Aal-i-Imraan 3:124

Aal-i-Imraan · from ayah 124

3:124

اِذْ تَقُوْلُ لِلْمُؤْمِنِیْنَ اَلَنْ یَّكْفِیَكُمْ اَنْ یُّمِدَّكُمْ رَبُّكُمْ بِثَلٰثَةِ اٰلٰفٍ مِّنَ الْمَلٰٓىِٕكَةِ مُنْزَلِیْنَ ۟ؕاِذۡ تَقُوۡلُ لِلۡمُؤۡمِنِيۡنَ اَلَنۡ يَّكۡفِيَكُمۡ اَنۡ يُّمِدَّكُمۡ رَبُّكُمۡ بِثَلٰثَةِ اٰلَافٍ مِّنَ الۡمَلٰٓئِكَةِ مُنۡزَلِيۡنَؕ‏

جب تم مومنوں سے یہ کہہ (کر ان کے دل بڑھا) رہے تھے کہ کیا یہ کافی نہیں کہ پروردگار تین ہزار فرشتے نازل کر کے تمہیں مدد دے

— Fateh Muhammad Jalandhari

[Remember] when you said to the believers, "Is it not sufficient for you that your Lord should reinforce you with three thousand angels sent down?

— Saheeh International

Juz 4 · Ruku 13 of surah · Ruku 4 of juz

Read the whole surah · Surah Aal-i-Imraan

All translations of 3:124

یاد کرو جب تم مومنوں سے کہہ رہے تھے، "کیا تمہارے لیے یہ بات کافی نہیں کہ اللہ تین ہزار فرشتے اتار کر تمہاری مدد کرے؟"

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

جب تم مومنوں سے یہ کہہ (کر ان کے دل بڑھا) رہے تھے کہ کیا یہ کافی نہیں کہ پروردگار تین ہزار فرشتے نازل کر کے تمہیں مدد دے

— مولانا فتح محمد جالندہری

(اور یہ شکر گزاری باعﺚ نصرت وامداد ہو) جب آپ مومنوں کو تسلی دے رہے تھے، کیا آسمان سے تین ہزار فرشتے اتار کر اللہ تعالیٰ کا تمہاری مدد کرنا تمہیں کافی نہ ہوگا،

— مولانا محمد جوناگڑہی

جب (بدر کی جنگ میں) تم مومنوں سے کہہ رہے تھے کہ : کیا تمہارے لیے یہ بات کافی نہیں ہے کہ تمہارا پروردگار تین ہزار فرشتے اتار کر تمہاری مدد کو بھیج دے ؟

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

جب اے محبوب تم مسلمانوں سے فرماتے تھے کیا تمہیں یہ کافی نہیں کہ تمہارا رب تمہاری مدد کرے تین ہزار فرشتہ اتار کر،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

جب آپ مسلمانوں سے فرما رہے تھے کہ کیا تمہارے لئے یہ کافی نہیں کہ تمہارا رب تین ہزار اتارے ہوئے فرشتوں کے ذریعے تمہاری مدد فرمائے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

جب تو ایمان والوں سے کہہ رہا تھا کیا تمہیں کسی طرح کافی نہ ہوگا کہ تمہارا رب تین ہزار فرشتوں کے ساتھ تمہاری مدد کرے، جو اتارے ہوئے ہوں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

جب آپ مومنوں سے یوں کہہ رہے تھے کہ کیا تمہیں یہ کافی نہیں کہ تمہارا پروردگار تین ہزار فرشتے اتار کر تمہاری مدد کرے ؟

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

یاد کرو کہ جب تم مسلمانوں سے کہہ رہے تھے کہ کیا تمہارے لیے کافی نہیں ہے کہ تمہارا رب تین ہزار تازہ دم فرشتوں سے تمہاری مدد فرمائے ؟۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

(اور وہ بھی یاد کرو کہ) جب آپ (اے پیغمبر !) اہل ایمان سے کہہ رہے تھے کہ کیا تمہیں کافی نہیں یہ بات کہ تمہارا رب تمہاری مدد فرمائے تین ہزار ایسے فرشتوں سے جو کہ (اسی غرض کیلئے) اتارے گئے ہیں

— مولانا اسحاق مدنی

(وہ وقت یاد کیجئے) جب آپ مومنین سے کہہ رہے تھے کہ کیا یہ تمہارے لیے کافی نہیں کہ تمہارا پروردگار تمہاری مدد تین ہزار اتارے ہوئے فرشتوں سے کرے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

(اے نبی ﷺ !) جب آپ کہہ رہے تھے اہل ایمان سے کہ کیا تمہارے لیے یہ کافی نہیں ہے کہ تمہارا رب تمہاری مدد کرے تین ہزار فرشتوں سے جو آسمان سے اترنے والے ہوں گے ؟

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

یاد کرو جب تم مومنوں سے کہہ رہے تھے کیا تمہارے لیے یہ بات کافی نہیں کہ اللہ تین ہزار فرشتے اتار کر تمہاری مدد کرے ؟

— محترمہ رفعت اعجاز

And recall when you said to the believers: 'Will it not suffice you that your Lord will aid you by sending down three thousand angels?

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

When you were saying to the believers, :Shall it not suffice you that your Lord should help you with three thousand of the angels sent down (for you)?

— Muhammad Taqi Usmani

When you were saying to the believers, :Shall it not suffice you that your Lord should help you with three thousand of the angels sent down (for you)?

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

(Remember) when you said to the believers, "Is it not enough for you that your Lord should help you with three thousand angels sent down"

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

When thou didst say unto the believers: Is it not sufficient for you that your Lord should support you with three thousand angels sent down (to your help)?

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

[Remember] when you said to the believers, "Is it not sufficient for you that your Lord should reinforce you with three thousand angels sent down?

— Saheeh International

Also, remember when you said to the believers, "Is it not enough that your Lord is helping you with a force of three thousand angels sent (from the heavens)?"

— Muhammad Sarwar

When you said to the believers: Does it not suffice you that your Lord should assist you with three thousand of the angels sent down?

— Muhammad Habib Shakir

And Recall what time thou saidst to the believers: sufficieth it not unto that your lord should reinforce you with three thousand angels sent down.

— Abdul Majid Daryabadi

Remember thou saidst to the Faithful: "Is it not enough for you that Allah should help you with three thousand angels (Specially) sent down?

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 3:124

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 124–129

غزوہ بدر اور تائید الٰہی آنحضرت ﷺ کا یہ تسلیاں دینا بعض تو کہتے ہیں بدر والے دن تھا حسن بصری عامر شعبی ربیع بن انس وغیرہ کا یہی قول ہے ابن جریر کا بھی اسی سے اتفاق ہے عامر شعبی کا قول ہے کہ مسلمانوں کو یہ خبر ملی تھی کہ کرز بن جابر مشرکوں کی امداد میں آئے گا اس پر اس امداد کا وعدہ ہوا تھا لیکن نہ وہ نہیں آیا اور نہ ہی یہ گئے ربیع بن انس فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کی مدد کیلئے پہلے تو ایک ہزار فرشتے بھیجے پھر تین ہزار ہوگئے پھر پانچ ہزار، یہاں اس آیت میں تین ہزار اور پانچ ہزار سے مدد کرنے کا وعدہ ہے اور بدر کے واقعہ کے بیان کے وقت ایک ہزار فرشتوں کی امداد کا وعدہ ہے۔ فرمایا آیت…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 123–124

سورة اٰلِ عِمْرٰن 96 مسلمانوں نے جب یہ دیکھا کہ ایک طرف دشمن تین ہزار ہیں اور ہمارے ایک ہزار میں سے بھی تین سو الگ ہوگئے ہیں تو ان کے دل ٹوٹنے لگے۔ اس وقت نبی ﷺ نے ان سے یہ الفاظ کہے تھے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

ربط آیات سابقہ آیات میں بضمن قصہ احد غزوہ بدر میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے امداد غیبی ہونے کا ذکر تھا، آگے اس امداد کی کچھ تفصیل اور فرشتوں کے بھیجنے کی حکمت کا بیان ہے۔ خلاصہ تفسیر اذ تقول للمومنین (الی) فینقلبوا خائبین، (غزوہ بدر میں اللہ تعالیٰ کی یہ امداد اس وقت ہوئی تھی) جب آپ (اے محمد ﷺ مسلمانوں سے یوں فرما رہے تھے کہ کیا تم کو (تقویت قلب کے لئے) یہ امر کافی نہ ہوگا کہ تمہارا رب تمہاری امداد کرے تین ہزار فرشتوں کے ساتھ (جو اسی کام کے لئے آسمان سے) اتارے جاویں گے (جس سے معلوم ہوتا ہے کہ بڑے درجے کے فرشتے ہوں گے، ورنہ جو فرشتے پہلے سے زمین پر موجود تھے ان سے بھی یہ کام لیا جاسکتا تھا (روح)…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

’ مسومین ‘ کا مفہوم : ’ مسومین ‘ سومۃ، سیمۃ، سے ہے جس کے معنی علامت اور نشان کے ہیں الخیل المسومۃ، ان گھوڑوں کو کہتے ہیں جن پر نشان لگے ہوئے ہوں۔ فرشتوں کے لیے مسومین کی صفت سے اس امر کا اظہار مقصود ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کو خاص اہتمام کے ساتھ اس مہم کے لیے بھیجے گا اور وہ خاص اس جنگ کے لیے اپنے امتیازی نشان اور بیج لگائے ہوئے ہوں گے۔ یہ اس بات کا حوالہ ہے جو نبی ﷺ نے مسلمانوں کا حوصلہ بحال کرنے کے لیے اس وقت فرمائی جب عبداللہ بن ابی اپنے تین سو ساتھیوں کو لے کر واپس ہوگیا اور مسلمانوں کی بعض جماعتوں میں، جیسا کہ اوپر والی آیت میں ذکر ہے، اس سے بد دلی پھیلی۔ آپ نے فرمایا کہ اگر تین سو آدمی الگ…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 124–125

125۔ 1 مسلمان بدر کی جانب قافلہ قریش پر جو تقریبًا نہتا تھا چھاپہ مارنے نکلے تھے۔ مگر بدر پہنچتے پہنچتے معلوم ہوا کہ مکہ سے مشرکین کا ایک لشکر جرار غیظ و غضب اور جوش و خروش کے ساتھ چلا آرہا ہے۔ یہ سن کر مسلمانوں کی صف میں گھبراہٹ، تشویش اور جوش قتال کا ملا جلا اور عمل ہوا اور انہوں نے رب تعالیٰ سے دعا و فریاد کی۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے پہلے ایک ہزار پھر تین ہزار فرشتے اتارنے کی بشارت دی اور مزید وعدہ کیا کہ اگر تم صبرو تقویٰ پر قائم رہے اور مشرکین کا جوش وخروش و غضب برقرار نہ رہ سکا۔ (بدر پہنچنے سے پہلے ہی ان میں پھوٹ پڑگئی۔ ایک گروہ مکہ پلٹ گیا اور باقی جو بدر میں آئے ان میں سے اکثر سرداروں کی…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 124–125

43: یہ سارا حوالہ جنگ بدر کا ہے اس جنگ میں شروع میں تین ہزار فرشتوں کی بشارت دی گئی تھی لیکن بعد میں صحابہ کرام کو یہ اطلاع ملی کہ کرز بن جابر اپنا لشکر لے کر کفار مکہ کے ساتھ شامل ہونے کے لئے آرہا ہے، کفار کی تعداد پہلے ہی مسلمانوں سے تین گنا زیادہ تھی اب اس لشکر کے آنے کی اطلاع ملی تو مسلمانوں کو تشویش ہوئی اس موقع پر یہ وعدہ کیا گیا کہ اگر کرز کا لشکر اچانک آگیا تو تین ہزار کے بجائے پانچ ہزار فرشتے بھیجے جائیں گے ؛ لیکن پھر کرز کا لشکر نہیں آیا اس لئے پانچ ہزار بھیجنے کی نوبت نہیں آئی۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

یہ ایک جھلکی ہے ‘ جس میں انہیں یاد دلایا جاتا ہے کہ بدر میں انہیں کیونکر فتح نصیب ہوئی ‘ اس کے بعد ‘ وہ مناظر پیش کئے جاتے ہیں جو میدان بدر میں وقوع پذیر ہوئے ‘ ان مناظر کو ان کے پردہ دماغ پر ازسر نو اس طرح یاد کیا جاتا ہے کہ گویا وہ ابھی پیش آئے ۔ ذرا دیکھئے إِذْ تَقُولُ لِلْمُؤْمِنِينَ أَلَنْ يَكْفِيَكُمْ أَنْ يُمِدَّكُمْ رَبُّكُمْ بِثَلاثَةِ آلافٍ مِنَ الْمَلائِكَةِ مُنْزَلِينَ……………” یاد کرو جب تم مومنین سے کہہ رہے تھے ‘ کیا تمہارے لئے یہ بات کافی نہیں کہ اللہ تین ہزار فرشتے اتار کر تمہاری مدد کرے ؟ “ بیشک اگر تم صبر کرو ‘ اور اللہ سے ڈرتے ہوئے کام کرو ‘ تو جس آن دشمن تمہارے اوپر چڑھ آئیں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

3 یعنی جو آسمان سے خاص اسی کام کے لئے اتارے گئے ہوں۔ اکثر علماء کے نزدیک راجح یہ ہے کہ یہ واقعہ غزوہ بدر کا ہے جب کفار کی جمعیت اور تیاری دیکھ کر مسلمانوں کو تشویش ہوئی تو آپ ﷺ نے تسلّی کے لئے ایسا فرمایا۔ چناچہ فرشتوں کی کمک آسمان سے پہنچی۔ سورة الانفال میں اس کا مفصل بیان آئے گا۔ وہیں نزول ملائکہ کی حکمت اور عدد ملائکہ کے ظاہری تعارض پر کلام کیا جائے گا۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 124–125

آیت 124 اِذْ تَقُوْلُ لِلْمُؤْمِنِیْنَ اَلَنْ یَّکْفِیَکُمْ اَنْ یُّمِدَّکُمْ رَبُّکُمْ بِثَلٰثَۃِ اٰلٰفٍ مِّنَ الْمَلآءِکَۃِ مُنْزَلِیْنَ یعنی اے مسلمانو ! اگر مقابلے میں تین ہزار کا لشکر آگیا ہے تو کیا غم ہے۔ میں تمہیں خوشخبری دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ تمہاری مدد کو تین ہزار فرشتے بھیجے گا جو آسمان سے اتریں گے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ کی اس خوشخبری کو ‘ جو ایک طرح سے استدعا بھی ہوسکتی تھی ‘ فوری طور پر شرف قبولیت عطا فرمایا اور اس کی منظوری کا اعلان فرما دیا۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

113 جب مذکورہ بالا دو قبیلوں نے کمزوری دکھائی تو اس وقت آپ نے ان کی اور دوسرے مسلمانوں کی ڈھارس بندھاتے ہوئے فرمایا : کیا تمہارے لیے یہ بات کافی نہیں کہ اللہ تعالیٰ تین ہزار فرشتے بھیج کر تمہاری مدد فرما دے۔ جیسا کہ میدان بدر میں تمہاری مدد فرمائی تھی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

255 ۔ (جو آسمان سے خاص اسی غرض کے لیے اتارے گئے ہوں) (آیت) ” اذ تقول “۔ میں ذکر اس وقت کا ہے، جب میدان بدر میں یہ خبر اڑگئی تھی کہ غنیم کو زبردست کمک پہنچ گئی ہے، اور آپ ﷺ مومنین کو تسلی دے رہے تھے۔ (آیت) ” الن یکفیکم “۔ تمہارے لیے کافی نہیں، یعنی کیا تمہاری تسکین و تسلی کے لیے یہ کافی نہیں۔ (آیت) ” یمدکم ربکم “۔ امداد غیبی کے موقع پر صفت ربوبیت کا اظہار اور وہ بھی مخاطبین کی طرف اضافت کے ساتھ بہترین پیرایہ بلاغت واسلوب بیان ہے، آج کے ماہرین فن حرب پر بھی خوب روشن ہے کہ سپاہ کی ہمت قائم رکھنا، ان کے Morale کا درست رکھنا جنگ میں کامیابی کا کتنا بڑا اور اہم عنصر ہے !

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 124–130

آیت نمبر 130 تا 143 ترجمہ : اے ایمان والو ! یہ بڑھتا ثڑھتا سود کھانا چھوڑ دو (مُضٰعَفَۃً ) الف اور بغیر الف دونوں طریقوں پر ہے۔ اس طور پر کہ مدت پوری ہونے پر مالی مطالبہ بڑھا دو ۔ اور مطالبہ میں مہلت دے دو ۔ (اکل ربا) کو ترک کرکے اللہ سے ڈرتے رہو تاکہ تم کامیاب ہوجاؤ۔ اور اس آگ سے ڈرو جو (اصالۃً ) کافروں کے لیے تیار کی گئی ہے کہ تم کو اس میں عذاب دیا جائے اور اللہ اور رسول کی اطاعت کرو تاکہ تم پر رحم کیا جائے اور اپنے رب کی مغفرت اور جنت کی طرف دوڑو کہ جس کی وسعت زمین و آسمان ہیں (سَارِعُوْا) میں قبل السین واؤ اور بدون واؤ دونوں (قراءتیں) ہیں۔ یعنی (جنت کی وسعت) ان دونوں کی وسعت کے مانند ہے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

اذ تقول للمومنین الن یکفیکم ان یمدکم ربکم بثلٰثۃ الاف من الملائکۃ منزلین اللہ نے تم کو فتح یاب اس وقت کیا جب تم مؤمنوں سے کہہ رہے تھے کہ کیا تین ہزار فرشتوں کو اتار کر اللہ کی طرف سے تمہاری امداد کرنا کافی نہیں ہے۔ قتادہ ؓ نے فرمایا یہ واقعہ بدر کے دن کا تھا شروع میں اللہ نے ایک ہزار ملائکہ سے امداد فرمائی تھی جیسے فرمایا ہے : فَاسْتَجَابَ لَکُمْ اَنِّیْ مُمِدُّکُمْ بِاَلْفٍ مِّنَ الْمَلَاءِکۃ پھر فرشتے تین ہزار اور پھر پانچ ہزار کردیئے گئے۔ اَلَن یکفیکم میں استفہام انکاری ہے۔ (1) [ اور لن نافیہ ہے اور نکار نفی، اچبات ہوتا ہے پس مطلب یہ ہوا کہ تین ہزار فرشتوں کی مدد تمہارے لیے کافی ہے ] ابن…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 124–125

(124۔ 125) غزوہ احد کے دن جب آپ فرما رہے تھے کہ تمہارا پروردگار تین ہزار فرشتوں سے تمہاری اعانت فرمائے گا جو تمہاری مدد کے لیے تمہاری مدد کے لیے آسمان سے اتریں گے یہ تعداد تمہاری کفایت کرجائے گی اپنے نبی کے ساتھ لڑائی میں ثابت قدم رہو اور ان کی نافرمانی اور مخالفت سے ڈرتے رہو اور مکہ والے مکہ کی جانب سے تم پر اچانک حملہ کریں گے، اس وقت تمہارا رب پانچ ہزار فرشتے بھیجے گا جو خاص وضع بنائے ہوئے ہوں گے یا یہ کہ وہ عمامے باندھے ہوئے ہوں گے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 124–127

اِذْ تَقُوْلُ لِلْمُؤْمِنِيْنَ : اس کا تعلق یا تو جنگ بدر سے ہے یا جنگ احد سے۔ امام طبری نے پہلی بات کو ترجیح دی ہے، یعنی جب کفار کی تیاری اور کثرت تعداد کو دیکھ کر مسلمانوں کے دلوں میں تشویش پیدا ہوئی تو رسول اللہ ﷺ نے فرشتوں کی مدد کا ذکر کر کے انھیں تسلی دی۔ چناچہ بدر میں فرشتے نازل ہوئے۔ بدر میں فرشتوں کے نزول کی کیفیت کے لیے دیکھیے سورة انفال (9) (ابن کثیر۔ شوکانی) بدر کے دن فرشتوں کی تعداد سورة انفال میں ایک ہزار ذکر ہوئی ہے، جبکہ یہاں تین ہزار اور پانچ ہزار کا ذکر ہے۔ جواب اس کا یہ ہے کہ پہلے ایک ہزار کا وعدہ ہوا، پھر تین ہزار اور پھر پانچ ہزار کی بشارت ہوئی، ان میں آپس میں کوئی تعارض…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 123–125

آیت نمبر : 123 تا 125۔ اس میں چھ مسائل ہیں : مسئلہ نمبر : (1) قولہ تعالیٰ : (آیت) ” ولقد نصرکم اللہ ببدر “۔ غزوہ بدر سترہ رمضان المبارک، بروز جمعہ ہجرت کے اٹھارہویں ماہ واقع ہوا، اور بدر، وہاں پانی کا ایک کنواں ہے اسی سبب سے اس جگہ کا نام بدر ہے اور شعبی نے کہا ہے : وہ پانی قبیلہ جہینہ کے ایک آدمی کا تھا اس کا نام بدر تھا (1) (معالم التنزیل، جلد 1، صفحہ 542) اور اس وجہ سے اس جگہ کا نام بدر رکھا گیا، پہلا معنی زیادہ اور عام ہے۔ واقدی وغیرہ نے کہا ہے : بدر غیر منقول جگہ کا نام ہے اس کا ذکر عنقریب واقعہ بدر کے ضمن میں سورة الانفال میں آئے گا، انشاء اللہ تعالیٰ “۔ اور اذلۃ “ کا معنی ہے بہت کم…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

(1) ابن ابی شیبہ ابن جریر ابن المنذر ابن ابی حاتم نے شعبی (رح) سے روایت کیا کہ غزوہ بدر میں مسلمانوں کو یہ خبر پہنچی کہ کرزبن جابر محاربی مشرکین کی مدد کر رہے ہیں یہ بات ان پر بہت بھاری ہوئی تو اللہ تعالیٰ نے (یہ آیت) نازل فرمائی لفظ آیت ” اذ تقول للمؤمنین الن یکفیکم ان یمدکم ربکم بثلثۃ الف “ سے لے کر ” مسومین “ تک کرز کو جب شکست کی خبر پہنچ گئی تو اس نے مشرکوں کی مدد نہ کی جبکہ مسلمانوں کی مدد بھی پانچ ہزار فرشتوں سے نہ کی گئی۔ پانچ ہزار فرشتوں کی مدد (2) ابن جریر نے شعبی (رح) سے روایت کیا ہے کہ بدر کے دن کہ جب رسول اللہ ﷺ کو خبر پہنچی پھر انہوں نے اسی طرح ذکر کیا (جیسے اوپر بیان ہوا) مگر یہ…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[اِذْ : جب ] [تَقُوْلُ : آپ ﷺ کہتے تھے ] [لِلْمُؤْمِنِیْنَ : ایمان لانے والوں سے ] [اَ : کیا ] [لَنْ یَّـکْفِیَکُمْ : ہرگز کافی نہیں ہوگا تم کو ] [اَنْ : (یہ) کہ ] [یُّمِدَّکُمْ : مدد کرے تمہاری ] [رَبُّـکُمْ : تمہارا رب ] [بِثَلٰـثَۃِ اٰلٰفٍ : تین ہزار ] [مِّنَ الْمَلٰٓئِکَۃِ : فرشتوں سے ] [مُنْزَلِیْنَ : اتارے ہوئے ہوتے ہوئے ] و ر فَارَ (ن) فَوْرًا : جوش مارنا ‘ اُبلنا۔ { وَفَارَ التَّـنُّـوْرُ } (ھود :40) ” اور ابلا تنور۔ “ فَوْرٌ (اسم ذات بھی ہے) : جوش ‘ اُبال۔ (آیت زیر مطالعہ) ط ر طَرَفَ (ض) طَرْفًا : کسی کو کسی چیز کے کنارے پر کرنا۔ طَرْفٌ (اسم ذات بھی ہے) : (1) کسی چیز کا کنارہ ‘…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

معالم التنزیل صفحہ 347: ج 4 میں حضرت قتادہ کا قول اسی طرح نقل کیا ہے اور لکھا ہے کہ مسلمانوں نے بدر میں صبر کیا اور تقویٰ اختیار کیا تو اللہ تعالیٰ نے ان پر پانچ ہزار فرشتے نازل فرمائے، نیز معالم التنزیل میں ضحاک اور عکرمہ کا قول یوں نقل کیا ہے کہ جس وعدہ کا (اِذْ تَقُوْلُ لِلْمُؤْمِنِیْنَ ) میں ذکر ہے جنگ احد کے بارے میں ہے اللہ تعالیٰ شانہٗ نے مسلمانوں سے بشرط صبر مدد کا وعدہ فرمایا تھا لیکن انہوں نے صبر نہیں کیا لہٰذا ان کی مدد نہیں کی گئی۔ صاحب روح المعانی اسی قول کو معتمد بتاتے ہیں کہ یہ آیت جس میں پانچ ہزار فرشتوں کی آمد کا ذکر ہے اس میں غزوہ بدر ہی کا ذکر ہے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 123–127

تذکیر بقصہ بدر۔ برائے اظہار تاثیر توکل وتقوی وصبر۔ قال اللہ تعالیٰ ولقد نصرکم اللہ ببدر۔۔۔۔۔۔ الی۔۔۔۔۔ خائبین۔ اب قصہ احد کے بعد کچھ قصہ بدر کا ذکر کرتے ہیں اس غزوہ میں جو بےمثال فتح ونصرت ظہور میں آئی وہ ظاہر اسباب میں توکل اور تقوی اور صبر کی برکت تھی چناچہ فرماتے ہیں اور البتہ تحقیق مدد کی تمہاری اللہ نے جنگ بدر میں حالانکہ تم اس وقت بےسروسامان تھے اور دشمنوں کی نظروں میں ذلیل اور خوار تھے اور ظاہر اسباب میں دشمنوں کے مقابلہ میں تمہارا ٹھہرنا اور ان پر فتحیاب ہوناناممکن تھا مگر چونکہ اس بےسروسامانی میں تمہاری نظر اللہ پر تھی اس لیے اللہ نے تم کو عزت و رفعت دی۔ ہر کجا پستی اسب آب آنجارود ہر…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

191 اِذ، ظرف نَصَرَکُمْ سے متعلق ہے اور یہ تین ہزار اور پانچ ہزار فرشتوں کے اتارنے کے وعدے بھی جنگ بدر ہی سے متعلق ہیں۔ جنگ بدر میں بالفعل مشرکین کی تعداد کے مطابق صرف ایک ہزار فرشتے اتارے گئے تھے جنہوں نے مسلمانوں کے دوش بدوش کافروں سے جنگ کی جیسا کہ سورة انفال رکوع 1 میں ہے۔ اذ تَسْتَغِیْثُوْنَ رَبَّکُمْ فَاسْتَجَابَ لَکُمْ اَنِّیْ مُمِدُّکُمْ بِاَلْفٍ مِّنَ الْمَلئِکَةِ مُرْدِفِیْنَ ۔ لیکن اس کے بعد جب کافروں نے یہ افواہ اڑا دی کہ کرز بن جابر محاربی مزید دو ہزار سپاہیوں کی کمک لے کر پہنچ رہا ہے۔ تو اس وقت اللہ تعالیٰ نے تین ہزار فرشتوں کی کمک نازل کرنے کا وعدہ فرمایا تاکہ مسلمان مطمئن اور…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 123–125

ربط آیات : گذشتہ آیت میں غزوہ احد کا ذکر تھا اور آمدہ آیات بھی احد ہی سے متعلق ہیں ، تاہم درمیان میں اللہ تعالیٰ نے غزوہ بدر کا بطور مثال ذکر فرمایا ہے کہ دیکھو ! بدر کے موقع پر تم بےسروسامانی کی حالت میں تھے ، افرادی قوت بھی کم تھی ، رسد بھی بالکل قبیل تھی۔ مگر تمہارے صبر اور تقویٰ کے درجہ کمال کی وجہ سے بھی کم تھی ، رسد بھی بالکل قلیل تھی۔ مگر تمہارے صبر اور تقویٰ کے درجہ کمال کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے تمہیں طاقتور دشمن پر عظیم فتح نصیب فرمائی ، اور اب احد کے موقع پر تمہاری پوزیشن بہت بہتر تھی۔ مگر صبر اور تقوی کی کمی اور بعض غلطیوں کی وجہ سے شکست کا سامنا کرنا پڑا ، اس میں مسلمانوں کی…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

اِذْ تَقُوْلُ لِلْمُؤْمِنِيْنَ اَلَنْ يَّكْفِيَكُمْ اَنْ يُّمِدَّكُمْ رَبُّكُمْ بِثَلٰثَۃِ اٰلٰفٍ مِّنَ الْمَلٰۗىِٕكَۃِ مُنْزَلِيْنَ۝ 124 ۭ قول القَوْلُ والقِيلُ واحد . قال تعالی: وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] ( ق و ل ) القول القول اور القیل کے معنی بات کے ہیں قرآن میں ہے : ۔ وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] اور خدا سے زیادہ بات کا سچا کون ہوسکتا ہے ۔ أیمان يستعمل اسما للشریعة التي جاء بها محمّد عليه الصلاة والسلام، وعلی ذلك : الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ هادُوا وَالصَّابِئُونَ [ المائدة/ 69] ، ويوصف به كلّ من دخل في شریعته مقرّا بالله وبنبوته . قيل :…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 124–127

ترکیب : اذ تقول ممکن ہے کہ اذھمت سے بدل ہو اور ممکن ہے کہ نصر کم کا ظرف ہو لیس لک خبر شیء اسم اویتوب او یعذبہم معطوف ہیں یکبتہم پر یا الامر پر یا شیء پر با ضماران اور الان کے معنی میں بھی ہوسکتا ہے۔ تفسیر : پہلی آیت میں ذکر تھا کہ باوجود یکہ تمہاری حالت نہایت خراب تھی مگر خدا نے بدر کے جنگ میں اسباب ظاہر کے برخلاف تمہاری مدد کی تھی۔ اب یہاں اس مدد غیبی کو یاد دلاتا ہے یعنی مدد غیبی کا وہ دن تھا کہ جس دن اے نبی تم مسلمانوں کو تسلی دے رہے اور یہ کہہ رہے تھے کہ تم اپنی قلت اور بےسرو سامانی اور کفار کی کثرت اور اسباب حرب پر خیال کرکے ہراساں نہ ہو۔ کیا تم کو کافی نہیں کہ خدا تمہاری تین ہزار فرشتے…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 124–125

اِذْ تَقُوْلُ لِلْمُؤْمِنِیْنَ اَلَنْ یَّکْفِیَکُمْ اَنْ یُّمِدَّکُمْ رَبُّـکُمْ بِثَـلٰـثَۃِ اٰلٰفٍ مِّنَ الْمَلٰٓئِکَۃِ مُنْزَلِیْنَ ۔ ط بَلٰی لا اِنْ تَصْبِرُوْا وَتَتَّقُوْا وَیَاْتُوْکُمْ مِّنْ فَوْرِہِمْ ھٰذَا یُمْدِدْکُمْ رَبُّـکُمْ بِخَمْسَۃِ اٰلٰفٍ مِّنَ الْمَلٰٓئِکَۃِ مُسَوِّمِیْنَ ۔ (یاد کرو ! جب اے پیغمبر ! تم مسلمانوں سے کہہ رہے تھے کہ کیا تمہارے لیے کافی نہیں کہ تمہارا رب تین ہزار تازہ دم فرشتوں سے تمہاری مدد فرمائے۔ ہاں اگر تم ثابت قدم رہو گے اور اللہ کا تقویٰ اختیار کرو گے اور دشمن تمہارے اوپر اچانک آدھمکے تو تمہارا رب پانچ ہزار فرشتوں سے تمہاری مدد فرمائے گا جو اپنے خاص نشان…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 124–128

فہم القرآن ربط کلام : جس طرح اللہ تعالیٰ کی نصرت کے بغیر کوئی کسی کی مدد نہیں کرسکتا۔ اسی طرح معاف کرنا یا کسی کو عذاب دینا بھی اللہ ہی کے اختیار میں ہے کیونکہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کی ملکیت ہے۔ غزوۂ احد میں مسلمانوں کے سر کردہ جنگجو یہاں تک کہ حضرت حمزہ ؓ بڑی بیدردی کے ساتھ شہید کردیے گئے اور رسول مکرم ﷺ کی ذات اقدس کو بھی زخم آئے، رباعی دانت شہید ہوا اور آپ بےہوش ہو کر ایک گھاٹی میں جا گرے جونہی ہوش سنبھالا تو آپ کی زبان اطہر سے بےساختہ بددعا نکلی : (کَیْفَ یُفْلِحُ قَوْمٌ شَجُّوْا نَبِیَّھُمْ وَکَسَرُوْا رُبَاعِیَتَہٗ وَھُوَ یَدْعُوْھُمْ إِلَی اللّٰہِ فَأَنْزَلَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ (لَیْسَ…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

دوسرا بدل : 124: اِذْتَقُوْلُ لِلْمُؤْمِنِیْنَ اَلَنْ یَّکْفِیَکُمْ اَنْ یُّمِدَّکُمْ رَبُّکُمْ بِثَلٰثَۃِ ٰالٰفٍ مِّنَ الْمَلٰٓپکَۃِ مُنْزَلِیْنَ ۔ (جب تم ایمان والوں کو کہہ رہے تھے ) نحو : یہ نَصَرَکُمْ کا ظرف ہے۔ اس طور پر کہ بدر کے دن ان کو فرمایا، مطلب یہ ہوا کہ اس نے تمہاری مدد کی جبکہ تم یہ کہہ رہے تھے۔ یا اذغدوت سے دوسرا بدل ہے۔ اس طور پر کہ احد کے دن ان کو فرمایا۔ اَلَنْ یَّکْفِیَکُمْ اَنْ یُّمِدَّکُمْ رَبُّکُمْ بِثَلٰثَۃِ ٰالٰفٍ مِّنَ الْمَلٰٓپکَۃِ مُنْزَلِیْنَ (کیا کافی نہیں کہ تمہاری امداد کرے اللہ تعالیٰ تین ہزار فرشتوں کو اتار کر) استفہامِ انکاری : قراءت : شامی نے مُنَزَّلِیْنَ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

124۔ (آیت)” ان تقول للمؤمنین الن یکفیکم ان یمدکم ربکم “۔ اس آیت کے مصداق میں مفسرین کا اختلاف ہے ۔ قتادہ (رح) فرماتے ہیں کہ بدر کے دن اللہ تعالیٰ نے ایک ہزار فرشتوں کے ساتھ مدد فرمائی (آیت)” فاستجاب ربکم انی ممدکم بالف من الملائکۃ “۔ پھر اللہ تعالیٰ نے تین ہزار فرشتوں کے بعد پھر پانچ ہزار کردیئے ، (آیت)” بثلاثۃ الاف من الملائکۃ منزلین “۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 123–127

(123 ۔ 127) ۔ احد کی لڑائی میں مسلمانوں کو شکست ہو کر ایک بڑی پریشانی مسلمانوں میں پھیل گئی تھی۔ اس واسطے اللہ تعالیٰ نے احد کی لڑائی کے ذکر میں دو جگہ بدر کا ذکر فرمایا ہے۔ ایک اس آیت میں اور دوسرے آئندہ کی آیت میں اس طرح کہ اگر اس احد کی لڑائی میں تمہارے ستر آدمی شہید ہوگئے تو تم بھی تو بدر کی لڑائی میں کافروں کے ستر آدمی مارچکے ہو۔ اور ستر کو قید کرچکے ہو یہ ایک لڑائی کے ذکر میں دوسری لڑائی کا ذکر اسی واسطے فرما دیا ہے کہ اس فتح کی لڑائی کو یاد کر کے اس شکست کی لڑائی کا زیادہ افسوس مسلمانوں کو نہ رہے یہ فرشتوں کی مدد کا ذکر جو اس آیت میں ہے اس میں مفسروں کا اختلاف ہے بعض کہتے ہیں کہ بدر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 122–125

آیت 122 یہ آیات واقعہ احد کے بارے میں نازل ہوئیں۔ اس کا قصہ معروف ہے جو سیرت اور تاریخ کی کتابوں میں تفصیل سے بیان ہوا ہے۔ یہاں اسے بیان کرنے اور اس کے درمیان میں بدرکا واقعہ لے آنے میں غالباً یہ حکمت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مومنوں سے وعدہ کیا تھا کہ اگر وہ صبر اور تقویٰ اختیار کریں گے، تو اللہ تعالیٰ ان کی مدد کرے گا اور دشمن کی سازشوں سے انہیں محفوظ فرمائے گا۔ یہ ایک عام حکم اور سچا وعدہ تھا، جس کی شرائط پوری کی جاتیں تو اس کا پورا ہونا ناممکن نہیں تھا۔ ان دو قصوں میں اس کا ایک نمونہ پیش فرما دیا کہ اللہ نے بدر میں مسلمانوں کی مدد اس لئے فرمائی تھی کہ انہوں نے صبر کا یا اور تقویٰ اختیار کیا…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 119–130

سود کی ہر صورت حرام ہے قول باری ہے (لاتاکلوا الربواضعا فامضاعفۃ، یہ بڑھتا اور چڑھتا سود کھانا چھوڑ دو ) قول باری (اضعا فاعفۃ) کے دومعنی بیان کیے گئے ہیں اول تاجیل قرض کی ادائیگی کی مدت میں اضافے کے ساتھ سود کو رقم میں اضافہ کرتے جانا اور ہر مدت کے لیے زائد رقم کی قسط مقررکر دینا۔ دوم سودی رقموں کے ذریعے اپنے مال میں کئی گنا اضافہ کرلینایہ اس بات کی دلیل ہے کہ جس چیز کا خصوصیت کے ساتھ ذکرکر دیاجائے، وہ اس پر دلالت نہیں کرتی کہ اس کے ماسواچیزوں کا حکم کے برعکس ہے کیونکہ اگر ایسا ہوتا تو پھر کئی کئی گنابڑھا کر سود خوری کی تحریم اس پر دلالت کرتی کہ اگر کئی کئی گنا اضافے کی صورت نہ ہو تو سود کھانا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

259 فرشتوں کی مدد کا وعدہ و خوشخبری : یہاں پر منزلین کے لفظ سے یہ واضح فرما دیا کیا کہ یہ فرشتے ان فرشتوں میں سے نہیں ہوں گے جو کہ پہلے سے زمین پر موجود ہیں بلکہ یہ فرشتوں کا وہ خاص لشکر ہوگا جس کو اسی غرض کیلئے آسمان سے اتارا جائے گا، اور ان کو خاص تمہاری مدد کیلئے بھیجا جائے گا۔ سو جب صدق و اخلاص پورا ہو اور اللہ پر بھروسہ و اعتماد بھی کامل ہو تو اللہ ایسے ہی اپنی غیبی مدد سے نوازتا ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ " مسومین "، " سَوْمہ " یا " سمْہ " سے ماخوذ و مشق ہے جس کے معنی علامت اور نشانی کے ہیں۔ سو فرشتوں کے لئے اس صفت کے ذکر وبیان سے اس امر کا اظہار مقصود ہے کہ ان فرشتوں کو اس مہم میں شرکت اور…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 121–127

غزوہ احد تشریح۔: گزشتہ آیات میں بیان ہوا تھا کہ اگر مسلمان صبر اور تقوٰی پر مضبوطی سے قائم رہیں تو دنیا کی کوئی طاقت ان کو کسی قسم کا نقصان نہیں پہنچا سکتی۔ غزوہ احد کی معمولی شکست اور تکلیف کا بیان اس لیے کیا گیا ہے کہ اس میں مسلمانوں نے صبر اور تقوٰی میں کمزوری دکھائی تھی اور اسی کمزوری اور کوتاہی کی سزا ان کو فوراً مل گئی۔ اور غزوہ بدر کی جیت کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ شروع میں غزوہ احد کے لیے نبی اکرم ﷺ کا صبح نکلنا، میدان جنگ میں اپنی فوج کو ترتیب دینا، فوج کو مناسب جگہوں پر بٹھانا اور میدان جنگ کا نقشہ درست کرنا یہ سب ذکر کیا گیا ہے۔ صرف جنگ احد کی یاد دہانی کے لیے غزوہ احد شوال 3 ھ کا…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 121–129

آیات 121- 129 اسرارو معارف واذ غدوت من اھلک………………فاتقو اللہ لعلکم تشکرون۔ کفار کی اسلام دشمنی اور جوش غضب کا اظہار ان غزوات سے ہوتا ہے جن میں رحمت عالم ﷺ کو بھی شمشیر بکف ہونا پڑا۔ فرمایا کہ وہ وقت بھی یاد کرنے کے لائق ہے جب آپ ﷺ اپنے گھر والوں کے پاس سے نکلے ، اور مسلمانوں کو کفار سے مقابلہ کرنے کے لئے ترتیب سے جما رہے تھے۔ یہاں مفہوم سے آگاہی کے لئے واقعات جنگ سے آگاہ ہونا مناسب معلوم ہوتا ہے۔ یہ غزوہ احد کے واقعات ہیں جو 3 ھ میں وقوع پذیر ہوئی۔ 2 ھ میں مقام بدر پر ذلت آمیز شکست کھانے کے بعد مشرکین مکہ نے یہ عہد کیا کہ جب تک مسلمانوں سے اس کا بدلہ نہ لیا جائے تب تک چین حرام ہے۔ چناچہ شام…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 124–125

ف 2 اذ تقول للمئو منین میں ظرف کا تعلق یا تو ولقد نصر کم اللہ ببدر سے ہے اور جنگ احد سے۔ امام طبری نے اول کو ترجیع دی ہے۔ یعنی جب کفارہ کی تیاری اور کثرت تعداد کو دیکھ کر مسلمانوں کے دلوں میں تسویش دی۔ چن نچہ بدر میں فرشتے نازل ہوئے (ابن کثیر۔ شو کانی) اور مسومین سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو اسی کام کے لیے مقرر کر رکھا تھا۔ بدر کے میدان فرشتوں کی تعداد ایک ہزار اور تین ہزار بھی منقول ہے جو منقول ہے جو بظاہر تعارض ہے۔ اس کا حل سورة انفال آیت 9 میں ملا حظہ ہو، ابن کثیر۔ قرطبی) بعض کے نزدیک اس وعدہ کا تعلق جنگ احد سے ہے اور انہیں نے کہا ہے چونکہ مسلمانوں نے توکل اور صبر سے کام نہ لیا اس…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(3:124) الن یکفیکم۔ اَ ۔ برائے استفہام۔ لن یکفی۔ مضارع منفی تاکید بلن صیغہ واحد مذکر غائب کم ضمیر جمع مذکر حاضر کفی یکفی (ضرب) کفایۃ سے کافی ہونا۔ کفایۃ اس چیز کو کہتے ہیں جو ضرورت کو اس طرح پوری کر دے کہ اس کے بعد کسی کی حاجت نہ رہے۔ کیا یہ تمہارے لئے کافی نہیں ہے۔ ان یمدکم۔ مد یمدو امدیمد۔ ہ۔ ب۔ کسی کو لشکر یار سد مہیا کرنا۔ یمد کی دال کے ضمہ کو نصیب بوجہ ان آئی ہے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 121–129

لغات القرآن آیت نمبر 121 تا 129 غدوت (تو صبح کے وقت نکلا) اھلک (تیرے گھر والے) تبوئ (تو جگہ (مورچوں پر) بٹھارہا تھا) مقاعد للقتال (لڑائی کے ٹھکانے (مورچے) ھمت (ارادہ کیا) طائفتین (دونوں جماعتیں) تفشلا (وہ دونوں بزدلی دکھائیں) ولیھما (اللہ ان دونوں کا دوست ہے) فلیتوکل (پھر بھروسہ کرنا چاہیے) اذلة (کمزرر، خوار) الن یکفیکم (کیا تمہیں کافی نہیں ہوگا) ان یمدکم (یہ کہ تمہاری مدد کی جائے) ثلٰثة اٰلاف (تین ہزار) منزلین (اترنے والے) حمسة اٰلافٍ (پانچ ہزار) مسومین (نشان لگے ہوئے (پلے ہوئے) بشرٰی (خوش خبری) لتطمئن (تاکہ تمہیں اطمینان ہو) یقطع (تاکہ کٹ جائے) یکبت (ذلیل کردیتا ہے) ینقلبوا (وہ پلٹ جائیں)…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 123–127

پانچ ہزار فرشتوں کی امداد احد کی لڑائی سے مسلمانوں میں پریشانی پھیل گئی تھی اس واسطے اللہ تعالیٰ نے احد کی لڑائی کے ذکر میں بدر کا ذکر فرمایا کہ احد کی لڑائی میں تمہارے ستر آدمی شہید ہوگئے تو تم بھی بدر کی لڑائی میں کافروں کے ستر آدمی مار چکے ہو اور ستر کو قید کیا۔ مسلمانوں نے بدر کی لڑائی میں صبر وتقویٰ سے کام لیا، اللہ تعالیٰ نے حسب وعدہ پانچ ہزار نشان والے فرشتوں کی مدد بھیجی اور مسلمانوں کی فتح اور کافروں کی شکست ہوئی۔ احد کی لڑائی میں آنحضرت ﷺ کی رفاقت خاص کے لئے صرف جبرائیل ومیکائیل (علیہما السلام) آئے تھے۔ بدر کی لڑائی کی طرح عام ملائکہ احد کی لڑائی میں آتے تو مسلمانوں کو ضرور فتح ہوتی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 124–128

[45] یہ الفاظ نبی ﷺ نے اس وقت کہے تھے جب میدان جنگ کو جاتے ہوئے رئیس المنافقین عبداللہ بن ابی اپنے تین سو آدمیوں کے ساتھ لشکر اسلامی سے الگ ہوگیا اور مسلمانوں کی تعداد گھٹ کر سات سو رہ گئی۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 124–129

اللہ کی شان بےنیازی : (ف 1) اس آیت میں بتایا ہے کہ آسمان و زمین جو کچھ ہے وہ خدائے متعال کے قبضہ قدرت میں ہے ، زمین کی بستیان اور آسمان کی بلندیاں سب اس کی قوت و عظمت پر دال ہیں ۔ اور کوئی نہیں جو اس کی خدائی سے باہر ہو ۔ وہ اگر بدترین لوگوں کو اپنی آغوش رحمت میں لے لے اور جنت ونعیم کی نعمتوں سے بہرہ ور ہونے کا موقع دے تو کوئی شخص اسے روک نہیں سکتا اور اگر محبوب ترین اشخاص کو دہکتے ہوئے جہنم میں ڈال دے تو کوئی قوت اسے روک نہیں سکتی وہ باجبروت وباملکوت خدا ہے ، یہ صحیح ہے کہ وہ ایسا نہیں کرے گا ، اس کا عدل ورحم اسے شفقت ورحم پر مجبور کریگا مگر جہاں تک اس کے جلال وقدرت کا تعلق ہے ‘ وہ ہر ضابطہ…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

Explained with ayahs 123–124

ف 3 اور بلاشبہ اللہ تعالیٰ تم مسلمانوں کی بدر کے میدان میں مدد کرچکا ہے اور تم کو منصور اور فتح مند فرما چکا ہے حالانکہ تم بہت کمزور اور بےسروسامان تھے اور چونکہ یہ نصرت و فتح تمہارے تقویے کی برکت سے ہوئی تھی لہٰذا آئندہ بھی اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو۔ تاکہ تم شکر کے خوگر رہو اور اللہ تعالیٰ کا شکر بجا لاتے رہو۔ (تیسیر) بدر ایک کنویں کا نام ہے اس نام سے یہ میدان مشہور ہے جہاں بدر کی لڑائی ہوئی تھی اذلۃ ذلیل کی جمع ہے مراد یہاں یہ ہے کہ تعداد میں کم ساز و سامان میں کم، غرض ہر طرح ضعیف اور کمزور اور بےسروسامان تھے اور یہ کامیابی تقوے کی برکت سے ہوئی تھی۔ تقوے کا مفہوم چونکہ عام ہے اس میں اس لئے…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 123–124

ف 1۔ معلوم ہوتا ہے کہ بڑے درجہ کے فرشتے ہوں گے اور نہ جو فرشتے پہلے زمین پر موجود تھے ان سے بھی یہ کام لیا جاسکتا تھا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

تمہارے مقابلہ میں کفار تین ہزار ہیں تو تمہاری مدد کے لیے تین ہزار فرشتے نازل ہوں گے : 236: غزوہ احد میں مسلمانوں کی تعداد جو اس وقت مدینہ طیبہ سے نکلے تھے ایک ہزار تھی لیکن مدینہ طیبہ سے نکلنے کے بعد مقام شوط سے عبداللہ بن ابی منافقین کا سردار اپنے گروہ کے تین صد لوگوں کے ہمراہ الگ ہوگیا اور اس طرح مخلص مومنوں کی تعداد صرف سات سو باقی رہ گئی تھی جن میں سے پچاس آدمی معرکہ احد سے بالکل الگ کر کے جبل عیتین پر کفار کے لشکر کی روک کے لیے مستقل مقرر کردیے گئے تھے باقی چھ صد پچاس مجاہدین میں سے تقریباً بیس پچیس آدمیوں کو مختلف ڈیوٹیوں پر تعین کیا گیا تھا اور باقی 265 مجاہدین میدان کارزار میں جنگ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 123–124

وَلَقَدْ نَصَرَ‌كُمُ اللَّـهُ بِبَدْرٍ‌ وَأَنتُمْ أَذِلَّةٌ And Allah certainly supported you at Badr when you were weak. (123) Badr : Location and Importance Badr is located about eighty miles south-west of Madinah and used to be a halting-place while travelling between Makkah and Madinah, before the modern Tariq al-Hijrah was commissioned into service which by passes it. At that time, Badr was known for its abundance of water, something very important in the desert zones of Arabia. The first armed encounter between believers and disbelievers came to pass at this spot on Friday, Ramadan…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 123–124

96. When the Muslims saw that their enemies numbered three thousand while three hundred out of their army of one thousand had departed they began to lose heart. It was on this occasion that the Prophet spoke these words to them.

Read the full tafseer →