Explained with ayahs 124–129
غزوہ بدر اور تائید الٰہی
آنحضرت ﷺ کا یہ تسلیاں دینا بعض تو کہتے ہیں بدر والے دن تھا حسن بصری عامر شعبی ربیع بن انس وغیرہ کا یہی قول ہے ابن جریر کا بھی اسی سے اتفاق ہے عامر شعبی کا قول ہے کہ مسلمانوں کو یہ خبر ملی تھی کہ کرز بن جابر مشرکوں کی امداد میں آئے گا اس پر اس امداد کا وعدہ ہوا تھا لیکن نہ وہ نہیں آیا اور نہ ہی یہ گئے ربیع بن انس فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کی مدد کیلئے پہلے تو ایک ہزار فرشتے بھیجے پھر تین ہزار ہوگئے پھر پانچ ہزار، یہاں اس آیت میں تین ہزار اور پانچ ہزار سے مدد کرنے کا وعدہ ہے اور بدر کے واقعہ کے بیان کے وقت ایک ہزار فرشتوں کی امداد کا وعدہ ہے۔ فرمایا آیت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 125–129
سورة اٰلِ عِمْرٰن 97
نبی ﷺ جب زخمی ہوئے تو آپ کے منہ سے کفار کے حق میں بد دعا نکل گئی اور آپ نے فرمایا کہ ”وہ قوم کیسے فلاح پاسکتی ہے جو اپنے نبی کو زخمی کرے“۔ یہ آیات اسی کے جواب میں ارشاد ہوئی ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 125–127
معارف و مسائل
فرشتوں کی امداد بھیجنے کی حکمت اور اصل مقصد اور تعداد ملائکہ میں مختلف عدد بیان کرنے کی حکمت
یہاں طبعی طور پر ایک سوال یہ ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے فرشتوں کو وہ طاقت بخشی ہے کہ ایک ہی فرشتہ پوری بستی کا تختہ الٹ سکتا ہے، جیسا کہ قوم لوط کی زمین تنہا جبرئیل امین نے الٹ دی تھی، تو پھر فرشتوں کا لشکر بھیجنے کی کیا ضرورت تھی۔ نیز یہ کہ جب فرشتے میدان میں آئے ہی تھے تو ایک کافر بھی بچنا نہیں چاہئے تھا اس کا جواب خود قرآن کریم نے آیت " وما جعلہ اللہ الا بشری " میں دیدیا، کہ فرشتوں کے بھیجنے میں در حقیقت ان سے کوئی میدان جنگ فتح کرانا مقصود نہ تھا، بلکہ مجاہدین مسلمین کی تسلی اور…
Read the full tafseer →بَلٰٓى ۙاِنْ تَصْبِرُوْا وَتَتَّقُوْا میں اللہ تعالیٰ کی رحمت و نصرت کے بھروسے پر لائی تھی کہ یہ تین سو آدمیوں کی کمی تین ہزار فرشتوں سے پوری ہوگی۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کی اس بات کی تائید فرما دی اور اپنے فضل سے اس پر دو ہزار فرشتوں کا اور اضافہ فرما دیا لیکن اس شرط کے ساتھ کہ اِنْ تَصْبِرُوْا وَتَتَّقُوْا، اگر تم ثابت قدم رہے اور خدا اور رسول کے احکام کی نافرمانی سے بچتے رہے، جنگ احد کے واقعات شاہد ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے اس وعدے کو پورا فرمایا۔ چناچہ مسلمانوں نے اپنے ابتدائی حملے میں کفار کو اچھی طرح تہ تیغ کیا اور ان کو شکست دے دی۔ لیکن شکست دے چکنے کے بعد ان کی ایک جماعت نے کمزوری…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 124–125
125۔ 1 مسلمان بدر کی جانب قافلہ قریش پر جو تقریبًا نہتا تھا چھاپہ مارنے نکلے تھے۔ مگر بدر پہنچتے پہنچتے معلوم ہوا کہ مکہ سے مشرکین کا ایک لشکر جرار غیظ و غضب اور جوش و خروش کے ساتھ چلا آرہا ہے۔ یہ سن کر مسلمانوں کی صف میں گھبراہٹ، تشویش اور جوش قتال کا ملا جلا اور عمل ہوا اور انہوں نے رب تعالیٰ سے دعا و فریاد کی۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے پہلے ایک ہزار پھر تین ہزار فرشتے اتارنے کی بشارت دی اور مزید وعدہ کیا کہ اگر تم صبرو تقویٰ پر قائم رہے اور مشرکین کا جوش وخروش و غضب برقرار نہ رہ سکا۔ (بدر پہنچنے سے پہلے ہی ان میں پھوٹ پڑگئی۔ ایک گروہ مکہ پلٹ گیا اور باقی جو بدر میں آئے ان میں سے اکثر سرداروں کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 124–125
43: یہ سارا حوالہ جنگ بدر کا ہے اس جنگ میں شروع میں تین ہزار فرشتوں کی بشارت دی گئی تھی لیکن بعد میں صحابہ کرام کو یہ اطلاع ملی کہ کرز بن جابر اپنا لشکر لے کر کفار مکہ کے ساتھ شامل ہونے کے لئے آرہا ہے، کفار کی تعداد پہلے ہی مسلمانوں سے تین گنا زیادہ تھی اب اس لشکر کے آنے کی اطلاع ملی تو مسلمانوں کو تشویش ہوئی اس موقع پر یہ وعدہ کیا گیا کہ اگر کرز کا لشکر اچانک آگیا تو تین ہزار کے بجائے پانچ ہزار فرشتے بھیجے جائیں گے ؛ لیکن پھر کرز کا لشکر نہیں آیا اس لئے پانچ ہزار بھیجنے کی نوبت نہیں آئی۔
Read the full tafseer →یہاں قرآن کریم انہیں سکھاتا ہے کہ آخر کار تمام امور اللہ تعالیٰ کی طرف پلٹتے ہیں ‘ اور تمام اشیاء ار واقعات میں اصل فیکٹر اللہ کی ذات ہے ‘ فرشتوں کا اتارا جانا تو اہل ایمان کے لئے خوشخبری ہے تاکہ ان کے دل خوش ہوں ‘ ثابت قدم ہوں اور انہیں اطمینان و سکون نصیب ہو ۔ رہی نصرت تو وہ براہ راست اللہ کی جانب سے ہے ‘ اس کا تعلق اللہ تعالیٰ کی قدرت اور اس کے ارادے سے ہے ‘ بغیر کسی واسطہ ‘ بغیر کسی وسیلہ اور بغیر کسی سبب کے ۔
Read the full tafseer →4 یعنی تین ہزار بیشک کافی ہیں تاہم اگر تم نے صبر و استقلال کا ثبوت دیا اور تقویٰ اختیار کر کے نافرمانی سے بچتے رہے، اور کفار کی فوج ایکدم تم پر ٹوٹ پڑی تو تین ہزار کے بجائے پانچ ہزار فرشتے بھیج دیئے جائیں گے جن کی خاص علامتیں ہونگی اور انکے گھوڑوں پر بھی خاص نشان ہوں گے۔ چونکہ بدر میں کفار کی تعداد ایک ہزار تھی اولا اس کے مناسب ایک ہزار فرشتوں کا وعدہ فرمایا جیسا کہ سورة انفال میں آئے گا۔ پھر مسلمانوں کی گھبراہٹ دور فرمانے کے لئے تعداد تگنی کردی گئی کیونکہ کفار کی تعداد مسلمانوں سے تگنی تھی۔ اس کے بعد شعبی کی روایت کے موافق جب مسلمانوں کو یہ خبر ملی کہ کرز بن جابر بڑی کمک لے کر مشرکین کی مدد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 124–125
آیت 124 اِذْ تَقُوْلُ لِلْمُؤْمِنِیْنَ اَلَنْ یَّکْفِیَکُمْ اَنْ یُّمِدَّکُمْ رَبُّکُمْ بِثَلٰثَۃِ اٰلٰفٍ مِّنَ الْمَلآءِکَۃِ مُنْزَلِیْنَ
یعنی اے مسلمانو ! اگر مقابلے میں تین ہزار کا لشکر آگیا ہے تو کیا غم ہے۔ میں تمہیں خوشخبری دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ تمہاری مدد کو تین ہزار فرشتے بھیجے گا جو آسمان سے اتریں گے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ کی اس خوشخبری کو ‘ جو ایک طرح سے استدعا بھی ہوسکتی تھی ‘ فوری طور پر شرف قبولیت عطا فرمایا اور اس کی منظوری کا اعلان فرما دیا۔
Read the full tafseer →114 ابھی لڑائی شروع بھی نہ ہوئی تھی کہ یہ افواہ پھیل گئی کہ کرزبن جابر بہت بڑی کمک لے کر مشرکین کی مدد کے لیے آرہا ہے۔ اس افواہ سے مسلمانوں میں مزید اضطراب پھیل گیا۔ اس وقت اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں سے فرمایا اگر کفار کو ہنگامی طور پر کمک مل جانے سے ڈرتے ہو تو اللہ تعالیٰ بھی اپنے فرشتوں کی کمک میں اضافہ کر دے گا۔ لہذا صبر و استقامت سے کام لو اور کافروں سے نہیں بلکہ اللہ سے ڈرتے رہو۔
بعض مفسرین نے تین ہزار اور پانچ ہزار فرشتوں سے مدد کے وعدہ کو جنگ بدر سے متعلق کیا ہے۔ اس لحاظ سے یہ بیان آیت نمبر 123 کے بیان کے ساتھ مسلسل ہے۔ ہوا یہ تھا۔ جنگ بدر میں قلیل تعداد اور کمزور اور نہتے مسلمانوں کو…
Read the full tafseer →256 ۔ (میدان جنگ میں اور اطاعت رسول ﷺ سے منہ نہ موڑوگے) غور کرکے دیکھ لیا جائے سارا زور صبر وثبات اور اطاعت رسول ﷺ پر ہے۔ جنگ احد سے قبل امت کے سپہدار اعظم ﷺ نے جو خطبہ اپنی سپاہ کے سامنے دیا تھا، اور جو حدیث کی کتابوں میں منقول چلا آتا ہے، اس میں یہ مضمون خصوصیت کے ساتھ ہے کہ :۔ اگر ثابت قدم رہوگے تو اللہ تمہی کو مظفر ومنصور کرے گا، اپنے پروردگار پر اعتماد رکھو، ثابت قدم رہو، اور فتح تمہی کو نصیب ہوگی “۔
257 ۔ (اور اچانک حملہ کی حالت میں امداد ” بشری “ عادۃ ممتنع ہوتی ہے) (آیت) ” یاتوکم “ کے فاعل وہی مخالفین ومعاندین ہیں۔ ای المشرکون “ (روح) (آیت) ” من فورھم “۔ لفظۃ الفور تدل علی السرعۃ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 124–130
آیت نمبر 130 تا 143
ترجمہ : اے ایمان والو ! یہ بڑھتا ثڑھتا سود کھانا چھوڑ دو (مُضٰعَفَۃً ) الف اور بغیر الف دونوں طریقوں پر ہے۔ اس طور پر کہ مدت پوری ہونے پر مالی مطالبہ بڑھا دو ۔ اور مطالبہ میں مہلت دے دو ۔ (اکل ربا) کو ترک کرکے اللہ سے ڈرتے رہو تاکہ تم کامیاب ہوجاؤ۔ اور اس آگ سے ڈرو جو (اصالۃً ) کافروں کے لیے تیار کی گئی ہے کہ تم کو اس میں عذاب دیا جائے اور اللہ اور رسول کی اطاعت کرو تاکہ تم پر رحم کیا جائے اور اپنے رب کی مغفرت اور جنت کی طرف دوڑو کہ جس کی وسعت زمین و آسمان ہیں (سَارِعُوْا) میں قبل السین واؤ اور بدون واؤ دونوں (قراءتیں) ہیں۔ یعنی (جنت کی وسعت) ان دونوں کی وسعت کے مانند ہے…
Read the full tafseer →بَلیٰ کیوں کافی نہیں۔ یہ نفی موکد کے بعد اثبات ہے آگے صبر وتقویٰ کی ترغیب دینے اور دلوں کو قوی بنانے کے لیے مزید مشروط امداد کا وعدہ فرمایا۔
ان تصبروا اگر تم قتال پر صبر رکھو گے۔
وتتقوا اور رسول اللہ کے حکم کی مخالفت سے پرہیز کرتے رہو گے۔
و یاتوکم من فورھم ھذا اور اسی حالت میں کہ تم کمزور ہو اور وہ طاقتور ہیں تم پر اسی وقت آپڑیں گے۔
فور بمعنی ساعت۔ اصل میں یہفَارَتِ القِدْرُ کا مصدر ہے (ہانڈی میں ابال آگیا) مجازاً بمعنی سرعت ہے پھر اس حالت کو کہنے لگے جو موجودہ ہو۔
میں کہتا ہوں کلام میں فوراً کی قید لگانے کا کوئی خاص مفہوم نہیں بلکہ بات میں قوت پیدا کرنا مقصود ہے کہ آئندہ جب تم میں مشرکوں سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 124–125
(124۔ 125) غزوہ احد کے دن جب آپ فرما رہے تھے کہ تمہارا پروردگار تین ہزار فرشتوں سے تمہاری اعانت فرمائے گا جو تمہاری مدد کے لیے تمہاری مدد کے لیے آسمان سے اتریں گے یہ تعداد تمہاری کفایت کرجائے گی اپنے نبی کے ساتھ لڑائی میں ثابت قدم رہو اور ان کی نافرمانی اور مخالفت سے ڈرتے رہو اور مکہ والے مکہ کی جانب سے تم پر اچانک حملہ کریں گے، اس وقت تمہارا رب پانچ ہزار فرشتے بھیجے گا جو خاص وضع بنائے ہوئے ہوں گے یا یہ کہ وہ عمامے باندھے ہوئے ہوں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 124–127
اِذْ تَقُوْلُ لِلْمُؤْمِنِيْنَ : اس کا تعلق یا تو جنگ بدر سے ہے یا جنگ احد سے۔ امام طبری نے پہلی بات کو ترجیح دی ہے، یعنی جب کفار کی تیاری اور کثرت تعداد کو دیکھ کر مسلمانوں کے دلوں میں تشویش پیدا ہوئی تو رسول اللہ ﷺ نے فرشتوں کی مدد کا ذکر کر کے انھیں تسلی دی۔ چناچہ بدر میں فرشتے نازل ہوئے۔ بدر میں فرشتوں کے نزول کی کیفیت کے لیے دیکھیے سورة انفال (9) (ابن کثیر۔ شوکانی) بدر کے دن فرشتوں کی تعداد سورة انفال میں ایک ہزار ذکر ہوئی ہے، جبکہ یہاں تین ہزار اور پانچ ہزار کا ذکر ہے۔ جواب اس کا یہ ہے کہ پہلے ایک ہزار کا وعدہ ہوا، پھر تین ہزار اور پھر پانچ ہزار کی بشارت ہوئی، ان میں آپس میں کوئی تعارض…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 123–125
آیت نمبر : 123 تا 125۔
اس میں چھ مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر : (1) قولہ تعالیٰ : (آیت) ” ولقد نصرکم اللہ ببدر “۔ غزوہ بدر سترہ رمضان المبارک، بروز جمعہ ہجرت کے اٹھارہویں ماہ واقع ہوا، اور بدر، وہاں پانی کا ایک کنواں ہے اسی سبب سے اس جگہ کا نام بدر ہے اور شعبی نے کہا ہے : وہ پانی قبیلہ جہینہ کے ایک آدمی کا تھا اس کا نام بدر تھا (1) (معالم التنزیل، جلد 1، صفحہ 542) اور اس وجہ سے اس جگہ کا نام بدر رکھا گیا، پہلا معنی زیادہ اور عام ہے۔ واقدی وغیرہ نے کہا ہے : بدر غیر منقول جگہ کا نام ہے اس کا ذکر عنقریب واقعہ بدر کے ضمن میں سورة الانفال میں آئے گا، انشاء اللہ تعالیٰ “۔ اور اذلۃ “ کا معنی ہے بہت کم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 125–128
(1) ابن ابی شیبہ احمد عبدبن حمید بخاری مسلم ترمذی نسائی ابن جریر ابن المنذر ابن ابی حاتم نحاس نے اپنی ناسخ میں اور بیہقی نے دلائل میں انس ؓ سے روایت کیا ہے کہ نبی ﷺ کا وہ دانت ٹوٹ گیا جو سامنے والے دانتوں ناب کے درمیان ہوتا ہے اور آپ کا چہرہ مبارک بھی زخمی ہوگیا یہاں تک کہ آپ کے چہرہ پر خون بہہ نکلا آپ نے فرمایا یہ قوم کیسے کامیاب ہوگی جس نے اپنے نبی کے ساتھ ایسا (معاملہ) کیا حالانکہ وہ) نبی ﷺ ان کو اپنے رب کی طرف بلاتا ہے تو اس پر اللہ تعالیٰ نے (یہ آیت) اتاری ” لیس لک من الامر شیء او یتقوب علیہم او یعذبہم فانہم ظلمون “
(2) ابن جریر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا ہے کہ ہم کو یہ بات ذکر کی گئی ہے…
Read the full tafseer →[بَلٰٓی : کیوں نہیں ] [اِنْ : اگر ] [تَصْبِرُوْا : تم لوگ ثابت قدم رہو ] [وَتَـتَّـقُوْا : اور تقویٰ کرو ] [وَیَاْتُوْکُمْ : اور وہ آئیں تمہارے پاس ] [مِّنْ فَوْرِہِمْ ہٰذَا : اپنے اس جوش سے ] [یُمْدِدْکُمْ : تو مدد کرے گا تمہاری ] [رَبُّـکُمْ : تمہارا رب ] [بِخَمْسَۃِ اٰلٰفٍ : پانچ ہزار ] [مِّنَ الْمَلٰٓئِکَۃِ : فرشتوں سے ] [مُسَوِّمِیْنَ : نشان لگانے والے ہوتے ہوئے ]
Read the full tafseer →لفظ مُسَوِّمِیْنَ کا ترجمہ نشان لگے ہوئے سے کیا گیا ہے ان فرشتوں کے کیا نشان تھے اس کے بارے میں صاحب روح المعانی صفحہ 46: ج 4 بحوالہ ابن اسحاق اور طبرانی حضرت ابن عباس ؓ سے نقل کرتے ہیں کہ غزوہ بدر میں فرشتوں کی نشانی یہ تھی کہ وہ سفید پگڑیاں باندھے ہوئے تھے جن کے شملے کمروں پر ڈالے ہوئے تھے اور غزوہ حنین میں ان کے عمامے سرخ تھے اس بارے میں اور بھی اقوال ہیں جو کتب تفسیر میں مذکور ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 123–127
تذکیر بقصہ بدر۔
برائے اظہار تاثیر توکل وتقوی وصبر۔
قال اللہ تعالیٰ ولقد نصرکم اللہ ببدر۔۔۔۔۔۔ الی۔۔۔۔۔ خائبین۔
اب قصہ احد کے بعد کچھ قصہ بدر کا ذکر کرتے ہیں اس غزوہ میں جو بےمثال فتح ونصرت ظہور میں آئی وہ ظاہر اسباب میں توکل اور تقوی اور صبر کی برکت تھی چناچہ فرماتے ہیں اور البتہ تحقیق مدد کی تمہاری اللہ نے جنگ بدر میں حالانکہ تم اس وقت بےسروسامان تھے اور دشمنوں کی نظروں میں ذلیل اور خوار تھے اور ظاہر اسباب میں دشمنوں کے مقابلہ میں تمہارا ٹھہرنا اور ان پر فتحیاب ہوناناممکن تھا مگر چونکہ اس بےسروسامانی میں تمہاری نظر اللہ پر تھی اس لیے اللہ نے تم کو عزت و رفعت دی۔
ہر کجا پستی اسب آب آنجارود ہر…
Read the full tafseer →192 اس کے بعد جب یہ خبر پھیلی کہ پانچ ہزار سپاہیوں کو مزید کمک مشرکین کو پہنچ رہی ہے تو مسلمان اس خبر سے ذرا دلگیر ہوئے تو اللہ تعالیٰ نے مزید پانچ ہزار فرشتے نازل کرنے کا وعدہ فرمایا۔ لیکن جب کرز نے مشرکین کی شکست کی خبر سنی تو امداد دینے کا ارادہ ترک کردیا۔ اس لیے پانچہزار فرشتے بھی نازل نہ ہوئے۔ قال الشعبی بلغ النبی ﷺ و اصحابہ یوم بدر ان کرز بن جابر المحاربی یرید ان یمد المشرکین فشق ذالک علی النبی ﷺ علی المسلمین فانزل اللہ تعالیٰ (اَلَنْ یَّکْفِیَکُمْ الی قولہ مُسَوِّمِیْنَ ) فبلغ کر زا الھن یملۃ فلم یمدھم ورجع فلم یمدھم اللہ ایضا بالخمسۃ الاف وکانوا قد امدوا بالف (قرطبی ص 195 ج) اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 123–125
ربط آیات :
گذشتہ آیت میں غزوہ احد کا ذکر تھا اور آمدہ آیات بھی احد ہی سے متعلق ہیں ، تاہم درمیان میں اللہ تعالیٰ نے غزوہ بدر کا بطور مثال ذکر فرمایا ہے کہ دیکھو ! بدر کے موقع پر تم بےسروسامانی کی حالت میں تھے ، افرادی قوت بھی کم تھی ، رسد بھی بالکل قبیل تھی۔ مگر تمہارے صبر اور تقویٰ کے درجہ کمال کی وجہ سے بھی کم تھی ، رسد بھی بالکل قلیل تھی۔ مگر تمہارے صبر اور تقویٰ کے درجہ کمال کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے تمہیں طاقتور دشمن پر عظیم فتح نصیب فرمائی ، اور اب احد کے موقع پر تمہاری پوزیشن بہت بہتر تھی۔ مگر صبر اور تقوی کی کمی اور بعض غلطیوں کی وجہ سے شکست کا سامنا کرنا پڑا ، اس میں مسلمانوں کی…
Read the full tafseer →بَلٰٓى 0 ۙ اِنْ تَصْبِرُوْا وَتَتَّقُوْا وَيَاْتُوْكُمْ مِّنْ فَوْرِھِمْ ھٰذَا يُمْدِدْكُمْ رَبُّكُمْ بِخَمْسَۃِ اٰلٰفٍ مِّنَ الْمَلٰۗىِٕكَۃِ مُسَوِّمِيْنَ 125
صبر
الصَّبْرُ : الإمساک في ضيق، والصَّبْرُ : حبس النّفس علی ما يقتضيه العقل والشرع، أو عمّا يقتضیان حبسها عنه، وَالصَّابِرِينَ وَالصَّابِراتِ [ الأحزاب/ 35] ، وسمّي الصّوم صبرا لکونه کالنّوع له، وقال عليه السلام :«صيام شهر الصَّبْرِ وثلاثة أيّام في كلّ شهر يذهب وحر الصّدر»
( ص ب ر ) الصبر
کے معنی ہیں کسی کو تنگی کی حالت میں روک رکھنا ۔ لہذا الصبر کے معنی ہوئے عقل و شریعت دونوں یا ان میں سے کسی ایک کے تقاضا کے مطابق اپنے آپ کو روک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 124–127
ترکیب : اذ تقول ممکن ہے کہ اذھمت سے بدل ہو اور ممکن ہے کہ نصر کم کا ظرف ہو لیس لک خبر شیء اسم اویتوب او یعذبہم معطوف ہیں یکبتہم پر یا الامر پر یا شیء پر با ضماران اور الان کے معنی میں بھی ہوسکتا ہے۔
تفسیر : پہلی آیت میں ذکر تھا کہ باوجود یکہ تمہاری حالت نہایت خراب تھی مگر خدا نے بدر کے جنگ میں اسباب ظاہر کے برخلاف تمہاری مدد کی تھی۔ اب یہاں اس مدد غیبی کو یاد دلاتا ہے یعنی مدد غیبی کا وہ دن تھا کہ جس دن اے نبی تم مسلمانوں کو تسلی دے رہے اور یہ کہہ رہے تھے کہ تم اپنی قلت اور بےسرو سامانی اور کفار کی کثرت اور اسباب حرب پر خیال کرکے ہراساں نہ ہو۔ کیا تم کو کافی نہیں کہ خدا تمہاری تین ہزار فرشتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 124–125
اِذْ تَقُوْلُ لِلْمُؤْمِنِیْنَ اَلَنْ یَّکْفِیَکُمْ اَنْ یُّمِدَّکُمْ رَبُّـکُمْ بِثَـلٰـثَۃِ اٰلٰفٍ مِّنَ الْمَلٰٓئِکَۃِ مُنْزَلِیْنَ ۔ ط بَلٰی لا اِنْ تَصْبِرُوْا وَتَتَّقُوْا وَیَاْتُوْکُمْ مِّنْ فَوْرِہِمْ ھٰذَا یُمْدِدْکُمْ رَبُّـکُمْ بِخَمْسَۃِ اٰلٰفٍ مِّنَ الْمَلٰٓئِکَۃِ مُسَوِّمِیْنَ ۔
(یاد کرو ! جب اے پیغمبر ! تم مسلمانوں سے کہہ رہے تھے کہ کیا تمہارے لیے کافی نہیں کہ تمہارا رب تین ہزار تازہ دم فرشتوں سے تمہاری مدد فرمائے۔ ہاں اگر تم ثابت قدم رہو گے اور اللہ کا تقویٰ اختیار کرو گے اور دشمن تمہارے اوپر اچانک آدھمکے تو تمہارا رب پانچ ہزار فرشتوں سے تمہاری مدد فرمائے گا جو اپنے خاص نشان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 124–128
فہم القرآن
ربط کلام : جس طرح اللہ تعالیٰ کی نصرت کے بغیر کوئی کسی کی مدد نہیں کرسکتا۔ اسی طرح معاف کرنا یا کسی کو عذاب دینا بھی اللہ ہی کے اختیار میں ہے کیونکہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کی ملکیت ہے۔
غزوۂ احد میں مسلمانوں کے سر کردہ جنگجو یہاں تک کہ حضرت حمزہ ؓ بڑی بیدردی کے ساتھ شہید کردیے گئے اور رسول مکرم ﷺ کی ذات اقدس کو بھی زخم آئے، رباعی دانت شہید ہوا اور آپ بےہوش ہو کر ایک گھاٹی میں جا گرے جونہی ہوش سنبھالا تو آپ کی زبان اطہر سے بےساختہ بددعا نکلی :
(کَیْفَ یُفْلِحُ قَوْمٌ شَجُّوْا نَبِیَّھُمْ وَکَسَرُوْا رُبَاعِیَتَہٗ وَھُوَ یَدْعُوْھُمْ إِلَی اللّٰہِ فَأَنْزَلَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ (لَیْسَ…
Read the full tafseer →125: بَلٰٓی ِانْ تَصْبِرُوْا وَتَتَّقُوْا وَیَاْتُوْکُمْ مِّنْ فَوْرِھِمْ ھٰذَا یُمْدِدْکُمْ رَبُّکُمْ بِخَمْسَۃِ ٰالٰفٍ مِّنَ الْمَلٰٓپکَۃِ مُسَوِّمِیْنَ ۔
فوری و کافی مدد :
بَلٰٓی (کیوں نہیں) نفی تاکید بلَنْ کے بعد بَلٰیؔ کو ایجاب کے لیے لائے کہ اتنے فرشتوں سے امداد تمہارے لیے کافی ہے پس کفایت کو لازم کردیا۔ پھر فرمایا ِانْ تَصْبِرُوْا (اگر تم صبر کرو) اگر تم قتال پر صبر کرو۔ وَتَتَّقُوْا (اور تقویٰ اختیار کرو) اور رسول اللہ ﷺ کی مخالفت سے بچو۔ وَیَاْتُوْکُمْ (اور وہ لوگ تم پر آپہنچیں) اور تمہارے پر مشرکین مِّنْ فَوْرِھِمْ ھٰذَا (اسی دم) آپڑیں۔ یہ فورؔ کا لفظ فار القدر سے لیا گیا جبکہ وہ…
Read the full tafseer →(غزوہ بدر میں نصرت خداوندگی )
125۔ بلی ان نصبروا وتتقوا ویاتوکم من فورھم ۔۔۔۔ مسومین “۔ انہوں نے بدر میں صبر اختیار کیا اور اللہ تعالیٰ سے تقوی اختیار کیا ، پھر اللہ تعالیٰ نے پانچ ہزار فرشتوں سے مدد کی جیسا کہ وعدہ کیا تھا ، حسن (رح) ، فرماتے ہیں بس یہی پانچ ہزار قیامت کے دن تک مسلمانوں کے لیے پشت پناہ رہیں گے ، حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ و مجاہد (رح) فرماتے ہیں کہ بدر کے علاوہ فرشتوں نے کسی معرکے میں جنگ نہیں کی اور جنگوں میں انہوں نے شمولیت اختیار کی لیکن قتال نہیں کیا محمد بن اسحاق (رح) ، کا بیان ہے کہ جب احد کے دن لوگ آپ ﷺ کو چھوڑ کر چلے گئے تو آپ کے پاس سعد بن مالک باقی رہے جو تیر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 123–127
(123 ۔ 127) ۔ احد کی لڑائی میں مسلمانوں کو شکست ہو کر ایک بڑی پریشانی مسلمانوں میں پھیل گئی تھی۔ اس واسطے اللہ تعالیٰ نے احد کی لڑائی کے ذکر میں دو جگہ بدر کا ذکر فرمایا ہے۔ ایک اس آیت میں اور دوسرے آئندہ کی آیت میں اس طرح کہ اگر اس احد کی لڑائی میں تمہارے ستر آدمی شہید ہوگئے تو تم بھی تو بدر کی لڑائی میں کافروں کے ستر آدمی مارچکے ہو۔ اور ستر کو قید کرچکے ہو یہ ایک لڑائی کے ذکر میں دوسری لڑائی کا ذکر اسی واسطے فرما دیا ہے کہ اس فتح کی لڑائی کو یاد کر کے اس شکست کی لڑائی کا زیادہ افسوس مسلمانوں کو نہ رہے یہ فرشتوں کی مدد کا ذکر جو اس آیت میں ہے اس میں مفسروں کا اختلاف ہے بعض کہتے ہیں کہ بدر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 122–125
آیت 122
یہ آیات واقعہ احد کے بارے میں نازل ہوئیں۔ اس کا قصہ معروف ہے جو سیرت اور تاریخ کی کتابوں میں تفصیل سے بیان ہوا ہے۔ یہاں اسے بیان کرنے اور اس کے درمیان میں بدرکا واقعہ لے آنے میں غالباً یہ حکمت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مومنوں سے وعدہ کیا تھا کہ اگر وہ صبر اور تقویٰ اختیار کریں گے، تو اللہ تعالیٰ ان کی مدد کرے گا اور دشمن کی سازشوں سے انہیں محفوظ فرمائے گا۔ یہ ایک عام حکم اور سچا وعدہ تھا، جس کی شرائط پوری کی جاتیں تو اس کا پورا ہونا ناممکن نہیں تھا۔ ان دو قصوں میں اس کا ایک نمونہ پیش فرما دیا کہ اللہ نے بدر میں مسلمانوں کی مدد اس لئے فرمائی تھی کہ انہوں نے صبر کا یا اور تقویٰ اختیار کیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 119–130
سود کی ہر صورت حرام ہے
قول باری ہے (لاتاکلوا الربواضعا فامضاعفۃ، یہ بڑھتا اور چڑھتا سود کھانا چھوڑ دو ) قول باری (اضعا فاعفۃ) کے دومعنی بیان کیے گئے ہیں اول تاجیل قرض کی ادائیگی کی مدت میں اضافے کے ساتھ سود کو رقم میں اضافہ کرتے جانا اور ہر مدت کے لیے زائد رقم کی قسط مقررکر دینا۔ دوم سودی رقموں کے ذریعے اپنے مال میں کئی گنا اضافہ کرلینایہ اس بات کی دلیل ہے کہ جس چیز کا خصوصیت کے ساتھ ذکرکر دیاجائے، وہ اس پر دلالت نہیں کرتی کہ اس کے ماسواچیزوں کا حکم کے برعکس ہے کیونکہ اگر ایسا ہوتا تو پھر کئی کئی گنابڑھا کر سود خوری کی تحریم اس پر دلالت کرتی کہ اگر کئی کئی گنا اضافے کی صورت نہ ہو تو سود کھانا…
Read the full tafseer →260 اہل ایمان کیلئے فرشتوں کی خصوصی فوج کا انتظام : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اگر تم لوگ ثابت قدم رہے اور تم تقوی و پرہیزگاری کی روش پر قائم رہے اور وہ لوگ تم لوگوں پر یکبارگی حملہ آور ہوگیے تو تمہارا رب تمہاری مدد فرمائے گا پانچ ہزار ایسے فرشتوں سے جو خاص نشانوں والے ہوں گے۔ یعنی ایسے خاص نشانیوں والے جن سے ظاہرہو گا کہ یہ فرشتوں کا خاص لشکر ہے جو تمہاری مدد کیلئے بھیجا جا رہا ہے، اس لئے وہ خاص نشانات والے فرشتے ہوں گے، جس طرح کہ مختلف فوجی یونٹوں کے مختلف نشانات ہوتے ہیں، جن سے ان کی پہچان ہوتی ہے۔ اسی طرح ملائکہء کرام کے اس خاص لشکر کے بھی خاص نشانات ہوں گے جو تمہاری مدد کیلئے بھیجے جائیں گے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 121–127
غزوہ احد
تشریح۔: گزشتہ آیات میں بیان ہوا تھا کہ اگر مسلمان صبر اور تقوٰی پر مضبوطی سے قائم رہیں تو دنیا کی کوئی طاقت ان کو کسی قسم کا نقصان نہیں پہنچا سکتی۔ غزوہ احد کی معمولی شکست اور تکلیف کا بیان اس لیے کیا گیا ہے کہ اس میں مسلمانوں نے صبر اور تقوٰی میں کمزوری دکھائی تھی اور اسی کمزوری اور کوتاہی کی سزا ان کو فوراً مل گئی۔ اور غزوہ بدر کی جیت کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ شروع میں غزوہ احد کے لیے نبی اکرم ﷺ کا صبح نکلنا، میدان جنگ میں اپنی فوج کو ترتیب دینا، فوج کو مناسب جگہوں پر بٹھانا اور میدان جنگ کا نقشہ درست کرنا یہ سب ذکر کیا گیا ہے۔ صرف جنگ احد کی یاد دہانی کے لیے غزوہ احد شوال 3 ھ کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 121–129
آیات 121- 129
اسرارو معارف
واذ غدوت من اھلک………………فاتقو اللہ لعلکم تشکرون۔
کفار کی اسلام دشمنی اور جوش غضب کا اظہار ان غزوات سے ہوتا ہے جن میں رحمت عالم ﷺ کو بھی شمشیر بکف ہونا پڑا۔ فرمایا کہ وہ وقت بھی یاد کرنے کے لائق ہے جب آپ ﷺ اپنے گھر والوں کے پاس سے نکلے ، اور مسلمانوں کو کفار سے مقابلہ کرنے کے لئے ترتیب سے جما رہے تھے۔
یہاں مفہوم سے آگاہی کے لئے واقعات جنگ سے آگاہ ہونا مناسب معلوم ہوتا ہے۔
یہ غزوہ احد کے واقعات ہیں جو 3 ھ میں وقوع پذیر ہوئی۔ 2 ھ میں مقام بدر پر ذلت آمیز شکست کھانے کے بعد مشرکین مکہ نے یہ عہد کیا کہ جب تک مسلمانوں سے اس کا بدلہ نہ لیا جائے تب تک چین حرام ہے۔ چناچہ شام…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 124–125
ف 2 اذ تقول للمئو منین میں ظرف کا تعلق یا تو ولقد نصر کم اللہ ببدر سے ہے اور جنگ احد سے۔ امام طبری نے اول کو ترجیع دی ہے۔ یعنی جب کفارہ کی تیاری اور کثرت تعداد کو دیکھ کر مسلمانوں کے دلوں میں تسویش دی۔ چن نچہ بدر میں فرشتے نازل ہوئے (ابن کثیر۔ شو کانی) اور مسومین سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو اسی کام کے لیے مقرر کر رکھا تھا۔ بدر کے میدان فرشتوں کی تعداد ایک ہزار اور تین ہزار بھی منقول ہے جو منقول ہے جو بظاہر تعارض ہے۔ اس کا حل سورة انفال آیت 9 میں ملا حظہ ہو، ابن کثیر۔ قرطبی) بعض کے نزدیک اس وعدہ کا تعلق جنگ احد سے ہے اور انہیں نے کہا ہے چونکہ مسلمانوں نے توکل اور صبر سے کام نہ لیا اس…
Read the full tafseer →(3:125) یاتوکم۔ میں ضمیر فاعل اہل کفار کی طرف راجع ہے جو جنگ احد میں اہل اسلام کے خلاف نبردآزما تھے۔
من فورھم۔ فور۔ اسم فعل۔ جوش۔ ابال۔ عجلت۔ فوراً ۔ الفور۔ کے معنی سخت جوش مارنے کے ہیں۔ یہ لفظ آگ کے بھڑک اٹھنے پر بھی بولا جاتا ہے اور ہانڈی اور غصہ کے جوش کھانے پر بھی۔ قرآن مجید میں ہے وقار التنور (11:40) اور تنور جوش مارنے لگا۔ ہانڈی کے اوبال کو فوارۃ کہا جاتا ہے پھر تشبیہ کے طور پر پانی کے ابلتے ہوئے چشمے کو بھی فوارۃ الماء کہتے ہیں۔ ایک محاورہ ہے فعلت کذا من فوری۔ میں نے جوش میں ایسا کیا۔ پس یاتوکم من فورھم ھذا کا مطلب یہ ہوا کہ : اور کافر تم پر جوش کے ساتھ دفعتہ حملہ کردیں۔
مسومین۔ اسم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 121–129
لغات القرآن آیت نمبر 121 تا 129
غدوت (تو صبح کے وقت نکلا) اھلک (تیرے گھر والے) تبوئ (تو جگہ (مورچوں پر) بٹھارہا تھا) مقاعد للقتال (لڑائی کے ٹھکانے (مورچے) ھمت (ارادہ کیا) طائفتین (دونوں جماعتیں) تفشلا (وہ دونوں بزدلی دکھائیں) ولیھما (اللہ ان دونوں کا دوست ہے) فلیتوکل (پھر بھروسہ کرنا چاہیے) اذلة (کمزرر، خوار) الن یکفیکم (کیا تمہیں کافی نہیں ہوگا) ان یمدکم (یہ کہ تمہاری مدد کی جائے) ثلٰثة اٰلاف (تین ہزار) منزلین (اترنے والے) حمسة اٰلافٍ (پانچ ہزار) مسومین (نشان لگے ہوئے (پلے ہوئے) بشرٰی (خوش خبری) لتطمئن (تاکہ تمہیں اطمینان ہو) یقطع (تاکہ کٹ جائے) یکبت (ذلیل کردیتا ہے) ینقلبوا (وہ پلٹ جائیں)…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 123–127
پانچ ہزار فرشتوں کی امداد
احد کی لڑائی سے مسلمانوں میں پریشانی پھیل گئی تھی اس واسطے اللہ تعالیٰ نے احد کی لڑائی کے ذکر میں بدر کا ذکر فرمایا کہ احد کی لڑائی میں تمہارے ستر آدمی شہید ہوگئے تو تم بھی بدر کی لڑائی میں کافروں کے ستر آدمی مار چکے ہو اور ستر کو قید کیا۔ مسلمانوں نے بدر کی لڑائی میں صبر وتقویٰ سے کام لیا، اللہ تعالیٰ نے حسب وعدہ پانچ ہزار نشان والے فرشتوں کی مدد بھیجی اور مسلمانوں کی فتح اور کافروں کی شکست ہوئی۔ احد کی لڑائی میں آنحضرت ﷺ کی رفاقت خاص کے لئے صرف جبرائیل ومیکائیل (علیہما السلام) آئے تھے۔ بدر کی لڑائی کی طرح عام ملائکہ احد کی لڑائی میں آتے تو مسلمانوں کو ضرور فتح ہوتی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 124–128
[45] یہ الفاظ نبی ﷺ نے اس وقت کہے تھے جب میدان جنگ کو جاتے ہوئے رئیس المنافقین عبداللہ بن ابی اپنے تین سو آدمیوں کے ساتھ لشکر اسلامی سے الگ ہوگیا اور مسلمانوں کی تعداد گھٹ کر سات سو رہ گئی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 124–129
اللہ کی شان بےنیازی :
(ف 1) اس آیت میں بتایا ہے کہ آسمان و زمین جو کچھ ہے وہ خدائے متعال کے قبضہ قدرت میں ہے ، زمین کی بستیان اور آسمان کی بلندیاں سب اس کی قوت و عظمت پر دال ہیں ۔ اور کوئی نہیں جو اس کی خدائی سے باہر ہو ۔
وہ اگر بدترین لوگوں کو اپنی آغوش رحمت میں لے لے اور جنت ونعیم کی نعمتوں سے بہرہ ور ہونے کا موقع دے تو کوئی شخص اسے روک نہیں سکتا اور اگر محبوب ترین اشخاص کو دہکتے ہوئے جہنم میں ڈال دے تو کوئی قوت اسے روک نہیں سکتی وہ باجبروت وباملکوت خدا ہے ، یہ صحیح ہے کہ وہ ایسا نہیں کرے گا ، اس کا عدل ورحم اسے شفقت ورحم پر مجبور کریگا مگر جہاں تک اس کے جلال وقدرت کا تعلق ہے ‘ وہ ہر ضابطہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 125–126
ف 1 میدان بدر میں یہ نصرت و امداد اس وقت ہوئی تھی جب آپ مسلمانوں سے یوں فرما رہے تھے کہ کیا تمہارے اطمینان قلب کے لئے یہ بات کافی نہیں ہے کہ تمہارا پروردگار تین ہزار نازل شدہ فرشتوں سے تمہاری امداد فرمائے جو آسمان سے اسی کام کے لئے نازل کئے جائیں گے۔ ہاں کیوں نہیں حق تعالیٰ کا یہ وعدہ تمہاری تقویت کے لئے ضرور کافی ہوگا بلکہ اگر تم مقابلہ میں ثابت قدم رہو گے اور تقویٰ اور پرہیزگاری کے پابند رہو گے اور اگر دشمن جوش میں آ کر تم پر دفعۃً ٹوٹ پڑیں گے تو اللہ تعالیٰ اسی آن تمہاری مدد پانچ ہزار فرشتوں سے کرے گا جن کی علامت اور نشان مخصوص ہوں گے۔ (تیسیر)
تسویم۔ کے معنی علامت لگانا یہ علامت یا تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 125–127
ف 2۔ یہاں امداد کی حکمت نہایت تصریح کے ساتھ فرمائی جس میں غور کرنے سے اس مضمون میں کوئی شبہ باقی نہیں رہتا کیونکہ حاصل اس کا یہ ہوا کہ ان فرشتوں کے نزول سے اصلی مقصود یہ تھا کہ مسلمانوں کے قلب کو سکون ہو۔
Read the full tafseer →جب مخالفین کی تعداد بڑھ گئی تو اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کی تعداد کو بڑھا دیا :
237: اس آیت میں فرشتوں کی تعداد کو پانچ ہزار کردیا گیا۔ یہ جنگ احد ہی کا واقعہ ہے یا کسی دوسری جنگ کا۔ بعض مفسرین نے یہ کہا ہے کہ دراصل بدر میں کفار کی تعداد ایک ہزار تھی اور اللہ نے ایک ہزار فرشتوں سے مسلمانوں کی مدد فرمائی جیسا کہ الانفال میں فرمایا گاگ اور پھر احد کے میدان میں کفار کی تعداد تین ہزار تھی تو اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کی مدد بھی تین ہزار فرشتوں سے مسلمانوں کی مدد فرمائی اور بعض نے کہا ہے کہ پہلی دونوں مددیں تو بدر میں تھیں لیکن احد میں پہلے تین ہزار کی مدد تھی اور بعد میں بڑھا کر پانچ ہزار کی مدد کردی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 125–129
Commentary
In the previous verses, the battle of Badr was cited in relation to the battle of Uhud. Briefly stated there was the unseen support from Allah Almighty given to Muslims. In the present verses, some details of that support have been mentioned. Also stated is the wisdom behind the sending of angels.
One may naturally ask a question here. When Allah Almighty has endowed His angels with such power that just one of them could over-turn an entire habitation, very much like what happened with the land of the people of Lut (علیہ السلام) which was overturned single-handedly by the angel…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 125–129
97. When the Prophet was injured he uttered words of imprecation against the unbelievers: 'How can a people that injures its own Prophet attain salvation?' These verses are in response to that utterance.
Read the full tafseer →