Explained with ayahs 121–123
غزوہ احد کی افتاد
یہ احد کے واقعہ کا ذکر ہے بعض مفسرین نے اسے جنگ خندق کا قصہ بھی کہا ہے لیکن ٹھیک یہ ہے کہ واقعہ جنگ احد کا ہے جو سن 3 ہجری 11 شوال بروز ہفتہ پیش آیا تھا، جنگ بدر میں مشرکین کو کامل شکست ہوئی تھی انکے سردار موت کے گھاٹ اترے تھے، اب اس کا بدلہ لینے کیلئے مشرکین نے بڑی بھاری تیاری کی تھی وہ تجارتی مال جو بدر والی لڑائی کے موقعہ پر دوسرے راستے سے بچ کر آگیا تھا وہ سب اس لڑائی کیلئے روک رکھا تھا اور چاروں طرف سے لوگوں کو جمع کرکے تین ہزار کا ایک لشکر جرار تیار کیا اور پورے سازو سامان کے ساتھ مدینہ پر چڑھائی کی، ادھر رسول اللہ ﷺ نے جمعہ کی نماز کے بعد مالک بن عمرو کے جنازے کی نماز…
Read the full tafseer →سورة اٰلِ عِمْرٰن 95
یہ اشارہ ہے بنو سلمہ اور بنو حارثہ کی طرف جن کی ہمتیں عبداللہ بن ابی اور اس کے ساتھیوں کی واپسی کے بعد پست ہوگئی تھیں۔
Read the full tafseer →اس کے بعد دوسری آیت ہے اذ ھمت طائفتن منکم ان تفشلا۔
یعنی جب تم میں سے دو جماعتیں اس کا خیال کر بیٹھیں کہ ہمت ہار دیں، درآنحالیکہ اللہ دونوں کا مددگار تھا ان دونوں جماعتوں سے مراد قبیلہ اوس کے بنی حارثہ اور قبیلہ خزرج کے بنی سلمہ ہیں، ان دونوں جماعتوں نے عبداللہ بن ابی کی مثال دیکھ کر اپنے میں کمزوری اور کم ہمتی محسوس کی لیکن اللہ کے فضل نے دستگیری کی اور اس وسوسہ کو وسوسہ کے درجہ سے آگے نہ بڑھنے دیا اور یہ خیال بھی جو انہیں پیدا ہوا، اپنی قلت تعداد، قلت سامان اور مادی کمزوری کی بناء پر تھا، نہ کہ ضعف ایمان کی بناء پر، مغازی کے مشہور امام مورخ ابن ہشام نے اس کو واضح فرمادیا ہے، اور واللہ…
Read the full tafseer →’ فشل ‘ کے معنی ہمت ہار دینے اور حوصلہ چھوڑ دینے کے ہیں۔ جنگ میں اصل اہمیت حوصلہ وہمت کو حاصل ہے، اسلحہ اور دوسری چیزیں ثانوی حیثیت رکھتی ہیں۔ اس وجہ سے سب سے پہلے بعض جماعتوں کی اس کمزوری پر گرفت فرمائی۔
منافقین کی ایک شرارت : اس آیت میں جن دو گروہوں کی طرف اشارہ ہے، مفسرین کے بیان کے مطابق، وہ قبیلہ خزرج کے بنو سلمہ اور قبیلہ اورس کے بنوحارثہ ہیں۔ ان دونوں گروہوں کے اندر منافقین کی شرارت کی وجہ سے کچھ بزدلی پیدا ہوئی لیکن پھر وہ سنبھل گئے۔ منافقین درحقیت اس جنگ کے لیے نکلنا نہیں چاہتا تھے۔ آنحضرت ﷺ کو ان کی اس کمزوری کا اندازہ تھا۔ چناچہ آپ نے یہ چاہا کہ نکلنے سے پہلے صحیح صورت حال سامنے…
Read the full tafseer →122۔ 1 یہ اوس اور خزرج کے دو قبیلے (بنو حارث اور بنو سلمہ) تھے
122۔ 2 اس سے معلوم ہوا کہ اللہ نے ان کی مدد کی اور ان کی کمزوری کو دور فرما کر ان کی ہمت باندھ دی۔
Read the full tafseer →41: جب آنحضرت ﷺ مقابلے کے لئے مدینہ منورہ سے نکلے تو آپ کے ساتھ ایک ہزار آدمی تھے ؛ لیکن منافقین کا سردار عبداللہ بن ابی راستے میں یہ کہہ کر اپنے تین سو آدمیوں سمیت واپس چلا گیا کہ ہماری رائے یہ تھی کہ دشمن کا مقابلہ شہر کے اندر رہ کر کیا جائے، ہماری رائے کے خلاف آپ باہر نکل آئے ہیں اس لئے ہم جنگ میں شریک نہیں ہوں گے، اس موقع پر سچے مسلمانوں کے دو قبیلے بنو حارثہ اور بنو سلمہ کے دل بھی ڈگمگاگئے اور ان کے دل میں بھی خیال آیا کہ تین ہزار کے مقابلے میں صرف سات سو افراد بہت تھوڑے ہیں اور ایسے میں جنگ لڑنے کے بجائے الگ ہوجانا چاہیے ؛ لیکن پھر اللہ نے مدد فرمائی اور وہ جنگ میں شامل ہوئے اس آیت میں…
Read the full tafseer →یہ دو گروہ کون تھے ؟ صحیحین میں اس بارے میں سفیان بن عیینہ کی حدیث نقل ہے ۔ وہ بنو حارثہ اور بنو سلیم تھے ۔ وہ عبداللہ بن ابی کی دغابازانہ حرکت سے متاثر ہوگئے تھے ‘ اس لئے اس حرکت نے اسلامی صفوں میں پہلے ہی قدم پر اضطراب پیدا کردیا تھا ‘ قریب تھا کہ یہ دو گروہ بزدلی دکھاتے اور کمزور ہوکر بیٹھ جاتے لیکن اللہ کی مدد آپہنچی اور اللہ نے ان کے قدم مضبوط کردئیے ۔ جس طرح اس آیت میں صراحت ہے وَاللَّهُ وَلِيُّهُمَا……………” اور اللہ ان کا مددگار تھا۔ “
حضرت عمر فرماتے ہیں میں نے جابر بن عبداللہ سے سنا ‘ وہ کہتے تھے یہ آیت ہمارے متعلق نازل ہوئی ہے ۔” یاد کرو جب دو گروہ تم سے بزدلی دکھانے پر آمادہ ہوگئے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 121–123
2 اس آیت میں جنگ احد کا واقعہ یاد دلایا ہے۔ صورت یہ ہوئی تھی کہ رمضان المبارک 2 ھجری میں بدر کے مقام پر قریشی فوج اور مسلمان مجاہدین میں مڈ بھیڑ ہوگئی۔ جس میں کفار مکہ کے ستّر نامور اشخاص مارے گئے اور اسی قدر گرفتار ہوئے۔ اس تباہ کن اور ذلت آمیز شکست سے قریش کا شعلہ انتقام بھڑک اٹھا، جو سردار مارے گئے تھے انکے اقارب نے تمام عرب کو غیرت دلائی اور اہل مکہ سے اپیل کی کہ تجارتی قافلہ جو مال شام سے لایا ہے (کہ وہ ہی باعث جنگ بدر کا ہوا تھا) سب اسی مہم کی نذر کردیں تاکہ ہم محمد ﷺ اور ان کے ساتھیوں سے اپنے مقتولین کا بدلہ لے سکیں سب نے منظور کیا اور 3 ھجری میں قریش کے ساتھ بہت سے دوسرے قبائل بھی…
Read the full tafseer →آیت 122 اِذْ ہَمَّتْ طَّآءِفَتٰنِ مِنْکُمْ اَنْ تَفْشَلاَلا
انہوں نے کچھ کمزوری دکھائی ‘ حوصلہ چھوڑنے لگے اور ان کے پاؤں لڑکھڑائے۔
وَاللّٰہُ وَلِیُّہُمَا ط وَعَلَی اللّٰہِ فَلْیَتَوَکَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ r
َجنگ کے آغاز سے پہلے انصار کے دو گھرانوں بنو حارثہ اور بنوسلمہ کے قدم وقتی طور پر ڈگمگا گئے تھے ‘ بربنائے طبع بشری ان کے حوصلے پست ہونے لگے تھے اور انہوں نے واپسی کا ارادہ کرلیا تھا ‘ لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں کو ثبات عطا فرمایا اور ان کے قدموں کو جما دیا۔ پھر ان کا ذکر قرآن میں کردیا گیا۔ اور وہ اس پر فخر کرتے تھے کہ ہم وہ لوگ ہیں جن کا ذکر اللہ تعالیٰ نے قرآن میں مِنْکُمْ اور…
Read the full tafseer →111 جب عبداللہ بن ابی تین سو ساتھیوں سمیت واپس چلا گیا تو انصار کے دو قبیلوں بنو حارثہ اور بنو سلمہ کے دلوں میں کمزوری واقع ہوئی اور کفار کے مقابلہ میں مسلمانوں کی قلیل تعداد دیکھ کر دل چھوڑنے لگے مگر چونکہ سچے مسلمان تھے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں کو مضبوط کردیا چناچہ حضرت جابر بن عبداللہ انصاری ؓ کہتے ہیں کہ یہ آیت کریمہ ہم انصار کے حق میں اتری۔ اگرچہ اس میں ہمارا عیب بیان کیا گیا ہے۔ تاہم ہمیں یہ پسند نہیں کہ یہ آیت نازل نہ ہوتی۔ کیونکہ اس میں (اللہ ولیھما) (اور اللہ دونوں فرقوں کا مددگار تھا) کے الفاظ بھی مذکور ہیں۔ (بخاری، کتاب التفسیر)
Read the full tafseer →251 ۔ (اور جنگ سے الگ ہوبیٹھیں۔ لیکن اس ارادہ پر عمل نہیں کرنے پائیں) (آیت) ” ھمت “۔ ھم “۔ کے معنی میں عربی میں پختہ قصد وعزم کے بھی ہیں اور محض خفیف سے خیال اور شائبہ قصد کے بھی، یہاں مراد یہی آخری معنی ہیں، الھم قد یراد بہ العزم وقد یراد بہ الفکر وقد یراد بہ حدیث النفس (کبیر) والظاھر ان ھذا لھم لم یکن عن عزم بل کان مجرد حدیث نفس ووسوسۃ (روح) (آیت) ” طآئفتن “ ان دو جماعتوں سے مراد قبیلہ اوس کے بنی حارثہ اور قبیلہ خزرج کے بنی سلمہ ہیں۔ الطائفتان بنو سلمۃ من الخزرج وبنو حارثۃ من الاوس (ابن ہشام) ان دونوں دستوں نے عبداللہ بن ابی کی مثال دیکھ آن کی آن کمزوری اور بد ہمتی محسوس کی لیکن اللہ کے فضل…
Read the full tafseer →اِذْھَمَّتْ طَّآئِفَتَانِ مِنْکُمْ أَنْ تَفْشَلَا وَاللہُ وَلِیُّھُمَا وَعَلَی اللہِ فَلْیَتَوَکُّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ اس آیت میں اشارہ بنو سلمہ اور بنو حارثہ کی طرف ہے ان دونوں قبیلوں کا تعلق اوس اور خزرج سے تھا مسلمانوں نے جب دیکھا کہ ایک طرف تین ہزار ہیں اور ہمارے صرف سات سو ہیں اور اسلحہ کے اعتبار سے بھی مسلمان، اہل مکہ کے مقابلہ میں نہتے جیسے تھے تو مسلمانوں کے دل ٹوٹنے لگے تو اس وقت اللہ کے رسول ﷺ نے بذریعہ وحی یہ کلمات ارشاد فرمائے : مومنوں کو اللہ ہی پر بھروسہ کرنا چاہیے آخر اس سے پہلے جنگ بدر میں اللہ تمہاری مدد کرچکا تھا۔ حالانکہ اس وقت تم بہت کمزور تھے لہٰذا تم کو چاہیے کہ اللہ کی…
Read the full tafseer →اذ ھمت طائفتن اس وقت کو یاد کرو جب دو گروہوں یعنی بنی حارثہ اور بنی اسلمہ نے ارادہ کرلیا تھا۔
منکم تم میں سے۔ اس میں عبد اللہ 1 پر طنز ہے کہ وہ اور اس کے ساتھی تم میں سے نہیں تھے اسی لیے ان کی واپسی کا ذکر نہیں کیا۔
ان تفشلا کہ بزدل اور کمز ور ہوجائیں۔
وا اللہ ولیھما اور اللہ دونوں گروہوں کا دوست تھا یا اس خطرہ سے بچا نے والا یا ان کا مددگار اور کار ساز تھا پس کیا سبب تھا کہ وہ بزدل ہور ہے تھے اور اللہ پر اعتماد نہیں کر رہے تھے۔
و علی اللہ فلیتوکل المومنون اور اللہ ہی پر اہل ایمان کو بھروسہ رکھنا چاہئے پس منافقوں کے بھاگنے سے ان کو بزدل نہ ہونا چاہئے تھا۔
حضرت جابر بن عبد اللہ نے فرمایا :…
Read the full tafseer →(122) اسی وقت یہ واقعہ بھی ہوا کہ مسلمانوں میں سے دو جماعتوں بنو سلمہ اور بنو حارث نے اپنے دلوں میں یہ سوچا کہ دشمن تو شکست کھاچکا ہے اس لیے اب ہم بھی احد کے دن (اس مرحلے پر) دشمنوں سے مقابلہ نہ کریں اللہ تعالیٰ اس خیال سے ان دونوں کی حفاظت فرمانے والا تھا (یعنی مجاہدین صحابہ کی ان دونوں جماعتوں نے دشمن کا ڈٹ کا مقابلہ کیا) اور مومنین پر تو یہ چیز لازم ہے کہ فتح ونصرت ہر ایک حالت میں اللہ تعالیٰ ہی پر انحصار کریں۔
شان نزول : (آیت) ”اذ ھمت طآئفتن منکم“۔ (الخ)
بخاری ومسلم نے جابر ؓ سے روایت نقل کی ہے کہ ہمارے قبائل میں سے بنو سلمہ اور بنی حارث کے بارے میں (آیت) ”اذ ھمت طآئفتن منکم“۔ (الخ) یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 122–123
اِذْ ھَمَّتْ طَّاۗىِٕفَتٰنِ۔۔ : ان دو جماعتوں سے مراد انصار کے دو قبیلے بنو سلمہ اور بنو حارثہ ہیں (جو عبداللہ بن ابی کی واپسی دیکھ کر دل شکستہ ہوگئے اور انھوں نے واپس آنے کا ارادہ کرلیا تھا۔) [ بخاری، التفسیر، باب (إذ ھمت الطائفتان۔۔) : 4558 ]
آیت 123 : وانتم اذلۃ : اس لفظ سے مسلمانوں کی قلت تعداد اور ضعف حال کی طرف اشارہ ہے۔ مقام بدر مدینہ سے قریباً بیس میل جنوب مغرب کی طرف واقع ہے۔ غزوۂ بدر بروز جمعہ 27 رمضان المبارک 2 ھ (13 مارچ 624 ء) کو پیش آیا۔ اس آیت میں جنگ احد میں شکست کے اسباب کی طرف اشارہ کرتے ہوئے معرکۂ بدر کے واقعات پر غور و فکر کی دعوت اور آئندہ ثابت قدم رہنے کے لیے تقویٰ کی…
Read the full tafseer →آیت نمبر : 122۔
اذ من عامل تبوی، یا سمیع علیم “ ہے اور دو جماعتوں سے مراد خزرج میں سے بنو سلمہ اور اوس میں سے بنو حارثہ ہیں اور یہ دونوں غزوہ احد میں لشکر کے دو پہلو تھے (3) (معالم التنزیل، جلد 1، صفحہ 541) اور (آیت) ” ان تفشلا “۔ کا معنی ہے کہ وہ بزدلی کا اظہار کریں (اور ہمت ہارویں) بخاری میں حضرت جابر ؓ سے منقول ہے انہوں نے فرمایا ہمارے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی (آیت) ” اذ ھمت طآئفتین منکم ان تفشلاو اللہ ولیھما “۔ فرمایا : ہمارے دو گروہ، بنو حارثہ، اور بنو سلمہ تھے اور پسند نہیں کرتے تھے کہ یہ نازل نہ ہوتی، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا : (آیت) ” واللہ ولیھما “۔ (4) (صحیح بخاری تفسیر…
Read the full tafseer →(1) سعید بن منصور وعبد بن حمید، بخاری، مسلم، ابن جریر، ابن المنذر، ابن ابی حاتم اور بیہقی نے دلائل میں جابر بن عبد اللہ ؓ سے روایت کیا ہے کہ یہ آیت ہمارے بارے میں نازل ہوئی یعنی بنو حارثہ اور بنو سلمہ کے بارے میں (جبکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا) لفظ آیت ” اذ ھمت طائفتن منکم ان تفشلا “ (یعنی جب دو گرہوں نے ارادہ کیا تھا تم میں سے کہ بزدل اور کمزور ہوجائیں) کیونکہ اس میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ اللہ تعالیٰ ان دونوں کا دوست ہے کہ یہ فرمان ہم کو خوش کرتا ہے۔
(2) عبد بن حمید، ابن جریر، ابن المنذر نے مجاہد (رح) سے ” اذ ھمت طائفتن “ کے بارے میں روایت کیا ہے کہ بنو حارثہ احد کی جانب تھے اور بنو سلمہ…
Read the full tafseer →[اِذْ : جب ] [ہَمَّتْ : ارادہ کیا ] [طَّـآئِفَتٰنِ : دو جماعتوں نے ] [مِنْکُمْ : تم میں سے ] [اَنْ : کہ ] [تَفْشَلاَ : وہ دونوں ہمت ہاریں ] [وَ : حالانکہ ] [اللّٰہُ : اللہ ] [وَلِیُّہُمَا : ان کا پشت پناہ تھا ] [وَعَلَی اللّٰہِ : اور اللہ پر ہی ] [فَلْیَتَوَکَّلِ : چاہیے کہ بھروسہ کریں ] [الْمُؤْمِنُوْنَ : ایمان لانے والے ]
Read the full tafseer →غزوہ احد کے موقعہ پر صحابہ کرام ؓ سے مشورہ :
ہجرت کے تیسرے سال غزوۂ احد پیش آیا۔ مشرکین مکہ کو غزوۂ بدر میں چونکہ بہت بڑی شکست ہوئی تھی جس میں تین سو تیرہ نہتے مسلمان دشمن کی تین گنا تعداد پر غالب آئے اور دشمن کے ستر آدمی مقتول ہوئے اور ستر کو قیدی بنا کر مدینہ منورہ لایا گیا اس لیے قریش مکہ کو بدلہ لینے کی بہت بڑی فکر تھی۔ لہٰذا آپس میں خوب زیادہ چندہ کیا اور قریش آپس میں مجتمع ہو کر رسول اللہ ﷺ سے جنگ کرنے کے لیے مکہ معظمہ سے نکلے قریش مکہ اپنے اموال اور فوج اور سپاہ کو لے کر مدینہ منورہ پہنچے تو احد پہاڑ کے قریب پڑاؤ ڈال لیا۔ آنحضرت سرور عالم ﷺ نے حضرات صحابہ سے مشورہ کیا آپ کی رائے یہ تھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 121–122
قصہ احد۔
قال اللہ تعالی۔ واذ غدوت من اھلک۔۔۔ الی۔۔۔ المومنون۔ آیت۔
ربط) گزشتہ آیات میں یہ ارشاد فرمایا تھا وان تصبرو وتتقوا لایضرکم کیدھم شیئا۔ آیت۔ کہ اگر تم صبر کرو اور تقوی پر قائم رہو تو دشمنوں کا مکر تم کو ضرر نہ پہنچائے گا اب آئندہ میں قصہ احد کو یاد دلاتے ہیں کہ اس میں تم نے صبر اور تقوی سے کام نہ کیا اس لیے تم کو شکست ہوئی بخلاف بدر کے کہ اس میں تم نے صبر اور تقوی سے کام نہ لیا اس لیے تم کو شکست ہوئی بخلاف بدر کے کہ اس میں تم نے صبر اور تقوی کو اکتیار کیا اس لیے باوجود بےسروسامانی کے تم کو فتح ہوئی یا یوں کہو کہ گزشتہ آیات میں کافروں اور منافقوں کو راز دار بنانے کی ممانعت تھی اب ان…
Read the full tafseer →187 پہلا نمونہ یہ اِذْ عَدَوْتَ سے بدل ہے۔ اور طائفتان سے انصار کے دو قبیلے مراد ہیں۔ یعنی قبیلہ خزرج کے بنو سلمہ اور قبیلہ اوس کے بنو حارثہ والطائفتان بنو سلمۃ من الخزرج وبنو حارثۃ من الاوس (قرطبی ص 185 ج 4) اور ھَمٌّ پختہ ارادہ اور حدیث نفس یعنی وسوسہ دونوں میں مستعمل ہے۔ لیکن یہاں وسوسہ اور حدیث نفس مراد ہے والظاھر ان ھذا لھم لم یکن عن عزم۔ ب کان مجر حدیث نفس و وسوسۃ (روح ص 43 ج 4) اور فَشْلٌ کے معنی بزدلی اور کم ہمتی دکھانے ہیں۔ ہوا یوں کہ جب عبداللہ بن ابی رئیس المنافقین اپنے تین سو منافق ساتھیوں کو لے کر میدان جنگ سے یہ کہتا ہوا واپس چلا گیا کہ جب ہماری بات نہیں مانی گئی تو ہم کیوں ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 121–122
ربط آیات : پہلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے اہل کتاب کی دشمنی اور عناد کا تذکرہ کرکے ان کے ساتھ دوستانہ تعلقات استوار کرنے کی ممانعت فرمائی اور یہ بھی بتا دیا کہ جو عناد ان کے دلوں میں پایا جاتا ہے ، وہ بہت زیادہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو یاد دلایا کہ تم تمام آسمانوں کتابوں پر ایمان رکھتے ہو ، مگر اہل کتاب قرآن پاک کو اللہ کا کلام تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں ، فرمایا ان حالات میں تمہاری اہل کتاب کے ساتھ دوستی کی کوئی گنجائش باقی نہیں۔ اگر ان سے قریبی تعلقات قائم کیے گئے تو وہ اہل اسلام کو نقصان پہنچائیں گے۔ تاہم اللہ تعالیٰ نے یہ بھی بتا دیا کہ اے ایمان والو ! اگر تم صبر اور تقوے پر قائم…
Read the full tafseer →اِذْ ھَمَّتْ طَّاۗىِٕفَتٰنِ مِنْكُمْ اَنْ تَفْشَلَا 0 ۙ وَاللہُ وَلِيُّہُمَا 0 ۭ وَعَلَي اللہِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ 122
همم
الهَمُّ الحَزَنُ الذي يذيب الإنسان . يقال : هَمَمْتُ الشّحم فَانْهَمَّ ، والهَمُّ : ما هممت به في نفسک، وهو الأصل، وَلَقَدْ هَمَّتْ بِهِ وَهَمَّ بِها[يوسف/ 24]
( ھ م م ) الھم
کے معنی پگھلا دینے والے غم کے ہیں اور یہ ھممت الشحم فا نھم کے محاورہ سے ماخوذ ہے جس کے معنی ہیں میں نے چربی کو پگھلا یا چناچہ وہ پگھل گئی اصل میں ھم کے معنی اس ارادہ کے ہیں جو ابھی دل میں ہو قرآن میں ہے : ۔ وَلَقَدْ هَمَّتْ بِهِ وَهَمَّ بِها[يوسف/ 24] اور اس عورت نے ان کا قصد کیا وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 121–123
ترکیب : واذ اس کا عامل اذکر محذوف ہے من اھلک میں من ابتداء غایۃ کے لئے تبوی حال ہے یہ مفعول ثانی کی طرف بلاواسطہ حرف جر متعدی ہے اول مفعول اس کا المؤمنین اور ثانی مقاعد ان تفشلا اے بان تفشلا۔
تفسیر : اس جگہ ایک اور بھی وجہ بیان فرماتا ہے کہ اگر تم کو کوئی بھلائی پہنچتی ہے تو وہ ناخوش ہوتے ہیں اور تمہاری تکلیف و مصیبت سے خوش ہوتے ہیں۔ پھر حکم دیتا ہے کہ اگر تم کو کوئی سختی پیش آوے تو خدا سے ڈرو اور صبر کرو۔ ان کا مکر تم کو کچھ نقصان نہ دے گا۔
جنگ احد : اس کے بعد جنگ احد کا وہ قصہ یاد دلاتا ہے جس میں اشارہ ہے کہ دیکھو تم نے اس روز صبر اور تقویٰ نہ کیا تو تم پر مصیبت آئی۔ بہت سے صحابہ شہید…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 121–122
وَاِذْ غَدَوْتَ مِنْ اَہْلِکَ تُبَوِّیُٔ الْمُؤْمِنِیْنَ مَقَاعِدَلِلْقِتَالِ ط وَاللّٰہُ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ۔ لا
اِذْہَمَّتْ طَّـآئِفَتٰنِ مِنْـکُمْ اَنْ تَفْشَلاَ لا وَاللّٰہُ وَلِیُّہُمَا ط وَعَلَی اللّٰہِ فَلْیَتَوَکَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ ۔
(اور اس وقت کو یاد کرو جب اے پیغمبر تم صبح سویرے اپنے گھر سے نکلے، بٹھا رہے تھے مسلمانوں کو جنگ کے مورچوں میں اور اللہ سب کچھ سننے والا جاننے والا ہے۔ جب ارادہ کیا تم میں سے دو جماعتوں نے کہ ہمت ہار دیں حالانکہ اللہ تعالیٰ دونوں کا مددگار تھا اور اللہ ہی پر چاہیے کہ اہل ایمان بھروسہ کریں) (121 تا 122)
غزوہ احد کے واقعات پر تبصرہ
مسلمانوں کی فتح و نصرت کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 122–123
فہم القرآن
ربط کلام : احد اور بدر کے حالات کا موازنہ کیا جا رہا ہے۔
اُحد کی شکست کے عوامل اور محرّکات پر تبصرہ کرنے سے پہلے بدر کی کامیابی ‘ اس وقت کے حالات اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے ملائکہ کی شکل میں نصرت و حمایت کا تذکرہ اس لیے کیا جا رہا ہے تاکہ مسلمانوں کا غم ہلکا اور مورال بلند ہو سکے۔ اے مسلمانو ! میدان بدر کی طرف دیکھو جب تم کمزور اور تعداد میں تھوڑے ہونے کی وجہ سے کفار کی نگاہوں میں حقیر اور کمزور سمجھے جارہے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے تمہاری مدد فرمائی تاکہ تم اللہ سے ڈر کر اپنی کمزوریوں کو دور کر کے اس کا شکریہ ادا کرتے رہو۔ واقعہ اس طرح ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ کو معلوم ہوا کہ کفار ایک ہزار…
Read the full tafseer →بنو حارثہ و بنو سلمہ کے ساتھ اللہ کی ولایت :
122: اِذْھَمَّتْ طَّآپفَتٰنِ مِنْکُمْ اَنْ تَفْشَلَا وَاللّٰہُ وَلِیُّھُمَا وَعَلَی اللّٰہِ فَلْیَتَوَکَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ ۔ اِذْھَمَّتْ (جب ارادہ کیا) یہ اذغدوت سے بدل ہے۔ یا علیم کے معنی نے اس میں عمل کیا ہے۔ طَّآ پفَتٰنِ مِنْکُمْ (دو گروہوں نے تم میں سے) اس سے مراد انصار کے دو قبیلے بنو سلمہ جو خزرج کی شاخ تھی اور بنو حارثہ جو اوس کی شاخ تھی مراد ہیں۔ آپ ﷺ احد کی طرف ایک ہزار لڑنے والوں کے ساتھ مدینہ سے روانہ ہوئے تھے۔ جبکہ مشرکین مکہ کی نفری تین ہزار افراد پر مشتمل تھی۔ اور آپ ﷺ نے ان سے جمے رہنے کی صورت میں فتح کا وعدہ فرمایا۔ راستہ میں…
Read the full tafseer →(تفسیر) 122۔:
(آیت)” اذ ھمت طائفتان منکم ان تفشلا “۔ وہ بزدل کمزور اور پیچھے رہنے والے تھے ، طائفتان سے مراد خزرج میں سے بنو سلمہ اور اوس میں سے بنو حارثہ ہیں، یہ جنگ کے دو بازو تھے ، اسی وجہ سے آپ ﷺ احد کی طرف ایک ہزار افراد کا لشکر لے نکلے ، بعض نے کہا کہ نوسو پچاس افراد کا لشکر لے کر نکلے جب وہ مقام شوط پر پہنچے تو عبداللہ بن ابی ایک تہائی لوگوں کو لے واپس لوٹا جس کی تعداد تین سو تھی ، یہ کہتے ہوئے لوٹا کہ ہم کیوں اپنے آپ کو اور اپنی اولاد کو قتل کریں ، ابو جابر سلمی اس کے پیچھے گیا اور کہا میں تم کو تمہارے نبی اور تمہاری جانوں کا واسطہ دے کر کہتا ہوں کہ لوٹ کر نہ جاؤ عبداللہ بن ابی بولا…
Read the full tafseer →صحیحین میں حضرت جابر بن عبد اللہ ؓ سے روایت ہے کہ خزرج قبیلہ کی ایک شاخ بنی سلمہ اور اوس قبیلہ کی شاخ کی شاخ بنی حارثہ کی شان میں یہ آیت نازل فرمائی ہے 1۔ جس وقت عبد اللہ بن ابی منافق نے لوگوں کو بہکا کر میدان جنگ سے مدینہ کی واپسی کی صلاح دی تو بنی سلمہ اور بنی حارثہ نے بھی مدینہ کی واپسی کا دل میں خیال کیا تھا۔ مگر اللہ تعالیٰ مقلب القلوب نے فورا ان کے دلوں کو پھیر دیا اور وہ عبد اللہ بن ابی کے ساتھ مدینہ کو واپس نہیں گئے اسی واسطے فرمایا کہ اللہ ان کا دستدار تھا کہ ان کو اتنے بڑے گناہ سے بچا لیا ورنہ ان کے دل میں اس گناہ کا خیال جم چکا تھا ان دونوں قبیلوں کے لوگ کہا کرتے تھے کہ آخر آیت میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 122–125
آیت 122
یہ آیات واقعہ احد کے بارے میں نازل ہوئیں۔ اس کا قصہ معروف ہے جو سیرت اور تاریخ کی کتابوں میں تفصیل سے بیان ہوا ہے۔ یہاں اسے بیان کرنے اور اس کے درمیان میں بدرکا واقعہ لے آنے میں غالباً یہ حکمت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مومنوں سے وعدہ کیا تھا کہ اگر وہ صبر اور تقویٰ اختیار کریں گے، تو اللہ تعالیٰ ان کی مدد کرے گا اور دشمن کی سازشوں سے انہیں محفوظ فرمائے گا۔ یہ ایک عام حکم اور سچا وعدہ تھا، جس کی شرائط پوری کی جاتیں تو اس کا پورا ہونا ناممکن نہیں تھا۔ ان دو قصوں میں اس کا ایک نمونہ پیش فرما دیا کہ اللہ نے بدر میں مسلمانوں کی مدد اس لئے فرمائی تھی کہ انہوں نے صبر کا یا اور تقویٰ اختیار کیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 119–130
سود کی ہر صورت حرام ہے
قول باری ہے (لاتاکلوا الربواضعا فامضاعفۃ، یہ بڑھتا اور چڑھتا سود کھانا چھوڑ دو ) قول باری (اضعا فاعفۃ) کے دومعنی بیان کیے گئے ہیں اول تاجیل قرض کی ادائیگی کی مدت میں اضافے کے ساتھ سود کو رقم میں اضافہ کرتے جانا اور ہر مدت کے لیے زائد رقم کی قسط مقررکر دینا۔ دوم سودی رقموں کے ذریعے اپنے مال میں کئی گنا اضافہ کرلینایہ اس بات کی دلیل ہے کہ جس چیز کا خصوصیت کے ساتھ ذکرکر دیاجائے، وہ اس پر دلالت نہیں کرتی کہ اس کے ماسواچیزوں کا حکم کے برعکس ہے کیونکہ اگر ایسا ہوتا تو پھر کئی کئی گنابڑھا کر سود خوری کی تحریم اس پر دلالت کرتی کہ اگر کئی کئی گنا اضافے کی صورت نہ ہو تو سود کھانا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 120–122
250 حاسدوں کے حسد کا ایک اور مظہر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اگر تم لوگوں کو کوئی اچھائی نصیب ہو تو ان کو برا لگتا ہے۔ اور اگر تم کو کوئی تکلیف پہنچ جائے تو اس سے یہ خوش ہوتے ہیں۔ سو یہ ان کے حسد و عداوت کا ایک اور ثبوت اور مظہر ہے۔ اور یہاں بھی وہی حقیقت روشن و فروزاں ہے کہ ان کے دلوں کے حال کی خبر دی گئی ہے، کیونکہ خوش ہونے اور برا لگنے کا تعلق اصل میں دل ہی سے ہوتا ہے۔ اور قرآن حکیم کے اس بیان کا وہ لوگ انکار بھی نہیں کرسکے۔ سو یہ ایک اور معجزہ ہے اس کتاب حکیم کا کہ یہ دلوں کے حال اور مخفی اسرار کی اس طرح خبر دیتی ہے۔ پس یہ اس مالک مطلق کا کلام حق ترجمان ہے جو دلوں کے چھپے اسرار کو بھی پوری…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 121–127
غزوہ احد
تشریح۔: گزشتہ آیات میں بیان ہوا تھا کہ اگر مسلمان صبر اور تقوٰی پر مضبوطی سے قائم رہیں تو دنیا کی کوئی طاقت ان کو کسی قسم کا نقصان نہیں پہنچا سکتی۔ غزوہ احد کی معمولی شکست اور تکلیف کا بیان اس لیے کیا گیا ہے کہ اس میں مسلمانوں نے صبر اور تقوٰی میں کمزوری دکھائی تھی اور اسی کمزوری اور کوتاہی کی سزا ان کو فوراً مل گئی۔ اور غزوہ بدر کی جیت کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ شروع میں غزوہ احد کے لیے نبی اکرم ﷺ کا صبح نکلنا، میدان جنگ میں اپنی فوج کو ترتیب دینا، فوج کو مناسب جگہوں پر بٹھانا اور میدان جنگ کا نقشہ درست کرنا یہ سب ذکر کیا گیا ہے۔ صرف جنگ احد کی یاد دہانی کے لیے غزوہ احد شوال 3 ھ کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 121–129
آیات 121- 129
اسرارو معارف
واذ غدوت من اھلک………………فاتقو اللہ لعلکم تشکرون۔
کفار کی اسلام دشمنی اور جوش غضب کا اظہار ان غزوات سے ہوتا ہے جن میں رحمت عالم ﷺ کو بھی شمشیر بکف ہونا پڑا۔ فرمایا کہ وہ وقت بھی یاد کرنے کے لائق ہے جب آپ ﷺ اپنے گھر والوں کے پاس سے نکلے ، اور مسلمانوں کو کفار سے مقابلہ کرنے کے لئے ترتیب سے جما رہے تھے۔
یہاں مفہوم سے آگاہی کے لئے واقعات جنگ سے آگاہ ہونا مناسب معلوم ہوتا ہے۔
یہ غزوہ احد کے واقعات ہیں جو 3 ھ میں وقوع پذیر ہوئی۔ 2 ھ میں مقام بدر پر ذلت آمیز شکست کھانے کے بعد مشرکین مکہ نے یہ عہد کیا کہ جب تک مسلمانوں سے اس کا بدلہ نہ لیا جائے تب تک چین حرام ہے۔ چناچہ شام…
Read the full tafseer →ف 8 ان دو گروہوں سے مراد انصار ؓ کے دو قبیلے۔ بنو سلمہ اور بنو حارثہ۔ ہیں جو عبد اللہ ابن ابی کی جماعت کی واپسی دیکھ کر دل شکشتہ ہوگئے تھے۔ اور نھوں نے واپس آنے کا ارادہ کرلیا تھا۔ (قربطی )
Read the full tafseer →(3:122) ہمت۔ ماضی کا صیغہ واحد مؤنث غائب۔ ہم۔ مصدر۔ ہم یھم (نصر) اس نے ارادہ کیا۔
طائفتان۔ دو گروہ ۔ دو جماعتیں۔ دو فرقے۔ طائفۃ کا تثنیہ ہے۔
جنگ احد کے لئے (7 شوال بروز ہفتہ 3 ھجری کو) جب رسول اکرم ﷺ ایک ہزار مجاھدین کے ہمراہ مدینہ شریف سے نکلے۔ تو رئیس المنافقین عبد اللہ بن ابی ہمراہ تھا لیکن راستہ میں شوط کے مقام پر وہ اپنے تین سو ہمراہیوں کے ساتھ الگ ہوگیا۔ اس کی دیکھا دیکھی قبیلہ اوس کی شاخ بنی حارثہ اور خزرج کی شاخ بنی سلمہ جو نئے نئے اسلام میں داخل ہوئے تھے ان کے دل میں بھی جنگ سے واپسی کا خیال ہوا۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کی دستگیری کی اور اس لغزش کے ارتکاب سے ان کو بچا لیا۔
تفشلا۔ وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 121–129
لغات القرآن آیت نمبر 121 تا 129
غدوت (تو صبح کے وقت نکلا) اھلک (تیرے گھر والے) تبوئ (تو جگہ (مورچوں پر) بٹھارہا تھا) مقاعد للقتال (لڑائی کے ٹھکانے (مورچے) ھمت (ارادہ کیا) طائفتین (دونوں جماعتیں) تفشلا (وہ دونوں بزدلی دکھائیں) ولیھما (اللہ ان دونوں کا دوست ہے) فلیتوکل (پھر بھروسہ کرنا چاہیے) اذلة (کمزرر، خوار) الن یکفیکم (کیا تمہیں کافی نہیں ہوگا) ان یمدکم (یہ کہ تمہاری مدد کی جائے) ثلٰثة اٰلاف (تین ہزار) منزلین (اترنے والے) حمسة اٰلافٍ (پانچ ہزار) مسومین (نشان لگے ہوئے (پلے ہوئے) بشرٰی (خوش خبری) لتطمئن (تاکہ تمہیں اطمینان ہو) یقطع (تاکہ کٹ جائے) یکبت (ذلیل کردیتا ہے) ینقلبوا (وہ پلٹ جائیں)…
Read the full tafseer →دل کے وسوسہ کا ذکر
شان نزول : صحیحین میں حضرت جابر بن عبداللہ ؓ روایت ہے کہ خزرج قبیلہ کی ایک شاخ بنی سلمہ اور اوس قبیلہ کی ایک شاخ بی حارثہ کی شان میں یہ آیت نازل ہوئی ہے۔ جس وقت عبداللہ بن ابی منافق نے لوگوں کو بہکا کر میدان جنگ سے مدینہ کی واپسی کی صلاح دی تو بنی حارثہ نے بھی مدینہ کی واپسی کا دل میں خیال کیا تھا۔ مگر اللہ تعالیٰ نے کرم کیا اور انہیں محفوط رکھا اور وہ حضور ﷺ نے ساتھ ثابت قدم رہے۔ حضرت اسماء ؓ نے آنحضرت ﷺ کو اکثر یا مقلب القلوب کہتے ہوئے سن کر آپ سے پوچھا کہ حضرت کیا بھی پھرجاتا ہے آپ نے فرمایا کہ ہاں ہر آدمی کا دل اللہ تعالیٰ کی قدرت میں ہے، چاہے اسے قائم رکھے یا جس طرف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 121–123
[44] یہ ذکر جنگ احد کا ہے جو 3 ھ میں مدینہ منورہ سے تین میل دور احد نامی پہاڑی کے پاس مسلمانوں اور مشرکین کے درمیان لڑی گئی۔ کفار کی تعداد تین ہزار تھی جبکہ لشکر اسلام کی جمعیت صرف سات سو تھی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 121–123
غزوہ احد :
(ف 1) غزوہ بدر کے بعد مقام احد پر کفار جمع ہوئے مقصود یہ تھا کہ بدر کا انتقام لیا جائے حضور ﷺ کو اطلاع ملی تو صحابہ ؓ اجمعین سے مشورہ طلب کیا اور عبداللہ بن ابی ابن سلول کو خصوصیت سے بلایا ، اس نے مشورہ دیا کہ آپ مدینہ ہی میں رہ کر مدافعت کریں ، اس لئے کہ ہم جب بھی مدینہ سے باہر رہ کر لڑے ہیں ہمارا نقصان ہوا ہے مقصد یہ تھا کہ مخالف آسانی سے مدینہ پر قبضہ کرلیں ، یہ ایک چال تھی ، دیگر صحابہ ؓ اجمعین نے فرمایا ، ہم چاہتے ہیں کہ میدان میں نکل کر جام شہادت پئیں ، ایسا نہ ہو کہ مخالف ہمیں بزدل سمجھیں ۔ حضور ﷺ نے فرمایا میں نے خواب مین دیکھا ہے کہ گائے ذبح کی جا رہی ہے اس سے میں نیک فال…
Read the full tafseer →ف 2 اور اے نبی ! آپ اس واقعہ کو یاد کیجئے جب آپ صبح ہی صبح اپنے اہل خانہ سے باہر نکلے تھے اور مسلمانوں کو کفار سے مقابلہ کرنے کی غرض سے مختلف مقامات پر بٹھا رہے تھے اور مختلف ٹھکانوں پر ان کو جمانے اور بٹھانے کے لئے آمادہ کر رہے تھے اور اللہ تعالیٰ اس وقت کی تمام باتیں سنتا اور تمام حالات کو جانتا تھا اور اس وقت یہ قصہ بھی پیش آیا تھا کہ تم میں سے مسلمانوں کی دو جماعتیں یعنی بنو سلمہ اور بنو حارثہ بزدلی دکھانے اور ہمت ہارنے پر آمادہ ہوگئے تھے اور ان کے دل میں بزدلانہ خیالات پیدا ہو چلے تھے اور وہ عبد اللہ بن ابی کی طرح اپنے گھروں کو لوٹ جانے کا قصہ کر رہے تھے اور اللہ تعالیٰ نے ان دو قبیلوں…
Read the full tafseer →ف 5۔ صحابہ پر خدا تعالیٰ کی کیسی عنایت تھی کہ بیان جرم کے ساتھ ان کو بشارت ولایت خاصہ بھی سنادی جس میں وعدہ معافی مفہوم ہوتا ہے اور جرم بھی کتنا خفیف بتلایا کہ واپسی نہیں صرف کم ہمتی پھر اس کا بھی وقوع نہیں بلکہ خیال پس یا تو صدور اتناہی ہوا ہو یا بعض صادر کو ذکر نہیں فرمایا اور تقدیر اول پر عتاب کی وجہ ان حضرات کا غایت تقرب ہے۔
Read the full tafseer →ہاں ! تم میں سے دو جماعتوں نے ہمت ہارنے کا ارادہ کیا تھا لیکن اللہ نے ان کی ہمت بندھا دی :
232: یہ دو جماعتیں کونسی تھی جن کے دل ڈھیلے پڑگئے تھے اور وہ ہمت ہارے ہی والے تھی کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی ہمت بندھا دی۔ جیسا کہ پیچھے ذکر کیا جا چکا ہے کہ عبد اللہ بن ابی جو غزوہ بدر کے بعد ایمان لایا تھا اور غزوہ احد کے وقت اس نے مدینہ کے اندر رہ کر ہی جنگ کرنے کا ارادہ ظاہر کیا تھا۔ جب رسول اللہ ﷺ نے اپنی رائے کو خود چھوڑ کر دوسرے نوجوانوں کی رائے کو قبول کرلیا اور یقینا مشیت ایز دی سے ایسا ہوا تھا اگر وہ مخلص ہوتا تو وہ بھی نبی کریم ﷺ کی اختیار کردہ راہ کو اختیار کرلیتا لیکن اس نے ایسا نہیں کیا اور…
Read the full tafseer →Next comes verses 122 beginning with the words إِذْ هَمَّت طَّائِفَتَانِ مِنكُمْ أَن تَفْشَلَا (When two of your groups tended to lose heart while Allah was their guardian). These 'two groups' refer to the Bani Harithah of the tribe of Aws and Bani Salamah of the tribe of Khazraj. These 'two groups lost the courage to fight when they saw the hypocrite, ` Abdullah ibn Ubayy and his men breaking away. But, Allah, in his grace, helped them come out of this state of apprehensiveness. Here, the fact was that their weakness was caused by the thought, and certainly not because of any weakness in…
Read the full tafseer →95. This refers to Banu Salamah and Banu Harithah, whose morale had been undermined as a result of the withdrawal of 'Abd Allah b. Ubayy and his followers.
Read the full tafseer →