Aal-i-Imraan 3:120

Aal-i-Imraan · from ayah 120

3:120

اِنْ تَمْسَسْكُمْ حَسَنَةٌ تَسُؤْهُمْ ؗ— وَاِنْ تُصِبْكُمْ سَیِّئَةٌ یَّفْرَحُوْا بِهَا ؕ— وَاِنْ تَصْبِرُوْا وَتَتَّقُوْا لَا یَضُرُّكُمْ كَیْدُهُمْ شَیْـًٔا ؕ— اِنَّ اللّٰهَ بِمَا یَعْمَلُوْنَ مُحِیْطٌ ۟۠اِنۡ تَمۡسَسۡكُمۡ حَسَنَةٌ تَسُؤۡهُمۡ وَاِنۡ تُصِبۡكُمۡ سَيِّئَةٌ يَّفۡرَحُوۡا بِهَا ‌ۚ وَاِنۡ تَصۡبِرُوۡا وَتَتَّقُوۡا لَا يَضُرُّكُمۡ كَيۡدُهُمۡ شَيۡــئًا ؕ اِنَّ اللّٰهَ بِمَا يَعۡمَلُوۡنَ مُحِيۡطٌ

اگر تمہیں آسودگی حاصل ہو تو ان کو بری لگتی ہے اور اگر رنج پہنچے تو خوش ہوتے ہیں اور اگر تم تکلیفوں کی برداشت اور (ان سے) کنارہ کشی کرتے رہو گے تو ان کا فریب تمھیں کچھ بھی نقصان نہ پہنچا سکے گا یہ جو کچھ کرتے ہیں خدا اس پر احاطہ کیے ہوئے ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

If good touches you, it distresses them; but if harm strikes you, they rejoice at it. And if you are patient and fear Allah, their plot will not harm you at all. Indeed, Allah is encompassing of what they do.

— Saheeh International

Juz 4 · Ruku 12 of surah · Ruku 3 of juzع

Read the whole surah · Surah Aal-i-Imraan

All translations of 3:120

تمہارا بھلا ہوتا ہے تو ان کو برا معلوم ہوتا ہے، اور تم پر کوئی مصیبت آتی ہے تو یہ خوش ہوتے ہیں مگر ان کی کوئی تدبیر تمہارے خلاف کارگر نہیں ہوسکتی بشرطیکہ تم صبر سے کام لو اور اللہ سے ڈر کر کام کرتے رہو جو کچھ یہ کر رہے ہیں اللہ اُس پر حاوی ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اگر تمہیں آسودگی حاصل ہو تو ان کو بری لگتی ہے اور اگر رنج پہنچے تو خوش ہوتے ہیں اور اگر تم تکلیفوں کی برداشت اور (ان سے) کنارہ کشی کرتے رہو گے تو ان کا فریب تمھیں کچھ بھی نقصان نہ پہنچا سکے گا یہ جو کچھ کرتے ہیں خدا اس پر احاطہ کیے ہوئے ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

تمہیں اگر بھلائی ملے تو یہ ناخوش ہوتے ہیں ہاں! اگر برائی پہنچے تو خوش ہوتے ہیں، تم اگر صبر کرو اور پرہیزگاری کرو تو ان کا مکر تمہیں کچھ نقصان نہ دے گا۔ اللہ تعالیٰ نے انکے اعمال کا احاطہ کر رکھا ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اگر تمہیں کوئی بھلائی مل جائے تو ان کو برا لگتا ہے، اور اگر تمہیں کوئی گزند پہنچے تو یہ اس سے خوش ہوتے ہیں، اگر تم صبر اور تقوی سے کام لو تو ان کی چالیں تمہیں کوئی نقصان نہیں پہنچائیں گی۔ جو کچھ یہ کر رہے ہیں وہ سب اللہ کے (علم اور قدرت کے) احاطے میں ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

تمہیں کوئی بھلائی پہنچے تو انہیں برا لگے اور تم کہ برائی پہنچے تو اس پر خوش ہوں، اور اگر تم صبر اور پرہیزگاری کیے رہو تو ان کا داؤ تمہارا کچھ نہ بگاڑے گا، بیشک ان کے سب کام خدا کے گھیرے میں ہیں،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اگر تمہیں کوئی بھلائی پہنچے تو انہیں بری لگتی ہے اور تمہیں کوئی رنج پہنچے تو وہ اس سے خوش ہوتے ہیں، اور اگر تم صبر کرتے رہو اور تقوٰی اختیار کئے رکھو تو ان کا فریب تمہیں کوئی نقصان نہیں پہنچا سکے گا، جو کچھ وہ کر رہے ہیں بیشک اللہ اس پر احاطہ فرمائے ہوئے ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اگر تمہیں کوئی بھلائی پہنچے تو انھیں بری لگتی ہے اور اگر تمہیں کوئی تکلیف پہنچے تو اس پر خوش ہوتے ہیں اور اگر تم صبر کرو اور ڈرتے رہو تو ان کی خفیہ تدبیر تمہیں کچھ نقصان نہیں پہنچائے گی۔ بیشک اللہ، وہ جو کچھ کرتے ہیں، اس کا احاطہ کرنے والا ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور اگر تمہیں کوئی بھلائی پہنچے تو ان کو بری لگتی ہے اور کوئی مصیبت پیش آئے تو اس پر خوش ہوتے ہیں۔ اور اگر تم صبر سے کام لو اور اللہ سے ڈرتے رہو تو ان کی مکاری تمہارا کچھ بھی نہیں بگاڑ سکتی۔ اور جو کچھ یہ کر رہے ہیں، اللہ تعالیٰ یقینا اس کا احاطہ کئے ہوئے ہے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اگر تمہیں کوئی کامیابی حاصل ہوتی ہے تو ان کو اس سے تکلیف پہنچتی ہے اور اگر تم کو کوئی گزند پہنچ جاتا ہے تو اس سے خوش ہوتے ہیں اور اگر تم صبر کروگے اور تقوی اختیار کروگے تو ان کی چال تمہیں کوئی نقصان نہ پہنچا سکے گی۔ وہ جو کچھ کر رہے ہیں، اللہ اس کو اپنے گھیرے میں لیے ہوئے ہے۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

(نیز ان کا حال یہ ہے کہ) اگر تمہیں کوئی اچھائی پہنچے تو انہیں برا لگتا ہے اور اگر تمہیں کوئی تکلیف پہنچ جائے تو اس سے یہ لوگ خوش ہوتے ہیں، اور (یاد رکھو کہ) اگر تم صبر و (استقامت) سے کام لیتے رہے، اور تم نے تقوٰی (و پرہیزگاری) کو اپنائے رکھا، تو ان کے مکر (و فریب) سے تمہارا کچھ نہیں بگڑے گا، بیشک اللہ (اپنی قدرت کاملہ اور علم شامل سے) پوری طرح احاطہ کئے ہوئے ہے، ان کے ان تمام کاموں کا جو یہ لوگ کرتے ہیں

— مولانا اسحاق مدنی

اگر تمہیں کوئی اچھی حالت پیش آجاتی ہے تو یہ ان لوگوں کو دکھ پہنچاتی ہے اور اگر تم پر کوئی بری حالت آپڑتی ہے تو یہ اس سے خوش ہوتے ہیں۔ اور اگر تم صبر وتقوی اختیار کیے رہو تو تم کو ان کی چالیں ذرا بھی نقصان نہ پہنچا سکیں گی بیشک اللہ انکے اعمال پر (پورا) احاطہ رکھتا ہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

(اے مسلمانو !) اگر تمہیں کوئی بھلائی پہنچ جائے تو ان کو بری لگتی ہے اور اگر تمہیں کوئی تکلیف پہنچے تو اس سے وہ خوش ہوتے ہیں لیکن اگر تم صبر کرتے رہو اور تقویٰ کی روش اختیار کیے رہو تو ان کی یہ ساری چالیں تمہیں کوئی مستقل نقصان نہیں پہنچا سکیں گی جو کچھ یہ کر رہے ہیں یقیناً اللہ تعالیٰ اس کا احاطہ کیے ہوئے ہے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

تمہارا بھلا ہوتا ہے تو ان کو برا معلوم ہوتا ہے اور تم پر کوئی مصیبت آتی ہے تو وہ خوش ہوتے ہیں مگر ان کی کوئی تدبیر تمہارے لیے نقصان دہ نہیں ہوسکتی بشرطیکہ تم صبر سے کام لو اور اللہ سے ڈرتے رہو۔ جو کچھ یہ کر رہے ہیں اللہ اس پر حاوی ہے

— محترمہ رفعت اعجاز

If anything good happens to you they are grieved; if any misfortune befalls you they rejoice at it. But if you remain steadfast and mindful of Allah their designs will not cause you harm. Allah surely encompasses all that they do.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

If something good happens to you, it annoys them, and if something evil befalls you, they are delighted with it. If you keep patience and fear Allah, their cunning shall not harm you at all. Allah is All-Encompassing of what they do.

— Muhammad Taqi Usmani

If something good happens to you, it annoys them, and if something evil befalls you, they are delighted with it. If you keep patience and fear Allah, their cunning shall not harm you at all. Allah is All-Encompassing of what they do.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

If a good befalls you, it grieves them, but if some evil overtakes you, they rejoice at it. But if you remain patient and have Taqwa, not the least harm will their cunning do to you. Surely, Allah surrounds all that they do.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

If a lucky chance befall you, it is evil unto them, and if disaster strike you they rejoice thereat. But if ye persevere and keep from evil their guile will never harm you. Lo! Allah is Surrounding what they do.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

If good touches you, it distresses them; but if harm strikes you, they rejoice at it. And if you are patient and fear Allah, their plot will not harm you at all. Indeed, Allah is encompassing of what they do.

— Saheeh International

They hate to see your success and rejoice if any misfortune befalls you. If you will be patient and pious, their plots can cause no harm to you. God has control over all their actions.

— Muhammad Sarwar

If good befalls you, it grieves them, and if an evil afflicts you, they rejoice at it; and if you are patient and guard yourselves, their scheme will not injure you in any way; surely Allah comprehends what they do.

— Muhammad Habib Shakir

If there happenoth unto you any good it grieveth them, and if there happenoth unto you an ill, they rejoice thereat. And if ye remain persevering and God-fearing their guile shall not harm you at all. Verily Allah is of that which they work Encompasser.

— Abdul Majid Daryabadi

If aught that is good befalls you, it grieves them; but if some misfortune overtakes you, they rejoice at it. But if ye are constant and do right, not the least harm will their cunning do to you; for Allah Compasseth round about all that they do.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 3:120

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 118–120

کافر اور منافق مسلمان کے دوست نہیں انہیں اپنا ہم راز نہ بناؤ اللہ تعالیٰ ایمانداروں کو کافروں اور منافقوں کی دوستی اور ہم راز ہونے سے روکتا ہے کہ یہ تو تمہارے دشمن ہیں ان کی چکنی چپڑی باتوں میں خوش نہ ہوجانا اور ان کے مکر کے پھندے میں پھنس نہ جانا ورنہ موقعہ پا کر یہ تمہیں سخت ضرر پہنچائیں گے اور اپنی باطنی عداوت نکالیں گے تم انہیں اپنا راز دار ہرگز نہ سمجھنا راز کی باتیں ان کے کانوں تک ہرگز نہ پہنچانا بطانہ کہتے ہیں انسان کے راز دار دوست کو اور من دو نکم سے مراد جس خلیفہ کو مقرر کیا اس کیلئے دو بطانہ مقرر کئے ایک تو بھلائی کی بات سمجھانے والا اور اس پر رغبت دینے والا اور دوسرا برائی کی رہبری…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 120–121

سورة اٰلِ عِمْرٰن 94 یہاں سے چوتھا خطبہ شروع ہوتا ہے۔ یہ جنگ احد کے بعد نازل ہوا ہے اور اس میں جنگ احد پر تبصرہ کیا گیا ہے۔ اوپر کے خطبہ کو ختم کرتے ہوئے آخر میں ارشاد ہوا تھا کہ ”ان کی کوئی تدبیر تمہارے خلاف کارگر نہیں ہو سکتی بشرطیکہ تم صبر سے کام لو اور اللہ سے ڈر کر کام کرتے رہو۔“ اب چونکہ احد کے میدان میں مسلمانوں کی شکست کا سبب ہی یہ ہوا کہ ان کے اندر صبر کی بھی کمی تھی اور ان کے افراد سے بعض ایسی غلطیاں بھی سرزد ہوئی تھیں جو خدا ترسی کے خلاف تھیں، اس لیے یہ خطبہ جس میں انہیں ان کمزوریوں پر متنبہ کیا گیا ہے، مندرجہ بالا فقرے کے بعد ہی متصلاً درج کیا گیا۔ اس خطبے کا انداز بیان یہ ہے کہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

اس کافرانہ ذہنیت کی مزید توضیح یہ ہے کہ ان تمسسکم حسنۃ یعنی ان لوگوں کا یہ حال ہے کہ اگر تمہیں کوئی اچھی حالت پیش آجائے تو یہ ان لوگوں کو دکھ پہنچاتی ہے اور اگر تم پر کوئی بری حالت آپڑتی ہے تو یہ اس سے خوش ہوتے ہیں۔ پھر منافقوں کے کید و مکر اور شدید مخالفین کے عناد اور مخالفت کے نتائج سے محفوظ رہنے کا آسان اور سہل الاصول نسخہ یہ بیان کیا گیا کہ (وان تصبروا وتتقوا لا یضرکم کیدھم شیئا ان اللہ بما یعملون محیط) اگر تم صبر اور تقوی اختیار کئے رہو تو تم کو ان کی چالیں ذرا بھی نقصان نہ پہنچا سکیں گی۔ مسلمانوں کی فتح و کامیابی اور تمام مشکلات میں آسانی کا راز صبر اور تقوی کی دو صفتوں میں مضمر…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

صبر اور تقویٰ : فرمایا کہ ان کا حال یہ ہے کہ اگر تم کو کوئی کامیابی حاصل ہوتی ہے تو انہیں بڑا رنج ہوتا ہے اور اگر تمہیں کوئی نقصان پہنچ جائے تو یہ اس سے بہت خوش ہوتے ہیں۔ لیکن اگر تم نے ثابت قدمی دکھائی اور ان باتوں سے بچتے رہے جن سے بچتے رہنے کی تمہیں نہایت واضح ہدایات دے دی گئی ہیں تو ان کی چالیں تمہیں کچھ بھی نقصان نہ پہنچا سکیں گی۔ اللہ تعالیٰ ان کی ساری سرگرمیوں اور ساری چالوں کا احاطہ کیے ہوئے ہے۔ اس آخری ٹکڑے کی مزید وضاحت کے لیے اسی سورة کی آیات 125 اور 186 پر بھی ایک نظر ڈال لیجیے۔ ان تصبروا وتتقوا کے تحت ابن جریر کا ایک نکتہ یاد رکھنے کے قابل ہے۔ وہ فرماتے ہیں کہ یہاں جس تقوی کا حکم…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

120۔ 1 اس میں منافقین کی شدید عداوت کا ذکر ہے جو انہیں مومنوں کے ساتھ تھی اور وہ یہ کہ جب مسلمانوں کو خوش حالی میسر آتی، اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کو تائید و نصرت ملتی اور مسلمانوں کی تعداد و قوت میں اضافہ ہوتا تو منافقین کو بہت برا لگتا اور اگر مسلمان قحط سالی یا تنگدستی میں مبتلا ہوتے یا اللہ کی مشیت و مصلحت سے دشمن وقتی طور پر مسلمانوں پر غالب آجاتے (جیسے جنگ احد میں ہوا) تو بڑے خوش ہوتے۔ مقصد بتلانے سے یہ ہے جن لوگوں کا یہ حال ہو، کیا وہ اس لائق ہوسکتے ہیں کہ مسلمان ان سے محبت کی پینگیں بڑھائیں اور انہیں اپنا راز دار اور دوست بنائیں ؟ اسی لئے اللہ تعالیٰ نے یہود و نصاریٰ سے بھی دوستی رکھنے…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 119–121

40: جنگ احد میں تین ہزار کفار کا ایک لشکر مدینہ منورہ پر حملہ آور ہوا تھا آنحضرت ﷺ ان کے مقابلے کے لئے احد پہاڑ کے دامن میں تشریف لے گئے تھے جہاں یہ جنگ لڑی گئی، آنے والی آیات میں اس کے متعدد واقعات کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

اور اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : إِنْ تَمْسَسْكُمْ حَسَنَةٌ تَسُؤْهُمْ وَإِنْ تُصِبْكُمْ سَيِّئَةٌ يَفْرَحُوا بِهَا……………تمہارا بھلا ہوتا ہے تو ان کو برا معلوم ہوتا ہے اور اگر تم پر کوئی مصیبت آتی ہے تو یہ خوش ہوتے ہیں۔ “ بارہا ہم تجربات کے تھپیڑے کھاتے ہیں ‘ مگر ہمیں ہوش نہیں آتی ‘ باربار ہم پر سازشوں اور تخریب کاریوں کا انکشاف ہوتا ہے ‘ جو مختلف بھیس بدل کر کی جاتی ہیں ‘ مگر ہم عبرت حاصل نہیں کرتے ‘ باربار ان دشمنوں کی زبان پر ایسی باتیں آجاتی ہیں جن سے ان کے دلی کینہ کا اظہار ہوتا ہے ‘ جسے مسلمانوں کی مسلسل محبت اور دوستی کے مساعی زائل نہ کرسکیں اور جسے مسلمانوں کی دینی رواداری بھی صاف نہ کرسکی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

9 اگر تمہاری ذراسی بھلائی دیکھتے ہیں مثلا مسلمانوں کا اتحاد و یکجہتی یا دشمنوں پر غلبہ تو حسد کی آگ میں بھننے لگتے ہیں۔ اور جہاں تم پر کوئی مصیبت نظر آئی خوشی کے مارے پھولے نہیں سماتے۔ بھلا ایسی کمینہ قوم سے ہمدردری اور خیر خواہی کی کیا توقع ہوسکتی ہے، جو دوستی کا ہاتھ ان کی طرف بڑھایا جائے۔ 1 ممکن تھا کسی کو یہ خیال گزرے کہ جب ہم ان سے دوستانہ تعلقات نہ رکھیں گے تو وہ زیادہ غیظ و غضب میں آکر ہمارے خلاف تدبیریں کریں گے اور بیش از بیش نقصان پہنچانا چاہیں گے۔ اس کا جواب دیا کہ تم صبر و استقلال اور تقویٰ و طہارت پر ٹھیک ٹھیک قائم رہو گے تو ان کا کوئی داؤ فریب تم پر کارگر نہ ہوگا۔ جو کاروائیاں وہ…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 120 اِنْ تَمْسَسْکُمْ حَسَنَۃٌ تَسُؤْہُمْ ز۔ اگر تمہیں کوئی کامیابی حاصل ہوجائے ‘ کہیں فتح نصیب ہوجائے تو ان کو اس سے تکلیف پہنچتی ہے۔ وَاِنْ تُصِبْکُمْ سَیِّءَۃٌ یَّفْرَحُوْا بِہَا ط۔ اگر تمہیں کوئی گزند پہنچ جائے ‘ کہیں عارضی طور پر شکست ہوجائے ‘ جیسے احد میں ہوگئی تھی ‘ تو بڑے خوش ہوتے ہیں ‘ شادیانے بجاتے ہیں۔ وَاِنْ تَصْبِرُوْا وَتَتَّقُوْا لاَ یَضُرُّکُمْ کَیْدُہُمْ شَیْءًا ط۔ سورۃ البقرۃ میں صبر اور صلوٰۃ سے مدد لینے کی تلقین کی گئی تھی ‘ یہاں صلوٰۃ کی جگہ لفظ تقویٰ آگیا ہے کہ اگر تم یہ کرتے رہو گے تو پھر بالآخر ان کی ساری سازشیں ناکام ہوں گی۔ اِنَّ اللّٰہَ بِمَا یَعْمَلُوْنَ…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

109 اگر تمہیں کوئی خوشی کا موقعہ میسر آئے تو یہ جل بھن جاتے ہیں اور کوئی تکلیف پہنچے تو اس پر خوشی سے پھولے نہیں سماتے۔ تو کیا پھر ایسے لوگوں کی دوستی سے پرہیز ہی بہتر نہیں ؟ بس تم صبر سے کام لو۔ ان کی سازشیں اور پراپیگنڈے تمہارا بال بھی بیکا نہیں کرسکتے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ خود ان پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہے۔ آیت نمبر 118 سے لے کر 120 تک 3 آیات میں اللہ تعالیٰ نے کافروں سے دوستی گانٹھنے کی ممانعت کے لیے جو وجوہات بیان فرمائی ہیں وہ مختصراً درج ذیل ہیں۔ 1۔ وہ تمہارے درمیان، خرابی، بگاڑ اور فساد پیدا کرنے کے لیے کوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں کرتے اور ان کی ہر ممکن کوشش یہ ہوتی ہے کہ تم میں تفرقہ و…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

247 ۔ منافقوں کی خباثت نفس اور کینہ پروری کا بیان ہے کہ مسلمانوں کی تکلیف سے خوش ہوتے ہیں۔ اور ان کی خوشی اور خوشحالی سے رنجیدہ۔ (آیت) ” حسنۃ “ مسلمانوں کی اندرونی تنظیم یا کافروں پر ان کی فتح و غلبہ (آیت) ” سیءۃ “۔ مثلا کوئی ہنگامی شکست۔ 248 ۔ (اللہ ان کی سزا پر ہر طرح قادر ہے) (آیت) ” وان تصبروا “۔ منافقین کے کید ومکر اور شدید مخالفین کے عناد ومخالفت کے نتائج سے محفوظ رہنے کا کتنا آسان اور سہل الحصول نسخہ یہاں مسلمانوں کو بتادیا گیا ہے۔ تم اپنے کام سے کام رکھو، اپنی اصلاح میں لگے رہو۔ استقامت علی الحق کا دامن ہاتھ سے نہ دو ۔ کوئی تمہارا کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔ (آیت) ” وان تصبروا وتتقوا “۔ صبر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 119–121

آیت نمبر 121 تا 129 ترجمہ : اور اے محمد ﷺ وہ وقت یاد کرو جب آپ مدینہ سے اپنے اہل کے پاس سے نکلے تھے، مسلمانوں کو قتال کے مناسب مراکز پر کھڑے کرتے ہوئے اور اللہ ان کے اقوال کو بڑا سننے والا اور ان کے احوال کو بڑا جاننے والا ہے اور یہ احد کا دن تھا۔ آپ ﷺ ہزار یا پچاس کم ہزار افراد کے ساتھ نکلے تھے، اور مشرکوں کی تعداد تین ہزار تھی 3 ھ کے ماہ شوال کی ساتویں تاریخ بروز شنبہ گھاٹی میں نزول فرمایا، اور احد پہاڑ کی جانب اپنی اور لشکر کی پشت رکھی، اور آپ ﷺ نے لشکر کی صفوں کو درست فرمایا، اور تیر اندازوں کا ایک دستہ جس پر عبد اللہ بن جبیر کو سالار نام زد فرمایا تھا پہاڑ کی ایک گھاٹی پر متعین فرمایا۔…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ان تمسسکم حسنۃ تسوھم (اے مسلمانو ! اگر تم کو کوئی بھلائی چھو بھی جاتی ہے مثلاً دشمن پر تم کو غلبہ حاصل ہوجاتا ہے، اسلام کی شوکت بڑھتی ہے، تم کو مال غنیمت یا زندگی کی فراغت نصیب ہوجاتی ہے تو ان کو دکھ پہنچتا ہے وہ اس سے جلتے ہیں۔ لفظ مس سے اس طرف اشارہ ہے کہ تمہاری ادنیٰ بہتری بھی ان کے لیے رنج آفریں ہوتی ہے۔ و ان تصبکم سیءۃ یفرحوا بھا اور اگر تم پر کوئی برائی پڑجاتی ہے مثلاً دشمن کو کچھ غلبہ حاصل ہوجاتا ہے یا قحط پڑجاتا اور تمہاری روزی تنگ ہوجاتی ہے تو وہ خوب خوش ہوتے ہیں۔ و ان تصبروا اور اگر ان کی دشمنی یا تمام مصائب یا حکم الٰہی کی تعمیل کی مشقت پر تم صبر کرو گے۔ و تتقوا اور ان کی موالات سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(120) اور اگر تم لوگوں کو فتح وغنیمت حاصل ہوجاتی ہے تو یہود اور منافقوں کو بہت ہی ناگوار گزرتا ہے اور اگر قحط سالی قتل و غارت گری اور شکست کا سامنا ہو تو اس سے یہودی خوش ہوتے ہیں اور اگر ان کی تکالیف پر تم استقلال سے کامل لو اور اللہ تعالیٰ کی نافرمانی نہ کرو، تو پھر ان کی دشمنی اور کینہ کچھ نہیں کرسکتا، اللہ تعالیٰ ان کی اس مخالفت اور ان کی دشمنی سے آگاہ ہے ،

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

اِنْ تَمْسَسْكُمْ حَسَنَةٌ تَـسُؤْھُمْ ۡ۔۔ : اس آیت میں مسلمانوں کو تعلیم دی گئی ہے کہ دشمنوں کے مکر و فریب اور ان کی چالوں سے محفوظ رہنے کا طریقہ صرف یہ ہے کہ تم صبر و استقلال اور تقویٰ سے کام لو، اگر یہ اصول اپنا لو گے تو وہ تمہیں نقصان نہیں پہنچا سکیں گے۔ شاہ عبد القادر ؓ فرماتے ہیں : ”اکثر منافق بھی یہود میں تھے، اس واسطے ان کے ذکر کے ساتھ یہود کا ذکر بھی فرمایا۔ اب آگے غزوۂ احد کی باتیں مذکور ہیں، کیونکہ اس میں بھی مسلمانوں نے بعض کافروں کا کہنا مان لیا تھا اور لڑائی سے پھر چلے تھے اور منافقوں نے اپنے نفاق کی باتیں ظاہر کی تھیں۔“ (موضح)

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیت نمبر : 120۔ قولہ تعالیٰ : (آیت) ” ان تمسسکم حسنۃ تسؤھم “۔ سلمی نے اسے یا کے ساتھ پڑھا ہے اور باقیوں نے تا کے ساتھ، اور یہ لفظ عام ہے ہر اس سے کو شامل ہے جو اچھی ہو سکتی ہے اور بری ہو سکتی ہے، اور مفسرین نے جو (خصب) شادابی (جدب) خشک سالی، مومنین کا اجتماع اور ان کے درمیان فرقت کا ہونا اور دیگر ان جیسے ان جیسے اقوال مثالیں ذکر کی ہیں اور یہ کوئی اختلاف نہیں ہے۔ اور آیت میں معنی یہ ہے کہ ہر وہ جس کی یہ حال ہو کہ اس میں شدید عداوت اور حقدوکینہ ہو اور مسلمانوں پر تکالیف آنے کے وقت اسے خوشی اور مسرت ہوتی ہو وہ اس اہل نہیں کہ اسے راز دار بنایا جائے، بالخصوص جہاد جیسے اس امر عظیم میں جو کہ دنیا…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 119–121

(1) ابن اسحاق و بیہقی نے دلائل میں ابن شہاب اور عاصم بن عمر بن قتادہ اور محمد بن یحییٰ بن حبان اور حصین بن عبد الرحمن ابن سعد معاذ ان تینوں حضرات سے روایت کیا کہ جنگ احد کا دن بلاء اور آزمایش کا دن تھا اللہ تعالیٰ نے اس دن ایمان والوں کا امتحان لیا اور اس کے ذریعہ ان کافرون کو بےآبرو کردیا جا اسلام کو اپنی زبان سے ظاہر کرتے تھے اور کفر کو چھپانے والے تھے اور وہ دن کہ اللہ تعالیٰ نے عزت کی ان لوگوں کو جو عزت کو چھپانے والے تھے اور وہ دن کہ اللہ تعالیٰ نے عزت دی ان لوگوں کو عزت دینے کا ارادہ کیا شہادت کے ساتھ اور یہ واقعہ ان واقعات میں سے تھا کہ جس میں قرآن میں سے احد کے دن کے ساٹھ آیتیں سورة…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[اِنْ : اور اگر ] [تَمْسَسْکُمْ : پہنچتی ہے تم کو ] [حَسَنَۃٌ : کوئی بھلائی ] [تَسُؤْہُمْ : تو وہ بری لگتی ہے ان کو وَاِنْ : اور اگر ] [تُصِبْکُمْ : آن لگتی ہے تم کو ] [سَیِّـئَۃٌ : کوئی برائی ] [یَّـفْرَحُوْا : تو وہ لوگ بہت خوش ہوتے ہیں ] [بِھَا : اس سے ] [وَاِنْ : اور اگر ] [تَصْبِرُوْا : تم لوگ ثابت قدم رہو ] [وَتَتَّقُوْا : اور تقویٰ اختیار کرو ] [لاَ یَضُرُّکُمْ : تو نقصان نہیں دے گی تم کو ] [کَیْدُہُمْ : ان کی چالبازی ] [شَیْئًا : ذرا بھی ] [ اِنَّ اللّٰہَ : بیشک اللہ بِمَا : اس کا جو ] [ یَعْمَلُوْنَ : یہ لوگ کرتے ہیں ] [مُحِیْطٌ : احاطہ کرنے والا ہے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

مسلمانوں کو خطاب کرتے ہوئے مزید فرمایا (اِنْ تَمْسَسْکُمْ حَسَنَۃٌ تَسُؤْھُمْ وَ اِنْ تُصِبْکُمْ سَیّءَۃٌ یَّفْرَحُوْابِھَا) (کہ اگر تم کو اچھی حالت پیش آجاتی ہے اس سے وہ رنجیدہ ہوتے ہیں اور اگر تم کو کوئی ناگواری کی حالت پیش آجائے تو وہ خوش ہوتے ہیں) کیا ایسے لوگ محبت کرنے کے قابل ہیں ؟ تفسیر درمنثور صفحہ 66: ج 2 میں حضرت ابن عباس ؓ سے آیت (یٰآَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لاَ تَتَّخِذُوْا بِطَانَۃً مِّنْ دُوْنِکُمْ ) کا سبب نزول یہ نقل کیا ہے کہ مسلمانوں میں کچھ لوگ ایسے تھے جن کا زمانہ جاہلیت میں یہود مدینہ سے پڑوسی ہونے کی وجہ سے تعلق تھا اور بعض مواقع میں آپس میں ایک دوسرے کے حلیف بھی بن…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 118–120

تحذیر مومنین از اختصاص وارتباط بادشمنان دین۔ قال تعالی۔ یا ایھا الذین۔۔۔۔۔۔ الی۔۔۔۔ محیط۔ آیت۔ ربط) گزشتہ آیات میں مسلمانوں کے صفات اور کافروں کے زمائم اور قبائح کا ذکر تھا اب ان آیات میں مسلمانوں کو ہدایت ہے کہ کافروں کے ساتھ خلاملا نہ رکھو اور نہ ان کوا پنا راز دار بناؤ کافر تمہارے دین اور دنیا دونوں کے دشمن ہیں۔ یا یوں کہو کہ جب گزشتہ آیات میں یہ بیان کیا کہ کفر اور ظلم کی سرد ہوا نے ظالموں کے اعمال کی کھیتیوں کو تباہ برباد کیا تو اب آئندہ آیت میں اہل ایمان کو نصیحت فرماتے ہیں خہ تم انظالموں سے خلط ملط نہ رکھنا مبادا ان کے کفر اور ظلم کی سرد ہوا کا اثر تمہارے اعمال کی کھیتیوں کو کوئی نقصان…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

184 خطاب مسلمانوں سے ہے اور اس میں اسلام کے خلاف منافقین کے بغض وحسد اور کینہ پروری کا مزید بیان ہے یعنی ان کی عداوت اس حد تک پہنچ چکی ہے کہ وہ تمہاری خوشحالی اور تمہارنے نفع کو کسی قیمت پر برداشت نہیں کرسکتے اگر تمہیں دشمنوں پر فتح حاصل ہوجائے یا تم پر خوشحالی کا دور آجائے تو اس سے ان کے دل رنجیدہ ہوجاتے ہیں لیکن اگر تمہیں کوئی تکلیف پہنچ جائے یا تم مشقت میں پڑجاؤ تو اس سے انہیں بہت خوشی ہوتی ہے ان تمام آیتوں کا حاصل یہ ہے کہ ایمان والوں کے خلاف جن لوگوں کی کینہ پروری اور ان کے بغض وعداوت کا یہ حال ہو وہ ہرگز اس لائق نہیں ہیں کہ ان کو اپنا راز دار بنایا جائے خصوصاً جب کہ جہاد کا معاملہ درپیش…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 119–120

ربط آیات : اہل کتاب کی عداوت اور دشمنی کا ذکر کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے اہل کتاب مشرکین اور منافقین سے دوستی کرنے سے منع فرمادیا۔ اور خبردر کردیا کہ ان کو اپنے دلی رازدان نہ بناؤ، ورنہ وہ تمہارے درمیان فتنہ و فساد کی اگ بھڑکا دیں گے۔ ان کی حالت یہ ہے کہ جو چیز تمہیں مشقت میں ڈالتی ہے وہ اس کو پسند کرتے ہیں۔ ان کی اسلام دشمنی بسا اوقات ان کی زبانوں پر آجاتی ہے۔ اس کے علاوہ تمہارے خلاف جو بغض وعناد ان کے دلوں میں پوشیدہ ہے وہ بہت زیادہ ہے۔ اس کو اللہ ہی جانتا ہے۔ تم اس کا اندازپ نہیں کرسکتے۔ اللہ نے فرمایا کہ ہم نے تمام احکام کھول کر بیان کردیے ہیں۔ اگر تم عقل و شعور رکھتے ہو ، تو ان کو سمجھ…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

اِنْ تَمْسَسْكُمْ حَسَـنَۃٌ تَـسُؤْھُمْ۝ 0 ۡوَاِنْ تُصِبْكُمْ سَيِّئَۃٌ يَّفْرَحُوْا بِھَا۝ 0 ۭ وَاِنْ تَصْبِرُوْا وَتَتَّقُوْا لَا يَضُرُّكُمْ كَيْدُھُمْ شَـيْـــًٔـا۝ 0 ۭ اِنَّ اللہَ بِمَا يَعْمَلُوْنَ مُحِيْطٌ۝ 120 ۧ مسس المسّ کاللّمس لکن اللّمس قد يقال لطلب الشیء وإن لم يوجد والمسّ يقال في كلّ ما ينال الإنسان من أذى. نحو قوله : وَقالُوا لَنْ تَمَسَّنَا النَّارُ إِلَّا أَيَّاماً مَعْدُودَةً [ البقرة/ 80] ، ( م س س ) المس کے معنی چھونا کے ہیں اور لمس کے ہم معنی ہیں لیکن گاہے لمس کیس چیز کی تلاش کرنے کو بھی کہتے ہیں اور اس میں یہ ضروری نہیں کہ وہ چیز مل جل بھی جائے ۔ اور مس کا لفظ ہر اس…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 117–120

ترکیب : مثل مبتدا کمثل ریح خبر اصابت الخ صفت ہے ریح کی بطانۃ مفعول ہے لا تتخذوا کا من دونکم فعل سے متعلق ہو کر صفت ہے بطانۃ کی اسی طرح لا یا لونکم خبالا تمیز ہے علیکم مفعول عضوا لانامل مفعول ثانی۔ تفسیر : بطانۃ کفار حرام ہے : پہلی آیت میں تھا کہ کفار کو ان کا مال کچھ نفع آخرت میں نہ دے گا۔ اس پر شبہ گذرتا تھا کہ کیوں نہ دے گا حالانکہ وہ غریب یتیم فقیر بےکس کو للہ دیتے ہیں۔ اس کا جواب دیا جاتا ہے کہ ان کے صرف کرنے کی ایسی مثال ہے کہ جیسا کوئی کھیتی کرے یا باغ لگائے۔ پھر اس کو ہوا اور پالا مار جاوے اور وہ خراب ہوجائے۔ اسی طرح ان کا لیا دیا بیشک کھیتی اور آخرت کے لئے باغ ہے کہ جس سے انتفاع کی…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

اِنْ تَمْسَسْکُمْ حَسَنَۃٌ تَسُؤْہُمْ ز وَاِنْ تُصِبْـکُمْ سَیِّئَۃٌ یَّـفْرَحُوْا بِہَا ط وَاِنْ تُصْبِرُوْا وَتَـتَّـقُـوْا لاَ یَضُرُّکُمْ کَیْدُ ہُمْ شَیْئًا ط اِنَّ اللّٰہَ بِمَا یَعْمَلُوْنَ مُحِیْطٌ۔ ع (اگر تمہیں کوئی کامیابی حاصل ہوتی ہے تو ان کو اس سے تکلیف پہنچتی ہے اور اگر تمہیں کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو اس سے کھل اٹھتے ہیں اور اگر تم صبر کرو گے اور تقویٰ اختیار کرو گے تو ان کی کوئی تدبیر تمہیں نقصان نہیں پہنچاسکے گی۔ وہ جو کچھ کر رہے ہیں اللہ اسے اپنے گھیرے میں لیے ہوئے ہے) (120) یہود سے ہوشیار رہنے کی ہدایت اس آیت کریمہ میں یہود کے بارے میں آخری بات فرمائی گئی ہے کہ ایک قوم دوسری…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 120–121

فہم القرآن ربط کلام : کفار کا مسلمانوں کو نقصان پہنچانا اور اس پر خوش ہونے کی پہلی مثال غزوۂ احد ہے۔ جس کا نقشہ پیش کیا جار رہا ہے۔ بدر میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو عظیم الشان فتح سے نوازا تھا۔ شکست سے بچنے کے لیے نظم و ضبط ‘ حوصلہ اور تقو ٰی نہایت ضروری ہے۔ مسلمانوں نے 2 ہجری 17 رمضان المبارک کے دن بدر کے میدان میں اہل مکہ کو شکست فاش دی تھی۔ جس کا بدلہ لینے کے لیے مکہ والوں نے شوال 3 ہجری میں مدینہ پر یلغار کردی۔ رسول اللہ ﷺ نے دفاعی منصوبہ بندی کے لیے مشاورت کا اہتمام فرمایا جس میں آپ کا نقطۂ نظر یہ تھا کہ مدینہ سے باہر جانے کے بجائے شہر میں رہ کر دفاع کیا جائے۔ عبداللہ بن ابی اور…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

120: اِنْ تَمْسَسْکُمْ حَسَنَۃٌ تَسُؤْ ھُمْ وَاِنْ تُصِبْکُمْ سَیِّئَۃٌ یَّفْرَحُوْا بِھَا۔ وَاِنْ تَصْبِرُوْا وَتَتَّقُوْ ا لَا یَضُرُّ کُمْ کَیْدُ ھُمْ شَیْئًاط اِنَّ اللّٰہَ بِمَا یَعْمَلُوْنَ مُحِیْطٌ۔ (اگر تمہیں کوئی بھلائی ملے) حسنہ سے مراد خوشحالی، سرسبزی اور غنیمت ونصرت تَسُؤْھُمْ (وہ ان کو بری لگتی ہے) یعنی اس کا ملنا ان کو غم زدہ کردیتا ہے وَاِنْ تُصِبْکُمْ سَیِّئَۃٌ (اگر تمہیں کوئی تکلیف پہنچتی ہے) یعنی بدحالی، تنگ دستی، دشمن کا غلبہ، آیت میں المس کے الفاظ کو الاصابہ کی جگہ بطور استعارہ استعمال کیا گیا ہے۔ گویا کہ دونوں کا معنی ایک ہی ہے کیا تم اس ارشاد الٰہی کی طرف نظر نہیں کرتے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

120۔ (آیت)” ان تمسسکم “ مؤمنوا اگر تمہیں پہنچتی ہے ” حسنۃ “ کوئی نیکی ، دشمن پر غلبہ پانے کے بعد کوئی آسانی مثلا مال غنیمت تمہیں مل جائے تو وہ لوگ جوق درجوق دین میں داخل ہوجاتے ہیں ، اس وجہ سے ان کو بہت رنج پہنچتا ہے ۔ (آیت)” تسؤھم “ تو وہ غمگین ہوجاتے ہیں (آیت)” وان تصبکم سیئۃ “ ۔ اگر تم پر کوئی برائی پڑجاتی ہے ، مثلا دشمن کو کچھ حاصل ہوجاتا ہے یا تمہارے درمیان کوئی اختلاف واقع ہوجاتا ہے ، یا قحط پڑجاتا ہے یا کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو ” یفرحوا بھا وان تصبروا “۔ وہ اس اذیت پر خوش ہوتے ہیں ۔ (آیت)” وتتقوا “ اور تم رب سے ڈرتے رہو گے (آیت)” لایضرکم “ وہ تم کو کچھ نقصان نہیں پہنچا سکتے ، (آیت)”…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 118–120

(118 ۔ 120) ۔ ابن جریر اور ابن اسحاق نے حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے روایت کی ہے کہ جس طرح اسلام سے پہلے یہود اور اہل عرب میں دوستی تھی اور آپس میں کچھ کفر اور اسلام کا فرق نہ تھا اسلام کے بعد بھی اکثر مسلمان یہود اور منافقوں سے وہی قدیمی اتحاد برتتے تھے اور یہود اور مناقفوں کا یہ حال تھا کہ دوستی کے پردہ میں یہ کیا کہ اوس اور خزرج مسلمانوں کے دو قبیلوں میں لڑائی کا سامان کردیا۔ جس کا ذکر اوپر کی آیتوں میں گذرچکا اور عبد اللہ بن ابی منافق نے یہ کیا کہ عین میدان جنگ میں سے احد کی لڑائی کے وقت لشکر اسلام میں سے تین سو آدمیوں کو بہکا کر مدینہ لے آیا۔ جس کا ذکر آئندہ کی آیتوں میں آئے گا۔ اور زیادہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 118–121

آیت 118-120 اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندوں کو اس بات سے منع فرماتا ہے کہ وہ اہل کتاب کے یا دوسرے مذاہب کے منافقوں کو دلی دوست بنائیں، انہیں اپنے راز بتائیں، یا بعض اسلامی ذمہ داریاں ان کے سپرد کردیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ دشمن ہیں جن کے دل بغض و عداوت سے بھرے ہوئے ہیں۔ حتیٰ کہ یہ عداوت ان کی زبان سے بلا ارادہ ظاہر ہوجاتی ہے۔ (وما تخفی صدورھم اکبر) ” اور جو ان کے سینوں میں پوشیدہ ہے، وہ ظاہر ہوجانے والی دشمنی سے بہت زیادہ ہے۔ “ اسی لئے (لایالونکم خبالا) ” وہ تمہاری تباہی میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھتے “ یعنی تمہیں نقصان پہنچانے اور مشکلات پیدا کرنے میں کمی نہیں کرتے۔ وہ ایسے اسباب پیدا کرتے ہیں جس…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 119–130

سود کی ہر صورت حرام ہے قول باری ہے (لاتاکلوا الربواضعا فامضاعفۃ، یہ بڑھتا اور چڑھتا سود کھانا چھوڑ دو ) قول باری (اضعا فاعفۃ) کے دومعنی بیان کیے گئے ہیں اول تاجیل قرض کی ادائیگی کی مدت میں اضافے کے ساتھ سود کو رقم میں اضافہ کرتے جانا اور ہر مدت کے لیے زائد رقم کی قسط مقررکر دینا۔ دوم سودی رقموں کے ذریعے اپنے مال میں کئی گنا اضافہ کرلینایہ اس بات کی دلیل ہے کہ جس چیز کا خصوصیت کے ساتھ ذکرکر دیاجائے، وہ اس پر دلالت نہیں کرتی کہ اس کے ماسواچیزوں کا حکم کے برعکس ہے کیونکہ اگر ایسا ہوتا تو پھر کئی کئی گنابڑھا کر سود خوری کی تحریم اس پر دلالت کرتی کہ اگر کئی کئی گنا اضافے کی صورت نہ ہو تو سود کھانا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 120–122

250 حاسدوں کے حسد کا ایک اور مظہر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اگر تم لوگوں کو کوئی اچھائی نصیب ہو تو ان کو برا لگتا ہے۔ اور اگر تم کو کوئی تکلیف پہنچ جائے تو اس سے یہ خوش ہوتے ہیں۔ سو یہ ان کے حسد و عداوت کا ایک اور ثبوت اور مظہر ہے۔ اور یہاں بھی وہی حقیقت روشن و فروزاں ہے کہ ان کے دلوں کے حال کی خبر دی گئی ہے، کیونکہ خوش ہونے اور برا لگنے کا تعلق اصل میں دل ہی سے ہوتا ہے۔ اور قرآن حکیم کے اس بیان کا وہ لوگ انکار بھی نہیں کرسکے۔ سو یہ ایک اور معجزہ ہے اس کتاب حکیم کا کہ یہ دلوں کے حال اور مخفی اسرار کی اس طرح خبر دیتی ہے۔ پس یہ اس مالک مطلق کا کلام حق ترجمان ہے جو دلوں کے چھپے اسرار کو بھی پوری…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 118–120

مسلمانوں کا راز دان کون ؟ اہل کتاب کا حسد تشریح : ان آیات کا شان نزول یہ ہے کہ یہود و منافقین کے شر سے مسلمانوں کو آگاہ کیا جائے۔ واقعہ یہ ہے کہ مدینہ کے اطراف میں یہودی اور ان کے ساتھ اوس و خزرج کے دو قبیلے بھی آباد تھے۔ قریب قریب رہنے کی وجہ سے ان کی آپس میں بہت دوستی تھی یہ دونوں قبیلے مسلمان ہوگئے مگر پرانے تعلقات کی وجہ سے مسلمانوں نے یہودی قبائل سے دوستی پہلے کی طرح ہی قائم رکھی کیونکہ ان کے دل کینے سے پاک تھے مگر اہل کتاب، یعنی یہود کے دل حسد، بغض اور نفرت سے بھرے ہوئے تھے، اس لیے وہ مسلمانوں کی دوستی سے غلط فائدہ اٹھا رہے تھے۔ مسلمان سادگی میں ان سے کئی راز کی باتیں بھی کہہ جاتے تو وہ…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 110–120

آیات 110- 120 اسرارو معارف کنتم خیرامۃ……………واکثرھم الفسقون۔ تم سب سے اچھی امت ہو کہ آقائے نامدار ﷺ خیرالرسل ہیں اور قرآن کریم سب کتابوں سے اعلیٰ و افضل کتاب ہے۔ تم لوگ جنہیں آپ ﷺ سے نسبت حاصل ہے۔ اور اس کی برکت سے کتاب اللہ کو سمجھنے کی سعادت حاصل ہوئی ہے ایک ایسی سعادت ہے کہ ارشاد ہوا۔ اتممت علیکم نعمتی۔ کہ میں نے اپنی نعمت تم پر تمام کردی۔ تم ہی بہترین لوگ ہو۔ اتمام نعمت ایک ایسی عطا ہے جس کی حدود متعین کرنا انسان کے بس کی بات نہیں ہے اور اس پر مزید یہ کہ نعمت کا حصول بھی بیشک بہت بڑی بات ہے مگر اس کو دوسروں پر تقسیم کرنا اور بےحدوحساب بانٹنا بہت ہی بڑی شے ہے اور تمہیں تو بھیجا ہی اس لئے…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 6 اس آیت میں مسلمانوں کو تعلیم دی ہے دشمنوں کے مکرو فریب اور ان کی چالوں سے محفوظ رہنے کا طریقہ صرف یہ ہے کہ تم صبر و استقلال اور تقوی سے کام لو اگر یہ اصول اپنا لوگے تو وہ تم کو نقصان نہیں پہنچا سکیں گے (مدارک) شاہ صاحب فرماتے ہیں یکہ اکثر منا فق بھی یہودی میں تھے اس واسطے ان کے ذ کر کے ساتھ یہود کا ذکر بھی فرما دیا ابآگے جنگ احد کی باتیں مذکو رہیں کیونکہ اس میں بھی مسلما نوں اپنے نفاق کی باتیں ظاہر کی تھیں (موضح )

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(3:120) تمسسکم (باب ضرب۔ نصر) وہ تم کو چھوئے۔ وہ تم کو پہنچے۔ مضارع واحد مؤنث غائب۔ تسؤھم۔ وہ ان کو بری لگتی ہے۔ وہ ان کو ناخوش کرتی ہے مضارع واحد مؤنث غائب۔ ھم ضمیر جمع مذکر غائب۔ کید۔ مصدر اور اسم مصدر۔ اچھی تدبیر۔ بری تدبیر۔ مکرو فریب۔ چال۔ داؤ۔ محیط۔ اسم فاعل۔ احاطۃ۔ مصدر۔ حوط۔ مادہ۔ ہر طرف سے گھیر لینے والا۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 118–120

لغات القرآن آیت نمبر 118 تا 120 لاتتخذوا (تم نہ بناؤ) بطانة (رازدار) من دونکم (اپنوں کے علاوہ) لایالون (وہ کمی نہ کریں گے) خبال (برائی ، بربادی) ودوا (وہ پسند کرتے ہیں) عنتم (جو تمہیں بھاری ہے، جو کچھ تم پر سختی ہے) بدت (ظاہر ہوگیا، ظاہر ہو پڑتا ہے) البغضاء (منہ (فوہ، منہ) ماتخفی (جو کچھ چھپاتا ہے) اکبر (بہت زیادہ ہے) عضوا (انہوں نے کاٹا (وہ کاٹتے ہیں) الانامل (انگلیاں) الغیظ (غصہ) موتوا (تم مرجاؤ) ذات الصدور (دلوں والا (وہ دلوں کا حال جانتا ہے) ان تمسسکم (اگر تمہیں پہنچے) تسوء (برامعلوم ہوتا ہے برالگتا ہے) سیئة (وہ خوش ہوتے ہیں) لایضرکم (وہ تمہیں نقصان نہ پہنچائیں گے) کید (فریب) ۔ تشریح :…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 118–120

منافقوں اور کافروں سے دوستی نہ کرنے کا حکم شان نزول : ان آیتوں کا حاصل مطلب یہ ہے کہ اے مسلمانو ! تمہارے ساتھ منافقوں کا تو یہ حال ہے کہ منہ پر کچھ، پیٹھ کے پیچھے کچھ ہیں۔ اور یہود کا یہ حال ہے کہ تم ان کی کتاب، ان کے دین کو حق جانتے ہو، اور وہ تم سے جل جل کر اپنی بوٹیاں کاٹ کاٹ کھاتے ہیں۔ اگرچہ یہ فرقے جل کر مر بھی جاویں تو آخر ہوگا وہی جو اللہ کو منظور ہے کہ اسلام بڑھے گا اور یہ دنیا میں خوار ہوں گے۔ لیکن جب یہ دونوں فرقے تم سے دلی بغض رکھتے ہیں جس بغض کا حال اللہ کو خوب معلوم ہے تو آئندہ تم بھی ان سے دوستی خوب ترک کردو۔ اس آیت سے معلوم ہوا کہ کسی غیر اسلام والے شخص کو اس طرح کا دوست بنانا…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 117–120

[43] یہ ان اہل کتاب کا ذکر ہے جو اوپر والے گروہ کے برعکس اپنے کفر پر اڑے رہ گئے۔ یہ لوگ اپنی رسمی دین داری کی نمائش کے لئے جو کچھ بھی خرچ کرتے ہیں ان کے اس خرچ کی تمثیل اس کھیتی کی سی ہے جس پر پالے والی ہوا چل جائے اور وہ اس کو برباد کر کے رکھ دے۔ مطلب یہ ہے کہ کفر و شرک کے ساتھ جو کام نیکی اور دین داری کی نوعیت کے کئے جاتے ہیں وہ سب اکارت جاتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 119–120

(ف 1) قرآن حکیم علیم بذات الصدور خدا کی کتاب ہے ‘ اس لئے ضرور ہے کہ مخالفین کی ایک ایک نفسیت کو بیان کیا جائے اور بتایا جائے کہ مخالف مخالف ہے اور موافق موافق ، تاکہ مسلمان کسی دھوکے میں نہ رہیں ، ان کے نفاق کا علاج بھی بتا دیا فرمایا (آیت) ” وان تصبروا وتتقوا لا یضرکم کیدھم شیئا “ یعنی اگر تم گھبرا نہ جاؤ اور پوری استقامت سے کام لو اور محتاط رہو تو تمہیں کوئی نقصان نہیں ۔ مسلمان کو جس قدر تدبر ‘ استقلال اور احتیاط و اعتدال کی تلقین کی گئی ہے ، وہ اسی قدر بیوقوف کاہل اور غیر معتدل ہے ۔ حالات یہ ہیں کہ مسلمانوں نے یہودیون پر ضرورت سے زیادہ اعتماد کیا ، انہوں نے دھوکا دیا ، منافقین کے ساتھ وفق…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

Explained with ayahs 120–121

ف 1 ہاں ! اے مسلمانو ! سن لو ! تم ایسے ہو کہ تم تو ان کافروں سے اپنی قرابت اور پرانے دوستانے کی وجہ سے محبت کا برتائو کرتے ہو اور وہ تم سے بالکل محبت نہیں کرتے حالانکہ تم تمام کتب سماویہ پر اجمالاً اور تفصیلاً ایمان رکھتے ہو اور وہ تمہاری کتاب پر باوجود اس کے بھی ایمان نہیں رکھتے اور یہ ایسے منافق ہیں کہ جب تم سے ملتے ہیں اور ملاقات کرتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم ایمان لے آئے اور جب تنہا ہوتے ہیں اور تم سے الگ ہوجاتے ہیں تو تم پر غصے اور جلن کے مارے اپنی انگلیاں کاٹے ڈالتے ہیں اور چبا چبا جاتے ہیں آپ فرما دیجئے کہ تم اپنے غصہ میں جل مرو اور مارے غصے کے مر جائو بیشک اللہ تعالیٰ سینوں کی باتوں اور…

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

تمہاری خوشی سے وہ ناخوش ، تمہاری ناخوشی سے وہ خوش ہوں تو تم کو کیا کرنا چاہیے ؟ 229: منافقوں کی خباثت نفس اور کینہ پرور کا بیان ہے کہ وہ مسلمانوں کی تکلیف سے خوش ہوتے ہیں اور ان کی خوشی اور خوشحالی سے رنجدوہ خاطر ہوتے ہیں حسنۃ ہر ایک خوشی کرنے والے امر کو کہتے ہیں جس میں رغبت کی ججا سکے اور اس سے مراد ہر ایک نعمت بھی ہے جو انسان کو اس کے نفس یا بدن یا حالت میں پہنچے اور اس کی ضد سیۃ ہے۔ اس جگہحسنۃ سے مسلمانوں کی اندرونی تنظیم یا کافروں پر ان کا غلبہ اور ان کی فتح مراد ہو سکتی ہے اور سیئۃ سے اندرونی بد نظمی یا ہنگامی اور وقتی شکست بھی مراد ہو سکتی ہے۔ اس طرح کے ارشادت قرآن کریم میں دوسرے مقامت…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

The mentality of disbelievers has been further clarified by saying: إِن تَمْسَسْكُمْ حَسَنَةٌ in the first part of verse 120 which has been translated as, 'if something good happens to you, it annoys them and if something evil befalls you, they are delighted with it.' How can Muslims remain protected against the aftermath of sinister moves of the hypocrites and the deadly hostility of opponents? For this, a simple and effective prescription was suggested in: وَإِن تَصْبِرُ‌وا وَتَتَّقُوا لَا يَضُرُّ‌كُمْ كَيْدُهُمْ شَيْئًا ۗ إِنَّ اللَّـهَ بِمَا يَعْمَلُونَ مُحِيطٌ ﴿120﴾ And if you keep…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 120–121

94. This marks the beginning of the fourth discourse of this surah. It was revealed after the Battle of Uhud and contains comments on it. The previous section ended with the assurance: 'But if you remain steadfast and mindful of Allah their designs will not cause you harm.' (See verse 120 above.) The Muslims did suffer a setback in the Battle of Uhud precisely because of this lack of patience, and because of a few mistakes committed by some of them which were indicative of insufficient piety. This discourse, therefore, is quite appropriate and warns the Muslims against such weaknesses. The…

Read the full tafseer →