔ کہ میں نے اپنی نعمت تم پر تمام کردی۔ تم ہی بہترین لوگ ہو۔ اتمام نعمت ایک ایسی عطا ہے جس کی حدود متعین کرنا انسان کے بس کی بات نہیں ہے اور اس پر مزید یہ کہ نعمت کا حصول بھی بیشک بہت بڑی بات ہے مگر اس کو دوسروں پر تقسیم کرنا اور بےحدوحساب بانٹنا بہت ہی بڑی شے ہے اور تمہیں تو بھیجا ہی اس لئے…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 115–117

ف 8 یعنی جو مال خرچ کیا اور اللہ تعالیٰ کی رضا پر نہ دیا آخرتے میں دیا نہ دیا برابر ہے ْ ۔ ( موضح) اوپر کی آیات میں مومن اور متقی کے نیک اعمال کا انجام ذکر فرمایا ہے کہ ان کی ادنی نیکی بھی ضائع نہیں ہوگی بلکہ اس کا پورا پورا بدلہ ملے گا اب اس آیت میں کافر کے صدقہ و خیرات اور رفاہی کاموں کو آخرت میں بےفائدہ اور ضائع ہونے کے اعتبار سے ظالم کی اس کھتی سے تشبیہ دی ہے جو دیکھنے میں سرسبز و شاداب نظر آئے لیکن یکایک سرد ہوا چلے اور اسے تباہ و برباد کر کے رکھ دے یہی حال کفار کے صدقہ و خیرات کا ہے۔ وہ چونکہ ایمان واخلاص کی دولت سے محروم ہیں اسے لیے آخرت میں ان کے اعمال تباہ و برباد ہوجائیں گے اور…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 113–117

لغات القرآن آیت نمبر 113 تا 117 لیسوا (نہیں ہیں (لیس واحد) امة قائمة (سیدھی راہ پر قائم) اناء اللیل (رات کے اوقات) یسارعون (وہ دوڑتے ہیں) الخیرات (نیک اور بھلے کام) لن یکفروہ (ہرگزوہ محروم نہ کیئے جائیں گے) صر (پالا، سخت ٹھنڈی یا تیز آواز) تشریح : آیت نمبر 113 تا 117 اہل کتاب میں بیشک وہ لوگ ہیں جنہوں نے اللہ کے احکامات کی نافرمانیوں میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی تھی یہی وجہ ہے کہ ان پر ہمیشہ اللہ کا غضب ہی نازل ہوتا رہا لیکن ان میں کچھ لوگ جیسے عبداللہ ابن سلام، ان کے بھائی ، عیسائیوں میں حبشہ کا بادشاہ بجاشی ، اس کے ارکان دولت ، نجران کے بعض عیسائی اور حبش وروم کے بعض عیسائی اب بھی ہیں جنہوں نے…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 113–117

شریعت محمدی پر عمل کرنے کا حکم شان نزول : طبرانی اور ابن ابی حاتم اور ابن مندہ نے حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت کی ہے کہ جب یہود میں سے عبداللہ بن سلام وثعلبہ بن شعبہ اور اسد بن عبد رضوان اللہ علیہم اجمعین اور یہودی لوگ مسلمان ہوئے تو یہود کے علماء نے ان مسلمانوں کی طرح طرح مذمت اپنی قوم کے لوگوں میں کرنی شروع کردی۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے ان مسلمانان اہل کتاب کی تعریف میں ان مسلمانوں کا دل بڑھانے کی غرض سے یہ آیتیں نازل فرمائیں۔ مسند امام احمد بن حنبل میں حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ کی یہ روایت ہے کہ ایک روز آنحضرت ﷺ نے عشاء کی نماز بہت دیر کرکے پڑھی (بعض نے اس سے مراد نماز تہجد لی ہے) اور پھر…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 117–120

[43] یہ ان اہل کتاب کا ذکر ہے جو اوپر والے گروہ کے برعکس اپنے کفر پر اڑے رہ گئے۔ یہ لوگ اپنی رسمی دین داری کی نمائش کے لئے جو کچھ بھی خرچ کرتے ہیں ان کے اس خرچ کی تمثیل اس کھیتی کی سی ہے جس پر پالے والی ہوا چل جائے اور وہ اس کو برباد کر کے رکھ دے۔ مطلب یہ ہے کہ کفر و شرک کے ساتھ جو کام نیکی اور دین داری کی نوعیت کے کئے جاتے ہیں وہ سب اکارت جاتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

(ف 1) ان مال داروں کی تمام کوششیں رائیگاں جائیں گی ، ان لوگوں کی طرح جن کا کھیت سرد ہوا کے جھونکوں سے تباہ ہوجائے کیونکہ ان کے دلوں میں ایمان و انصاف کا جذبہ موجود نہیں مقصود اعمال نہیں بلکہ اعمال حسنہ ہیں جو خدا تعالیٰ کی مرضی کے موافق ادا کئے جائیں ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

ف 1 رہے وہ لوگ جنہوں نے کفر کی روش اختیار کر رکھی ہے تو یقیناً اللہ تعالیٰ کے عذاب اور اس کی گرفت کے مقابلہ میں نہ ان کافروں کے مال کچھ کام آسکیں گے اور نہ ان کی اولاد کچھ کام آسکے گی اور یہ لوگ اہل دوزخ اور دوزخ میں رہنے والے ہیں اور یہ اس دوزخ میں ہمیشہ رہیں گے یہ کافر جو کچھ دنیوی زندگی میں خرچ کرتے اور خیر خیرات کرتے ہیں اس کی حالت تباہ و برباد ہونے میں ایسی ہے جیسے اس ہوا کی حالت جس میں سخت پالا اور تیز سردی ہوا اور سوہ پالے والی ہوا ایک ایسی قوم کی کھیتی کو جا لگے جنہوں نے اپنے جانوں پر ظلم کا ارتکاب کیا ہو اور وہ سرد ہوا اس کھیتی کو برباد کر ڈالے اور بالکل نیست و نابود کر دے اور اللہ…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 115–118

ف 1۔ یہاں جو غیر مذہب والوں سے خصوصیت کی ممانعت فرمائی ہے اس میں یہ بھی داخل ہے کہ ان کو اپنا ہمراز بنایا جائے اور اس میں یہ بھی داخل ہے کہ اپنے خاص امور انتظامی میں ان کو داخل دیا جائے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

دنیوی زندگی کی ہُو ہوا کے لئے خرچ کئے گئے مال کی قرآنی مثال : 223 : پچھلی آیت میں ارشاد ہوا تھا کہ ان لوگوں کے مال و اولاد جن کے فخر پر وہ تخریب اسلام کے درپے ہیں ان کو اللہ کے عذاب سے نہیں بچا سکیں گے یہاں ان کی ان کوششوں کا انجام ایک مثال کے رنگ میں سمجھایا ہے اور ان کے مال خرچ کرنے کو ” مایُنفقون فی ھذہ الدنیا “ قراردیا کہ یہ لوگ مال خرچ کرتے بھی ہیں تو دنیا کی زندگی کے لئے کہ اچھی عزت مل جائے اچھا عہدہ ھاصل ہو ، لوگ خوش ہوں ، نام و نمود ہو ، ناک رہ جائے اور واہ واہ ہوجائے اس طرح سے خرچ کئے گئے مال کی مثال اس طرح بیان فرمائی کہ گویا ایک کھیتی ہے جس ہر یا ولی کو سردی کی شدت نے دبا لیا یا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 113–117

In verse 110, it was said that among the people of the Book there are those who believe, yet most of them are disbelievers. Details appear in the present verse which gives a complementary profile of those who believed from among the people of the Book, and by becoming Muslims, they adopted the distinguishing hallmarks of the Faith that go to make believers the best of communities. Soon after praising those who had embraced Islam from among the people of the Book, the text censures those of them who did not embrace Islam and insisted on retaining their stance of disbelief, not realizing that…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 113–117

91. The term 'harvest' in this parable refers to this life which resembles a field of cultivation the harvest of which one will reap in the World to Come. The 'wind' refers to the superficial appearance of righteousness, for the sake of which unbelievers spend their wealth on philanthropic and charitable causes. The expression 'frost' indicates their lack of true faith and their failure to follow the Divine Laws, as a result of which their entire life has gone astray. By means of this parable God seeks to bring home to them that while wind is useful for the growth of cultivation if that wind…

Read the full tafseer →