Explained with ayahs 118–120
کافر اور منافق مسلمان کے دوست نہیں انہیں اپنا ہم راز نہ بناؤ
اللہ تعالیٰ ایمانداروں کو کافروں اور منافقوں کی دوستی اور ہم راز ہونے سے روکتا ہے کہ یہ تو تمہارے دشمن ہیں ان کی چکنی چپڑی باتوں میں خوش نہ ہوجانا اور ان کے مکر کے پھندے میں پھنس نہ جانا ورنہ موقعہ پا کر یہ تمہیں سخت ضرر پہنچائیں گے اور اپنی باطنی عداوت نکالیں گے تم انہیں اپنا راز دار ہرگز نہ سمجھنا راز کی باتیں ان کے کانوں تک ہرگز نہ پہنچانا بطانہ کہتے ہیں انسان کے راز دار دوست کو اور من دو نکم سے مراد جس خلیفہ کو مقرر کیا اس کیلئے دو بطانہ مقرر کئے ایک تو بھلائی کی بات سمجھانے والا اور اس پر رغبت دینے والا اور دوسرا برائی کی رہبری…
Read the full tafseer →سورة اٰلِ عِمْرٰن 93
یعنی یہ عجیب ماجرا ہے کہ شکایت بجائے اس کے کہ تمہیں ان سے ہوتی، ان کو تم سے ہے۔ تم تو قرآن کے ساتھ توراة کو بھی مانتے ہو اس لیے ان کو تم سے شکایت ہونے کی کوئی معقول وجہ نہیں ہو سکتی۔ البتہ شکایت اگر ہو سکتی تھی تو تمہیں ان سے ہو سکتی تھی کیونکہ وہ قرآن کو نہیں مانتے۔
Read the full tafseer →اس کے بعد فرمایا گیا ھانتم اولاء تحبونھم۔ یعنی تم تو ایسے ہو کہ ان سے محبت رکھتے ہو اور یہ تم سے ذرا محبت نہیں رکھتے، اور تم سب کتابوں کو مانتے ہو اور وہ جب تم سے ملتے ہیں کہتے ہیں کہ ہم مسلمان ہیں، اور جب اکیلے ہوتے ہیں تو کاٹ کاٹ کھاتے ہیں تم پر انگلیاں غصہ سے، کہہ دیجیے کہ تم غیظ میں مر رہو، بیشک اللہ دلوں کی باتوں کو خوب جانتا ہے، یعنی یہ کیسی بےموقع بات ہے کہ تم ان کی دوستی کا دم بھرتے رہو اور وہ تمہارے دوست نہیں بلکہ جڑ کاٹنے والے دشمن ہیں، اور عجیب بات یہ ہے کہ تم تمام آسمانی کتابوں کو مانتے ہو خواہ وہ کسی قوم کی ہوں، اور کسی زمانہ میں کسی پیغمبر پر نازل ہوئی ہوں، اس کے برخلاف یہ لوگ…
Read the full tafseer →ھٰٓاَنْتُمْ اُولَاۗءِ میں ضمیر خطاب ھا اولاء کے بیچ میں آگئی ہے۔ ھا درحقیقت تنبیہ کا کلمہ ہے اس وجہ سے جب اس پر زور دینا ہوتا ہے تو اہل عرب یہ طریقہ اختیار کرتے ہیں۔ اسی طرح ھا انا ذا بھی کہتے ہیں۔
اللہ کی پوری کتاب صرف قرآن ہے : وَتُؤْمِنُوْنَ بِالْكِتٰبِ كُلِّھٖ ، پر تفصیل کے ساتھ ہم سورة بقرہ میں بحث کرچکے ہیں اصل میں پچھلے صحیفوں اور قرآن میں نسبت جزو اور کل کی ہے۔ اہل کتاب کو کتاب الٰہی کا صرف ایک حصہ دیا گیا تھا۔ پوری کتاب کا دیا جانا آخری بعثت پر اٹھا رکھا گیا تھا۔ چناچہ اہل کتاب کے متعلق بار بار یہ الفاظ آتے ہیں ”الم تر اولی الذین اوتوا نصیبا من الکتب : بھلا ان کو تو دیکھو جنہیں کتاب…
Read the full tafseer →119۔ 1 تم ان منافقین کی نماز اور ایمان کیوجہ سے ان کی بابت دھوکے کا شکار ہوجاتے ہو اور ان سے محبت رکھتے ہو۔
119۔ 2 یہ ان کے غیظ و غضب کی شدت کا بیان ہے جیسا کہ اگلی آیت میں بھی ان کی اسی کیفیت کا اظہار ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 119–121
40: جنگ احد میں تین ہزار کفار کا ایک لشکر مدینہ منورہ پر حملہ آور ہوا تھا آنحضرت ﷺ ان کے مقابلے کے لئے احد پہاڑ کے دامن میں تشریف لے گئے تھے جہاں یہ جنگ لڑی گئی، آنے والی آیات میں اس کے متعدد واقعات کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔
Read the full tafseer →اور اللہ تعالیٰ مزید فرماتے ہیں :
هَا أَنْتُمْ أُولاءِ تُحِبُّونَهُمْ وَلا يُحِبُّونَكُمْ وَتُؤْمِنُونَ بِالْكِتَابِ كُلِّهِ وَإِذَا لَقُوكُمْ قَالُوا آمَنَّا وَإِذَا خَلَوْا عَضُّوا عَلَيْكُمُ الأنَامِلَ مِنَ الْغَيْظِ
” اور تم ان سے محبت رکھتے ہو ؟ مگر وہ تو تم سے محبت نہیں رکھتے ‘ حالانکہ تم تمام کتب سماوی کو مانتے ہو ‘ جب وہ تم سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم نے بھی مان لیا ہے ‘ مگر جب جدا ہوتے ہیں تو تمہارے خلاف ان کے غیظ وغضب کا یہ حال ہوتا ہے کہ اپنی انگلیاں چبانے لگتے ہیں ۔
Read the full tafseer →4 یعنی یہ کیسی بےموقع بات ہے کہ تم ان کی دوستی کا دم بھرتے ہو، اور وہ تمہارے دوست نہیں بلکہ جڑ کاٹنے والے دشمن ہیں اور طرفہ یہ ہے کہ تم تمام آسمانی کتابوں کو مانتے ہو خواہ وہ کسی قوم کی ہوں اور کسی زمانہ میں کسی پیغمبر پر نازل ہوئی ہوں (جنکے خدا نے نام بتلا دیئے ان پر علی التعیین اور جنکے نام نہیں بتلائے ان پر بالاجمال ایمان رکھتے ہو) اس کے برخلاف یہ لوگ تمہاری کتاب اور پیغمبر کو نہیں مانتے، بلکہ خود اپنی کتابوں پر بھی انکا ایمان صحیح نہیں۔ اس لحاظ سے چاہیے تھا کہ وہ تم سے قدرے محبت کرتے اور تم ان سے سخت نفور و بیزار رہتے مگر یہاں معاملہ برعکس ہو رہا ہے۔
5 منافقین تو کہتے ہی تھے، عام یہود و…
Read the full tafseer →آیت 119 ہٰٓاَنْتُمْ اُولَآءِ تُحِبُّوْنَہُمْ
یہ تمہاری شرافت اور سادہ لوحی ہے کہ تم ان سے محبت کرتے ہو اور پرانے تعلقات اور دوستیوں کو نبھانا چاہتے ہو۔
وَلاَ یُحِبُّوْنَکُمْ
وہ تم سے دوستی نہیں رکھتے۔
وَتُؤْمِنُوْنَ بالْکِتٰبِ کُلِّہٖج ۔
تم تورات کو بھی مانتے ہو ‘ انجیل کو بھی مانتے ہو۔ سورة النساء میں الفاظ آئے ہیں : اَلَمْ تَرَ اِلَی الَّذِیْنَ اُوْتُوْا نَصِیْبًا مِّنَ الْکِتٰبِ۔۔ آیت 44 کیا تم نے ان لوگوں کو دیکھا جنہیں کتاب کا ایک حصہ دیا گیا تھا۔۔ چناچہ تمام آسمانی کتابیں اللہ تعالیٰ کی اس قدیم کتاب اُمُّ الکِتابہی کے حصے ہیں۔ اسی اُمُّ الکتاب میں سے پہلے تورات آئی ‘ پھر انجیل آئی اور…
Read the full tafseer →107 موجودہ صورت حال یہ ہے کہ تم تو تمام آسمانی کتابوں پر ایمان رکھتے ہو جن میں تورات بھی شامل ہے۔ لیکن اہل کتاب تمہارے قرآن پر ایمان نہیں رکھتے، اس بات کا تقاضا تو یہ تھا کہ وہ تم سے محبت رکھتے اور تم ان سے دشمنی رکھتے، مگر یہاں معاملہ اس کے بالکل برعکس ہے۔ تم یہ کیسی الٹی گنگا بہا رہے ہو ؟
108 یہاں آمنا سے مراد یا تو یہود کا تورات پر ایمان لانا ہے یا مسلمانوں کو خوش کرنے کے لیے منافقانہ طور پر یہ کہہ دینا کہ ہم بھی قرآن پر ایمان لاتے ہیں۔ حالانکہ جب وہ تمہارا اتحاد و اتفاق اور آپس میں پیار و محبت یا پے در پے کامیابیاں اور کامرانیاں دیکھتے ہیں تو غصہ کے مارے اپنی انگلیاں دانتوں میں چبانے لگتے…
Read the full tafseer →244 ۔ یعنی ساری کتب الہی پر الکتب۔ بہ طور اسم جنس استعمال ہوا ہے۔ والکتاب اسم جنس قالہ ابن عباس (قرطبی) بجنس الکتاب کلہ (بیضاوی) (آیت) ” تحبونھم “۔ یہ مسلمانوں کی سادہ دلی اور نیک طبعی کا ذکر ہے۔ (آیت) ” ولا یحبونکم “۔ یہ محبت تو تم سے کیا رکھتے۔ الٹے عداوت رکھتے ہیں، اور تمہاری کتاب الہی کے منکر ہیں، مطلب یہ ہوا کہ تم تو ان کی کتابوں پر ایمان رکھتے ہو، اور وہ پھر بھی تم سے کسی درجہ میں علاقہ محبت نہیں رکھتے۔
245 ۔ (آیت) ” عضوا علیکم الانامل من الغیظ “۔ غصہ سے انگلیاں کاٹ کاٹ کھانا عربی محاورہ میں کنایہ شدید جھنجھلاہٹ سے ہے، جیسے اردو میں اپنی بوٹیاں نوچنا ” بوٹیاں چبانا “” دنت پیسنا “ وغیرہ۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 119–121
آیت نمبر 121 تا 129
ترجمہ : اور اے محمد ﷺ وہ وقت یاد کرو جب آپ مدینہ سے اپنے اہل کے پاس سے نکلے تھے، مسلمانوں کو قتال کے مناسب مراکز پر کھڑے کرتے ہوئے اور اللہ ان کے اقوال کو بڑا سننے والا اور ان کے احوال کو بڑا جاننے والا ہے اور یہ احد کا دن تھا۔ آپ ﷺ ہزار یا پچاس کم ہزار افراد کے ساتھ نکلے تھے، اور مشرکوں کی تعداد تین ہزار تھی 3 ھ کے ماہ شوال کی ساتویں تاریخ بروز شنبہ گھاٹی میں نزول فرمایا، اور احد پہاڑ کی جانب اپنی اور لشکر کی پشت رکھی، اور آپ ﷺ نے لشکر کی صفوں کو درست فرمایا، اور تیر اندازوں کا ایک دستہ جس پر عبد اللہ بن جبیر کو سالار نام زد فرمایا تھا پہاڑ کی ایک گھاٹی پر متعین فرمایا۔…
Read the full tafseer →ھانتم اولاء تحبونھم و لا یحبونکم دیکھو تم تو قرابت یا دوستی کے پیش نظر ان سے محبت کرتے ہو حالانکہ وہ اختلاف مذہب کی وجہ سے تم سے محبت نہیں کرتے (یہ عجیب بات ہے) ۔
و تو منون بالکتب کلہ باوجودیکہ تم سب ہی کتابوں پر ایمان رکھتے ہو یا پوری تورات پر تمہارا ہی ایمان ہے اوّل مطلب پر الکتاب میں الف لام جنسی ہوگا اور دوسری صورت میں عہدی۔ اس جملہ میں واؤ حالیہ ہے اور مبتداء محذوف ہے اصل کلام : و انتم تو منون بالکتاب تھا انتم (مسند الیہ) کو تومنون (خبر فعلی) سے پہلے لانا مفید حصر ہے۔ یعنی تم ہی ایمان رکھتے ہو کافر تمام کتابوں پر یا پوری تورات پر ایمان نہیں رکھتے کیونکہ تورات کے اندر جو نبی ﷺ کے اوصاف کا…
Read the full tafseer →(119) مسلمانو ! اگرچہ تم حرمت اور رشتہ داری کی وجہ سے یہود سے محبت رکھتے ہو لیکن وہ دین کی وجہ سے تم سے محبت نہیں رکھتے اور تم تمام کتابوں اور رسولوں کا اقرار کرتے ہو اور وہ ایسا نہیں کرتے اور منافقین یہود جب تم سے ملتے ہیں تو کہہ دیتے ہیں کہ ہم رسول اکرم ﷺ اور قرآن کریم پر ایمان لائے، اور آپ ﷺ کی نعت وصفت ہماری کتابوں میں موجود ہیں لیکن جب یہ آپنے ساتھیوں میں جاتے ہیں تو غیظ وغضب میں انگلیاں چباتے ہیں (اے منافقین ویہود) تمہارے دلوں میں جو بغض اور کینہ ہے اللہ تعالیٰ اس سے بخوبی واقف ہیں۔
Read the full tafseer →الْاَنَامِلَ : یہ ”اَنْمِلَۃٌ“ کی جمع ہے، جس کا معنی ہے انگلیوں کے پورے۔ ”عَضَّ یَعَضُّ“ (ف) کا معنی ہے دانتوں سے کانٹا۔ ”الکتاب“ سے مراد تمام آسمانی کتابیں ہیں، یعنی تم تو سب کتابوں پر ایمان رکھتے ہو اور وہ کسی کتاب پر بھی ایمان نہیں رکھتے، پھر بھی بجائے اس کے کہ تم ان سے نفرت کرو، الٹا ان سے دوستی کرتے ہو اور وہ بجائے دوستی کے تم سے دشمنی رکھتے ہیں اور دشمنی بھی اتنی سخت کہ اکیلے ہوتے ہیں تو غصے کی وجہ سے دانتوں سے انگلیوں کے پورے کاٹتے ہیں، مگر جب تم سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم ایمان لے آئے۔ منافقین کی مسلم دشمنی کو واضح فرمایا ہے۔
Read the full tafseer →آیت نمبر : 119۔
قولہ تعالیٰ : (آیت) ” ھانتم اولآء تحبوھم “۔ مراد منافقین ہیں (یعنی تم تو منافقین سے محبت کرتے ہو) اور اس پر دلیل یہ ارشاد ہے۔ (آیت) ” واذا لقولکم قالوا امنا “۔ (جب وہ تمہیں ملتے ہیں تو کہتے ہیں ہم ایمان لائے ہیں) ابو العالیہ اور مقاتل نے یہی کہا ہے یہاں المحبۃ بمعنی مصافاۃ (یعنی خالص محبت کرنا) ہے یعنی اے مسلمانو ! تم تو ان کے ساتھ خالص محبت کرتے ہو اور وہ اپنے نفاق کی وجہ سے تمہارے ساتھ خالص محبت نہیں کرتے۔
اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس کا معنی ہے : تم تو ان کے لئے اسلام کا رادہ رکھتے ہو اور تمہارے لئے کفر چاہتے ہیں اور یہ قول بھی ہے کہ ان سے مراد یہود ہیں۔ اکثر (علمائ) نے یہی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 119–121
(1) ابن اسحاق و بیہقی نے دلائل میں ابن شہاب اور عاصم بن عمر بن قتادہ اور محمد بن یحییٰ بن حبان اور حصین بن عبد الرحمن ابن سعد معاذ ان تینوں حضرات سے روایت کیا کہ جنگ احد کا دن بلاء اور آزمایش کا دن تھا اللہ تعالیٰ نے اس دن ایمان والوں کا امتحان لیا اور اس کے ذریعہ ان کافرون کو بےآبرو کردیا جا اسلام کو اپنی زبان سے ظاہر کرتے تھے اور کفر کو چھپانے والے تھے اور وہ دن کہ اللہ تعالیٰ نے عزت کی ان لوگوں کو جو عزت کو چھپانے والے تھے اور وہ دن کہ اللہ تعالیٰ نے عزت دی ان لوگوں کو عزت دینے کا ارادہ کیا شہادت کے ساتھ اور یہ واقعہ ان واقعات میں سے تھا کہ جس میں قرآن میں سے احد کے دن کے ساٹھ آیتیں سورة…
Read the full tafseer →[ھٰٓانتم : سنو ! تم لوگ ] [اُولَآئِ : یہ ہو (کہ) ] [تُحِبُّـوْنَـہُمْ : تم لوگ محبت کرتے ہو ان سے ] [وَلاَ یُحِبُّوْنَـکُمْ : اور وہ لوگ محبت نہیں کرتے تم سے ] [وَ : حالانکہ ] [َتُؤْمِنُوْنَ : تم لوگ ایمان رکھتے ہو ] [بِالْکِتٰبِ : تمام (آسمانی) کتابوں پر ] [کُلِّہٖ : ان کے کل پر ] [وَاِذَا : اور جب بھی ] [لَقُوْکُمْ : وہ سامنے آتے ہیں تمہارے ] [قَالُوْآ : تو کہتے ہیں ] [اٰمَنَّا : ہم ایمان لائے ] [وَاِذَا : اور جب کبھی ] [خَلَوْا : وہ تنہا ہوتے ہیں ] [عَضُّوْا : تو چباتے ہیں ] [عَلَیْکُمُ : تم پر ] [الْاَنَامِلَ : انگلیوں کے سروں کو ] [مِنَ الْغَیْظِ : شدید غصے سے ] [قُلْ : کہو ] [مُوْتُوْا…
Read the full tafseer →مسلمانوں کی غفلت پر سرزنش :
مزید فرمایا کہ اے مسلمانو ! تم ایسے ہو کہ دشمنوں سے محبت کا برتاؤ کرتے ہو اور وہ تم سے محبت نہیں رکھتے، حالانکہ تم اللہ کی تمام کتابوں پر ایمان رکھتے ہو، تم ان کتابوں پر بھی ایمان لاتے ہو، جو انبیائے سابقین ( علیہ السلام) پر نازل ہوئیں اور وہ تمہاری کتاب یعنی قرآن مجید پر ایمان نہیں رکھتے تم جو ان کی کتابوں پر ایمان رکھتے ہو انہیں اس کی کچھ پاسداری نہیں، ان میں منافقت ہے، جب تم سے الگ ہوتے ہیں تو غصہ کی جلن کے مارے اپنی انگلیاں کاٹے لیتے ہیں کہ مسلمان کیسے آگے بڑھ رہے ہیں اور کیسے قوت پار ہے ہیں ان کے اس حال کے بارے میں ارشاد فرمایا (قُلْ مُوْتُوْا بِغَیْظِکُمْ )…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 118–120
تحذیر مومنین از اختصاص وارتباط بادشمنان دین۔
قال تعالی۔ یا ایھا الذین۔۔۔۔۔۔ الی۔۔۔۔ محیط۔ آیت۔
ربط) گزشتہ آیات میں مسلمانوں کے صفات اور کافروں کے زمائم اور قبائح کا ذکر تھا اب ان آیات میں مسلمانوں کو ہدایت ہے کہ کافروں کے ساتھ خلاملا نہ رکھو اور نہ ان کوا پنا راز دار بناؤ کافر تمہارے دین اور دنیا دونوں کے دشمن ہیں۔
یا یوں کہو کہ جب گزشتہ آیات میں یہ بیان کیا کہ کفر اور ظلم کی سرد ہوا نے ظالموں کے اعمال کی کھیتیوں کو تباہ برباد کیا تو اب آئندہ آیت میں اہل ایمان کو نصیحت فرماتے ہیں خہ تم انظالموں سے خلط ملط نہ رکھنا مبادا ان کے کفر اور ظلم کی سرد ہوا کا اثر تمہارے اعمال کی کھیتیوں کو کوئی نقصان…
Read the full tafseer →181 الکتاب میں لام جنس کا ہے اور مراد اس سے تمام آسمانی کتابیں ہیں اور ضمیر غائب سے منافقین یہود مراد ہیں یہ مسلمانوں کی نیک دلی اور یہودیوں کے روایتی بغض وعداوت کا بیان ہے مطلب یہ کہ تم تو ان سے دوستی بھی رکھتے ہو اور تمام آسمانی کتابوں کو حتی کہ تورات اور انجیل پر بھی ایمان رکھتے ہو۔ اور ان کا حال یہ ہے کہ تم سے دوستی اور محبت تو درکنار وہ تمہاری کتاب یعنی قرآن پر بھی ایمان نہیں رکھتے حاصل یہ کہ وہ تمہارے ساتھ کسی درجہ میں انس اور محبت نہیں رکھتے۔
182 عَضِّ اَنَامِل یعنی انگلیاں کاٹنا یہ ایک محاورہ ہے اور اس وقت بولا جاتا ہے جب آدمی شدت غیظ سے دیوانہ ہورہا ہو اور غصے کو عملی جامہ نہ پہنا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 119–120
ربط آیات :
اہل کتاب کی عداوت اور دشمنی کا ذکر کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے اہل کتاب مشرکین اور منافقین سے دوستی کرنے سے منع فرمادیا۔ اور خبردر کردیا کہ ان کو اپنے دلی رازدان نہ بناؤ، ورنہ وہ تمہارے درمیان فتنہ و فساد کی اگ بھڑکا دیں گے۔ ان کی حالت یہ ہے کہ جو چیز تمہیں مشقت میں ڈالتی ہے وہ اس کو پسند کرتے ہیں۔ ان کی اسلام دشمنی بسا اوقات ان کی زبانوں پر آجاتی ہے۔ اس کے علاوہ تمہارے خلاف جو بغض وعناد ان کے دلوں میں پوشیدہ ہے وہ بہت زیادہ ہے۔ اس کو اللہ ہی جانتا ہے۔ تم اس کا اندازپ نہیں کرسکتے۔ اللہ نے فرمایا کہ ہم نے تمام احکام کھول کر بیان کردیے ہیں۔ اگر تم عقل و شعور رکھتے ہو ، تو ان کو سمجھ…
Read the full tafseer →ھٰٓاَنْتُمْ اُولَاۗءِ تُحِبُّوْنَھُمْ وَلَا يُحِبُّوْنَكُمْ وَتُؤْمِنُوْنَ بِالْكِتٰبِ كُلِّہٖ 0 ۚ وَاِذَا لَقُوْكُمْ قَالُوْٓااٰمَنَّا 0 ۚۤۖ وَاِذَا خَلَوْا عَضُّوْا عَلَيْكُمُ الْاَنَامِلَ مِنَ الْغَيْظ 0 ۭ قُلْ مُوْتُوْا بِغَيْظِكُمْ 0 ۭ اِنَّ اللہَ عَلِيْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ 119
ها
هَا للتنبيه في قولهم : هذا وهذه، وقد ركّب مع ذا وذه وأولاء حتی صار معها بمنزلة حرف منها، و (ها) في قوله تعالی: ها أَنْتُمْ [ آل عمران/ 66] استفهام، قال تعالی: ها أَنْتُمْ هؤُلاءِ حاجَجْتُمْ [ آل عمران/ 66] ، ها أَنْتُمْ أُولاءِ تُحِبُّونَهُمْ [ آل عمران/ 119] ، هؤُلاءِ جادَلْتُمْ
[ النساء/ 109] ، ثُمَّ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 117–120
ترکیب : مثل مبتدا کمثل ریح خبر اصابت الخ صفت ہے ریح کی بطانۃ مفعول ہے لا تتخذوا کا من دونکم فعل سے متعلق ہو کر صفت ہے بطانۃ کی اسی طرح لا یا لونکم خبالا تمیز ہے علیکم مفعول عضوا لانامل مفعول ثانی۔
تفسیر : بطانۃ کفار حرام ہے : پہلی آیت میں تھا کہ کفار کو ان کا مال کچھ نفع آخرت میں نہ دے گا۔ اس پر شبہ گذرتا تھا کہ کیوں نہ دے گا حالانکہ وہ غریب یتیم فقیر بےکس کو للہ دیتے ہیں۔ اس کا جواب دیا جاتا ہے کہ ان کے صرف کرنے کی ایسی مثال ہے کہ جیسا کوئی کھیتی کرے یا باغ لگائے۔ پھر اس کو ہوا اور پالا مار جاوے اور وہ خراب ہوجائے۔ اسی طرح ان کا لیا دیا بیشک کھیتی اور آخرت کے لئے باغ ہے کہ جس سے انتفاع کی…
Read the full tafseer →ھٰٓـاَنْـتُمْ اُولَآئِ تُحِبُّوْنَـہُمْ وَلاَ یُحِبُّوْنَـکُمْ وَتُؤْمِنُوْنَ بِالْـکِتٰبِ کُلِّہٖ ط وَاِذَا لَقُوْکُمْ قَالُوْٓا اٰمَنَّا صلے ق ج وَاِذَا خَلَوْا عَضُّوْا عَلَیْـکُمُ الْاَنَامِلَ مِنَ الْغَیْظِ ط قُلْ مُوْتُوْا بِغَیْظِـکُمْ ط اِنَّ اللّٰہَ عَلِیْمٌ م بِذَاتِ الصُّدُوْرِ ۔
(یہ تمہی ہو کہ تم ان سے دوستی رکھتے ہو حالانکہ وہ تم سے دوستی نہیں رکھتے اور امر واقعہ یہ ہے کہ تم ساری کتاب پر ایمان رکھتے ہو۔ جب وہ تم سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں ہم تو ایمان لائے ہوئے ہیں اور جب آپس میں ملتے ہیں تو تم پر غصہ سے انگلیاں کاٹتے ہیں۔ کہہ دو ! تم اپنے غصے میں مرجاؤ، اللہ سینوں کے بھید سے خوب…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : اسلام کے دشمنوں سے دوستی نہ رکھنے کی مزید وجوہات بیان کی گئی ہیں۔
مسلمانوں کا ضمیر جھنجھوڑنے اور غیرت دلانے کے لیے اب نیا انداز اختیار کرتے ہوئے فرمایا کہ تم کیسے لوگ ہو کہ تم ان سے محبت کی پینگیں بڑھاتے ہو اور وہ تمہارے ساتھ کوئی الفت نہیں رکھتے۔ تم خلوص نیت کے ساتھ قرآن مجید پر ایمان لائے ہو ان کی حالت یہ ہے کہ تمہارے ساتھ ملتے ہیں تو زبانی جمع خرچ کے طور پر ایمان کا دعو ٰی کرتے ہیں اور جب تم سے الگ ہوتے ہیں تو غیظ و غضب کی وجہ سے اپنی انگلیاں کاٹتے ہیں۔ ان سے کہو کہ تم اپنے غصے کی آگ میں جل مرو۔ اللہ تعالیٰ سب کے دلوں کے حال کو جاننے والا ہے۔ یہاں اللہ تعالیٰ نے اپنی…
Read the full tafseer →توبیخ مؤمنین :
119: ھٰٓاَنْتُمْ اُولَآ ئِ تُحِبُّوْنَھُمْ وَلَا یُحِبُّوْنَکُمْ وَتُؤْمِنُوْنَ بِالْکِتٰبِ کُلِّہٖ وَاِذَا لَقُوْکُمْ قَالُوْٓا ٰامَنَّا وَاِذَا خَلَوْا عَضُّوْا عَلَیْکُمُ الْاَنَامِلَ مِنَ الْغَیْظِ قُلْ مُوْتُوْا بِغَیْظِکُمْ اِنَّ اللّٰہَ عَلِیْمٌ 7 بِذَاتِ الصُّدُوْرِ ۔ (دیکھو تم تو وہ ہو کہ)
منافقین سے موالات کی غلطی :
نحو : ھا حرف تنبیہ ہے۔ انتم مبتداء اور اولاء خبر یعنی تم منافقین اہل کتاب کی موالات میں غلطی کھانے والے ہو۔
تُحِبُّوْنَھُمْ وَلَا یُحِبُّوْنَکُمْ (تم ان سے محبت کرتے ہو اور وہ تم سے محبت نہیں کرتے) اس میں منافقین کے ساتھ موالات کی غلطی ظاہر کی گئی کہ تم…
Read the full tafseer →(تفسیر) 119۔:
(آیت)” ھا انتم “۔ ھا تنبیہ انتم مذکر مخاطب سے کنایہ ہے ” اولاء “ اسم اشارہ ہے اس سے مراد مؤمنین کی جماعت ” تحبونھم “ تم ان یہود سے محبت کرتے ہو جن سے تمہیں روکا گیا تھا ، ان اسباب کی وجہ سے جو زمانہ جاہلیت میں (انکی آپس میں) قرابت ، رضاعت اور مصاہرت تھی (آیت)” ولا یحبونکم “۔ اور وہ تم سے محبت نہیں کرتے اختلاف دین کی وجہ سے ، مقاتل کا بیان ہے کہ اس سے مراد منافقین ہیں جو مسلمانوں سے باہم دوستی کا دعوی کرتے تھے ، ظاہرا ایمان لا کر اور مسلمانوں کو ان کے دلوں کا علم نہیں تھا ۔ (آیت)” وتؤمنون بالکتاب کلہ “۔ ان کی تمام کتابوں پر ایمان رکھتے ہو اور وہ تمہاری کتاب پر ایمان نہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 118–120
(118 ۔ 120) ۔ ابن جریر اور ابن اسحاق نے حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے روایت کی ہے کہ جس طرح اسلام سے پہلے یہود اور اہل عرب میں دوستی تھی اور آپس میں کچھ کفر اور اسلام کا فرق نہ تھا اسلام کے بعد بھی اکثر مسلمان یہود اور منافقوں سے وہی قدیمی اتحاد برتتے تھے اور یہود اور مناقفوں کا یہ حال تھا کہ دوستی کے پردہ میں یہ کیا کہ اوس اور خزرج مسلمانوں کے دو قبیلوں میں لڑائی کا سامان کردیا۔ جس کا ذکر اوپر کی آیتوں میں گذرچکا اور عبد اللہ بن ابی منافق نے یہ کیا کہ عین میدان جنگ میں سے احد کی لڑائی کے وقت لشکر اسلام میں سے تین سو آدمیوں کو بہکا کر مدینہ لے آیا۔ جس کا ذکر آئندہ کی آیتوں میں آئے گا۔ اور زیادہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 118–121
آیت 118-120
اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندوں کو اس بات سے منع فرماتا ہے کہ وہ اہل کتاب کے یا دوسرے مذاہب کے منافقوں کو دلی دوست بنائیں، انہیں اپنے راز بتائیں، یا بعض اسلامی ذمہ داریاں ان کے سپرد کردیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ دشمن ہیں جن کے دل بغض و عداوت سے بھرے ہوئے ہیں۔ حتیٰ کہ یہ عداوت ان کی زبان سے بلا ارادہ ظاہر ہوجاتی ہے۔ (وما تخفی صدورھم اکبر) ” اور جو ان کے سینوں میں پوشیدہ ہے، وہ ظاہر ہوجانے والی دشمنی سے بہت زیادہ ہے۔ “ اسی لئے (لایالونکم خبالا) ” وہ تمہاری تباہی میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھتے “ یعنی تمہیں نقصان پہنچانے اور مشکلات پیدا کرنے میں کمی نہیں کرتے۔ وہ ایسے اسباب پیدا کرتے ہیں جس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 119–130
سود کی ہر صورت حرام ہے
قول باری ہے (لاتاکلوا الربواضعا فامضاعفۃ، یہ بڑھتا اور چڑھتا سود کھانا چھوڑ دو ) قول باری (اضعا فاعفۃ) کے دومعنی بیان کیے گئے ہیں اول تاجیل قرض کی ادائیگی کی مدت میں اضافے کے ساتھ سود کو رقم میں اضافہ کرتے جانا اور ہر مدت کے لیے زائد رقم کی قسط مقررکر دینا۔ دوم سودی رقموں کے ذریعے اپنے مال میں کئی گنا اضافہ کرلینایہ اس بات کی دلیل ہے کہ جس چیز کا خصوصیت کے ساتھ ذکرکر دیاجائے، وہ اس پر دلالت نہیں کرتی کہ اس کے ماسواچیزوں کا حکم کے برعکس ہے کیونکہ اگر ایسا ہوتا تو پھر کئی کئی گنابڑھا کر سود خوری کی تحریم اس پر دلالت کرتی کہ اگر کئی کئی گنا اضافے کی صورت نہ ہو تو سود کھانا…
Read the full tafseer →246 قرآن حکیم کی حقانیت و صداقت کا ایک اور ثبوت، دلوں کے حال کا بیان : ۔ یہ قرآن حکیم کی حقانیت اور اس کی اعجاز بیانی کا ایک اور ثبوت ہے کہ محبت رکھنے یا نہ رکھنے کا تعلق تو دل سے ہوتا ہے، اور دلوں کا حال کوئی نہیں جان سکتا سوائے خود محبت رکھنے والے کے یا اس کے جو علام الغیوب ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ سو اس سے ثابت ہوا کہ یہ کلام انسانی کلام نہیں بلکہ انسانوں کے اس خالق ومالک کا کلام ہے جو کہ دلوں کے رازوں اور بھیدوں کو بھی پوری طرح جانتا ہے اور اس نے وحی کے ذریعے اس سے اپنے پیغمبر کو سرفراز فرمایا ۔ سُبْحَانَہ وَتَعَالیٰ ۔ { ہَا اَنْتُمْ } میں " ہا " حرف تنبیہ ہے۔ اور عربی زبان و استعمال میں یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 118–120
مسلمانوں کا راز دان کون ؟ اہل کتاب کا حسد
تشریح : ان آیات کا شان نزول یہ ہے کہ یہود و منافقین کے شر سے مسلمانوں کو آگاہ کیا جائے۔ واقعہ یہ ہے کہ مدینہ کے اطراف میں یہودی اور ان کے ساتھ اوس و خزرج کے دو قبیلے بھی آباد تھے۔ قریب قریب رہنے کی وجہ سے ان کی آپس میں بہت دوستی تھی یہ دونوں قبیلے مسلمان ہوگئے مگر پرانے تعلقات کی وجہ سے مسلمانوں نے یہودی قبائل سے دوستی پہلے کی طرح ہی قائم رکھی کیونکہ ان کے دل کینے سے پاک تھے مگر اہل کتاب، یعنی یہود کے دل حسد، بغض اور نفرت سے بھرے ہوئے تھے، اس لیے وہ مسلمانوں کی دوستی سے غلط فائدہ اٹھا رہے تھے۔ مسلمان سادگی میں ان سے کئی راز کی باتیں بھی کہہ جاتے تو وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 110–120
آیات 110- 120
اسرارو معارف
کنتم خیرامۃ……………واکثرھم الفسقون۔
تم سب سے اچھی امت ہو کہ آقائے نامدار ﷺ خیرالرسل ہیں اور قرآن کریم سب کتابوں سے اعلیٰ و افضل کتاب ہے۔ تم لوگ جنہیں آپ ﷺ سے نسبت حاصل ہے۔ اور اس کی برکت سے کتاب اللہ کو سمجھنے کی سعادت حاصل ہوئی ہے ایک ایسی سعادت ہے کہ ارشاد ہوا۔ اتممت علیکم نعمتی۔ کہ میں نے اپنی نعمت تم پر تمام کردی۔ تم ہی بہترین لوگ ہو۔
اتمام نعمت ایک ایسی عطا ہے جس کی حدود متعین کرنا انسان کے بس کی بات نہیں ہے اور اس پر مزید یہ کہ نعمت کا حصول بھی بیشک بہت بڑی بات ہے مگر اس کو دوسروں پر تقسیم کرنا اور بےحدوحساب بانٹنا بہت ہی بڑی شے ہے اور تمہیں تو بھیجا ہی اس لئے…
Read the full tafseer →ف 5 الکتاب سے تمام آسمانی کتابیں مراد ہیں یعنی تم تو سب کتابوں پر ایمان رکھتے ہو وہ کسی کتاب پھر بھی ایمان نہیں کر کھتے ہیں پھر بجائے اس کے کہ تم ان سے نفرت کرو الٹی ان سے دوستی کرتے ہو اور وہ بجائے دوستی کے تم سے دشمنی رکھتے ہیں اور منانفقت سے تمہیں بےخوف بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔ کذافی ابن کثیر )
Read the full tafseer →(3:119) ھانتم۔ ھا تنبیہ کے لئے ہے انتم۔ مبتداء اور اولاء خبر ہے۔
لقوکم۔ تہ تم سے ملتے ہیں۔ ماضی جمع مزکر غائب کم ضمیر جمع مذکر حاضر۔ لقوا اصل میں لقیوا تھا۔ لقی سے۔
خلوا۔ وہ تنہا ہوئے۔ وہ اکیلے ہوئے۔ خلاء سے ۔ ماضی کا صیغہ جمع مذکر غائب۔
عضوا۔ انہوں نے کاٹ کاٹ کھایا۔ انہوں نے دانتوں میں دبایا۔ عض سے (باب سمع) ماضی کا صیغہ جمع مذکر غائب۔
الانامل۔ انملۃ کی جمع ۔ جس کے معنی پہلے پورے کے ہیں جس میں ناخن ہوتا ہے۔ انگلیاں۔ عضوا علیکم الانامل من الغیظ۔ تمہارے خلاف غصہ و غضب کی وجہ سے انگلیاں کاٹ کاٹ کھاتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 118–120
لغات القرآن آیت نمبر 118 تا 120
لاتتخذوا (تم نہ بناؤ) بطانة (رازدار) من دونکم (اپنوں کے علاوہ) لایالون (وہ کمی نہ کریں گے) خبال (برائی ، بربادی) ودوا (وہ پسند کرتے ہیں) عنتم (جو تمہیں بھاری ہے، جو کچھ تم پر سختی ہے) بدت (ظاہر ہوگیا، ظاہر ہو پڑتا ہے) البغضاء (منہ (فوہ، منہ) ماتخفی (جو کچھ چھپاتا ہے) اکبر (بہت زیادہ ہے) عضوا (انہوں نے کاٹا (وہ کاٹتے ہیں) الانامل (انگلیاں) الغیظ (غصہ) موتوا (تم مرجاؤ) ذات الصدور (دلوں والا (وہ دلوں کا حال جانتا ہے) ان تمسسکم (اگر تمہیں پہنچے) تسوء (برامعلوم ہوتا ہے برالگتا ہے) سیئة (وہ خوش ہوتے ہیں) لایضرکم (وہ تمہیں نقصان نہ پہنچائیں گے) کید (فریب) ۔
تشریح :…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 118–120
منافقوں اور کافروں سے دوستی نہ کرنے کا حکم
شان نزول : ان آیتوں کا حاصل مطلب یہ ہے کہ اے مسلمانو ! تمہارے ساتھ منافقوں کا تو یہ حال ہے کہ منہ پر کچھ، پیٹھ کے پیچھے کچھ ہیں۔ اور یہود کا یہ حال ہے کہ تم ان کی کتاب، ان کے دین کو حق جانتے ہو، اور وہ تم سے جل جل کر اپنی بوٹیاں کاٹ کاٹ کھاتے ہیں۔ اگرچہ یہ فرقے جل کر مر بھی جاویں تو آخر ہوگا وہی جو اللہ کو منظور ہے کہ اسلام بڑھے گا اور یہ دنیا میں خوار ہوں گے۔ لیکن جب یہ دونوں فرقے تم سے دلی بغض رکھتے ہیں جس بغض کا حال اللہ کو خوب معلوم ہے تو آئندہ تم بھی ان سے دوستی خوب ترک کردو۔ اس آیت سے معلوم ہوا کہ کسی غیر اسلام والے شخص کو اس طرح کا دوست بنانا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 117–120
[43] یہ ان اہل کتاب کا ذکر ہے جو اوپر والے گروہ کے برعکس اپنے کفر پر اڑے رہ گئے۔ یہ لوگ اپنی رسمی دین داری کی نمائش کے لئے جو کچھ بھی خرچ کرتے ہیں ان کے اس خرچ کی تمثیل اس کھیتی کی سی ہے جس پر پالے والی ہوا چل جائے اور وہ اس کو برباد کر کے رکھ دے۔ مطلب یہ ہے کہ کفر و شرک کے ساتھ جو کام نیکی اور دین داری کی نوعیت کے کئے جاتے ہیں وہ سب اکارت جاتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 119–120
(ف 1) قرآن حکیم علیم بذات الصدور خدا کی کتاب ہے ‘ اس لئے ضرور ہے کہ مخالفین کی ایک ایک نفسیت کو بیان کیا جائے اور بتایا جائے کہ مخالف مخالف ہے اور موافق موافق ، تاکہ مسلمان کسی دھوکے میں نہ رہیں ، ان کے نفاق کا علاج بھی بتا دیا فرمایا (آیت) ” وان تصبروا وتتقوا لا یضرکم کیدھم شیئا “ یعنی اگر تم گھبرا نہ جاؤ اور پوری استقامت سے کام لو اور محتاط رہو تو تمہیں کوئی نقصان نہیں ۔
مسلمان کو جس قدر تدبر ‘ استقلال اور احتیاط و اعتدال کی تلقین کی گئی ہے ، وہ اسی قدر بیوقوف کاہل اور غیر معتدل ہے ۔
حالات یہ ہیں کہ مسلمانوں نے یہودیون پر ضرورت سے زیادہ اعتماد کیا ، انہوں نے دھوکا دیا ، منافقین کے ساتھ وفق…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 118–119
ف 2 اے ایمان والو تم اپنی جماعت اور اپنے لوگوں کے علاوہ دوسرے مذاہب کے لوگوں میں سے کسی کو اپنا راز دارانہ بنائو کیونکہ وہ لوگ تمہارے ساتھ فساد کرنے میں اور تمہارے خلاف فتنہ انگیزی میں کوئی کوتاہی نہیں کرتے اور کوئی دقیقہ اٹھا نہیں رکھتے جس چیز سے تم کو نقصان پہنچے وہ ان کو محبوب ہے اور یہ لوگ تمہارے ضرر کو دل سے دوست رکھتے ہیں جو چیز بھی تمہارے لئے موجب مشقت و تکلیف ہو اس کی یہ تمنا رکھتے ہیں ان کے دل کے بغض کا یہ عالم ہے کہ حقیقتاً وہ بغض ان کے منہ سے نکلا پڑتا ہے یعنی بات چیت میں ان کے منہ سے ان کے دل کا بغض ظاہر ہوجاتا ہے اور جو دشمنی اور بغض ان کے سینوں میں بھرا ہوا ہے اور ان کے دلوں میں…
Read the full tafseer →ف 2۔ یہ کنایہ ہے شدت غضب سے جو مجبوری کے وقت ہو۔
3۔ مراد یہ ہے کہ اگر تم مر بھی جاو گے تب بھی تمہاری مراد پوری نہ ہوگی۔
Read the full tafseer →تعجب ہے کہ تم سے جتنی دشمنی رکھتے ہیں تم اتنا ہی ان کی دوستی کا دم بھرتے ہو :
227: تعجب تو یہ ہے کہ تم تو ان کی قرابت داری یا دوستی کے پیش نظر ان سے محبت کرتے ہو حالانکہ وہ اختلاف مذہب کی وجہ سے تم سے محبت نہیں کرتے باوجود اس کے تم ہی سب کتابوں پر ایمان رکھتے ہو اور پوری توراۃ پر بھی تمہارا ہی ایمان ہے اور کافر تمام کتابوں پر ایمان نہیں رکھتے اور نہ ہی یہود پوری تورات پر ایمان لاتے ہیں اس لئے کہ اگر ان کا ایمان ہے اور کافر تمام کتابوں پر ایمان رکھتے اور نہ ہی یہود پوری تورات پر ایمان لاتے ہیں اس لئے کہ اگر ان کا یمان پوری تورات پر ہوتا تو اس میں تو نیے اعظم و آخر ﷺ کے پورے اوصاف بیان کئے گئے…
Read the full tafseer →After that, in verse هَا أَنتُمْ أُولَاءِ تُحِبُّونَهُمْ ; Muslims have been told that it is certainly strange that you go about loving them as friends, yet they are no friends of yours. Indeed, they are your worst enemies. Still more unusual is the situation because you believe in all Scriptures without any reservations as to the people they address, the time when they were sent down and the prophet they were revealed to. Contrary to this, they do not accept your Book and your Prophet ﷺ . Their belief in their own Books is not correct either. Given this state of affairs it would have been…
Read the full tafseer →93. It is strange that although the Muslims had reason to feel aggrieved by the Jews it was the latter who felt aggrieved by the Muslims. Since the Muslims believed in the Torah along with the Qur'an the Jews had no justifiable ground for complaint. If anyone had cause to complain it was the Muslims for the Jews did not believe in the Qur'an.
Read the full tafseer →