Explained with ayahs 121–123
غزوہ احد کی افتاد
یہ احد کے واقعہ کا ذکر ہے بعض مفسرین نے اسے جنگ خندق کا قصہ بھی کہا ہے لیکن ٹھیک یہ ہے کہ واقعہ جنگ احد کا ہے جو سن 3 ہجری 11 شوال بروز ہفتہ پیش آیا تھا، جنگ بدر میں مشرکین کو کامل شکست ہوئی تھی انکے سردار موت کے گھاٹ اترے تھے، اب اس کا بدلہ لینے کیلئے مشرکین نے بڑی بھاری تیاری کی تھی وہ تجارتی مال جو بدر والی لڑائی کے موقعہ پر دوسرے راستے سے بچ کر آگیا تھا وہ سب اس لڑائی کیلئے روک رکھا تھا اور چاروں طرف سے لوگوں کو جمع کرکے تین ہزار کا ایک لشکر جرار تیار کیا اور پورے سازو سامان کے ساتھ مدینہ پر چڑھائی کی، ادھر رسول اللہ ﷺ نے جمعہ کی نماز کے بعد مالک بن عمرو کے جنازے کی نماز…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 123–124
سورة اٰلِ عِمْرٰن 96
مسلمانوں نے جب یہ دیکھا کہ ایک طرف دشمن تین ہزار ہیں اور ہمارے ایک ہزار میں سے بھی تین سو الگ ہوگئے ہیں تو ان کے دل ٹوٹنے لگے۔ اس وقت نبی ﷺ نے ان سے یہ الفاظ کہے تھے۔
Read the full tafseer →ارشاد ہے (ولقد نصرکم اللہ ببدر وانتم اذلۃ)
یعنی اس وقت کو یاد کرو جب اللہ تعالیٰ نے بدر میں تمہاری امداد فرمائی، جبکہ تم تعداد میں بھی صرف تین سو تیرہ تھے، اور وہ بھی سب بےسروسامان۔
بدر کی اہمیت اور اس کا محل وقوع
بدر مدینہ کے جنوب مغرب میں کوئی اسی میل کے فاصلہ پر ایک پر اؤ اور منڈی کا نام ہے۔ اس وقت اس کو اس لئے اہمیت حاصل تھی کہ یہاں پانی کی افراط تھی، اور یہ عرب کے ریگستانی میدانوں میں بڑی چیز تھی، توحید اور شرک کے درمیان یہیں سب سے پہلا معرکہ بروز جمعہ 17، رمضان المبارک 2 ھ مطابق 11 مارچ 624 ء کو پیش آیا تھا، یہ غزوہ بظاہر تو ایک مقامی جنگ معلوم ہوتا ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس نے دنیا کی…
Read the full tafseer →ایمان اور توکل کا تقاضا واضح کرنے کے بعد بدر کے واقعہ کی بھی یاد دہانی فرما دی کہ جب تمہاری عددی قلت اور مادی بےسروسامانی کے باوجود ابھی کل خدا نے تمہاری مدد فرمائی اور تمہیں شاندار فتح دی تو اس خدا سے کیوں مایوس ہوتے ہو وہ آج بھی تمہارا حامی و ناصر اور ولی و کارساز ہے۔
’ اذلۃ ‘ کا مفہوم : ’ اذلۃ ‘ ذلیل کی جمع ہے۔ ذلیل عزیز کا مقابل لفظ ہے۔ عزیز کے معنی ہیں غالب، زور آور اور دوسروں کی دسترس سے باہر، ذلیل کے معنی کمزور، ناتوان اور دوسروں کے لیے لقمہ تر کے ہیں۔ اخلاقی رذالت اس لفظ کے بنیادی اجزا میں سے نہیں ہے بلکہ اس کے لوازم بعیدہ میں سے ہے۔ چناچہ یہ لفظ اچھے معنوں میں بھی استعمال ہوتا ہے…
Read the full tafseer →123۔ 1 بہ اعتبار قلت تعداد اور قلت سامان کے، کیونکہ جنگ بدر میں مسلمان 313 تھے اور یہ بھی بےسرو سامان۔ صرف دو گھوڑے اور ستّر اونٹ تھے باقی سب پیدل تھے (ابن کثیر)
Read the full tafseer →42: جنگ بدر میں مسلمانوں کی تعداد کل تین سو تیرہ تھی اور ان کے پاس ستر اونٹ دوگھوڑے اور صرف آٹھ تلواریں تھیں۔
Read the full tafseer →بدر میں مسلمانوں کو جو فتح نصیب ہوئی تھی وہ معجزانہ تھی ‘ جیسا کہ ہم اوپر کہہ آئے ہیں ۔ یہ فتح مادی اسباب کی نایابی کے باوجود حاصل ہوئی تھی ۔ اس وقت مسلمانوں کے پاس معروف مادی اسباب نہ تھے ۔ اس جنگ میں ترازو کے دوپلڑے یعنی مومنین اور مشرکین متوازن نہ تھے ‘ نہ ہی ان کی حالت ایسی تھی کہ وہ توازن کے قریب ہوں ۔ مشرک ایک ہزار کی تعداد میں تھے ‘ اور وہ جنگ کی خاطر بطور عام لام بندی نکلے تھے ‘ اس لئے کہ ان سے ابوسفیان نے مددچاہی تھی ‘ اور ان کا ہدف بھی متعین تھا وہ یہ کہ ابوسفیان کے قافلے کو بچایا جائے اور یہ ہزار آدمی ہر قسم کے ساز و سامان سے لیس تھے ۔ وہ اپنی دولت کے بچاؤ کے لئے نکلے تھے ۔ نیز…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 121–123
2 اس آیت میں جنگ احد کا واقعہ یاد دلایا ہے۔ صورت یہ ہوئی تھی کہ رمضان المبارک 2 ھجری میں بدر کے مقام پر قریشی فوج اور مسلمان مجاہدین میں مڈ بھیڑ ہوگئی۔ جس میں کفار مکہ کے ستّر نامور اشخاص مارے گئے اور اسی قدر گرفتار ہوئے۔ اس تباہ کن اور ذلت آمیز شکست سے قریش کا شعلہ انتقام بھڑک اٹھا، جو سردار مارے گئے تھے انکے اقارب نے تمام عرب کو غیرت دلائی اور اہل مکہ سے اپیل کی کہ تجارتی قافلہ جو مال شام سے لایا ہے (کہ وہ ہی باعث جنگ بدر کا ہوا تھا) سب اسی مہم کی نذر کردیں تاکہ ہم محمد ﷺ اور ان کے ساتھیوں سے اپنے مقتولین کا بدلہ لے سکیں سب نے منظور کیا اور 3 ھجری میں قریش کے ساتھ بہت سے دوسرے قبائل بھی…
Read the full tafseer →آیت 123 وَلَقَدْ نَصَرَکُمُ اللّٰہُ بِبَدْرٍ وَّاَنْتُمْ اَذِلَّۃٌ ج
غزوۂ بدر میں ایک ہزار مشرکین کے مقابلے میں اہل ایمان صرف تین سو تیرہ تھے ‘ جبکہ سب کے پاس تلواریں بھی نہیں تھیں۔ کل آٹھ تلواریں تھیں۔ کفار مکہ ایک سو گھوڑوں کا رسالہ لے کر آئے تھے اور ادھر صرف دو گھوڑے تھے۔ ادھر سات سو اونٹ تھے اور ادھر ستر اونٹ تھے۔ اس سب کے باوجود اللہ نے تمہاری مدد کی تھی اور تمہیں اپنے سے طاقتور دشمن پر غلبہ عطا فرمایا تھا۔
Read the full tafseer →112 قلت تعداد کے سلسلہ میں اللہ تعالیٰ نے بدر کی مثال بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ بدر کے میدان میں تم ہر لحاظ سے کمزور تھے۔ تعداد بھی کم تھی۔ اسلحہ جنگ اور رسد بھی بہت کم تھی تو ان حالات میں جب اللہ تعالیٰ تمہاری مدد کرچکا ہے تو اے کمزوری دکھانے والے اور دل چھوڑنے والے مسلمانو ! اب وہ تمہاری مدد کیوں نہ کرے گا ؟ پس تم صبر سے کام لو اور اللہ سے ڈرتے رہو اور اس بات پر اللہ کا شکر ادا کیا کرو کہ اللہ تعالیٰ ہر آڑے وقت میں مسلمانوں کی نصرت کے لیے غیب سے سامان مہیا کردیتا ہے۔
Read the full tafseer →254 ۔ (یعنی تقوی کی عادت تمہیں شکر گزار بنا دے گی) (آیت) ” بدر “۔ مدینہ کے جنوب ومغرب میں کوئی 20 میل کے فاصلہ پر ایک پڑاؤ اور منڈی کا نام ہے۔ اس وقت اسے اہمیت اس لیے حاصل تھی کہ یہاں پانی کی افراط تھی اور یہ عرب میں ایک بڑی چیز تھی۔ توحید اور شرک کے درمیان یہیں سب سے پہلا قابل ذکر تصادم بروز جمعہ 17 رمضان 2 ہجری ( 1 1، مارچ 624 ء۔ ) کو پیش آیا تھا، اس غزوہ نے گویا اسلام کی اور اس طرح بالواسطہ ساری دنیا کی تاریخ کا رخ ہی پلٹ دیا تھا۔ فرنگی مؤرخین بھی اس کی اہمیت کے پوری طرح قائل ہیں۔ ہسٹورینس ہسٹری آف دی ورلڈ میں ہے :۔ فتوحات اسلامی کے سلسلہ میں جنگ بدر انتہائی اہمیت رکھتی ہے ‘۔ (جلد 8 صفحہ…
Read the full tafseer →وَلَقَدْ نَصَرَکُمُ اللہُ بِبَدْرٍ وَّاآ۔ نْتُمْ اَذِلَّۃٌ (الآیۃ) مسلمان بدر کی جانب محض قریش کے قافلہ پر جو غیر مسلح تھا چھاپہ مارنے نکلا تھا اس لیے کہ قریش مکہ نے یہ طے کیا تھا کہ اس قافلہ کی تجارت سے جو آمدنی ہوگی وہ مسلمانوں کے خلاف جنگ کی تیاری میں صرف کی جائے گی اسی غرض کے پیش نظر اہل مکہ نے اس قافلہ کی تجارت میں زیادہ سے زیادہ سرمایہ لگانے کی کوشش کی تھی، اسی لیے مسلمانوں نے اس قافلہ پر چھاپہ مار کر پورا مال ضبط کرنے کی کوشش کی اور یہ جنگی اصول کے عین مطابق ہے اور موجودہ دور میں بھی یہی سب کچھ ہوتا ہے، بلکہ صرف بہانہ بنا کر لوگوں اور حکومتوں کے غیر جنگی سامان کو، جنگی سامان بتا کر ضبط…
Read the full tafseer →و لقد نصرکم اللہ ببدر مسلمانوں کی تعداد کی قلت اور اسباب کی کمزوری کے باوجود اللہ نے بدر میں مسلمانوں کو فتح عنایت کی تھی اور یہ واقعہ موجب توکل تھا اس لیے یہاں سے واقعہ بدر کی یاد دلائی ہے۔ اکثر کے نزدیک بدر مکہ اور مدینہ کے درمیان ایک مقام کا نام تھا بعض نے کہا ایک کنویں کا نام تھا یہ بھی ایک قول مروی ہے کہ بدر نام کے ایک شخص کا کنواں تھا۔ یہ قول شعبی کا ہے۔
و انتم اذلۃ اذلَّۃٌ کا مفرد ذلیل ہے ذلیل کی جمع ذلائل بھی ہے مگر اذلہ فرمایا ذلائل نہیں فرمایا اس کی وجہ یہ ہے کہ 2 حالات کی کمزوری، سواریوں اور ہتھیاروں کی کمی ظاہر کرنے کے ساتھ بدر میں مسلمانوں کی قلت کا اظہار بھی مقصود ہے۔ مسلمان…
Read the full tafseer →(123) اور بدر میں بھی جب کہ تمہاری تعداد صرف تین سو تیرہ (یا کم وبیش) تھی تمہاری مدد کی لہٰذا لڑائی میں بھی اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور اس ذات کی مخالفت نہ کرو جو تمہارے ساتھ ہے تاکہ تم اللہ تعالیٰ کی نصرت اور اس کے انعام پر شکر کرسکو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 122–123
اِذْ ھَمَّتْ طَّاۗىِٕفَتٰنِ۔۔ : ان دو جماعتوں سے مراد انصار کے دو قبیلے بنو سلمہ اور بنو حارثہ ہیں (جو عبداللہ بن ابی کی واپسی دیکھ کر دل شکستہ ہوگئے اور انھوں نے واپس آنے کا ارادہ کرلیا تھا۔) [ بخاری، التفسیر، باب (إذ ھمت الطائفتان۔۔) : 4558 ]
آیت 123 : وانتم اذلۃ : اس لفظ سے مسلمانوں کی قلت تعداد اور ضعف حال کی طرف اشارہ ہے۔ مقام بدر مدینہ سے قریباً بیس میل جنوب مغرب کی طرف واقع ہے۔ غزوۂ بدر بروز جمعہ 27 رمضان المبارک 2 ھ (13 مارچ 624 ء) کو پیش آیا۔ اس آیت میں جنگ احد میں شکست کے اسباب کی طرف اشارہ کرتے ہوئے معرکۂ بدر کے واقعات پر غور و فکر کی دعوت اور آئندہ ثابت قدم رہنے کے لیے تقویٰ کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 123–125
آیت نمبر : 123 تا 125۔
اس میں چھ مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر : (1) قولہ تعالیٰ : (آیت) ” ولقد نصرکم اللہ ببدر “۔ غزوہ بدر سترہ رمضان المبارک، بروز جمعہ ہجرت کے اٹھارہویں ماہ واقع ہوا، اور بدر، وہاں پانی کا ایک کنواں ہے اسی سبب سے اس جگہ کا نام بدر ہے اور شعبی نے کہا ہے : وہ پانی قبیلہ جہینہ کے ایک آدمی کا تھا اس کا نام بدر تھا (1) (معالم التنزیل، جلد 1، صفحہ 542) اور اس وجہ سے اس جگہ کا نام بدر رکھا گیا، پہلا معنی زیادہ اور عام ہے۔ واقدی وغیرہ نے کہا ہے : بدر غیر منقول جگہ کا نام ہے اس کا ذکر عنقریب واقعہ بدر کے ضمن میں سورة الانفال میں آئے گا، انشاء اللہ تعالیٰ “۔ اور اذلۃ “ کا معنی ہے بہت کم…
Read the full tafseer →(1) احمد ابن حبان نے عیاض اشعری (رح) سے روایت کیا ہے کہ میں یرموک (کی جنگ) میں حاضر تھا اور ہم پانچ امراء تھے ابو عبیدہ، یزید بن ابی سفیان۔ ابن حسنۃ، خالد بن ولید اور عیاض روایت کرنے والا یہ امیر نہیں تھا اور حضرت عمر ؓ نے فرمایا جب قتال (شروع) ہو تو ابوعبیدہ تم پر (امیر) ہوں گے ہم نے ان کی طرف لکھا کہ موت ہمارے قریب آچکی ہے اور ہم نے ان سے مدد مانگی انہوں نے ہم کو لکھا کہ مجھے تمہارا خط پہنچا ہے کہ تم نے مجھ سے مدد طلب کی ہے اور میں تم کو ایسی ذات کی طرف دلالت کرتا ہوں جو بہتر مدد کرسکتا ہے اور اس کے لشکر بھی بہت زیادہ ہیں اور وہ ذات اللہ تعالیٰ کی ہے پس اسی سے مدد مانگو بلاشبہ محمد ﷺ بدر کے…
Read the full tafseer →[وَلَقَدْ نَصَرَکُمُ : اور مدد کرچکا ہے تمہاری ] [اللّٰہُ : اللہ ] [بِبَدْرٍ : بدر میں ] [وَّ : حالانکہ ] [اَنْتُمْ : تم لوگ ] [اَذِلَّــۃٌ : نرم (چارہ) تھے ] [فَاتَّـقُوا : پس تم لوگ تقویٰ اختیار کرو ] [اللّٰہَ : اللہ کا ] [لَـعَلَّـکُمْ : شاید کہ تم لوگ ] [تَشْکُرُوْنَ : شکر ادا کرو ]
Read the full tafseer →غزوہ بدر کی فتح یابی کا تذکرہ
ابھی غزوہ احد کا واقعہ مکمل نہیں ہوا، انشاء اللہ آگے مزید اس کا بیان ہوگا۔ اللہ جل شانہٗ نے غزوہ احد کا تھوڑا سا واقعہ بیان فرما کر غروہ بدر کا تذکرہ فرمایا۔ غزوۂ بدر میں مسلمانوں کو خوب زیادہ بڑھ چڑھ کر فتح حاصل ہوئی اور اللہ جل شانہٗ نے مسلمانوں کی خوب مدد فرمائی تھی یہاں اس مدد کا تذکرہ ہے۔ غزوۂ بدر والی مدد احد کی حالیہ شکست کے مقابلہ میں سامنے رکھی جائے تو وہی زیادہ معلوم ہوتی کیونکہ بدر میں ستر کافر قتل ہوئے اور ستر کافروں کو قید کرکے مدینہ منورہ لے آئے۔ اور غزوہ احد میں ستر صحابہ شہید ہوئے تھے لہٰذا اس فتح کے سامنے یہ شکست آدھی رہ جاتی ہے اس طرح سے غزوہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 123–127
تذکیر بقصہ بدر۔
برائے اظہار تاثیر توکل وتقوی وصبر۔
قال اللہ تعالیٰ ولقد نصرکم اللہ ببدر۔۔۔۔۔۔ الی۔۔۔۔۔ خائبین۔
اب قصہ احد کے بعد کچھ قصہ بدر کا ذکر کرتے ہیں اس غزوہ میں جو بےمثال فتح ونصرت ظہور میں آئی وہ ظاہر اسباب میں توکل اور تقوی اور صبر کی برکت تھی چناچہ فرماتے ہیں اور البتہ تحقیق مدد کی تمہاری اللہ نے جنگ بدر میں حالانکہ تم اس وقت بےسروسامان تھے اور دشمنوں کی نظروں میں ذلیل اور خوار تھے اور ظاہر اسباب میں دشمنوں کے مقابلہ میں تمہارا ٹھہرنا اور ان پر فتحیاب ہوناناممکن تھا مگر چونکہ اس بےسروسامانی میں تمہاری نظر اللہ پر تھی اس لیے اللہ نے تم کو عزت و رفعت دی۔
ہر کجا پستی اسب آب آنجارود ہر…
Read the full tafseer →18 حضرت شیخ فرماتے ہیں کہ یہ اِنْ تَصبِرُوْ وتتقوْ کا دوسرا نمونہ ہے۔ یعنی صبر وتقوی اختیار کرنے کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے تائید غیبی اور نصرت آسمانی کے سامان بہم پہنچ جاتے ہیں۔ چناچہ جنگ بدر کے موقع پر ایسا ہی ہوا تم تعداد میں بہت قلیل تھے اور سامان جنگ بھی بالکل معمولی تھا۔ اذلۃ ذلیل کی جمع ہے۔ جس کے معنی حقیر اور پست کے ہیں۔ یعنی تعداد اور سامان کی قلت کے باعثھی ماکانوا علیہ من الضعف وقلۃ السلاح والمال والمرکوب (بحر ص 47 ج 3) ای بقلۃ العدد والسلاح (جامع البیان ص 59) چناچہ مسلمانوں کی کل تعداد 313 تھی اور پوری فوج کے پاس سواری کے لیے صرف دو گھوڑے اور ستر اونٹ تھے اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 123–125
ربط آیات :
گذشتہ آیت میں غزوہ احد کا ذکر تھا اور آمدہ آیات بھی احد ہی سے متعلق ہیں ، تاہم درمیان میں اللہ تعالیٰ نے غزوہ بدر کا بطور مثال ذکر فرمایا ہے کہ دیکھو ! بدر کے موقع پر تم بےسروسامانی کی حالت میں تھے ، افرادی قوت بھی کم تھی ، رسد بھی بالکل قبیل تھی۔ مگر تمہارے صبر اور تقویٰ کے درجہ کمال کی وجہ سے بھی کم تھی ، رسد بھی بالکل قلیل تھی۔ مگر تمہارے صبر اور تقویٰ کے درجہ کمال کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے تمہیں طاقتور دشمن پر عظیم فتح نصیب فرمائی ، اور اب احد کے موقع پر تمہاری پوزیشن بہت بہتر تھی۔ مگر صبر اور تقوی کی کمی اور بعض غلطیوں کی وجہ سے شکست کا سامنا کرنا پڑا ، اس میں مسلمانوں کی…
Read the full tafseer →وَلَقَدْ نَصَرَكُمُ اللہُ بِبَدْرٍ وَّاَنْتُمْ اَذِلَّــۃٌ 0 ۚ فَاتَّقُوا اللہَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ 123
( قَدْ )
: حرف يختصّ بالفعل، والنّحويّون يقولون : هو للتّوقّع . وحقیقته أنه إذا دخل علی فعل ماض فإنما يدخل علی كلّ فعل متجدّد، نحو قوله : قَدْ مَنَّ اللَّهُ عَلَيْنا [يوسف/ 90]
وإذا دخل ( قَدْ ) علی المستقبَل من الفعل فذلک الفعل يكون في حالة دون حالة .
نحو : قَدْ يَعْلَمُ اللَّهُ الَّذِينَ يَتَسَلَّلُونَ مِنْكُمْ لِواذاً [ النور/ 63] ، أي : قد يتسلّلون أحيانا فيما علم اللہ .
و ( قَدْ ) و ( قط) يکونان اسما للفعل بمعنی حسب، يقال : قَدْنِي كذا، وقطني كذا، وحكي : قَدِي . وحكى الفرّاء :…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 121–123
ترکیب : واذ اس کا عامل اذکر محذوف ہے من اھلک میں من ابتداء غایۃ کے لئے تبوی حال ہے یہ مفعول ثانی کی طرف بلاواسطہ حرف جر متعدی ہے اول مفعول اس کا المؤمنین اور ثانی مقاعد ان تفشلا اے بان تفشلا۔
تفسیر : اس جگہ ایک اور بھی وجہ بیان فرماتا ہے کہ اگر تم کو کوئی بھلائی پہنچتی ہے تو وہ ناخوش ہوتے ہیں اور تمہاری تکلیف و مصیبت سے خوش ہوتے ہیں۔ پھر حکم دیتا ہے کہ اگر تم کو کوئی سختی پیش آوے تو خدا سے ڈرو اور صبر کرو۔ ان کا مکر تم کو کچھ نقصان نہ دے گا۔
جنگ احد : اس کے بعد جنگ احد کا وہ قصہ یاد دلاتا ہے جس میں اشارہ ہے کہ دیکھو تم نے اس روز صبر اور تقویٰ نہ کیا تو تم پر مصیبت آئی۔ بہت سے صحابہ شہید…
Read the full tafseer →وَلَقَدْ نَصَرَکُمُ اللّٰہُ بِبَدْرٍوَّاَنْتُمْ اَذِلَّـۃٌ ج فَاتَّقُوا اللّٰہَ لَعَلَّـکُمْ تَشْکُرُوْنَ ۔
(اور اللہ نے تمہاری مدد بدر میں بھی کی جب کہ تم نہایت کمزور تھے۔ پس اللہ سے ڈرتے رہو تاکہ اس کے شکر گزار رہ سکو) (123)
غزوہ بدر سے استدلال
گزشتہ آیت کریمہ میں آخر میں فرمایا کہ صاحب ایمان لوگوں کو اللہ پر بھروسہ کرنا چاہیے اور اس بھروسے کے نتیجے میں کیا ملتا ہے ؟ اور کیسے کچھ انعامات اللہ کی جانب سے اترتے ہیں ؟ اس کے لیے جنگ بدر کا حوالہ دیا اور ساتھ ہی اَذِلَّـۃٌ کا لفظ بول کر اس وقت مسلمانوں کی جو حالت تھی وہ بھی مسلمانوں کے سامنے رکھ دی۔ اَذِلَّـۃٌ ذلیل کی بھی جمع ہے اور ذلول کی بھی۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 122–123
فہم القرآن
ربط کلام : احد اور بدر کے حالات کا موازنہ کیا جا رہا ہے۔
اُحد کی شکست کے عوامل اور محرّکات پر تبصرہ کرنے سے پہلے بدر کی کامیابی ‘ اس وقت کے حالات اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے ملائکہ کی شکل میں نصرت و حمایت کا تذکرہ اس لیے کیا جا رہا ہے تاکہ مسلمانوں کا غم ہلکا اور مورال بلند ہو سکے۔ اے مسلمانو ! میدان بدر کی طرف دیکھو جب تم کمزور اور تعداد میں تھوڑے ہونے کی وجہ سے کفار کی نگاہوں میں حقیر اور کمزور سمجھے جارہے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے تمہاری مدد فرمائی تاکہ تم اللہ سے ڈر کر اپنی کمزوریوں کو دور کر کے اس کا شکریہ ادا کرتے رہو۔ واقعہ اس طرح ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ کو معلوم ہوا کہ کفار ایک ہزار…
Read the full tafseer →123: وَلَقَدْ نَصَرَکُمُ اللّٰہُ بِبَدْرٍ وَّ اَنْتُمْ اَذِلَّۃٌ فَاتَّقُوا اللّٰہَ لَعَلَّکُمْ تَشْکُرُوْنَ ۔ اس میں بدر کا واقعہ یاد دلایا جو موجب توکل تھا۔ اس لیے کہ اس میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو فتح عنایت فرمائی جب کہ وہ کمزور بھی تھے اور تعداد میں بھی کم تھے۔
بدر کی یاددھانی :
وَلَقَدْ نَصَرَکُمُ اللّٰہُ بِبَدْرٍ (البتہ تحقیق تمہاری اللہ بدر میں مدد فرما چکا) بدر ؔ۔ یہ مکہ و مدینہ کے درمیان ایک کنواں ہے۔ جس کو بدر نامی آدمی نے کھدوایا تھا۔ یا احد کے بعد بدر کا ذکر کیا تاکہ صبر و شکر جمع ہوجائیں۔
قلت کی کیفیت :
وَّ اَنْتُمْ اَذِلَّۃٌ (اور تم تعداد میں کم تھے) مسلمانوں کی تعداد تین سو…
Read the full tafseer →(ببدر کی تفسیر اور مختلف اقوال)
123۔ (آیت)” ولقد نصرکم اللہ ببدر “۔ بدر یہ مکہ اور مدینہ کے درمیان جگہ کا نام ہے ، یہی اکثر مفسرین کے نزدیک ہے ، بعض نے کہا یہ یہ ایک کنویں کا نام ہے ، بعض نے کہا کہ بدر نام کے ایک شخص کا کنواں ہے ، اس آیت کو ذکر کرنے کا مقصد یہ ہے کہ اللہ نے ان پر نصرت کرکے احسان کیا جبکہ (آیت)” وانتم اذلۃ “ جمع ہے ذلیل کی ، قلت عدد کو ذکر کیا کیونکہ صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین اس جنگ میں تین سو تیرہ تھے ، اللہ تعالیٰ نے ان کی قلت تعداد کے باوجود بھی ان کی مدد فرمائی (آیت)” فاتقوا اللہ لعلکم تشکرون “۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 123–127
(123 ۔ 127) ۔ احد کی لڑائی میں مسلمانوں کو شکست ہو کر ایک بڑی پریشانی مسلمانوں میں پھیل گئی تھی۔ اس واسطے اللہ تعالیٰ نے احد کی لڑائی کے ذکر میں دو جگہ بدر کا ذکر فرمایا ہے۔ ایک اس آیت میں اور دوسرے آئندہ کی آیت میں اس طرح کہ اگر اس احد کی لڑائی میں تمہارے ستر آدمی شہید ہوگئے تو تم بھی تو بدر کی لڑائی میں کافروں کے ستر آدمی مارچکے ہو۔ اور ستر کو قید کرچکے ہو یہ ایک لڑائی کے ذکر میں دوسری لڑائی کا ذکر اسی واسطے فرما دیا ہے کہ اس فتح کی لڑائی کو یاد کر کے اس شکست کی لڑائی کا زیادہ افسوس مسلمانوں کو نہ رہے یہ فرشتوں کی مدد کا ذکر جو اس آیت میں ہے اس میں مفسروں کا اختلاف ہے بعض کہتے ہیں کہ بدر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 122–125
آیت 122
یہ آیات واقعہ احد کے بارے میں نازل ہوئیں۔ اس کا قصہ معروف ہے جو سیرت اور تاریخ کی کتابوں میں تفصیل سے بیان ہوا ہے۔ یہاں اسے بیان کرنے اور اس کے درمیان میں بدرکا واقعہ لے آنے میں غالباً یہ حکمت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مومنوں سے وعدہ کیا تھا کہ اگر وہ صبر اور تقویٰ اختیار کریں گے، تو اللہ تعالیٰ ان کی مدد کرے گا اور دشمن کی سازشوں سے انہیں محفوظ فرمائے گا۔ یہ ایک عام حکم اور سچا وعدہ تھا، جس کی شرائط پوری کی جاتیں تو اس کا پورا ہونا ناممکن نہیں تھا۔ ان دو قصوں میں اس کا ایک نمونہ پیش فرما دیا کہ اللہ نے بدر میں مسلمانوں کی مدد اس لئے فرمائی تھی کہ انہوں نے صبر کا یا اور تقویٰ اختیار کیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 119–130
سود کی ہر صورت حرام ہے
قول باری ہے (لاتاکلوا الربواضعا فامضاعفۃ، یہ بڑھتا اور چڑھتا سود کھانا چھوڑ دو ) قول باری (اضعا فاعفۃ) کے دومعنی بیان کیے گئے ہیں اول تاجیل قرض کی ادائیگی کی مدت میں اضافے کے ساتھ سود کو رقم میں اضافہ کرتے جانا اور ہر مدت کے لیے زائد رقم کی قسط مقررکر دینا۔ دوم سودی رقموں کے ذریعے اپنے مال میں کئی گنا اضافہ کرلینایہ اس بات کی دلیل ہے کہ جس چیز کا خصوصیت کے ساتھ ذکرکر دیاجائے، وہ اس پر دلالت نہیں کرتی کہ اس کے ماسواچیزوں کا حکم کے برعکس ہے کیونکہ اگر ایسا ہوتا تو پھر کئی کئی گنابڑھا کر سود خوری کی تحریم اس پر دلالت کرتی کہ اگر کئی کئی گنا اضافے کی صورت نہ ہو تو سود کھانا…
Read the full tafseer →257 لفظ " اَذِلَّۃٌ " کا معنیٰ و مفہوم اور ایک بڑی غلط فہمی کا ازالہ : " اَذِلَّۃٌ " ذلیل کی جمع ہے، جس کے اصل معنی کمزور و ناتواں کے ہیں، اور ذلیل کا لفظ اپنے اصل مفہوم اور لغوی معنی کے اعتبار سے اس معنی کیلئے موضوع نہیں جس کے لئے یہ ہمارے محاورے اور معاشرے میں استعمال کیا جاتا ہے۔ لہٰذا اہل بدعت نے حضرت شاہ اسماعیل شہید (رح) کے خلاف ایک موقع پر اس لفظ یعنی " اَذِلَۃ " کے استعمال کی بناء پر جو الزامات کا ایک طوفان بپا کیا ہے، وہ خود ان لوگوں کی اپنی جہالت اور لغت سے بیخبر ی کی دلیل ہے۔ ورنہ ان معترضین سے کوئی پوچھے کہ کیا تم لوگ یہاں پر یعنی اس آیت کریمہ میں استعمال ہونے والے اس لفظ کے وہی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 121–127
غزوہ احد
تشریح۔: گزشتہ آیات میں بیان ہوا تھا کہ اگر مسلمان صبر اور تقوٰی پر مضبوطی سے قائم رہیں تو دنیا کی کوئی طاقت ان کو کسی قسم کا نقصان نہیں پہنچا سکتی۔ غزوہ احد کی معمولی شکست اور تکلیف کا بیان اس لیے کیا گیا ہے کہ اس میں مسلمانوں نے صبر اور تقوٰی میں کمزوری دکھائی تھی اور اسی کمزوری اور کوتاہی کی سزا ان کو فوراً مل گئی۔ اور غزوہ بدر کی جیت کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ شروع میں غزوہ احد کے لیے نبی اکرم ﷺ کا صبح نکلنا، میدان جنگ میں اپنی فوج کو ترتیب دینا، فوج کو مناسب جگہوں پر بٹھانا اور میدان جنگ کا نقشہ درست کرنا یہ سب ذکر کیا گیا ہے۔ صرف جنگ احد کی یاد دہانی کے لیے غزوہ احد شوال 3 ھ کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 121–129
آیات 121- 129
اسرارو معارف
واذ غدوت من اھلک………………فاتقو اللہ لعلکم تشکرون۔
کفار کی اسلام دشمنی اور جوش غضب کا اظہار ان غزوات سے ہوتا ہے جن میں رحمت عالم ﷺ کو بھی شمشیر بکف ہونا پڑا۔ فرمایا کہ وہ وقت بھی یاد کرنے کے لائق ہے جب آپ ﷺ اپنے گھر والوں کے پاس سے نکلے ، اور مسلمانوں کو کفار سے مقابلہ کرنے کے لئے ترتیب سے جما رہے تھے۔
یہاں مفہوم سے آگاہی کے لئے واقعات جنگ سے آگاہ ہونا مناسب معلوم ہوتا ہے۔
یہ غزوہ احد کے واقعات ہیں جو 3 ھ میں وقوع پذیر ہوئی۔ 2 ھ میں مقام بدر پر ذلت آمیز شکست کھانے کے بعد مشرکین مکہ نے یہ عہد کیا کہ جب تک مسلمانوں سے اس کا بدلہ نہ لیا جائے تب تک چین حرام ہے۔ چناچہ شام…
Read the full tafseer →ف 1 اذلتہ کے لفظ سے مسلمانوں کی قلت تعداد اور ضعف حال کی طرف اشارہ ہے مقام بدر مدینہ سے قریبا 60 میل جنوب مغرب کی طرف واقع ہے۔ یہ وقعہ بروز جمعہ 27 رمضان المبارک 2 ھ ( مارچ 624) کو پیش آیا، اس آیت میں جنگ احد میں شکست کے اسباب کی طرف اشارہ کرتے ہوئے معر کہ بدر کے وقعات پر غور وفکر کی دعوت اور آئندہ ثابت قدم رہنے کے لیے تقوی یٰ کی تعلیم دی ہے۔ جنگ بدر کی تفصیل کے لیے سورة انفال آیت 41 دیکھئے (شوکانی، ابن کثیر )
Read the full tafseer →(3:123) اذلۃ۔ کمزور۔ نرم دل۔ ذلیل۔ ذلیل کی جمع ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 121–129
لغات القرآن آیت نمبر 121 تا 129
غدوت (تو صبح کے وقت نکلا) اھلک (تیرے گھر والے) تبوئ (تو جگہ (مورچوں پر) بٹھارہا تھا) مقاعد للقتال (لڑائی کے ٹھکانے (مورچے) ھمت (ارادہ کیا) طائفتین (دونوں جماعتیں) تفشلا (وہ دونوں بزدلی دکھائیں) ولیھما (اللہ ان دونوں کا دوست ہے) فلیتوکل (پھر بھروسہ کرنا چاہیے) اذلة (کمزرر، خوار) الن یکفیکم (کیا تمہیں کافی نہیں ہوگا) ان یمدکم (یہ کہ تمہاری مدد کی جائے) ثلٰثة اٰلاف (تین ہزار) منزلین (اترنے والے) حمسة اٰلافٍ (پانچ ہزار) مسومین (نشان لگے ہوئے (پلے ہوئے) بشرٰی (خوش خبری) لتطمئن (تاکہ تمہیں اطمینان ہو) یقطع (تاکہ کٹ جائے) یکبت (ذلیل کردیتا ہے) ینقلبوا (وہ پلٹ جائیں)…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 123–127
پانچ ہزار فرشتوں کی امداد
احد کی لڑائی سے مسلمانوں میں پریشانی پھیل گئی تھی اس واسطے اللہ تعالیٰ نے احد کی لڑائی کے ذکر میں بدر کا ذکر فرمایا کہ احد کی لڑائی میں تمہارے ستر آدمی شہید ہوگئے تو تم بھی بدر کی لڑائی میں کافروں کے ستر آدمی مار چکے ہو اور ستر کو قید کیا۔ مسلمانوں نے بدر کی لڑائی میں صبر وتقویٰ سے کام لیا، اللہ تعالیٰ نے حسب وعدہ پانچ ہزار نشان والے فرشتوں کی مدد بھیجی اور مسلمانوں کی فتح اور کافروں کی شکست ہوئی۔ احد کی لڑائی میں آنحضرت ﷺ کی رفاقت خاص کے لئے صرف جبرائیل ومیکائیل (علیہما السلام) آئے تھے۔ بدر کی لڑائی کی طرح عام ملائکہ احد کی لڑائی میں آتے تو مسلمانوں کو ضرور فتح ہوتی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 121–123
[44] یہ ذکر جنگ احد کا ہے جو 3 ھ میں مدینہ منورہ سے تین میل دور احد نامی پہاڑی کے پاس مسلمانوں اور مشرکین کے درمیان لڑی گئی۔ کفار کی تعداد تین ہزار تھی جبکہ لشکر اسلام کی جمعیت صرف سات سو تھی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 121–123
غزوہ احد :
(ف 1) غزوہ بدر کے بعد مقام احد پر کفار جمع ہوئے مقصود یہ تھا کہ بدر کا انتقام لیا جائے حضور ﷺ کو اطلاع ملی تو صحابہ ؓ اجمعین سے مشورہ طلب کیا اور عبداللہ بن ابی ابن سلول کو خصوصیت سے بلایا ، اس نے مشورہ دیا کہ آپ مدینہ ہی میں رہ کر مدافعت کریں ، اس لئے کہ ہم جب بھی مدینہ سے باہر رہ کر لڑے ہیں ہمارا نقصان ہوا ہے مقصد یہ تھا کہ مخالف آسانی سے مدینہ پر قبضہ کرلیں ، یہ ایک چال تھی ، دیگر صحابہ ؓ اجمعین نے فرمایا ، ہم چاہتے ہیں کہ میدان میں نکل کر جام شہادت پئیں ، ایسا نہ ہو کہ مخالف ہمیں بزدل سمجھیں ۔ حضور ﷺ نے فرمایا میں نے خواب مین دیکھا ہے کہ گائے ذبح کی جا رہی ہے اس سے میں نیک فال…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 123–124
ف 3 اور بلاشبہ اللہ تعالیٰ تم مسلمانوں کی بدر کے میدان میں مدد کرچکا ہے اور تم کو منصور اور فتح مند فرما چکا ہے حالانکہ تم بہت کمزور اور بےسروسامان تھے اور چونکہ یہ نصرت و فتح تمہارے تقویے کی برکت سے ہوئی تھی لہٰذا آئندہ بھی اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو۔ تاکہ تم شکر کے خوگر رہو اور اللہ تعالیٰ کا شکر بجا لاتے رہو۔ (تیسیر)
بدر ایک کنویں کا نام ہے اس نام سے یہ میدان مشہور ہے جہاں بدر کی لڑائی ہوئی تھی اذلۃ ذلیل کی جمع ہے مراد یہاں یہ ہے کہ تعداد میں کم ساز و سامان میں کم، غرض ہر طرح ضعیف اور کمزور اور بےسروسامان تھے اور یہ کامیابی تقوے کی برکت سے ہوئی تھی۔ تقوے کا مفہوم چونکہ عام ہے اس میں اس لئے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 123–124
ف 1۔ معلوم ہوتا ہے کہ بڑے درجہ کے فرشتے ہوں گے اور نہ جو فرشتے پہلے زمین پر موجود تھے ان سے بھی یہ کام لیا جاسکتا تھا۔
Read the full tafseer →ذرا میدان بدر کا نقشہ اپنے ذہن میں لاؤ تمہاری کیا حالت تھی اور اللہ نے کیا کر دکھایا :
211: نبی اعظم ﷺ جب مکہ سے ہجرت کر کے مدینہ منورہ تشریف لے آئے تو قریش نے مدینہ کے سردار عبداللہ بن ابی کو جسے ہجرت رسول ﷺ سے پہلے اہل مدینہ اپنا بادشاہ بنانے کی تیاری کرچکے تھے۔ اور جس کی تمناؤں پر نبی کریم ﷺ کے مدینہ پہنچ جانے اور اوس و خزرج کی اکثریت کے مسلمان ہونے کی وجہ سے پانی پھر چکا تھا خط لکھا کہ تم لوگوں نے ہمارے آدمی کو اپنے ہاں پناہ دی ہے ہم اللہ کی قسم کھاتے ہیں و کہ یا تو تم خود اس سے لڑو یا اسے نکال دو ورنہ ہم سب تم پر حملہ آور ہوں گے اور تمہارے مردوں کو قتل اور عورتوں کو لونڈیاں بنا لیں گے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 123–124
وَلَقَدْ نَصَرَكُمُ اللَّـهُ بِبَدْرٍ وَأَنتُمْ أَذِلَّةٌ
And Allah certainly supported you at Badr when you were weak. (123)
Badr : Location and Importance
Badr is located about eighty miles south-west of Madinah and used to be a halting-place while travelling between Makkah and Madinah, before the modern Tariq al-Hijrah was commissioned into service which by passes it.
At that time, Badr was known for its abundance of water, something very important in the desert zones of Arabia. The first armed encounter between believers and disbelievers came to pass at this spot on Friday, Ramadan…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 123–124
96. When the Muslims saw that their enemies numbered three thousand while three hundred out of their army of one thousand had departed they began to lose heart. It was on this occasion that the Prophet spoke these words to them.
Read the full tafseer →