Explained with ayahs 121–123
غزوہ احد کی افتاد
یہ احد کے واقعہ کا ذکر ہے بعض مفسرین نے اسے جنگ خندق کا قصہ بھی کہا ہے لیکن ٹھیک یہ ہے کہ واقعہ جنگ احد کا ہے جو سن 3 ہجری 11 شوال بروز ہفتہ پیش آیا تھا، جنگ بدر میں مشرکین کو کامل شکست ہوئی تھی انکے سردار موت کے گھاٹ اترے تھے، اب اس کا بدلہ لینے کیلئے مشرکین نے بڑی بھاری تیاری کی تھی وہ تجارتی مال جو بدر والی لڑائی کے موقعہ پر دوسرے راستے سے بچ کر آگیا تھا وہ سب اس لڑائی کیلئے روک رکھا تھا اور چاروں طرف سے لوگوں کو جمع کرکے تین ہزار کا ایک لشکر جرار تیار کیا اور پورے سازو سامان کے ساتھ مدینہ پر چڑھائی کی، ادھر رسول اللہ ﷺ نے جمعہ کی نماز کے بعد مالک بن عمرو کے جنازے کی نماز…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 120–121
سورة اٰلِ عِمْرٰن 94
یہاں سے چوتھا خطبہ شروع ہوتا ہے۔ یہ جنگ احد کے بعد نازل ہوا ہے اور اس میں جنگ احد پر تبصرہ کیا گیا ہے۔ اوپر کے خطبہ کو ختم کرتے ہوئے آخر میں ارشاد ہوا تھا کہ ”ان کی کوئی تدبیر تمہارے خلاف کارگر نہیں ہو سکتی بشرطیکہ تم صبر سے کام لو اور اللہ سے ڈر کر کام کرتے رہو۔“ اب چونکہ احد کے میدان میں مسلمانوں کی شکست کا سبب ہی یہ ہوا کہ ان کے اندر صبر کی بھی کمی تھی اور ان کے افراد سے بعض ایسی غلطیاں بھی سرزد ہوئی تھیں جو خدا ترسی کے خلاف تھیں، اس لیے یہ خطبہ جس میں انہیں ان کمزوریوں پر متنبہ کیا گیا ہے، مندرجہ بالا فقرے کے بعد ہی متصلاً درج کیا گیا۔
اس خطبے کا انداز بیان یہ ہے کہ…
Read the full tafseer →ربط آیات
گزشتہ آیات میں بیان ہوا تھا کہ اگر مسلمان صبر وتقوی پر قائم رہیں تو کوئی طاقت ان کو ضرر نہیں پہنچا سکتی، اور یہ کہ غزوہ احد کے موقع پر جو عارضی شکست اور تکلیف مسلمانوں کو پہنچی وہ انہی دو چیزوں میں بعض حضرات کی طرف سے کوتاہی کی بناء پر تھی، مذکورہ آیات میں اسی غزوہ احد کا واقعہ بیان کیا گیا ہے، اور غزوہ بدر میں فتح کا۔
خلاصہ تفسیر
اور (وہ وقت بھی یاد کرنے کے قابل ہے) جب کہ آپ صبح کے وقت (تاریخ قتال سے پہلے) اپنے گھر سے (اس غرض سے) نکلے (کہ) مسلمانوں کو (کفار سے) مقاتلہ کرنے کے لئے (مناسب) مقامات پر جمانے (کے لئے آمادہ کر) رہے تھے (پھر اسی تجویز کے مطابق سب کو ان مقامات پر جمادیا)…
Read the full tafseer →’ بَوَّا، یُبَوِّئُ ‘ کے معنی ٹھہرانا، ٹکانا، مقیم کرنا، مامور کرنا۔ مقاعد، مقعد کی جمع ہے جس کے معنی بیٹھنے کی جگہ کے ہیں لیکن وسیع استعمال میں اس کے معنی گھات لگانے کی جگہ کے بھی ہوسکتے ہیں اور قرینہ موجود ہو جیسا کہ یہاں ہے تو اس سے جنگ کا مورچہ بھی مراد ہوسکتا ہے۔
یہ آیت تمہید ہے اس تبصرے کی جو جنگ احد کے واقعات اور ان سے پیدا شدہ اثرات پر آگے آ رہا ہے۔ یہ جنگ چونکہ ابھی تازہ تازہ ہوئی تھی، اس وجہ سے ہر شخص کے سامنے تھی، نام لیے بغیر بھی اس کے واقعات کی طرف اشارہ کردینا کافی تھا۔ لیکن یہ تبصرہ چونکہ بعض ایسے حالات و اثرات پر بھی تھا جن کے بعض گوشے بعض پارٹیوں کی درپردہ سازشوں سے تعلق…
Read the full tafseer →121۔ 1 جمہور مفسرین کے نزدیک اس سے مراد جنگ احد کا واقعہ ہے جو شوال 3 ہجری میں پیش آیا۔ اس کا پس منظر مختصراً یہ ہے کہ جب جنگ بدر 2 ہجری میں کفار کو عبرت ناک شکست ہوئی، ان کے سترّ آدمی مارے گئے اور ستّر قید ہوئے تو کفار کے لئے یہ بدنامی کا باعث اور مرنے کا مقام تھا، چناچہ انہوں نے مسلمانوں کے خلاف ایک زبردست انتقامی جنگ کی تیاری کی جس میں عورتیں بھی شریک ہوئیں۔ ادھر مسلمانوں کو جب اس کا علم ہوا کہ کافر تین ہزار کی تعداد میں احد پہاڑ کے نزدیک خیمہ زن ہوگئے ہیں تو نبی کریم ﷺ نے اندر رہ کر ہی مقابلہ کا مشورہ دیا اور رئیس المنافقین عبد اللہ بن ابی نے بھی اسی رائے کا اظہار کیا۔ لیکن اس کے برعکس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 119–121
40: جنگ احد میں تین ہزار کفار کا ایک لشکر مدینہ منورہ پر حملہ آور ہوا تھا آنحضرت ﷺ ان کے مقابلے کے لئے احد پہاڑ کے دامن میں تشریف لے گئے تھے جہاں یہ جنگ لڑی گئی، آنے والی آیات میں اس کے متعدد واقعات کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔
Read the full tafseer →درس 27 ایک نظر میں
اس سے پہلے اس سورت میں ہم مناظرہ اور مباحثہ کے میدان میں تھے ‘ بیانات اور تبصرے ہورہے تھے ‘ ہدایات اور تنبیہات کا ذکر تھا ‘ لیکن اس دوسرے سبق میں ہم کلام وبیان کے میدان سے نکل کر اب سیف وسنان کے میدان جا اترے ہیں ۔ سیف وسنان کا یہ معرکہ ٔ احد کے نام سے مشہور ہے۔
غزوہ احد صرف میدان جنگ میں ہی نہیں لڑا گیا اس معرکے کا میدان بہت ہی وسیع تھا ‘ یہ انسانی ضمیر اور عقائد کے اندر بھی برپا ہوا تھا ‘ میدان جنگ تو اس کے وسیع کارزار کا ایک چھوٹا سا حصہ تھا ۔ یہ معرکہ نفس انسانی کی گہرائیوں میں ‘ انسان کے تصورات اور اس کے شعور میں ‘ انسانی خواہشات اور اس کے میلانات میں اور اس کے اقدامات…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 121–123
2 اس آیت میں جنگ احد کا واقعہ یاد دلایا ہے۔ صورت یہ ہوئی تھی کہ رمضان المبارک 2 ھجری میں بدر کے مقام پر قریشی فوج اور مسلمان مجاہدین میں مڈ بھیڑ ہوگئی۔ جس میں کفار مکہ کے ستّر نامور اشخاص مارے گئے اور اسی قدر گرفتار ہوئے۔ اس تباہ کن اور ذلت آمیز شکست سے قریش کا شعلہ انتقام بھڑک اٹھا، جو سردار مارے گئے تھے انکے اقارب نے تمام عرب کو غیرت دلائی اور اہل مکہ سے اپیل کی کہ تجارتی قافلہ جو مال شام سے لایا ہے (کہ وہ ہی باعث جنگ بدر کا ہوا تھا) سب اسی مہم کی نذر کردیں تاکہ ہم محمد ﷺ اور ان کے ساتھیوں سے اپنے مقتولین کا بدلہ لے سکیں سب نے منظور کیا اور 3 ھجری میں قریش کے ساتھ بہت سے دوسرے قبائل بھی…
Read the full tafseer →یہاں سے سورة آل عمران کے نصف ثانی کے دوسرے حصے کا آغاز ہو رہا ہے ‘ جو چھ رکوعات پر محیط ہے۔ یہ چھ رکوع مسلسل غزوۂ احد کے حالات و واقعات اور ان پر تبصرے پر مشتمل ہیں۔ غزوۂ احد شوال 3 ھ میں پیش آیا تھا۔ اس سے پہلے رمضان 2 ھ میں غزوۂ بدر پیش آچکا تھا ‘ جس کا تذکرہ ہم سورة الانفال میں پڑھیں گے۔ اس لیے کہ ترتیب مصحف نہ تو ترتیب زمانی کے اعتبار سے ہے اور نہ ہی ترتیب نزولی کے مطابق۔ غزوۂ بدر میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو بہت زبردست فتح دی تھی اور کفار مکہ کو بڑی زک پہنچی تھی۔ ان کے ستر 70 سربرآوردہ لوگ مارے گئے تھے ‘ جن میں قریش کے تقریباً سارے بڑے بڑے سردار بھی شامل تھے۔ اہل مکہ کے سینوں میں…
Read the full tafseer →110 یہاں سے ایک نیا مضمون شروع ہو رہا ہے جو جنگ احد سے متعلق ہے۔ رمضان 2 ھ میں غزوہ بدر میں قریش مکہ کو عبرت ناک شکست ہوئی تھی۔ ابو جہل کی موت کے بعد ابو سفیان نے قریش کی قیادت سنبھالی۔ اس نے جنگ بدر کا بدلہ لینے اور مسلمانوں کا قلع قمع کرنے کے لیے حسب ذیل اقدامات کئے :
1۔ طے ہوا کہ اس تجارتی قافلہ کا سارا منافع جنگ کے اخراجات کے لیے دے دیا جائے جو جنگ بدر سے چند یوم پہلے بچ بچا کر نکل آیا تھا۔ اس سے ایک ہزار اونٹ اور پچاس ہزار دینار کی خطیر رقم جنگی اخراجات کے لیے جمع ہوگئی۔
2۔ رضاکارانہ خدمت کا دروازہ کھول دیا گیا اور تمام اسلام دشمن قبائل کو اس جنگ میں شمولیت کی دعوت دی گئی۔ اس طرح قریش کے…
Read the full tafseer →249 ۔ (دامن جبل احد کی طرف) اب ذکر جنگ احد کا شروع ہورہا ہے۔ احد مدینہ منورہ سے شمال کی جانب ڈھائی تین میل کے فاصلہ پر ایک پہاڑی ہے۔ بدر میں شکست کھائے ہوئے مشرکین مکہ جوش انتقام سے دیوانہ ہورہے تھے۔ ہجرت کا تیسرا سال قریب ختم کے تھا۔ اور واقعہ بدر پر ایک سال گزر چکا تھا، مکہ والوں کی تیاریاں مکمل ہوگئیں۔ اب کی تیاریاں بڑے انتظام واہتمام کے ساتھ اور بہت بڑے پیمانہ پر ہوئی تھیں۔ قریش کی جمعیت 3 ہزار کی تھی، ان میں 700 جوان زرہ پوش تھے، 200 سوار اور باقی شترسوار تھے، قوم اور قبیلہ کے بڑے بڑے سردار سب ساتھ ہوئے، بڑی بات یہ کہ عورتیں بھی شریک جنگ ہوئیں۔ ہاتھوں میں باجے لیے ہوئے، بڑی برجوش نظمیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 119–121
آیت نمبر 121 تا 129
ترجمہ : اور اے محمد ﷺ وہ وقت یاد کرو جب آپ مدینہ سے اپنے اہل کے پاس سے نکلے تھے، مسلمانوں کو قتال کے مناسب مراکز پر کھڑے کرتے ہوئے اور اللہ ان کے اقوال کو بڑا سننے والا اور ان کے احوال کو بڑا جاننے والا ہے اور یہ احد کا دن تھا۔ آپ ﷺ ہزار یا پچاس کم ہزار افراد کے ساتھ نکلے تھے، اور مشرکوں کی تعداد تین ہزار تھی 3 ھ کے ماہ شوال کی ساتویں تاریخ بروز شنبہ گھاٹی میں نزول فرمایا، اور احد پہاڑ کی جانب اپنی اور لشکر کی پشت رکھی، اور آپ ﷺ نے لشکر کی صفوں کو درست فرمایا، اور تیر اندازوں کا ایک دستہ جس پر عبد اللہ بن جبیر کو سالار نام زد فرمایا تھا پہاڑ کی ایک گھاٹی پر متعین فرمایا۔…
Read the full tafseer →و اذ غدوت من اھلک تبوی المومنین مقاعد للقتال اور یاد کرو اس وقت کو جب تم گھر سے نکل کر مسلمانوں کو لڑائی کے لیے ان کے مقامات یعنی میمنۂ میسرہ اور ساقہ میں ٹھیک کرکے بٹھا رہے تھے۔
وا اللہ سمیع علیم اور اللہ ان کے اقوال کو خوب سننے والا اور ان کی نیتوں کو جاننے والا تھا۔
حسن بصری نے فرمایا : یہ واقعہ جنگ بدر اور مقاتل کے نزدیک جنگ احزاب اور باقی اہل تفسیر کے نزدیک جنگ احد کا یہی قول صحیح ہے۔
ابن ابی حاتم اور ابی یعلی نے بیان کیا ہے کہ حضرت مسور بن مخرمہ نے حضرت عبد الرحمن بن عوف سے کہا مجھ سے جنگ احد کا واقعہ بیان فرمائیے۔ حضرت عبد الرحمن نے فرمایا : آل عمران کی ایک سو بیس آیات کے بعد والی آیات…
Read the full tafseer →(121) (اور وہ وقت یاد کرو) کہ غزوہ احد کے دن جب آپ ﷺ مدینہ منورہ سے چلے اور احد پہنچ کر دشمنوں کے مقابلہ کے لیے مومنین کے مقامات جما رہے تھے۔
اللہ تعالیٰ تمہاری باتوں کو سننے والا اور جو تمہیں مورچہ چھوڑنے کی وجہ سے پریشانی ہوئی اس کا جاننے والا ہے۔
شان نزول : (آیت) ”واذ غدوت من اھلک“۔ (الخ)
ابی حاتم ؒ اور ابو یعلی ؒ نے مسعود بن مخرمہ ؓ سے روایت کیا ہے بیان کرتے ہیں کہ میں نے عبدالرحمن بن عوف سے کہا کہ غزوہ احد کے اپنے واقعہ کی مجھے تفصیل بتاؤ۔
انھوں نے فرمایا کہ سورة آل عمران میں ایک سو بیس آیات کے بعد پڑھو ہمارے واقعہ مل جائے گا۔
(آیت) ”واذ غدوت“۔ سے ”طآئفتن منکم ان تفشلا“۔ تک۔ (لباب النقول…
Read the full tafseer →وَاِذْ غَدَوْتَ مِنْ اَھْلِكَ۔۔ : یہاں سے غزوۂ احد کا بیان ہے۔ غزوۂ بدر میں ذلت آمیز شکست، ستر آدمی قتل اور ستر قید ہونے کے بعد مشرکین نے جوش انتقام میں مدینہ پر حملہ آور ہونے کا منصوبہ بنایا اور ارد گرد سے مختلف قبائل کو جمع کر کے تین ہزار کا مسلح لشکر لیا اور جبل احد کے قریب آکر ٹھہر گئے۔ رسول اللہ ﷺ نے صحابہ ؓ سے مشورہ کیا۔ بعض نے مدینہ میں رہ کر لڑنے کا مشورہ دیا، جب کہ بعض پرجوش نوجوانوں نے، جو بدر میں شریک نہیں ہو سکے تھے، میدان میں نکل کر لڑنے پر اصرار کیا۔ آپ ان کی رائے کے مطابق ایک ہزار کی جمعیت لے کر باہر نکلے۔ مقام ”شوط“ پر عبداللہ بن ابی نے مسلمانوں کو دھوکا دیا اور اپنے تین سو…
Read the full tafseer →آیت نمبر : 121 :
قولہ تعالیٰ : (آیت) ” واذ غدوت من اھلک “۔ اذ میں عامل فعل مضمر ہے اور تقدیر کلام ہے : واذکر اذ غدوت “ یعنی وہ آپ یاد کرو (اے محبوب) جب آپ صبح سویرے چلے، (آیت) ” من اھلک ‘ اپنے گھر سے ام المومنین “ حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کے پاس مجاہد، حسن، مقاتل، اور کلبی رحمۃ اللہ علہیم نے کہا ہے : یہ غزوہ خندق کے بارے ہے اور حسن (رح) سے یہ بھی منقول ہے کہ یہ غزوہ بدر کے بارے ہے اور جمہور کا قول یہ ہے کہ یہ غزوہ احد کے بارے ہے۔ (1) (معالم التنزیل جلد 1 صفحہ 539)
اور اسی پر اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد دلالت کرتا ہے :
(آیت) ” اذ ھمت طائفتن منکم ان تفشلا “۔
ترجمہ : جب ارادہ کیا دو جماعتوں نے تم میں سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 119–121
(1) ابن اسحاق و بیہقی نے دلائل میں ابن شہاب اور عاصم بن عمر بن قتادہ اور محمد بن یحییٰ بن حبان اور حصین بن عبد الرحمن ابن سعد معاذ ان تینوں حضرات سے روایت کیا کہ جنگ احد کا دن بلاء اور آزمایش کا دن تھا اللہ تعالیٰ نے اس دن ایمان والوں کا امتحان لیا اور اس کے ذریعہ ان کافرون کو بےآبرو کردیا جا اسلام کو اپنی زبان سے ظاہر کرتے تھے اور کفر کو چھپانے والے تھے اور وہ دن کہ اللہ تعالیٰ نے عزت کی ان لوگوں کو جو عزت کو چھپانے والے تھے اور وہ دن کہ اللہ تعالیٰ نے عزت دی ان لوگوں کو عزت دینے کا ارادہ کیا شہادت کے ساتھ اور یہ واقعہ ان واقعات میں سے تھا کہ جس میں قرآن میں سے احد کے دن کے ساٹھ آیتیں سورة…
Read the full tafseer →[ وَاِذْ : اور جب ] [غَدَوْتَ : آپ ﷺ نکلے صبح کے وقت ] [مِنْ اَہْلِکَ : اپنے گھر والوں سے ] [تُبَـوِّیُٔ : (اور جب) آپ ﷺ ٹھکانہ دیتے تھے ] [الْمُؤْمِنِیْنَ : مؤمنوں کو ] [مَقَاعِدَ : بیٹھنے کی جگہوں میں ] [لِلْقِتَالِ : جنگ کے لیے ] [وَاللّٰہُ : اور اللہ ] [سَمِیْعٌ : سننے والا ہے ] [عَلِیْمٌ: جاننے والا ہے ]
غ د و
غَدَا (ن) غُدُوًّا : صبح سویرے نکلنا ‘ سویرے پہنچنا۔ (آیت زیر مطالعہ)
اُغْدُ (فعل امر) : تو سویرے نکل۔ { اَنِ اغْدُوْا عَلٰی حَرْثِکُمْ } (القلم :22) ” کہ تم لوگ صبح سویرے پہنچو اپنی کھیتی پر۔ “
غَدَاۃٌج غُدُوٌّ : صبح سویرے کا وقت۔ { الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ رَبَّھُمْ بِالْغَدٰوۃِ…
Read the full tafseer →غزوہ احد کا تذکرہ
ان آیات میں غزوہ احد کا تھوڑا سا ذکر ہے۔ پھر آئندہ رکوع میں اور اس کے بعد والے رکوع میں تفصیل سے اس غزوہ کا تذکرہ فرمایا۔ حضرت سرورعالم ﷺ نے مکہ معظمہ میں جب اسلام کی دعوت دی تو مکہ کے مشرکین آپ کے دشمن ہوگئے۔ بڑی بڑی مشکلات سے گزرتے رہے دشواریاں پیش آتی رہیں۔ تیرہ سال تک محنت و مجاہدہ کرتے ہوتے اور مشقت اٹھاتے ہوئے آپ نے اور آپ کے ساتھیوں نے اسلام کی دعوت دی لیکن مکہ معظمہ کے مشرکوں نے آپ کو وطن چھوڑنے پر مجبور کیا اور انصار مدینہ کی دعوت پر آپ مدینہ منورہ تشریف لے آئے یہاں آکر بھی مشرکین مکہ نے پیچھا نہ چھوڑا اور یہود مدینہ نے اندرونی خلفشار اور دشمنی کا سلسلہ جاری رکھا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 121–122
قصہ احد۔
قال اللہ تعالی۔ واذ غدوت من اھلک۔۔۔ الی۔۔۔ المومنون۔ آیت۔
ربط) گزشتہ آیات میں یہ ارشاد فرمایا تھا وان تصبرو وتتقوا لایضرکم کیدھم شیئا۔ آیت۔ کہ اگر تم صبر کرو اور تقوی پر قائم رہو تو دشمنوں کا مکر تم کو ضرر نہ پہنچائے گا اب آئندہ میں قصہ احد کو یاد دلاتے ہیں کہ اس میں تم نے صبر اور تقوی سے کام نہ کیا اس لیے تم کو شکست ہوئی بخلاف بدر کے کہ اس میں تم نے صبر اور تقوی سے کام نہ لیا اس لیے تم کو شکست ہوئی بخلاف بدر کے کہ اس میں تم نے صبر اور تقوی کو اکتیار کیا اس لیے باوجود بےسروسامانی کے تم کو فتح ہوئی یا یوں کہو کہ گزشتہ آیات میں کافروں اور منافقوں کو راز دار بنانے کی ممانعت تھی اب ان…
Read the full tafseer →186 ۔ اب یہاں سے جنگ احد کا ذکر شروع ہوتا ہے۔ والجمہور علی انھا غزوۃ احد (قرطبی ص 184 ج 4) ۔ حضرت شیخ (رح) نے فرمایا اس کا تعلق اِنْ تَصْبِرُوْا الخ سے ہے یعنی اگر تم ہمت و استقلال، صبر و استقامت سے کام لو گے تو کافر تمہیں کوئی نقصان نہیں پہنچا سکیں گے۔ آگے صبر وتقویٰ کے نتائج اور اس کے لیے دو نمونوں کا بیان ہے۔ جنگ بدر میں مشرکین کو مسلمانوں کے ہاتھوں انتہائی ذلت ورسوائی کے ساتھ شکست اٹھانا پڑی۔ ان کے ستر سردار اور جنگجو بہادر قتل ہوگئے اور ستر گرفتار ہو کر مسلمانوں کے قیدی ہوئے مالی نقصان اس کے علاوہ تھا اور ذلت ورسوائی اتنی ہوئی کہ کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہ رہے۔ اب وہ شکست خوردہ مشرکین…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 121–122
ربط آیات : پہلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے اہل کتاب کی دشمنی اور عناد کا تذکرہ کرکے ان کے ساتھ دوستانہ تعلقات استوار کرنے کی ممانعت فرمائی اور یہ بھی بتا دیا کہ جو عناد ان کے دلوں میں پایا جاتا ہے ، وہ بہت زیادہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو یاد دلایا کہ تم تمام آسمانوں کتابوں پر ایمان رکھتے ہو ، مگر اہل کتاب قرآن پاک کو اللہ کا کلام تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں ، فرمایا ان حالات میں تمہاری اہل کتاب کے ساتھ دوستی کی کوئی گنجائش باقی نہیں۔ اگر ان سے قریبی تعلقات قائم کیے گئے تو وہ اہل اسلام کو نقصان پہنچائیں گے۔ تاہم اللہ تعالیٰ نے یہ بھی بتا دیا کہ اے ایمان والو ! اگر تم صبر اور تقوے پر قائم…
Read the full tafseer →وَاِذْ غَدَوْتَ مِنْ اَھْلِكَ تُبَوِّئُ الْمُؤْمِنِيْنَ مَقَاعِدَ لِلْقِتَالِ 0 ۭ وَاللہُ سَمِيْعٌ عَلِيْمٌ 121 ۙ
غدا
الْغُدْوَةُ والغَدَاةُ من أول النهار، وقوبل في القرآن الغُدُوُّ بالآصال، نحو قوله : بِالْغُدُوِّ وَالْآصالِ
[ الأعراف/ 205] ، وقوبل الغَدَاةُ بالعشيّ ، قال : بِالْغَداةِ وَالْعَشِيِ [ الأنعام/ 52] ، غُدُوُّها شَهْرٌ وَرَواحُها شَهْرٌ [ سبأ/ 12]
( غ د و ) الغدوۃ
والغداۃ کے معنی دن کا ابتدائی حصہ کے ہیں قرآن میں غدو ( غدوۃ کی جمع ) کے مقابلہ میں اصال استعمال ہوا ہے چناچہ فرمایا : ۔ بِالْغُدُوِّ وَالْآصالِ [ الأعراف/ 205] صبح وشام ( یا د کرتے رہو ) ( غدو ( مصدر ) رواح کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 121–123
ترکیب : واذ اس کا عامل اذکر محذوف ہے من اھلک میں من ابتداء غایۃ کے لئے تبوی حال ہے یہ مفعول ثانی کی طرف بلاواسطہ حرف جر متعدی ہے اول مفعول اس کا المؤمنین اور ثانی مقاعد ان تفشلا اے بان تفشلا۔
تفسیر : اس جگہ ایک اور بھی وجہ بیان فرماتا ہے کہ اگر تم کو کوئی بھلائی پہنچتی ہے تو وہ ناخوش ہوتے ہیں اور تمہاری تکلیف و مصیبت سے خوش ہوتے ہیں۔ پھر حکم دیتا ہے کہ اگر تم کو کوئی سختی پیش آوے تو خدا سے ڈرو اور صبر کرو۔ ان کا مکر تم کو کچھ نقصان نہ دے گا۔
جنگ احد : اس کے بعد جنگ احد کا وہ قصہ یاد دلاتا ہے جس میں اشارہ ہے کہ دیکھو تم نے اس روز صبر اور تقویٰ نہ کیا تو تم پر مصیبت آئی۔ بہت سے صحابہ شہید…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 121–122
وَاِذْ غَدَوْتَ مِنْ اَہْلِکَ تُبَوِّیُٔ الْمُؤْمِنِیْنَ مَقَاعِدَلِلْقِتَالِ ط وَاللّٰہُ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ۔ لا
اِذْہَمَّتْ طَّـآئِفَتٰنِ مِنْـکُمْ اَنْ تَفْشَلاَ لا وَاللّٰہُ وَلِیُّہُمَا ط وَعَلَی اللّٰہِ فَلْیَتَوَکَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ ۔
(اور اس وقت کو یاد کرو جب اے پیغمبر تم صبح سویرے اپنے گھر سے نکلے، بٹھا رہے تھے مسلمانوں کو جنگ کے مورچوں میں اور اللہ سب کچھ سننے والا جاننے والا ہے۔ جب ارادہ کیا تم میں سے دو جماعتوں نے کہ ہمت ہار دیں حالانکہ اللہ تعالیٰ دونوں کا مددگار تھا اور اللہ ہی پر چاہیے کہ اہل ایمان بھروسہ کریں) (121 تا 122)
غزوہ احد کے واقعات پر تبصرہ
مسلمانوں کی فتح و نصرت کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 120–121
فہم القرآن
ربط کلام : کفار کا مسلمانوں کو نقصان پہنچانا اور اس پر خوش ہونے کی پہلی مثال غزوۂ احد ہے۔ جس کا نقشہ پیش کیا جار رہا ہے۔ بدر میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو عظیم الشان فتح سے نوازا تھا۔
شکست سے بچنے کے لیے نظم و ضبط ‘ حوصلہ اور تقو ٰی نہایت ضروری ہے۔ مسلمانوں نے 2 ہجری 17 رمضان المبارک کے دن بدر کے میدان میں اہل مکہ کو شکست فاش دی تھی۔ جس کا بدلہ لینے کے لیے مکہ والوں نے شوال 3 ہجری میں مدینہ پر یلغار کردی۔ رسول اللہ ﷺ نے دفاعی منصوبہ بندی کے لیے مشاورت کا اہتمام فرمایا جس میں آپ کا نقطۂ نظر یہ تھا کہ مدینہ سے باہر جانے کے بجائے شہر میں رہ کر دفاع کیا جائے۔ عبداللہ بن ابی اور…
Read the full tafseer →121: وَاِذْغَدَوْتَ مِنْ اَھْلِکَ تُبَوِّیُٔ الْمُؤْمِنِیْنَ مَقَاعِدَلِلْقِتَالِ وَاللّٰہُ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ۔ (اور جب تم صبح کے وقت اپنے گھر سے چلے) اے محمد ﷺ تم یاد کرو اس وقت کو جب تم مدینہ میں اپنے اہل سے صبح کے وقت نکلے۔ یہاں مراد آپ کا حجرئہ عائشہ ؓ سے احد کی طرف روا نہ ہونا ہے۔ تُبَوِّیُٔ الْمُؤْمِنِیْنَ (تم مؤمنوں کو ٹھہرا رہے تھے) یہ حال ہے۔ مَقَاعِدَ لِلْقِتَالِ لڑائی کے مواقع پر، مواطن یعنی میمنہ، میسرہ، قلب، جنا حین، ساقہ پر ایمان والوں کو ٹھیک بیٹھا رہے تھے۔ لِلْقِتَالِ یہ تُبَوِّیئُ سے متعلق ہے۔ ای تُبَوِّیُٔ لِلْقِتَالِ ۔ وَاللّٰہُ سَمِیْعٌ۔ (اللہ تعالیٰ تمہارے اقوال کو خوب…
Read the full tafseer →(تفسیر) 121۔:
واذ غدوت ۔۔۔۔۔۔۔ مقاعد للقتال “۔
(مقاعد للقتال کی مختلف تفاسیر)
حسن بصری (رح) کے نزدیک اس سے بدر کا دن مراد ہے ، مقاتل کے ہاں احزاب کا دن مراد ہے ، باقی تمام مفسرین کے نزدیک احد کا دن ہے ، مجاہد (رح) ، کلبی (رح) ، اور واقدی (رح) ، فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ صبح کو حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کے گھر سے آئے اور پیدل چل کر احد تک پہنچے اور لڑائی کے لیے اپنے ساتھیوں کی صف بندی کرنے لگے جیسے تیر سیدھا کیا جاتا ہے ۔
(آپ ﷺ کا غزوہ احد کے لیے نکلنا)
محمد بن اسحاق (رح) ، سدی (رح) ، روایت کیا ہے کہ مشرکین احد کے مقام پر بدھ کے دن اترے ، جب آپ ﷺ کو ان کے نزول کی اطلاع موصول ہوئی آپ ﷺ نے صحابہ کرام رضوان…
Read the full tafseer →جمہور مفسرین کے نزدیک یہ لڑائی احد کی ہے جس کا آیت میں ذکر ہے اور پانچ رکوع تک اللہ نے اس لڑائی کے طرح طرح کے حالتوں کے بیان میں آیتیں نازل فرمائی ہیں اور اس لڑائی میں لشکر اسلام میں سات سو آدمی ہونے کے باوجود بعض مسلمانوں کی بےاحتیاطی سے مسلمانوں کو شکست ہوگئی تھی اور بدر کی لڑائی میں کچھ اوپر میں سو آدمی تھے اور فتح ہوئی تھی۔
غزوہ بدر اور احد کا مختصر بیان
اس لئے مثال کے طور پر اللہ نے اس احد کی لڑائی کے ذکر میں بدر کی لڑائی کا بھی حوالہ دیا ہے یہاں شروع میں بدر اور احد دونوں لڑائیوں کے قصہ کا حاصل بیان کردیا جاتا ہے تاکہ آئندہ کی آیتوں کا مطلب اچھی طرح سمجھ میں آجائے بدر کی لڑائی کے قصہ کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 118–121
آیت 118-120
اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندوں کو اس بات سے منع فرماتا ہے کہ وہ اہل کتاب کے یا دوسرے مذاہب کے منافقوں کو دلی دوست بنائیں، انہیں اپنے راز بتائیں، یا بعض اسلامی ذمہ داریاں ان کے سپرد کردیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ دشمن ہیں جن کے دل بغض و عداوت سے بھرے ہوئے ہیں۔ حتیٰ کہ یہ عداوت ان کی زبان سے بلا ارادہ ظاہر ہوجاتی ہے۔ (وما تخفی صدورھم اکبر) ” اور جو ان کے سینوں میں پوشیدہ ہے، وہ ظاہر ہوجانے والی دشمنی سے بہت زیادہ ہے۔ “ اسی لئے (لایالونکم خبالا) ” وہ تمہاری تباہی میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھتے “ یعنی تمہیں نقصان پہنچانے اور مشکلات پیدا کرنے میں کمی نہیں کرتے۔ وہ ایسے اسباب پیدا کرتے ہیں جس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 119–130
سود کی ہر صورت حرام ہے
قول باری ہے (لاتاکلوا الربواضعا فامضاعفۃ، یہ بڑھتا اور چڑھتا سود کھانا چھوڑ دو ) قول باری (اضعا فاعفۃ) کے دومعنی بیان کیے گئے ہیں اول تاجیل قرض کی ادائیگی کی مدت میں اضافے کے ساتھ سود کو رقم میں اضافہ کرتے جانا اور ہر مدت کے لیے زائد رقم کی قسط مقررکر دینا۔ دوم سودی رقموں کے ذریعے اپنے مال میں کئی گنا اضافہ کرلینایہ اس بات کی دلیل ہے کہ جس چیز کا خصوصیت کے ساتھ ذکرکر دیاجائے، وہ اس پر دلالت نہیں کرتی کہ اس کے ماسواچیزوں کا حکم کے برعکس ہے کیونکہ اگر ایسا ہوتا تو پھر کئی کئی گنابڑھا کر سود خوری کی تحریم اس پر دلالت کرتی کہ اگر کئی کئی گنا اضافے کی صورت نہ ہو تو سود کھانا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 120–122
250 حاسدوں کے حسد کا ایک اور مظہر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اگر تم لوگوں کو کوئی اچھائی نصیب ہو تو ان کو برا لگتا ہے۔ اور اگر تم کو کوئی تکلیف پہنچ جائے تو اس سے یہ خوش ہوتے ہیں۔ سو یہ ان کے حسد و عداوت کا ایک اور ثبوت اور مظہر ہے۔ اور یہاں بھی وہی حقیقت روشن و فروزاں ہے کہ ان کے دلوں کے حال کی خبر دی گئی ہے، کیونکہ خوش ہونے اور برا لگنے کا تعلق اصل میں دل ہی سے ہوتا ہے۔ اور قرآن حکیم کے اس بیان کا وہ لوگ انکار بھی نہیں کرسکے۔ سو یہ ایک اور معجزہ ہے اس کتاب حکیم کا کہ یہ دلوں کے حال اور مخفی اسرار کی اس طرح خبر دیتی ہے۔ پس یہ اس مالک مطلق کا کلام حق ترجمان ہے جو دلوں کے چھپے اسرار کو بھی پوری…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 121–127
غزوہ احد
تشریح۔: گزشتہ آیات میں بیان ہوا تھا کہ اگر مسلمان صبر اور تقوٰی پر مضبوطی سے قائم رہیں تو دنیا کی کوئی طاقت ان کو کسی قسم کا نقصان نہیں پہنچا سکتی۔ غزوہ احد کی معمولی شکست اور تکلیف کا بیان اس لیے کیا گیا ہے کہ اس میں مسلمانوں نے صبر اور تقوٰی میں کمزوری دکھائی تھی اور اسی کمزوری اور کوتاہی کی سزا ان کو فوراً مل گئی۔ اور غزوہ بدر کی جیت کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ شروع میں غزوہ احد کے لیے نبی اکرم ﷺ کا صبح نکلنا، میدان جنگ میں اپنی فوج کو ترتیب دینا، فوج کو مناسب جگہوں پر بٹھانا اور میدان جنگ کا نقشہ درست کرنا یہ سب ذکر کیا گیا ہے۔ صرف جنگ احد کی یاد دہانی کے لیے غزوہ احد شوال 3 ھ کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 121–129
آیات 121- 129
اسرارو معارف
واذ غدوت من اھلک………………فاتقو اللہ لعلکم تشکرون۔
کفار کی اسلام دشمنی اور جوش غضب کا اظہار ان غزوات سے ہوتا ہے جن میں رحمت عالم ﷺ کو بھی شمشیر بکف ہونا پڑا۔ فرمایا کہ وہ وقت بھی یاد کرنے کے لائق ہے جب آپ ﷺ اپنے گھر والوں کے پاس سے نکلے ، اور مسلمانوں کو کفار سے مقابلہ کرنے کے لئے ترتیب سے جما رہے تھے۔
یہاں مفہوم سے آگاہی کے لئے واقعات جنگ سے آگاہ ہونا مناسب معلوم ہوتا ہے۔
یہ غزوہ احد کے واقعات ہیں جو 3 ھ میں وقوع پذیر ہوئی۔ 2 ھ میں مقام بدر پر ذلت آمیز شکست کھانے کے بعد مشرکین مکہ نے یہ عہد کیا کہ جب تک مسلمانوں سے اس کا بدلہ نہ لیا جائے تب تک چین حرام ہے۔ چناچہ شام…
Read the full tafseer →ف 7 اب یہاں سے جنگ احد کا بیان ہے۔ جنگ بدر میں میں ذلت آمیز شکست کے بعد مشرکین نے جوش انتقام میں مدینہ پر حملہ آور ہونے کا منصوبہ بنایا اور اردگر سے مختلف قبائل کو جمع کر کے تین ہزار کا مسلح لشکر لیا اور جبل احد کے قریب آکر ٹھہر گئے آنحضرت ﷺ بھی صحابہ ؓ سے مشورہ کرنے کے بعد ایک ہزار کی جمعیت لے کر باہر نکلے۔ مقام شوط پر عبد اللہ بن ابی نے دھوکا دیا اور اپنے تین سو ساتھیوں کے ساتھ لوٹ آیا اس بعض مسلمانوں کے حوصلے بھی پست ہوگئے جیسا کہ آگے آرہا ہے مگر اللہ تعالیٰ نے ان کے ثا بت قدمی بخشی آنحضرت ﷺ سات سو صحانہ ؓ کی یہ جمعت لے کر آگے بڑھے اور احد کی قریب وادی میں فوج کو آراستہ کیا جس کی طرف قرآن…
Read the full tafseer →(3:121) یہاں سے لے کر سورة کے آخیر تک کلام جنگ احد کے بعد نازل ہوا۔ تبوی دیکھو 3:112 ۔
مقاعد للقتال۔ مقاعد۔ صیغہ جمع منتہی الجموع۔ ظرف مکان ۔ مقعد واحد۔ بیٹھنے کی جگہ ۔ گھات لگانے کے مقامات۔ مورچے
Read the full tafseer →Explained with ayahs 121–129
لغات القرآن آیت نمبر 121 تا 129
غدوت (تو صبح کے وقت نکلا) اھلک (تیرے گھر والے) تبوئ (تو جگہ (مورچوں پر) بٹھارہا تھا) مقاعد للقتال (لڑائی کے ٹھکانے (مورچے) ھمت (ارادہ کیا) طائفتین (دونوں جماعتیں) تفشلا (وہ دونوں بزدلی دکھائیں) ولیھما (اللہ ان دونوں کا دوست ہے) فلیتوکل (پھر بھروسہ کرنا چاہیے) اذلة (کمزرر، خوار) الن یکفیکم (کیا تمہیں کافی نہیں ہوگا) ان یمدکم (یہ کہ تمہاری مدد کی جائے) ثلٰثة اٰلاف (تین ہزار) منزلین (اترنے والے) حمسة اٰلافٍ (پانچ ہزار) مسومین (نشان لگے ہوئے (پلے ہوئے) بشرٰی (خوش خبری) لتطمئن (تاکہ تمہیں اطمینان ہو) یقطع (تاکہ کٹ جائے) یکبت (ذلیل کردیتا ہے) ینقلبوا (وہ پلٹ جائیں)…
Read the full tafseer →جنگ احد وبدر کی لڑائی کا واقعہ
شان نزول : جمہور مفسرین کے نزدیک یہ لڑائی احد کی ہے جس کا ذکر اس آیت میں ہے۔ 2 ھ میں جنگ بدر میں شکست کھانے سے کفار کو بڑا رنج تھا۔ اس لئے انہوں نے بقصد انتقام لشکر گراں مرتب کرکے فوج کشی کی، جب آنحضرت ﷺ کو جب خبر ملی کہ لشکر کفار احد میں اترا ہے تو آپ نے اپنے اصحاب سے مشورہ فرمایا۔ اس مشورہ میں عبداللہ بن ابی منافق بھی ہم صلاح آنحضرت ﷺ کا تھا۔ بدر کی لڑائی کے وقت جب آنحضرت ﷺ مدینہ سے نکلے تو شروع میں لڑائی کا ارادہ نہ تھا۔ اس سبب سے اکثر صحابہ اس لڑائی میں شریک نہ ہو سکے تھے۔ انہوں نے میدان کی لڑائی کی آرزو ظاہر کرکے اس صلح (مشورہ) کے مان لینے سے انکار کیا۔ آخر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 121–123
[44] یہ ذکر جنگ احد کا ہے جو 3 ھ میں مدینہ منورہ سے تین میل دور احد نامی پہاڑی کے پاس مسلمانوں اور مشرکین کے درمیان لڑی گئی۔ کفار کی تعداد تین ہزار تھی جبکہ لشکر اسلام کی جمعیت صرف سات سو تھی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 121–123
غزوہ احد :
(ف 1) غزوہ بدر کے بعد مقام احد پر کفار جمع ہوئے مقصود یہ تھا کہ بدر کا انتقام لیا جائے حضور ﷺ کو اطلاع ملی تو صحابہ ؓ اجمعین سے مشورہ طلب کیا اور عبداللہ بن ابی ابن سلول کو خصوصیت سے بلایا ، اس نے مشورہ دیا کہ آپ مدینہ ہی میں رہ کر مدافعت کریں ، اس لئے کہ ہم جب بھی مدینہ سے باہر رہ کر لڑے ہیں ہمارا نقصان ہوا ہے مقصد یہ تھا کہ مخالف آسانی سے مدینہ پر قبضہ کرلیں ، یہ ایک چال تھی ، دیگر صحابہ ؓ اجمعین نے فرمایا ، ہم چاہتے ہیں کہ میدان میں نکل کر جام شہادت پئیں ، ایسا نہ ہو کہ مخالف ہمیں بزدل سمجھیں ۔ حضور ﷺ نے فرمایا میں نے خواب مین دیکھا ہے کہ گائے ذبح کی جا رہی ہے اس سے میں نیک فال…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 120–121
ف 1 ہاں ! اے مسلمانو ! سن لو ! تم ایسے ہو کہ تم تو ان کافروں سے اپنی قرابت اور پرانے دوستانے کی وجہ سے محبت کا برتائو کرتے ہو اور وہ تم سے بالکل محبت نہیں کرتے حالانکہ تم تمام کتب سماویہ پر اجمالاً اور تفصیلاً ایمان رکھتے ہو اور وہ تمہاری کتاب پر باوجود اس کے بھی ایمان نہیں رکھتے اور یہ ایسے منافق ہیں کہ جب تم سے ملتے ہیں اور ملاقات کرتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم ایمان لے آئے اور جب تنہا ہوتے ہیں اور تم سے الگ ہوجاتے ہیں تو تم پر غصے اور جلن کے مارے اپنی انگلیاں کاٹے ڈالتے ہیں اور چبا چبا جاتے ہیں آپ فرما دیجئے کہ تم اپنے غصہ میں جل مرو اور مارے غصے کے مر جائو بیشک اللہ تعالیٰ سینوں کی باتوں اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 120–121
ف 4۔ یہ قصہ غزوہ احد کا ہے۔
Read the full tafseer →غزوہ احد کا تذکرہ ، پس منظر اور تحریک اسلامی پر اس کے اثرات :
231: اس آیت سے غزوہ کا تذکرہ شروع کیا جا رہا ہے۔ غزوہ بدر کے بعد یہ پہلا بڑا معرکہ ہے۔ بدر میں قریش مکہ اور ان کے حلفیوں کی جو گت بنی تھی وہ کسی سے پوشیدہ نہیں۔ ظاہر ہے کہ اس معرکہ نے مذہبی اور ملکی حالات پر گوناگوں اثرات پیدا کئے اور حقیقت میں یہ اسلام کی ترقی کا قدم اولین تھا۔ قریش کے بڑے بڑے رؤسا جن میں سے ایک ایک اسلام کی ترقی میں سد راہ تھا فنا ہوگئے۔ خصوصاً عتبہ اور ابو جہل کی موت نے قریش کی سیاست کا تاج ابو سفیان کے سر پر رکھ دیا تھا۔ لیکن قریش کے اصلی زور قوت کا معیار بیت ماند پڑگیا تھا۔
مدینہ میں فتح بدرتک عبداللہ اب سلول…
Read the full tafseer →Sequence
In the previous verses, it was said that no power could harm Muslims if they observed patience and fear of Allah (sabr and Taqwa ). Now, the temporary setback faced by Muslims during the battle of Uhud was due to their failure to observe these rules of conduct fully. The present verses remind Muslims of what happened during the battle of Uhud, and also, of their victory at the battle of Badr.
Commentary:
Before we proceed to explain these verses, it is appropriate that we have before us a sequence of events that came to pass at Uhud.
The background of the Battle of Uhud:
It was the…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 120–121
94. This marks the beginning of the fourth discourse of this surah. It was revealed after the Battle of Uhud and contains comments on it. The previous section ended with the assurance: 'But if you remain steadfast and mindful of Allah their designs will not cause you harm.' (See verse 120 above.) The Muslims did suffer a setback in the Battle of Uhud precisely because of this lack of patience, and because of a few mistakes committed by some of them which were indicative of insufficient piety. This discourse, therefore, is quite appropriate and warns the Muslims against such weaknesses.
The…
Read the full tafseer →