Explained with ayahs 118–120
کافر اور منافق مسلمان کے دوست نہیں انہیں اپنا ہم راز نہ بناؤ
اللہ تعالیٰ ایمانداروں کو کافروں اور منافقوں کی دوستی اور ہم راز ہونے سے روکتا ہے کہ یہ تو تمہارے دشمن ہیں ان کی چکنی چپڑی باتوں میں خوش نہ ہوجانا اور ان کے مکر کے پھندے میں پھنس نہ جانا ورنہ موقعہ پا کر یہ تمہیں سخت ضرر پہنچائیں گے اور اپنی باطنی عداوت نکالیں گے تم انہیں اپنا راز دار ہرگز نہ سمجھنا راز کی باتیں ان کے کانوں تک ہرگز نہ پہنچانا بطانہ کہتے ہیں انسان کے راز دار دوست کو اور من دو نکم سے مراد جس خلیفہ کو مقرر کیا اس کیلئے دو بطانہ مقرر کئے ایک تو بھلائی کی بات سمجھانے والا اور اس پر رغبت دینے والا اور دوسرا برائی کی رہبری…
Read the full tafseer →سورة اٰلِ عِمْرٰن 92
مدینہ کے اطراف میں جو یہودی آباد تھے ان کے ساتھ اوس اور خزرج کے لوگوں کی قدیم زمانہ سے دوستی چلی آتی تھی۔ انفرادی طور پر بھی ان قبیلوں کے افراد ان کے افراد سے دوستانہ تعلقات رکھتے تھے اور قبائلی حیثیت سے بھی یہ اور وہ ایک دوسرے کے ہمسایہ اور حلیف تھے۔ جب اوس اور خزرج کے قبیلے مسلمان ہوگئے تو اس کے بعد بھی وہ یہودیوں کے ساتھ وہی پرانے تعلقات نباہتے رہے اور ان کے افراد اپنے سابق یہودی دوستوں سے اسی محبت و خلوص کے ساتھ ملتے رہے۔ لیکن یہودیوں کو نبی عربی ﷺ اور آپ کے مشن سے جو عداوت ہوگئی تھی اس کی بنا پر وہ کسی ایسے شخص سے مخلصانہ محبت رکھنے کے لئے تیار نہ تھے جو اس نئی تحریک…
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر
اے ایمان والو اپنے (لوگوں کے) سوا (اور مذہب والوں میں سے) کسی کو (محبت کے برتاؤ میں) صاحب خصوصیت مت بناؤ (کیونکہ) وہ لوگ تمہارے ساتھ فساد کرنے میں کوئی دقیقہ اٹھا نہیں رکھتے (اور دل سے بھی) تمہاری مضرت (دنیوی و دینی) کی تمنا رکھتے ہیں، (دلوں میں تمہاری طرف سے اس قدر بغض بھرا ہے کہ) واقعی (وہ) بغض (بعض اوقات) ان کے منہ سے (بےاختیار بات چیت میں) ظاہر ہو پڑتا ہے، اور جس قدر ان کے دلوں میں ہے وہ تو بہت کچھ ہے (چنانچہ) ہم (ان کی عداوت کے) علامات (اور قرائن) تمہارے سامنے ظاہر کرچکے اگر تم عقل رکھتے ہو (تو ان یقینی علامات سے دیکھ لو) ہاں (سمجھو) تم ایسے ہو ان لوگوں سے محبت (کا برتاؤ)…
Read the full tafseer →لَا تَتَّخِذُوْا بِطَانَةً ، بِطانۃ لحاف وغیرہ کے استر کو کہتے ہیں۔ بطانۃ الرجل سے آدمی کے اہل و عیال اور اس کے خواص و محرمان راز مراد ہوتے ہیں (بطانۃ الرجل ولیجتہ الذی یکاشفہ باسرارہ ثقۃ بمودتۃ۔ اقرب المورد)۔ ’ خبال ‘ کے معنی فساد اور بگاڑ کے ہیں۔ لَا يَاْلُوْنَكُمْ خَبَالًا یعنی تمہارے اندر فساد پیدا کرنے میں کوئی کسر نہ اٹھا رکھیں گے۔ ’ عنت ‘ کے معنی مشقت، زحمت اور تکلیف کے ہیں۔ وَدُّوْا مَا عَنِتُّمْ یعنی تمہارے لیے وہ اس بات کے متمنی ہیں کہ تمہیں اس راہ میں ٹھوکریں پیش آئیں اور تم زحمتوں میں پھنسو۔ قَدْ بَدَتِ الْبَغْضَاۗءُ مِنْ اَفْوَاهِھِمْ سے مراد اسلام دشمنی کی وہ باتیں ہیں جن سے صاف…
Read the full tafseer →118۔ 1 یہ مضمون پہلے بھی گزر چکا ہے۔ یہاں اس کی اہمیت کے پیش نظر پھر دہرایا جا رہا ہے۔ بطانتہ، دلی دوست اور رازدار کو کہا جاتا ہے۔ کافر اور مشرک مسلمانوں کے بارے میں جو جذبات و عزائم رکھتے ہیں، ان میں سے جن کا وہ اظہار کرتے اور جنہیں اپنے سینوں میں مخفی رکھتے ہیں، اللہ تعالیٰ نے ان سب کی نشاندہی فرما دی ہے یہ اور اس قسم کی دیگر آیات کے پیش نظر ہی علماء و فقہا نے تحریر کیا ہے کہ ایک اسلامی مملکت میں غیر مسلموں کو کلیدی مناصب پر فائز کرنا جائز نہیں ہے۔ مروی ہے کہ حضرت ابو موسیٰ اشعری ؓ نے ایک (غیر مسلم) کو کاتب (سیکرٹری) رکھ لیا، حضرت عمر ؓ کے علم میں یہ بات آئی تو آپ نے انہیں سختی سے ڈانٹا اور…
Read the full tafseer →39: مدینہ منورہ میں اوس و خزرج کے جو قبیلے آباد تھے، زمانہ دراز سے یہودیوں کے ساتھ ان کے دوستانہ تعلقات چلے آتے تھے۔ جب اوس اور خزرج کے لوگ مسلمان ہوگئے تو وہ ان یہودیوں کے ساتھ اپنی دوستی نبھاتے رہے، مگر یہودیوں کا حال یہ تھا کہ ظاہر میں تو وہ بھی دوستانہ انداز میں ملتے تھے اور ان میں سے کچھ لوگ یہ بھی ظاہر کرتے تھے کہ وہ بھی مسلمان ہوگئے ہیں، لیکن ان کے دل میں مسلمانوں کے خلاف بغض بھرا ہوا تھا۔ کبھی ایسا بھی ہوتا کہ مسلمان ان کی دوستی پر بھروسہ کرتے ہوئے سادہ لوحی میں انہیں مسلمانوں کی کوئی راز کی بات بھی بتا دیتے تھے۔ اس آیت کریمہ نے مسلمانوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ ان پر بھروسہ نہ کریں اور…
Read the full tafseer →یہ ایک مکمل تصویر ہے ‘ جو نفس انسانی کی اندرونی کیفیات کی مظہر ہے۔ جو انسان کے ظاہری خدوخال کو بھی پیش کرتی ہے اور اس کی باطنی کیفیات کو اچھی طرح دکھاتی ہے اور انسان کے ظاہری تاثرات کو بھی دکھاتی ہے اور انسان کی آنے اور جانے والی حرکات کا اظہار بھی اس سے ہوتا ہے ۔ اس تصویر میں ایک ایسے انسان کا نمونہ پیش کیا جاتا ہے جو آئے دن ہر جگہ اور ہر زمانے میں ہماری نظروں کے سامنے آتا رہتا ہے اور جماعت مسلمہ کے ارد گرد پھیلے ہوئے دشمنوں میں کل بھی یہ نمونے نظر آتے تھے اور آج بھی نظر آتے ہیں ۔ یہ ایسے نمونے ہیں کہ جب مسلمانوں کا غلبہ نصیب ہو تو وہ ان کے دوست بن جاتے ہیں لیکن ان کے دل کی ہر دھڑکن ان کی…
Read the full tafseer →3 یہ آیتیں بعض کہتے ہیں یہود کے متعلق نازل ہوئیں کیونکہ بعض مسلمان جوار (ہمسائیگی) حَلَف (دوستانہ معاہدہ) وغیرہ کی بنا پر جو تعلقات قبل از اسلام ان سے رکھتے چلے آرہے تھے بعد از اسلام بھی بدستور ان پر قائم رہے اور دوستی پر اعتماد کر کے ان سے مسلمانوں کے بعض راز دارانہ مشوروں کے اخفاء کا بھی اہتمام نہ کیا۔ اور بعض کے نزدیک یہ آیتیں منافقین کے حق میں نازل ہوئیں، کیونکہ عام طور پر لوگ ظاہر میں مسلمان سمجھ کر ان سے پوری احتیاط نہ کرتے تھے جس سے سخت نقصان پہنچنے کا اندیشہ تھا، حق تعالیٰ نے یہاں صاف صاف آگاہ کردیا کہ مسلمان اپنے اسلامی بھائیوں کے سوا کسی کو بھیدی اور راز دار نہ بنائیں۔ کیونکہ یہود…
Read the full tafseer →آیت 118 یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لاَ تَتَّخِذُوْا بِطَانَۃً مِّنْ دُوْنِکُمْ
یعنی جس شخص کے بارے میں اطمینان ہو کہ صاحب ایمان ہے ‘ مسلمان ہے ‘ اس کے علاوہ کسی اور شخص کو اپنا بھیدی اور محرم راز نہ بناؤ۔ یہودی ایک عرصے سے مدینہ میں رہتے تھے اور اوس و خزرج کے لوگوں کی ان سے دوستیاں تھیں ‘ پرانے تعلقات اور روابط تھے۔ اس کی وجہ سے بعض اوقات سادہ لوح مسلمان اپنی سادگی میں راز کی باتیں بھی انہیں بتا دیتے تھے۔ اس سے انہیں روکا گیا۔
لاَ یَاْلُوْنَکُمْ خَبَالاً ط وَدُّوْا مَا عَنِتُّمْ ج قَدْ بَدَتِ الْبَغْضَآءُ مِنْ اَفْوَاہِہِمْ ج
ان کا کلام ایسا زہر آلود ہوتا ہے کہ اس سے اسلام اور مسلمانوں…
Read the full tafseer →106 یہ خطاب دراصل انہیں انصار مدینہ سے ہے۔ ان کے دو بڑے قبیلے اوس و خزرج مدینہ میں آباد تھے۔ اسلام سے پہلے ان قبائل کی آپس میں ٹھنی رہتی تھی اور مدینہ کے یہودی بھی تین قبائل میں منقسم تھے۔ یہودیوں کا کام یہ تھا کہ ان کا ایک قبیلہ اوس کا حلیف بن جاتا اور دوسرا خزرج کا اور اس طرح اوس و خزرج کو آپس میں لڑاتے رہتے تھے اور اس طرح کئی طرح کے مفادات حاصل کرتے تھے۔ مثلاً ایک یہ کہ ان کے ہتھیار فروخت ہوجاتے تھے۔ دوسرے یہ کہ اپنی قلت تعداد کے باوجود انصار مدینہ پر اپنی بالا دستی قائم رکھتے اور ان کی معیشت و سیاست پر چھائے ہوئے تھے۔ جب اوس و خزرج کے قبیلے مسلمان ہوگئے تو اس کے بعد بھی وہ یہودیوں کے ساتھ…
Read the full tafseer →241 ۔ (ایسا کہ اس سے اپنی ذاتی اور ملی راز کہہ ڈالو) (آیت) ” من دونکم “۔ یعنی بجز اپنی ملت والوں کے (آیت) ” بطانۃ “۔ کہتے ہیں راز دار دوست کو۔ ای مختصابکم یستبطن امورکم (راغب) بطانۃ الرجل خاصتہ الذین یستنبطون امرہ (قرطبی) قانون اسلام کے منکروں اور باغیوں سے تعلقات ایک خاص حد سے آگے بڑھانے کی اجازت کسی مسلم کو یا اسلامی اسٹیٹ کی رعایا کو نہیں کہ اس سے فرد اور ملت دونوں کو ضرر کے اندیشہ اور خطرے کھلے ہوئے ہیں، اور اس صریحی، معقول، مناسب اور ضروری انتظام کا نام بعض عقل کے دشمنوں نے ” تنگ نظری “ رکھا ہے۔ سبحان اللہ ! امراض وبائی میں پرہیز و احتیاط کا نام تو فخر کے ساتھ ” اصول حفظان صحت “ رکھا…
Read the full tafseer →یٰایُّھَا الَّذِیْنَ آمَنُوْا لَاتَتَّخِذُوْا بِطَانَۃً مِّنْ دُوْنِکُمْ (الآیۃ) اے ایمان والو ! مسلمانوں کے علاوہ کسی کو اپنا راز دار دوست نہ بناؤ۔ مدینہ کے اطراف میں جو یہودی آباد تھے ان کے ساتھ اَوْس اور خزرج کے لوگوں کے قدیم تعلقات تھے انفرادی طور پر بھی بعض کے بعض سے ذاتی تعلقات تھے اور اجتماعی بھی، جب اوس اور خزرج کے دونوں قبیلے مسلمان ہوگئے تو اس کے بعد بھی اوس اور خزرج کے تعلقات کو نبھاتے رہے لیکن یہودیوں کو حضرت خاتم الانبیا ﷺ سے اور آپ کے لائے ہوئے دین سے جو عداوت تھی اس کی بناء پر انہوں نے انصار کے ساتھ تو بظاہر وہی تعلقات رکھے جو پہلے سے چلے آرہے تھے مگر دل میں اب وہ ان کے دشمن…
Read the full tafseer →یایھا الذین امنوا لا تتخذوا بطانۃ من دونکم اے اہل ایمان اپنے لوگوں یعنی مسلمانوں کے علاوہ دوسروں کو اندرونی یارغار نہ بناؤ۔ بطانۃ راز دار اور وہ شخص جس پر اعتماد کرکے کوئی اس کو اپنے رازوں سے واقف بنا دے۔ دون بمعنی ادنیٰ یعنی ان لوگوں کو اپنا یارغار نہ بناؤ جو تم سے نچلے اور کم مرتبہ والے ہیں۔ اس میں مسلمانوں کی مدح ہے کہ تمہارا مرتبہ غیر مسلموں سے زیادہ ہے اور اس بات کی بھی آیت سے ہدایت (مستفاد) ہوتی ہے کہ اونچے مرتبہ والوں کے ساتھ رہو ادنیٰ لوگوں کی صحبت نہ اختیار کرو گوشہ نشینی برے ہم نشین سے بہتر ہے اور اچھا ہم نشین تنہائی سے بہتر ہے۔
من دونکم کا لفظ رافضیوں، خارجیوں اور دوسرے بدعتیوں کو…
Read the full tafseer →(118) یعنی مومنین کے سوا یہود کو دوست مت بناؤ کیوں کہ وہ تم لوگوں میں فساد برپا کرنے کی کوشش میں رہتے ہیں اور اس بات کی آرزو مندرہتے ہیں کہ جیسے وہ لوگ شرک کرتے ہیں، تم بھی شرک کرو اور گناہ گار بنو۔
اس چیز کا اظہار ان کی زبانی گالی گلوچ سے تو ہو ہی رہا ہے اور جو دشمنی اور کینہ غصہ اور اپنے دلوں میں چھپائے ہوئے ہیں وہ اس سے بہت بڑھ کر ہے یہ ان کے حسد کی نشانی تمہارے سامنے ہم نے واضح کردی۔ اور یہ بھی معنی بیان کیے گئے ہیں کہ ہم نے اوامرو نواہی تمہارے سامنے بیان کردیے ہیں، تاکہ جس کا تمہیں حکم دیا جارہا ہے تم اس کو سمجھو ،
شان نزول : (آیت) ”یایھا الذین امنوا لا تتخذوا“۔ (الخ)
ابن جریر ؒ اور ابن…
Read the full tafseer →بِطَانَةً : پوشیدہ چیز اور وہ کپڑا جو اوپر والے کپڑے کے نیچے جسم کے ساتھ ملا ہوتا ہے، مراد دلی دوست، خاص راز دار۔ یہ باب ”نَصَرَ“ سے مصدر ہے، واحد اور جمع دونوں پر بولا جاتا ہے۔ ”مِّنْ دُوْنِكُمْ“ (اپنے مخلص مسلمانوں کے سوا) اس کا تعلق (يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اِنْ تُطِيْعُوْا فَرِيْقًا مِّنَ الَّذِيْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ يَرُدُّوْكُمْ بَعْدَ اِيْمَانِكُمْ كٰفِرِيْنَ) [ آل عمران : 100 ] سے ہے اور اس میں کفار کی طرف میلان اور ان کی دوستی سے منع فرمایا گیا ہے۔ ابن ابی حاتم نے حسن سند کے ساتھ ابن عباس ؓ سے نقل کیا ہے : ”مسلمانوں میں سے کچھ آدمی یہودیوں سے میل جول اور تعلقات رکھتے تھے۔…
Read the full tafseer →آیت نمبر : 118۔
اس میں چھ مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر : (1) اللہ تعالیٰ نے کفار کی طرف میلان اور جھکاؤ رکھنے سے منع کرنے اور اس پر زجر وتوبیخ کرنے کو مؤکد کیا ہے، اور اس کا تعلق سابقہ اس ارشاد کے ساتھ ہے، ان تطیعوا فریقا من الذین اوتوا الکتاب “۔ اور البطانۃ مصدر ہے اور اس کے ساتھ واحد اور جمع دونوں کا نام رکھاجا سکتا ہے، اور بطانۃ الرجل سے مراد وہ خاص دوست اور افراد ہیں جو اس کے خفیہ معاملات پر بھی آگاہ ہوتے ہیں اور یہ اصل میں البطن سے ماخوذ ہے جو الظھر کے خلاف ہے، اور بطن فلان بفلان یبطن بطونا وبطانۃ جب کوئی کسی کے ساتھ خاص ہو اور اس کے اندرونی معاملات میں تہہ تک پہنچا ہوا ہو۔
جیسا کہ شاعر نے…
Read the full tafseer →(1) ابن اسحاق وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ مسلمانوں میں سے کچھ لوگ یہود کے لوگوں سے قریبی تعلق رکھتے تھے بوجہ پڑوسی ہونے کے اور آپس میں عہد و پیمان ہونے کے زمانہ جاہلیت میں اللہ تعالیٰ نے (یہ آیت) ان کے بارے میں اتار دی اور ان کو منع فرمایا ان کے ساتھ خفیہ دوستی رکھنے سے کیونکہ یہودیوں کی وجہ سے انہیں کسی فتنہ کا سامنا ہوسکتا تھا اس لئے فرمایا لفظ آیت ” یایھا الذین امنوا لا تتخذوا بطانۃ من دونکم “۔
(2) ابن جریر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” لا تتخذوا بطانۃ من دونکم “ سے منافق مراد ہیں (کہ ان سے دوستی نہ…
Read the full tafseer →[يٰٓاَيُّھَا الَّذِیْنَ : اے لوگو ! جو ] [اٰمَنُوْا : ایمان لائے ] [لاَ تَـتَّخِذُوْا : تم لوگ مت بنائو ] [بِطَانَۃً : کوئی دل کا بھیدی ] [مِّنْ دُوْنِکُمْ : اپنوں کے سوا ] [لاَ یَاْلُوْنَـکُمْ : وہ لوگ کوتاہی نہیں کریں گے تم سے ] [خَبَالاً : بلحاظ ذہنی خلفشار کے ] [وَدُّوْا : انہوں نے چاہا ] [مَا : اس کو جو ] [عَنِتُّمْ : مشکل میں ڈالے تم کو ] [قَدْ بَدَتِ : ظاہر ہوچکی ہے ] [الْـبَـغْضَآئُ : نفرت ] [مِنْ اَفْوَاہِہِمْ : ان کے مونہوں سے ] [وَمَا : اور وہ ‘ جو ] [تُخْفِیْ : چھپاتے ہیں ] [صُدُوْرُہُمْ : ان کے سینے ] [اَکْبَرُ : زیادہ بڑا ہے ] [قَدْ بَـیَّـنَّا : ہم نے واضح کردیا ہے ] [لَـکُمُ :…
Read the full tafseer →کافروں کو راز دار نہ بناؤ
ان آیات میں دشمنان اسلام کی دشمنی کو خوب زیادہ واضح کرکے بیان فرمایا ہے اور چونکہ وہ دشمن ہیں اس لیے دشمن سے دشمنی ہی کی امید رکھی جاسکتی ہے سب سے پہلے ارشاد فرمایا کہ اپنے علاوہ دوسرے لوگوں کو اپنا راز دار مت بناؤ وہ تمہیں بگاڑنے اور خراب کرنے میں ذرا سی بھی کسر نہ چھوڑیں گے اور اس میں کوئی دقیقہ اٹھا کر نہ رکھیں گے۔
مسلمانوں کی بد حالی :
تاریخ شاہد ہے کہ جب کبھی بھی اس نصیحت کے خلاف کیا ہے مسلمانوں نے مار کھائی، دشمن اسی طریقہ سے قابو پاتا ہے کہ وہ مسلمانوں میں سے کچھ لوگوں کو مال دے کر یا عہدے دے کر اپنا ہمنوا بنا لیتا ہے یہ مال کے لالچی اور عہدوں کے حریص دشمنوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 118–120
تحذیر مومنین از اختصاص وارتباط بادشمنان دین۔
قال تعالی۔ یا ایھا الذین۔۔۔۔۔۔ الی۔۔۔۔ محیط۔ آیت۔
ربط) گزشتہ آیات میں مسلمانوں کے صفات اور کافروں کے زمائم اور قبائح کا ذکر تھا اب ان آیات میں مسلمانوں کو ہدایت ہے کہ کافروں کے ساتھ خلاملا نہ رکھو اور نہ ان کوا پنا راز دار بناؤ کافر تمہارے دین اور دنیا دونوں کے دشمن ہیں۔
یا یوں کہو کہ جب گزشتہ آیات میں یہ بیان کیا کہ کفر اور ظلم کی سرد ہوا نے ظالموں کے اعمال کی کھیتیوں کو تباہ برباد کیا تو اب آئندہ آیت میں اہل ایمان کو نصیحت فرماتے ہیں خہ تم انظالموں سے خلط ملط نہ رکھنا مبادا ان کے کفر اور ظلم کی سرد ہوا کا اثر تمہارے اعمال کی کھیتیوں کو کوئی نقصان…
Read the full tafseer →178 یہ آیت مؤمنین کے لیے زجر ہے اس میں ماقبل سے ترقی کر کے فرمایا کہ امر بالمعروف اور نھی عن المنکر بھی کرتے رہو اور غیر مسلموں سے پوشیدہ اور گہری دوستی بھی مت رکھو۔ قالہ الشیخ بطانة کے معنی راز دار دوست یعنی جس کے سامنے آدمی اپنے تمام ملی اور ذاتی راز کہہ ڈالے۔ وبطانۃ الوجل خاصتہ الذین یستنبطون امرہ (قرطبی ص 178 ج 4) اسلام سے پہلے انصار کے بعض قبیلوں کے کچھ قرب و جوار کی بنا پر اور کچھ مابین القبائلی معاہدات کی بنا پر یہود سے دوستانہ تعلقات تھے یہ تعلقات اسلام کے بعد انصار نے بدستور قائم رکھے۔ ہجرت کے بعد جب مدینہ منورہ دار الاسلام بن گیا۔ اور اسلام دن بدن ترقی کرنے لگا تو ان یہودیوں نے…
Read the full tafseer →ربط آیات :
اہل کتاب کی خرابی ، دشمنی اور عداوت کا تذکرہ ہوچکا ہے۔ اور پھر یہ بھی بیان ہوچکا ہے۔ کہ ان کے مال اور اولاد کچھ کام نہ آئیں گے۔ جو مال وہ اسلام دشمنی کے لیے یا نیکی سمجھ کر خرچ کرتے ہیں وہ بھی رائیگاں جائے گا۔ اللہ تعالیٰ نے ایسے مال کی حیثیت کو ایک مثال کے ذریعے واضح کیا۔ کہ جس طرح کسی عمدہ فصل کو ٹھنڈی ہوا تباہ کردیتی ہے۔ اس طرح کفر کرنے والوں کے خرچ کردہ مال بھی ضائع ہوجائیں گے۔ وجہ ظاہر ہے کہ عقیدے کی خرابی اور معاصی نیکیوں کو برباد کردیتے ہیں۔ اس کے نتیجے کے طور پر اللہ تعالیٰ کسی پر زیادتی نہیں کرتے بلکہ وہ لوگ خود اپنی جانوں پر ظلم کرتے ہیں۔ اب آج کے درس میں اہل ایمان کو…
Read the full tafseer →يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوْا بِطَانَۃً مِّنْ دُوْنِكُمْ لَا يَاْلُوْنَكُمْ خَبَالًا 0 ۭ وَدُّوْا مَا عَنِتُّمْ 0 ۚ قَدْ بَدَتِ الْبَغْضَاۗءُ مِنْ اَفْوَاہِھِمْ 0 ۚۖ وَمَا تُخْفِيْ صُدُوْرُھُمْ اَكْبَرُ 0 ۭ قَدْ بَيَّنَّا لَكُمُ الْاٰيٰتِ اِنْ كُنْتُمْ تَعْقِلُوْنَ 118
أخذ ( افتعال، مفاعله)
والاتّخاذ افتعال منه، ويعدّى إلى مفعولین ويجري مجری الجعل نحو قوله تعالی: لا تَتَّخِذُوا الْيَهُودَ وَالنَّصاری أَوْلِياءَ [ المائدة/ 51] ، أَمِ اتَّخَذُوا مِنْ دُونِهِ أَوْلِياءَ [ الشوری/ 9] ، فَاتَّخَذْتُمُوهُمْ سِخْرِيًّا [ المؤمنون/ 110] ، أَأَنْتَ قُلْتَ لِلنَّاسِ :…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 117–120
ترکیب : مثل مبتدا کمثل ریح خبر اصابت الخ صفت ہے ریح کی بطانۃ مفعول ہے لا تتخذوا کا من دونکم فعل سے متعلق ہو کر صفت ہے بطانۃ کی اسی طرح لا یا لونکم خبالا تمیز ہے علیکم مفعول عضوا لانامل مفعول ثانی۔
تفسیر : بطانۃ کفار حرام ہے : پہلی آیت میں تھا کہ کفار کو ان کا مال کچھ نفع آخرت میں نہ دے گا۔ اس پر شبہ گذرتا تھا کہ کیوں نہ دے گا حالانکہ وہ غریب یتیم فقیر بےکس کو للہ دیتے ہیں۔ اس کا جواب دیا جاتا ہے کہ ان کے صرف کرنے کی ایسی مثال ہے کہ جیسا کوئی کھیتی کرے یا باغ لگائے۔ پھر اس کو ہوا اور پالا مار جاوے اور وہ خراب ہوجائے۔ اسی طرح ان کا لیا دیا بیشک کھیتی اور آخرت کے لئے باغ ہے کہ جس سے انتفاع کی…
Read the full tafseer →یٰٓـاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لاَ تَتَّخِذُوْا بِطَانَۃً مِّنْ دُوْنِکُمْ لاَ یَاْلُوْنَـکُمْ خَبَالاً ط وَدُّوْا مَاعَنِتُّمْ ج قَدْ بَدَتِ الْـبَغْضَآئُ مِنْ اَفْوَاہِہِمْ صلے ج وَمَا تُخْفِیْ صُدُوْرُہُمْ اَکْبَرُ ط قَدْبَیَّنَّا لَـکُمُ الْاٰیٰتِ اِنْ کُنْتُمْ تَعْقِلُوْنَ ۔
(اے ایمان والو ! نہ بنائو اپنا راز دان باہر والوں کو وہ تمہیں نقصان پہنچانے میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھیں گے۔ وہ پسند کرتے ہیں اس چیز کو جو تمہیں مشقت میں ڈالے۔ ظاہر ہوچکی ہے عداوت ان کے مونہوں سے۔ جو کچھ ان کے سینے چھپائے ہوئے ہیں وہ اس سے بھی بڑھ کر ہے۔ ہم نے تمہارے لیے اپنی ترجیحات واضح کردی ہیں اگر تم سمجھ رکھتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 117–118
فہم القرآن
ربط کلام : جو لوگ اسلام اور مسلمانوں کے خلاف مال خرچ کریں اور ہر قسم کی دشمنی روا رکھیں ان کے ساتھ قلبی دوستی سے منع کیا گیا ہے۔
مسلمانوں کو کفار اور اہل کتاب کے بارے میں مسلسل بتلایا جا رہا ہے کہ ان کی خواہش اور کوشش ہے کہ وہ تمہیں دین حق سے پھیر دیں۔ اب دو ٹوک انداز میں حکم دیا گیا ہے کہ انہیں اپنا راز دان بنانے کی کوشش نہ کرنا یہ دین اسلام سے منحرف کرنے کے ساتھ چاہتے ہیں کہ تمہیں ہر قسم کا نقصان پہنچے یہ تمہاری ذات اور دین کے دشمن ہیں، کئی بار اپنی زبان سے حسد و بغض کا اظہار کرچکے ہیں۔ ان کے سینوں میں حسد اور دشمنی کی جو آگ بھڑک رہی ہے اس کا تم تصور بھی نہیں کرسکتے۔ ہم نے تمہارے…
Read the full tafseer →منافق کی دوستی سے ممانعت :
118: یٰٓـاَ یُّھَا الَّذِیْنَ ٰامَنُوْا لَا تَتَّخِذُوْا بِطَانَۃً مِّنْ دُوْنِکُمْ لَایَاْلُوْنَکُمْ خَبَالًا وَدُّوْا مَا عَنِتُّمْ قَدْ بَدَتِ الْبَغْضَآ ئُ مِنْ اَفْوَاھِھِمْ وَمَا تُخْفِیْ صُدُوْرُھُمْ اَکْبَرُ قَدْ بَیَّنَّا لَکُمُ الْاٰیٰتِ اِنْ کُنْتُمْ تَعْقِلُوْنَ ۔
فائدہ : مسلمانوں کو منافقین کی مخلصانہ دوستی سے منع فرمانے کیلئے نازل ہوئی۔
یٰٓـاَ ۔ یُّہَا الَّذِیْنَ ٰامَنُوْا لَا تَتَّخِذُوْا بِطَانَۃً (اے ایمان والو تم ان کو اپنا راز دار نہ بنائو) بِطَانَۃَ الرَّجُلِسے مراد آدمی کے خصوصی راز دار، قابل اعتماد۔ ان کو بِطَانَۃَ الثَّوْبِسے تشبیہ دی۔ جیسا…
Read the full tafseer →(کافروں کے ساتھ میل جول رکھنے کا بیان اور آیات کا شان نزول)
118۔ (آیت)” یایھا الذین امنوا لا تتخذوا بطانۃ من دونکم “۔ حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ کچھ مسلمانوں کا یہود کے ساتھ میل جول اور باہمی دوستی تھی کیونکہ دونوں ہمسائے خرچ کرنے میں معاون ، عہد وحلف میں ایک دوسرے کے مددگار اور رضاعت کے معاملے میں ایک دوسرے کے معاون تھے ، اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرما کر اس میل جول سے فتنہ کے اندیشے کے باعث مسلمانوں کو منع فرمایا ۔
مجاہد (رح) فرماتے ہیں کہ یہ آیت ان مؤمنین کے بارے میں نازل ہوئی جو منافقین کی طرف میل جول میں مائل تھے اللہ تعالیٰ نے انکو منع کردیا ۔ (آیت)” یایھا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 118–120
(118 ۔ 120) ۔ ابن جریر اور ابن اسحاق نے حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے روایت کی ہے کہ جس طرح اسلام سے پہلے یہود اور اہل عرب میں دوستی تھی اور آپس میں کچھ کفر اور اسلام کا فرق نہ تھا اسلام کے بعد بھی اکثر مسلمان یہود اور منافقوں سے وہی قدیمی اتحاد برتتے تھے اور یہود اور مناقفوں کا یہ حال تھا کہ دوستی کے پردہ میں یہ کیا کہ اوس اور خزرج مسلمانوں کے دو قبیلوں میں لڑائی کا سامان کردیا۔ جس کا ذکر اوپر کی آیتوں میں گذرچکا اور عبد اللہ بن ابی منافق نے یہ کیا کہ عین میدان جنگ میں سے احد کی لڑائی کے وقت لشکر اسلام میں سے تین سو آدمیوں کو بہکا کر مدینہ لے آیا۔ جس کا ذکر آئندہ کی آیتوں میں آئے گا۔ اور زیادہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 118–121
آیت 118-120
اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندوں کو اس بات سے منع فرماتا ہے کہ وہ اہل کتاب کے یا دوسرے مذاہب کے منافقوں کو دلی دوست بنائیں، انہیں اپنے راز بتائیں، یا بعض اسلامی ذمہ داریاں ان کے سپرد کردیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ دشمن ہیں جن کے دل بغض و عداوت سے بھرے ہوئے ہیں۔ حتیٰ کہ یہ عداوت ان کی زبان سے بلا ارادہ ظاہر ہوجاتی ہے۔ (وما تخفی صدورھم اکبر) ” اور جو ان کے سینوں میں پوشیدہ ہے، وہ ظاہر ہوجانے والی دشمنی سے بہت زیادہ ہے۔ “ اسی لئے (لایالونکم خبالا) ” وہ تمہاری تباہی میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھتے “ یعنی تمہیں نقصان پہنچانے اور مشکلات پیدا کرنے میں کمی نہیں کرتے۔ وہ ایسے اسباب پیدا کرتے ہیں جس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 115–118
ذمیوں سے استعانت کا بیان
قول باری ہے (یایھا الذین امنوالاتتخذوابطانۃ من دونکم لایألونکم خبالاؤدواماعنتم قدبدت البخضاء من افواھھم وماتخفی صدورھم اکبر، اے ایمان والو ! اپنی جماعت کے لوگوں کے سوادوسروں کو اپنا رازدانہ بناؤ۔ وہ تمہاری خرابی کے کسی موقعہ سے فائد ہ اٹھانے سے نہیں چوکتے۔ تمہیں جس چیز سے نقصان پہنچے وہی ان کو محبوب ہے۔ ان کے دل کا بعض ان کے منہ سے نکلاپڑتا ہے اور جو کچھ وہ اپنے سینوں میں چھپائے پھرتے ہیں وہ اس سے شدید تر ہے ) ابوبکرجصاص کہتے ہیں کہ انسان کا بطانہ، ان لوگوں کو کہاجاتا ہے جو اس کے خاص ہوتے ہیں اور اس پر اپنا حکم چلاسکتے ہیں نیز جن پر وہ اپنے معاملات میں بھروسہ کرسکتا…
Read the full tafseer →244 اپنوں کو چھوڑ کر دوسروں کو رازدار بنانے کی ممانعت : سو ایمان والوں کو خطاب کر کے ارشاد فرمایا گیا کہ تم لوگ اپنوں کو چھوڑ کر دوسروں کو اپنا رازدار نہیں بنانا۔ وہ تمہاری خرابی اور بربادی میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھیں گے۔ وہ تو یہی چاہتے ہیں کہ تم لوگ تکلیف اور نقصان ہی میں مبتلا رہو ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو انکو جب بھی کوئی موقع میسر آئے گا وہ تم کو نقصان ہی پہنچانے کی کوشش کریں گے۔ اس لئے ان کو کبھی اپنا رفیق و راز دار نہ بنانا کہ وہ جب تمہارے دین کے دشمن ہیں تو تم سے بھی اپنی دشمنی میں کوئی کسر نہ اٹھا رکھیں گے۔ اس لیے ان سے ہمیشہ محتاط اور چوکنا رہنا۔ اور تمہارے خیر خواہ وہی ہوسکتے ہیں جو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 118–120
مسلمانوں کا راز دان کون ؟ اہل کتاب کا حسد
تشریح : ان آیات کا شان نزول یہ ہے کہ یہود و منافقین کے شر سے مسلمانوں کو آگاہ کیا جائے۔ واقعہ یہ ہے کہ مدینہ کے اطراف میں یہودی اور ان کے ساتھ اوس و خزرج کے دو قبیلے بھی آباد تھے۔ قریب قریب رہنے کی وجہ سے ان کی آپس میں بہت دوستی تھی یہ دونوں قبیلے مسلمان ہوگئے مگر پرانے تعلقات کی وجہ سے مسلمانوں نے یہودی قبائل سے دوستی پہلے کی طرح ہی قائم رکھی کیونکہ ان کے دل کینے سے پاک تھے مگر اہل کتاب، یعنی یہود کے دل حسد، بغض اور نفرت سے بھرے ہوئے تھے، اس لیے وہ مسلمانوں کی دوستی سے غلط فائدہ اٹھا رہے تھے۔ مسلمان سادگی میں ان سے کئی راز کی باتیں بھی کہہ جاتے تو وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 110–120
آیات 110- 120
اسرارو معارف
کنتم خیرامۃ……………واکثرھم الفسقون۔
تم سب سے اچھی امت ہو کہ آقائے نامدار ﷺ خیرالرسل ہیں اور قرآن کریم سب کتابوں سے اعلیٰ و افضل کتاب ہے۔ تم لوگ جنہیں آپ ﷺ سے نسبت حاصل ہے۔ اور اس کی برکت سے کتاب اللہ کو سمجھنے کی سعادت حاصل ہوئی ہے ایک ایسی سعادت ہے کہ ارشاد ہوا۔ اتممت علیکم نعمتی۔ کہ میں نے اپنی نعمت تم پر تمام کردی۔ تم ہی بہترین لوگ ہو۔
اتمام نعمت ایک ایسی عطا ہے جس کی حدود متعین کرنا انسان کے بس کی بات نہیں ہے اور اس پر مزید یہ کہ نعمت کا حصول بھی بیشک بہت بڑی بات ہے مگر اس کو دوسروں پر تقسیم کرنا اور بےحدوحساب بانٹنا بہت ہی بڑی شے ہے اور تمہیں تو بھیجا ہی اس لئے…
Read the full tafseer →ف 2 بطا نتہ (راز ور) یہ باب نصر سے مصدر ہے اور واحد جمع دونوں پر بولا جاتا ہے۔ من دونکم (مسلمانوں کے سوا) اس کا تعلق آیت وان تطیعو افریقامن الذین اوتوا الکتاب سے ہے اور اس میں کفار کی طرف میلان سے ممانعت کی تاکید کی ہے۔ حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ اسلام سے پہلے مدینہ کے انصار اور یہود کے درمیان میل جول اور دوستانہ تعلقات قائم تھے پھر جب یہ لوگ مسلمان ہوگئے تو تب ان میں سے بعض لوگوں نے یہود یوں سے ذاتی تعلقات برقرار کھے جن کی وجہ سے بعض راز کی باتیں بھی ان پر افشا کردیتے اس پر یہ آیت نازل ہوئی (ابن جریر) مگر یہ آیت عام ہے اور یہو و نصاری منافقین اور مشرکین سبھی من دونکم میں داخل ہیں اس بنا پر…
Read the full tafseer →(3:118) بطانۃ۔ ولی۔ دوستی۔ رازدار۔ بھیدی۔ استر۔ کپڑے کا باطنی حصہ جو جسم سے ملا رہے ۔ بطن سے مشتق ہے بطن کا استعمال ہر شے میں ظہر کے خلاف ہوتا ہے۔ باہر کی جانب کو ظھر کہتے ہیں۔ اور اندر کی جانب کو بطن بولتے ہیں۔ کپڑے کے اوپر کے حصہ کو ظھارہ اور اندرونی اور نیچے کے حصہ کو جو جسم سے ملا رہے بطانۃ کہتے ہیں۔
لا یالونکم۔ مضارع منفی صیغہ جمع مذکر غائب کم ضمیر جمع مذکر حاضر (باب نصر) الو الو۔ الی۔ مصادر کسی کام میں کوتاہی کرنا۔ دیر لگانا۔ کہتے ہیں لم یال جھدا۔ اس نے کوشش کرنے میں کوتاہی نہیں کی۔
خبالا۔ تباہ کرنا۔ خرابی مچانا۔ فساد۔ تباہی۔ وہ خرابی یا فساد جس کے لاحق ہونے سے کسی جاندار میں اضطراب اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 118–120
لغات القرآن آیت نمبر 118 تا 120
لاتتخذوا (تم نہ بناؤ) بطانة (رازدار) من دونکم (اپنوں کے علاوہ) لایالون (وہ کمی نہ کریں گے) خبال (برائی ، بربادی) ودوا (وہ پسند کرتے ہیں) عنتم (جو تمہیں بھاری ہے، جو کچھ تم پر سختی ہے) بدت (ظاہر ہوگیا، ظاہر ہو پڑتا ہے) البغضاء (منہ (فوہ، منہ) ماتخفی (جو کچھ چھپاتا ہے) اکبر (بہت زیادہ ہے) عضوا (انہوں نے کاٹا (وہ کاٹتے ہیں) الانامل (انگلیاں) الغیظ (غصہ) موتوا (تم مرجاؤ) ذات الصدور (دلوں والا (وہ دلوں کا حال جانتا ہے) ان تمسسکم (اگر تمہیں پہنچے) تسوء (برامعلوم ہوتا ہے برالگتا ہے) سیئة (وہ خوش ہوتے ہیں) لایضرکم (وہ تمہیں نقصان نہ پہنچائیں گے) کید (فریب) ۔
تشریح :…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 118–120
منافقوں اور کافروں سے دوستی نہ کرنے کا حکم
شان نزول : ان آیتوں کا حاصل مطلب یہ ہے کہ اے مسلمانو ! تمہارے ساتھ منافقوں کا تو یہ حال ہے کہ منہ پر کچھ، پیٹھ کے پیچھے کچھ ہیں۔ اور یہود کا یہ حال ہے کہ تم ان کی کتاب، ان کے دین کو حق جانتے ہو، اور وہ تم سے جل جل کر اپنی بوٹیاں کاٹ کاٹ کھاتے ہیں۔ اگرچہ یہ فرقے جل کر مر بھی جاویں تو آخر ہوگا وہی جو اللہ کو منظور ہے کہ اسلام بڑھے گا اور یہ دنیا میں خوار ہوں گے۔ لیکن جب یہ دونوں فرقے تم سے دلی بغض رکھتے ہیں جس بغض کا حال اللہ کو خوب معلوم ہے تو آئندہ تم بھی ان سے دوستی خوب ترک کردو۔ اس آیت سے معلوم ہوا کہ کسی غیر اسلام والے شخص کو اس طرح کا دوست بنانا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 117–120
[43] یہ ان اہل کتاب کا ذکر ہے جو اوپر والے گروہ کے برعکس اپنے کفر پر اڑے رہ گئے۔ یہ لوگ اپنی رسمی دین داری کی نمائش کے لئے جو کچھ بھی خرچ کرتے ہیں ان کے اس خرچ کی تمثیل اس کھیتی کی سی ہے جس پر پالے والی ہوا چل جائے اور وہ اس کو برباد کر کے رکھ دے۔ مطلب یہ ہے کہ کفر و شرک کے ساتھ جو کام نیکی اور دین داری کی نوعیت کے کئے جاتے ہیں وہ سب اکارت جاتے ہیں۔
Read the full tafseer →نفاق سے دوستی :
(ف 2) (آیت) ” بطانۃ “ کے معنی رابطہ قلبی کے ہیں (آیت) ” من دونکم کا مطلب یہ ہے کہ اسلامی مفاد کو ٹھکرا کر ایسے تعلقات کفر کے ساتھ وابستہ رکھے جائیں ، اس لئے ظاہر ہے کہ آیت کا مقصد عام معاشی ومجلسی تعلقات سے روکنا نہیں ، بلکہ یہ ہے کہ کفر پر کلی اعتماد نہ کیا جائے اور کبھی غیر مسلموں کو اپنا سچا خیر خواہ نہ سمجھا جائے ، یہ بہترین سیاسی سبق ہے جو مسلمانوں کو دیا گیا ہے اور اس کی وجوہ یہ بیان فرمائیں کہ (آیت) ” لا یالونکم خبالا “۔ تم کو نقصان پہنچانے میں انہوں نے کبھی کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی ، تم چاہے کتنا ہی اخلاص کا ثبوت دو ‘ وہ تمہارے ساتھ دھوکے ہی سے پیش آئیں گے ، (آیت) ”…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 118–119
ف 2 اے ایمان والو تم اپنی جماعت اور اپنے لوگوں کے علاوہ دوسرے مذاہب کے لوگوں میں سے کسی کو اپنا راز دارانہ بنائو کیونکہ وہ لوگ تمہارے ساتھ فساد کرنے میں اور تمہارے خلاف فتنہ انگیزی میں کوئی کوتاہی نہیں کرتے اور کوئی دقیقہ اٹھا نہیں رکھتے جس چیز سے تم کو نقصان پہنچے وہ ان کو محبوب ہے اور یہ لوگ تمہارے ضرر کو دل سے دوست رکھتے ہیں جو چیز بھی تمہارے لئے موجب مشقت و تکلیف ہو اس کی یہ تمنا رکھتے ہیں ان کے دل کے بغض کا یہ عالم ہے کہ حقیقتاً وہ بغض ان کے منہ سے نکلا پڑتا ہے یعنی بات چیت میں ان کے منہ سے ان کے دل کا بغض ظاہر ہوجاتا ہے اور جو دشمنی اور بغض ان کے سینوں میں بھرا ہوا ہے اور ان کے دلوں میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 115–118
ف 1۔ یہاں جو غیر مذہب والوں سے خصوصیت کی ممانعت فرمائی ہے اس میں یہ بھی داخل ہے کہ ان کو اپنا ہمراز بنایا جائے اور اس میں یہ بھی داخل ہے کہ اپنے خاص امور انتظامی میں ان کو داخل دیا جائے۔
Read the full tafseer →مسلمانوں کو ہدایت کہ اپنے لوگوں کے سوا غیروں کو ہم راز مت جاؤ :
224 : مسلمانو ! ایسا مت کرو کہ اپنے آدمیوں کے سوا کسی دوسرے کو اپنا ہم راز اور معتمد بناؤ “ بطائۃ بطن “ اصل میں إ پیٹ ہے لیکن ہرچیز میں اس کے ظاہر کے خلاف کو اس کا بطن کہہ دیتے ہیں اور بطور استعارہ بطانۃ کا استعمال اس شخص پر ہوتا ہے جس کو تم اپنے معاملہ کے باطن یعنی راز پر اطلاع دینے کے لئے خاص کرلیتے ہو۔ مسلمانوں کو اپنے دشمنوں کو راز دار دوست بنانے کی ممانعت کی ہے اور یہ امر ظاہر ہے کہ اپنے دشمن کو راز دار اور دوست بنانا اپنے ہیں پاؤں پر کلہاڑی چلانا ہے کیونکہ وہ مسلمانوں کو نقصان پہنچانے میں کوئی کمی نہیں کرتے بلکہ وہ تو خوش…
Read the full tafseer →Commentary
These verses were revealed in a particular background. There were Jewish settlements around Madinah. They had old friendly ties with the tribes of Aws and Khazraj. Individuals from these tribes were also on friendly terms with other individuals from the Jewish settlements. In their tribal capacity too, Aws and Khazraj were to the Jews their neighbours and allies. When these two tribes embraced Islam, they continued to maintain their old ties with them. Individuals from these tribes saw no problems in meeting their old Jewish friends with the same love and sincerity. But, Jews were…
Read the full tafseer →92. The Jews living on the outskirts of Madina had long enjoyed friendly relations with the two tribes of Aws and Khazraj. In the first place this was the result of relations between individuals. Later, they were bound by ties of neighbourliness and allegiance as a result of tribal inter-relationship. Even after the people of Aws and Khazraj embraced Islam, they maintained their old ties with the Jews and continued to treat them with the same warmth and cordiality. However, the hostility of the Jews towards the Arabian Prophet (peace be on him) and towards his mission was far too intense to…
Read the full tafseer →