Explained with ayahs 118–120
کافر اور منافق مسلمان کے دوست نہیں انہیں اپنا ہم راز نہ بناؤ
اللہ تعالیٰ ایمانداروں کو کافروں اور منافقوں کی دوستی اور ہم راز ہونے سے روکتا ہے کہ یہ تو تمہارے دشمن ہیں ان کی چکنی چپڑی باتوں میں خوش نہ ہوجانا اور ان کے مکر کے پھندے میں پھنس نہ جانا ورنہ موقعہ پا کر یہ تمہیں سخت ضرر پہنچائیں گے اور اپنی باطنی عداوت نکالیں گے تم انہیں اپنا راز دار ہرگز نہ سمجھنا راز کی باتیں ان کے کانوں تک ہرگز نہ پہنچانا بطانہ کہتے ہیں انسان کے راز دار دوست کو اور من دو نکم سے مراد جس خلیفہ کو مقرر کیا اس کیلئے دو بطانہ مقرر کئے ایک تو بھلائی کی بات سمجھانے والا اور اس پر رغبت دینے والا اور دوسرا برائی کی رہبری…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 120–121
سورة اٰلِ عِمْرٰن 94
یہاں سے چوتھا خطبہ شروع ہوتا ہے۔ یہ جنگ احد کے بعد نازل ہوا ہے اور اس میں جنگ احد پر تبصرہ کیا گیا ہے۔ اوپر کے خطبہ کو ختم کرتے ہوئے آخر میں ارشاد ہوا تھا کہ ”ان کی کوئی تدبیر تمہارے خلاف کارگر نہیں ہو سکتی بشرطیکہ تم صبر سے کام لو اور اللہ سے ڈر کر کام کرتے رہو۔“ اب چونکہ احد کے میدان میں مسلمانوں کی شکست کا سبب ہی یہ ہوا کہ ان کے اندر صبر کی بھی کمی تھی اور ان کے افراد سے بعض ایسی غلطیاں بھی سرزد ہوئی تھیں جو خدا ترسی کے خلاف تھیں، اس لیے یہ خطبہ جس میں انہیں ان کمزوریوں پر متنبہ کیا گیا ہے، مندرجہ بالا فقرے کے بعد ہی متصلاً درج کیا گیا۔
اس خطبے کا انداز بیان یہ ہے کہ…
Read the full tafseer →اس کافرانہ ذہنیت کی مزید توضیح یہ ہے کہ ان تمسسکم حسنۃ یعنی ان لوگوں کا یہ حال ہے کہ اگر تمہیں کوئی اچھی حالت پیش آجائے تو یہ ان لوگوں کو دکھ پہنچاتی ہے اور اگر تم پر کوئی بری حالت آپڑتی ہے تو یہ اس سے خوش ہوتے ہیں۔ پھر منافقوں کے کید و مکر اور شدید مخالفین کے عناد اور مخالفت کے نتائج سے محفوظ رہنے کا آسان اور سہل الاصول نسخہ یہ بیان کیا گیا کہ (وان تصبروا وتتقوا لا یضرکم کیدھم شیئا ان اللہ بما یعملون محیط) اگر تم صبر اور تقوی اختیار کئے رہو تو تم کو ان کی چالیں ذرا بھی نقصان نہ پہنچا سکیں گی۔
مسلمانوں کی فتح و کامیابی اور تمام مشکلات میں آسانی کا راز صبر اور تقوی کی دو صفتوں میں مضمر…
Read the full tafseer →صبر اور تقویٰ : فرمایا کہ ان کا حال یہ ہے کہ اگر تم کو کوئی کامیابی حاصل ہوتی ہے تو انہیں بڑا رنج ہوتا ہے اور اگر تمہیں کوئی نقصان پہنچ جائے تو یہ اس سے بہت خوش ہوتے ہیں۔ لیکن اگر تم نے ثابت قدمی دکھائی اور ان باتوں سے بچتے رہے جن سے بچتے رہنے کی تمہیں نہایت واضح ہدایات دے دی گئی ہیں تو ان کی چالیں تمہیں کچھ بھی نقصان نہ پہنچا سکیں گی۔ اللہ تعالیٰ ان کی ساری سرگرمیوں اور ساری چالوں کا احاطہ کیے ہوئے ہے۔ اس آخری ٹکڑے کی مزید وضاحت کے لیے اسی سورة کی آیات 125 اور 186 پر بھی ایک نظر ڈال لیجیے۔ ان تصبروا وتتقوا کے تحت ابن جریر کا ایک نکتہ یاد رکھنے کے قابل ہے۔ وہ فرماتے ہیں کہ یہاں جس تقوی کا حکم…
Read the full tafseer →120۔ 1 اس میں منافقین کی شدید عداوت کا ذکر ہے جو انہیں مومنوں کے ساتھ تھی اور وہ یہ کہ جب مسلمانوں کو خوش حالی میسر آتی، اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کو تائید و نصرت ملتی اور مسلمانوں کی تعداد و قوت میں اضافہ ہوتا تو منافقین کو بہت برا لگتا اور اگر مسلمان قحط سالی یا تنگدستی میں مبتلا ہوتے یا اللہ کی مشیت و مصلحت سے دشمن وقتی طور پر مسلمانوں پر غالب آجاتے (جیسے جنگ احد میں ہوا) تو بڑے خوش ہوتے۔ مقصد بتلانے سے یہ ہے جن لوگوں کا یہ حال ہو، کیا وہ اس لائق ہوسکتے ہیں کہ مسلمان ان سے محبت کی پینگیں بڑھائیں اور انہیں اپنا راز دار اور دوست بنائیں ؟ اسی لئے اللہ تعالیٰ نے یہود و نصاریٰ سے بھی دوستی رکھنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 119–121
40: جنگ احد میں تین ہزار کفار کا ایک لشکر مدینہ منورہ پر حملہ آور ہوا تھا آنحضرت ﷺ ان کے مقابلے کے لئے احد پہاڑ کے دامن میں تشریف لے گئے تھے جہاں یہ جنگ لڑی گئی، آنے والی آیات میں اس کے متعدد واقعات کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔
Read the full tafseer →اور اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :
إِنْ تَمْسَسْكُمْ حَسَنَةٌ تَسُؤْهُمْ وَإِنْ تُصِبْكُمْ سَيِّئَةٌ يَفْرَحُوا بِهَا……………تمہارا بھلا ہوتا ہے تو ان کو برا معلوم ہوتا ہے اور اگر تم پر کوئی مصیبت آتی ہے تو یہ خوش ہوتے ہیں۔ “
بارہا ہم تجربات کے تھپیڑے کھاتے ہیں ‘ مگر ہمیں ہوش نہیں آتی ‘ باربار ہم پر سازشوں اور تخریب کاریوں کا انکشاف ہوتا ہے ‘ جو مختلف بھیس بدل کر کی جاتی ہیں ‘ مگر ہم عبرت حاصل نہیں کرتے ‘ باربار ان دشمنوں کی زبان پر ایسی باتیں آجاتی ہیں جن سے ان کے دلی کینہ کا اظہار ہوتا ہے ‘ جسے مسلمانوں کی مسلسل محبت اور دوستی کے مساعی زائل نہ کرسکیں اور جسے مسلمانوں کی دینی رواداری بھی صاف نہ کرسکی…
Read the full tafseer →9 اگر تمہاری ذراسی بھلائی دیکھتے ہیں مثلا مسلمانوں کا اتحاد و یکجہتی یا دشمنوں پر غلبہ تو حسد کی آگ میں بھننے لگتے ہیں۔ اور جہاں تم پر کوئی مصیبت نظر آئی خوشی کے مارے پھولے نہیں سماتے۔ بھلا ایسی کمینہ قوم سے ہمدردری اور خیر خواہی کی کیا توقع ہوسکتی ہے، جو دوستی کا ہاتھ ان کی طرف بڑھایا جائے۔
1 ممکن تھا کسی کو یہ خیال گزرے کہ جب ہم ان سے دوستانہ تعلقات نہ رکھیں گے تو وہ زیادہ غیظ و غضب میں آکر ہمارے خلاف تدبیریں کریں گے اور بیش از بیش نقصان پہنچانا چاہیں گے۔ اس کا جواب دیا کہ تم صبر و استقلال اور تقویٰ و طہارت پر ٹھیک ٹھیک قائم رہو گے تو ان کا کوئی داؤ فریب تم پر کارگر نہ ہوگا۔ جو کاروائیاں وہ…
Read the full tafseer →آیت 120 اِنْ تَمْسَسْکُمْ حَسَنَۃٌ تَسُؤْہُمْ ز۔
اگر تمہیں کوئی کامیابی حاصل ہوجائے ‘ کہیں فتح نصیب ہوجائے تو ان کو اس سے تکلیف پہنچتی ہے۔
وَاِنْ تُصِبْکُمْ سَیِّءَۃٌ یَّفْرَحُوْا بِہَا ط۔
اگر تمہیں کوئی گزند پہنچ جائے ‘ کہیں عارضی طور پر شکست ہوجائے ‘ جیسے احد میں ہوگئی تھی ‘ تو بڑے خوش ہوتے ہیں ‘ شادیانے بجاتے ہیں۔
وَاِنْ تَصْبِرُوْا وَتَتَّقُوْا لاَ یَضُرُّکُمْ کَیْدُہُمْ شَیْءًا ط۔
سورۃ البقرۃ میں صبر اور صلوٰۃ سے مدد لینے کی تلقین کی گئی تھی ‘ یہاں صلوٰۃ کی جگہ لفظ تقویٰ آگیا ہے کہ اگر تم یہ کرتے رہو گے تو پھر بالآخر ان کی ساری سازشیں ناکام ہوں گی۔
اِنَّ اللّٰہَ بِمَا یَعْمَلُوْنَ…
Read the full tafseer →109 اگر تمہیں کوئی خوشی کا موقعہ میسر آئے تو یہ جل بھن جاتے ہیں اور کوئی تکلیف پہنچے تو اس پر خوشی سے پھولے نہیں سماتے۔ تو کیا پھر ایسے لوگوں کی دوستی سے پرہیز ہی بہتر نہیں ؟ بس تم صبر سے کام لو۔ ان کی سازشیں اور پراپیگنڈے تمہارا بال بھی بیکا نہیں کرسکتے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ خود ان پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہے۔
آیت نمبر 118 سے لے کر 120 تک 3 آیات میں اللہ تعالیٰ نے کافروں سے دوستی گانٹھنے کی ممانعت کے لیے جو وجوہات بیان فرمائی ہیں وہ مختصراً درج ذیل ہیں۔
1۔ وہ تمہارے درمیان، خرابی، بگاڑ اور فساد پیدا کرنے کے لیے کوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں کرتے اور ان کی ہر ممکن کوشش یہ ہوتی ہے کہ تم میں تفرقہ و…
Read the full tafseer →247 ۔ منافقوں کی خباثت نفس اور کینہ پروری کا بیان ہے کہ مسلمانوں کی تکلیف سے خوش ہوتے ہیں۔ اور ان کی خوشی اور خوشحالی سے رنجیدہ۔ (آیت) ” حسنۃ “ مسلمانوں کی اندرونی تنظیم یا کافروں پر ان کی فتح و غلبہ (آیت) ” سیءۃ “۔ مثلا کوئی ہنگامی شکست۔
248 ۔ (اللہ ان کی سزا پر ہر طرح قادر ہے) (آیت) ” وان تصبروا “۔ منافقین کے کید ومکر اور شدید مخالفین کے عناد ومخالفت کے نتائج سے محفوظ رہنے کا کتنا آسان اور سہل الحصول نسخہ یہاں مسلمانوں کو بتادیا گیا ہے۔ تم اپنے کام سے کام رکھو، اپنی اصلاح میں لگے رہو۔ استقامت علی الحق کا دامن ہاتھ سے نہ دو ۔ کوئی تمہارا کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔ (آیت) ” وان تصبروا وتتقوا “۔ صبر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 119–121
آیت نمبر 121 تا 129
ترجمہ : اور اے محمد ﷺ وہ وقت یاد کرو جب آپ مدینہ سے اپنے اہل کے پاس سے نکلے تھے، مسلمانوں کو قتال کے مناسب مراکز پر کھڑے کرتے ہوئے اور اللہ ان کے اقوال کو بڑا سننے والا اور ان کے احوال کو بڑا جاننے والا ہے اور یہ احد کا دن تھا۔ آپ ﷺ ہزار یا پچاس کم ہزار افراد کے ساتھ نکلے تھے، اور مشرکوں کی تعداد تین ہزار تھی 3 ھ کے ماہ شوال کی ساتویں تاریخ بروز شنبہ گھاٹی میں نزول فرمایا، اور احد پہاڑ کی جانب اپنی اور لشکر کی پشت رکھی، اور آپ ﷺ نے لشکر کی صفوں کو درست فرمایا، اور تیر اندازوں کا ایک دستہ جس پر عبد اللہ بن جبیر کو سالار نام زد فرمایا تھا پہاڑ کی ایک گھاٹی پر متعین فرمایا۔…
Read the full tafseer →ان تمسسکم حسنۃ تسوھم (اے مسلمانو ! اگر تم کو کوئی بھلائی چھو بھی جاتی ہے مثلاً دشمن پر تم کو غلبہ حاصل ہوجاتا ہے، اسلام کی شوکت بڑھتی ہے، تم کو مال غنیمت یا زندگی کی فراغت نصیب ہوجاتی ہے تو ان کو دکھ پہنچتا ہے وہ اس سے جلتے ہیں۔ لفظ مس سے اس طرف اشارہ ہے کہ تمہاری ادنیٰ بہتری بھی ان کے لیے رنج آفریں ہوتی ہے۔
و ان تصبکم سیءۃ یفرحوا بھا اور اگر تم پر کوئی برائی پڑجاتی ہے مثلاً دشمن کو کچھ غلبہ حاصل ہوجاتا ہے یا قحط پڑجاتا اور تمہاری روزی تنگ ہوجاتی ہے تو وہ خوب خوش ہوتے ہیں۔
و ان تصبروا اور اگر ان کی دشمنی یا تمام مصائب یا حکم الٰہی کی تعمیل کی مشقت پر تم صبر کرو گے۔
و تتقوا اور ان کی موالات سے…
Read the full tafseer →(120) اور اگر تم لوگوں کو فتح وغنیمت حاصل ہوجاتی ہے تو یہود اور منافقوں کو بہت ہی ناگوار گزرتا ہے اور اگر قحط سالی قتل و غارت گری اور شکست کا سامنا ہو تو اس سے یہودی خوش ہوتے ہیں اور اگر ان کی تکالیف پر تم استقلال سے کامل لو اور اللہ تعالیٰ کی نافرمانی نہ کرو، تو پھر ان کی دشمنی اور کینہ کچھ نہیں کرسکتا، اللہ تعالیٰ ان کی اس مخالفت اور ان کی دشمنی سے آگاہ ہے ،
Read the full tafseer →اِنْ تَمْسَسْكُمْ حَسَنَةٌ تَـسُؤْھُمْ ۡ۔۔ : اس آیت میں مسلمانوں کو تعلیم دی گئی ہے کہ دشمنوں کے مکر و فریب اور ان کی چالوں سے محفوظ رہنے کا طریقہ صرف یہ ہے کہ تم صبر و استقلال اور تقویٰ سے کام لو، اگر یہ اصول اپنا لو گے تو وہ تمہیں نقصان نہیں پہنچا سکیں گے۔ شاہ عبد القادر ؓ فرماتے ہیں : ”اکثر منافق بھی یہود میں تھے، اس واسطے ان کے ذکر کے ساتھ یہود کا ذکر بھی فرمایا۔ اب آگے غزوۂ احد کی باتیں مذکور ہیں، کیونکہ اس میں بھی مسلمانوں نے بعض کافروں کا کہنا مان لیا تھا اور لڑائی سے پھر چلے تھے اور منافقوں نے اپنے نفاق کی باتیں ظاہر کی تھیں۔“ (موضح)
Read the full tafseer →آیت نمبر : 120۔
قولہ تعالیٰ : (آیت) ” ان تمسسکم حسنۃ تسؤھم “۔ سلمی نے اسے یا کے ساتھ پڑھا ہے اور باقیوں نے تا کے ساتھ، اور یہ لفظ عام ہے ہر اس سے کو شامل ہے جو اچھی ہو سکتی ہے اور بری ہو سکتی ہے، اور مفسرین نے جو (خصب) شادابی (جدب) خشک سالی، مومنین کا اجتماع اور ان کے درمیان فرقت کا ہونا اور دیگر ان جیسے ان جیسے اقوال مثالیں ذکر کی ہیں اور یہ کوئی اختلاف نہیں ہے۔ اور آیت میں معنی یہ ہے کہ ہر وہ جس کی یہ حال ہو کہ اس میں شدید عداوت اور حقدوکینہ ہو اور مسلمانوں پر تکالیف آنے کے وقت اسے خوشی اور مسرت ہوتی ہو وہ اس اہل نہیں کہ اسے راز دار بنایا جائے، بالخصوص جہاد جیسے اس امر عظیم میں جو کہ دنیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 119–121
(1) ابن اسحاق و بیہقی نے دلائل میں ابن شہاب اور عاصم بن عمر بن قتادہ اور محمد بن یحییٰ بن حبان اور حصین بن عبد الرحمن ابن سعد معاذ ان تینوں حضرات سے روایت کیا کہ جنگ احد کا دن بلاء اور آزمایش کا دن تھا اللہ تعالیٰ نے اس دن ایمان والوں کا امتحان لیا اور اس کے ذریعہ ان کافرون کو بےآبرو کردیا جا اسلام کو اپنی زبان سے ظاہر کرتے تھے اور کفر کو چھپانے والے تھے اور وہ دن کہ اللہ تعالیٰ نے عزت کی ان لوگوں کو جو عزت کو چھپانے والے تھے اور وہ دن کہ اللہ تعالیٰ نے عزت دی ان لوگوں کو عزت دینے کا ارادہ کیا شہادت کے ساتھ اور یہ واقعہ ان واقعات میں سے تھا کہ جس میں قرآن میں سے احد کے دن کے ساٹھ آیتیں سورة…
Read the full tafseer →[اِنْ : اور اگر ] [تَمْسَسْکُمْ : پہنچتی ہے تم کو ] [حَسَنَۃٌ : کوئی بھلائی ] [تَسُؤْہُمْ : تو وہ بری لگتی ہے ان کو
وَاِنْ : اور اگر ] [تُصِبْکُمْ : آن لگتی ہے تم کو ] [سَیِّـئَۃٌ : کوئی برائی ] [یَّـفْرَحُوْا : تو وہ لوگ بہت خوش ہوتے ہیں ] [بِھَا : اس سے ] [وَاِنْ : اور اگر ] [تَصْبِرُوْا : تم لوگ ثابت قدم رہو ] [وَتَتَّقُوْا : اور تقویٰ اختیار کرو ] [لاَ یَضُرُّکُمْ : تو نقصان نہیں دے گی تم کو ] [کَیْدُہُمْ : ان کی چالبازی ] [شَیْئًا : ذرا بھی ] [ اِنَّ اللّٰہَ : بیشک اللہ
بِمَا : اس کا جو ] [ یَعْمَلُوْنَ : یہ لوگ کرتے ہیں ] [مُحِیْطٌ : احاطہ کرنے والا ہے ]
Read the full tafseer →مسلمانوں کو خطاب کرتے ہوئے مزید فرمایا (اِنْ تَمْسَسْکُمْ حَسَنَۃٌ تَسُؤْھُمْ وَ اِنْ تُصِبْکُمْ سَیّءَۃٌ یَّفْرَحُوْابِھَا) (کہ اگر تم کو اچھی حالت پیش آجاتی ہے اس سے وہ رنجیدہ ہوتے ہیں اور اگر تم کو کوئی ناگواری کی حالت پیش آجائے تو وہ خوش ہوتے ہیں) کیا ایسے لوگ محبت کرنے کے قابل ہیں ؟
تفسیر درمنثور صفحہ 66: ج 2 میں حضرت ابن عباس ؓ سے آیت (یٰآَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لاَ تَتَّخِذُوْا بِطَانَۃً مِّنْ دُوْنِکُمْ ) کا سبب نزول یہ نقل کیا ہے کہ مسلمانوں میں کچھ لوگ ایسے تھے جن کا زمانہ جاہلیت میں یہود مدینہ سے پڑوسی ہونے کی وجہ سے تعلق تھا اور بعض مواقع میں آپس میں ایک دوسرے کے حلیف بھی بن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 118–120
تحذیر مومنین از اختصاص وارتباط بادشمنان دین۔
قال تعالی۔ یا ایھا الذین۔۔۔۔۔۔ الی۔۔۔۔ محیط۔ آیت۔
ربط) گزشتہ آیات میں مسلمانوں کے صفات اور کافروں کے زمائم اور قبائح کا ذکر تھا اب ان آیات میں مسلمانوں کو ہدایت ہے کہ کافروں کے ساتھ خلاملا نہ رکھو اور نہ ان کوا پنا راز دار بناؤ کافر تمہارے دین اور دنیا دونوں کے دشمن ہیں۔
یا یوں کہو کہ جب گزشتہ آیات میں یہ بیان کیا کہ کفر اور ظلم کی سرد ہوا نے ظالموں کے اعمال کی کھیتیوں کو تباہ برباد کیا تو اب آئندہ آیت میں اہل ایمان کو نصیحت فرماتے ہیں خہ تم انظالموں سے خلط ملط نہ رکھنا مبادا ان کے کفر اور ظلم کی سرد ہوا کا اثر تمہارے اعمال کی کھیتیوں کو کوئی نقصان…
Read the full tafseer →184 خطاب مسلمانوں سے ہے اور اس میں اسلام کے خلاف منافقین کے بغض وحسد اور کینہ پروری کا مزید بیان ہے یعنی ان کی عداوت اس حد تک پہنچ چکی ہے کہ وہ تمہاری خوشحالی اور تمہارنے نفع کو کسی قیمت پر برداشت نہیں کرسکتے اگر تمہیں دشمنوں پر فتح حاصل ہوجائے یا تم پر خوشحالی کا دور آجائے تو اس سے ان کے دل رنجیدہ ہوجاتے ہیں لیکن اگر تمہیں کوئی تکلیف پہنچ جائے یا تم مشقت میں پڑجاؤ تو اس سے انہیں بہت خوشی ہوتی ہے ان تمام آیتوں کا حاصل یہ ہے کہ ایمان والوں کے خلاف جن لوگوں کی کینہ پروری اور ان کے بغض وعداوت کا یہ حال ہو وہ ہرگز اس لائق نہیں ہیں کہ ان کو اپنا راز دار بنایا جائے خصوصاً جب کہ جہاد کا معاملہ درپیش…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 119–120
ربط آیات :
اہل کتاب کی عداوت اور دشمنی کا ذکر کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے اہل کتاب مشرکین اور منافقین سے دوستی کرنے سے منع فرمادیا۔ اور خبردر کردیا کہ ان کو اپنے دلی رازدان نہ بناؤ، ورنہ وہ تمہارے درمیان فتنہ و فساد کی اگ بھڑکا دیں گے۔ ان کی حالت یہ ہے کہ جو چیز تمہیں مشقت میں ڈالتی ہے وہ اس کو پسند کرتے ہیں۔ ان کی اسلام دشمنی بسا اوقات ان کی زبانوں پر آجاتی ہے۔ اس کے علاوہ تمہارے خلاف جو بغض وعناد ان کے دلوں میں پوشیدہ ہے وہ بہت زیادہ ہے۔ اس کو اللہ ہی جانتا ہے۔ تم اس کا اندازپ نہیں کرسکتے۔ اللہ نے فرمایا کہ ہم نے تمام احکام کھول کر بیان کردیے ہیں۔ اگر تم عقل و شعور رکھتے ہو ، تو ان کو سمجھ…
Read the full tafseer →اِنْ تَمْسَسْكُمْ حَسَـنَۃٌ تَـسُؤْھُمْ 0 ۡوَاِنْ تُصِبْكُمْ سَيِّئَۃٌ يَّفْرَحُوْا بِھَا 0 ۭ وَاِنْ تَصْبِرُوْا وَتَتَّقُوْا لَا يَضُرُّكُمْ كَيْدُھُمْ شَـيْـــًٔـا 0 ۭ اِنَّ اللہَ بِمَا يَعْمَلُوْنَ مُحِيْطٌ 120 ۧ
مسس
المسّ کاللّمس لکن اللّمس قد يقال لطلب الشیء وإن لم يوجد
والمسّ يقال في كلّ ما ينال الإنسان من أذى. نحو قوله : وَقالُوا لَنْ تَمَسَّنَا النَّارُ إِلَّا أَيَّاماً مَعْدُودَةً [ البقرة/ 80] ،
( م س س ) المس کے
معنی چھونا کے ہیں اور لمس کے ہم معنی ہیں لیکن گاہے لمس کیس چیز کی تلاش
کرنے کو بھی کہتے ہیں اور اس میں یہ ضروری نہیں کہ وہ چیز مل جل بھی جائے ۔
اور مس کا لفظ ہر اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 117–120
ترکیب : مثل مبتدا کمثل ریح خبر اصابت الخ صفت ہے ریح کی بطانۃ مفعول ہے لا تتخذوا کا من دونکم فعل سے متعلق ہو کر صفت ہے بطانۃ کی اسی طرح لا یا لونکم خبالا تمیز ہے علیکم مفعول عضوا لانامل مفعول ثانی۔
تفسیر : بطانۃ کفار حرام ہے : پہلی آیت میں تھا کہ کفار کو ان کا مال کچھ نفع آخرت میں نہ دے گا۔ اس پر شبہ گذرتا تھا کہ کیوں نہ دے گا حالانکہ وہ غریب یتیم فقیر بےکس کو للہ دیتے ہیں۔ اس کا جواب دیا جاتا ہے کہ ان کے صرف کرنے کی ایسی مثال ہے کہ جیسا کوئی کھیتی کرے یا باغ لگائے۔ پھر اس کو ہوا اور پالا مار جاوے اور وہ خراب ہوجائے۔ اسی طرح ان کا لیا دیا بیشک کھیتی اور آخرت کے لئے باغ ہے کہ جس سے انتفاع کی…
Read the full tafseer →اِنْ تَمْسَسْکُمْ حَسَنَۃٌ تَسُؤْہُمْ ز وَاِنْ تُصِبْـکُمْ سَیِّئَۃٌ یَّـفْرَحُوْا بِہَا ط وَاِنْ تُصْبِرُوْا وَتَـتَّـقُـوْا لاَ یَضُرُّکُمْ کَیْدُ ہُمْ شَیْئًا ط اِنَّ اللّٰہَ بِمَا یَعْمَلُوْنَ مُحِیْطٌ۔ ع
(اگر تمہیں کوئی کامیابی حاصل ہوتی ہے تو ان کو اس سے تکلیف پہنچتی ہے اور اگر تمہیں کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو اس سے کھل اٹھتے ہیں اور اگر تم صبر کرو گے اور تقویٰ اختیار کرو گے تو ان کی کوئی تدبیر تمہیں نقصان نہیں پہنچاسکے گی۔ وہ جو کچھ کر رہے ہیں اللہ اسے اپنے گھیرے میں لیے ہوئے ہے) (120)
یہود سے ہوشیار رہنے کی ہدایت
اس آیت کریمہ میں یہود کے بارے میں آخری بات فرمائی گئی ہے کہ ایک قوم دوسری…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 120–121
فہم القرآن
ربط کلام : کفار کا مسلمانوں کو نقصان پہنچانا اور اس پر خوش ہونے کی پہلی مثال غزوۂ احد ہے۔ جس کا نقشہ پیش کیا جار رہا ہے۔ بدر میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو عظیم الشان فتح سے نوازا تھا۔
شکست سے بچنے کے لیے نظم و ضبط ‘ حوصلہ اور تقو ٰی نہایت ضروری ہے۔ مسلمانوں نے 2 ہجری 17 رمضان المبارک کے دن بدر کے میدان میں اہل مکہ کو شکست فاش دی تھی۔ جس کا بدلہ لینے کے لیے مکہ والوں نے شوال 3 ہجری میں مدینہ پر یلغار کردی۔ رسول اللہ ﷺ نے دفاعی منصوبہ بندی کے لیے مشاورت کا اہتمام فرمایا جس میں آپ کا نقطۂ نظر یہ تھا کہ مدینہ سے باہر جانے کے بجائے شہر میں رہ کر دفاع کیا جائے۔ عبداللہ بن ابی اور…
Read the full tafseer →120: اِنْ تَمْسَسْکُمْ حَسَنَۃٌ تَسُؤْ ھُمْ وَاِنْ تُصِبْکُمْ سَیِّئَۃٌ یَّفْرَحُوْا بِھَا۔ وَاِنْ تَصْبِرُوْا وَتَتَّقُوْ ا لَا یَضُرُّ کُمْ کَیْدُ ھُمْ شَیْئًاط اِنَّ اللّٰہَ بِمَا یَعْمَلُوْنَ مُحِیْطٌ۔ (اگر تمہیں کوئی بھلائی ملے) حسنہ سے مراد خوشحالی، سرسبزی اور غنیمت ونصرت تَسُؤْھُمْ (وہ ان کو بری لگتی ہے) یعنی اس کا ملنا ان کو غم زدہ کردیتا ہے وَاِنْ تُصِبْکُمْ سَیِّئَۃٌ (اگر تمہیں کوئی تکلیف پہنچتی ہے) یعنی بدحالی، تنگ دستی، دشمن کا غلبہ، آیت میں المس کے الفاظ کو الاصابہ کی جگہ بطور استعارہ استعمال کیا گیا ہے۔ گویا کہ دونوں کا معنی ایک ہی ہے کیا تم اس ارشاد الٰہی کی طرف نظر نہیں کرتے…
Read the full tafseer →120۔ (آیت)” ان تمسسکم “ مؤمنوا اگر تمہیں پہنچتی ہے ” حسنۃ “ کوئی نیکی ، دشمن پر غلبہ پانے کے بعد کوئی آسانی مثلا مال غنیمت تمہیں مل جائے تو وہ لوگ جوق درجوق دین میں داخل ہوجاتے ہیں ، اس وجہ سے ان کو بہت رنج پہنچتا ہے ۔ (آیت)” تسؤھم “ تو وہ غمگین ہوجاتے ہیں (آیت)” وان تصبکم سیئۃ “ ۔ اگر تم پر کوئی برائی پڑجاتی ہے ، مثلا دشمن کو کچھ حاصل ہوجاتا ہے یا تمہارے درمیان کوئی اختلاف واقع ہوجاتا ہے ، یا قحط پڑجاتا ہے یا کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو ” یفرحوا بھا وان تصبروا “۔ وہ اس اذیت پر خوش ہوتے ہیں ۔
(آیت)” وتتقوا “ اور تم رب سے ڈرتے رہو گے (آیت)” لایضرکم “ وہ تم کو کچھ نقصان نہیں پہنچا سکتے ، (آیت)”…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 118–120
(118 ۔ 120) ۔ ابن جریر اور ابن اسحاق نے حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے روایت کی ہے کہ جس طرح اسلام سے پہلے یہود اور اہل عرب میں دوستی تھی اور آپس میں کچھ کفر اور اسلام کا فرق نہ تھا اسلام کے بعد بھی اکثر مسلمان یہود اور منافقوں سے وہی قدیمی اتحاد برتتے تھے اور یہود اور مناقفوں کا یہ حال تھا کہ دوستی کے پردہ میں یہ کیا کہ اوس اور خزرج مسلمانوں کے دو قبیلوں میں لڑائی کا سامان کردیا۔ جس کا ذکر اوپر کی آیتوں میں گذرچکا اور عبد اللہ بن ابی منافق نے یہ کیا کہ عین میدان جنگ میں سے احد کی لڑائی کے وقت لشکر اسلام میں سے تین سو آدمیوں کو بہکا کر مدینہ لے آیا۔ جس کا ذکر آئندہ کی آیتوں میں آئے گا۔ اور زیادہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 118–121
آیت 118-120
اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندوں کو اس بات سے منع فرماتا ہے کہ وہ اہل کتاب کے یا دوسرے مذاہب کے منافقوں کو دلی دوست بنائیں، انہیں اپنے راز بتائیں، یا بعض اسلامی ذمہ داریاں ان کے سپرد کردیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ دشمن ہیں جن کے دل بغض و عداوت سے بھرے ہوئے ہیں۔ حتیٰ کہ یہ عداوت ان کی زبان سے بلا ارادہ ظاہر ہوجاتی ہے۔ (وما تخفی صدورھم اکبر) ” اور جو ان کے سینوں میں پوشیدہ ہے، وہ ظاہر ہوجانے والی دشمنی سے بہت زیادہ ہے۔ “ اسی لئے (لایالونکم خبالا) ” وہ تمہاری تباہی میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھتے “ یعنی تمہیں نقصان پہنچانے اور مشکلات پیدا کرنے میں کمی نہیں کرتے۔ وہ ایسے اسباب پیدا کرتے ہیں جس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 119–130
سود کی ہر صورت حرام ہے
قول باری ہے (لاتاکلوا الربواضعا فامضاعفۃ، یہ بڑھتا اور چڑھتا سود کھانا چھوڑ دو ) قول باری (اضعا فاعفۃ) کے دومعنی بیان کیے گئے ہیں اول تاجیل قرض کی ادائیگی کی مدت میں اضافے کے ساتھ سود کو رقم میں اضافہ کرتے جانا اور ہر مدت کے لیے زائد رقم کی قسط مقررکر دینا۔ دوم سودی رقموں کے ذریعے اپنے مال میں کئی گنا اضافہ کرلینایہ اس بات کی دلیل ہے کہ جس چیز کا خصوصیت کے ساتھ ذکرکر دیاجائے، وہ اس پر دلالت نہیں کرتی کہ اس کے ماسواچیزوں کا حکم کے برعکس ہے کیونکہ اگر ایسا ہوتا تو پھر کئی کئی گنابڑھا کر سود خوری کی تحریم اس پر دلالت کرتی کہ اگر کئی کئی گنا اضافے کی صورت نہ ہو تو سود کھانا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 120–122
250 حاسدوں کے حسد کا ایک اور مظہر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اگر تم لوگوں کو کوئی اچھائی نصیب ہو تو ان کو برا لگتا ہے۔ اور اگر تم کو کوئی تکلیف پہنچ جائے تو اس سے یہ خوش ہوتے ہیں۔ سو یہ ان کے حسد و عداوت کا ایک اور ثبوت اور مظہر ہے۔ اور یہاں بھی وہی حقیقت روشن و فروزاں ہے کہ ان کے دلوں کے حال کی خبر دی گئی ہے، کیونکہ خوش ہونے اور برا لگنے کا تعلق اصل میں دل ہی سے ہوتا ہے۔ اور قرآن حکیم کے اس بیان کا وہ لوگ انکار بھی نہیں کرسکے۔ سو یہ ایک اور معجزہ ہے اس کتاب حکیم کا کہ یہ دلوں کے حال اور مخفی اسرار کی اس طرح خبر دیتی ہے۔ پس یہ اس مالک مطلق کا کلام حق ترجمان ہے جو دلوں کے چھپے اسرار کو بھی پوری…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 118–120
مسلمانوں کا راز دان کون ؟ اہل کتاب کا حسد
تشریح : ان آیات کا شان نزول یہ ہے کہ یہود و منافقین کے شر سے مسلمانوں کو آگاہ کیا جائے۔ واقعہ یہ ہے کہ مدینہ کے اطراف میں یہودی اور ان کے ساتھ اوس و خزرج کے دو قبیلے بھی آباد تھے۔ قریب قریب رہنے کی وجہ سے ان کی آپس میں بہت دوستی تھی یہ دونوں قبیلے مسلمان ہوگئے مگر پرانے تعلقات کی وجہ سے مسلمانوں نے یہودی قبائل سے دوستی پہلے کی طرح ہی قائم رکھی کیونکہ ان کے دل کینے سے پاک تھے مگر اہل کتاب، یعنی یہود کے دل حسد، بغض اور نفرت سے بھرے ہوئے تھے، اس لیے وہ مسلمانوں کی دوستی سے غلط فائدہ اٹھا رہے تھے۔ مسلمان سادگی میں ان سے کئی راز کی باتیں بھی کہہ جاتے تو وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 110–120
آیات 110- 120
اسرارو معارف
کنتم خیرامۃ……………واکثرھم الفسقون۔
تم سب سے اچھی امت ہو کہ آقائے نامدار ﷺ خیرالرسل ہیں اور قرآن کریم سب کتابوں سے اعلیٰ و افضل کتاب ہے۔ تم لوگ جنہیں آپ ﷺ سے نسبت حاصل ہے۔ اور اس کی برکت سے کتاب اللہ کو سمجھنے کی سعادت حاصل ہوئی ہے ایک ایسی سعادت ہے کہ ارشاد ہوا۔ اتممت علیکم نعمتی۔ کہ میں نے اپنی نعمت تم پر تمام کردی۔ تم ہی بہترین لوگ ہو۔
اتمام نعمت ایک ایسی عطا ہے جس کی حدود متعین کرنا انسان کے بس کی بات نہیں ہے اور اس پر مزید یہ کہ نعمت کا حصول بھی بیشک بہت بڑی بات ہے مگر اس کو دوسروں پر تقسیم کرنا اور بےحدوحساب بانٹنا بہت ہی بڑی شے ہے اور تمہیں تو بھیجا ہی اس لئے…
Read the full tafseer →ف 6 اس آیت میں مسلمانوں کو تعلیم دی ہے دشمنوں کے مکرو فریب اور ان کی چالوں سے محفوظ رہنے کا طریقہ صرف یہ ہے کہ تم صبر و استقلال اور تقوی سے کام لو اگر یہ اصول اپنا لوگے تو وہ تم کو نقصان نہیں پہنچا سکیں گے (مدارک) شاہ صاحب فرماتے ہیں یکہ اکثر منا فق بھی یہودی میں تھے اس واسطے ان کے ذ کر کے ساتھ یہود کا ذکر بھی فرما دیا ابآگے جنگ احد کی باتیں مذکو رہیں کیونکہ اس میں بھی مسلما نوں اپنے نفاق کی باتیں ظاہر کی تھیں (موضح )
Read the full tafseer →(3:120) تمسسکم (باب ضرب۔ نصر) وہ تم کو چھوئے۔ وہ تم کو پہنچے۔ مضارع واحد مؤنث غائب۔
تسؤھم۔ وہ ان کو بری لگتی ہے۔ وہ ان کو ناخوش کرتی ہے مضارع واحد مؤنث غائب۔ ھم ضمیر جمع مذکر غائب۔
کید۔ مصدر اور اسم مصدر۔ اچھی تدبیر۔ بری تدبیر۔ مکرو فریب۔ چال۔ داؤ۔
محیط۔ اسم فاعل۔ احاطۃ۔ مصدر۔ حوط۔ مادہ۔ ہر طرف سے گھیر لینے والا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 118–120
لغات القرآن آیت نمبر 118 تا 120
لاتتخذوا (تم نہ بناؤ) بطانة (رازدار) من دونکم (اپنوں کے علاوہ) لایالون (وہ کمی نہ کریں گے) خبال (برائی ، بربادی) ودوا (وہ پسند کرتے ہیں) عنتم (جو تمہیں بھاری ہے، جو کچھ تم پر سختی ہے) بدت (ظاہر ہوگیا، ظاہر ہو پڑتا ہے) البغضاء (منہ (فوہ، منہ) ماتخفی (جو کچھ چھپاتا ہے) اکبر (بہت زیادہ ہے) عضوا (انہوں نے کاٹا (وہ کاٹتے ہیں) الانامل (انگلیاں) الغیظ (غصہ) موتوا (تم مرجاؤ) ذات الصدور (دلوں والا (وہ دلوں کا حال جانتا ہے) ان تمسسکم (اگر تمہیں پہنچے) تسوء (برامعلوم ہوتا ہے برالگتا ہے) سیئة (وہ خوش ہوتے ہیں) لایضرکم (وہ تمہیں نقصان نہ پہنچائیں گے) کید (فریب) ۔
تشریح :…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 118–120
منافقوں اور کافروں سے دوستی نہ کرنے کا حکم
شان نزول : ان آیتوں کا حاصل مطلب یہ ہے کہ اے مسلمانو ! تمہارے ساتھ منافقوں کا تو یہ حال ہے کہ منہ پر کچھ، پیٹھ کے پیچھے کچھ ہیں۔ اور یہود کا یہ حال ہے کہ تم ان کی کتاب، ان کے دین کو حق جانتے ہو، اور وہ تم سے جل جل کر اپنی بوٹیاں کاٹ کاٹ کھاتے ہیں۔ اگرچہ یہ فرقے جل کر مر بھی جاویں تو آخر ہوگا وہی جو اللہ کو منظور ہے کہ اسلام بڑھے گا اور یہ دنیا میں خوار ہوں گے۔ لیکن جب یہ دونوں فرقے تم سے دلی بغض رکھتے ہیں جس بغض کا حال اللہ کو خوب معلوم ہے تو آئندہ تم بھی ان سے دوستی خوب ترک کردو۔ اس آیت سے معلوم ہوا کہ کسی غیر اسلام والے شخص کو اس طرح کا دوست بنانا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 117–120
[43] یہ ان اہل کتاب کا ذکر ہے جو اوپر والے گروہ کے برعکس اپنے کفر پر اڑے رہ گئے۔ یہ لوگ اپنی رسمی دین داری کی نمائش کے لئے جو کچھ بھی خرچ کرتے ہیں ان کے اس خرچ کی تمثیل اس کھیتی کی سی ہے جس پر پالے والی ہوا چل جائے اور وہ اس کو برباد کر کے رکھ دے۔ مطلب یہ ہے کہ کفر و شرک کے ساتھ جو کام نیکی اور دین داری کی نوعیت کے کئے جاتے ہیں وہ سب اکارت جاتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 119–120
(ف 1) قرآن حکیم علیم بذات الصدور خدا کی کتاب ہے ‘ اس لئے ضرور ہے کہ مخالفین کی ایک ایک نفسیت کو بیان کیا جائے اور بتایا جائے کہ مخالف مخالف ہے اور موافق موافق ، تاکہ مسلمان کسی دھوکے میں نہ رہیں ، ان کے نفاق کا علاج بھی بتا دیا فرمایا (آیت) ” وان تصبروا وتتقوا لا یضرکم کیدھم شیئا “ یعنی اگر تم گھبرا نہ جاؤ اور پوری استقامت سے کام لو اور محتاط رہو تو تمہیں کوئی نقصان نہیں ۔
مسلمان کو جس قدر تدبر ‘ استقلال اور احتیاط و اعتدال کی تلقین کی گئی ہے ، وہ اسی قدر بیوقوف کاہل اور غیر معتدل ہے ۔
حالات یہ ہیں کہ مسلمانوں نے یہودیون پر ضرورت سے زیادہ اعتماد کیا ، انہوں نے دھوکا دیا ، منافقین کے ساتھ وفق…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 120–121
ف 1 ہاں ! اے مسلمانو ! سن لو ! تم ایسے ہو کہ تم تو ان کافروں سے اپنی قرابت اور پرانے دوستانے کی وجہ سے محبت کا برتائو کرتے ہو اور وہ تم سے بالکل محبت نہیں کرتے حالانکہ تم تمام کتب سماویہ پر اجمالاً اور تفصیلاً ایمان رکھتے ہو اور وہ تمہاری کتاب پر باوجود اس کے بھی ایمان نہیں رکھتے اور یہ ایسے منافق ہیں کہ جب تم سے ملتے ہیں اور ملاقات کرتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم ایمان لے آئے اور جب تنہا ہوتے ہیں اور تم سے الگ ہوجاتے ہیں تو تم پر غصے اور جلن کے مارے اپنی انگلیاں کاٹے ڈالتے ہیں اور چبا چبا جاتے ہیں آپ فرما دیجئے کہ تم اپنے غصہ میں جل مرو اور مارے غصے کے مر جائو بیشک اللہ تعالیٰ سینوں کی باتوں اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 120–121
ف 4۔ یہ قصہ غزوہ احد کا ہے۔
Read the full tafseer →تمہاری خوشی سے وہ ناخوش ، تمہاری ناخوشی سے وہ خوش ہوں تو تم کو کیا کرنا چاہیے ؟
229: منافقوں کی خباثت نفس اور کینہ پرور کا بیان ہے کہ وہ مسلمانوں کی تکلیف سے خوش ہوتے ہیں اور ان کی خوشی اور خوشحالی سے رنجدوہ خاطر ہوتے ہیں حسنۃ ہر ایک خوشی کرنے والے امر کو کہتے ہیں جس میں رغبت کی ججا سکے اور اس سے مراد ہر ایک نعمت بھی ہے جو انسان کو اس کے نفس یا بدن یا حالت میں پہنچے اور اس کی ضد سیۃ ہے۔ اس جگہحسنۃ سے مسلمانوں کی اندرونی تنظیم یا کافروں پر ان کا غلبہ اور ان کی فتح مراد ہو سکتی ہے اور سیئۃ سے اندرونی بد نظمی یا ہنگامی اور وقتی شکست بھی مراد ہو سکتی ہے۔ اس طرح کے ارشادت قرآن کریم میں دوسرے مقامت…
Read the full tafseer →The mentality of disbelievers has been further clarified by saying: إِن تَمْسَسْكُمْ حَسَنَةٌ in the first part of verse 120 which has been translated as, 'if something good happens to you, it annoys them and if something evil befalls you, they are delighted with it.'
How can Muslims remain protected against the aftermath of sinister moves of the hypocrites and the deadly hostility of opponents? For this, a simple and effective prescription was suggested in:
وَإِن تَصْبِرُوا وَتَتَّقُوا لَا يَضُرُّكُمْ كَيْدُهُمْ شَيْئًا ۗ إِنَّ اللَّـهَ بِمَا يَعْمَلُونَ مُحِيطٌ ﴿120﴾
And if you keep…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 120–121
94. This marks the beginning of the fourth discourse of this surah. It was revealed after the Battle of Uhud and contains comments on it. The previous section ended with the assurance: 'But if you remain steadfast and mindful of Allah their designs will not cause you harm.' (See verse 120 above.) The Muslims did suffer a setback in the Battle of Uhud precisely because of this lack of patience, and because of a few mistakes committed by some of them which were indicative of insufficient piety. This discourse, therefore, is quite appropriate and warns the Muslims against such weaknesses.
The…
Read the full tafseer →